Tag: شعوروادراک

  • شعوروادراک کا ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘.. .لائقِ صد تحسین کاوش

    شعوروادراک کا ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘.. .لائقِ صد تحسین کاوش

    شعوروادراک کا ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘.. .لائقِ صد تحسین کاوش
    تبصرہ : ڈاکٹر عادل سعید قریشی
    (ایبٹ آباد پبلک سکول ،ایبٹ آباد)

    مدیر ’’شعوروادراک‘‘ ، محمد یوسف وحید کی طرف سے کتابی سلسلہ نمبر ۶،خاص شمارہ(اپریل تا جون 2021ء)، ’’ حفیظ شاہد نمبر‘‘کے چار شمارے موصول ہوئے۔جن میں سے تین شمارے بالترتیب ڈاکٹر عامر سہیل ،سہیل احمد صمیم اور محسن نذیر چوہان صاحب کو دیے اور ایک ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کی ڈاکٹر صابر کلوروی میموریل لائبریری کے شعبہ اُردو میں جمع کرادیا ۔اس فراخ دلی پر آپ کا دلی شکریہ ۔خاص شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر‘‘ پڑھا تو شرابِ طہُور کا لطف پایا۔ اللہ آپ کے اس مشن کے لیے غیبی ذرائع سے مدد فرمائے اور آپ کو اس عظیم کام کا اَجر اپنی شان کے مطابق عنایت کرے۔ آمین
    برادرم !آپ کا یہ رسالہ فرضِ کفایہ ادا کر رہا ہے اور آپ کی لگن اور کوشش کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے اس زرِکثیر کی انویسمنٹ ،آپ کے اخلاص ، وژن اور مشن کا عکاس ہے۔

    Shaoor o Idrak01


    حفیظ شاہدمرحوم سے تعارف اسی مجلہ کے توسط سے ہوا ۔ ایک اہم اور بڑی شخصیت سے ملاقات جہاں میرے لیے خوشی اور مسرت کا باعث بنی ہے‘ وہیں دل ہی دل میں یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ ایسے کتنے ہی اُردو زبان و ادب کے نابغہ ہائے روزگار ہوں گے جو ملک کے گلی کوچوں میں اور ان کی تخلیقات الماریوں اور بکسوں میں اوجھل پڑی ہوں گی۔جن سے خود ان کے اپنے اہلِ علاقہ ناواقف ہوں گے۔ کیوں کہ ہرکوئی حفیظ شاہد،قیس فریدی،سید محمد فاروق القادری تھوڑے ہی ہوتا ہے کہ جن کو محمد یوسف وحید میسر آ جائے۔
    وطنِ عزیز کو جس قدر ذہنی،فکری اورلسانی ہم آہنگی کی ضرورت اکیسیویں صدی کی ان دو دہائیوں میں محسوس ہو رہی ہے ‘شاید اس سے قبل کبھی نہ ہوئی ہو۔البتہ اس فکری، قلبی اور ذہنی یگانگت کے لیے کئی ذرائع اور وسائل استعمال میں لائے جا سکتے ہیں ۔ایک تجویز میرے پیشِ نظر ہے جو میں آپ کے مجلہ کے توسط سے اہلِ فکر ونظر کی خدمت میں پیش کرنے کی سعی کرتا ہوں کہ پاکستان کے ان عبقری حضرات کی تخلیقات اور مطبوعات کو یونیورسٹی کے درجہ پر ایک دوسرے کے ساتھ متعارف کرایا جائے۔ان حضرات پر مختلف یونیورسٹیز میں ایم فل اور بی ایس کے درجوں پر مختلف جہتوں اور عنوانات کے تحت تحقیقی اور تنقیدی کام کرایا جائے ۔اس طرح پاکستان کے ایک علاقے کے شعرا اور ادباء کاتعارف پاکستان کے دوسرے شہروں کے ادیبوں اور شاعروں سے بھی ہو گااور ملکی سطح پر افہام وتفہیم بھی پیدا ہو گی نیز تخلیقی سطح پر بہتر ادبی کاوشیں منظرِ عام پر آئیں گی ۔ یقینا اس سرگرمی سے عوام الناس بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ یہاں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ مجلہ شعور ادراک اس حوالے سے بھر پور کام کر رہا ہے جو لائقِ صد تحسین ہے۔

    idrak


    شعور و ادراک کا تازہ شمارہ، کتابی سلسلہ نمبر ۶ ، ’’حفیظ شاہد نمبر‘‘ میں معروف شاعر حفیظ شاہد کی ادبی شخصیت اور ان کے ذاتی کوائف کے تمام پہلوئوں کا بھر پور احاطہ پیش کیا گیاہے۔ حالیہ شمارے میں لکھنے والوں کے پاس حفیظ شاہد کے فن و شخصیت کے حوالے سے نہ صرف عمدہ معلومات تھیں بلکہ تمام اہلِ قلم حفیظ شاہد ایسی بڑی شخصیت سے محبت اور احترام کا رشتہ بھی رکھتے تھے ۔مذکورہ خاص شمارے کے ذریعے میں ذاتی طور پر حفیظ شاہد مرحوم کے بارے میں جتنا جان پایا ہوںوہ بقولِ میر :
    پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
    افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
    چھ شعری مجموعوں اور کلیات ’’ختمِ سفر سے پہلے ‘‘ کے خالق ، اُستادالشعراء حفیظ شاہد کی حمد ونعت سے شروع ہونے والا شعور وادراک انہی کی غزلوں پر ختم ہوا ہے۔۲۷۲ صفحات پر مشتمل خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہدنمبر ‘‘باذوق قارئین اور ادب کے طالب علموں کے لیے ایک مستند حوالہ ہے ۔ یقینا شعوروادراک کے دیگر شماروں کی طرح یہ شمارہ بھی ایک سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔خصوصی شمارہ میں شامل تمام مضامین معیاری اور منظوم خراج ِتحسین بھی نہایت عمدہ ہیں ۔خصوصی شمارہ میں شامل حفیظ شاہد کا سوانحی خاکہ ‘ جو محترمہ سعدیہ وحید نے ترتیب دیا ہے ، نہایت خوب صورت اور عمدہ کاوش ہے ۔ خصوصی شمارے کے مطالعے سے حفیظ شاہد کے شخصی اَوصاف سے واقفیت کے ساتھ ساتھ ادبی مقام و مرتبہ بھی عام قاری کے سامنے آتا ہے۔
    ڈاکٹر عامر سہیل کی نثر کا میں ہمیشہ سے مداح رہا ہوں،ان کا مضمون نہایت معروضی اور معیاری ہے ۔ انہو ں نے اپنے موضوع کے ساتھ خوب انصاف کیا ہے۔ ڈاکٹرمحمد نواز کاو ش نے بھی حفیظ شاہد کی شاعری کا متوازن جائزہ پیش کیا ہے ۔حیدر قریشی کے علمی و ادبی قد کاٹھ سے کون متعارف نہیں ۔حفیظ شاہد کی شاعری کے حوالے سے ان کا مضمون بھی متاثر کن ہے ۔
    ہیں دفن اسی جگہ تری تاریخ کے نقوش
    بستی کے ساتھ ساتھ کھنڈر کا خیال کر
    کس قدر دل نشیں کہانی ہے
    میرے نینوں کی ،تیرے خوابوں کی
    مرحلہ درمرحلہ روداد مسافت
    انجام سفر اصل میں آغازِ سفر ہے
    صادق جاوید کا مضمون بھی خاصا وقیع ہے جس میں حفیظ شاہد کی شاعری کا ناقدانہ جائزہ لیاگیا ہے اورنہایت عمدہ انداز میں ان کی خدمات کو سراہاگیا ہے ۔زاہدہ نور نے جاندار مضمون میں حفیظ شاہد کو عمدہ خراجِ تحسین پیش کیاہے ۔
    الغرض محمد یوسف وحید ‘ مدیر مجلہ ’’شعوروادراک ‘‘ کو خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ شائع کرنے پر دلی تہنیت اور ڈھیر وں دُعائیں۔
    ٭٭٭

    dr adil
  • انجم اعظمی…تعارف و کلام

    انجم اعظمی…تعارف و کلام

    انجم اعظمی…تعارف و کلام
    تحقیق و تدوین : محمد یوسف وحید
    (مدیر:شعوروادراک خان پور)

    سر میں سودا سہی،سر پھوڑنے اب جاؤں کہاں
    اس خرابے میں جہاں کوئی بھی دیوار نہیں
    انجم اعظمی ‘شاعر اور مصنف،جن کا ’لب ورخسار‘ کے نام سے محبت کی نظموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے ، ’شاعری کی زبان‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔
    پروفیسر انجم اعظمی (پیدائش: 2 جنوری 1931ء – وفات: 31 جنوری 1990ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اُردو کے ممتاز شاعر اور نقاد تھے۔ انجم اعظمی 2 جنوری، 1931ء کو فتح پور، اعظم گڑھ ضلع اُترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مشتاق احمد عثمانی اور والد کا نام عبد الاحد عثمانی تھا ۔ انہوں نے گور کھپو ر ، الٰہ آباد اور علی گڑھ سے تعلیم حاصل کی اور تقسیم ہند کے بعد 1952ء میں کراچی میں سکونت اختیار کی۔گورنمنٹ بوائز کالج ناظم آباداور کامرس کالج کراچی سے وابستہ رہے ۔ پاکستان رائٹرز گلڈ، کراچی کے رُکن تھے ۔ان کے شعری مجموعوں میں’’ لب و رُخسار، لہو کے چراغ، چہرہ اور زیرِ آسماں ‘‘کے نام شامل ہیں جبکہ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے’’ ادب اور حقیقت اور شاعری کی زبان ‘‘کے نام سے اشاعت پذ یر ہوچکے ہیں۔انجم اعظمی کو ان کے مجموعۂ کلام ’’چہرہ ‘‘پر 1975ء میں آدم جی ادبی انعام بھی عطا ہوا تھا۔انجم اعظمی 31 جنوری، 1990ء کو کراچی،پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں سخی حسن قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    Anjum Azmi


    انجم اعظمی کی کتابوں کی تفصیل کچھ یوں ہے :
    (1) ادب اور حقیقت(تنقید)
    اشاعت گھر،کراچی
    جنوری 1979ء
    (2) شاعری کی زبان(تنقید)
    الباقریہ پبلیکیشنز، کراچی
    1988-89ء
    (3) اعلی تعلیم
    کراچی اشاعت گھر
    1980ء
    (4)زیرِآسماں (شاعری)
    کراچی اشاعت گھر
    1980ء
    (5) لہو کے چراغ (شاعری)
    کراچی آرٹ اکیڈیمی، کراچی
    1961ء
    (6)لب و رخسار (نظمیں)
    آرٹ اکیڈمی، علی گڑھ
    1951-52ء
    (7)چہرہ ( شاعری )
    1975ء
    انجم اعظمی نے اُردو غزل اور نظم میں طبع آزمائی کی ہے ۔ اُردو غزل کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں :
    عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں
    سر پہ اک گنبد بینائی ہے کچھ اور نہیں
    کیوں ہوا مجھ کو عنایت کی نظر کا سودا
    آج رسوائی ہی رسوائی ہے کچھ اور نہیں
    اپنا گھر پھونک چکا اپنا وطن چھوڑ چکا
    یہ فقط بادیہ پیمائی ہے کچھ اور نہیں
    ہو سکے تو کوئی فردا کی بنا لو تصویر
    وقت جلووں کا تمنائی ہے کچھ اور نہیں
    آؤ خوش ہو کے پیو کچھ نہ کہو واعظ کو
    میکدے میں وہ تماشائی ہے کچھ اور نہیں
    ٭
    فریبِ غم ہی سہی، دل نے آرزو کر لی
    برا ہی کیا ہے، اگر تیری جستجو کر لی
    غلط ہے، جذبۂ دل پر نہیں کوئی الزام
    خوشی ملی نہ ہمیں جب تو غم کی خو کر لی
    بٹھا کے سامنے تم کو بہار میں پی ہے
    تمہارے رِند نے توبہ بھی روبرو کر لی
    وفا کے نام سے ڈرتا ہوں، اے شہِ خوباں
    تم آئے بھی تو نظر جانبِ سبو کر لی
    کہاں سے آئیں گے انداز بے پناہی کے
    ابھی سے جیبِ تمنا اگر رفو کر لی
    زمانہ دے نہ سکا فرصتِ جنوں انجم
    بہت ہُوا تو گھڑی بھر کو ہائے ہو کر لی
    ٭
    انجم اعظمی چند نظموں کا نمونہ
    (خوش آمدید)
    آج اس بزم میں آئے ہو بڑی دھوم کے ساتھ
    بے خودی محو نظارہ ہے تمہاری خاطر
    یاد آتے ہیں وہ ایام جدائی ہم کو
    جنہیں ہنس ہنس کے گزارہ ہے تمہاری خاطر
    گو مع لطف سے خالی نہیں پندار جنوں
    یاں غم عشق کا یارا ہے تمہاری خاطر
    رنج اٹھانا تو کوئی بات نہیں ہے لیکن
    زہر پینا بھی گوارا ہے تمہاری خاطر
    ہار اور جیت کے مفہوم میں کیا رکھا ہے
    جیت کر بھی کوئی ہارا ہے تمہاری خاطر
    ترک شیراز ہو تم حافظ شیراز ہوں میں
    اب سمرقند و بخارا ہے تمہاری خاطر
    تم جو آئے ہو تو اس زیست کی لذت پا کر
    ہم نے عالم کو سنوارا ہے تمہاری خاطر
    آج ہم نے مہ و انجم کو بھی زحمت دی ہے
    آسمانوں سے اتارا ہے تمہاری خاطر
    لالہ و گل کو بہاروں کو سمن زاروں کو
    دیدہ و دل نے پکارا ہے تمہاری خاطر
    پھر یہاں شیشہ و ساغر سے چراغاں ہوگا
    پھر کوئی انجمن آرا ہے تمہاری خاطر
    (ما?خذ:لہو کے چراغ )
    ٭
    (سال نو)
    (علی گڑھ 31دسمبر50ء کی شب)
    اب رات ڈھل رہی ہے کوئی دو کا وقت ہے
    آنکھوں میں نیند جھول رہی ہے ابھی تلک
    لیکن میں سال نو کے لئے جاگتا رہوں
    امید کے چراغ جلاؤں نئے نئے
    بیٹھا ہوں خامشی کی نواؤں کو چھیڑ کر
    اپنے غموں سے آج بھی فرصت نہیں مجھے
    پلکوں پہ آج بھی تو لرزتے ہیں یہ دیے
    لیکن انہیں غموں سے نیا آستاں بنا
    وجہ سکوں ہے آج خیال گریز پا
    ٹوٹے ہوئے دلوں کو سہارا بھی دے سکا
    جب دل کی دھڑکنوں سے ملے درس آگہی
    پھر کس لئے جنوں میں کوئی انتشار ہو
    نا کامیاں حیات کی شرما نہ جائیں گی
    اس دیس کی فضاؤں سے گر ہم کو پیار ہو
    ان مے کدوں سے کل بھی نہ تھا مجھ کو واسطہ
    جن میں لہو کے جام اٹھاتے ہیں حکمراں
    احساس کی نگاہ مگر دیکھتی ہے اب
    کچھ اور تیز گام ہوا کاروان شوق
    اور سال نو بھی ساتھ اسی کارواں کے ہے
    ان جھونپڑوں میں آج چراغاں نہیں تو کیا
    دو چار سال اور بھی امکاں نہیں تو کیا
    فصل بہار آئے گی جھومیں گی ڈالیاں
    پھولوں میں پات پات میں رنگت سمائے گی
    ہوں گے کبھی تو جام بہ کف خاص و عام سب
    ہر ہر نگاہ ساغر و مینا اٹھائے گی
    زلف حیات شوق سے پرچم اڑائے گی
    میں آج سال نو کے لئے جاگتا رہوں
    امید کے چراغ جلاؤں نئے نئے
    (ماخذ: لہو کے چراغ)
    ٭
    شرابی
    (علی گڑھ1951ء)
    یہ مے کدہ ہے ترا اور میں شرابی ہوں
    سنبھال ساقیا مینا کو اپنے ہاتھوں میں
    مجھے بھی آج مع ارغواں کی حاجت ہے
    سرک رہے ہیں رخ کائنات سے پردے
    دل و دماغ میں اک روشنی سی در آئی
    ہر ایک گھونٹ پہ کچھ زندگی کے راز کھلے
    محیط ہو گئی کون و مکاں کی گیرائی
    مگر یہ جام کے اندر بھی کیسی تاریکی
    بہت ہی تلخ ہے اپنا خمار بادہ کشی
    کہیں چراغ بجھا جل اٹھے کہیں فانوس
    وہی تضاد وہی ہے کشاکش ہستی
    حیات آج کہاں کھینچ کر مجھے لائی
    سنبھال ساقیا مینا کو اپنے ہاتھوں میں
    حیات کے لئے کوئی شراب ہے کہ نہیں
    بس ایک بار تو ایسی پلا دے اے ساقی
    کہ ہوش آ نہ سکے تیرے پینے والے کو
    (ماخذ: لہو کے چراغ)
    ٭
    (دیوداس)
    (کراچی 1960 ء)
    زندگی عشق کی وحشت بھرا افسانہ تھی
    میرے ہاتھوں میں وہ اک زہر کا پیمانہ تھی
    روح کا غم مع گلفام سے کم کیا ہوتا
    کوئی تریاک بجز وصل صنم کیا ہوتا
    کھو گئی پاربتیؔ روتی رہی چندر مکھیؔ
    زندگی لٹتی رہی راہ گزاروں میں مری
    غمگساروں کی بھی یاد آئی مگر بھول گیا
    اس کی بانہوں کے سوا کچھ نہ مجھے یاد رہا
    اک ابھرتی رہی تصویر خلا میں برسوں
    میں اکیلا ہی پھرا دشت وفا میں برسوں
    جل بجھا جسم کے ہم راہ دل سوزاں تک
    جان دینے چلا آیا ہوں در جاناں تک
    مر رہوں جیسے بے بس و لاچار مرے
    کیا قیامت ہے کہ یوں عشق کا بیمار مرے
    ناامیدی ہے کہ اب طاقت دیدار گئی
    رخ جاناں کی ہوس روح گرفتار گئی
    رات لو ختم ہوئی اور زباں بند ہوئی
    مجھ کو معلوم تھا خاموش سویرا ہوگا
    لوگ پھینک آئیں گے مجھ کو جہاں اس مرگھٹ پر
    موت کا چھایا ہوا گھور اندھیرا ہوگا
    چیل کوؤں نے مگر لاش کے ٹکڑے کر کے
    ہر طرف کوچہ ٔجاناں میں بکھیرا ہوگا
    (ماخذ:لہو کے چراغ )
    ٭
    کراچی
    (کراچی 1960ء)
    اک ہجوم بے کراں
    شہر کی سڑکوں پہ گلیوں میں رواں
    دن کے ہنگاموں کو رکھتا ہے جواں
    ایک جانب سلسلہ ہائے عمارات بلند
    جن کے مینارے فلک سے مل گئے ہیں جا بجا
    شہر کی سطوت کے عظمت کے نشاں
    دوسری جانب ہے بوسیدہ مکانوں کی قطار
    مدتوں سے گردش لیل و نہار
    ہے اس آبادی میں جن کی نوحہ خواں
    اے کراچی اے نگار جانستاں
    گو ترے رخ پر کھلی ہے چاندنی
    تیری گلیوں میں اندھیری رات ہے
    (ماخذ:لہو کے چراغ )
    ٭
    (اردو)
    زندگی بھیس بدل کر جہاں فن بنتی ہے
    میرؔ و غالبؔ کا وہ انداز بیاں ہے اردو
    کبھی کرتی ہے ستاروں سے بھی آگے منزل
    چشم اقبال سے گویا نگراں ہے اردو
    ساتھ انشا کے کبھی ہنستی ہے دل کھول کے وہ
    بہر فانی کبھی مصروف فغاں ہے اردو
    حاصل بزم ہے اور بزم کو تڑپاتی ہے
    جان مے خانہ ہے میخانہ ٔ جاں ہے اردو
    گاہ پروانے کی میت پہ کھڑی ملتی ہے
    صورت شمع جہاں گریہ کناں ہے اردو
    گاہ خوشیوں کے چمن زار میں جا بستی ہے
    موسم گل کی جہاں روح رواں ہے اردو
    محو گلگشت جہاں حور بہشتی مل جائے
    قابل رشک وہ گلزار جناں ہے اردو
    ہر غزل کوچہ ٔ جاناں سے زیادہ پیاری
    ہر نظر شعر ہے تصویر بتان اردو
    ہر نئی نظم نئے موڑ پہ لے جاتی ہے
    روح امروز ہے فردا کا نشاں ہے اردو
    دھل گئی کوثر و تسنیم کے پانی سے مگر
    جنت ارض کی مظلوم زباں ہے اردو
    باغباں مجھ کو اجازت ہو تو اک بات کہوں
    نغمہ بلبل کا ہے پھولوں کی زباں ہے اردو
    ملتے ہیں اس سے ہزاروں ہمیں تہذیب کے درس
    اس قدر ذہن پہ کیوں تیرے گراں ہے اردو
    اب بھی چھا جاتی ہے ہر روح پہ مستی بن کر
    اس خرابی میں بھی افسون جواں ہے اردو
    ٭
    (ناامیدی کفر)
    تم جو مغرب کی جگالی سے کبھی تھکتے نہیں
    تم کو کیا معلوم ہے تخلیق کا جوہر کہاں
    فلسفی بنتے ہو اپنے آپ سے پوچھو کبھی
    کھو گیا ہے روح کا گوہر کہاں
    تم دل و جاں سے مشرق کی پرستاری کرو
    کیا برہمن کے سوا کچھ اور ہو
    کیا کسی کی مشرق و مغرب میں دل داری ہوئی
    بھوک سے بے حال ہیں جو ان کی غم خواری ہوئی
    عدل کی میزان جب ٹوٹی پڑی ہو درمیاں
    زندگی ساری کی ساری ہی ریاکاری ہوئی
    مغرب و مشرق کی ساری بحث میں تم ناامیدی کے سوا کیا دے سکے
    ناامیدی کفر ہے
    کفر سے بچتے بھی اور کفر ہی کرتے ہو تم
    تم تو ماضی حال و مستقبل کے بھی قائل نہیں
    دل کہے کچھ بھی مگر تم اس طرف مائل نہیں
    وہ جو مطلق ہے تمہارے واسطے سارے زمانے دے گیا
    تم بتاؤ تم نے اب تک کیا کیا
    ناامیدی کفر ہے کفر ہی کرتے ہو تم
    دل میں گر روشن ہو اس دن کی امید
    جستجو تم کو جب اپنے آپ سے ملوائے گی
    زندگی کرنے کو پیارے شش جہت کھل جائے گی
    (ماخذ:پاکستانی ادب، ڈاکٹر راشد امجد، اکادمی ادبیات اسلام آباد، 2009ء )
    ٭
    شاعر
    (کیٹس کی ایک تصویر دیکھ کر)
    (ترچنا پلی1952ء)
    نہ جانے کتنے ہی ماضی کے خواب بکھرے ہیں
    فسردہ بھیگی ہوئی سوگوار پلکوں پر
    جنوں ہے یا کہ خرد اس نگاہ کا مفہوم
    خلا میں ڈھونڈ رہا ہے کوئی نہ جانے کیا
    نگاہ دیکھ رہی ہیں پرے زمانے سے
    ہے کھویا کھویا ہوا رمز زندگی گویا
    فسانہ ٔ غم جاناں ہے یا غم دنیا
    مچل رہے ہیں ان آنکھوں میں آرزو کے شرار
    ان آنسوؤں میں نمایاں ہیں وقت کی لہریں
    سنائی دیتی ہے رہ رہ کے زندگی کی پکار
    لبوں کو گر ملی جنبش تو نغمہ پھوٹ پڑا
    کبھی نشاط کا جادو کبھی کوئی غم ہے
    خموشیوں میں ہے ایمان و آگہی کی جلا
    امید و بیم سے آگے نیا ہی عالم ہے
    سحر کا نور ہے اس کی نگاہ میں انجمؔ
    زمیں کے حسن کو شاداب کرنے آیا ہے
    (ماخذ:لہو کے چراغ )
    ٭
    (کئی صد ہزار برس کے خواب)
    ترے در سے گزرا تھا بارہا
    وہ کھلا نہیں
    وہاں در پہ پہرہ لگا تھا گردش حال کا
    میں ترے طلسم میں بند تھا
    مجھے تھا کسی سے نہ اپنے آپ سے واسطہ
    فقط ایک نوحہ بے اماں تھا سکوت میں
    وہ سکوت جس میں بھنور صداؤں کے بے شمار
    وہی گونجتے تھے وجود میں
    کوئی چشم شوق کو واقعے
    سر راہ اب بھی ملا نہیں
    تو گلہ نہیں
    کہ میں اپنی ذات کی انجمن میں ہر اک سے محو کلام ہوں
    مرے حال کی نہ اسے خبر نہ اسے خبر
    کہ یہ لوگ
    سادہ غریب مخلص و چارہ ساز
    یہی لوگ حرص میں مبتلا جو نکالیں کام فریب سے
    نہ ہو ان سا کوئی زمانہ ساز
    کبھی ان میں زہر انا کا ہے کبھی وہم کا کبھی جہل کا
    کبھی سانپ اندھی عقیدتوں کے لپٹ گئے
    ہمہ وقت رہتی ہے سیم و زر کی طلب انہیں
    کہ یہ خواجگان ورم سے رکھتے ہیں ساز باز
    جنہیں بندگان ورم کہیں تو بجا کہیں
    کہ وہ خواجہ کیا ہیں ورم کی کرتے ہیں بندگی
    انہیں مجھ سے ملنے کا شوق کیا
    یہ وہ لوگ ہیں جو نہ اپنے آپ سے مل سکے
    یہ انہیں کے بارے میں تھا جو کھلا صحیفہ ٔہست و بود
    یہ بدلتے چہروں کے لوگ
    جن کا نہ اپنا چہرہ نہ خال و خط
    اسی کارواں میں شریک ہیں جو امید وہم کی راہ میں
    کئی صد ہزار برس سے ہے
    کئی بار ابھرے ہیں گرد سے
    کئی بار دھواں میں اٹ گئے
    وہ جو خواب تھے
    کئی صد ہزار برس کے خواب
    جو یقیں نہ تھے جو گماں نہ تھے
    وہ جو ان کے اپنے نگاہ و دل پہ عیاں نہ تھے
    کہ عیاں ہوئے تو بکھر گئے
    مگر ان کا اپنا وجود تھے لہو بن کے ان کی رگوں میں پیہم رواں بھی تھے
    تیرا در تو اب بھی کھلا نہیں
    مگر اک امید کا در کھلا
    کئی صد ہزار برس کا عرصہ انتظار گزر گیا
    وہ جو خواب تھے وہ جو خواب ہیں
    وہی خواب دل میں اتر پڑے
    نیا رنگ ہے شب و روز کا
    نئی تابش مہ و سال ہے
    ہوتے سب کے خواب جو میرے خواب
    عجب اس میں لطف وصال ہے
    (ماخذ:(1)سیپ’سہ ماہی میگزین‘، ص: 156
    (2) فکرِ نو’سہ ماہی میگزین‘،نسیم درانی ،ص: 39)
    ٭
    (علی گڑھ یونیورسٹی)
    مرکز علم و ہنر میکدۂ سوز و ساز
    سجدۂ شوق سے آباد ہے رندوں کا حرم
    جام در جام ہے صہبائے جنون حکمت
    دیکھنا ہو تو کوئی دیکھ لے ساقی کا کرم
    مے گساری کا یہ انداز نہ دیکھا ہم نے
    سب کے دکھ درد کا احساس نشے کا عالم
    ایک ہی آگ سے ہر روح جلا پاتی ہے
    ہو گئے ایک ہی شعلے میں شرارے مدغم
    اپنے ہر دور کی تحریک کا آئینہ لئے
    پھر اٹھاتا ہے علی گڑھ نئی دنیا میں قدم
    راہ دشوار میں اک قافلہ نکہت و نور
    سنگ خارا کی چٹانوں کے مقابل ہے کھڑا
    ٹوٹ جائے گا بہت جلد طلسم امروز
    نور فردا کے تبسم میں بدل جائے گا
    (ماخذ: لہو کے چراغ )
    ٭

