Tag: شعوروادراک

  • شعوروادراک کا خاص شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ …بیش قیمتی تحفہ

    ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ …بیش قیمتی تحفہ

    شعوروادراک کا خاص شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ …بیش قیمتی تحفہ
    تبصرہ نگار : ڈاکٹر حمیرا حیات
    (دہلی یونیورسٹی ، دہلی )

    کتابی سلسلہ ’’شعور و ادراک‘‘ کا نیا شمارہ 6’’حفیظ شاہد نمبر‘‘ہمارے سامنے ہے ۔حالیہ شمارہ حفیظ شاہد کی شخصیت و شاعری کو پیشِ نظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔سات شعری مجموعوں کے خالق حفیظ شاہداُردو غزل گوئی میںتعارف کا محتاج نہیں ہیں ۔ان کی شاعری جدید انقلابی ،سماجی اور معاشرتی روّیوںکے تجزیوں سے عبارت ہے ۔ایک منفرد لب ولہجہ اُن کی شاعری میں نمایاں ہے۔مذکورہ شمارہ میں شاعر کی نا صرف فنی و فکری محاسن بلکہ اُن کی شخصیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
    ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ میں کل 7 عنوان ہیں۔پہلا حمدیہ و نعتیہ کلام جس میں شاعر حفیظ شاہد کی حمد،نعت، مناجات اور دُعا شامل ہے۔اسی حصہ میں مدیر یوسف وحید نے ’’اُردو غزل کا توانا شاعر حفیظ شاہد ‘‘کے عنوان سے خصوصی شمارہ لکھنے کا مقصد پیش کیا ہے۔ اگلا عنوان شخصیت ہے جس میں حفیظ شاہد کی شخصیت پر15 مضامین مشامل ہیں۔حفیظ شاہد شخص و عکس،حفیظ شاہدکچھ یادیں،میں او ر استاذی،سادہ مزاج دوست حفیظ شاہد،اُردو غزل کا معتبر حوالہ حفیظ شاہد،استاد الشعراء حفیظ شاہد،حق وصداقت کا پیامبر حفیظ شاہد وغیرہ ۔ان مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی شخصیت کے کئی رنگ تھے۔یہ سبھی مضامین چند ادیبوں کے ذریعے مختلف اوقات میں لکھے گئے ہیں۔ان مضامین میں حفیظ شاہد کی شخصیت کے کئی پہلو اُبھر کر سامنے آتے ہیں ۔

    شعوروادراک کا خاص شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ …بیش قیمتی تحفہ


    حفیظ شاہد شاعرہونے کے ساتھ ساتھ اچھے انسان ،سادہ مزاج دوست،محترم استاد،عمدہ تخلیق کاربھی ہیں۔ان کی شخصیت کے علاوہ حفیظ شاہد کا ادبی سفر کے عنوان سے مدیر کا مضمون شامل ہے ۔اس مضمون میں حفیظ شاہد کے اُردوزبان و ادب کے حوالے سے کی گئی خدمات پرجامع مضمون پیش کیا گیا ہے۔
    تازہ شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کا اگلا عنوان’’ فنی وفکری جہات‘‘ ہے جس میںشاعری سے متعلق کل 11 مضامین شامل ہیں۔ان مضامین میںمجموعی طور پر حفیظ شاہد کی شاعری کے فکری و فنی محاسن بیان کیے گئے ہیں ۔سعدیہ وحید کا مضمون ’’حفیظ شاہد کا فکری و فنی سفر‘‘،ڈاکٹر ارشد ملتانی کا’’حفیظ شاہداور ’سفر روشنی کا‘‘ڈاکٹر ندیم احمد شمیم کا ’’شاندار روایات کا امین حفیظ شاہد‘‘،نذیر احمدبزمی کا ’’حفیظ شاہد اور فنِ تاریخ گوئی‘‘،معظمہ شمس تبریز کا ’’محسن ادب و سفیرمحبت حفیظ شاہد‘‘ وغیرہ مضامین پر غورکرنے سے حفیظ شاہد کے کلام کی سبھی رُموز عیاں ہوجاتے ہیں۔
    شمارے کا اگلا عنوان ’’خصوصی مطالعہ‘‘ہے۔ جس میں کل سات مضامین شامل ہیں ۔ان مضامین میں بھی حفیظ شاہد کے کلام پر مختلف اُدباء نے تنقیدی تجزیہ پیش کیا ہے۔ان میں سید عامر سہیل ،پروفیسر ڈاکٹر نواز کاوش،حیدر قریشی،مظہر عباس،محمد صادق جاوید،زاہد ہ نور،سعدیہ وحید نے اپنی آرا پیش کی ہیں۔کتاب کے اگلے حصے میں بطور خراج عقیدت حسنین ارشد ، اظہر عروج اور شہباز نیئرنے’’ انسان دوست اور شخصیت‘‘،استاد محترم حفیظ شاہدکے نام،’’حفیظ شاہد کی یاد میں‘ ‘ کے عنوان سے دو مضامین شامل ہیں۔کتاب کے اگلا حصہ’’مدیر کے نام ‘‘کے عنوان سے ہے ۔جس میں تبصرے ،تجزیے،تاثرات شامل ہیں۔کتاب کے آخری حصے میں حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام ’’حاصلِ غزل ‘‘ کے عنوان سے شامل ہے۔جس میں اُردو کی 33 غزلیات،2 گیت اور دو ملی نغمے شامل ہیں۔اس کے علاوہ حفیظ شاہد کا پنجابی کلام بھی پیش کیا گیا ہے۔آخر میں حفیظ شاہد کے شعری مجموعوں سے منتخب کلام پیش کیا گیا ہے ۔
    بلا شبہ مدیر ’’ شعوروادراک ‘‘ محمد یوسف وحید نے خان پور کی معروف علمی و ادبی شخصیت حفیظ شاہد پرشعور و ادراک کا جامع شمارہ قارئین کی نظر کیا ہے ۔جو محققین اور باذوق احباب کے لیے بیش قیمتی ادبی تحفہ ہے۔ در حقیقت محمد یوسف وحید نے حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام یکجا کر کے اہم کام سر انجام دیا ہے۔ جو یقینا قابلِ تعریف ہے۔اُمید ہے کہ محمد یوسف وحید کی یہ کو شش داد و تحسین پاتی رہے گی ۔شعور ادراک کا خاص شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر‘‘ ترتیب دینے پر بے حد مبارک با د۔
    ٭٭٭

    humera

    ڈاکٹر حمیرا حیات

    دہلی یونیورسٹی ، دہلی

  • عصری اَدب کا ترجمان  …’’شعوروادراک ‘‘

    عصری اَدب کا ترجمان …’’شعوروادراک ‘‘

    ’’شعوروادراک ‘‘ کا خصوصی شمارہ ’’ حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر‘‘پر تبصرہ
    تبصرہ نگار: صادق جاوید (گڑھی اختیار خان )

    حضرت شیخ سعدی کا قول ہے ’’ تمہاری اَصل ہستی تمہاری سوچ ہے باقی تو گوشت اور ہڈیاں ہیں ‘‘ ۔
    بات ہے بھی دل کو لگنے والی انسان کو اللہ نے علم سے فضیلت عطا کی ہے جس کا محورّ سوچ ہی ہے اپنی سوچوں کو بہترین پیرا ئے میں پرو کر لفظوں کو مالا کا روپ دے لینا حیدر قریشی کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے اسی وجہ سے ان کی نظمیں طویل و مختصر ، مختصر نظمیں زندگی کے سرد گرم دکھ سکھ الفت و مروت کے ساتھ ساتھ تقریباً سبھی پہلوئوں کو بطریق احسن اجاگر کرتی چلی جاتی ہیں جس میں تخلیق کار کے تمام تر تجربات یعنی حاصل حیات کا نچوڑ اور عرق عرق افکار ان کو ایک بہترین ماہر عمرانیات ثابت کرتا چلا جاتا ہے اور قاری بیٹھے بیٹھے ان دیکھے جہان اور ہمہ پہلو انسان سے ملاقات کرکے خود کو ہلکا پھلکا اور شاداں و فرحاں محسوس کرنے لگتا ہے ۔ نظموں کے موضوعات جہاں مٹی سے محبت کا پتہ دیتے ہیں وہاں مسائل ، وسائل اور برتائو کے حوالے سے ایک عمرانی تاریخ کا گہوارہ بھی ثابت ہوتے ہیں ۔ طویل یا مختصر جس بھی بحر میں ادب تخلیق کیا ۔ حسنِ لطافت کو گویا معراج ہی کراکے دم لیا ہے ۔ ان کی خدمت میں الفاظ کس طرح ہاتھ باندھے حاضر ہوتے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں :
    لفظوں کو جستجو ہوئی اپنے وجود کی
    مفہوم اپنے رشتے نئے ڈھونڈنے لگے
    معنوں کی اک بساط بھی بچھنے لگی نئی
    مفہوم کے حوالے سے تفہیم چاند کی
    ان پانچ سطروں میں شاعر کی کیا کیا خوبیاں واضح ہوگئی ہیں دیکھے ۔ جب بھی لفظوں کو اپنے وجود کی جستجو ہوتی ہے تو وہ حیدر قریشی کے پاس حاضری دیتے ہیں کہ اے درویش نامہم زمانہ ۔ ہمیں بطریق ابتر برت رہا ہے تاویلوں کی زد میں ہیں تو ہمیں اپنی نکھری نکھر ی تخلیق کے سانچے میں ڈھال کر پیکر زندہ و جاوید عطا کر دے ۔ مفاہیم کا تعلق ساز بھی یہی درویش ہے اور بے بدل ہے ۔ فنی پختگی کے ساتھ ساتھ خیال اتنا اعلیٰ ہے کہ لفظوں سے کھیلنا شاعر کا من پسند مشغلہ ہے اور پھر آخر میں بزرگِ بے مثال کی حق گوئی دیکھتے کہتا ہے وہ زمانہ گزر گیا جب ہم چاند کو چہرہ کیا کر تے تھے اب تو خلق کا اَحساس ہے ۔ زمانے کے غم ہیں اور ہم ہیں وہ دن ہوا ہوئے جب ۔ تجھے گل کے روبرو کرنے کی تمنا رہا کر تی تھی ۔

    idraak


    اس کے بعد نثر کے میدان میں آپ نے جو کارہائے نمایاں کر دکھائے ہیں انہوں نے گویا ایک پند نامہ کو سلیس انداز میں بیان کر دیا ہے جس کا اَثر اس لیے زیادہ ہوا کہ حیدر قریشی جس طرح منظر نگاری میں کمال رکھتے ہیں اسی طرح جذبات کو بیدار کرنے میں بھی ثانی نہیں رکھتے ۔ خصوصاً والدین کے ساتھ برتائو پر مبنی تحریریں درسِ اَدب کا کامل نمونہ پیش کر تی ہیں ۔ اَفسانہ نگاری آسان کام نہیں اس میں لکھاری سارے کمردار خود کر رہا ہوتا ہے حتیٰ کہ آپ اور میرا یعنی قاری کا کردار بھی خود ہی کر رہا ہوتا ہے اور ایسا جملہ تخلیق کرتا ہے جسے زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے دل کی بات گھر کی قصہ اور دنیا کی خبر بھی کہہ سکیں ۔
    المختصر غم جاں غم جاناں اور غمِ زمانہ کو محض چند صفحات پر اس طرح بکھیر دینا کہ ان کی شدت تمازت اور تقاضے سب پر عیاں ہو جائیں اس ساری کاوش کا نام افسانہ نگاری ہے اور حیدر قریشی اس کاوش میں کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں ان کا کوئی ایک اَفسانہ اپنے قاری پر یہ حقیقت نہایت خوش آئند پُر مسرت اور مثبت انداز میں عیاں کرکے رکھ دیتا ہے ۔ جس کا نقشہ راشد اوعر راشد نے اس خوب صورت شعر میں کھینچا ہے ۔
    ایک قطرہ ہی سہی آنکھ میں پانی تو ہے
    اے محبت تیر ہونے کی نشانی تو رہے
    حیدر قریشی کے مضامین قاری کے لیے ایک ساحرانہ سلطنت کے دروازے کھولے چلے جاتے ہیں ۔ اپنی شریکِۂ حیات کے بارے میں ان کی تحریر مبارکہ محل ایک بہترین سماج اور محبت بھرے جہاں کی سیرانی عطائوں کا مخزن ہے اور کچھ نہیں اتنی وسیع و عشق شخصیت کے لامحدود کارناموں اور اَدبی عمرانی کے ساتھ ساتھ صوفیانہ فتوحات پر جنبشِ قلم کی جسارت مجھ سے طفلِ مکتب کے لیے یقینا کٹھن تھی لیکن قیسِ ادب، شفیق دوست محمد یوسف وحید کی اَدب دوستی ترغیبِ عمل کے ساتھ مرے مرشد زادہ سیّد صبغت اللہ سہروردی کی رہنمائی اور میری طرح بہتوں کے زیست ساز ظفر جتوئی کی تربیت نے آپ کے لیے چند سطروں کا ساماں کر دیا ۔ میں نہایت مسرت محسوس کر رہا ہوں یہ جان کر کہ گڑھی اختیار خان کی جن روحانی فضائوں میں ، میں سانس لے رہا ہوں ۔ اس کی ہوائوں کو بہت سے اللہ کے پیاروں سمیت جناب حیدرقریشی کے پردادا حضرت میاں میر محمد کے وجودِ مسعود سے نکہت آمیز لمس مُیسّر آچکا ہے ۔ ہمیں حاصل روحانی تسکین میں ان کی شب خیزی اور آہِ سحر کی کرشمہ سازی بھی کارفرما ہے ۔ قلندر وقت حضرت خواجہ دُر محمد المعروف ’’ دُر پاک ‘‘ سے ان کا ربط روحانی ہے اور مجھے یہ کہ میں درپاک غریب نواز کے نواسے حضرت خواجہ محمد عالم کوریجہ سے انس کی نسبت ’’ اَسیرِ عالم ‘‘ بھی کہلاتا ہوں اور ’’ عاشق صادق‘‘ بھی ۔
    حیدر قریشی صاحب کا تخلص ارشدؔ ہے اور مجھے شاعرِ کیفیت امان اللہ ارشدؔ سے شرفِ تلمذ بھی حاصل ہے ۔ ربطِ محبت بھی اتنی نسبتوں نے میرے دل میں حیدر قریشی کی محبت کو عمیق تر کر دیا ہے ۔
    ان کی شخصیت خصوصاً ان کی کتاب ’’ مبارکہ محل ‘‘ پر ایک مقالے نے میرے ذہن میں جگہ بنا لی ہے مگر
    اے یار تیرے غم سے فرصت ملی اگر
    تبدیلیاں کروں گا اس عالمِ کہن میں
    اس بات سے کسی کو مفر ہے نہ ہوسکتا ہے کہ شاعر ایک چنیدہ روح ہوتا ہے ۔ جسے مظاہرِ قدرت تخلیق ناطق ہو کر ملتے ہیں ۔ اگلا مرحلہ قسمت کی یاوری سے طئے ہوتا ہے وہ یہ کہ شاعر مائل بہ قبولیت ہو کر کائنات کے ذرّے ذرّے سے مخاطب ہو کر ذکرِ یار کے وظیفہ ٔ نافع کی داغ بیل ڈال دے ۔
    اب یہ داغ بیل کیسے ڈالی جاتی ہے یہ خاک کا پتلہ کلیمِ ثانی کے درجے پر کیسے فائز ہو جاتا ہے ۔ اگر آپ کا ربط روحانی قوی ہے تو روحِ اقبال سے رُجوع فرمائیے اور بالمشافہ کسبِ فیض کی ٹھان لی ہے تو پھر حیدر قریشی کی تقرب کی سعی کیجئے ۔
    کیونکہ علم کے لیے نیت اور کتاب کے ساتھ اُستاد کی ضرورت سے انکار ناممکنات کا سرنامہ ہے ۔
    اُستاد کی عظمت کو ترازو میں نہ تو لو
    اُستاد تو ہر دَور میں اَنمول رہا ہے
    جہانِ ادب میں بالکل طفلِ مکتب ہوتے ہوئے حکم حاکم کی تعمیل کے تحت جب میں نے حیدرقریشی کی اَدبی فتوحات پر توجہ کی تو یہ مصرع بلاساختہ یاد آیا کہ
    یہ نصف صدی کا قصّہ ہے
    دو چار برس کی بات نہیں
    یہی بات ان کی پرکاری پر دلالت بھی کر تی ہے اور ان کے ہمہ پہلو ہونے کی غمّاز بھی ہے ۔ اصنافِ سخن سے مکمل وفا کر نا بلکہ سخا کر نا اور انہیں جدّت آمیز بنانا تو کوئی ان سے سیکھے ۔
    کوئی ایک صنف بھی ایسی نہیں جس پر زیادہ اور مکمل یا مختصر مگر جامع کاوش اس محسنِ اَدب کی انفرادیت کو منواتے نہ چلی جا رہی ہو ۔ حمد ، نعت ، غزل اور ماہیا نے حیدر قریشی کے جرعہ فیض سے بہت سے بھی زیادہ وُصولا ۔ عمرانیات کی ہمہ قسم تحقیق کا نچوڑ ہمیں جن جواہر پاروں سے روشناس کراتا ہے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ تم نے اگر ’’ بچے ‘‘ کو پہنچاننا ہو تو اس کے ’’ انتخاب ‘‘ سے پہچانو ۔
    اور اگر ’’ بڑے ‘‘ کو پہچاننا ہو تو اس کے ’’ استحضار ‘‘ سے پہچانو ۔
    بس یہیں پہ آکے حیدر قریشی اپنی روایتی منکسر المزاجی کے باوجود بھی اپنے اعلیٰ اَدبی مرتبے کو چھپا نہیں پا رہے اور ان کی ہمہ قسم مہارت کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے ۔ آئیے کچھ مثالوں سے اس حقیقت سے آشنائی اور لذتِ ذوق کو مہمیظ کر تے چلیں ۔
    ہے میری روح میرے جسم کے ہر ذرہ میں پنہاں
    تو اپنے جسم کو اک شہرِ روحانی میں رَکھا ہے
    دیکھیں وَ نَفَختُ فیھا مِن روحی یَر جع کلِ شی ئِِ اِلیٰ اَصلِہِ
    کو کس حسین امتزاج سے پیش کر دیا ہے اور اَحساسِ زیاں اور عَدُو مُبین کی کارستانی سے بے راہ رواں اُمت کو کس کاٹ دار انداز میں اَحساسِ زیان کی ترغیب دلائی جارہی ہے ۔
    نصوع کو بھی دیکھ لیں گے فرصت میں
    ابھی نمٹ تو لیں مومن فروع سے پہلے
    بلاشبہ مظاہرِ قدرت ہر شاعر کے لیے ماخذِ اعظم ہوا کر تے ہیں مگر حیدرقریشی کو دیکھئے کہ کس قرینے سے فکر بیدار کو وحدتُ الوجود کی طرف راغب کرنے میں مصروف ابلاغ ہیں ۔
    نہ پورا سوچ سکوں ، نہ چھو سکوں ، نہ پڑھ پائوں
    کبھی وہ چاند ، کبھی گل کبھی کتاب لگے
    ذرا یہ مقطع دیکھئے ، شانِ بے نیاز ی کی داد دیجئے ۔
    حیدر ہم ان کے دل سے اُتر آئے خود مگر
    ان کو ہمارے دل سے اُترنا نہ آسکا
    تعلماتِ اصلیہ کا مطالعہ اور پھر درسِ حقائق کا فریضہ کیسے اَدا کر تے ہیں ۔ حیدر قریشی کے اس شعر سے سیکھ لیجئے ۔
    ہماری ایڑیوں سے اب کوئی چشمہ نہ اُبلے گا
    نہ قسمت میں ہماری بیتِ اہل ہونا ہے
    ایک عمرانی حقیقت ہمارے سامنے مسلم صداقت کے طور پر موجود ہے کہ
    ’’بندہ ای بندے دا دارو اَے‘‘
    اسی مضمون کو حیدر قریشی کے خوبصورت پیرائے میں بیان کرنے میں کس اَحسن طریقے سے کامیا ب ہوئے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیں
    کردارِ فقیہاں مری آزادہ روی بھی
    گمراہی کے لیکن یہی اَسباب نہیں تھے
    اشتکاک لفظ و استد لال کے ماہرِ اعظم علامہ سیّد محمد فاروق القادری اپنی ایک عصری محفل میں فرماتے ہیں ۔ جو وہ طائرِ لاہوتی ہے سنگ سنگ کرتا ہے یا پھر عرفان و آگہی کے قلزم ذخار کے کہنہ مشق غواص کی وہ ڈُبکی ہوا کرتا ہے جس میں وہ جہانِ معانی دَر معانی اَصل الا ُصول ، گوہرِ مقصود یا مادۂ حقائق نہ صرف پاتا ہے بلکہ لا کر یارانِ ساحل کے سامنے رکھ دیتا ہے ‘‘ ۔
    ’’اس جواہر پارے کی اگر سلیس کی جائے تو وہ بات قرینِ حقائق ہو ۔ جب کہی جائے جس سے کہی جائے تو نہ صرف تازہ اپنی لگے بلکہ اَفشاں تر ہوتی جائے ،شعر کہلاتی ہے ‘‘۔
    آئیے اسی تناظر میں حیدرقریشی کے چند اشعار دیکھتے ہیں ۔
    تم نے وہ منظر ہی کب دیکھے ہیں جب
    درد سمندر دل دریا میں کرتے ہیں
    یا آنکھوں میں خاک برستی تھی حیدرؔ
    یا رب پیہم اشک دُعا میں گرتے ہیں
    اندازِ تخاطب پہ ذرا غور فرمائیے ۔ عام فرد سے بات ہے ہی نہیں صرف اور صرف جستجو کے خوگر سے کام ہے اور اسے بھی مزید تلاشنے کا درس دیا جا رہا ہے
    مصرعِ ثانی پر نظر کا مرکزہ مان کر دیکھئے ۔ عام روش سے ہٹ کر بلکہ بالکل تضاد بات کی گئی ہے کیونکہ روٹین کے مطابق دریا سمندر میں گر ا کر تے ہیں نہ سمندر
    اسی سے واضح ہوا کہ کسی جہان دیگر کی بات ہو رہی ہے بلاکم کا ست وہ محبت کا ہی جہان ہے کیونکہ میرا اپنا ہی شعر اس کی عکاسی کرتا دکھائی دیتا ہے ۔
    اُلٹی گنگا بہتی ہے بحرِ عشق میں
    جو ڈوب جاتے ہیں یاں وہ پار ہوتے ہیں
    اب ذرا تیسرے مصرع میں دیکھئے ۔
    ایک خاص وقت کا ذکر ہے کہ ایک حال یہ تھا کہ کچھ واضح نہیں تھا ، ہر چیز مبہم تھی اور سفر مطلوبہ سرحد تک پہنچا ہے تو اب نہ صر ف دُعائیں ہیں بلکہ اَشکوں سے وضو کی خو بھی ہوگئی ہے اور یہ اَشک بھی خوشی اور تشکر کے ہی ہیں ۔ اس سارے منظر نامے کے واضح کر نے کے لیے حیدر قریشی کو خراجِ تحسین پیش کر نے کے لیے ایک عارف کے شعر کا دوسرا مصرع ان کی نذر کرتا ۔ شعر نعت کا ہے لہٰذا عنایت مزید کے یقین اوربرکت کی نیت سے پورا شعررقم کیا جاتا ہے ۔
    اے ختم رُسُل قُرب تو معلومم شد
    دیر آمدۂ ی از رہ دور آمدہ ٔ ی
    القصّہ حیدر قریشی کسی بھی صنف میں مجرب و مستحسن حقائق کو طشت از بام کر تے دکھائی دیتے ہیں ۔ ماہیا کی صنف حیدرقریشی کے اَحسانات اُتارنے کا خواب ہی نہیں دیکھ سکتی اور اسی میں ریت رواج کو جس طرح زندگی حیدرقریشی نے عطا کی ہے اور جس خوبصورت انداز میں ترسیل پیغام کا سامان فراہم کیا ہے ۔ ادب کی دیوی اسے بھگوان مانے رَہ ہی نہیں سکتی ۔
    میں ان ہی کا ایک شعر آپ کی نذر کر تے ہوئے فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں ۔
    ہم تہی دست آبروئے فقر
    سود دے کر زیان مانگتے ہیں
    آئیے کچھ مثالیں دیکھتے ہیں

    سب صبحوں کا تاج ہوئی
    رحمتِ عالم کو
    جس شب معراج ہوئی
    مہکار ہے کلیوں کی
    جیسے دُعا کوئی
    دھرتی پہ ہو وَلیوں کی
    ’’ اپنا وطن کشمیر ‘‘ کا اَعتراف دیکھئے ۔
    یادوں کے خزینے میں
    خان پور اپنا تو
    آباد ہے سینے میں

    مل مہکی فضائوں سے
    یار نفل باہر
    اندر کی خلائوں سے

    جیتا کبھی ہارا تھا
    ’’گلی ڈنڈا‘‘ بھی
    اک کھیل ہمار اتھا

    مستی سے بھری پہلی
    الہڑ مٹیارین
    جب کھیل گئیں ’’ککلی‘‘

    ہر رَسم اُٹھا دی ہے
    کو کلا کھیلے ہیں
    بچپن کو صدا دی ہے

    سوہنی ہے یا ہیر ہے وہ
    اتنی ہے مجھ کو خبر
    جنت کا انجیر ہے وہ
    ٭
    (بحوالہ : شعوروادراک ( جنوری تا مارچ 2021ء ) مدیر: محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، ص: 245)
    ٭٭٭

    صادق جاوید

    گڑھی اختیار خان

  • صحافت…ایک باوقار شعبہ

    صحافت…ایک باوقار شعبہ

    تحریر : سعدیہ وحید
    (معاون مدیرہ :شعوروادراک خان پور )

    حالیہ دَور میں ایک طبقے کے مطابق صحافت ایک نفع بخش کاروبار ہے اور اس کے لیے کسی قسم کی تربیت اور اہلیت کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ ڈاکٹری، وکالت یا اس قسم کاکو ئی اور پیشہ ہوتو اس کے لیے باقاعدہ تربیت اور اہلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ گزشتہ کچھ برسوں سے اس شعبے سے منسلک لوگو ں کو جہاں بے شمار مالی ودیگر مسائل درپیش رہے ہیں ‘ وہاں اس شعبے سے منسلک چند احباب اور اداروں نے بھر پور ذرائع استعمال کرتے ہوئے نہ صرف اربوں ، کھربوں روپے کی جائیداد بنائی ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی بہت کچھ بنایا ہے ۔
    یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اس شعبے نے خاصی ترقی کی ہے ۔صحافیوں کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ۔بعض جگہوں پر تعلیم اور معیار کو بھی خاص اہمیت نہیں دی گئی ۔ آئے روز کوئی نہ کوئی مبینہ صحافتی گروپ ایک دوسرے کو مبارک باد اور تصویری نمائش کے ذریعے خود کو زبردستی صحافی شمار کرتے پھرتے ہیں۔
    البتہ تصویر کا دوسرا رُخ دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ تحصیل خان پورمیں گزشتہ اور حالیہ اَدوار میں نامور اور قد آور علمی و اَدبی شخصیات نے صحافتی میدان میں اپنے خطے کی بہتر نمائندگی کرتے ہوئے نمایاں خدمات سر اَنجام دی ہیں۔خان پور سے ممتاز روحانی شخصیت مولانا عبید اللہ سندھی ؒکے نواسے میاں ظہیر الحق دین پوری نے ہفت روزہ ’’راستہ‘‘کے کچھ شمارے شائع کیے ۔ سید محمد قاسم شاہ نے ہفت روزہ ’’دفاع ‘‘جاری کیا۔ اس سے پہلے چاچڑاں شریف سے مولانا عبد الحق نے ماہنامہ’’ الفرید‘‘ کا اجرا کیا ۔ مولانا عبدالواحد درخواستی مرحوم نے ماہنامہ’’ مخزن العلوم‘‘ نکالا ۔

    khanpur ka adab


    مسعود احمد نقوی نے ہفت روزہ’’ صد ائے عوام‘‘، سیدمنور نقوی نے ہفت روزہ ’’الاستاذ‘‘ اورماہنامہ ’’ الجوہر‘‘ کے کچھ شمارے شائع کیے ۔ جبکہ منیر احمد دھریجہ اور ظہور احمد دھریجہ نے سرائیکی مجلہ ’’روہی رنگ‘‘ کے چند شمارے نکالے۔ غلام یسیٰن فخری نے ماہنامہ’’ سچار‘‘ کا ایک شمارہ خان پور سے اور بعد ازاں کراچی سے دو شمارے شائع کیے ۔ بدر منیر احرار نے ’’جیوے پاکستان نمبر‘‘ کے عنوان سے 1985-86ء میں دو شمارے ترتیب دیئے ۔
    80-1970ء کی دہائی میں حیدر قریشی نے’’ جدید اَدب‘‘ جاری کیا۔اس کے علاوہ اظہر اَدیب، ارشد خالد، سعید شباب، فرحت نواز، پروین عزیز، شیما سیال،شمسہ اختر ضیاء،صفدرصدیق رضی، نردوش ترابی، نذر خلیق، عمر علی بلوچ، مرید حسین راز جتوئی، ظفر اِقبال جتوئی، مجاہد جتوئی،محمد یوسف وحید، نذیر احمد بزمی اور دیگر احباب نے مل کر علمی و اَدبی کام کیا۔ اسی سلسلے کو ڈاکٹر محمود قریشی اور دیگر مخلص دوستوں نے مل کرماہنامہ ’’ اَدوار‘‘،اظہر اَدیب، ممتاز عاصم اور اَنوار فریدی نے ’’اُسلوب ‘‘اور ارشد خالد نے ’’عکاس انٹرنیشنل ‘‘ کے چند شمارے نکالے۔بعد ازاں مختلف اَدوار میں انفرادی، اجتماعی سطح پر تھوڑا بہت کام ہوتا رہا۔ جس میں متعدد ہفت روزہ، ماہ نامہ، سہ ماہی رسائل اورکالج مجلات شامل ہیں۔
    اَدبِ اطفال کے حوالے سے گزشتہ دو دہائیوں میں چند مجلات شائع ہوئے جن میں مجلہ ’’شاہین ‘ ‘ ایوب احمد دھریجہ نے ،’’اُمنگ‘‘ ، سجاد احمد فصیح نے، ’’قصہ قصولی ‘‘ جو بعد میں ’’چند ر تارے‘‘ کے نام سے شائع ہوا ‘ نذیر احمد بزمی نے چند شمارے شائع کیے ۔سینئر صحافی ،ایڈیٹر روزنامہ ’’نوائے مشتاق‘‘ اختر شاکر ملک نے ’’چلڈرن ٹائم ‘‘ کے 6شمارے شائع کیے ۔جام اظہر مراد نے’’ روہی رنگ ‘‘ اور ’’نوائے طلبہ ‘‘ کے چند شمارے جاری کیے ۔ لیکن یہ تمام احباب صحافت کا بھاری پتھر چوم کر رکھ چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے بس کاروگ بھی نہیں تھا۔
    2007ء میں بچوں کے لیے ایک مجلہ ’’بچے من کے سچے ‘‘، حفیظ شاہد اور محمد یوسف وحید کی زیرِ ادارت شائع ہوا ۔ جو الحمد للہ گزشتہ چودہ سالوں سے ڈویژن بہاول پور میں ادبِ اطفال کے حوالے سے نمائندہ مجلہ ہے ۔

    bachy


    2020ء کے آغاز میں اُردو ، پنجابی اور سرائیکی زبان میں علمی و ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں پر مشتمل کتابی سلسلہ ’’شعوروادراک‘‘ ، محمد یوسف وحید کی زیرِ ادارت شائع ہوا ۔ جس کے اب تک 6شمارے شائع ہو چکے ہیں ۔ راقم کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ مجلہ ’’بچے من کے سچے ‘‘ اور ’’شعوروادراک‘‘ سے بطور معاون مدیرہ ( اعزازی ) منسلک ہوں ۔ذیل میں خان پور کے چند صحافیوں کا مختصر تذکرہ پیش ہے ۔
    ٭… ایم عبد الواحد افغانؔ
    ماہرِ تعلیم، ڈرامہ نویس اور معروف سینئر اَدیب، شاعر ہیں۔ مجلّہ ’’بچے من کے سچے‘‘ کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ الوحید اَدبی اکیڈمی خان پور کے سرپرست ِ اعلیٰ ہیں۔کافی عرصہ سے رحیم یار خان میں مقیم ہیں۔ نثری مضامین ، تقاریر اور شاعری پر مشتمل ایک کتاب ترتیب دے رہے ہیں۔
    ٭…قمر اِقبال جتوئی
    مختلف اخبارات سے وابستگی کے دوران،نہایت عمدہ اور باصلاحیت صحافتی تجربہ، اُچھوتے اور منفرد فکر و خیال پر مشتمل کالم، مضامین اور مقامی اخبارات میں ادارتی اُمور اور ٹی وی چینلزمیں رپورٹنگ کا تجربہ۔
    ٭…ڈاکٹر منظور احمد (مرحوم )
    سینئر صحافی، پریس کلب خان پور کے بانیان میں شمار ہوتے تھے۔تین سال قبل وفات پاگئے ہیں۔
    ٭… میاں خلیل احمد حامی عبیدیؔ (مرحوم )
    میاں عبد الہادی ؒ کے فرزند، تحریک ِ آزادی اور تحریکِ ریشمی رومال، دین پور شریف سے متعلق تاریخی دستاویزی کتاب’’ یدِ بیضا‘‘ کے مصنف، نامور شاعر، اَدیب،سینئر صحافی، نظموں کا ایک مجموعہ’’ کہکشاں ‘‘شائع ہوچکا ہے۔ دین پور شریف یونین کونسل کے چیئر مین بھی رہے۔
    ٭…چودھری محمد اسماعیل (مرحوم)
    سینئر صحافی، قومی اخبارات میں نمائندگی رہی۔ سیاسی اور سماجی حوالے سے فعال اور ملنسار انسان۔ انجمن صحافیاں رجسٹرڈ خان پور کے صدر بھی رہے۔
    ٭…منیر احمد دھریجہ(مرحوم)
    ملنسار اور زبان و اَدب سے پر خلوص ‘محبت کرنے والے اور انسان دوست شخص، خان پور سے سرائیکی اخبار روزنامہ جھوک 1990ء میں ظہور دھریجہ کے ہمراہ جاری کیا ۔
    ٭…مرزامحمد ارشد بیگ(مرحوم)
    مختلف اخبارات کے لیے رپورٹنگ کرتے رہے۔ اَدبی اور سماجی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اپنا کردار اَدا کیا۔ کینسر کے مرض میں مبتلا رَہ کر کچھ سال قبل وفات پا گئے ۔
    ٭… عارف افغان
    سینئر صحافی،1980ء میں روزنامہ وقت لاہور سے صحافت کا آغاز کیا۔ آج کل کراچی میں رہائش پذیر ہیں۔سردار سراج احمد خاں کے فرزند ارجمند ہیں۔ خصوصی نمبر شائع کیا اور خان پور کی ٹیلی فون ڈائریکٹری بھی ترتیب دی ۔
    ٭…چودھری عبد المجید(مرحوم )
    انجمنِ صحافیان خان پور کے سینئرممبر تھے ۔ ’’نوائے وقت، سیادت، رہبر، مغربی پاکستان، آفتاب، سیاست، وفاق‘‘ اور دیگر اخبارات میں نمائندگی رہی۔
    مختصراً خان پور کی صحافتی تاریخ میں شامل نئے اورپرانے محترم و معزز صحافیوں کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے ۔ تحصیل خان پور میں شعبہ صحافت سے منسلک شخصیات میں مجید سالک(مرحوم)، جام جان محمد(مرحوم)، مراد عاصم، محمد اسلم قمر(مرحوم)، محمد اسلم خان(مرحوم ) اشرف مغل، ریاض بلوچ،فیاض بلوچ، محمد فاروق بھٹی، زبیر سبحانی، خواجہ مسعود احمد صدیقی، ملک محمد سلیم، محمد رضوان اشرف، آصف دھریجہ، سمیع الحق بھٹہ،محمد علی، شاہد اِقبال جتوئی، افضل ثمر،احمد زبیر، مہر اللہ ڈتہ ، نذر محمد چاچڑ، عمران ساگر، محمد ہاشم عبد اللہ، محمد وسیم دھریجہ،نعمان نواز، مقصود بھٹی، ناصر حسین چغتائی، جام عبد المجید، اختر شیراز، سمیع خان پیرزادہ،ریاض زیدی، خالد کاشمیری، ڈاکٹر نثار الدین احمد سلیمی، جاوید اِقبال،، محمود احمد زاہد، نصرت شیخ، نذر چغتائی وغیرہ شامل ہیں ۔
    ٭
    (بحوالہ ـکتاب ’’خان پور کا اَدب‘‘ تحقیق و تالیف : محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور)
    ٭٭٭

    saadia

  • روشنی ، علم اور آگہی کا سفر …’’شعوروادراک‘‘

    روشنی ، علم اور آگہی کا سفر …’’شعوروادراک‘‘

    روشنی ، علم اور آگہی کا سفر …’’شعوروادراک‘‘
    تبصرہ نگار : مجاہد جتوئی (خان پور)
    (ماہرِ فریدیات ، نامور محقق ، دانشور )