    anjum


    (خواب فراموش)
    دل کی دھڑکن سے عیاں ذہن کے پردوں میں نہاں
    دھندلا دھندلا سا وہ اک عکس ترے چہرے کا
    ایک مدت ہوئی دیکھا تھا تجھے
    خال و خط یاد نہ آئے مجھ کو
    صبح دم جیسے کوئی سوچ رہا ہو بیٹھا
    رات کیا خواب نظر آیا تھا
    اور اک عمر گزر جانے پر
    دفعتاً میری تمنا کی طرح
    آئینہ خانۂ تصویر میں آج
    جل اٹھیں تیرے خط و خال کی شمعیں ساری
    اور وہی رات کا بھولا ہوا خواب
    تیری آنکھوں ترے عارض ترے لب کی صورت
    صبح دم دیکھ رہا ہے کوئی
    ٭
    (پھول کھلا بے حجاب)
    درد کی سوغات تھی
    راہ کے ملبوس تھے کانٹوں کے ہار
    موڑ بہت آئے ہیں
    نام رکھا دشت و در
    اور اسی دشت میں
    تو بھی تھی خانہ خراب میں بھی خانہ خراب
    ٹل ہی گئی ساعت قحط دمشق
    ہوش سوا ہے مگر
    ہوش نہیں آئے گا
    جیسے بہم شبنم و گل ہوں یوں ہی خواب عشق
    شبنم تعبیر سے موج جنوں خیز ہے
    چشم فسوں ساز نے ایک افسانہ کہا
    دل نے اسے سن لیا
    لمحۂ جاوید کی
    ایک ہی تفسیر ہے
    قصر زلیخا میں آج
    یوسف کنعاں کی پذیرائی ہے
    وصل کی بے تاب کھڑی آئی ہے
    حیلۂ پرویز ہے
    دوہا چراغ سحر
    ٹل ہی گئی ساعت قحط دمشق
    پھول کھلا بے حجاب
    جاگ اٹھے دشت و در
    رنج میں راحت میں بھی
    ایک ہی موسم کو ملا ہے ثبات
    شوق کی تنویر سے کیسے فروزاں ہیں بام
    میں نے لکھی کائنات
    دل کے اسیروں کے نام
    ٭

    فریب غم ہی سہی دل نے آرزو کر لی
    برا ہی کیا ہے اگر تیری جستجو کر لی
    غلط ہے جذبہ ٔدل پر نہیں کوئی الزام
    خوشی ملی نہ ہمیں جب تو غم کی خو کر لی
    بٹھا کے سامنے تم کو بہار میں پی ہے
    تمہارے رند نے توبہ بھی روبرو کر لی
    وفا کے نام سے ڈرتا ہوں اے شہ خوباں
    تم آئے بھی تو نظر جانب سبو کر لی
    کہاں سے آئیں گے انداز بے پناہی کے
    ابھی سے جیب تمنا اگر رفو کر لی
    زمانہ دے نہ سکا فرصت جنوں انجمؔ
    بہت ہوا تو گھڑی بھر کو ہا و ہو کر لی
    (ماخذ: لہو کے چراغ )
    ٭
    انجم اعظمی کی چند اُردو غزلیں
    وعدہ ہے کہ جب روز جزا آئے گا
    تو اپنے ہی جلووں میں گھرا آئے گا
    تا حشر یوں ہی منتظر دید رہوں
    چپکے سے کبھی آ کے بتا، آئے گا
    میں نامہ ٔ اعمال کھلا رکھوں گا
    رحمت کو تری جوش سوا آئے گا
    حسرت گہ عالم میں تمنا کا قدم
    الا کی طرف صورت لا آئے گا
    خالی بھی تو کر خانہ ٔ دل دنیا سے
    اس گھر میں مری جان خدا آئے گا
    دریا میں بہت لہر ہیں خوابیدہ ابھی
    جاگیں گی تو طوفان بڑا آئے گا
    محفل میں سبھی دوست نہیں آتے ہیں
    دشمن بھی کوئی دوست نما آئے گا
    اب تاب نہ لاؤں گا یہ اندیشہ ہے
    منظر جو کوئی ہوش ربا آئے گا
    نکلو بھی کبھی سود و زیاں سے ورنہ
    کوچے میں ترے کون بھلا آئے گا
    (ما خذ:سیپ، شمارہ نمبر 47، ص: 228)
    ٭

    anjum


    ہم سے کیا خاک کے ذروں ہی سے پوچھا ہوتا
    زندگی ایک تماشا ہے تو دیکھا ہوتا
    دیکھتے گر ہمیں عالم کو بہ انداز دگر
    اور ہی دشت جنوں میں دل رسوا ہوتا
    کیا کیا اہل محبت نے مگر تیرے لیے
    ہم نے اک صحنٔ چمن اور بھی ڈھونڈا ہوتا
    تم بھی ہوتے مے و نغمہ بھی دل شیدا بھی
    اور ایسے میں اگر ابر برستا ہوتا
    ہنس کے اک جام پلاتا کوئی دیوانے کو
    پیار تو ہوتا مگر کاہے کو سودا ہوتا
    تذکرے ہوتے رہے چاک گریبانوں کے
    ہاں تری بزم طرب میں کوئی ایسا ہوتا
    تشنہ لب کون ہے گو جام نہ آیا ہم تک
    دور اک اور چلا خون جگر کیا ہوتا
    خاک نے کتنے بد اطوار کئے ہیں پیدا
    یہ نہ ہوتے تو اسی خاک سے کیا کیا ہوتا
    اس سے ملنا ہی غضب ہو گیا ورنہ انجمؔ
    در بدر پھرنے کا جھگڑا بھی نہ اٹھا ہوتا
    (ماخذ: لہو کے چراغ)
    ٭
    میری دنیا میں ابھی رقص شرر ہوتا ہے
    جو بھی ہوتا ہے بہ انداز دگر ہوتا ہے
    بھول جاتے ہیں ترے چاہنے والے تجھ کو
    اس قدر سخت یہ ہستی کا سفر ہوتا ہے
    اب نہ وہ جوش وفا ہے نہ وہ انداز طلب
    اب بھی لیکن ترے کوچے سے گزر ہوتا ہے
    دل میں ارمان تھے کیا عہد بہاراں کے لئے
    چاک گل دیکھ کے اب چاک جگر ہوتا ہے
    ہم تو ہنستے بھی ہیں جی جان سے جانے کے لئے
    تم جو روتے ہو تو آنسو بھی گہر ہوتا ہے
    سینکڑوں زخم اسے ملتے ہیں اس دنیا سے
    کوئی دل تیرا طلب گار اگر ہوتا ہے
    قافلہ لٹتا ہے جس وقت سر راہ گزر
    اس گھڑی قافلہ سالار کدھر ہوتا ہے
    انجمؔ سوختہ جاں کو ہے خوشی کی امید
    رات میں جیسے کبھی رنگ سحر ہوتا ہے
    (ماخذ: لہو کے چراغ)
    ٭
    ایک سودا ہے لذت غم ہے
    آج پھر میری آنکھ پر نم ہے
    دل کو بہلا رہے ہیں مدت سے
    زندگی کیا عذاب سے کم ہے
    ذرہ ذرہ اداس ہے اس کا
    میرے گھر کا عجیب عالم ہے
    مہر و مہ پر کمند پڑتی ہے
    سوچ میں کوئی ابن آدم ہے
    تجھ سے پردہ نہیں مرے غم کا
    تو مری زندگی کا محرم ہے
    یہ جو اک اعتبار ہے تم پر
    کس قدر پائیدار و محکم ہے
    کل تو دنیا بدل ہی جائے گی
    آج ان کا یہ جور پیہم ہے
    دل نہ کعبہ ہے نے کلیسا ہے
    تیرا گھر ہے حریم مریم ہے
    (ماخذ: لہو کے چراغ)
    ٭
    جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا
    سحر دم دامن دل بھر رہے گا
    علاج اس کا گزر جانا ہے جاں سے
    گزر جانے کا جاں سے ڈر رہے گا
    ہوا مشکل ترے عاشق کا جینا
    ترے کوچے میں آ کر مر رہے گا
    دل وحشی نے کب آرام پایا
    ستم کی آگ میں جل کر رہے گا
    حیات جاوداں ہو یا کہ دنیا
    ترا بندہ ترے در پر رہے گا
    نہ ہو عصیاں تو کیسا حشر کا دن
    کہاں پھر داور محشر رہے گا
    حقائق سے جو دل الجھا ہوا ہے
    وہی خوابوں کا صورت گر رہے گا
    کوئی تو خیر کا پہلو بھی نکلے
    اکیلا کس طرح یہ شر رہے گا
    نہ بزم مے کدہ باقی رہے گی
    نہ دست شوق میں ساغر رہے گا
    جو دن ہے آنے والا بے اماں ہے
    قدم گھر سے اگر باہر رہے گا
    کوئی تو آعظمی صاحب کو سمجھاؤ
    یہ گوشہ شہر سے بہتر رہے گا
    (ما خذ: سیپ، شمارہ نمبر 47، ص:35)
    ٭
    عالم وحشت تنہائی ہے کچھ اور نہیں
    سر پہ اک گنبد بینائی ہے کچھ اور نہیں
    کیوں ہوا مجھ کو عنایت کی نظر کا سودا
    آج رسوائی ہی رسوائی ہے کچھ اور نہیں
    اپنا گھر پھونک چکا اپنا وطن چھوڑ چکا
    یہ فقط بادیہ پیمائی ہے کچھ اور نہیں
    ہو سکے تو کوئی فردا کی بنا لو تصویر
    وقت جلووں کا تمنائی ہے کچھ اور نہیں
    آؤ خوش ہو کے پیو کچھ نہ کہو واعظ کو
    میکدے میں وہ تماشائی ہے کچھ اور نہیں
    (ماخذ: لہو کے چراغ )
    ٭
    حوالہ جات :
    (کتابیات)
    1۔پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص: 663
    2۔ وفیات نامورانِ پاکستا ن ،ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص:176
    3۔انجم اعظمی: حیات و خدمات، ڈاکٹر مشرف احمد
    4۔دبستانوں کا دبستان کراچی (جلد اوّل)، احمد حسین صدیقی،کراچی، محمد حسین اکیڈمی، 2003ء، ص 83
    5۔انجم اعظمی ’’لہو کے چراغ‘‘ کی روشنی میں،’’اُردو شاعری اور پاکستانی معاشرہ‘‘، ڈاکٹر فرمان فتح پوری،لاہور، الوقار پبلی کیشنز2007ء، ص: 225 – 216
    6۔پاکستانی ادب، ڈاکٹر راشد امجد، اکادمی ادبیات اسلام آباد، 2009ء )
    (رسائل )
    1۔ ماہنامہ’’ہم قلم‘‘ کراچی سالگرہ نمبرشمارہ 1961ء، ص 226
    2۔عروسِ وطن، انجم اعظمی ،ماہنامہ’’افکار‘‘ کراچی، شمارہ 171-170 (اکتوبر ،نومبر 1965ء) ص: 72
    (ویب سائٹ )
    1۔ ریختہ ڈاٹ او آر جی ۔ انجم اعظمی ، کراچی 56( ویب )
    1۔انجم اعظمی، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان (ویب)
    2۔فریب ِغم ہی سہی دل نے آرزو کر لی (غزل)، انجم اعظمی، ہم وطن فورمز(ویب)
    ٭٭٭

    Yousuf Waheed

    محمد یوسف وحید

    مدیر:شعوروادراک خان پور

  • ’’شعوروادراک‘‘ کا خاص شمارہ … حیدرقریشی گولڈن جوبلی نمبر

    ’’شعوروادراک‘‘ کا خاص شمارہ … حیدرقریشی گولڈن جوبلی نمبر

    ’’شعوروادراک‘‘ کا خاص شمارہ … حیدرقریشی گولڈن جوبلی نمبر
    تبصرہ نگار : نعیم الرحمٰن (کراچی )