    ’’شعوروادراک‘‘صرف اس کا نام تو نہیں کہ انسان صرف اپنی ذات کو پہچانے اور پھر اس ذاتی پہچان کا اشتہار بن جائے ۔
    ’’شعوروادراک‘‘یہ بھی تو نہیں کہ انسان چہار اَطراف بلکہ شش جہات کا گہرا مطالعہ ، مشاہدہ کر کے کچھ بہتر سے بہتر تلاش کرے اور پھر اُسے یعنی شعورو اِدراک کی دولت کو ’ ’ذاتِ خاص ‘‘ سے ’’ فیضِ عام ‘ ‘تک لے جائے ۔ کتابی سلسلہ ’’’شعوروادراک‘‘کے مدیر محمد یوسف وحید جو کہ نام ہے محنت اور جستجو کا ، جو نامناسب ماحول ، مشکلات اور وَسائل کی کمی کو بہانہ نہیں بناتا بلکہ اندھیری غار میں راستہ تراشتا ہے ‘ روشنی کی طرف ، علم کی جانب اور آگہی کی سمت ۔
    اُس کے نقاد اپنے زنگ آلود تیر ، تفنگ لیے ہمہ وَقت اُس پر حملہ آور رَہتے ہیں ۔ کوئی پوچھے’’اللہ کے بندو ! اگر آپ کے کشکول میں کچھ اچھا ہے تو پھر سامنے تو لائو ۔ یا بس تنقید اور طنز و تشنیع کے نیزے ، بھالے چلاتے ہی دُنیا سے چلے جائو گے‘ ‘۔
    موبائل فون ڈائریکٹری جیسے’ ’غیر اَدبی کام ‘‘ کرتے کرتے بھی محمد یوسف وحید نے ’’ بچے من کے سچے‘ ‘ جیسا بچوں کا معیاری اَدبی میگز ین جاری رکھا جو تاحال جاری و ساری ہے ۔ ایسے کاموں کی مناسب تحسین اپنے مقامی ماحول میں نہ ملنے کے باوجود اُس کے کام کو ملکی سطح پر سراہا جاتا ہے اور سراہا جاتا رہے گا ۔
    محمد یوسف وحید کی محنت اور جستجو اُسے کسی پل چین سے نہیں بیٹھنے دیتی ۔ وہ بے چین رہتا ہے ، اُسے جہاں سے بھی کچھ اَچھاملتا ہے ، وہ اُسے جمع کرتا ہے ، سجاتا ، سنوارتا ، نکھارتا اور اُسے کتاب کی شکل میں ایک دستر خوان بچھا کر سب کودعوتِ عام دیتا ہے ۔

    shaoor


    محمد یوسف وحید کے چھوٹے موٹے(حقیقت میں بڑے ) کام تو چل ہی رہے تھے مگر اُس کے اندر کے مدیر نے ایک لمبی جست بھرنے بلکہ اونچی اُڑان کا فیصلہ کیا ۔
    ملک بھر سمیت بالخصوص ضلع رحیم یار خان میں علمی ، اَدبی ، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں کا کتابی سلسلہ سہ ماہی’’شعوروادراک‘‘کے آغاز کا اعلان کیا تو ہم جیسے کو تاہ قامت ، بے ہمت لوگوں نے حسبِ سابق اُس کی بات کو شوخی ، شیخی اور ڈینگ ہی سمجھا ۔ ہم نے اُسے تھپکی نہیں دی بلکہ بے ہمت اور مایوس کرنے کے لیے سوال داغا ’’ یہ کیسے ممکن ہے ؟ ‘‘
    نہیں جی ! یہ نہیں ہوسکتا ۔اس کے لیے تو کوہ قاف کی پریاں اور عفریستان کے عفریت درکار ہوں گے اور کچھ سونا ، چاندی کے پہاڑ بھی ۔
    محمد یوسف وحید نے ہمیشہ کی طرح سُنا اور سُنتا رہا اور اِدھر اُدھر سے اَدب کے ہیرے موتی بھی ( خاموشی سے ) چُنتا رہا ۔ ایک ایک دروازے پر دستک دی ۔ بڑ ے بڑے ناموروں نے اپنے پھیلے ، بکھرے ہوئے اَسماء گرامی سے بھی بڑی مایوسی اُس کو دی تاکہ وہ گھٹنوں کے بَل بیٹھ جائے۔
    بڑے بڑے ناموں اور اُس کے رُفقا ء کو ڈر تھا اور ڈر ہے کہ کہیں وہ اُن سے آگے نہ نکل جائے ۔مگر وہ تو آگے نکل چکا ہے ۔ جو لوگ اُسے اپنے قدموں یا گھٹنوں کے آس پاس دیکھنا چاہتے تھے ‘ اَب اُنہیں اُس کو دیکھنے کے لیے چہرہ مبارک اُوپر کرنا پڑتا ہے ۔ ’’ جو یندہ یا بندہ ‘‘ ( جو ڈھونڈتا ہے وہ پالیتاہے )
    ’’شعوروادراک‘‘ کتابی سلسلہ نمبر 01جنوری تا مارچ 2020ء ۔ ایک گلدستہ ہے ، رنگارنگ پھولوں کا جو مدیر محمد یوسف وحید کی محنت اور جستجو کے دھاگے میں بندھا ہوا ہے ،’’شعوروادراک‘‘ پڑھنے سے ایک شعر یاد آتا ہے ؎
    بے کار نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا
    یا اپنا گریباں چاک یا دامنِ یزداں چاک
    حمد ، نعت ، مضامین ، اَفسانے ، انشائیے ، فن و شخصیت ، خصوصی مطالعہ ، شاعری ، تبصرے ‘ اُردو ، پنجابی اور سرائیکی کا مجلہ ’’شعوروادراک‘‘ علمی و اَدبی ، تعلیمی اور سماجی شعور کا وہ سفر ہے جس کے لیے الوحید اَدبی اکیڈمی خان پور 2004ء سے آپ کو اپنے ہم سفر رکھنا چاہتی ہے ۔ بقول علامہ اِقبال ؒ کے ؎
    حادثہ وہ جو ابھی پردۂ اَفلاک میں ہے
    عکس اُس کا مرے آئینہ ٔ اِدراک میں ہے
    ٭
    (بحوالہ : شعوروادراک ، شمارہ نمبر 2/3(اپریل تا ستمبر 2020ء ) مدیر : محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، ص: 350)
    ٭٭٭

    mujahid jatoi

    مجاہد جتوئی

    خان پور

  • محسن نقوی …تعارف وکلام

    محسن نقوی …تعارف وکلام

    محسن نقوی …تعارف وکلام
    محمد یوسف وحید
    (مدیر: شعوروادراک خان پور )

    شعر و ادب کی دنیا کا ایک معتبر نام محسن نقوی 5 مئی 1947ء میں سید چراغ حسین شاہ کے ہاں ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔والدین نے ان کا نام غلام عباس رکھا ۔ ان کا تعلق ایک عام اور کم آمدنی والے گھرانے سے تھا۔ ان کے والدپہلے لکڑی کا کام اور بعد ازاں ایک ہوٹل پر کام کرتے تھے۔ محسن نقوی کے چھ بہن بھائی تھے۔ پرائمری تعلیم گھر کے قریب واقع پرائمری سکول نمبر 6 میں حاصل کی۔میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1جب کہ ایف اے اوربی اے گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان سے کیا۔ایم اے گورنمنٹ کالج بوسن روڈملتان سے کیا۔نامور شاعر پروفیسر اسلم انصاری محسن نقوی کے اُستاد تھے۔
    غلام عباس نے آٹھویں جماعت میں شاعری کا آغاز کیا تو اپنا قلمی نام محسن نقوی رکھ لیا۔ ڈیرہ غازی خان میں شفقت کاظمی، عبد الحمید عدم اور کیف انصاری جیسے غزل گو شعراء سے رہنمائی حاصل کی ۔علامہ شفقت کاظمی کا شمار مولانا حسرت موہانی کے شاگردوں میں ہوتا تھا۔ابتدائی زمانے میں ہی محسن نقوی کی شاعری نے ہم عصروں کو متوجہ کیا۔محسن نقوی نے کسی سے باقاعدہ اصلاح تو نہ لی مگر علامہ شفقت کاظمی کو اپنا منہ بولا استاد ضرور کہتے تھے۔ ملتان آنے کے بعد انہیں انواراحمد، عبدالرئو ف شیخ، فخر بلوچ ، صلاح الدین حیدر اور اصغرندیم سید جیسے دوستوں کی صحبت نصیب ہوئی ۔ یہ ان سب کے طالب علمی کازمانہ تھا۔ملتان کی ادبی،ثقافتی وسیاسی زندگی میں بہت تحرک تھا۔جلد ہی گھنگھریالے بالوں والا اور قہقہے بکھیرنے والا نوجوان محسن نقوی ملتان کی ادبی محفلوں کی جان بن گیا۔
    محسن نقوی نے 1969ء میں ڈیرہ غازی خاں کے ہفت روزہ’’ہلال‘‘ میں اور ملتان میں روزنامہ ’’امروز ‘‘ کے لیے باقاعدہ ہفتہ وار قطعات اور کالم بھی لکھے ۔

    mohsin naqvi


    1970ء میں ملک میں سیاسی گہما گہمی کا دَور تھا۔ترقی پسند سوچ رکھنے والے دیگر دانشوروں کی طرح محسن نقوی بھی پاکستان پیپلزپارٹی سے وابستہ ہوگئے اور یہ وابستگی آخری سانس تک برقرار رہی۔اسی زمانے میں محسن نقوی نے ’’بندِ قبا‘‘کے نام سے اپنے شعری سفر کا آغاز کیا۔ اس کے علاوہ متعدد شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں ۔جن میں عذابِ دید ، خیمہ ٔ جاں ، برگِ صحرا ، موجِ ادراک ، طُلوعِ اشک ، فُراتِ فکر ، ریزۂ حرف ، رخت ِ شب ، رِدائے خواب اور حق ایلیا شامل ہیں ۔ محسن نقوی کو اقبالِ ثانی کا خطاب بھی ملا۔
    1980ء میں محسن نقوی لاہورچلے گئے ۔لاہور کے ادبی مراکز میں انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے وسیع مواقع میسر آئے۔محسن کی غزلیں اور نظمیں کافی مقبول ہوئیں اور وہ نئی نسل کے پسندیدہ شاعر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔اُس دور میں احمد ندیم قاسمی سے لیکر شہزاد احمد تک کئی نامور اُستاد شعرا موجود تھے۔محسن نقوی نے ان سب کی موجودگی میں اپنے منفرد اسلوب اور لب و لہجے کی بدولت اپنی پہچان کرائی۔غزل کے ساتھ ساتھ نظم اور رثائی ادب میں بھی ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔’’دسمبر مجھے راس آتانہیں‘‘سمیت ان کی کئی نظمیں آج بھی ہرخاص وعام میں مقبول ہیں۔ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دَورِ حکومت میں تمغا برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔
    غلام عباس المعروف محسن نقوی کو 15جنوری 1996ء میں اقبال ٹائو ن کی بارونق مون مارکیٹ لاہور میں قتل کر دیا گیا۔محبت اور امن کا شاعر نفرت اور دہشت گردی کا نشانہ بن کر اپنے ہی ایک شعر کی عملی تصویر بن گیا۔
    ہماری لاش پہ ڈھونڈو نہ انگلیوں کے نشاں
    ہمیں خبر ہے عزیزو یہ کام کس کا ہے
    محسن نقوی کی نمازِ جنازہ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے ناصر باغ لاہور میں پڑھائی۔ بعد ازاں اُردو کے عظیم شاعر محسن نقوی کواُن کے آبائی گاؤں ڈیرہ غازی خان میں سپردِ خاک کر دیا گیا ۔
    ٭
    محسن مکمل عصری شعور کے ساتھ شعر کہتے تھے ۔ معاشرتی اُتار چڑھائو بھی ان کی شاعری کا اہم موضوع تھا۔محسن نقوی کو شاعرِ اہلِ بیت کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ کربلا کے بارے میں ان کی شاعری کو پورے پاکستان میں ایک مقبولیت حاصل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے کلام کوہر جگہ قبول کیا جاتا ہے اور بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے۔
    محسن نقوی نے شعری مجموعہ ’’ردائے خواب‘‘ کے دیباچے میںاپنی شاعری کا مرکزی نکتہ محبت اور امن کو قرار دیاہے ۔ بقول محسن نقوی:
    ’’زندگی اتنی مختصر ہے کہ اس میں جی بھر کے محبت کرنے کی مہلت بھی نہیں ملتی خدا جانے لوگ نفرت کے لئے وقت کہاں سے بچا لیتے ہیں‘‘۔

    mohsin books


    محسن کی شاعری میں صرف پیار و محبت اور لب و رُخسار کی باتیں شامل نہیں ہیں بلکہ انہوں نے دنیا کے ان حکمرانوں کے خلاف بھی لکھا تھا جو اپنے لوگوں کی پرواہ نہیں کرتے۔محسن نقوی نے فلم ’’بازاِ حسن‘‘ کے لیے ایک گیت ’’لہروں کی طرح تجھے بکھرنے نہیں دیں گے‘‘ لکھا اور بہترین فلمی گیت نگار کا ایوارڈحاصل کیا ۔
    محسن نقوی نے شعرو ادب سے وابستہ رہ کر اُردو غزل میں ایک منفرد پہچان بنائی ۔انہوں نے فنی زندگی میں بامعنی شاعری لکھ کر خوب داد و تحسین حاصل کی۔ محسن کو اپنی شاعری کے ذریعے زبردست پذیرائی ملی جو اکثر واقعات کربلا کے گرد گھومتی تھی جس نے انہیں دنیا بھر میں شہرت ملی ۔ جداگانہ اُسلوب کے حامل محسن نقوی ہمیشہ اپنی شاعری میں سیاست اور مذہب پر بات کرتے اور حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں اور کارکردگی پر بات کرنے سے کبھی نہیں گھبراتے تھے۔ ان کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کی شاعری میں محبت کے معاملات پر قائم رہنے کے بجائے تنوع دکھانا تھا۔درحقیقت وہ ان حیرت انگیز شاعروں میں سے ایک تھے جو یہ دنیا ہر نسل میں پیدا نہیں کرتی۔محسن نقوی کے چند مشہور اشعار ملاحظہ فرمائیں :
    اُجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
    حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
    ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
    تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
    ٭
    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
    ٭
    یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا، آوارگی
    اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
    ٭
    بچھڑکے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے
    ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے
    ٭
    وہ جس کا نام بھی لیا پہیلیوں کی اوٹ میں
    نظر پڑی تو چھپ گئی سہیلیوں کی اوٹ میں
    ٭
    محسن نقوی کی چند مشہور نظمیں ملاحظہ فرمائیں :
    یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
    جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
    جب دلوں میں داغ چمکتے تھے
    جب پلکیں شہر کے رستوں میں
    اشکوں کا نور لٹاتی تھیں
    جب سانسیں اجلے چہروں کی
    تن من میں پھول سجاتی تھیں
    جب چاند کی رم جھم کرنوں سے
    سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے
    جب ایک تلاطم رہتا تھا
    اپنے بے انت خیالوں میں
    ہر عہد نبھانے کی قسمیں
    خط خون سے لکھنے کی رسمیں
    جب عام تھیں ہم دل والوں میں
    اب اپنے پھیکے ہونٹوں پر
    کچھ جلتے بجھتے لفظوں کے
    یاقوت پگھلتے رہتے ہیں
    اب اپنی گم سم آنکھوں میں
    کچھ دھول ہے بکھری یادوں کی
    کچھ گرد آلود سے موسم ہیں
    اب دھوپ اگلتی سوچوں میں
    کچھ پیماں جلتے رہتے ہیں
    اب اپنے ویراں آنگن میں
    جتنی صبحوں کی چاندی ہے
    جتنی شاموں کا سونا ہے
    اس کو خاکستر ہونا ہے
    اب یہ باتیں رہنے دیجے
    جس عمر میں قصے بنتے تھے
    اس عمر کا غم سہنے دیجے
    اب اپنی اجڑی آنکھوں میں
    جتنی روشن سی راتیں ہیں
    اس عمر کی سب سوغاتیں ہیں
    جس عمر کے خواب خیال ہوئے
    وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی
    وہ عمر بتائے سال ہوئے
    اب اپنی دید کے رستے میں
    کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا
    کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں
    کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں
    کچھ یادوں کی برساتیں ہیں
    یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 709)
    ٭