    محمدیوسف وحیدنے ادبی مراکزسے دورخان پورکے چھوٹے شہرسے ’’شعوروادراک‘‘ کااجراکرکے بڑی ہمت کاثبوت دیا۔ادبی جریدے کانام علامہ اقبالؒ کے شعرسے اخذہے۔
    حادثہ وہ جوابھی پردہ ٔ افلاک میں ہے
    عکس اس کا مرے آئینہ ادراک میں ہے
    یہ اُردو،سرائیکی اورپنجابی زبان کامجلہ ہے۔جوعلمی،ادبی اورسماجی شعورکے سفرکامقصدلیے منظرعام پرآیا۔سہ ماہی کتابی سلسلہ کاچوتھاشمارہ اکتوبرتادسمبر2020ء جرمنی میں مقیم’ حیدرقریشی گولڈن جوبلی نمبر‘ کے طورپرشائع ہواہے۔حیدرقریشی اُردوکے ہمہ جہت ادیب ہیں جنہوں نے شاعری اورنثرکی تمام اصفاف میں اپنے فن کولوہامنوایا۔ بہترین ادبی جریدہ’’جدیدادب ‘‘پہلے خان پوراورپھرجرمنی سے نکالتے رہے ۔ ملک سے دور رہ کربھی پاکستان اوربھارت میں ہونے والی ادبی پیش رفت سے آگاہ رہتے ہیں۔ان کے تجزیاتی سیاسی مضامین کی بنیاد پر پاکستان میں کئی معروف ٹی وی اینکرزاپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اوران تجزیوں کواپنے نام سے پیش کرتے ہیں ۔حیدرقریشی کے ادبی دنیا میں پچاس سال مکمل ہونے پر’’شعوروادراک‘‘ نے انہیں خراجِ تحسین پیش کیاہے کہ حیدرقریشی کااپناتعلق بھی خان پورہی سے ہے۔

    shaoor o idraak


    مدیرمحمدیوسف وحیدنے ’اپنی بات‘میں لکھاہے۔’’ شعوروادراک‘‘کاخاص شمارہ ’’حیدرقریشی گولڈن جوبلی نمبر‘‘ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ دسمبر2020 ء میں حیدرقریشی کی علمی ادبی خدمات کے پچاس سال مکمل ہورہے ہیں۔حیدرقریشی کے فن وشخصیت کے حوالے سے خصوصی گوشہ ترتیب دینے کے دوران علمی ادبی شخصیات کی طرف بھرپوراورعمدہ تحریروں کاخاصامواد جمع ہوگیا۔ان تحریروں کاحجم پانچ سوسے زائد صفحات سے زائد ہوگیا۔ان تحریروں کے حسنِ انتخاب کومدنظررکھتے ہوئے خصوصی گوشہ کوباقاعدہ خاص نمبر’’حیدرقریشی گولڈن جوبلی نمبر‘‘ شائع کیاگیاہے۔حتی المقدورکوشش اوروسائل کوبرائے کارلاتے ہوئے حیدرقریشی کے فن وشخصیت اورعلمی ادبی خدمات کابھرپور اعتراف کے ساتھ شمارہ کویادگارتحریروں سے سجاکرگلدستہ پیش کیاگیاہے۔‘‘
    حیدرقریشی نے مدیر’شعوروادراک‘محمدیوسف وحیدکاشکریہ ادا کرتے ہوئے تحریرکیاہے۔’’ آج کی انٹرنیٹ سروسزکی جدیدترٹیکنالوجی نے زندگی کے دیگرشعبوں کی طرح علمی اورادبی ابلاغ کے وسیع تر راستے کھول دیے ہیں۔ ادبی کتب اوررسائل چھپ بھی رہے ہیں اورانٹرنیٹ پربھی دستیاب ہیں۔ سوشل میڈیاکی تمام ترحشرسامانیوں کے باوجودمیں ادبی رسالے کی اہمیت ،معیاراورقدروقیمت کا معترف ہوں ۔ معیاری ادبی رسائل ،اپنے لکھنے والوں کے لیے مستقل تربیت گاہ کادرجہ رکھتے ہیں۔خان پور سے ’جدید ادب‘ کااجراء میرے لیے عزت و اعزازکاموجب بنا۔یہ دیکھ کرخوشی ہوتی ہے کہ میں نے ’جدید ادب‘ کوخان پورمیں جہاں تک پہنچایاتھا،آج محمدیوسف وحیدنے’شعوروادرا ک‘ کاسفروہاں سے آگے شروع کررکھاہے۔یہ ادبی ارتقابھی ہے اورادبی رسالے کی اہمیت کااعلان بھی۔میرے لیے یہ امربجائے خود ایک اعزاز ہے کہ میرے شہرخان پورسے میرے ادبی کام کے اعتراف کے طورپرخاص نمبرچھاپنے کا پروگرام بن گیا۔پھراس نمبرکی اشاعت گولڈن جوبلی نمبربن جانامزیدخوش گوارحیرت کاموجب بنا۔ جب میری زندگی کی پہلی غزل چھپی تھی تومیں بچوں کی طرح خوش ہوا تھا۔آج جب ادبی زندگی کے پچاس سال مکمل ہونے پراپنے ہی شہرسے ایک اعلیٰ معیارکے رسالے کے گولڈن جوبلی نمبرکااعزازمل رہا ہے توآج بھی بچوں کی طرح خوش ہوں۔میں نے خود پرکوئی مصنوعی دانشوری طاری نہیں کی۔ہاں جی یہ میری نصف صدی کی خدمات کا صلہ ہے۔شعوروادراک کے مدیر محمدیوسف وحیدکاتہہ دل سے شکریہ اداکرتاہوں۔‘‘
    ڈاکٹرعامرسہیل اورڈاکٹرعبدالرب استاد نے بیک پیچ پرحیدرقریشی کی ادبی خدمات کوخراجِ تحسین پیش کیاہے۔ڈاکٹرعامرسہیل کہتے ہیں۔ ’’ محمدیوسف وحیدکی انقلابی شخصیت نے’ شعوروادراک‘ جیسے اعلیٰ ادبی جریدے کی بنیادرکھی اوربہت کم عرصے میں اسے اعتباراورساکھ کے اعلیٰ مقام پرپہنچادیا۔ اس ادبی رسالے کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ اس میں اردو کے علاوہ پنجابی اورسرائیکی ادبیات کوبھی شامل کیاجاتاہے۔یہ اپنی طرز کامنفرداوروقیع ادبی شمارہ ہے،خوشی کی بات ہے کہ ’شعوروادراک‘ کازیرِ نظرشمارہ حیدرقریشی کی ادبی خدمات کاجامع مطالعہ پیش کرتا ہے۔خان پورکی تاریخ میں حیدرقریشی کانام ہمیشہ سرِفہرست رہے گاکہ اس دھرتی پرانہوں نے جس ادبی پودے کولگایاتھاآج وہ پھل دار درخت بن چکاہے۔حیدرقریشی کوآج دنیائے ادب میں بھی بلندمقام حاصل ہے۔اردوماہیانگاری کی تحریک ہویا کوئی اورادبی معرکہ اس میں حیدرقریشی ہمیشہ فعال نظرآتے ہیں۔الوحیداکیڈمی خان پور نے اپنی دھرتی کے اہم ادیب کوخراجِ تحسین پیش کرکے ایک روشن مثال قائم کی ہے۔یہ نمبرحیدرقریشی کے بیشترادبی جہات کامتوازن جائزہ پیش کرتاہے اورآنے والے نئے محققین اورناقدین کی رہنمائی کامستند ذریعے بنے گا۔محمدیوسف وحیدبذات خودادب دوست شخصیت ہیں،جن کی ادبی بصیرت اورروشن خیالی کی بدولت یہ رسالہ معیاری تحریروں کامرکزبن گیاہے۔‘‘

    ڈاکٹرعبدالرب نے لکھاہے۔’’ اکیس ویں صدی کے اکیس ویں سال میں ’’شعوروادراک‘‘ خان پورکاحیدرقریشی نمبرکااجراء بیک وقت دونوں کے لیے قابل مبارک باد ہے۔حیدرقریشی کی نصف صدی پرمشتمل ادبی خدمات کااعتراف ادب کے قارئین کے لیے سوغات ہوگا۔ حفیظ جالندھری کاشعریاد آرہاہے۔
    تشکیل وتکمیلِ فن میں جوبھی حفیظ کا حصہ ہے
    نصف صدی کاقصہ ہے دوچاربرس کی بات نہیں
    بلاشبہ حیدرقریشی کی نصف صدی پرمبنی خدمات کااعتراف اس رنگ میں ہوناتوازحدضروری تھا۔اس بارے میں حیدرقریشی کاایک حسبِ حال شعرپیش ہے۔
    وہ جوحیدر میرے منکرتھے میرے ذکر پہ اب
    چونک اٹھتے ہیں کسی سوچ میں پڑ جاتے ہیں
    کولکتاکی عنبرشمیم نے ’’حیدرقریشی۔ایک نظرمیں‘‘ مختصراً حیدرقریشی کی ادبی حیات کی مکمل تفصیل پیش کردی ہے۔جس کے مطابق ان کاپورا نام غلام حیدرارشد قریشی او ر درست تاریخ پیدائش 13جنوری 1952ء ہے۔حیدرقریشی نے شاعری میں غزل،نظم،ماہیا میں دلچسپی لی جبکہ نثرمیں افسانہ، خاکہ، انشائیہ، سفرنامہ، یادنگاری، تحقیق وتنقید ، حالاتِ حاضرہ سارے میدانوں میںاپنی توفیق کے مطابق کام کیا۔ ارد و ماہیا کے حوالے سے حیدرقریشی کاکام تحقیقی اورتخلیقی ہرلحاظ سے بنیادی اہمیت کاحامل ہے۔ادبی معرکہ آرائیوںمیں تلخ حقائق پرمبنی حیدرقریشی کا کام ادب کی تاریخ میں محفوظ رکھنے والاہے۔ ان کی تخلیقات میں اپنے قریبی عزیزواقارب کاکثرت اوربڑی محبت سے ذکرملتاہے۔پی ایچ ڈی ،ایم فل اورایم اے کے گیارہ مقالات میں حیدرقریشی کے ادبی کام کے مختلف زاویوں سے اب تک لکھے جاچکے ہیں جبکہ چھ مقالات میں جزوی مگراہم ذکر ہے۔’جدیدادب‘ خان پوراورپھر’جدیدادب‘ جرمنی کااجرا، حیدرقریشی کی مدیرانہ حیثیت کاتعین کرتاہے۔1994ء سے جرمنی اپنی فیملی کے ساتھ آباد ہیں ۔ تصانیف اورتالیفات میں’’اباجی اورامی جی‘‘،’’حیات مبارک حیدر‘‘،’’مبارکہ محل‘‘شعری مجموعے ’’سلگتے خواب‘‘،’’ عمرِگریزاں ‘‘،’’ محبت کے پھول‘‘،’’ دُعائے دل‘‘،’’ ددردسمندر‘‘ ،’’زندگی‘‘ نثری مجموعے ۔’’روشنی کی بشارت‘‘،’’ قصے کہانیاں‘‘،’’میری محبتیں‘‘،’’ کھٹی میٹھی یادیں‘‘،’’ قربتیں،فاصلے‘‘،’’ سوئے حجاز‘‘،’’ ایک انوکھی کتاب ، بیماری یاروحانی تجربہ‘‘ ۔تحقیق وتنقید ’’حاصل ِ مطالعہ تاثرات‘‘،’’ مضامین اورتبصرے‘‘،’’ مضامین ومباحث ‘‘ ،’’ ستیہ پال آننددکی بودنی،نابودنی‘‘،’’ڈاکٹرگوپی چندنارنگ اورمابعدجدیدیت‘‘، ’’ڈاکٹروزیرآغا عہد ساز شخصیت‘‘۔ماہیاکے حوالے سے تحقیق وتنقید۔ ’’ارد و ماہیا نگا ری‘‘،’’اردوماہیے کی تحریک‘‘،’’ اردو ماہیے کے بانی ہمت رائے شرما‘‘،’’اردوماہیا‘‘،’’ ماہیے کے مباحث‘‘ حالات ِ حاضرہ۔’’منظراورپس منظر‘‘،’’ خبر نا مہ‘‘،’’ اِدھراُدھرسے‘‘،’’ چھوٹی سی دنیا‘‘۔حیدرقریشی نے اپنی کتب مختلف کلیات کی صورت بھی شائع کررکھی ہیں۔جوانٹرنیٹ پربھی دستیاب ہیں۔اس کے علاوہ پانچ شعری اورچھ نثری مجموعوں پرمشتمل منفرد مجموعہ’’عمرلاحاصل کاحاصل‘‘ بھی بھارت سے شائع ہوئی ہے۔حیدرقریشی کی شخصیت اورفن پرکئی کتابیں لکھی گئیںادبی کتابی سلسلہ ’عکاس‘ نے حیدرقریشی نمبرشائع کیا۔ پاک وہندکے کئی رسائل نے ان پر خصوصی گوشے مرتب کیے۔