    mohsin books


    (تھک جاؤ گی)
    پاگل آنکھوں والی لڑکی
    اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
    تھک جاؤ گی
    کانچ سے نازک خواب تمہارے
    ٹوٹ گئے تو
    پچھتاؤ گی
    سوچ کا سارا اجلا کندن
    ضبط کی راکھ میں گھل جائے گا
    کچے پکے رشتوں کی خوشبو کا ریشم
    کھل جائے گا
    تم کیا جانو
    خواب سفر کی دھوپ کے تیشے
    خواب ادھوری رات کا دوزخ
    خواب خیالوں کا پچھتاوا
    خوابوں کی منزل رسوائی
    خوابوں کا حاصل تنہائی
    تم کیا جانو
    مہنگے خواب خریدنا ہوں تو
    آنکھیں بیچنا پڑتی ہیں یا
    رشتے بھولنا پڑتے ہیں
    اندیشوں کی ریت نہ پھانکو
    پیاس کی اوٹ سراب نہ دیکھو
    اتنے مہنگے خواب نہ دیکھو
    تھک جاؤ گی
    (ماخذ:منتخب شاہکار نظموں کا البم ، منور جمیل ، اشاعت: 2000ء ، ص: 453)
    ٭
    (بھول جاؤ مجھے)
    وہ تو یوں تھا کہ ہم
    اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
    اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
    اپنے اپنے ارادوں کی تکمیل میں
    تیرہ و تار خواہش کی سنگلاخ راہوں پہ چلتے رہے
    پھر بھی راہوں میں کتنے شگوفے کھلے
    وہ تو یوں تھا کہ بڑھتے گئے سلسلے
    ورنہ یوں ہے کہ ہم
    اجنبی کل بھی تھے
    اجنبی اب بھی ہیں
    اب بھی یوں ہے کہ تم
    ہر قسم توڑ دو
    سب ضدیں چھوڑ دو
    اور اگر یوں نہ تھا تو یوں ہی سوچ لو
    تم نے اقرار ہی کب کیا تھا کہ میں
    تم سے منسوب ہوں
    میں نے اصرار ہی کب کیا تھا کہ تم
    یاد آؤ مجھے
    بھول جاؤ مجھے
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص:409)
    ۔۔۔
    (چلو چھوڑو)
    چلو چھوڑو
    محبت جھوٹ ہے
    عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
    طلب سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
    خلش دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
    خمار وصل تپتی دھوپ کے سینے پہ اڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!
    غبار? ہجر صحرا میں سرابوں سے اٹے موسم کا خمیازہ
    چلو چھوڑو
    کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ
    چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا
    مجھے احساس ہی کب تھا
    کہ تم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے رنگ بدلو گی
    چلو چھوڑو
    وہ سارے خواب کچی بھربھری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے
    وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے
    تمہاری انگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں مرا لیکن
    تمہاری انگلیاں تو عادتاً یہ جرم کرتی تھیں
    چلو چھوڑو
    سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں صدیوں سے
    چلو چھوڑو
    مرا ہونا نہ ہونا اک برابر ہے
    تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو
    تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اک نیا موسم اترنے دو
    مرے خوابوں کو مرنے دو
    نئی تصویر دیکھو
    پھر نیا مکتوب لکھو
    پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
    مرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو
    مری یادوں سے کچے رابطے توڑو
    چلو چھوڑو
    محبت جھوٹ ہے
    عہد وفا اک شغل ہے بے کار لوگوں کا
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 725)
    ٭

    mohsin books


    (تمہیں کس نے کہا تھا)
    تمہیں کس نے کہا تھا
    دوپہر کے گرم سورج کی طرف دیکھو
    اور اتنی دیر تک دیکھو
    کہ بینائی پگھل جائے
    تمہیں کس نے کہا تھا
    آسماں سے ٹوٹتی اندھی الجھتی بجلیوں سے دوستی کر لو
    اور اتنی دوستی کر لو
    کہ گھر کا گھر ہی جل جائے
    تمہیں کس نے کہا تھا
    ایک انجانے سفر میں
    اجنبی رہرو کے ہمرا دور تک جاؤ
    اور اتنی دور تک جاؤ
    کہ وہ رستہ بدل جائے
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 890)
    ٭
    (تمہیں کیا)
    تمہیں کیا
    زندگی جیسی بھی ہے
    تم نے اس کے ہر ادا سے رنگ کی موجیں نچوڑی ہیں
    تمہیں تو ٹوٹ کر چاہا گیا چہروں کے میلے میں
    محبت کی شفق برسی تمہارے خال و خد پر
    آئنے چمکے تمہاری دید سے
    خوشبو تمہارے پیرہن کی ہر شکن سے
    اذن لے کر ہر طرف وحشت لٹاتی تھی
    تمہارے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں
    سبھی آنکھیں تمہارے عارض و لب کی کنیزیں تھیں
    تمہیں کیا
    تم نے ہر موسم کی شہ رگ میں انڈیلے ذائقے اپنے
    تمہیں کیا
    تم نے کب سوچا
    کہ چہروں سے اٹی دنیا میں تنہا سانس لیتی
    ہانپتی راتوں کے بے گھر ہم سفر
    کتنی مشقت سے گریبان سحر کے چاک سیتے ہیں
    تمہیں کیا
    تم نے کب سوچا
    کہ تنہائی کے جنگل میں
    سیہ لمحوں کی چبھتی کرچیوں سے کون کھیلا ہے
    تمہیں کیا
    تم نے کب سوچا
    کہ چہروں سے اٹی دنیا میں
    کس کا دل اکیلا ہے
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 1237)
    ٭
    بہت دنوں بعد
    تیرے خط کے اداس لفظوں نے
    تیری چاہت کے ذائقوں کی تمام خوشبو
    مری رگوں میں انڈیل دی ہے
    بہت دنوں بعد
    تیری باتیں
    تری ملاقات کی دھنک سے دہکتی راتیں
    اجاڑ آنکھوں کے پیاس پاتال کی تہوں میں
    وصال وعدوں کی چند چنگاریوں کو سانسوں کی آنچ دے کر
    شریر شعلوں کی سرکشی کے تمام تیور
    سکھا گئی ہیں
    ترے مہکتے مہین لفظوں کی آبشاریں
    بہت دنوں بعد پھر سے
    مجھ کو رلا گئی ہیں
    بہت دنوں بعد
    میں نے سوچا تو یاد آیا
    کہ میرے اندر کی راکھ کے ڈھیر پر ابھی تک
    ترے زمانے لکھے ہوئے ہیں
    سبھی فسانے لکھے ہوئے ہیں
    بہت دنوں بعد
    میں نے سوچا تو یاد آیا
    کہ تیری یادوں کی کرچیاں
    مجھ سے کھو گئی ہیں
    ترے بدن کی تمام خوشبو
    بکھر گئی ہے
    ترے زمانے کی چاہتیں
    سب نشانیاں
    سب شرارتیں
    سب حکایتیں سب شکایتیں جو کبھی ہنر میں
    خیال تھیں خواب ہو گئی ہیں
    بہت دنوں بعد
    میں نے سوچا تو یاد آیا
    کہ میں بھی کتنا بدل گیا ہوں
    بچھڑ کے تجھ سے
    کئی لکیروں میں ڈھل گیا ہوں
    میں اپنے سگریٹ کے بے ارادہ دھوئیں کی صورت
    ہوا میں تحلیل ہو گیا ہوں
    نہ ڈھونڈھ میری وفا کے نقش قدم کے ریزے
    کہ میں تو تیری تلاش کے بے کنار صحرا میں
    وہم کے بے اماں بگولوں کے وار سہہ کر
    اداس رہ کر
    نہ جانے کس رہ میں کھو گیا ہوں
    بچھڑ کے تجھ سے تری طرح کیا بتاؤں میں بھی
    نہ جانے کس کس کا ہو گیا ہوں
    بہت دنوں بعد
    میں نے سوچا تو یاد آیا
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 739)
    ٭
    (ایک نئے لفظ کی تخلیق)
    زندگی لفظ ہے
    موت بھی لفظ ہے
    زندگی کی تراشی ہوئی اولیں صوت سے سرحد موت تک لفظ ہی لفظ ہیں
    سانس بھی لفظ ہے
    سانس لینے کی ہر اک ضرورت بھی لفظوں کی محتاج ہے
    آگ پانی ہوا خاک سب لفظ ہیں
    آنکھ چہرہ جبیں ہاتھ لب لفظ ہیں
    صبح و شام و شفق روز و شب لفظ ہیں
    وقت بھی لفظ ہے
    وقت کا ساز و آہنگ بھی
    رنگ بھی سنگ بھی
    امن بھی جنگ بھی
    لفظ ہی لفظ ہیں
    پھول بھی لفظ ہے
    دھول بھی لفظ ہے
    لفظ قاتل بھی ہے
    لفظ مقتول بھی
    لفظ ہی خوں بہا
    لفظ دست دعا
    لفظ ارض و سما
    صبح فصل بہاراں بھی اک لفظ ہے
    شام ہجر نگاراں بھی اک لفظ ہے
    رونق بزم یاراں بھی اک لفظ ہے
    محفل دل فگاراں بھی اک لفظ ہے
    میں بھی اک لفظ ہوں
    تو بھی اک لفظ ہے
    آ کہ لفظوں کی صورت فضاؤں میں مل کر بکھر جائیں ہم
    اک نیا لفظ تخلیق کر جائیں ہم
    آ کہ مر جائیں ہم
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 524)
    ٭
    مرے لیے کون سوچتا ہے
    جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
    جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
    سبھی کو اپنی انا کے اندھے کنویں کی تہ میں پڑے ہوئے
    خواہشوں کے پنجر
    ہوس کے ٹکڑے
    حواس ریزے
    ہراس کنکر تلاشنا ہیں
    سبھی کو اپنے بدن کی شہ رگ میں
    قطرہ قطرہ لہو کا لاوا انڈیلنا ہے
    سبھی کو گزرے دنوں کے دریا کا دکھ
    وراثت میں جھیلنا ہے
    مرے لئے کون سوچتا ہے
    سبھی کی اپنی ضرورتیں ہیں
    مری رگیں چھلتی جراحت کو کون بخشے
    شفا کی شبنم
    مری اداسی کو کون بہلائے
    کسی کو فرصت ہے مجھ سے پوچھے
    کہ میری آنکھیں گلاب کیوں ہیں
    مری مشقت کی شاخ عریاں پر
    سازشوں کے عذاب کیوں ہیں
    مری ہتھیلی پہ خواب کیوں ہیں
    مرے سفر میں سراب کیوں ہیں
    مرے لیے کون سوچتا ہے
    سبھی کے دل میں کدورتیں ہیں
    (ماخذ:منتخب شاہکار نظموں کا البم ، منور جمیل ، اشاعت: 2000ء ، ص: 455)
    ٭

    Mohsin Naqvi
    Mohsin Naqvi


    (ہوا اس سے کہنا)
    ہوا
    صبح دم اس کی آہستہ آہستہ کھلتی ہوئی آنکھ سے
    خواب کی سیپیاں چننے جائے تو کہنا
    کہ ہم جاگتے ہیں
    ہوا اس سے کہنا
    کہ جو ہجر کی آگ پیتی رتوں کی طنابیں
    رگوں سے الجھتی ہوئی سانس کے ساتھ کس دیں
    انہیں رات کے سرمئی ہاتھ خیرات میں نیند کب دے سکے ہیں
    ہوا اس کے بازو پہ لکھا ہوا کوئی تعویذ باندھے تو کہنا
    کہ آوارگی اوڑھ کر سانس لیتے مسافر
    تجھے کھوجتے کھوجتے تھک گئے ہیں
    ہوا اس سے کہنا
    کہ ہم نے تجھے کھوجنے کی سبھی خواہشوں کو
    اداسی کی دیوار میں چن دیا ہے
    ہوا اس سے کہنا
    کہ وحشی درندوں کی بستی کو جاتے ہوئے راستوں پر
    ترے نقش پا دیکھ کر
    ہم نے دل میں ترے نام کے ہر طرف
    اک سیہ ماتمی حاشیہ بن دیا ہے
    ہوا اس سے کہنا
    ہوا کچھ نہ کہنا
    ہوا کچھ نہ کہنا
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 676)
    ٭
    (وہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے)
    بہت دنوں سے
    وہ شاخ? مہتاب کٹ چکی ہے
    کہ جس پہ تم نے گرفت وعدہ کی ریشمی شال کے ستارے سجا دیئے تھے
    بہت دنوں سے
    وہ گرد احساس چھٹ چکی ہے
    کہ جس کے ذروں پہ تم نے
    پلکوں کی جھالروں کے تمام نیلم لٹا دیئے تھے
    اور اب تو یوں ہے کہ جیسے
    لب بستہ ہجرتوں کا ہر ایک لمحہ
    طویل صدیوں کو اوڑھ کر سانس لے رہا ہے
    اور اب تو یوں ہے کہ جیسے تم نے
    پہاڑ راتوں کو
    میری اندھی اجاڑ آنکھوں میں
    ریزہ ریزہ بسا دیا ہے
    کہ جیسے میں نے
    فگار دل کا ہنر اثاثہ
    کہیں چھپا کر بھلا دیا ہے
    اور اب تو یوں ہے کہ
    اپنی آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کر
    مرے بدن پر سجے ہوئے آبلوں سے بہتا لہو نہ دیکھو
    مجھے کبھی سرخ رو نہ دیکھو
    نہ میری یادوں کے جلتے بجھتے نشاں کریدو
    نہ میرے مقتل کی خاک دیکھو
    اور اب تو یوں ہے کہ
    اپنی آنکھوں کے خواب
    اپنے دریدۂ دامن کے چاک دیکھو
    کہ گرد احساس چھٹ چکی ہے
    کہ شاخ مہتاب کٹ چکی ہے
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 690)
    ٭
    محسن نقوی کی اُردو غزلوں کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں :
    (۱)
    بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں
    صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں
    پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا
    روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں
    خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی
    کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں
    بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن
    کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں
    اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
    بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
    ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں
    پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں
    میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں
    شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں
    یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں
    ٭
    (۲)
    یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
    اس دشت میں اک شہر تھا وہ کیا ہوا آوارگی
    کل شب مجھے بے شکل کی آواز نے چونکا دیا
    میں نے کہا تو کون ہے اس نے کہا آوارگی
    لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی
    یہ درد کی تنہائیاں یہ دشت کا ویراں سفر
    ہم لوگ تو اکتا گئے اپنی سنا آوارگی
    اک اجنبی جھونکے نے جب پوچھا مرے غم کا سبب
    صحرا کی بھیگی ریت پر میں نے لکھا آوارگی
    اس سمت وحشی خواہشوں کی زد میں پیمان وفا
    اس سمت لہروں کی دھمک کچا گھڑا آوارگی
    کل رات تنہا چاند کو دیکھا تھا میں نے خواب میں
    محسنؔ مجھے راس آئے گی شاید سدا آوارگی
    (فلم: ماٹی مانگے خون،1984 )
    ٭
    (۳)
    اتنی مدت بعد ملے ہو
    کن سوچوں میں گم پھرتے ہو
    اتنے خائف کیوں رہتے ہو
    ہر آہٹ سے ڈر جاتے ہو
    تیز ہوا نے مجھ سے پوچھا
    ریت پہ کیا لکھتے رہتے ہو
    کاش کوئی ہم سے بھی پوچھے
    رات گئے تک کیوں جاگے ہو
    میں دریا سے بھی ڈرتا ہوں
    تم دریا سے بھی گہرے ہو
    کون سی بات ہے تم میں ایسی
    اتنے اچھے کیوں لگتے ہو
    پیچھے مڑ کر کیوں دیکھا تھا
    پتھر بن کر کیا تکتے ہو
    جاؤ جیت کا جشن مناؤ
    میں جھوٹا ہوں تم سچے ہو
    اپنے شہر کے سب لوگوں سے
    میری خاطر کیوں الجھے ہو
    کہنے کو رہتے ہو دل میں
    پھر بھی کتنے دور کھڑے ہو
    رات ہمیں کچھ یاد نہیں تھا
    رات بہت ہی یاد آئے ہو
    ہم سے نہ پوچھو ہجر کے قصے
    اپنی کہو اب تم کیسے ہو
    محسنؔ تم بدنام بہت ہو
    جیسے ہو پھر بھی اچھے ہو
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 303)
    ٭
    (۴)
    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی
    مجھ کو بھی شوق تھا نئے چہروں کی دید کا
    رستہ بدل کے چلنے کی عادت اسے بھی تھی
    اس رات دیر تک وہ رہا محو گفتگو
    مصروف میں بھی کم تھا فراغت اسے بھی تھی
    مجھ سے بچھڑ کے شہر میں گھل مل گیا وہ شخص
    حالانکہ شہر بھر سے عداوت اسے بھی تھی
    وہ مجھ سے بڑھ کے ضبط کا عادی تھا جی گیا
    ورنہ ہر ایک سانس قیامت اسے بھی تھی
    سنتا تھا وہ بھی سب سے پرانی کہانیاں
    شاید رفاقتوں کی ضرورت اسے بھی تھی
    تنہا ہوا سفر میں تو مجھ پہ کھلا یہ بھید
    سائے سے پیار دھوپ سے نفرت اسے بھی تھی
    محسنؔ میں اس سے کہہ نہ سکا یوں بھی حال دل
    درپیش ایک تازہ مصیبت اسے بھی تھی
    (ماخذ: بیسویں صدی کی بہترین غزلیں ، ص: 192)
    ٭
    (۵)
    میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
    مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
    یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
    میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا
    ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں
    ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا
    وفا کروں گا کسی سوگوار چہرے سے
    پرانی قبر پہ کتبہ نیا سجا دوں گا
    اسی خیال میں گزری ہے شام درد اکثر
    کہ درد حد سے بڑھے گا تو مسکرا دوں گا
    تو آسمان کی صورت ہے گر پڑے گا کبھی
    زمیں ہوں میں بھی مگر تجھ کو آسرا دوں گا
    بڑھا رہی ہیں مرے دکھ نشانیاں تیری
    میں تیرے خط تری تصویر تک جلا دوں گا
    بہت دنوں سے مرا دل اداس ہے محسنؔ
    اس آئنے کو کوئی عکس اب نیا دوں گا
    (ماخذ:کلیاتِ محسن ، ماور پبلشرز لاہور ، اشاعت: 2010ء ، ص: 224)
    ٭
    (۶)
    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا
    یہ دل یہ آسیب کی نگری مسکن سوچوں وہموں کا
    سوچ رہا ہوں اس نگری میں تو کب سے مہمان ہوا
    صحرا کی منہ زور ہوائیں اوروں سے منسوب ہوئیں
    مفت میں ہم آوارہ ٹھہرے مفت میں گھر ویران ہوا
    میرے حال پہ حیرت کیسی درد کے تنہا موسم میں
    پتھر بھی رو پڑتے ہیں انسان تو پھر انسان ہوا
    اتنی دیر میں اجڑے دل پر کتنے محشر بیت گئے
    جتنی دیر میں تجھ کو پا کر کھونے کا امکان ہوا
    کل تک جس کے گرد تھا رقصاں اک انبوہ ستاروں کا
    آج اسی کو تنہا پا کر میں تو بہت حیران ہوا
    اس کے زخم چھپا کر رکھیے خود اس شخص کی نظروں سے
    اس سے کیسا شکوہ کیجے وہ تو ابھی نادان ہوا
    جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
    ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا
    یوں بھی کم آمیز تھا محسنؔ وہ اس شہر کے لوگوں میں
    لیکن میرے سامنے آ کر اور بھی کچھ انجان ہوا
    ٭
    (۷)
    اشک اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا
    ابر کی زد میں ستارا نہیں دیکھا جاتا
    اپنی شہ رگ کا لہو تن میں رواں ہے جب تک
    زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا
    موج در موج الجھنے کی ہوس بے معنی
    ڈوبتا ہو تو سہارا نہیں دیکھا جاتا
    تیرے چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا
    ورنہ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا
    آگ کی ضد پہ نہ جا پھر سے بھڑک سکتی ہے
    راکھ کی تہہ میں شرارہ نہیں دیکھا جاتا
    زخم آنکھوں کے بھی سہتے تھے کبھی دل والے
    اب تو ابرو کا اشارا نہیں دیکھا جاتا
    کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسنؔ
    دل پہ اس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا
    (ماخذ: پاکستانی ادب ، ڈاکٹر امجد رشید ، اکادمی ادبیات اسلام آباد ، 2009ء ، ص: 663)
    ٭
    (۸)
    ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں
    تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں
    طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں
    یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں
    ستم یہ کم تو نہیں دل گرفتگی کے لئے
    میں شہر بھر میں اکیلا ادھر ادھر آنکھیں
    شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص
    چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں
    میں زخم زخم ہوا جب تو مجھ پہ بھید کھلا
    کہ پتھروں کو سمجھتی رہیں گہر آنکھیں
    میں اپنے اشک سنبھالوں گا کب تلک محسنؔ
    زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر آنکھیں
    (ماخذ: اُردو ادب ، اقبال حسین ، اشاعت: اقبال حسین پبلشرز ، 1996ء ، ص: 59)
    ٭
    کلیاتِ محسنؔ نقوی سے پچاس منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں :
    1
    مسکرایا نہ کر کہ محسن پر
    یہ سخاوت گراں گزرتی ہے
    2
    جو دوستی نہیں ممکن تو پھر یہ عہد کریں
    کہ دشمنی میں بہت دور تک نہ جائیں گے
    3
    تیرا محسنؔ ملامت کی بارش میں تَر
    جرم یہ ہے کہ فنکار ہے اور کیا؟
    4
    سیلِ خوں اب کے بہت تیز ہے محسنؔ میرے
    شہر کا شہر گیا، گھر کی خبر کیا رکھنا
    5
    شوق سے توڑ دیجے تعلق مگر
    راستے کی ملاقات باقی رہے
    6
    جہنم جھیلنے سے بھی کٹھن ہے
    اَنا کو خوگرِ بیداد کرنا
    7
    ہجر کی رُت عذاب ہے محسنؔ
    عادتیں سب بدل گئیں اُس کی
    8
    بارشِ سنگ میں جب قحطِ نمُو یاد آیا
    تیرا سچ بولتا، بے باک لہُو یاد آیا
    9
    محسنؔ جب بھی چوٹ نئی کھا لیتا ہوں!
    دل کو یاد آتے ہیں زخم پُرانے کیوں
    10
    محسنؔ اُس نے دل کا شہر اجاڑ دیا
    میں سمجھا تھا بخت سنورتا جاتا ہے
    11
    سب سے ہٹ کر ہی منانا ہے اُسے
    ہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی
    12
    محسنؔ غریب لوگ بھی تنکوں کا ڈھیر ہیں
    ملبے میں دَب گئے کبھی پانی میں بہہ گئے
    13
    نجانے راکھ ہوئی کتنے سورجوں کی تپش
    ہماری برف رگوں میں لہو پگھلنے تک
    14
    دل جو ٹوٹے تو سرِ محفل بھی
    بال بے وجہِ بکھر جاتے ہیں
    15
    شہر کی بھیڑ میں کھلتے ہیں کہاں اُس کے نقوش
    آؤ تنہائی میں سوچیں کہ وہ کیا لگتا ہے
    16
    اِک روز تری پیاس خریدے گا وہ گھبرو
    پانی تجھے پنگھٹ سے جو بھرنے نہیں دیتا
    17
    ہم تو چُپ ہیں مگر زمانے کی
    حشر سامانیاں نہیں جاتیں
    18
    ہم انا مست، تہی دست بہت ہیں محسنؔ
    یہ الگ بات کہ عادت ہے امیروں جیسی
    19
    جب تری دھن میں جِیا کرتے تھے
    ہم بھی چپ چاپ پھرا کرتے تھے
    20
    یوں دیکھتے رہنا اُسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر، تیری آنکھیں
    21
    سب اہلِ شہر پھر درِ دشمن پہ جھک گئے
    محسن کھلا کہ شہر کی تقدیر ہم نہ تھے
    22
    کج کلاہوں سے لڑ گئے محسنؔ
    ہم بھکاری حسینؑ کے دَر کے
    23
    نوکِ سِناں پہ کیوں نہ سجے اپنی سرکشی
    جُز شہریار شہر میں اپنا عدُو ہے کون؟
    24
    خوشبو کی سرد لہر سے جلنے لگے جو زخم
    پھولوں کو اپنا بندِ قبا کھولنا پڑا
    25
    محسنؔ تکلفات کی غارت گری نہ پوچھ
    مجھ کو غمِ وفا تجھے فکرِ معاش ہے
    26
    تِری آنکھ کو آزمانا پڑا
    مجھے قصہِ غم سنانا پڑا
    27
    یاروں کی خامشی کا بھرم کھولنا پڑا
    اتنا سکوت تھا کہ مجھے بولنا پڑا
    28
    کتنی عزیز تھی تری آنکھوں کی آبرو
    محفل میں بے پیے بھی ہمیں ڈولنا پڑآ
    29
    کتاب کھول رہا تھا وہ اپنے ماضی کی
    وَرق وَرق پہ بکھرتا گیا مرا چہرہ
    30
    صبح دَم شہر کی شورش تیرے دم سے ہوگی
    رات پچھلے پہر عالمِ ہُو میرا ہے
    31
    آسماں سمجھ رہے تھے اُسے شہرِ جاں کے لوگ
    مشکل اتھا اس قدر کہ میرے اپنے فن سا تھا
    32
    اُن پر تو قرض ہیں مرے حرفوں کے ذائقے
    اب جن کو آ گئیں بڑی باتیں بنانیاں
    33
    آہٹ سنی ہوا کی تو محسنؔ نے خوف سے
    جلتا ہوا دِیا تہِ داماں چھپا لیا
    34
    بستی کے سبھی لوگ سلامت ہیں تو محسنؔ
    آواز کوئی اپنے سِوا کیوں نہیں آتی
    35
    رویا ہے اس قدر کہ اب آنکھیں گلاب ہیں
    وہ شخص روٹھ کر بھی نشیلا دکھائی دے
    36
    مشکل کہاں تھے ترکِ محبت کے مرحلے
    اے دل مگر سوال تری زندگی کا تھا
    37
    جانتے ہیں وہ بے وفا ہے مگر
    دل پہ اب اختیار بھی تو نہیں
    38
    آنکھوں میں ایک اشک ہے باقی ہوائے شام
    یہ آخری دِیا ہے اِسے مت بجھائیو
    39
    کبھی تُو محیطِ حواس تھا، سو نہیں رہا
    میں ترے بغیر اُداس تھا، سو نہیں رہا
    40
    اُسے لُبھا نہ سکا، میرے بعد کا موسم!
    بہت اُداس لگا، خال و خد سنوار کے بھی
    41
    سفر تنہا نہیں کرتے!
    سُنو ایسا نہیں کرتے
    42
    دِیا خود سے بُجھا دینا
    ہوا کو اور کیا دینا
    43
    رَگوں میں زہر بھر لینا
    بدن آباد کر لینا
    44
    کیا قیامت ہے کہ دل جس کا نگر ہے محسنؔ
    دل پہ اُس کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا
    45
    ٹھہر جاؤ کہ حیرانی تو جائے
    تمہاری شکل پہچانی تو جائے
    46
    راحتِ دل، متاعِ جاں ہے تُو
    اے غمِ دوست جاوداں ہے تُو
    47
    میں شکستہ آئنوں کے شہر میں پھرتا رہا
    ہاتھ میں تیرا پتہ، پاؤں میں چبھتی کِرچیاں
    48
    تو کہ سمٹا تو رگِ جاں کی حدوں میں سمٹا
    میں کہ بکھرا تو سمیٹا نہ گیا تیرے بعد
    49
    خود کشی کو بھی رائیگاں نہ سمجھ
    کام یہ بھی ہے کر گزرنے کا
    50
    اُس کے خال و خد کی تشبیہیں نہ پوچھ
    رنگ، رِم جھم، روشنی، رعنائیاں
    ٭٭٭
    حوالہ جات :
    (کتابیات)
    1۔پیمانہ ٔ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:386
    2۔ردائے خواب ، محسن نقوی ، ماورا پبلشرز لاہور
    3۔ کلیاتِ محسن ، بک کارنر جہلم
    4۔ کلیاتِ محسن (مذہبی کلام )
    5۔خطباتِ محسن (تقاریر)منہاج الصالحین لاہور
    (سوشل میڈیا /ویب )
    1۔ ریختہ ڈاٹ او آر جی ( محسن نقوی )
    2۔ وِیکی پیڈیا ( انگلش/اُردو ) ، محسن نقوی
    3۔پاک میڈیا ، محسن نقوی
    4۔اُردو نظمیں /محسن نقوی، بائیو گرافی
    5۔اُردو کلاسک ، فیس بک (گروپ )
    6۔ریختہ بلاگ پوسٹ
    ٭٭٭

    yousuf
  • دیرینہ خواب کی تعبیر …’’شعوروادراک ‘‘

    دیرینہ خواب کی تعبیر …’’شعوروادراک ‘‘

    دیرینہ خواب کی تعبیر …’’شعوروادراک ‘‘
    تبصرہ نگار : حسن اَختر
    ( تربت ، بلوچستان )

    شعور و ادراک کتابی سلسلہ نمبر 1 پڑھنے کا موقع ملا۔ دیرینہ خواب کی تعبیر پر جنابِ محمد یوسف وحید مبارک باد کے مستحق ہیں۔ زبان و ادب سے ان کی والہانہ محبت کا مظہر ہے۔ فرد ِواحد کا اتنا بڑا عملی اقدام عام بات نہیں ہے۔ اگرچہ وطنِ عزیز اور دنیا بھر سے اُردو، پنجابی اور سرائیکی کے اہلِ علم و ادب کا تعاون شاملِ حال تھا تاہم محمد یوسف وحید کی مستقل مزاجی اور ادب دوستی کا کردار مرکزی ہے۔
    تمام انسانوں کی فکر میں یکسانیت نہیں، ان کے خیال میں ہم آہنگی نہیں، طور طریق اور طرز میں بھی اختلاف ہے۔ رہن سہن، گفتگو اور طرزِ گفتگو میں فرق ہے۔ ہر شخص کا اپنا معیار ہے، اپنی سوچ ہے جو دوسرے سے میل کھانے میں کسی زبردستی کی قائل ہے نہ محتاج، وہ جو چاہے کہہ سکتا ہے اور اسے اچھا خیال کر سکتا ہے۔ درحقیقت اس کا مقام ہے کیا اس سے بے خبر اور لاعلم اس پر کوئی توجہ دئیے بغیر جب مختلف اَفراد اختلاف و اقوال اور اختلاف طرزِ زندگی کا باعث قرار پائے تو اس طرح اُدباء کا اختلاف بھی مختلف نوعیتوں کے ادب کے ظہور کا باعث ہوا، ان میں کس کا معیار کیا ہے؟
    کون کن خصوصیات کا حامل ہے؟
    کہاں کیا خامیاں ہیں؟
    کسی کو کیا مرتبہ عنایت کیا جاسکتا ہے؟
    کس کا فن کس اہمیت کا حامل ہے؟
    یہ معلوم کرنے کی ضرورت پیش آئی اور فن کے معیار کو پرکھنا ضروری قرار پایا اور ضرورت پیش آئی ایسے فن کی جو تخلیق پر پڑے پردوں کو چاک کرے اور اس کی خوبیوں اور خامیوں کو عیاں و بیاں کردے۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے جو فن مدون کیا گیا وہ تنقید کہلایا۔
    چونکہ اس فن میں جانچنا اور پرکھنا تھا اور یہ فن کسوٹی کی حیثیت رکھتا تھا، جس پر دیگر فن پاروں کو پرکھا جا سکے اور ان کی قدروں کو معلوم کیا جاسکے۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس کا نام تنقید قرار پایا جو کہ عربی زبان میں جانچنے اور پرکھنے کے معنی میں آتا ہے اور اس فن سے تعلق رکھنے والے نقاد، چونکہ عربی زبان میں نقاد سکوں کے پرکھنے والے کو کہتے ہیں، اسی مناسبت سے اُردو زبان میں فن پاروں کے کھرا اور کھوٹا متعین کرنے والوں کو نقاد کہا گیا۔ میتھو آرنلڈ نے تنقید کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے۔ ’’دنیا میں جو بہترین باتیں معلوم ہیں یا سوچی گئی ہیں اُنہیں غیر جانب دارانہ طور پر جانچنے اور عام کرنے کی خواہش کا نام ہی تنقید ہے۔ ‘‘
    ناقد کو اس بات سے بحث نہیں کہ کہنے والا یا سوچنے والا کون ہے؟ وہ تو صرف یہ دیکھتا ہے کہ کیا کہا گیا اور کس طریقے سے کہا گیا۔ تنقید میں براہِ راست مواد اور ہیئت سے دخل ہے۔
    اگر کوئی شخص مواد اور ہیئت پر توجہ دئیے بغیر صرف ادیب کی شخصیت پر فیصلہ کرتا ہے تو وہ تاثراتی تنقید کا شکار کہلاتا ہے۔ تاثراتی تنقید کی والٹر پیڈ نے ان الفاظ میں تعریف کی ہے۔’’ تنقید نگار کی ذمہ داری بس اتنی ہے کہ وہ انہیں ان کے اصل روپ میں دیکھے اور ان کے بارے میں تاثرات بیان کردے۔‘‘