    shoor o idraak


    خصوصی شمارے کاپہلاحصہ’’ فن وشخصیت ‘‘ہے۔جس میں انتالیس مضامین،خاکے، انٹرویوزاور حیدر قریشی کی کتابوں کاجائزے شامل ہیں ۔جس میں ڈاکٹرنذرخلیق ’’انٹرنیٹ کے ذریعے مکالمہ‘‘ میں حیدر قریشی نے اپنی شاعری،نثر،ماہیاکے فروغ کے لیے کام اورنائن الیون کے بعدکالم نگاری کے بارے میں سوالات کے جواب دیے ہیں۔اس انٹرویوسے حیدرقریشی شخصیت اورفن کی تفہیم ہوتی ہے۔مرحوم ڈاکٹر انور سدیدکامضمون’’جرمنی میں پاکستان کاادبی اور تہذیبی سفیر،حیدرقریشی‘‘قیام جرمنی کے دوران حیدر قریشی کی علمی وادبی سرگرمیوں اور وطن سے دوررہ کربھی کس طرح پاکستان سے منسلک رہے،اس کاتفصیلی ذکرکیاہے۔نذیراحمدبزمی’’نصف صدی کاقصہ‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’حیدرقریشی کی پچاس سالہ ادبی خدمات کے حوالے سے مجھ ناچیزطفل مکتب کاکچھ لکھنا سورج کوچراغ دکھانے کے مترادف ہے،مگراس کے باوجود اپنے شہرکے قابلِ فخرسپوت چندٹوٹے پھوٹے الفاظ لکھ کرگویاانگلی کٹاکرشہیدوں میں شامل ہونے کی سعی لاحاصل کررہا ہوں۔ عمومی مشاہدہ کے مطابق اللہ بہت کم خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں جن کواللہ تعالیٰ نے ہرفن مولابنادیاہے۔بہت سے نامورشعراایسے ہیں جو نثر کی ایک لائن لکھنے کی صلاحیت سے بھی محروم ہیں ، اسی طرح بیشترنثرنگارشاعری کی سدھ بدھ سے کوسوں دورہوتے ہیں مگرحیدرقریشی وہ خوش نصیب شخص ہے جس نے بیک وقت بطورشاعر،ادیب،افسانہ نگار،انشائیہ نگار،خاکہ نگار،مضمون نگار، محقق ، نقاد ، دانشور اور ماہیا نگار کے طورپرنقادان فن سے اپنی صلاحیتوں کالوہامنوایاہے۔ان کاقلم آج بھی اسی رفتار سے رواں دواں ہے جیساکہ ان کے ادبی سفرکے آغاز کے وقت تھا، پچا س کے آنے والی معاشی، معاشرتی ، سیاسی ،سماجی اورجغرافیائی تبدیلیوں نے ان کے قلم کی جولائی کومتاثرنہیں کیابلکہ مہمیز بخشی ہے جس کی وجہ سے آج بھی ان کی تحریروں میں شگفتگی،روانی ،فصاحت وبلاغت،ندرت خیال،معاشرتی عکس ،بلند خیالی اورباریک بینی جیسی خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جیسی اول روزتھیں،اب فنی پختگی کے سبب یہ خوبیاں بدرجہ کمال کوپہنچ چکی ہیں۔‘‘
    منزہ یاسمین نے حیدرقریشی کی مختصرسوانح حیات میں ان نے آباواجداد،والدین،بہن بھائیوں،بیوی ،بچوں اوران کی تصانیف کی تفصیلات بیان کی ہیں۔بیوی ،بیٹے،بہو اوردوستوںکے حیدرقریشی کی شخصیت اورمزاج کے بارے میں تاثرات بھی مضمون نگارنے پیش کرکے تحریر کی دلچسپی میں اضافہ کیاہے۔ حیدر قریشی کے دوست خورشیداقبال کی رائے ہے۔’’حیدرقریشی کی شخصیت کامنفردپہلوہی ان کے فن کے منفرد پہلوکاذمہ دارہے۔وہ ہے بیباکی اورصاف گوئی۔ان کی غزلوں،نظموں ،ماہیوں،افسانوں اور خاکوں میں سے اگران کی بیبا کی نکال کی جائے توان کے فن کاساراحسن ماند پڑجائے ۔سارے رنگ پھیکے پرجائیں گے۔‘‘
    مدیر’’شعوروادراک‘‘محمدیوسف وحیدنے ’’حیدرقریشی کاگلشنِ ادب‘‘ میں تحریرکیاہے۔’’ پچاس سال علم وادب کی ترویج واشاعت کے لیے وقت کرنے والے اردو،سرائیکی کے معروف شاعر،نقاد، محقق ، ادیب ومدیرحیدرقریشی کوامسال اپنی ادبی زندگی کے پچاس سال پورے ہونے پرتہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔کسے خبرتھی کہ ایک عام سی غزل سے ادبی دنیامیں داخل ہونے والے نوآموزجوان غلام حیدر ارشدجواپنی مستقل مزاجی ،غیرمتزلزل طبیعت اورسچے جذبے ولگن کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ادبی دنیامیں حیدرقریشی کے نام سے معروف ومتعارف ہوں گے۔‘‘ یوسف وحید نے حیدر قریشی کی ادبی زندگی کے مختلف مراحل کا جائزہ پیش کیاہے۔معروف شاعراورٹی وی پروڈیوسرایوب خاور کے مضمون کاعنوان’’حیدرقریشی کے نام‘‘ ہے۔’’حیدرقریشی سے میراتعارف دراصل محترم وزیرآغاکے موقرجریدے’’اوراق‘‘ کے صفحات پرچھپنے والی اس کی غزلوں اورنظموں نے کروایاتھا اورمیں نے اسے خان پورسے بلالیا۔ حیدر قریشی کی شخصیت نے مجھے موہ لیا۔سوٹیلی وژن پرایک نئے شاعر اوریک نئے پروڈیوسرڈائریکٹرکایہ عارضی رشتہ پرخلوص دوستی میں ایسے ڈھلا کے جیسے جیسے وقت گزرتاگیایہ اور گہرا ہوتا چلا گیا۔حیدرقریشی کا’جدیدادب‘ اسی کی دہائی کی زندہ نشانی ہے جسے حیدرنے خان پور کی آب وہوامیں جیسے تیسے زندہ رکھااورپھروہ کب جرمنی چلاگیامجھے معلوم نہیں۔ابھی ایک سال پہلے حیدرکے ٹیلی فون نے مجھے چونکادیا۔ آوازمیں وہی تازگی،پہچان،دوستانہ اورتعلقِ خاطر۔حیدرنے اپنانام لیاتومیں ششدررہ گیااورہمارے بیچ میں سے ستائیس اٹھائیس سال چپکے سے سرک کرایک طرف کوہوگئے۔میں سمجھاحیدر خان پورہی سے بول رہاہے مگروہ توجرمنی سے فون کررہاتھا۔چندمنٹ میں تیرہ انچ کے موٹے شیشے کی دیواردھڑام سے ہمارے درمیان دوبارہ کھڑی ہوگئی فاصلے کااحساس بھی کتناخوف ناک ہوتاہے۔‘‘
    معروف ادیب وشاعراکبرحمیدی نے ’’حیدرقریشی،پوراآدمی‘‘ کے نام اورنذیرفتح پوری نے’’لفظوں کامسیحا‘‘ کے عنوان سے حیدرقریشی کے خاکے تحریرکیے ہیں۔اکبرحمیدی نے لکھاہے۔’’ حیدرقریشی کاشمار ان لوگوں میںہوتاہے جن کی قسمت میں سوائے کامیابی کے کچھ اورلکھاہی نہیں جاتا۔حیدرقریشی نے کامیابی کی شہرادی کووقت کے بہت بڑے دیوکی قیدسے نکال کرحاصل کیاہے۔میں اسے گزشتہ کم سے کم پچیس برسوں سے یاشایداس سے بھی زیادہ عرصہ سے جانتاہوں،پہچانتاہوں بلکہ اس کی دوستی کے اس حلقے میں داخل ہوں جہاں کسی پردہ داری کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ہم دونوںبڑے اعتماد اورتسلی کے ساتھ دوسرے کے بارے میں جس قسم کی باتیں کرناچاہتے ہیں،کرلیتے ہیں ۔ وہ متوسط قامت کاکھلتے ہوئے گندمی رنگ کا،بھرے بھرے جسم والاآدمی ہے۔کبھی اس کے چہرے پرداڑھی نمابال ہوتے تھے جواب مرورایام کے ساتھ باقی نہیں رہے اوراب ان کی ضرورت بھی نہیں رہی کیونکہ اب وہ پاکستان میں نہیں رہتا،جرمنی میں رہائش اختیارکرچکا ہے۔اس کے مزاج میں ایک بات میں نے حیران کن حدتک دیکھی ہے،وہ عام طورپربے حدجذباتی ہے۔مگردوستوں کے ساتھ متحمل مزاج ۔یہی وجہ ہے کہ اس کے جھگڑے ہمیشہ دوسرے لوگوں سے ہوئے ہیں،دوستوں سے نہیں۔دوستوں کے ساتھ اس نے بعض اوقات زود رنج ہونے کامظاہرہ توکیاہے مگرناراضی کانہیں۔اس کے مزاج میں حسن پرستی کارنگ شروع سے ہی اچھاخاصاہے جواس کی غزلوں میں بھی نمایاں ہوتاہے۔یہی حسن پرستی کاجذبہ ہے جس نے ایک زمانے میں اسے کوچہ عشق کی سیربھی کروادی تھی،مگرکچھ اس طرح کہ وہ اس گلی میں ایک طرف سے داخل ہوا،اوردوسری طرف سے بخیروعافیت نکل آیااپنی خیروعافیت کے ساتھ بھی اوردوسرے فریق کی خیرو عافیت کے ساتھ بھی ۔میرصاحب کی طرح اس نے بھی یہاں عزت داروں کی عزت کاپاس کیاہے۔یہی وجہ ہے کہ دشت وصحراکی خاک اڑانے سے بچ کرجرمنی پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔‘‘
    بھارتی قلمکارنذیرفتح پوری اپنے خاکے میں لکھتے ہیں۔’’ کچھ لوگ محض مشکلیں پیداکرنے کے لیے ہی عالم ِ وجود میں آتے ہیں،لیکن حیدر قریشی کی خوبی ہے کہ وہ جتنی مشکلیں پیداکرتے ہیںان سے کہیں زیادہ ان مشکلوں کاحل بھی فراہم کردیتے ہیں۔خوشی کی بات ہے کہ وہ محض ادبی میدان ہی میں مشکلیں پیدا کرتے ہیں۔ادب بھی کس زبان کا؟اردوزبان کا۔استادہدہدگلشن آبادی فرماتے ہیں کہ اردوکے پرستاروں ، جانثاروں اورتنخواہ خواروںکے طفیل اردو کے لیے پہلے ہی کیامشکلیں کم تھیں کہ حیدرقریشی نے اس میں ماہیے کی دیوارکھڑی کردی۔اتناہی نہیں بلکہ اپنی تائیدوہم رکابی کے لیے ایک لشکرتیارکرکے ادب کے عالمی میدان میں جنگ کااعلان کردیا۔لاکھ سمجھایاکہ بھائی! تخلیقی ادب کا سمندرترقی پسندیت اور جدیدیت کے بعدتھک تھکاکرسویاہواہے اسے کچھ دنوں آرام کی سخت ضرورت ہے۔ابھی ایک دہائی پہلے مظہرامام نے آزاد غزل کاپتھرمارکراس خوابیدہ سمندرمیں طوفان اٹھانے کی کوشش ضرور کی تھی لیکن کچھ دنوں تک موجیں اچھال کرسمندرپھرسوگیا۔کبھی کبھی توایسالگتاہے کہ حیدرقریشی کسی طلسماتی شخصیت کانام ہے۔جہاں دیکھو وہاں موجود،جب سوچوتب حاضر،اردوکے بیشتررسائل اور اخبارات پروہ آسمان کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔جرمنی میں رہتے ہیں لیکن ادب کاریموٹ کنٹرول ان کے ہاتھ میں ہوتاہے،جس کا استعمال وہ تخریب کے لیے ہرگزنہیں کرتے۔البتہ ماہیے کی تحریک میں رکاوٹ پیداکرنے والوں کووہ اپنے ریموٹ کنٹرول سے خوفزدہ ضرور کرتے رہتے ہیں۔ریموٹ کنٹرول کے درست استعمال کووہ ماہیے کے درست وزن کی تحریک کے ساتھ ساتھ چلاتے ہیں اوراپنی ہنر مندی کی داد پاتے ہیں۔‘‘
    ان دونوں خاکوں سے حیدرقریشی کی شخصیت وفن کے کئی گوشے قارئین کے سامنے روشن ہوتے ہیں۔حیدرقریشی کے فن وشخصیت پردیگر مضامین میں سہ ماہی عکاس کے مدیرارشدخالدکا’’حیدرقریشی کی ادبی تیزرفتاری‘‘،فرزانہ یاسمین کاانٹرویو’’حیدرقریشی کاتصورِ محبوب۔ایک مکالمہ‘‘ ڈاکٹرعامر سہیل کا ’’حیدر قریشی کی یادنگاری‘‘ ڈاکٹرہردے ناتھ بھانوپرتاب کا’’حیدرقریشی کی نظم نگاری کاخصوصی مطالعہ‘‘ ،ڈاکٹر منا ظرعاشق ہرگانوی کا’’حیدرقریشی کاماہیانگاری کاسفر‘‘، ڈاکٹررضینہ خان کا’’حیدرقریشی کی انشائیہ نگاری‘‘،خاوراعجاز کا’’حیدرقریشی کے انشا ئیے‘‘،یوسف وحیدکا’’حیدرقریشی کی اردوماہیانگاری‘‘، ناصرعباس نیرکا’’حیدرقریشی کی غزلیہ شاعری۔ایک تجزیہ‘‘ پروفیسرجیلانی کامران کا’’حیدرقریشی کی افسانہ نگاری‘‘ ،ڈاکٹرعامرسہیل کا’’حاصل ِ تحقیق‘‘ فرحت نوازکا’’حیدرقریشی کی کتابوں کی ایک جھلک‘‘ ،منزہ یاسمین کا’’حیدرقریشی کی مرتب کردہ کتب ‘‘ ،اسحاق ساجدکا’’حیدرقریشی میری نظرمیں‘‘ ڈاکٹررمیشا قمر کا’’ہیں خواب میں ہنوز‘‘،یعقوب نظامی کا ’’ حیدرقریشی کاسفرنامہ۔سوئے حجاز‘‘،ڈاکٹررشیدامجد کا ’’حیدرقریشی کی افسانہ نگاری‘‘، نصرت ظہیرکا’’حیدربھائی پرایک ادھورامضمون‘‘ افتخار عارف کا’’ حیدر قریشی اورجدیدادب‘‘ مظہرامام کا’’عمرِگریزاں کی شاعری‘‘ ، ہارون الرشیدکا’’ غزلیں ،نظمیں،ماہیے ایک مطالعہ‘‘ نعیم الرحمٰن کا’’عمرلاحاصل کاحاصل‘‘ عبداللہ جاوید کا’’عمرلاحاصل میں شامل افسانے‘‘ منشایاد کا’’میری محبتیں‘‘ محمود ہاشمی کا’’ بنام حیدر قریشی‘‘ اکبرحمیدی کا’’ سوئے حجاز‘‘ نصرت بخاری کاانٹرویو ’’حیدرقریشی کاتخلیقی سفر‘‘ ڈاکٹرالطاف یوسف زئی کا’’ہماراادبی منظرنامہ کامطالعہ‘‘ اور شہنازخانم عابدی کا ’’مضامین ومباحث کی ایک جھلک‘‘ شامل ہیں۔ان تمام مضامین میں حیدرقریشی کے فکروفن کی تمام جہتوں کو تفصیلی طور پرپیش کیاگیاہے اوران کی مختلف کتب کابھی جائزہ لیاگیاہے۔اس طرح ان کی شخصیت وفن کاکوئی گوشہ قاری کی نظرسے پوشیدہ نہیں رہتا اورقاری اس سے اجمالی طورپرہی صحیح آشناضرور ہوجاتا ہے ۔اس کاوش پرمدیر ’شعو ر و ادراک‘محمدیوسف وحید بھرپورمبارک باد اورتحسین کے حقدارہیں۔
    مضامین کے بعد تقریباً چھبیس صفحات پرحیدرقریشی کی غزلوں،نظموں اورماہیے کاانتخاب شامل کیاگیاہے۔جس سے ان کی مختلف اصناف میں شاعری کامعیارقاری کی نظرمیں آجاتاہے۔اگلاحصہ ’’تخلیقات‘‘ کے عنوان سے ہے ،جسے سعدیہ وحید نے مرتب کیاہے۔جس میں حیدر قریشی کے تین نمائندہ افسانے’’غریب بادشاہ‘‘،’’ گھٹن کااحساس‘‘ اور’’ اپنے وقت سے تھوڑاپہلے‘‘ شامل ہیں۔مصنف کے تحریرکردہ چھ خاکے’’ڈاچی والیاموڑ مہاروے‘‘،’’ مصری کی مٹھاس اورکالی مرچ کاذائقہ‘‘،’’ برگدکاپیڑ‘‘،’’ مائے نی میں کنوںآکھاں‘‘،’’پسلی کی ٹیڑھ ‘‘ ،’’پسلی کی ٹیڑھ دوسراحصہ‘‘منتخب کیے گئے ہیں۔ان کی یادوں پرمشتمل دلچسپ کتاب’’ کٹھی مٹھی یادیں‘‘ کے تین طویل اقتباسات دو انشائیے’’ اطاعت گزار‘‘ اور’’ فاصلے ،قربتیں‘‘ اوران سفرنامہ حج ’’سوئے حجاز‘‘ کاابتدائیہ بھی اس انتخاب میں شامل ہے۔مرتب نے بہت ذہانت سے یہ انتخاب کیاہے۔جس سے حیدرقریشی کے نثری ادب کاہرپہلوواضح ہوجاتاہے۔
    ’’حیدرقریشی گولڈن جوبلی نمبر‘‘ کاآخری حصہ’’ مضامین‘‘کاہے۔جس میں حیدرقریشی کے چار مضامین’’ اردوادب اورالیکٹرونک میڈیا‘‘، ’’ ہرمن ہیسے کاناول سدہارتھ‘‘،’’ میراجی‘‘اور’’ماہیے کاجواز‘‘ شامل ہیں۔خالدیزدانی نے ’’نظرے خوش گزرے‘‘اورحیدرقریشی کے چند انٹرویوزکوجگہ دی گئی ہے۔
    اس طرح ’’شعوروادراک ‘‘ کا’’حیدرقریشی گولڈن جوبلی نمبر‘‘ اپنے موضوع کے اعتبارسے ایک بہت عمدہ اوربھرپورشمارہ ہے۔جس میں حیدر قریشی کی شخصیت وفن کاہرپہلو اورہرگوشہ ایک ہی شمارے میں پیش کردیاگیاہے اوریہ نمبرمستقبل میں حیدرقریشی پرکام کرنے والے محققین کے کام آئے گا۔ادب کی ایک ہمہ جہت شخصیت پراتناعمدہ نمبرمرتب کرنے پرمدیرمحمدیوسف وحید کودلی مبارک باد۔شعوروادراک کے اگلے شماروں کاانتظاررہے گا۔
    (بحوالہ : شعوروادراک ۔ شمارہ نمبر 4۔اکتوبر تا دسمبر 2020ء، ’’حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر ‘‘ ، مدیر: محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ،ص:132)
    ٭٭٭

    naeem

    نعیم الرحمٰن

    کراچی

  • سیّد محمد فاروق القادری کی علمی و ادبی جہتیں

    سیّد محمد فاروق القادری کی علمی و ادبی جہتیں

    سیّد محمد فاروق القادری کی علمی و ادبی جہتیں
    محمد یوسف وحید

    زماں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا
    کہ میرے نطق نے بوسے میر ی زباں کے لیے
    فخر المحققین سیّد محمد فاروق القادری تین لفظوں سے مرکب ہے مگر حقیقت میں ایک درہائے معانی ہے ۔ اس نام کا مراد و مصداق ایک بے بدل عمرانی ایکائی بھی ہے اور کثیر الجہات ادبی تحقیقی و روحانی شخصیت بھی ہے جس نے زندگی کے جس تار کو بھی چھیڑا اک نغمۂ جاں فزا ماحول کو مسحور و معمور کر نے کے لیے نہ صرف میسر فرما دیا بلکہ اس کے تسلسل کے لیے تمام تر وسائل بہم پہنچائے تو اس کی شخصیت میں موجود گہرائی فکر ، دُور اندیشی اور فہم و فراست بھی نہ صرف طشت از بام ہوتی چلی گئی بلکہ ان کے مخصوص ساحرانہ تشخص کا جادو بھی سر چڑھ کر بولنے لگا ۔

    farooq qadri


    گڑھی اختیار خاں ایسے پسماند ہ علاقے سے اُبھر کر پنجاب یونی ورسٹی میں خود کو ایڈجسٹ کرلینا ہی اپنی جگہ پر ایک کارنامہ تھا مگر اس فخرِ سادات شہزادے نے گلشنِ سیادت کے عظیم المرتبت اکابرین کے صدری پندار کی لاج رکھتے ہوئے ایم اے اردو ، عربی ، اسلامیات کے ساتھ ساتھ فاضل عربی، فاضل فارسی ، فاضل درس نظامی ایسی فتوحات کا سرنامہ گولڈ میڈل حاصل کرکے گویا آبِ زر سے لکھ دیا جس کی کشش نے نہ صرف اس وقت کے اعلیٰ اذہان سے داد و تحسین وصولی بلکہ اپنے ضلع رحیم یار خان اور خانوادہ سے منسلک فرد فرد کے لیے سر بلندی ٔ افتخار و انبساط کا سامان بھی کر دیا ۔
    اس سب کے پیچھے فیضانِ نظر ہی کار فرما تھی ۔ کیونکہ مشائخ شاہ آباد شریف کی روحانی منزلت کا ایک زمانہ معترف چلا آرہا ہے اور اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ
    یک زمانہ صحبت با اولیاء
    بہتر از صد سالہ طاعتِ بے ریا
    اسی زمانے میں آپ کو حکومتِ وقت کی طرف سے نہایت پُر کشش جاب آفرز بھی ہوئیں لیکن حضرت سیّد محمد فاروق القادری ؒ نے اصلاحِ معاشرہ کے منصب پر ظاہری کروفر کو نہ صرف قربان کر دیا بلکہ خاندانی روایات کے عین مطابق دینِ متین کی خدمت اس لگن سے کی کہ آپ کا مسکن شاہ آباد شریف نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد علمی و روحانی مرکز کے طور پر معروف ہوگیا ۔ جہاں مذہبی ، روحانی اور خالصتاً صوفیانہ افکار کی فکری و عملی ترویج کے لیے نہایت سازگار ماحول میسر تھا ۔
    ایک خوبی جو علامہ سیّد محمد فاروق القادری کو دوسرے تمام مشائخِ عظام ، سجادگان اور روحانی پیشوائوں میں منفرد و ممتاز کرتی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ آپ نے خانقا ہ یا سلسلہ عالیہ قادریہ کو اپنے نام کے ساتھ دان کے لیے استعمال کرنا ہر گز گوارہ نہیں کیا بلکہ اپنے عمل سے آسمانِ ادب کے عالم تصوف ، میدانِ تحقیق کے ساتھ ساتھ قرطاس و قلم اور حُسنِ خطاب سے ناموری ، ارفع مقام کے وہ جھنڈے گاڑے جو نہ صرف لہراتے چلے گئے بلکہ ہزاروں پیرو کاروں کے لیے استعارے اور سہارے بھی بنتے چلے گئے ۔
    جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موجِ نفس ان کی
    الہٰی کیا چھپا ہوتا ہے اہلِ دل کے سینوں میں
    کہتے ہیں حُسنِ بیان ایک جادو ہے اور حُسنِ تحریر مہا جادو ہے۔ یہ دونوں جادو کسی ایک شخص میں بیک وقت دیکھے جا سکیں، اوّل تو ایسابہت کم ہی ہوتا ہے ۔ مگر آبروئے قلم و قرطاس ، شہنشاہِ خطابت ، فخر المحققین علامہ سیّد محمد فاروق القادری ؒ کے ہاں یہ دونوں جادو نہ پائے جاتے ہیں بلکہ اپنے استحضار کے لیے باہم مقابل ہو کر قاری و سامع کی فرحت و شادمانی کا سامان کر نے میں عدیم المثال ہی ثابت ہوتے ہیں ۔
    عموماً دیکھا گیا ہے کہ شوق شوق میں لکھاری کوئی اُچھوتا سا موضوع منتخب تو کر لیتے ہیں مگر اس کے تقاضے نبھاتے ہوئے مجبور و عاجز دکھائی دیتے ہیں ۔
    مگر علامہ سیّد محمد فاروق القادریؒ نے جب قلم کو رُشد و ہدی کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا تو نہ صرف اپنے موضوع سے انصاف کرنے پر قادردکھائی دیئے بلکہ دنیا کی دوسری زبانوں میں محفوظ ادب کا ترجمہ کرکے اس کی فیض رسانی کو اس طرح عام اور دلچسپ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ آپ کی ہر کتاب جلد ہی اشاعتِ ثانی کا سامان کرتی چلی جاتی ہے ۔ علامہ سیّد محمد فاروق القادری ؒ نے تیس سے زیادہ کتابیں تحریر کی ہیں جس کا مشترکہ موضوع بندے اور ربّ کے درمیان ربط کی راہیں آسان کرنا ، روحانی دنیا کے اسرار و رموز کو عام فہم کرکے بھولی بھٹکی انسانیت کو اللہ کے حبیبؐ کی محبت کے چراغ روشن کرنا ہے ۔
    ’’ انفاس العارفین ، جامِ عرفان ، فتوحاتِ مکیہ اور اَصل مسئلہ معاشی ہے ‘‘ میں سے جس کتاب کو بھی دیکھ لیں اپنے نام کی طرح دلچسپ موضوع ، منفرد، خوب صورت حاشیہ اورمدلّل اندازِ بیان کے ساتھ علامہ سیّد محمد فاروق القادری ؒ کی علمی سخاوت و قابلیت کا عملی ثبوت ہے ۔

    farooq qadri


    شجاعت ، راست گوئی ، قادر الکلامی جو کہ آلِ رسول ؐ کا خاصہ رہی ہے ۔ علامہ سیّد محمد فاروق القادری ؒ کے ہاں برہانی کیفیت نمایاں دکھائی دیتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے بڑے جید عالم ، محقق اور روحانی پیشوا آپ کی رائے کو بطور سند اختیار کرتے دکھائی دیتے چلے جار ہے ہیں ۔
    المختصر علامہ سیّد محمد فارو ق القادری ؒ کی شخصیت کو ایک شعر کے ذریعے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں:
    مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
    تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
    ٭
    (بحوالہ : شعوروادراک ، شمارہ نمبر 5،جنوری تا مارچ 2021ء، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور )
    ٭٭٭

    yoousuf
  • اُردو غزل کا توانا شاعر …حفیظ شاہدؔ

    اُردو غزل کا توانا شاعر …حفیظ شاہدؔ

    اُردو غزل کا توانا شاعر …حفیظ شاہدؔ
    محمد یوسف وحید
    (مدیر:شعوروادراک خان پور)

    ہر رنگِ خوب وزشت ہے میری نگاہ میں
    انسان کی سرِشت ہے میری نگاہ میں
    (حفیظ شاہد)
    حفیظ شاہدصاحب سے ابتدائی ملاقات و تعارف جنوری ۲۰۰۴ء میں جناح ٹائون میں واقع اُن کے دولت خانے پر ہوئی تھی ۔ ادبی دنیا میں داخل ہوئے تو کچھ عرصہ ہو چکا تھا ۔ ۲۰۰۴ ء میں خان پور کے معروف تعلیمی ادارے ’ ’ حِرا پبلک ہائی سکول ‘‘ میں بطور لائبریرین کام کرتا رہاہوں ۔اسی ذمہ داری کے تحت عموماً میرا کتابوں سے واسطہ رہتا ۔ اسی دَورا ن ہی مجھے خاص طور پر حفیظ شاہد اور رفیق راشد کے ابتدائی شعری مجموعے بالترتیب (۱) ’’سفر روشنی کا ‘‘ اور چراغِ آگہی ‘‘ پڑھنے کا موقع ملا ۔
    یہ جان کربے حد خوشی ہوئی کہ حفیظ شاہد اور رفیق راشد کا تعلق بھی خان پور سے ہے اور اتفاق سے دونوں احباب قریب قریب یعنی حفیظ شاہد جناح ٹائون اور رفیق راشد ماڈل ٹائون میں ہی رہائش پذیر ہیں ۔ اوّلین فرصت میں یکے بعد دیگر ے دونوں ادبی شخصیات سے ملاقات ہوئی ۔