    shaoor o idraak


    تنقید کی یہ صنف بہت سی خامیاں اپنے دامن میں رکھتی ہے، جس کی وجہ سے فن کا اصل معیار سامنے نہیں آپاتا اور ناقد صرف اس تاثر کا شکار ہوجاتا ہے جو اس کے ذہن پر مرتب ہوا ہے جب کہ تنقید کے اُصولوں میں یہ جانچنا اور پرکھنا ضروری ہے کہ اس کا خیال تازہ ہے یا فرسودہ؟ کہنے والے کے ارد گرد کا ماحول اس کی سوچ و فکر ان سب پر بھرپور احاطہ کرنا اور فن پاروں کو ہزار ہزار زاویوں سے دیکھنا فن کے معائب و محاسن کو پتہ لگانے میں کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑنا یہ اچھے تنقید نگار کی پہچان بھی ہے اور تنقید کا اہم ترین اُصول بھی۔ اگر کوئی شخص صرف ہیئت پر توجہ دیتا ہے اور صرف یہ کہنا کہ الفاظ کی عمدہ ترتیب ہو جو من موہ لے جس میں انسان گم ہو کر رہ جائے، جس کی طرف ہر فرد بشر دَوڑ پڑے، مواد سے کوئی خاص سروکار نہیں رکھتا تو وہ جمالیاتی تنقید کے زمرے میں شامل ہوجاتی ہے اور اسے اقوال کے قائل کو جمالیاتی تنقید کا شکار کہا جاتا ہے جس کے تعلق سے آسورن کہتے ہیں کہ کوئی تنقیدی فیصلہ جمالیاتی اَقدار پر نظر رکھے بغیر صحیح نہیں ہوسکتا اور اس طرز کے ناقدین شاعر کو مثل تصویر کشی سمجھتے ہیں جہاں عمدہ رنگوں کی قدر ہوتی ہے، ان کے یہاں وہ سنگ تراشی ہے جس میں صرف وہ پہلو اہمیت کا حامل ہے جو انسان کو خوش کرے، اس کے قلب پر مسرت کے احساسات کو جلوہ فگن یا سایہ فگن کردے،و ہ مواد کو زیادہ ترجیح نہیں دیتے۔
    اسی طرح جب یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے تو ایک اور نظریے کی پیدائش ہوتی ہے۔ مارکسی تنقید جو بہت زیادہ مقبولیت کا حامل قرار پاتا ہے، جس میں توجہ دی گئی مواد اور ہیئت دونوں پر اور عمدہ طریقے سے یہ نعرہ بلند کرنے کی فکر کو عام کیا گیا کہ مزدوروں اور کمزوروں کی طرف سے آواز بلند کی جائے، ان کے حقوق کا بیڑا اُٹھایا جائے، ان پر ہورہے مظالم کو بند کیا جائے، انہیں عزتیں ملیں، مقام ملے، وقار ملے، اسی طرح کی چیزیں ادب میں پیش کی گئیں اور تنقید کا مزاج بھی اسی انداز کا ہوا لیکن پھر یہ نظریہ شدت کا شکار ہوا اور اس میں صرف باقی رہ گیا مواد اور ہیئت کو ترک کردیا گیا یہاں تک کہ لوگوں نے اس نظرئیے کے بانی پر تنقید کی اور کہا کہ کارل ماررکس کوئی ادیب نہیں تھے، ادب میں ان کی رائے محض ایک تماشائی کی داد کی طرح ہے، پھر اسی میں سے ایک شاخ پھوٹی جو ترقی پسند تحریک کہلائی جس کے حوالے سے منشی پریم چند نے لکھا ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اُترتا ہے، جس میں تفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، جس کا جوہر تعمیر کی روح، زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو، جو ہم میں حرکت ہنگامہ اور بے چینی کرے، سلائے نہیں کیوںکہ اب زیادہ سونا موت کی علامت ہوگی۔ نام الگ ہے، روپ، رنگ، طریقہ وہی ہے جو مارکسی اور مارکسی تنقید کا ڈھانچہ ہیں۔ افکار و خیالات، نظریات وہی ہیں لیکن ساتھ ہیئت پر بھی بھرپور توجہ عنایت کرتے ہیں۔ اس کے اصول بھی اس انداز کے ہیں کہ ادیب جانب دار ہو، درد مندوں کی آواز ہو۔ ان تینوں میں سے کون کس مقام اور کس حیثیت کا حامل ہے اور اس کے بعد ہی فن پارے کی اہمیت اور اس کے مقام کا اندازہ لگائے، تاہم یہ امر بھی مسلم ہے کہ ادیب کے گرد و نواح کے واقعات، حالات کو بھی ناقد کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوں، نہیں وہ تنقید کے اعلیٰ معیار پر فائز نہیں ہو پائے گا۔ تنقید کی کچھ اور قسمیں بھی ایجاد ہوئیں، مثلاً اسلوبیاتی تنقید، ساختیائی تنقید، یہ بھی ان اصولوںسے خارج نہیں ہیں،ہاں ایک تنقید کی قسم سائنٹفک تنقید اس پر میں نے بحث نہیں کی۔ وجہ ہے آل احمد سرور کا یہ قول ادبی تنقید فن ہے، سائنس نہیں گو سائنسی طریقۂ کار سے مدد لے سکتے ہیں، لے رہے ہیں۔ یہ مقصد نہیں ذریعہ ہے فن کو بہتر طور پر سمجھنے اور فن پاروں کی قدر و قیمت پانے کا۔ اس میں کوئی اُصول صرف نہیں۔ اس سے بنتے اور ٹوٹتے ہیں، اس لئے ان پر بحث نہیں کی گئی، البتہ تنقید کے اصول تفصیل طلب عنوان ہے جس کے لئے یہ چند گذارشات ناکافی ہیں اور میرے لئے اس عنوان کا حق ادا کرنا آسمان سے ستارے توڑنے کے مترادف ہے۔یہ تو پروفیسر گوپی چند نارنگ جیسے افراد کا کام ہے۔’’شعور و ادراک ‘‘کے پہلے کتابی سلسلے میں ادب کی زیادہ تر اصناف کے فن پارے موجود ہیں۔ معیار دیکھ کر محسوس نہیں ہوتا کہ ابتدائی جریدہ ہے۔ مستقبل میں بہتر سے بہترین کے سفر میں کامیابی کے لیے دُعا گو ہوں۔
    ٭
    (بحوالہ : شعوروادراک ، شمارہ نمبر 2/3، (اپریل تا ستمبر 2020ء ) مدیر: محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، ص: 348)
    ٭٭٭

    hassan akhtar

    حسن اَختر

    تربت ، بلوچستان

  • ابلاغِ افکار، متاعِ فن …حفیظ شاہد

    ابلاغِ افکار، متاعِ فن …حفیظ شاہد
    تبصرہ نگار: پروفیسر رئیس نذیر احمد
    (اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ گریجوایٹ کالج آ ف کامر س ، رحیم یار خان )

    خان پور (ضلع رحیم یار خان ) کی مردم خیز دھرتی میں سینکڑوں نام ورہستیاں علم و ادب کے میدان میں کارہائے نمایاں سر انجام دے کرخود کو اَمر کر گئی ہیں ۔ میدانِ علم و فضل اور تحقیق و جستجو سے وابستہ بے شماراحباب درخشندہ ستاروں کی کہکشاں میں شامل ہوئے جن میں ایک نمایاں نام ’’حفیظ شاہد ‘‘ کا بھی شامل ہے ۔ اگرچہ میں حفیظ شاہد کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا مگرعلمی و ادبی مجلہ ’’شعوروادراک‘‘ (اپریل تا جون 2021) شمارہ نمبر 6،’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ کے توسط سے حفیظ شاہدکی شخصیت اور فنی صلاحیتوں سے کسی قدر واقف ہو سکا ہوں ۔ جس کے لئے مدیر ’’شعوروادراک‘‘ محمد یوسف وحید کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور یہ چند سطور اسی سلسلے کی کڑی ہیں ۔ ’’شعوروادراک‘‘کے حالیہ خاص نمبر کا مقصد دراصل ان کی شخصیت کو بھر پو رخراجِ تحسین پیش کرنا ہے ۔
    ادب کا گلِ سر سبز شاعری کو سمجھا جاتا ہے ۔ اگر یہ کہا جائے کہ غزل حفیظ شاہد کی شاعری کا جلی عنوان ہے تو یہ غلط نہ ہوگا ۔حفیظ شاہد نے شعری اصناف میں غزل کو ذریعہ ٔ اظہا ربنایا ۔حفیظ شاہد کے شعری سفرمیں چھ شعری مجموعے ’’ سفر روشنی کا، چراغِ حرف ، مہتابِ غزل ، یہ دریا پار کرنا ہے ، فاصلہ درمیاں وہی ہے ابھی اور سورج بدل رہا ہے ‘‘شامل ہیں ‘جن میں حفیظ شاہد کا شعری سرمایہ محفوظ ہے۔ حفیظ شاہد کے ایوانِ غزل کو اگر خزینہ ٔ افکار کہا جائے تو شاید درست ہوگا ۔حفیظ شاہد نے اپنی شاعری میں جس رنگ و آہنگ کو کشید کیا ہے ‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غزل کے روایتی موضوعات پر مضبوط گرفت اور کامل قدرت رکھتے تھے ۔
    غزل فکر و نظر کی اس معراج پر ہوتی ہے جہاں سمندر قطرے میں سمٹ جاتا ہے ۔ اگر سوچ میں سچائی آجائے تو لفظ روشن ہوجاتے ہیں اور اسی سے تغزل نکھرتا ہے ۔ یہ ایک مبنی بر حقیقت صداقت ہے کہ شاعری میں پست خیالی غزل کی رسوائی کا سبب بنی اور اس کے مقابل ارفع خیال قابلِ تحسین اور وقار کی علامت ٹھہرا ۔
    حفیظ شاہد کی ‘صنفِ غزل سے اس قدر انہماک اور وابستگی لائقِ رشک ہے ۔ ایک حساس شاعر کی یہ پہچان ہے کہ انسانی حوالوں سے اس کے دُکھ ‘ پریشانی اور خواہش کی ضرور ترجمانی کرتا ہے ۔ بے انصافی ، عدم رواداری ، اخلاقی قدروں کی پامالی ان کا خاص موضوع ہے جس کا عکس ان کی شاعری میں جابجا نظرآتا ہے ۔ بقولِ غالب :
    ’’ہے آدمی بجائے خود اک محشر خیال ‘‘
    اسی مصرعے کے مصداق حفیظ شاہد کا تخلیق ساز ذہن ہمیشہ موافق خیالات کی تلاش میں مصروف رہا ہے ۔ حفیظ شاہد نے وسیع مطالعے کے تناظر میں معاشرتی طبقات کی نمائندگی اور مسائل کی عکاسی کے لئے غزل کو ذریعہ ٔ اظہار بنایا ۔ غم، اَلم ، حزن، ملال چوں کہ انسانی فطرت کا حِصہ ہیں ۔ اس لئے اس کی ہمہ گیری سے انکار ممکن نہیں ہے ۔ لیکن ایک شاعر کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کیوں کہ وہ قلم کے آغوش میں پرورش پانے کا عادی ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کی سوچ میں تخلیق کے پوشیدہ جواہر نمایاں ہوتے ہیں ۔
    حفیظ شاہد نے اپنے مخصوص رنگِ تغزل سے واقعات کو دل آویز اور یادگار ماضی کا حسین سرمایہ بنا کر پیش کیا ہے ۔ ان کی غزل میں فکر کی گہرائی ، خیال کی وُسعت کے عناصر نمایاں نظر آتے ہیں ۔ ایک اچھے شاعر کا تخصص ہے کہ وہ فطرت کا عکاس بھی ہو ۔ حفیظ شاہد نے عشقیہ غزل کی بجائے شعوری اور مثبت فکر کو پروان چڑھایا ۔ جب ذخیرہ الفاظ وُسعت کا حامل ہو تو فکر پر قدرت خود بخود آجاتی ہے ۔ اسی سبب حفیظ شاہد کی غزل میں جدید و قدیم کا حسین امتزاج قاری کو مسحور کر دیتا ہے ۔
    شاعری ‘سُلگتے جذبات کی عکاسی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ حفیظ شاہد کتنے بیدار مغز اور عمدہ شاعر تھے ‘یہ جاننے کے لیے بھر پور اور عمدہ تحریروں سے مزین ’’شعوروادراک‘‘ کا تازہ شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘معاون وبہترین ثابت ہوسکتا ہے ۔
    بڑے ادیبوں اور شاعروں کو تعریف و ستائش کے لئے مجبور کر دینے والے حفیظ شاہد کو جو فنی اعتبار ملا‘ اس نے خان پور کی ادبی سرگرمیوں میں شاعری کی صنف میں غزل کو زندہ و جاوید کرکے جمالیاتی اظہار سے ہم آہنگ کر دیا ۔ حفیظ شاہد کی شاعری میں اُردو کی کلاسیکی روایت بھی موجود ہے ۔ وُسعتِ مطالعہ اور ریاضت کے ساتھ ساتھ ذخیرۂ الفاظ نے ان کی شعری قدر و منزلت میں نمایاں مثال قائم کی ہے ۔

    شعوروادراک کا خاص شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘ …بیش قیمتی تحفہ


    بلاشبہ حفیظ شاہد اُردو زبان و ادب میں صنفِ شاعری کی بنیاد پر خان پور کے ایک یگانہ روزگار اہلِ علم تھے ۔ غزل اُن کی شاعری کی تابندہ ہیئت ہے ۔حفیظ شاہد غزل کے کہنہ مشق شاعر تھے ۔ اہلِ علم کو غزل کے آبگینے دان کرنے کے بعد قدرِنعت کی طرف بھی متوجہ ہوئے کیوں کہ نعتیہ شاعری کو وہ شاعر کی متاعِ فن سمجھتے تھے ۔ حفیظ شاہد نعتیہ کلام میں فنی محاسن کو ہادیٔ برحق ؐ کے خزانہ جو د و سخا سے منسوب کرتے ہیں ۔حفیظ شاہد نعتیہ کلام کو صداقت و حقیقت کی روشنی سے اُجالنے کی سعی ٔ پیہم میں کہاں تک سرخروہو سکے ہیں ‘ اس کا فیصلہ قاری اُن کے نعتیہ کلام کو پڑھ کر آسانی سے کر سکتا ہے ۔کیوں کہ حفیظ شاہد نعت کو اپنے لئے ایمان اور سلامتی قرار دیتے ہیں ۔
    حفیظ شاہد کا دامن حمد ، نعت ، منقبت سے خالی نہیں رہا ۔ ایک غزل گو کو جب اللہ کی طرف سے توفیق عطا ہوتی ہے تو اس کے اظہاریے کو نعت کا آہنگ بھی نصیب ہو جاتا ہے ۔ جب شاعر کے دل میں محبوبؐ کی محبت پیدا ہوجائے تو قلم میں تاثیر خود بخود پیدا ہوجاتی ہے ‘ پھر غزل کو نعت کا آہنگ نصیب ہوجانا کچھ مشکل نہیں ہوتا ۔
    نعت ایک سرمدی آواز ہے جو نشاطِ روح اور دل کی آسودگی سے ہم کنار کرتی ہے ۔ نعت کو آنسو کی دُعا اور عاشقوں کی صدا بھی کہا گیا ہے ۔ بے شک حفیظ شاہد کی عمرِ عزیز پر غزل کا اَثر زیادہ ہے مگر نعت میں محبوبِ حقیقی کا حُسن اور جمال بدرجہ اُتم لیے ہوئے ہیں اور جوشِ عقیدت کے ایسے پھول کھلاتے چلے گئے ہیں جس کی خوش بُو ہر سُو پھیلتی چلی گئی ہے ۔ ان کی نعت فنی محاسن سے اتنی زرخیز ہے کہ قاری کو مسحور کردیتی ہے ۔ حفیظ شاہد کے نزدیک نعت کہنا دنیا کی دیگر تمام تمنائوں اور خواہشوں سے افضل ترین سرمایہ ٔ حیات ہے ۔ ا ن کا عالمانہ رنگ، عمدہ زبان و بیان پر محیط ہے ۔ ردیف ، قافیہ پر مضبوط گرفت اُن کی صنعت گری کا ثبوت ہے ۔ الفاظ کا دیدہ زیب انتخاب ، تکرارِ لفظی ان کے کلام کے نمایاں فنی محاسن ہیں ۔ نعتیہ اشعار کی رعنائی سے اپنے دامنِ اظہار کو آراستہ رکھا ۔ جذبۂ فکر اور ندرتِ اظہار ‘ہمیشہ قولِ صادق کا متلاشی رہنا ۔ مختصر یہ کہ حفیظ شاہد کی نعتیہ شاعری ہمیں مختلف جہتوں سے روشناس کراتی ہے ۔
    ’’شعوروادراک‘‘کے مذکورہ شمارے میں لکھنے والوں کی ایک طویل فہرست ہے ۔ ہر ایک نے مختلف انداز میں حفیظ شاہد کی شخصیت وفن کومنفرد اُسلوب میں بیان کیا ہے ‘ جو بہت خوب صورت اور عمدہ کاوش ہے ۔خصوصی شمارہ میں مظہر عباس نے ’’حفیظ شاہد کی تاریخ گوئی کی روایت اور حفیظ شاہد کے قطعات ِ تاریخ گوئی کا تحقیقی و توضیحی مطالعہ ‘‘ بڑے جان دار انداز میں پیش کرکے خوب داد سمیٹی ہے ۔دیگر قلم کاروں کے ساتھ صادق جاوید نے بھی اُچھوتے انداز میں قارئین کو اپنا اَسیر بنایا ہے ۔
    مخیر ِ علم و ادب محمد یوسف وحید فروغِ ادب کے لئے بغیر کسی ستائش کے چلہ کشی میں جس انہماک سے مصروف ہیں‘ یکے بعد دیگر ے اس کے ثمرات علمی دبستان کی شکل میں ظہور پذیر ہورہے ہیں ۔ ہم مستقبل میں بہت سی توقعات وابستہ کرکے اسے ادبی میدان میں ایک قیمتی اثاثہ قرار دے سکیں گے ۔ کچھ لوگوں کے وجود معاشرے میں کسی نعمت سے کم نہیں ہوتے جو جہدِ مسلسل کو اپنے اوپر فرض کر لیتے ہیں جن کے جینے کا مقصد صرف اور صرف آرام طلب اور سہل پسند زندگی گزارنے والے لوگوں کو بامقصد خیالات دینا ہوتا ہے ۔
    مدیر مجلہ’’شعوروادراک‘‘ محمد یوسف وحید ‘حفیظ شاہد کے قد ر دانوں اور نیاز مندوں میں سے ایک ہیں ۔ حفیظ شاہد کے غیر مطبوعہ کلام کی تلاش کا مرحلہ کس قدر حوصلہ شکن اور صبر آزما تھا ۔ اس سلسلے میں محمد یوسف وحید کی کاوش ، جستجو اور لگن قابلِ تحسین ہے کہ نہ صرف کلام کو بازیافت کیا بلکہ اس کو حُسنِ ترتیب سے شائع کرکے ایک مستحسن روایت کو نہایت عمدگی سے نبھایا ہے جو ان کے عزم و استقلال ، پُر عزم حوصلے اور عمدہ ذوق کی شان دار مثال ہے ۔ اُمید ہے اسی محنت ، خلوص ، دیانت ، ولولے ، ثابت قدمی اور خوش اُسلوبی سے تمام رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے ادبی سفر کو جاری وساری رکھیں گے ۔ان شاء اللہ
    ٭٭٭

    پروفیسر رئیس نذیر احمد

    اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ گریجوایٹ کالج آ ف کامر س ، رحیم یار خان

  • عصری اَدب کا ترجمان …’’شعوروادراک‘‘

    عصری اَدب کا ترجمان …’’شعوروادراک‘‘

    عصری اَدب کا ترجمان …’’شعوروادراک‘‘
    تبصرہ نگار : صائمہ فردوس
    (گیر یژن یونیورسٹی لاہور )

    ادبی جریدہ چند مطبوعہ اوراق کا پلندہ نہیں ہوتا بلکہ اسے ادباء، فضلا اور علماء کی ایسی انجمن کا درجہ حاصل ہوتا ہے جس سے نہ صرف معاشرے کو فکری اور نظریاتی طور پر مائل بہ ارتقاء رکھا جا سکتا ہے بلکہ اس کے باطن میں ایک دَور کی سماجی ،فکری اور تخلیقی کروٹیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ ادبی جریدہ نگاری جہاں عوام اور خواص کے ذہن کو نئی روشنی سے منور کرتی ہے ‘وہیں اس سے نئے لکھنے والوں کی ذہنی تربیت بھی ہوتی ہے اور پرانے لکھنے والوں کے ذہن کو مزید غوروفکرکرنے کی دعوت ملتی ہے۔ خان پور سے شائع ہونے والا’شعوروادراک‘ ادبی جریدہ نگاری میں قابلِ قدر اضافہ ہے۔
    مجلہ ’’شعوروادراک‘‘کا پہلا شمارہ خوبصورت سرورق اور دیدہ زیب طباعت کے ساتھ منظر عام پر آیا۔ مدیر محمد یوسف وحید جو مایہ ناز علمی و ادبی شخصیت ہیں ‘نے اپنی نگرانی میں نذیر احمد بزمی اور مرزا امین بابر کے تعاون سے اس شمارے کو پورے اخلاص اور انہماک سے ترتیب و تزئین کا عملی جامہ پہنا کر خوبصورت بنا دیا ہے۔ جمیل جالبی کے مطابق:
    ’’ایک اچھا رسالہ ایک ادارہ ہوتا ہے اور اس کا ایڈیٹر اپنی ذات میں ایک انجمن ہوتا ہے جو لکھنے والوں کی تربیت بھی کرتا ہے اور اُن کی ذات کو جِلا بھی دیتا ہے۔ ان کا احتساب بھی کرتا ہے اور ان میں لکھنے اور سوچنے کے نئے پہلو بھی اُبھارتا ہے‘ اُن کی صلاحیتوں کو ایک مرکز بھی دیتا ہے اور حوصلہ افزائی کر کے اُن میں اعتماد کا صور بھی پھونکتا ہے۔‘‘

    Sahoor O Idraak
    Sahoor O Idraak


    مجلہ ’’شعوروادراک‘‘ پاکستان کی اہم زبانوں اُردو، پنجابی اور سرائیکی تحریروں پر مشتمل ہے جس میں ادب سے متعلقہ ہر صنف کا نمائندہ اظہار شامل ہے۔ موضوعات کی ایک رنگا رنگی ہے کہ جس کو جس موضوع یا صنف سے لگائو ہے اسی سے کسبِ فیض حاصل کر سکتا ہے۔ مدیر چونکہ خود بھی اعلیٰ ادبی آدرش رکھتے ہیں لہٰذا انتخاب میں بلند ادبی معیار کو ملحوظِ خاطر رکھا ہے۔ مذکورہ مجلہ میں نہ صرف مشاہیر بلکہ ان اہل قلم کی تحریروں کو بھی جگہ دی ہے جو ابھی اس میدان میں نئے ہیں اس طرح اس شمارے کو ہم ادبی رجحانات اور میلانات کا مظہر کہہ سکتے ہیں۔
    مجلہ ’’شعوروادراک‘‘ کو مضامین کے معیار اور تنوع کے لحاظ سے ایک اعلیٰ معیار کا جریدہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔جس سے جامعات کے طلباء و طالبات اپنی نصابی ضروریات کے لیے استفادہ کر پائیں گے۔ خصوصی طور پر اظہر عروج کا مضمون’’خان پور کی ادبی فضا میں’’بزمِ ادراک‘‘ کا کردار‘ ‘ اور سحرش منظور کی تحریر’ ’دارالسرور‘‘ بہاول پور کی مرکزی لائبریری جس میں بہاول پور کے اہم کتب خانوںاور ان میں موجود قدیمی نسخے اور مخطوطات کا ذکر ہے‘ تحقیق کے طالب علموں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔
    مذکورہ شمارے میں مدیر کے قلم سے ’’اپنی بات‘‘ خاصے کی چیز ہے۔ اس میں دو اہم اُمور کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ‘ایک تو یہ کہ باوقار اقوام اپنی ثقافت و زبان کو سینے سے لگا کر رکھتی ہیں اور دوسرے یہ کہ ہمارے یہاں قومی زبان کا خصوصی دن نہیں منایا جاتا۔ ہم لوگ مغربی تقلید میں ویلنٹائن ڈے کو تو فروغ دے رہے ہیں مگر قومی زبان کے خصوصی دن کے حوالے سے عوام تو کیا ادبی حلقوں کی جانب سے بھی کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ کم از کم اربابِ اختیار تک اس نکتہ نظر کو ضرور پہنچانا چاہیے۔
    اُردو میں لسانیات کے موضوع پر بہت کم لکھا گیا ہے اس سلسلے میں مجلے میں شامل پروفیسر انور جمال کا مضمون’’ زبان، اُردو زبان اور دو لفظی محاورے‘‘ اہمیت کا حامل ہے جس میں مولانا محمد حسین آزاد، حافظ محمود شیرانی، سلیمان ندوی اور برجموہن دتاتر کیفی کے حوالے سے اُردو زبان کی پیدائش، ارتقاء کا اجمالی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ نیز اُردو زبان کی صحت کے معیار پر بحث کی ہے۔ اس کے ساتھ سعدیہ وحید کا مضمون ’’پاکستان میں بولی جانے والی زبانیں‘‘ جس میں( ایتھنا لوگ ویب سائٹ )کے حوالے سے پاکستان کا لسانی تنوع اور شمالی علاقہ جات میں بولی جانے والی ملکی زبانوں کا ذکر کیا گیا ہے مگر اس مضمون میں اک تشنگی سی باقی رہ گئی ہے کیونکہ ان زبانوں کے آغاز اور ارتقاء کے پہلو کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔
    دیگر مضامین’’ اقبال اور نوجوان (ڈاکٹر ذاکر خان)، ترجیحات (تسنیم جعفری) تعصب‘‘ (سرسید احمد خاں) شامل ہیں خاصے فکر انگیز ہیں جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر ہم اپنے آبائواجداد کی سوچ کو تقویت دیں تو تہذیب یافتہ سماج وجود میں آ سکتا ہے کیونکہ کم و بیش دو تہائیوں کے پس منظر اور حال پر غور کیا جائے تو سوائے خاک اڑنے کے کچھ نہیں ملتا۔ ملک میں پھیلی انارکی، خلفشار اور باہمی چپقلش اتنی تکلیف دہ ہو چکی ہے کہ مستقبل کے بارے میں کوئی مثبت نقشہ کھینچنا محال ہوتا جا رہا ہے۔ معاشرے میں پھیلی بے چینی اور نظریاتی عدم وابستگی تخلیقی سرگرمیوں سے ختم ہو سکتی ہے کیونکہ ادب سے بڑا کوئی نعرہ نہیں اور ادب سے بڑی کسی تحریک نے کبھی جنم نہیں لیا۔
    شمارے میں منشا یاد کا مضمون’’افسانہ کیسے لکھیں‘ ‘مفید اور اہم معلومات کا حامل ہے تاہم اگر علامتی اور تجریدی انداز کے حامل افسانوں کی کچھ مثالیں اور ان کے مصنفین کا ذکر بھی شامل کر دیا جاتا تو قارئین کو تمثیل نگاری اور تجریدیت کی تفہیم میں سہولت ہو جاتی۔

    shaoor o adraak


    مجلہ ’’شعوروادراک‘‘کے اس شمارے میں شامل افسانوں میں’’ تاثر، یقین، پیار کا پہلا تحفہ اور مشین‘‘ ہمارے نفسیاتی اور معاشرتی روّیوں کے عکاس ہیں۔ ان کے مصنفین قاری پر اپنا تاثر قائم کرنے میں کافی حد تک کامیاب رہے۔ ان تحریروں کا اُسلوب، تکنیک ان کی فنی پختگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ جبکہ’’ موروں کی چال ، سردیوں کی پیاس اور اندر باہر‘‘ افسانوں میں اُسلوب بیاں میں جدت ہے مگر دل کشی نہیں۔ تاثر سے خالی ہیں محض تقلیدِ سطحی ہے ‘افکار کی گہرائی نظرنہیں آتی۔
    شمارے میں شامل فن و شخصیت کے حوالے سے تمام موضوعات نہایت قابلِ قدر اور مصنفین کی فکروتحقیق کا نتیجہ ہیں۔ کچھ موضوع کس قدر تشنہ اور زیادہ تفصیل و توضیح کے محتاج ہیں لیکن بڑی خوبی سے تحریر کیے گئے ہیں ۔خصوصی طور پر خواجہ غلام فریدؒ پر لکھے گئے مضامین ان پر تنقید کرنا چاند پر خاک ڈالنا ہے۔ یہ وہی کر سکتا ہے جس نے ان کے کلام کا بغور مطالعہ کیا ہو اور ساتھ ہی زبان کے عیب و صواب و اس کی خوبیوں اور نزاکتوں کو سمجھتا ہو۔
    الغرض اس طرح مختصر شمارے میں ادب کے مختلف اَدوار اور شخصیات کو مرتب کیا گیا ہے کہ قاری بغیر زیادہ جستجو کے ان کی فنی کاوشوں سے مستفید ہو سکتا ہے۔
    خصوصی مطالعہ کے ضمن میں محمد یوسف وحید کی تحریر اہمیت کی حامل ہے جس میں انہوں نے خان پور کی مختصر ادبی تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے نہ صرف موجودہ اہل ِقلم بلکہ ان پر بھی تحقیق کی ہے جن کو عالم بالا سدھائے ہوئے زمانہ گزر گیا مگر یوسف وحید کی ہمت کو داد نہ دینا نا انصافی ہو گی۔ ان اہلِ قلم پر کام کرنا اور ان کے کوائف اکٹھے کرنا یقینا جان جوکھوں کا کام ہے۔محمد یوسف وحید کمال مہارت سے تمام اہم ادبی شخصیات کو کشید کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
    حصہ شاعری میں شامل کلام پُر لطف تو ہے لیکن اس میں بلندی فکر و تاثیر نہیں۔ زیادہ تر غزلوں میں روشنی کی کرن نہیں۔ لفظوں کا گورکھ دھندہ ہیں ہاں البتہ امین بابر اور ایوب اختر کی غزلوں کو تاثر سے خالی نہیں کہا جا سکتا۔
    آخر میں شخصیات اور کتب پر تبصرے شامل کیے گئے ہیں جن کے پیچھے مصنفین کی مدتوں کا تجربہ، مشاہدہ اور غوروفکر چھُپا ہے۔ شعوروادراک میں معاصر تنقیدی و تخلیقی مضامین کا جو تنوع ہے وہ کہیں اور دکھائی نہیں دیتا۔
    اس جریدے کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس میں کسی قسم کی نظریاتی چھاپ نہیں بلکہ اس کا تعلق صرف ادب اور ادیب سے ہے۔ اگر اسی طرح ادب میں آزادی خیال، کشادہ نظری اور بے لاگ تنقید کو فروغ دینے میں مدد کی گئی اور دنیائے ادب میں تخلیقی قوتوں کو پروان چڑھانے میں معاونت جاری رہی تو شعوروادراک صرف ایک رسالہ ہی نہیں بلکہ مستقبل میں عہد ساز تہذیبی، فکری، علمی و ادبی ادارے کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔
    ٭
    (بحوالہ : شعوروادراک ، شمارہ نمبر 2/3، (اپریل تا ستمبر 2020ء ) مدیر: محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، ص: 346)
    ٭٭٭

  • حیدر قریشی کی اَفسانہ نگاری

    حیدر قریشی کی اَفسانہ نگاری

    حیدر قریشی کی اَفسانہ نگار ی
    تحریر : معظمہ شمس تبریز ( رحیم یار خان )

    اپنی تعلیم کے سلسلے میں ، میں تو رحیم یار خان کی ہو کر رہ گئی ہو ں اور میر ا اَگلا پڑائو مدینتہ الاولیاء ملتان شریف ہے مگر میرا آبائی مسکن گڑھی اختیار خان ہی ہے۔ فطری طور پر اپنے شہر کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان لینے کی خواہش بہت رہی اور مجھے یہ تجسس اور جستجو کی خو لگانے میں بابا جانی کا کردار بہت زیادہ ہے جو پروفیسر نذر خلیق صاحب کے چہیتے شاگردوں میں سے ایک ہیں۔ خود بھی بڑے باذوق ادیب ، شاعر اور مقرر ہیں مگر ادب کے کسی موضوع پر بات کر لیں ان کی معلومات ایک آبشار کی طرح ادب کی تاریخ ، ارتقا یا سرد گرم سے آشنائی کرانے والے الفاظ و محاورات اور منتخب اشعار سے مزین مالائوں سے آپ کو مالا مال کر تے چلے جاتے ہیں ۔ اپنے اساتذہ کے حسنِ سلوک اور احسان کا ذکر خود پر فرض گردانتے ہیں جس میں پروفیسر نذر خلیق کا حصہ کم از کم ستر فیصد ضرور ہوتا ہے۔
    ایک بار دل میں آئی کہ ان کے بارے میں جانا جائے ۔ انٹرنیٹ پر سرچ کیا تو بڑی خوشی ہوئی ان کی تحریروں میں ایک انٹرویو پر ہر بات دل کو لگنے والی ملکی ۔ یہ انٹرویو نامور ادیب ، خوب صورت شاعر اور درسِ عمل کے داعی حیدرقریشی سے کیا گیا تھا ۔ نام نوٹ کر لیا اور بابا جانی سے ملاقات کا انتظار کرنے لگی ۔ خوش قسمتی یہ ملاقات جلد ہوگئی ۔ فوراً پوچھا بابا جانی ! یہ حیدر قریشی صاحب کون ہیں ؟
    کہاں سے ہیں اور کیسے ہیں ؟
    جواب ملا ، ان کا ذکر جہاں سے بھی شروع کرون بہت اچھا لگے گا مگر جو بات سن کر تم یقینا خوشی سے اچھل پڑ و گی ۔ وہ یہ ہے کہ ان کے آبا و ٔ اجداد نے کافی عرصہ اسی قصبہ گڑھی اختیار خان میں گزارا ہے ۔ اس گئے گزرے دور میں بھی عمرانی نفاست اس خان دان کی پہچان تھی ۔ آج بھی قریشی خان دان یہاں پہ آباد ہے جو کہ نفاست کے ساتھ ساتھ زیورِ تعلیم سے بھی ۔ ان ہی میں سے بہت سے نوجوان میرے ہونہار شاگردوں کی فہرست میں اوّل اوّل ہیں جن میں سے میاں فہیم اور اس کے کزن قابلِ ذکر ہیں ۔ بات بالکل سچ ہوئی میں یہ سن کر پھولے نہیں سما رہی تھی کہ اتنے بڑے ادیب ، نثر نگار شاعر اور سب سے بڑھ کر بہت بڑے انسان کا تعلق میرے قصبے اور شہر سے ہے ۔
    ساتھ ہی بابا نے کہا کل آپ کو ایک کتاب گفٹ کروں گا جس میں اس حوالے سے آپ کے سارے سوالوں کے جواب ملیں گے ۔ اب میں گھڑیوں کو انگلیوں پر گننے لگی ۔ خدا خدا کر کے شب بیتی ، صبح ناشتے کی میز پر ہی بابا جانی نے کہا : میں آپ کے تجسس سے خوب واقف ہوں ۔ لیجئے یہ رہی آپ کی کتاب ، میں انتظار کر رہا تھا کہ آپ ناشتہ ختم کر لو ۔ بڑے چائو سے کتاب لی ، سرورق پر مشربِ اقبال سے مربوط ایک دریش کی تصویر پر نظر آئی ، کتاب کا نام تھا ’’ شعورو ادراک ‘‘ کتاب نمبر 4، اکتو بر تا دسمبر 2020ء ( حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر ) ۔ نیچے بائیں جانب مدیر : محمد یوسف وحید تحریر تھا ۔
    مجھے بے حد خوشی ہوئی کہ مدیر مجلہ شعوروا دراک ، محمد یوسف وحید نے میری طرح میدانِ ادب میں نو آموز شعرا ، نثر نگاروں اور کسی بھی حوالے سے ادبی کام کر نے والوں کا جو آج تک شاید سنی سنائی معلومات کو بند کمرے میں بیٹھ کر محقق کے ٹیگ سے ناانصافی کرنے والے لکھاریو ں کی سہل پسندی کے سبب صرفِ نظر کا شکار ہو چلے تھے ۔ اس کے برعکس محمد یوسف وحید نے قریہ قریہ گھوم کر ادب سے منسلک لوگوں کے دروازوں پر دستک دی اور اگر صاحب خود نہ مل سکا تو اس قیسِ ادب نے دوبارہ سہہ بارہ چکر کاٹنے سے بھی دریغ نہیں کیا ۔