    Hafeez Shahid


    میرے ادبی ذوق و شوق کے ابتدائی دَور سے ایک بات مجھے ہمیشہ متحرک اور فعال رکھتی ہے کہ نئے نئے ادبی دوستوںسے ملاقات اورادبی محفلوں میں شرکت کی جائے ۔
    ادبی دنیا کے اوائل دَور میں سینکڑوں اَشعار مجھے یاد ہوا کرتے تھے۔اسی شوق کے تحت ۲۰۰۴۔۲۰۰۳ء میں ۲۰۰۰ منتخب اُردو اشعار پر مشتمل بیت بازی بھی مرتب کی ۔ اچھے شعر وں کے انتخاب اور مطالعے نے میرے اندر بھی شعر کہنے کی ہمت پید اکی ۔ ابتدائی طور پر کچھ وقت تُک بندی کرتا رہا ۔ حفیظ شاہد سے ابتدائی ملاقاتوں میں بیت بازی کامسؤدہ پیش کیا ۔ میرے ادبی ذوق کو دیکھتے ہوئے حفیظ شاہد صاحب نے مُسرّت کا اظہار کیا ۔ مسؤدے میں کچھ اَشعار کی اِصلاح بھی کی ۔بیت بازی کا وہ مسؤدہ آج بھی میرے پاس موجود ہے ۔ البتہ بعد میں دوبارہ نئے رجسٹر پربھی اسے نہایت خوش خط لکھا گیا۔
    حفیظ شاہد صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ وقتاً فوقتاً چلتا رہا ۔ اسی دوران ادبی ذوق کی تسکین بھی مختلف اخبارات و رسائل میں مضامین اور کہانیوں کی صورت ہوتی رہی ۔ مختلف ادبی ، سماجی اور ثقافتی فورمز میں بھی شرکت ہوتی رہی اور ساتھ ساتھ غمِ روزگار بھی چلتا رہا ۔ ۲۰۰۶ ء کے آواخر میں بچوں کے لیے ایک مجلہ شائع کرنے کا ارادہ کیا ۔ مشاورت پر حفیظ شاہد صاحب نے نہایت خوشی کا اظہار کیا ۔
    سات شعر ی مجموعوںکے خالق‘ اُردو غزل کا توانا حوالہ ‘ حفیظ شاہد جسے گزشتہ ۷۰ سالوں میں اقلیمِ سخن کے نامور اور قد آور اُدبا ء و شعرا ء نے اپنے اپنے انداز اور الفاظ میں خوب صورت خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔
    حفیظ شاہد کی ساری شاعری جدید انقلابی ، سماجی او ر معاشرتی روّیوں کے تجزیوں سے بھر پور ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل کلاسیکی ہیئت میں غزل کے مزاج سے سراپا ہم آہنگ ہے ۔ حفیظ شاہد کی غزل میں وہی تغزل اور رنگ و مٹھاس ہے جس سے اُردو اور فارسی کی غزلیہ شاعری متصف ہے ۔ اُردو غزل گوئی میں اُن کا نام کوئی نیا نہیں ہے ۔ حفیظ شاہد کو غزل گوئی کا بڑا سلیقہہے ۔ غزل کے چند شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
    یہ اعجازِ محبت ہے، محبت بے اثر کب ہے
    تمہیں اپنی خبر کب ہے، ہمیں اپنی خبر کب ہے
    رموزِ زندگی کی جو حقیقت تک پہنچ جائے
    میسر اہلِ دُنیا کو ابھی ایسی نظر کب ہے
    ابھی دیوارِ قصرِ شامِ غم کے پار کیا دیکھیں
    ہمیں حاصل چراغِ وسعتِ فکر و نظر کب ہے
    ابھی اِس شہر میں اپنی پذیرائی نہیں ممکن
    ابھی اِس شہر میں دستورِ توقیرِ ہُنر کب ہے
    ہمیں جانا ہے شاہدؔ، منزلِ شہرِ تمنا تک
    مگر آسان یہ شہرِ تمنا کا سفر کب ہے
    اس غزل کے اور شعر بھی قابلِ توجہ ہیں ۔ اس کا مطلع خاص طور پر لائقِ تحسین ہے ۔ اس مطلع میں کوئی بڑا فلسفہ نہیں ہے بلکہ نہایت سادا الفاظ میں بات صرف یہ کہی گئی ہے کہ ہر آدمی اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں محبت کی بے کراں تاثیر کو محسوس کر سکتا ہے ۔
    حفیظ شاہد کی ایک اور غز ل کے چارشعر ملاحظہ فرمائیں :
    یہ پیکرِ جمال تو عتاب کے لئے نہیں
    مرے خدا یہ آدمی عذاب کے لئے نہیں
    یہ مجھ سے احتراز کیوں، یہ مجھ سے اجتناب کیوں
    سوال تجھ سے ہے مگر جواب کے لئے نہیں
    جو غم اُٹھا چکا ہے تُو انہیں نہ اب شمار کر
    یہ مختصر سی زندگی حساب کے لئے نہیں
    زمیں پہ شاہدِؔ حزیں حقیقتیں تلاش کر
    یہ دشتِ زندگی کسی سراب کے لئے نہیں
    ان اشعار میں غزل کا وہ حسن بھی ہے جو حسرت ؔ‘ جگر ‘ اور فانی بدایونی کے یہاں ملتاہے اور وہ لب و لہجہ بھی حفیظ شاہدؔ کی شاعری کے لیے مختص ہے ۔ غزل کا یہ آب و رنگ نرم و عمومی حفیظ شاہدؔ کی غزلوں میں اُن کے عہد کی مروجہ غزل گوئی کے زیرِ اَثر آیا ہے ۔’’ یہ دریا پار کرنا ہے ‘‘ سے ایک غزل کے مزید چند شعر دیکھیے :
    کٹھن حالات میں اپنے ارادوں کو جواں رکھنا
    ہمیں آتا ہے دل میں شعلۂ غم کو نہاں رکھنا
    اکیلے گھر میں کیسے وقت کاٹو گے تنِ تنہا
    کوئی تصویر لٹکا کر سرِ دیوارِ جاں رکھنا
    اجل اور زندگی کی دوستی اک حرفِ باطل ہے
    بہت دشوار ہے پانی پہ بنیادِ مکاں رکھنا
    نہ جانے اِس میں پوشیدہ ہیں اُس کی حکمتیں کیا کیا
    ہمیشہ گردشوں میں یہ زمین وآسماں رکھنا
    کہاں آسان ہے اہلِ سخن کی بھیڑ میں شاہدؔ
    جُدا اَوروں سے اپنا طرزِ گفتارو بیاں رکھنا

    idrak


    یہ اشعار اسی اندازِ غز ل گوئی کی عمدہ عکاسی ہیں جن کا سکہ ‘ امیرؔ مینائی اور داغؔ کی جمائی ہوئی محفل میں چل رہا تھا ۔ حفیظؔ کا اُسلوبِ خاص ہی یہی ہے کہ غزل کو نہایت عمدگی ، شائستگی اور پاکیزگی سے پیش کرنا ہے۔ حفیظؔ کی غزل میںبھر پور زندگی جینے کے لیے’ اُمیداور روشنی‘ عمدہ دلیل ہے ۔ روشنی ان کا پسندیدہ استعارہ ہے۔بقول حفیظ الرحمن اَحسن :
    ’’ حفیظ شاہدؔ کی غزل ’’زندگی آمیز بھی ہے اور زندگی آموز بھی۔‘‘ انہوں نے زندگی کو اس کی تلخیوں اور رعنائیوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ رجائیت حفیظ شاہدؔ کی غزلوں میں روح کی طرح سرایت کیے ہوئے ہے اور یہی رجائیت روشنی کی علامت بن کر زندگی کی تلخیوں اورتاریکیوں کو کم کر رہی ہے۔
    حفیظ شاہد کی شاعری ’’زندگی آمیز بھی ہے اور زندگی آموز بھی ‘‘ کی عمدہ مثال اس غزل میں ملاحظہ فرمائیں :
    پریشانی میں بھی زندہ دلی سے کام لیتا ہوں
    بنامِ زندگی میں زندگی سے کام لیتا ہوں
    اندھیروں میں جہاں مِلتا نہیں ہے راستہ کوئی
    وہاں میں اپنے دل کی روشنی سے کام لیتا ہوں
    ہمیشہ آدمی سے رابطہ رکھا ہے یوں میں نے
    کسی کے کام آتا ہوں، کسی سے کام لیتا ہوں
    کسی دل کا اندھیرا دُور کرنا ہو اگر مجھ کو
    محبت کی مقدّس چاندنی سے کام لیتا ہوں
    سلیقہ زندگی کا زندگی سے میں نے سیکھا ہے
    کوئی مشکل بھی ہو خندہ لبی سے کام لیتا ہوں
    پہنچنے کی کسی منزل پہ میں جلدی نہیں کرتا
    سفر کوئی ہو آہستہ روی سے کام لیتا ہوں
    مرے مسلک میں دھوکہ دوستوں سے کُفر ہے شاہدؔ
    شکایت بھی اگر ہو دوستی سے کام لیتا ہوں
    غزل کے یہ اشعار مروجہ روش سے جدا ، خاص حفیظ کے لہجے اور اُسلوب میں ہیں ۔ایسامنفر د آہنگ جسے بعد میں ان کے شاگرد یاور عظیم‘ اظہر عروج اور دیگر نے اپنایا اور اپنی شعری ریاضت و مشقت سے بامِ عروج کی طرف محوِ سفر ہیں ۔
    حفیظ شاہدؔکا شمار اُردو غزل کے توانالب و لہجے کے شعراء میں ہوتا ہے ۔ حفیظ شاہدؔ کی غزل گوئی پر چند مثالوں کے ساتھ اظہارِخیال کا مقصدصرف یہ ہے کہ حفیظ شاہد نے اُردو غزل کو توانائی بخشنے کے لیے ۵۰ سالوں میں ‘چھ شعری مجموعوں میںشامل ۶۰۰ غزلوں کے ذریعے کٹھن سفر طے کیا ہے ۔حفیظ شاہد ؔنے چند نظمیں بھی کہیں ۔ چند ایک شائع بھی ہوئیں لیکن حفیظ شاہد ؔنے مجموعی طور پر اپنے کسی مجموعے میں اور بالعموم تعارف میں نظم کی طرف کوئی خاص میلان نہیں رکھا ۔
    حفیظ شاہد کو اعلیٰ فطری اوصاف کے ناطے جھوٹ ، نفرت ، بغض اور منافقت سے سخت نفرت تھی ۔ لیکن منفیعتاور پراگندگی و فطرتی میلان سے انسان کہاں باز آتا ہے ۔ حفیظ شاہد ؔنے اپنے ماحول میں ایسے دوستوں کو دیکھا ہے جو تیسرے درجے کے مفادات کی خاطر مکروہ منافقت پر اُتر آتے ہیں اور پھر منافقت سے کھلی دشمنی کی راہ پر چل پڑتے ہیں۔ ایسے گندے معاشرے میںپراگندہ ذہنیت کے حامل لوگ جا بجا ملتے ہیں ۔حفیظ شاہدؔ نے ایسے منافق دوستوں کواپنی شاعری میں آئینہ دکھایا ہے۔چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :
    زباں پہ اُس کی رہا دوستی کا دعویٰ بھی
    سلوک اس کا مرے ساتھ ناروا بھی رہا
    ………
    دشمنوں سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں ہم حفیظؔ
    بھول کر ہم آ گئے تھے دوستوں کے شہر میں
    ………
    نہ جانے دوست مرے، کیوں ہوئے مرے دشمن
    امیر ہوں نہ کوئی تخت و تاج رکھتا ہوں
    بے مرحلہ در مرحلہ رودادِ مسافت
    انجامِ سفر اصل میں آغازِ سفر ہے
    حفیظ شاہدؔ اُردو غزل کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں ۔ اُردو غزل کے سفر میں حفیظ شاہدؔ کا حوالہ بطور اُردو غزل کا معتبر اور مضبوط شاعر کے طور پر اُردو ادب کی تاریخ میں شمار ہوگا ۔بلاشبہ حفیظ شاہد جدید اُسلوب ِغزل کے نمائندہ اور منفرد لہجے کے شاعر ہیں۔ جن کو فکر و فن، خیال و ہنر اور جذبہ و پیرائیہ اظہار کی رعنائیاں ودیعت ہوئی ہیں۔ جن کی غزلیات کے سات مجموعے منصہ شہود پر آ کر اہلِفکر و بصیرت و صاحبانِ علم و حکمت اور نقادانِ شعر و سخن سے داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔ حفیظ شاہدؔ کی غزل میں صداقت کے پھول مہکتے اور انسانی زندگی کے احساسات چمکتے ہیں۔ حفیظ کی غزل میں مٹھاس ہے اور تغزل کی نکہت ہے۔منتخب اشعار سے لطف اُٹھاتے ہیں:
    کچھ نئے منظروں میں ڈھلتی ہے
    زندگی رنگ جب بدلتی ہے
    نرم و نازک سی اک کلی دیکھو!
    کیسے کانٹوں کے ساتھ پلتی ہے
    (سفر روشنی کا)
    پریشانی میں بھی زندہ دلی سے کام لیتا ہوں
    بنامِ زندگی میں زندگی سے کام لیتا ہوں
    ہمیشہ آدمی سے رابطہ رکھا ہے یوں میں نے
    کسی کے کام آتا ہوں کسی سے کام لیتا ہوں
    (چراغِ حرف)
    ہم اُن سے وفائوں کا ثمر مانگ رہے ہیں
    ناداں ہیں کہ پانی سے شرر مانگ رہے ہیں
    اک اشک بھی آنکھوں کے سمندر میں نہیں ہے
    ہم خشک سمندر سے گہر مانگ رہے ہیں
    (مہتابِ غزل)
    جانے کیا بات ہے کہ میں تنہا
    محفلِ دوستاں میں رہتا ہوں
    کیا دریچوں کو بند کرنا ہے
    آندھیوں نے تو اب گزرنا ہے
    (یہ دریا پار کرنا ہے)
    اب مرے سامنے رہگزر اور ہے
    اک سفر کٹ گیا، اک سفر اور ہے
    تیرے چہرے پہ تحریر ہے اور کچھ
    لیرے لب پر کہانی مگر اور ہے
    (فاصلہ درمیاں وہی ہے ابھی)
    یہ زندگی ہے ایک حسین خواب کی طرح
    یہ زندگی ہے ایک کڑا امتحان بھی
    شاہدؔ مجھے یقین ہے فصلِ بہار میں
    بھر جائے گا گلوں سے مرا گلستان بھی
    (سورج بدل رہا ہے)
    الغرض حفیظ شاہد اُردو غزل کے روشن ماضی ، حال اور مستقبل کا نمایاں حوالہ ہیں ۔ حالیہ شمارہ میں ’’خصوصی گوشہ حفیظ شاہد ‘‘ شائع کیا جانے تھا ، لیکن تحریروںاور مواد کی فراوانی کے ساتھ ساتھ وقت کے تقاضے کو نبھاتے ہوئے نثری تحریروں کے ساتھ حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام بھی شائع کیا جارہا ہے ۔
    ٭
    (بحوالہ :شعوروادراک ، شمارہ نمبر6،(اپریل تا جون 2021ء)حفیظ شاہد نمبر ۔ اداریہ (اپنی بات ) مدیر کے قلم سے …)
    ٭٭٭

    muhammad yousuf waheed
  • محمد یوسف وحید کی عمدہ تحقیقی پیش رفت …’’خان پور کا اَدب ‘‘

    محمد یوسف وحید کی عمدہ تحقیقی پیش رفت …’’خان پور کا اَدب ‘‘

    محمد یوسف وحید کی عمدہ تحقیقی پیش رفت …’’خان پور کا اَدب ‘‘
    تبصرہ :یاور عظیم (خان پور)

    برادرِ عزیز یوسف وحید سے شناسائی قریباً2004 ء میں ہوئی۔ جب ہم ترقیِ تعلیم کالج (خانپور)میں زیرِ تعلیم سمجھے جاتے تھے۔ یوسف وحید اس وقت ایک اسکول میں پڑھاتے تھے۔ ہماری شام کے وقت سیٹلائٹ ٹائون خانپور کے گراونڈ میںنشستیں ہوتیں۔ ان نشستوں میں مرزا حبیب، اظہر عروجؔ، اور کبھی کبھار جام عرفان (جو کامرس کالج میں پڑھاتے ہیں) وغیرہ شریک ہوتے۔ جب دوست شام کو جمع ہوتے تو روٹین کی گپ شپ کے ساتھ اپنی غزلیں، نظمیں، شعر یا نثری تخلیقات دوستوں سے شیئر کرتے۔ ان پہ جہاں داد و تحسین ملتی وہیں کُھل کر تنقید کا سامنا بھی ہوتا۔
    خان پور ی ادیبوں کی اس محفل میں اپنی ایک الگ سوچ رکھنے والے محمد یوسف وحیداس شہر کی ادبی اور تہذیبی فضا کو بحال کرنا چاہتے تھے۔ وہ رفتگاں کی عظمت کے اعتراف اور موجودگاں کی قدر دانی کے ساتھ آئندگاں کی ایک کھیپ تیار کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے اپنے لیے ایک ایسا راستہ چننے کی تیاری کر لی تھی جو محض ذاتی تشخص کو اُجاگر نہیں کرتا بلکہ اس کا اختتام غمِ ملت اور غمِ معاشرہ کی منزل پہ ہوتا ہے۔ وہ اقبال کے اس شعر کی عملی تصویر بننے چلے تھے :
    فرد قائم ربطِ ملت سے ہے ، تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں

    محمد یوسف وحید نے خانپور کی ادبی زمین کی آب یاری کاآغاز علمی، ادبی اور تعلیمی رسالہ ’’بچے من کے سچے ‘‘ کے اجرا سے کیا۔ اس رسالے کی مجلسِ ادارت و مشاورت میں اگرچہ مجھ سمیت مذکورہ بالا احباب کی شمولیت تھی۔ البتہ یہ آئیڈیا خالص یوسف وحید کا تھا۔ کچھ احباب دامے، درمے،سخنے اس رسالے کی ترویج و اشاعت میں حصہ لیتے رہے اور یہ سلسلہ کم و بیش آج بھی جاری ہے۔