    shaoor o idraak


    ٭
    ان دنوں میں اپنا دوسرا افسانہ شروع کر چکی تھی ۔ کسبِ فیض کی نیت سے ان کے افسانوں کو چھٹ سے تلاشا ۔ تھوڑی دیر میں بہت جان لینے کی عادت سی ہوگئی ہے ۔ لہٰذا افسانوں کے عنوانات دیکھنے لگی جن کو اگر میں اپنے الفاظ میں بیان کروں تو وہ کچھ یوں ہے کہ حیدر قریشی افسانے کے ٹائیٹل میں ہی اپنا سودا بیچ لیتے ہیں ۔ ایسا جامع اور زندگی کے ساتھ فرداً فرداً ہر کسی سے جڑی کہانی کا سرنامہ بطور عنون بر تتے ہیں کہ ہزار کام چھوڑ کے بھی قاری اسے روایت دینے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔ حیدر قریشی زندگی کے جمع نفی تمام پہلوئوں پر نہایت گہری نظر رکھتا ہے اور ہر وہ واقعہ بھی لازماً نوے فیصد میری اور آپ کی کہانی ہوتی ہے جس میں کبھی کبھی وہ قریقِ ثالث بن کر پند و نصائح کا دفتر سجاتا ہے اور بھٹکی انسانیت کو نہ صرف اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کا ماحول فراہم کرتا ہے بلکہ توبتہ النصوح کی ترغیب بھی دلاتا ہے اور درست سمت میں سفر کے لیے راہیں بھی متعین کرتا چلا جاتا ہے ۔
    اگلا مرحلہ کردار کا انتخاب ہے اور یہ تو آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ افسانہ نگار اپنے سارے کردار جو ادا کر رہا ہوتا ہے اسی طرح حیدر قریشی بھی بالکل ایک ایسے الگ پہچان بنا لیتا ہے ۔ جسے بابا جانی نے one man armyکہہ کر میرا وہ مسئلہ حل کر دیا ہے جو حیدر قریشی کی اس کیفیت کو بیان کر نے کے لیے کافی دن سوچ وچار میں مصروف رکھا تھا ۔
    حیدر قریشی انسان کوتعارف معاشرے کے حوالے سے پیش کرنے کا ماہرِ اعظم معلوم ہوتا ہے ۔ وہ پہلے تو مسئلہ کا ادراک کرتا ہے ۔ اسے آپ کے سامنے رکھتا ہے اور آپ کی گفت گو کا حصہ بنانے میں کامیاب ہونے کے فوراًبعد از خود ا س سے جڑے مختلف سوال اُبھارتا ہے ۔ پھر ان کے حل کے لیے بہترین تجاویز اس خوب صورت انداز میں آپ کے سامنے رکھتا ہے کہ خواہ آپ کسی کو بتائیں نہ بتائیں مگر اپنے گریبان میں جھانکتے بھی ہیں ۔ احساسِ زیاں بھی کرتے ہیں اور خاموشی سے اصلاح بھی کر لیتے ہیں ۔ میرے خیال میں حیدرقریشی کے افسانوں کی ہر دلعزیزی کے پسِ پردہ ان کا وہی وَصف کار فرما ہے کہ وہ اُصولِ آمادگی پر کامل بھروسہ رکھتے ہیں اور اس پر عمل پیر ابھی اس انداز سے ہوتے ہیں کہ قاری کے سامنے پہلے حاصل نعمتوں کا ذکر آتا ہے پھراچانک جون کی گرمی اور اس کی تمازت کی تصویر دکھائی جاتی ہے ۔ اس کی شدت کو واضح کرنے کے لیے روہی کی تپتی ریت اور جھلسا دینے والی لُو کا اتنا مفصّل نقشہ کھینچتے ہیں کہ قاری خود کو پیاسا روہیلا ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے بلکہ اسی میں سفر بھی کرنے لگتا ہے ۔ پھر وہ گویا ٹیلی پیتھی کے ذریعے بندے کا دھیان بندہ پرور سے جوڑتے ہیں ۔ دستِ دُعا بلند ہوتا ہے اور رِم جھم اور جل تھل ہوجاتا ہے ۔ قاری ربّ کا شکرادا کرتا ہے اور ایک سنگی بیلی دوست اور جانِ عزیز بن کر قاری کے ساتھ چلنے لگتا ہے اور اسے افسانے کے آخری لفظ تک ہر گز یہ خبر نہیں ہونے دیتا کہ یہ سارا ماحول اس نے محض اپنے زورِ قلم سے پید ا کیا ہے ۔ حیدر قریشی ایک ایسے ہم جولی خیر خواہ اور شریکِ سفر ثابت ہوتا ہے جو جھوٹی تسلی نہیں دیتا بلکہ یہ حقیقت آپ کے سامنے رکھ اُمید کا دامن تھامے رکھنے کا درس دیتا نظر آتا ہے کہ
    جو دُکھ جھیلے وہ سُکھ پاتا ہے
    جیسے رُت کے بعد سویر آتا ہے

    shaoor o idraak


    روشنی کی کرن بطور استعارہ انسان کے شعورِاوّل سے جڑی ملتی ہے جسے کبھی کسی قسم کا گرہن لگ ہی نہیں سکتا ۔ حیدر قریشی نہایت فنکارانہ انداز میں اس استعارہ کی حقیقی حیثیت کھوج کر ہمارے سامنے رکھتے ہیں کہ ہم نہ صرف اس کے وجود کو مان لیتے ہیں بلکہ ہمہ قسم زبوں حالی کا شافی وکافی نسخہ بھی مان لیتے ہیں ۔
    کیوں کہ خونِ جگر سے جلے دیپک کی اکیلی لو ہی پاس کا سارا اندھیرا اڑا لے جاتی ہے ۔
    ’ ’ ہوا کی تلاش ‘‘ اس روشنی کا بہترین عکس پیش کرتی ہے ۔ ’’ گلاب کہانی ‘‘ سمبل ہے انسان کی لطافت کا جسے ہوس کے جبّر نے کثافت زدہ کر دیاہے ۔ بہر حال حیدر قریشی کا اوّل و آخر سبق سچ کو تلا ش کر کے اسے قربت کرکے زندگی کو زندہ کرنے بلکہ زندہ رکھنے کا ہے ۔ امید ہے نئے لکھاری اس بات کو نہ صرف سمجھیں گے بلکہ مشعلِ راہ بھی بنائیں گے ۔
    ٭
    (بحوالہ : مجلہ شعوروادراک خان پور ،شمارہ نمبر5(جنوری تا مارچ 2021ء) مدیر: محمد یوسف وحید ،ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور)
    ٭٭٭

  • علمی و ادبی جہت … ’’شعوروادراک‘‘

    علمی و ادبی جہت … ’’شعوروادراک‘‘

    علمی و ادبی جہت … ’’شعوروادراک‘‘
    تبصرہ نگار: ڈاکٹر حمیرا حیات
    (دہلی یونیورسٹی ، دہلی )

    سہ ماہی کتابی سلسلہ ’’شعور و ادراک‘‘ خان پور سے محمد یوسف وحیدکی زیرِ ادارت علمی و ادبی جریدہ ہے ۔ تین زبانوں اُردو،سرائیکی اور پنجابی میں منفرد ،معلوماتی،عمدہ تحریروں سے قارئین کے لیے دلچسپی کا سامان مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ فروغ ِعلم و ادب کے لیے کوشاں ہے ۔’’شعورو ادراک‘‘ کا چوتھاخصوصی شمارہ اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۰،اُردو ادب کی فعال ادبی شخصیت حیدر قریشی کی پچاس سالہ علمی و ادبی خدمات کے حوالے سے بطور خراجِ عقیدت’ ’حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر‘‘ شائع کیا گیا ہے۔حیدر قریشی ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔بحیثیت ادیب اُردو زبان وادب کی تقریباً تمام اصناف پر طبع آزمائی کرچکے ہیں ۔ خان پور سے ہی اُردو زبان و ادب کی خدمات انجام دینے والا’’جدید ادب‘‘ اُردو کا بہترین جریدہ تھا ۔ جسے حیدر قریشی نے پہلے خان پور سے اور بعدازاں جرمنی سے شائع کیا۔ اسی سلسلے کی ایک اہم، منفرداور معیاری کڑی مجلہ ’’شعورو ادراک ‘‘ہے۔

    shaoor o idraak


    حیدر قریشی کی علمی و ادبی خد مات کے پچاس سال مکمل ہونے پر’’شعورو ادراک‘‘ نے انھیں خراج ِعقیدت پیش کرتے ہوئے ایک اہم اوریادگارخصوصی نمبرترتیب دیا ہے۔اس کام کی ستائش کرتے ہوئے حیدر قریشی نے مدیر’’شعورو ادراک‘‘کاخصوصی شکریہ ادا کیا ہے ۔اظہار تشکِر میں لکھتے ہیں:’’جب میری زندگی کی پہلی غزل چھپی تھی تو میں بچوں کی طرح خوش ہوا تھا۔ آج جب ادبی زندگی کے پچاس سال مکمل ہونے پر اپنے ہی شہر سے ایک اعلیٰ معیار کے رسالے کے’’ گولڈن جوبلی نمبر‘‘ کا اعزاز مل رہا ہے تو آج بھی بچوں کی طرح خوش ہوں۔ میں نے خود پر کوئی مصنوعی دانشوری طاری نہیں کی کہ۔۔۔۔‘‘ ہاں جی یہ میری نصف صدی کی خدمات کا صلہ ہے۔ایسا باکل بھی نہیں ہے ۔’’شعورو ادراک‘‘ خان پور کے اس گولڈن جوبلی نمبر کی اشاعت پر میں رسالے کے مدیر کے مدیر محمد یوسف وحید کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘‘

    Haidar Qureshi


    مدیرمجلہ محمد یوسف وحید نے مذکورہ شمارے میں اظہار ِتشکر اور اپنی بات کے بعد چارعنوان پیش کیے ہیں۔ پہلا ’فن وشخصیت ‘ جس میںحیدر قریشی کے حوالے سے مختلف اوقات میں لکھے گئے معروف ادیبوں کے(۳۹)مضامین شامل ہیں۔ان میں حیدر قریشی سے لیے گئے تین انٹرویوبعنوان’انٹرنیٹ کے ذریعے مکالمہ(ڈاکٹر نذرخلیق ) ، ’’حیدر قریشی کا تصورِ محبوب ایک مکالمہ‘‘(فرزانہ یاسمین) اور ’’حیدر قریشی کاتخلیقی سفر‘‘(نصرت بخاری) دلچسپ اور معلوماتی ہیں۔ ان انٹرویو ز سے قارئین کو حیدر قریشی کی شخصیت ،زندگی کے پیچ وخم اورادبی زندگی کو قریب سے جاننے کا موقع ملتا ہے ۔اس کے علاوہ ڈاکٹر انور سدید کا مضمون ’جرمنی میں پاکستان کا ادبی اور تہذیبی سفیر:حیدر قریشی‘،نذیر احمد بزمی کا ’نصف صدی کا قصہ حیدر قریشی‘،محمد یوسف وحید(مدیر :شعور و ادراک )کا’ حیدر قریشی کا گلشنِ ادب‘ارشد خالد کا ’حیدر قریشی کی ادبی تیزرفتاری‘،ڈاکٹر عامر سہیل کا ’’حیدر قریشی کی یادنگاری‘‘،اکٹر ندیم احمد کا’’حیدر قریشی خان پور کا نمائندہ ادیب‘‘ اہم مضامین ہیں ۔ان مضامین میںحیدر قریشی کے فکرو فن کی تمام جہتوں کے ساتھ ادبی زندگی کے مختلف مراحل ،علمی و ادبی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے ۔کتاب کے اسی حصے میں اکبر حمیدی اور نذیر فتح پوری کے دو خاکوں کے علاوہ حیدر قریشی کی شاعری پر مختلف مضامین پیش کیے گئے ہیں۔جن میںڈاکٹر ہردے بھانو پرتاب کا ’’حیدر قریشی کی نظم نگاری کا خصوصی مطالعہ‘‘،ناصر عباس نیرکا ’’حیدر قریشی کی غزلیہ شاعری:ایک تجزیہ‘‘،مظہر امام کا ’’عمرِ گریزاں کی شاعری‘‘،ہارون رشید کا’’غزلیں ،نظمیں ،ماہیے ایک مطالعہ‘‘،کے علاوہ حیدرقریشی کے انشائیے اور مختلف کتب کا مجموعی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔بلاشبہ یہ تنقیدی وتحقیقی مضامین حیدر قریشی کے تمام ادبی جہتوں کوقارئین کے سامنے پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

    shaoor o idraak


    مجلہ شعوروادراک کا دوسرا حِصہ شعری تخلیقات پر مشتمل ہے۔ جس میں حیدر قریشی کی غزلیں،نظمیں اور ماہیے شامل ہیں۔ اس حصے میں (۴۰ )غزلیں،(۶) نظمیں ’’سرسوں کا کھیت،دل،منی پلانٹ،صدا کا سمندر، چلو ایک نظم لکھتے ہیں،ایک خواہش کی موت‘‘اور (۷)ماہیے موجود ہیں۔ان شعری اصناف میںحیدر قریشی بحیثیت شاعر ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔جس سے قارئین کو ان کے شعری لواز م ومعیارسمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔تیسراعنوان’ تخلیقات‘ ہے ۔اس حصے میں قارئین کو حیدر قریشی کے نثری اثالیب ،زبان وبیان ، اندازبیان کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔کتاب کے اس حصے کو سعدیہ وحید نے ترتیب دیا ہے۔ جس میں حیدر قریشی کے کل( ۳) افسانے ’’غریب بادشاہ‘‘ ،’’گھٹن کا احساس‘‘،’’اپنے وقت سے تھوڑا پہلے ‘‘،(۶) خاکے جن میں ’’ڈاچی والیا موڑ مہاڑوے‘‘،’’مصری کی مٹھاس اور کالی مرچ کا ذائقہ ‘ ‘ ،’’برگد کا پیڑ‘‘،’’مائے نی میں کنوں آکھاں‘‘،’’پسلی کی ٹیڑھ دوسرا حصہ‘‘اوریادوں پر مشتمل کتاب ’کھٹی میٹھی یادوں‘ سے (۳) اقتباسات اور (۲) انشائیہ بعنوان ’’اطاعت گزاری‘‘ ،’’فاصلے ،قربتیں‘‘اور ایک ابتدائیہ سفرنامہ حج ’سوئے حجاز‘ سے شامل کیا گیا ہے۔کتاب کا آخری اور چوتھاحصہ’ مضامین‘ ہے۔ جس میں حیدر قریشی کے (۴) مضامین ، اور خالد یزدانی کا ’نظرے خوش گزرے‘ کے علاوہ حیدر قریشی کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں۔
    مدیر:’’شعورو ادراک‘‘ محمد یوسف وحید نے اپنی بات میں لکھا ہے کہ ’’شعور وادراک ‘‘کے حالیہ شمارے میں حتی المقدور کوشش اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے حیدر قریشی کے فن و شخصیت اور علمی ادبی خدمات کا بھر پور اعتراف کرتے ہوئے جملہ خلوص و محبت کے ساتھ شمارہ کو یاد گار تحریروں سے سجا کر ایک گلدستہ پیش کیا گیا ہے‘‘ ۔ مدیر کی بات میں کتنی صداقت ہے اس بات کا اندازہ یقینا شمارے کامجموعی جائزہ لینے کے بعد ہو جاتا ہے۔درحقیقت مدیر نے مختلف رنگ برنگے گلوںسے سجا ادبی گلدستہ پر بہار شخصیت حیدر قریشی کو پیش کرکے نا صرف مصنف کو بلکہ قارئین کوبھی ادبی تخلیق کا دلچسپ تحفہ دیاہے ۔اُمید ہے کہ قارئین اس کوشش کو پسند کریں گے۔بلاشبہ ’’شعور وادراک حیدر قریشی گولڈن جو بلی نمبر ‘‘ موضوع کے اعتبار سے ایک مکمل شمارہ ہے ۔جس میں حیدر قریشی کے تقریبا سبھی ادبی و شخصی پہلوئوں کو پیش کیا گیا ہے ۔میری طرف سے مدیر محمد یوسف وحید کو ’’شعورو ادراک‘‘کے خاص نمبر مرتب کرنے پر دلی مبارکباد ۔
    ٭
    (بحوالہ : سہ ماہی شعوروادرا ک خان پور ، مدیر:محمد یوسف وحید ، شمارہ نمبر 4،’’حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر‘‘ پر تبصرہ ، ص: 232)
    ٭٭٭

    ڈاکٹر حمیرا حیات

    دہلی یونیورسٹی ، دہلی