    Khanpur Ka Adab


    2004ء سے لے کر2020ء تک خانپور کی ادبی فضا میں کئی خوش گوار تبدیلیاں ہوئیں۔ اس شہر کی ادبی تاریخ میں بہت سے اہم موڑ آئے۔ ہم یہاں ان واقعات کی جھلکیاں پیش کر رہے ہیں۔ تاکہ آپ کے سامنے ایک دفعہ اس تسلسل کو لایا جا سکے جس کی تازہ کڑی خان پور کی ادبی تاریخ پر مشتمل یہ کتاب ’’خان پور کا اَدب ‘‘ بھی ہے۔
    ۱۔خان پور میں جہاں الوحید ادبی اکیڈمی،بزمِ راز (کچاری)، بزمِ ادراک،تانگھ اَدبی سنگت، ارشد اَدبی سنگت اور عالم اَدبی فورم و دیگر جیسی نئی ادبی تنظیموں کا قیام عمل میں لایا گیا، وہیں کچھ پرانی تنظیموں کو جیسے ’’معارف‘‘ وغیرہ کواز سرِ نو فعال کیا گیا۔
    ۲۔ مشاعروں اور ادبی نشستوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ ان میں دوسرے شہروں سے آئے ہوئے معزز مہمانوں نے بھی شرکت کی۔
    ۳۔ بچوں میں کتابیں اور رسائل خرید کر پڑھنے اور تحریریں لکھنے کے رجحان میں اضافہ ہوا۔
    ۴۔ اس دوران انفرادی حیثیت میں نیز مختلف پلیٹ فارمز سے رسا ئل، کتابیں چھاپی گئیں اور ان کی رونمائی و ترسیل کا اہتمام کیا گیا۔
    ۵۔ سرکاری تعلیمی اداروں اور تحصیل انتظامیہ میں کچھ ادب ناشناس لوگوں کی اَجارہ داری تھی۔ یہ جوہرِ سخن سے بے بہرہ، شرارتی اور متعصب لوگ سالہاسال سے اپنی رکاکت کا مظاہرہ کرتے آئے تھے۔ مذکورہ بالا خوش گوار تبدیلیوں کا اثر اُن افرادپر بھی ہوا۔ ان میں سے کچھ تخریبی عناصر راہِ راست پہ آنے لگے۔ اور کچھ ریٹائر ہو کر ہماری جان چھوڑ گئے۔
    ۶۔ اس دوران خان پور اور قرب وجوارکے کچھ سپوت تعلیمی وتحقیقی میدان میں آگے بڑھے۔ خان پور کی علمی و ادبی شخصیات اور ادبی تاریخ پہ جو مقالے لکھے گئے، ان کی تفصیل یہ ہے:
    1۔خانپور میں اُردو غزل کی روایت، از:نذیراحمد بزمی(2017)
    2۔خانپور میں اُردو نعت گوئی،از: رانا نصر اللہ (2017)
    3۔ خورشید ٹمی کی افسانہ نگاری،از:امجد علی ڈھلوں(2017)
    4۔ عبد الرحمن آزاد کے کلام کی تدوین، از:زبیر جہانگیر(2019)
    5۔مجاہد جتوئی کے تحقیقی کام کا تقابلی جائزہ،از: شہباز نیرؔ(رحیم یار خان)
    6۔ خانپور میں غزل کے نمائندہ شاعر،حفیظ شاہد کے فن و شخصیت پہ مظہر عباس نے مقالہ2007ء میں لکھا، لیکن یہ مقامی نہیں تھے۔
    ۷۔خانپور سے ادبی رسائل اور کتابوں کی اشاعت، ادبی تنظیموں کے قیام، ماہانہ اور سالانہ نشستوں اور مشاعروں کے انعقاد، ایم فل اور دیگر مقالوں کی تکمیل، تعصب کو بالائے طاق رکھ کر فروغِ ادب کی کوششیں، یہ سب وہ عوامل تھے جن سے ایک مدت بعد بڑے بڑے ادبی مراکز کی چمک دمک میں ہمارے شہر کا کھویا اور دھندلایا ہوا ادبی تشخص بڑی حد تک بحال ہوا۔
    ۸۔ اس دوران مجاہد جتوئی نے ’’دیوانِ فرید بالتحقیق، سیفل نامہ بالتحقیق اور گلزارِ خرم‘‘ کی تکمیل و اشاعت سے تحقیق و تدوین میںایک نئے باب کا اضافہ کیا۔
    یہ سب تبدیلیاں خانپور کی ادبی فضا کو اس نہج پر لے آئی تھیں کہ اب اس بات کی ضرورت محسوس کی جانے لگی کہ خانپور کی غزل، نعت اور کچھ شخصیات پہ الگ الگ کام ہو جانے کے بعد ایک ایسا کام کیا جائے جس میں خانپور کی مجموعی ادبی تاریخ بالخصوص خانپور میں نثری ادب کی تاریخ پہ کام سامنے لایا جائے۔ یہ بیڑا اُٹھایا ہمارے حوصلہ مند دوست محمد یوسف وحید نے، جو ’’خانپور کی مختصر ادبی تاریخ‘‘ کے نام سے اپنا یہ کام رجسٹر کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ادھر بے ساختہ الطاف حسین حالی کا شعر یاد آ رہا ہے۔
    یارانِ تیز گام نے منزل کو جا لیا
    ہم محوِ نالۂ جرسِ کارواں رہے
    محمد یوسف وحید کی یہ تحقیقی کاوش جہاں اُن کی صلاحیتوں کا ایک نیا رُخ سامنے لے کر آتی ہے‘ وہیں اس بات کی غمازی بھی کرتی ہے کہ ہم مستقبل میں اُن سے اس حوالے سے مؤثر اور مبسوط تحقیقی کام کی توقع کر سکتے ہیں۔ ان کی زیرِ نظر کتاب میں خانپور کی ادبی تاریخ میں شامل سینکڑوں ناموں تک رسائی ملتی ہے۔ ان کی کتابوں اور ادبی کارناموں سے آگاہ ہونے کاموقع ملتا ہے۔ ادبی ماحول کی آبیاری میں خانقاہوں کا مؤثر کردار نظر آتا ہے۔ اس کتاب سے ہمیں یہ علم ہوتا ہے کہ بہت سے ایسے باہمت ادیب تھے جو ادبی مراکز سے دور اس چھوٹے سے شہر میں بڑی جانفشانی سے علم و ادب کے چراغ روشن کر رہے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد کتنے ہی ایسے لوگ تھے جومختلف قومی زبانوں سے تعلق ہوتے ہوئے اُردو زبان و ادب کی پرورش اور پرداخت میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

    khanpur ka adab book


    اس کتاب کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں یہ علاقہ لسانی اورتہذیبی حوالے سے کتنا غیر متعصب رہا ہے۔ خواجہ فریدؒ کے بھائی خواجہ فخر جہاں ؒنے فارسی میں شاعری کی۔ خواجہ فرید ؒ نے سرائیکی کے ساتھ اُردو میں بھی شاعری کی۔علامہ سیّد محمد فاروق القادری (مرحوم) نے مذہب، اخلاق اور الہٰیات پہ گراں قدر نثری تصانیف چھوڑی ہیں۔ حفیظ شاہد ؔ اگرچہ پنجابی تھے مگر انھوں نے اُردو غزل کی نمائندگی کی اور ایک ضخیم کلیات ’’ختمِ سفر سے پہلے‘‘اپنے پرستاروں کو دان کر گئے۔ موجودہ عہد میں خواجہ غلام قطب الدین فریدی، مجاہد جتوئی، مرزا حبیب گو کہ سرائیکی ہیں لیکن ان کی اُردو میں خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے علاقے میں امن و آشتی، بھائی چارے اور باہمی ہمدردی کی فضا تھی۔ اس فضا کو بنانے میں یہاں کی خانقاہوں کا اہم کردار رہا۔ یہاں کے لوگ بھی عموما ً ًملنسار اور محبت کرنے والے ہیں۔ چند متعصب اور تہذیب کُش لوگوں سے قطعِ نظر یہ علاقہ محبت کرنے والوں کا ہے۔
    جہاں یہ کتاب یوسف وحید کی ادبی زندگی اور خانپور کی ادبی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے وہیں اس میں کچھ تحقیقی فروگزاشتیںاور کوتاہیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں سنونِ پیدائش غائب ہیں تو کہیں سنونِ وفات کانشاں نہیں ملتا، اور کہیں دونوں ہی ندارد ہیں۔ کسی جگہ تصنیف شدہ کتب میں تراجم کو شامل کر دیا گیا ہے تو کہیں تراجم میں کسی کی تصنیف شامل ہو گئی ہے۔ بعض مصنفین کی مکمل کتابوں کی تعداد اور اسماء کا ذکر نہیں ملتا۔ ایک نووارد ِ ادب کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ انھوں نے پندرہ غزلیں کہی ہیں۔ کسی سے اصلاح نہیں لی اور تُک بندی تک محدود ہیں۔ ان کے کلام کا نمونہ بھی دیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک اس نووارد ِادب کا تذکرہ اور اس کا نمونہ ء کلام تمام تر شفقت اور ہم دردی کے باوجود اس قابل نہ تھا کہ کتاب کا حصہ بنایا جاتا۔


    بات کچھ یہیں ختم نہیں ہو جاتی یوسف وحید نے اس کتاب میں کچھ معروف ناموں کے نمونہ ء کلام میں ایسے اشعار شامل کیے ہیں جو ہمارے نزدیک اس تُک بندی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے جس کا ہم نے اوپر تذکرہ کیا ہے۔ یہ (نام نہاد) اشعار ایسے ہیں کہ ان میںنہ صرف وزن کے مسائل ہیں بلکہ معنی بھی کچھ اخذ نہیں ہوتا۔ اب اس کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں یا تو وہ معروف نام ہی اس قبیل کی شاعری فرماتے ہیں جسے عروضی بندش سے کوئی سروکار نہیں یا یوسف وحید نے ان کا انتخاب و اندراج کرتے ہوئے ان کو عروضی کسوٹی پر نہیں پرکھا۔یعنی فراہم کردہ درست اشعار کو غلط لکھ دیا، یا کمپوزر نے اگر ایسا کیا تو اس کی اصلاح نہ کی جا سکی۔
    ہم جانتے اور مانتے ہیں کہ ہر محقق کا ماہرِ علمِ عروض ہونا ضروری نہیں۔ تاہم اگر ہو تو اچھا ہے۔ خاص کر جب آپ کے تحقیقی کام میں جابجا ایسے موڑ آتے ہوں کہ آپ کو شعر کے اَوزان اور اس کی خوبیوں سے واسطہ پڑتا ہو۔ اگر آپ عروض نہیں بھی جانتے تو آپ کو چاہیے کہ اپنی تحقیق کے ان حصوں میں کسی کی مدد لیں۔ ایسا تو نہ ہو کہ کوئی شخص جو سرے سے شاعر ہی نہیں اس کو آپ صرف اس کے کہے پر شاعر مان کر ادبی تاریخ کا حصہ بنا دیں۔ میں یہاں کچھ معروف ناموں کا ذکر کر سکتا ہوں لیکن اس سے ایک طولانی بحث شروع سکتی ہے جس کا متحمل کوئی شاعر نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا یہ کام محققین ہی کے لیے رہنے دیتے ہیں۔
    خیر یہ کچھ باتیں برادرِ عزیز، یوسف وحید کی توجہ مبذول کرانے کے لیے کر دی ہیں۔ہمارے اس دوست میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ تو اوائلِ عمر سے ہی تھا۔وہ اپنی صلاحیتوں کووقت کے ساتھ ساتھ بروئے کار لاتے رہے ہیں۔ الوحید ادبی اکیڈمی کا قیام، بچوں کے لیے مجلّہ ’’بچے من کے سچے‘‘کی متواتر اشاعت، حال ہی میں رسالہ’’شعور و ادراک‘‘ کا اجرا، بہاولپور کے نثری و شعری ادب پر مشتمل کتاب ’’ گلدستہ ٔ ادب ‘‘ ، قائدِ اعظم کے فرامین اور قائد کوئز، اور پھر ’’خانپور کی مختصر ادبی تاریخ‘‘ یہ ہمارے شہر کے اس سپوت کی گوناگوں ادبی جہات کا اشاریہ بھی ہے اور مستقبل میں ان سے بڑھ کر موقر اور مبسوط کاموں کی بشارت بھی۔ ویسے بھی ہم میں سے کچھ لوگ ایسی پرفیکشنسٹ اپروچ کے مالک ہوتے ہیں کہ ساری زندگی ان کی ایک کتاب منظرِ عام پر نہیں آتی۔محمد یوسف وحید معیار اور مقدار دونوں کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی شخصیت کا مثبت اور طاقتور پہلو یہ ہے کہ وہ کم سے کم وسائل میں، کم سے کم وقت میں بہتر کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ میں ایک دوست، ایک شاعر، اور ایک استاد کی حیثیت سے خانپور کی ادبی فضا میں نئے رنگ بکھیرنے والی اس کتاب کا خیر مقدم کرتا ہوں اور برادرِ عزیز، یوسف وحید کو اس کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ایک برجستہ شعر ان کی نذر کرتا چلوں:
    ریت میں پھول کھلانے کا ہنر جانتے ہیں
    یہ مرے شہر کے کچھ اہلِ ہنر جانتے ہیں
    ٭
    (بحوالہ :’’خان پور کا اَدب‘‘ ۔ تحقیق وتالیف : محمد یوسف وحید ، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ، 2021ء )
    ٭٭٭



    یاور عظیم

  • حیدر قریشی کا گلشنِ اَدب

    حیدر قریشی کا گلشنِ اَدب

    حیدر قریشی کا گلشنِ اَدب
    تحریر: محمد یوسف وحید
    (مدیر: شعوروادراک خان پور )

    شہر کی گلیوں نے چومے تھے قدم رو رو کر
    جب ترے شہر سے یہ شہر بدر آئے تھے
    حیدرقریشی ہمہ جہت ادیب اور شاعرہیں ۔وہ بیک وقت ماہیا ، تحقیق و تنقید ، خاکہ ، افسانہ ، انشائیہ اور سفر نامہ نگار ہیں ۔ اس کے علاوہ حالاتِ حاضرہ پر مضمون نگاری کے ساتھ یاد نگاری کے حوالے سے بھی بھر پور اور عمدہ کام کر چکے ہیں ۔حیدر قریشی کا اہم کام اُردو ماہیا کے حوالے سے تحقیقی،تنقیدی اور تخلیقی ہر لحاظ سے بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔
    حیدر قریشی کا بنیادی تعلق خان پور اوراُن کے آبائو اجداد کا تعلق خان پور کے مضافات میں موجود اہم تاریخی ، ادبی اور روحانی مرکز گڑھی اختیار خان سے ہے ۔ حیدر قریشی کی زیرِ ادارت ادبی پرچہ ’’ جدید ادب ‘‘بھی شائع ہوا جس کے اوّلین کچھ شمارے خان پور اور بعد ازاں جرمنی سے جاری ہو ئے ۔
    گزشتہ سال دسمبر 2020ء میں حید رقریشی کے ۵۰ سال مکمل ہو چکے ہیں ۔ اسی مناسبت سے حیدر قریشی کے ۵۰ سالہ ادبی سفر پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فروغِ علم و ادب کے تحت الوحید ادبی اکیڈمی خان پور کے زیرِ اہتمام گزشتہ سال علمی ،ادبی اور ثقافتی مجلہ ’’ شعوروادراک ‘‘کا شمارہ نمبر ۴۔( اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۰ء ) خاص شمارہ ’’حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر ‘‘ ناچیز کی زیرِ ادارت شائع ہوچکا ہے ۔جس میں حیدر قریشی کی باوقار شخصیت اور فن کے حوالے سے جملہ موضوعات پر پاکستان بھر کے عمدہ قلم کاروں کی تخلیقات، یادیں اورباتیں شامل ہیں ۔حیدر قریشی کے فن و شخصیت پر مشتمل یہ اپنی نوعیت کا نہایت عمدہ ، جامع اور بھر پور خاص نمبر ہے ۔
    یہ مختصر مضمون ’’ حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر ‘‘ میں شامل ہے جس میںمختصر تعارف و تذکرہ اور اشعار کی صورت میںیاد ِ ماضی کی جھلکیاں پیش کی گئی ہیں ۔
    ٭

    Haidar Qureshi


    پچاس سال علم و اَدب کی ترویج و اَشاعت کے لیے وقف کرنے والے اُردو ، سرائیکی کے معروف شاعر ، نقاد، محقق ، ادیب و مدیر حیدر قریشی کوگزشتہ سال دسمبر 2020ء میں اپنی اَدبی زندگی کے 50سال پورے ہونے پر تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔
    کسے خبر تھی کہ آج سے پچاس سال قبل ایک عام سی غزل سے اَدبی دنیا میں داخل ہونے والے نو آموز نو جوان غلام حیدر ارشد جو اپنی مستقل مزاجی ، غیر متزلزل طبیعت اور سچے جذبے و لگن کے ساتھ ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے اَدبی دنیا میں حیدر قریشی کے نام سے معروف ومتعارف ہوا ۔
    حیدر قریشی نے اَدبی دنیا میں قدم رکھنے کے ابتدائی سالوں میںمختلف علمی و اَدبی موضوعات پر ترتیب و تدوین کا کام کیا ۔ جس میں اُردو کے ساتھ ساتھ سرائیکی زبان میں بھی مقامی و غیر مقامی اَدب کی ترویج و اَشاعت شامل رہی ۔
    حیدر قریشی نے باقاعدہ شاعری کا آغاز 1971ء میں کیا ۔ ابتدا ء میں ہفت روزہ ’ مدینہ ‘ بہاول پور میں چند غزلیں شایع ہوئیں ۔ 70ء کی دہائی میں قائم ہونے والی اَدبی تنظیم ’ بزمِ فرید ‘ میں پہلی اُردو غزل پیش کی ،بے حد حوصلہ اَفزائی ہوئی ۔
    خان پور کی اَدبی روایت کو تین اَدوار میں تقسیم کیا جائے تو اس کی ترتیب کچھ یوں بنتی ہے ۔
    (۱) ۔( 1901ء تا 1947ء )اُنیسویں صدی کے آغاز اور قیامِ پاکستان سے قبل کے دَور میں علم و اَدب کی نام ور ، قد آور شخصیات کا تعلق خان پور ایسی مر دم خیز دھرتی سے رہا ، جن میں خواجہ غلام فرید، محسن خان پوری ، خواجہ محمد یار فریدی ، عبد الرحمن آزاد، علامہ ظہور احمداورسید مغفور القادری کے نام شامل ہیں ۔
    (۲) ۔ ( 1948ء تا 1980ء ) دوسرے دَور یعنی قیامِ پاکستان کے بعد کے دَور میں محمد نواز خوشتر ججوی عباسی ، عارف عزیزی ، غلام رسول سندر ، امیر بخش حاذق ، عبد الرشید ، مرید حسین راز جتوئی ، عبد الرحیم خوشدل ، مجاہد جتوئی ، علی بخش سیف فریدی ،سید مسعود نقوی ، گلزار نادم صابری ، امان اللہ بیدم ، حکیم شیر محمد خیال ، رفیق راشد ، اعجاز امرتسری ، منور نقوی ، حفیظ شاہد ، اُلفت کریم اُلفت ، غلام مصطفی بیتاب ، اَسد حسین اَزل ، آسی خان پوری ، نردوش ترابی ، صفدر صدیق رضی ،رشید اَیاز، شمسہ اَختر ضیاء ، قیس فریدی ، حیدر قریشی ، خواجہ غلام قطب الدین فریدی ، جمیل محسن ، زاہد شمسی ، رائو رحمت محفوظ ، قاصر جمالی ، مرید حسین راغب ، فرحت نواز ، شیما سیال ، ریحانہ یاسمین و دیگر مرد و خواتین کی مختلف علمی و اَدبی رسائل ا ور اخبارات میں شایع ہونے والی تخلیقات کے حوالہ جات موجود ہیں ۔
    (۳) ۔ 1981ء تا 2020ء ۔ تیسرے دَور میں متعدد جید اورنئے لکھنے والوں کے نام جو قابل ہیں ، ان میں سعید شباب ، نصر ت جہاں ، شبنم اعوان ، ڈاکٹر نذر خلیق ، فیض احمد اَسیر ، رفیق احمد صدیقی ، کریم بخش شعیب ، ایوب ندیم ، اعظم قادری ، ابراہیم دین پوری ، سراج احمد قریشی ،رشید شاہد ، اسد اللہ اَسد ، عامر ملک ، ندیم احمد شمیم ، امان اللہ ارشد ، اشرف دھریجہ ، صادق جاوید ، عامر بھایا ، اظہر عروج ، یاور عظیم ، آرب بخاری ، طارق امین یازر، معظمہ شمس تبریز ، سعدیہ وحید اور راقم شامل ہیں ۔
    تاریخ کے ہر دَور میںخصوصاً شعرو اَدب کے حوالے سے اس خطے کو دبستان کا درجہ حاصل رہا ہے ۔ یہا ں کے اُدبا ء و شعرا ء نے عالمی شہرت حاصل کی ۔ بہت سے لوگوں نے شعر واَدب کے ساتھ ساتھ دیگر شعبہ ہائے زندگی میں بھی کار ہائے نمایاں سر اَنجام دیے ہیں اور دنیا بھر میں اس خطے کا نام روشن کیا ہے ۔
    اِسی سلسلے کی اَہم کڑی گذشتہ ۵۰ سالوں سے تحقیق ، تنقید،غزل ، ماہیا اور دیگر متعدد جہتوں میں کار ہائے نمایاں سر اَنجام دینے والے ’ حیدر قریشی ‘ جن کا دل آج بھی اپنے آبائی شہر خان پور کی سوندھی خوش بومیںرَچے جذبوں سے لبریزہے ۔ جن کی ہر تحریر سے وطن اور دھرتی کی خوش بو محسوس ہوتی ہے ۔ دھرتی کی خوش بو میں بسا ایک شعر ؎
    گلابوں کی مہک تھی یا کسی کی یاد کی خوشبو
    ابھی تک روح میں مہکار کا اَحساس باقی ہے
    حیدر قریشی نے اَدبی زندگی کے ساتھ ذاتی زندگی بھی بڑی بھر پور گزاری ہے ۔ کتاب میر ی محبتیں میں فیملی کے اَفراد اور دیگر ہم عصر اَحباب کے نام منسوب اشعار میںکچھ یوں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں ۔
    برگد کا پیڑ ( ابا جی )
    گلابوں کی مہک تھی یا کسی کی یاد کی خوشبو
    ابھی تک روح میں مہکار کا اَحساس باقی ہے
    مائے نی میں کِنوں آکھاں ( اَمی جی )
    ماں ! ترے بعد سے سورج ہے سو ا نیزے پر
    بس تری ممتا کا اِک سایہ بچاتا ہے مجھے
    ڈاچی والیا موڑ مُہاروے ( دادا جی )
    ایک اَن دیکھے کی سوچوں میں گھرا رہتا ہوں میں
    ُاُس کی آنکھیں اُس کا چہرہ سوچتا رہتا ہوں میں
    مظلوم متشدد ( ناناجی )
    زندگی ! دیکھ بجھتے ہوئے لوگ ہم
    بزمِ جاں میں چمکتے رہے رات بھر
    مصر ی کی مٹھاس اور کالی مرچ کا ذائقہ ( تایا جی )
    نظر سے دور ہے لیکن نظر میں ہے پھر بھی
    کہ عکس اپنے مرے آئنوں میں چھوڑ گیا
    رانجھے کے ماموں ( ماموں ناصر )
    ہر ا سکتا نہ تھا ویسے تو کوئی بھی مگر مجھ کو
    کسی کی کامیابی کے لئے ناکام ہونا تھا
    محبت کی نمناک خوشبو ( آپی )
    بنی ہوئی ڈھال وہ میری خاطر حیدر
    مرے مخالف کو جو کماں جیسی لگتی ہے
    پسلی کی ٹیڑھ ( مبارکہ حیدر )
    پھول تھا وہ تو میں خوشبو بن کے اس میں جذب تھا
    وہ بنا خوشبو تو میں بادِ صبا ہوتا گیا
    اُجلے دل والا ( چھوٹا بھائی )
    لڑائی جھگڑا تو حیدر نہ تھا مزاج ان کا
    وہ گھونٹ زہر کے بس پی کے رَہ گئے ہوں گے
    زندگی کا تسلسل ( پانچوں بچے )
    میں نے اپنی دیانت کی سب دولتیں اپنی اَولاد کو دیں فقط
    اور باقی عزیزوں کو صرف اپنے حصے کا گھر لکھ دیا
    اُردو اَدب کے نوبل پرائز ( میرزا اَدیب )
    خاموشیوں کے لب پہ کوئی گیت تھا رَواں
    گہری اُداسیوں کے کنول جھومتے رہے
    ہم کہ ٹھہرے اَجنبی ( فیض احمدفیض )
    چند لمحے وہ ان سے ملاقات کے
    میری سانسوں میں برسوں مہکتے رہے
    عہد ساز شخصیت ( ڈاکٹر وزیر آغا )
    جو اپنی ذات میں سمٹا ہوا تھا
    سمندر کی طرح پھیلاہوا تھا
    ایک اَدھورا خاکہ ( غلام جیلانی اَصغر )
    مجھے ہر گنہ کی جز ملی
    وہ شرافتوں کی سزا میں ہے
    بلند قامت اَدیب ( اَکبرحمیدی )
    تیری لگن میں تجھ سے بھی آگے نکل گئے
    تیرے مسافروں کو ٹھہرنا نہ آسکا
    صاف گو اَدیبہ ( عذرا اَصغر )
    ہم تہی دست آبروئے فقر
    سو د دے کر زیان مانگتے ہیں
    دوستی کا کمبل ( سعید شباب )
    جو دُعا کرتے تھے اُلٹا ہی اَثر ہوتا تھا
    تیری چاہت کی دُعا ربّ سے بچا لی ہم نے
    عاجزی کا اعجاز ( محمد اعجاز اَکبر)
    مر جھا چکے ہیں پھول تری یاد کے مگر
    محسوس ہو رہی ہے عجب تازگی مجھے
    میرا فیثا غورث ( طاہر احمد )
    خوشی کے لمحے لکھو ، عمر اضطراب لکھو
    نکالو وقت کبھی عشق کا حساب لکھو
    پرانے اَدبی دوست ( خان پور کے اَحباب )
    شہر کی گلیوں نے چومے تھے قدم رو رو کر
    جب ترے شہر سے یہ شہر بدر آئے تھے
    ٭
    (بشکریہ سہ ماہی شعوروادراک خا ن پور ۔ مدیر : محمد یوسف وحید ، شمارہ نمبر ۴ ، حیدر قریشی گولڈن جوبلی نمبر۔اکتوبر تا دسمبر ۲۰۲۰ء ،ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور )
    ٭٭٭

    Yousuf Waheed

    محمد یوسف وحید

  • قیس فریدی …شخصیت و فن

    قیس فریدی …شخصیت و فن

    ’’شعوروادراک‘‘ شمارہ نمبر( 3،2) میں شامل ’’خصوصی گوشہ قیس فریدی ‘‘ سے ایک مضمون
    قیس فریدی …شخصیت و فن
    تحریر : محمد یوسف وحید
    (مدیر : شعوروادراک ، خان پور)

    اللہ تعالیٰ نے قلبِ انساں کو مختلف آرزئوں اور خواہشات کا مرکز و منبع بنایا ہے ۔ یہی آرزوئیں اور خواہشات انسان کو زندگی بھر مائل بہ عمل رکھتی ہیں ۔ سرزمینِ بہاول پور ہمیشہ سے مردم خیز خطہ رہا ہے جس نے سینکڑوں عظیم شخصیات کو جنم دیا ہے ، جنہوں نے عزم و ہمت اور جہدِ مسلسل کے میدان میں اعلیٰ منا صب حاصل کیے اور تاریخ کے اَوراق پر گہر ے اَن مٹ نقوش چھوڑے ۔یہ زرخیر خطہ ابتدا ہی سے علمی ، اَدبی ، ثقافتی ، سماجی ، اقتصادی اور تہذیبی مرکز رہا ہے ۔ اسی دھرتی پر دریائے سرسوتی ، گھاگرا ، اور ہاکڑہ سینکڑوں سال بہتے رہے اور زندگی کے گیت گنگناتے رہے ۔ تاریخی عظمت و صداقت ، تہذیب و ثقافت اور علم وعرفان کے ساتھ شعر و اَدب میں بھی یہ علاقہ اپنی ایک مخصوص پہچان رکھتا ہے ۔ اسی دھرتی نے خواجہ غلام فریدؒ ، حافظ نصیر الدین خرمؒ ، خواجہ محمد یار فریدیؒ ، حکیم عبد الحق شوقؒ ، محسن خان پور یؒ ،عبد الرحمن آزادؒ ، ظہور نظرؒ ، شہاب ؒدہلوی ، حیاتؒ میرٹھی ، سید آلِ احمدؒ ، نقویؒ احمد پوری ، حفیظ شاہدؒ ، قاصر جمالیؒ ،ایم عبد الواحد افغان، امان اللہ ارشد او ر دیگرسینکڑوں اُدبا و شعراء کو پہچان بخشی ۔

    Qais Fareedi


    اِسی سلسلے کی اہم کڑی ۶۰ کی دہائی سے شعرو اَدب کے سمندر میں غوطہ زن معروف شاعر قیس فریدی بھی اِسی روایت کے امین تھے ۔ قیس فریدی کا سلسلہ ٔ نسب سندھ میں آباد ہونے والی قدیم ترین قوم سو مرو سے تھا ، یہ نسلاً عرب تھے ۔قیس فریدی کے آبائو و اَجداد نے قصائی کا پیشہ اَپنایا ۔ قیس ؔ فریدی کے آبائو اَجداد ضلع رحیم یار خان کے اہم اور تاریخی مقام پتن منارا میں آبادہوئے ۔ یہ ضلع رحیم یار خان سے تقریباً ۱۰ کلومیٹر جنوب مشرق میں خشک دریائے ہاکڑا کے کنارے پر ہے ۔ بعد ازاں قیس فریدی کے خاندان نے ہجرت کرکے بستی سوائے آہنہ کو اپنا مستقل مسکن بنایا ۔ بقول قیسؔ فریدی :
    ’ ’ میرا خاندان پتن منارا سے ہجرت کرکے مختلف علاقوں میں تھوڑا تھوڑا عرصہ مقیم رہا ۔ بستی سوائے آہنہ ( کھائی خیر شاہ ) میں آکر مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ یہاں انہوں نے لگ بھگ پانچ ایکڑ زمین حاصل کی اور کاشت کاری سے منسلک ہوگئے ۔ ‘‘
    عظیم سرائیکی شاعرقیس فرید ی کے جدِ اَمجد کا نام باغ علی تھا ۔ قیس فریدی اپنے نانا فقیر بخش کے گھر قصبہ مئو مبارک میں پیدا ہوئے ۔ قیس فریدی کا اصل نام مرید حسین اور والد کا نام حاجی قطب الدین ؒتھا۔ قصبہ مئو مبارک اگرچہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے جہاں نامور بزرگانِ دین شیخ حمید الدین حاکم ؒ، عماد الدینؒ ، مخدوم روشن چراغؒ جیسے اولیا ء اور صوفیا ء اور سرائیکی زبان کے دو معروف شاعر مولوی لطف علیؒ اور مخدوم محمد بخشؒ بھی دفن ہیں ۔کبھی یہ قصبہ علمی و اَدبی اَعتبارسے بہت اہمیت کا حامل تھا لیکن یہ ایک پس ماندہ اور وسائل سے محروم دُور اُفتادہ علاقہ ہے ۔


    قیس فریدی کی میڑک کی سند پر تاریخِ پیدائش کے خانے میں ۱۹۵۰ء کا سن درج ہے ۔ ان کی والدہ گانمن مائی اپنے بیٹے قیس ؔ فریدی کی تاریخ پیدائش کے متعلق بتاتی ہیں : ’’میرا بیٹا مرید حسین قیس ؔ فریدی ۱۹۵۰ء کے لگ بھگ پیدا ہوا ‘ ‘۔
    قیس ؔ فریدی کی ابتدائی تعلیم کا سلسلہ گائوں کی مسجد سے شروع ہوا ۔ مولوی عبد الحق نے قیس ؔ فریدی کو قرآن مجید کی تعلیم دی ۔ بقول قیسؔ فریدی :
    ’’ میں دَس سال کا ہوا تو مجھے والد صاحب اپنے پاس سوائے آہنہ لے آئے اور مجھے مقامی پرائمری سکول میں داخل کروادیا ‘‘۔
    پرائمری کا امتحان پاس کرنے کے بعد گورنمنٹ مڈل سکول ( موجودہ ہائی سکول ) ججہ عباسیاں میں داخلہ لیا ۔ ۷۱۔۱۹۷۰ء میں میٹرک کا امتحان بطور پرائیویٹ اُمیدوار پاس کیا ۔ اس کے بعد دورانِ ملازمت فاضل اُردو کا امتحان پاس کیا ۔
    میٹرک کے بعد ۱۹۷۲ء میں محکمہ تعلیم میں بطور پرائمری سکول ٹیچر عملی زندگی کا آغاز کیا ۔ ۱۹۸۹ء میں ان کا تبادلہ گور نمنٹ لوانکم سکیم پرائمری سکول خان پور میںہوا اور بعد ازاں اسی ادارے سے ۱۹۹۲ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوگئے ۔
    قیس فریدی خان پور سے جس قصبے میں منتقل ہوئے اس کا نام مئومبارک ہے ۔ قیس فریدی انتہائی حَساس انسان تھے ۔قیس فریدی کا ذہن شکست و ریخت کے کئی مراحل سے گزرا ۔ قیس ؔ فریدی نے اپنی ملازمت کے دوران میں ہی معمولی سے مشاہرہ کے باوجودخان پور شہر میں ایک چھوٹا سا گھر بنوایا ۔


    قیس ؔ فریدی ایک غیر متعصب ذہن کے حامل شخص تھے ۔ قیسؔ نے ہمیشہ اپنے فن اور عمل سے پیار ، محبت اور اخلاق کا درس دیا ۔ لتا منگیشکر اور حکیم کنفیوشس پر اُن کی نظمیں قیسؔ کے غیر متعصب ، انسان دوست اور انسانیت سے محبت کرنے والے ذہن کی عمدہ دلیل ہیں ۔قیس فریدی کے فن و شخصیت کے حوالے سے مختلف علمی ، ادبی شخصیات کے تاثرات ملاحظہ فرمائیں :
    محکمہ تعلیم میں ۵۰ سالہ خدمات ، ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر، نامور ادیب و شاعر اور قیس فریدی کے نہایت قریبی دوست ایم عبد الواحد افغان کہتے ہیں :
    ’’ قیس فریدی ‘فکر و فن کے لحاظ سے بلند ترین مقام پر فائز تھے ۔ مگر اس برتری اور قابلیت کے ساتھ ساتھ وہ ایک نیک سیرت ، انسان دوست اور پاکیزہ دل و دماغ کے حامل شخصیت تھے ۔ قیس دلوں پر محبت کی بدولت حاکمیت کے قائل تھے ۔ہم بلاشبہ عجز و انکساری اور خلوص و محبت کی عمدہ دلیل کے لیے قیس فریدی بطور حوالہ پیش کرسکتے ہیں ‘‘۔
    معروف سیاسی ، سماجی دانشور ، رہنما سرائیکی تحریک ، ایڈیٹر ظہور دھریجہ کہتے ہیں :
    ’’قیس ؔ فریدی ایک بہت اچھے شاعر تھے لیکن اس سے بڑھ کر ایک اچھا انسان اور اس سے بڑھ کر ایک اچھا دوست تھا ۔ اخلاص قیس ؔ فریدی کی شخصیت کا بہت بڑا وصف تھا ‘‘۔
    سابق وائس پرنسپل،صدر شعبہ اُردو، گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج خان پور جاوید اقبال اظہر کہتے ہیں :
    ’ ’ قیس ؔ فریدی کی شخصیت میں سب سے نمایاں خوبی جو میں نے محسوس کی ہے وہ ان کا اخلاص ہے ۔ دوستوں سے بلا کے مخلص تھے ۔ نہایت شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے ۔ ان کا یہ عمل بناوٹی یا کھوکھلا نہیں بلکہ خالص اور تہہ دل سے ہوتا تھا ‘‘۔
    قیس ؔ غربت اور تنگ دستی کے باوجود ایک سیر چشم اور بے نیاز قسم کے انسان تھے ۔ کسی قسم کا طمع ، لالچ اُنہیں چھو کر نہیں گزرا تھا ۔ قیس ؔ فریدی کو موسیقی سے بھی ایک خاص رغبت رہی ۔ خاص دوستوں کی محفل میں گاتے بھی تھے اور صرف گاتے نہیں بلکہ بہت اچھا گاتے تھے ۔
    قیس ؔ فریدی کی شخصیت کا ایک اہم اور نمایاں عنصر ان کی عاجزی اور سادگی تھی ۔ مجموعی طورپر قیس ؔ فریدی خلوص و وفا سے بھر پور ساد ہ اور پروقار شخصیت کے مالک تھے ۔ انسان دوستی اور انسانیت سے محبت قیس ؔ فریدی کا ہمیشہ منشور رہا ۔ انہیں تہذیب و ثقافت اور ماں بولی سے فطری عشق تھا ۔
    فن کسی خطے کا محتاج نہیں ہوتا لیکن اَدبی فضا ، ماحول اور ثقافت فرد کی ذات میں چھپی تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز ضرور عطا کرتے ہیں ۔ قیسؔ فریدی بھی ان خو ش نصیب انسانوں میں سے ایک تھے جنہیں فطرت نے اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کا فن عطا کیا تھا ۔ قیسؔ فریدی نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار بچپن سے شروع کر دیا تھا جب وہ سکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ا پنی شاعری کے آغاز سے متعلق ایک جگہ لکھتے ہیں : ’ میں ۱۹۶۰ء سے شاعری کر رہا ہوں ۔ میں نے اُردو غزل سے ابتدا کی تھی ‘ ۔
    قیسؔ فریدی کی خوش نصیبی تھی کہ اُنہیں انعام اَسعدی جیسے اہلِ زبان اُستاد سے اصلاح کا شرف حاصل رہا ۔ ایسے صاحبانِ علم کی صحبت نے قیسؔ فریدی کے فنِ شعر گوئی کو عروج بخشا۔ ابتدائی اَدوار میں قیسؔ فریدی نے مختلف اَدبی و شعر کی محافل میں شریک ہو کر اپنا کلام سنانا شروع کر دیا ۔ قیسؔ فریدی کا کلام مقامی اخبارات و رَسائل میں بھی شائع ہونے لگا ۔ اُن کی پہلی دستیاب اُردو غزل ۲۹ ستمبر ۱۹۶۴ ء میں ہفت روزہ ’ انصاف ‘ بہاول پور میں شایع ہوئی جس کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں :
    مجھ کو وہ بندگی کاجنوں کر عطا کہ آج
    نہ میرا سر رہے نہ تیرا آستاں رہے
    اس کے بعد قیسؔ فریدی نے اُردو غزل اور نظم کے ساتھ سرائیکی زبان میں بھی شاعری شروع کر دی ۔ قیس ؔ فریدی نے سرائیکی زبان میں اتنا لکھا اور اتنا اچھا لکھا کہ سرائیکی شاعری ہی ان کی پہچان بن گئی ۔
    سرائیکی میں غزل کے ساتھ نظم ،دوہے ، گیت ، ماہیے ، آزاد نظم ، کافی اور بحر میں طبع آزمائی کی ۔ ان کا کلام روزنامہ ’ رہبر، کائنات ، انصاف‘ بہاول پور ، ’شہادت ‘ رحیم یار خان ، ماہنامہ اَدبی رپورٹ ‘ خان پور ، ماہنامہ ’ سچار‘ کراچی ، ہفت روزہ ’ الاستاد ‘ خان پور ، روزنامہ ’ جھوک‘ ، ہفت روزہ ’ کوک ‘ کراچی ،’ ایکسپریس ‘ رحیم یار خان ،’ نوائے وقت ‘لاہور اور ماہنامہ ’ عصائے کلیم‘ کوٹ مٹھن کے صفحات کی زینت بنتا رہا ۔
    قیس ؔ فریدی کے اَدبی سرمائے میں چھ سرائیکی شعری مجموعے ، اُردو غزلیں ، نظمیں ، ترتیب دیوان غلام فرید،خواجہ غلام فرید کی چند کافیوں کا ہندی ترجمہ ، گاگھر ( کلیاتِ قیس) ،نثر میں چند مضامین ، خطوط اور سرائیکی اصطلاحات و مترادفات پر ایک کتابچہ شامل ہیں ۔


    اس کے علاوہ11جون 1990ء کو پہلا سرائیکی اخبار ’’جھوک‘‘ شائع ہوا تو اس میںقیس صاحب مضامین بھی لکھتے اور روزانہ ان کا قطعہ شائع ہوتا رہا۔قیس فریدی کی بہت سے کتابیں ابھی غیر مطبوعہ ہیں ان کی ایک کتاب ’’گھاگھر‘‘ کے نام سے بزم ادراک خان پور نے شائع کی ہے۔
    کتابوں کا تعارف :
    (۱)ارداس :
    ’ ارداس‘ قیس ؔ فریدی کا اوّلین شعری مجموعہ ہے جو ۱۹۸۰ء میں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوا ۔ یہ تخلیقی شعری اظہار ممتاز اکیڈمی بھٹہ واہن ضلع رحیم یار خان کے پلیٹ فارم سے شایع ہوا ۔ سرائیکی غزلیات پر مشتمل اس مجموعے میں ابتدائی دور ۱۹۶۶ء سے ۱۹۷۸ء تک کا کلام شامل ہے ۔ ۸۸صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں کل ۶۸ غزلیں شامل ہیں ۔
    (۲) نمرو :
    ’ نمرو‘ قیس ؔ فریدی کا وہ شعری مجموعہ ہے جو ۱۹۹۲ء میں منظر ِ عام پر آیا ۔ اس میں ان کے ابتدائی عہد کا کلام شامل ہے ۔ جس کا دورانیہ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۶۶ء تک ہے ۔ یہ مجموعہ جھوک پبلشرز خان پور سے شائع ہوا ۔ اس کا انتساب شاعر نے اپنے بھائی محمد حسین رشدی کے نام کیا ہے ۔ باقی مجموعوں کی نسبت ’ نمرو‘ کی ایک امتیازی حیثیت یہ بھی ہے کہ اس میں قیس ؔ فریدی نے مختلف شعری اَصناف میں طبع آزمائی کی ۔ اس مجموعے میں حمد و نعت کے علاوہ ۱۳کافیاں سرائیکی ، ایک سندھی زبان میں ، ۶۳ڈوہڑے ،۲ گیت ، ایک قصیدہ ، ۸بحریے شامل ہیں ۔
    (۳) آمشام :
    ’ آمشام‘ قیس ؔ فریدی کے تیسرے شعری مجموعے کا نام ہے جو ۱۹۹۳ء میں جھوک پبلشرز خان پور سے شایع ہوا ۔ اس کا انتساب ڈاکٹر خورشید ملک اور غلام حسین کیفی کے نام کیا ہے ۔ اس مجموعے میں کل ۳۷ غزلیں شامل ہیں ۔ اس مجموعے میں قیسؔ کا فن اپنے عروج پر نظر آتا ہے ۔
    (۴) پرکھرا :
    ’ پرکھرا‘ قیسؔ فریدی کے تخلیقی سفر کے چوتھے پڑائو کا نام ہے ۔ ۵۴ سرائیکی آزاد منظومات اور ۲۲ قطعات پر مشتمل یہ مجموعہ ۱۹۹۵ء میں سرائیکی اَدبی مجلس بہاول پور کے پلیٹ فارم سے شایع ہو ا۔ اس کا انتساب منیر احمد دھریجہ ، ظہور احمددھریجہ اور حاجی سعید الرحمن مغل کے نام کیا گیا ہے ۔ قیس ؔ فریدی کی آزاد نظمیں عصرِ حاضر کے انسان کے کرب اور اَلمیے کا فن کارانہ اظہار ہیں ۔
    (۵) وَوڑ :
    قیس ؔ فریدی کے تخلیقی سفر کا مجموعی طور پر پانچواںمجموعہ ’ وَوڑ‘ ۲۰۰۲ء میں سندھا کڑہ اَدبی سنگت خان پور کے پلیٹ فارم سے شایع ہوا ۔ اس کا انتساب علامہ رفیق احمد اور ڈاکٹر محمد شکیل پتافی کے نام ہے ۔ اس مجموعے میں کل ۱۹ غزلیں شامل ہیں ۔ ’ آمشام ‘ اور ’ اَرداس‘ کے بعد یہ تیسرا غزلیہ مجموعہ ہے ۔ ’ وَوڑ ‘ کی غزلیں سلاست اور فراوانی کی بہترین مثالیں ہیں ۔
    (۶) چترانگ:
    قیس ؔ فریدی کا چھٹا اور آخری شعری مجموعہ ’ چترانگ‘ ۲۰۰۴ء میں نتارا گروپ آف پبلی کیشنز کراچی شایع ہوا ۔ اس کا انتساب میاں سجاد احمد ، اَختر عارف اور جام منیر اختر شاہین کے نام کیا گیا ہے ۔ کل ۱۷ نظمیں ، ۹ غزلیں اور ۲ قطعات شامل ہیں ۔ اس مجموعے میں زیادہ تر غزلیں اور نظمیں ۱۹۹۰ء کے بعد ۱۹۹۷ء تک لکھی ہوئی ہیں ۔ اس مجموعے میں قیس ؔ فریدی کی ایک اور صلاحیت کا اظہار بھی ملتا ہے وہ ہے منظوم ترجمہ نگاری ۔ انہوں نے مشہور ایرانی ترقی پسند شاعر کی فارسی کی ایک آزاد نظم کو سرائیکی میں منتقل کیا ہے ۔
    قیس ؔ فریدی کی اُردو شاعری:
    قیس ؔ فریدی بنیادی طور پر سرائیکی زبان کے شاعر تھے اور ان کے چھ شعری مجموعے بھی سرائیکی میں منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔ قیس ؔ فریدی کا اُردو شاعری سے متاثر ہونا اور اُردو میں شاعری کرنا فطری سی بات تھی ۔ ان کا اُردو کلام ان کی ابتدائی شاعری سے تعلق رکھتا ہے ۔اُردو زبان میں ان کا جو شعری سرمایہ محفوظ ہے اس میں ۲۲ اُردو غزلیں ، پابند نظمیں ، ۴ قطعات اور ایک نعت شامل ہے ۔ یہ سب اگرچہ کسی شعری مجموعے میں شامل نہیں لیکن مختلف اخبارات میں شایع ہوچکا ہے ۔
    اس کے علاوہ ایک غیر مطبوعہ نعت بھی موجود ہے جس کا پہلا شعر یہ ہے :
    از ازل تا بہ ابد نور ہے سارا تیراؐ
    چشمِ جبریل میں ہے قطبی ستارا تیراؐ
    قیس ؔ فریدی کی پہلی دستیاب غزل ہفت روزہ ’ انصاف ‘ بہاول پور میں ۲۹ ستمبر ۱۹۶۴ء میں شایع ہوئی ۔ غزل کا دوسرا شعر ان کی صلاحیتوں کا اظہار کر رہا ہے:
    مجھ کو وہ بندگی کا جنوں کر عطا کہ آج
    نہ میرا سر رہے نہ تیرا آستاں رہے
    ان کی پابند نظموں میں ’ آرزو طوفان ‘ ہے ، ’ اے مجاہد ‘ ، ’خطاب بہ مردِ مومن‘ خواجہ غلام فرید کے حضور میں ’ اے وطن‘ ، ’ اے نوجواں‘ ، ’ جنت کشمیر‘ اور’ علی گڑھ کے ہندو مسلم فسادات‘ شامل ہیں ۔ ان کی تمام کے موضوعات قومی اور اجتماعی فکر و اَحساس سے تعلق رکھتے ہیں جن میں کسی حد تک اِقبالؔ سے متاثر ہونے کا اَحساس ملتا ہے ۔ قیس ؔ فریدی کے شعری سرمائے میں ایک نعت بھی شامل ہے جو ۳ جنوری ۱۹۶۸ء کو ہفت روزہ ’ انصاف‘ بہاول پور میں شایع ہوئی ۔ قیس ؔ فریدی کے چار اُردوقطعات بھی ہفت روزہ ’ انصاف ‘ بہاول پور میں شایع ہوچکے ہیں ۔ قیس ؔ فریدی نے اگرچہ اُردو غزل کو بہت کم وقت دیا اور صرف ابتدائی عہد لکھا لیکن اس کے باوجود ان کی شاعری میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو اچھی شاعری اور اچھے شاعر میں ہونے چاہئیں ۔ اگروہ سلسلہ جاری رکھتے تو اُردو شاعری میں بھی ان کی ایک پہچان بننا یقینی اَمر تھا ۔
    قیس فریدی کی اُردو نعت کے چند اشعار :
    عجب دل کشا ہے ترا آستانہ
    درِ کبریا ہے ترا آستانہ
    ادھر ہم تڑپتے ہیں جوشِ جنوں سے
    اُدھر جھومتا ہے ترا آستانہ
    پئے سجدہ سر کو جھکاتے ہیں جب ہم
    جبیں چومتا ہے ترا آستانہ
    محبت میں اے قیسؔ کیوں نہ میں کہہ دوں
    کہ کعبہ مرا ہے ترا آستانہ
    ( ہفت روزہ’ انصاف ‘ ، بہاول پور ، ۳ جنوری ۱۹۶۸ء )
    قیس فریدی کی اُردو غزل کے چند اشعار :
    یوں شہر کے لوگوں کو سزادیں گی ہوائیں
    اِک ایک کے چہرے جو بجھا دیں گی ہوائیں
    کھولو نہ فضائوں میں یہ چنگاریاں ورنہ
    تم کو بھی مرے ساتھ جلا دیں گی ہوائیں
    تم جس میں چھپے بیٹھے ہو اے پردہ نشینو
    کاغذ کی یہ دیوار گرادیں گی ہوائیں
    جب شہر میں ہی شہر کے باسی رہیں گے
    پھر قیسؔ ، کسے جا کے صدادیں گی ہوائیں
    ( روزنامہ ’ نوائے وقت‘ لاہور ، ۱۲ دسمبر ۱۹۷۶ء )
    قیس فریدی کی طویل سرائیکی غزل کا نمونہ :
    اپنْا پیار جتانواں کیویں؟
    کوڑیاں قسماں چانواں کیویں؟
    سارا شہر تاں شیشے دا ھے
    پتھر اِتھ برسانواں کیویں؟
    میں ہاں کالی رات ڈُٖکھاں دی
    سجھ کوں منہ ڈٖکھلانواں کیویں؟
    میں ایہ کندھاں بھن سگٖداں پر
    خود کوں چور بنْانواں کیویں؟
    کالی رات دے وسدے مینہ وچ
    چِٹے کپڑے پانواں کیویں؟
    جھاگٖ تے دریا مجبوری دا
    کول تُہاڈٖے آنواں کیویں؟
    اپنْے آپ کوں وسعت ڈٖے تے
    اپنْے آپ اچ مانواں کیویں؟
    توں خود ڈٖس چا رُسنْا ماہی
    تیکوں آن منانواں کیویں؟
    پلکاں چُبھسن پیر تیڈٖے وچ
    دگٖ تے نین وِچھانواں کیویں؟
    سورج دے اندھیر نگر وچ
    مَن دی جوت جگانواں کیویں؟
    تیڈٖا بارا تاں میں چاتے
    اپنْا بارا چانواں کیویں؟
    پتھریں دے ماحول اچ خود کوں
    میں انسان سڈٖانواں کیویں؟
    کن وچ اُنگلی پا بہہ جیڑھا
    اونکوں درد سُنْانواں کیویں؟
    گونگئیں بٖوڑیں دی نگری وِچ
    کہیں دے نال اَلانواں کیویں؟
    میں تاں خود اُروار کھڑاں ہاں
    تیکوں پار پُچانواں کیویں؟
    قیسؔ محبت جُرم ہے جیکر
    کرتے ہُنْ پچھتانواں کیویں؟
    قیس ؔ فریدی کی نثری تخلیقات:
    قیس ؔ فریدی بنیادی طور پر ایک شاعر تھے لیکن انہوں نے سرائیکی اور اُردو نثر میں بھی اپنے جوہر دکھائے ۔ مطبوعہ نثری تخلیقات میں ایک کتابچہ’ چند سرائیکی اصطلاحات و مترادفات‘ کے نام سے ہے اور دوسرا اَہم کام ’ دیوانِ فرید‘ کی ترتیب ہے ۔ اس کے علاوہ اُردو اور سرائیکی میں کچھ مضامین بھی تحریرکیے جو کہ تنقید و تحقیق سے متعلق ہیں ۔
    (۱) چند سرائیکی اصطلاحات و مترادفات :
    ’چند سرائیکی اصطلاحات و مترادفات ‘ایک ایسا چھوٹا سا کتابچہ ہے جس میں قیس ؔ فریدی نے مختلف اصطلاحات و الفاظ کے مترادفات وضع کیے ہیں ۔ ۲۷۹الفاظ و اصطلاحات کے مترادفات سے مزین اس کتابچے کو۱۹۹۵ء میں دھریجہ اَدبی اکیڈمی خان پور نے شایع کیا ۔ قیس ؔ فریدی نے اپنی محنت اورتحقیق سے الفاظ کے پانچ پانچ مترادفات دیئے ہیں ۔ یہ ایک مختصر اور ابتدائی نوعیت کا کام ہے۔ یہ کتابچہ بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوا ۔ اس کے بعد دیگر محققین نے بھی اصطلاحات و مترادفات پر خاصا وقیع کام کیا ہے ۔
    (۲) دیوانِ فرید ( مرتبہ: قیس ؔ فریدی) :
    قیس ؔ فریدی نہ صرف سرائیکی زبا ن کے اچھے شاعر ہیں بلکہ وہ زبان کے لسانی اور تاریخی اُمور سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں ۔ مختلف دوستوں کی تحریک پر انہوں نے ’ دیوانِ فرید‘ کی تدوین کا کام شروع کیا ۔ دیوانِ فرید پہلی دفعہ ۱۹۹۲ء میں منظرِ عام پر آیا جس کے اب تک ۱۰ ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں ۔ دیوان کی ترتیب و تدوین کے ساتھ مختلف زبانوں میں دیوانِ فرید کے تراجم کی فہرست مرتب کی اور بڑی محنت و عرق ریزی کے ساتھ مذکورات کے عنوان سے دیوانِ فرید میں آنے والے مقامات ، پارچہ جات ، نباتات وجمادات ، تلمیحات ، ظروف و زیورات ، اَوزار و آلات ، حیوانات ، پھل اور پھولوں کے موضوع وار فہرست مرتب کی ہے جو کہ انتہائی دلچسپ ہے ۔
    تحقیقی اور تنقیدی مضامین :
    ان مطبوعہ اور غیر مطبوعہ نثری کتب کے علاو ہ قیس ؔ فریدی نے کچھ مضامین بھی تخلیق کیے ہیں ۔ یہ مضامین اپنے موضوعات کے اعتبار سے بہت متنوع ہیں ۔ان میں اکثر غیر مطبوعہ ہیں ۔ ان کی تفصیل حسبِ ذیل ہے :
    (۱) سرائیکی زبان دا وِروَرا ( سرائیکی )
    (۲) ہاکڑہ واس ( سرائیکی )
    (۳) سرائیکی مصادر ( اُردو)
    (۴) روشنی کا سفیر ..حفیظ شاہد ( اُردو)
    (۵) ’ سلگتے ساحل ‘ کا منظر ( اُردو)
    (۶) جِنین دا مِلیت ( سرائیکی )
    (۷) پنّدھیڑو دا پنّدھ ( سرائیکی )
    (۸) کوکدے پنّدھ کر لاندے پاندھی ( سرائیکی )
    (۹) خواجہ فرید کی دو کافیاں ( سرائیکی )
    (۱۰) سنگیت بُھوم ( سرائیکی )
    (۱۱) ڈاروِن دا بانّدر مانھوں ( سرائیکی )
    (۱۲) نانگ ( سرائیکی )
    قیس فریدی کئی سالوں سے کینسر کے موذی مرض میں مبتلاتھے۔سرائیکی شعر و اَدب کی پہچان ، اُستاد الشعراء قیس فریدی طویل عرصہ بیمار رَ ہ کر ۳، اگست ۲۰۱۸ء بروز جمعتہ المبارک صبح ۴ بجے قصبہ مئو مبارک میں انتقال فرماگئے اور احاطہ مولوی لطف علی ، مئو مبارک ، تحصیل و ضلع رحیم یار خان میں دفن ہوئے ۔
    قیس فریدی نے جوکچھ کیا سرائیکی کی محبت میں کیا آج ان کا نام ہے۔بڑے شہروں کی نسبت سے لوگ بڑے شاعر اور بڑے لکھاری بنے ہوئے ہیں۔ حالانکہ دیہات کی گودڑیوں میں لعل موجود ہیں۔ شاعر ہفت زبان، سب کو کہلوانے کا شوق ہے۔ قیس صاحب اپنی زندگی میں ایسا کہنے سے منع کرتے تھے، معروف رائٹر جناب نذیر لغاری نے ان کو سرائیکی کا غالب لکھا تو اس پر قیس صاحب نے کہا کہ غالب بہت بڑے شاعر ہیں مگر کسی بھی شخص کی پہچان اپنی ہوتی ہے۔ شاعر ہفت زبان نہ سہی لیکن یہ حقیقت ہے کہ قیس صاحب نے سرائیکی‘ اردو‘ سندھی‘ ماراڑی اور دوسری زبانوں میں شاعری کی ہے۔ شاعری کے علاوہ وہ نثر کے بھی بادشاہ تھے۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے لسانیات پر بھی کام کیا اور گو کہ انہوں نے حکمت کو کبھی پیشہ نہ بنایا مگر وہ بہت بڑے حکیم تھے اور ہومیو ڈاکٹر خورشید محمد ملک سے ان کی بہت دوستی تھی۔ ان کے ہزاروں دوست اور عقیدت مند تھے مگرایم عبد الواحد افغان، غلام حسین کیفی اور مرحوم ڈاکٹر خورشید محمد ملک ،مرحوم منیر احمد دھریجہ سے ان کی دوستی مثالی تھی۔ وہ بہت عظیم تھے، یہی وجہ ہے کہ قیس فریدی کا نام پورے وسیب میں احترام سے لیا جاتا ہے اور وہ اس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے کہ بڑے لوگ کبھی نہیں مرتے وہ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں اپنی سوچ،اپنے فن اور اپنی شاعری کے حوالے سے۔
    قیسؔ فریدی کی کتابیں
    مطبوعہ:
    اِرداس غزلاں
    آمشا م غزلاں
    نمرو ڈٖوہڑے ، کافیاں
    توں سورج میں سورج مُکھی غزلاں ، نظماں
    پَرکھرا نظماں
    چند سرائیکی اصطلاحات لسانیات
    گھاگھر کلیاتِ قیس
    غیر مطبوعہ :
    سرائیکی اَکھانْ لسانیات
    سرائیکی مصادر لسانیات
    سومرو خاندان تاریخ
    چولستان تاریخ و آثار
    چترانگ شاعری
    ووڑ شاعری
    چنتا شاعری
    مینہ شاعری
    اردو دیوان شاعری
    دھریجہ نگر دے دھریجے تاریخ
    ٭
    حوالہ جات :
    ۱۔ ’ آمشام ‘ قیس ؔ فریدی ، جھوک پبلشرز ، خان پور ، ۱۹۹۳، ص: ۲۵۴
    ۲۔ ’ا َرداس‘ ، قیس فریدی ، ممتاز اکیڈمی ، بھٹہ واہن ، ۱۹۸۰ء ، ص: ۶۴
    ۳۔ ’بہاول پور کا شعری اَدب ‘۔ حواشی مقالہ ایم فِل اُردو ،ا سلامیہ یونیورسٹی ، بہاو ل پور۲۰۰۵ ء ،۳۵۸
    ۴۔ ’ پَرکھرا‘ ، قیس ؔ فریدی ، سرائیکی اَدبی مجلس بہاول پور ، ۱۹۹۵ء ، ص: ۳۱۸
    ۵۔ جاوید اِقبال اَظہر ،غیر مطبوعہ مضمون:’ قیس فریدی سے میرا تعلق ‘ مملوکہ مضمون نگار
    ۶۔ چند سرائیکی اصطلاحات و مترادفات ، قیس ؔ فریدی ، دھریجہ اَدبی اکیڈمی ، خان پور ، ۱۹۹۵ء ، ص: ۳
    ۷۔ سرائیکی مصادر ، قیس ؔ فریدی ، ماہنامہ ’عصائے کلیم‘ کوٹ مٹھن ، اکتوبر ۱۹۹۵ء ، ص : ۱۲۸
    ۸۔ ’’ شعوروادراک ‘‘ سہ ماہی مجلہ ، مدیر : محمد یوسف وحید ، ’’خصوصی گوشہ قیس فریدی ‘‘ شمارہ نمبر ۳-۲ ۔ اپریل تا ستمبر ۲۰۲۰ء
    ۹۔ ظہور دھریجہ ، روزنامہ 92نیوز ،۴اگست ۲۰۱۸ء
    ۱۰۔ ’ عصائے کلیم ‘ماہنامہ، کوٹ مٹھن ، اکتو بر ۱۹۹۵ء ص: ۴۰
    ۱۱۔ ’ عصائے کلیم ‘ماہنامہ، کوٹ مٹھن ، اکتو بر ۱۹۹۵ء ص: ۴۴
    ۱۲۔ ’ عصائے کلیم ‘ماہنامہ، کوٹ مٹھن ، اکتو بر ۱۹۹۵ء ص: ۴۵
    ۱۳۔ قیس فریدی، شخصیت اور فن ، مقالہ برائے ایم فل ، مقالہ نگار : امان اللہ ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور ، سال ۲۰۱۰ء
    ۱۴۔ قیس فریدی: فن ، شخصیت اَتے شاعری ، مرتب : مہر حامد علی شاکر ، جھوک پبلشرز ،ملتان ، ۲۰۱۹ء
    ۱۵۔ قیس فریدی : فن و شخصیت ، محمد یوسف وحید ، الوحید ادبی اکیڈمی خان پور ،۲۰۲۰ء
    ۱۶۔ ماہنامہ ’ سچار ‘ خان پور /کراچی ، مدیر : غلام یسیٰن فخری مر حوم ، شمارہ :
    ۱۷۔ ’ نمرو‘ ، قیس ؔ فریدی ، جھوک پبلشرز، خان پور ، ۱۹۹۲ء ، ص: ۴۸۱
    ۱۸۔ والدہ قیس فریدی ، استفسار ، قصبہ مئو مبارک ،خان پور ، ضلع رحیم یار خان بتاریخ ۱۵فروری ۲۰۰۹ء
    ۱۹۔ ’وَوڑ‘ ، قیس ؔ فریدی ، ہند ھاکڑہ اَدبی سنگت خان پور ، ۲۰۰۲، ص: ۵۶۵
    ۲۰۔ ہفت روزہ ’ انصاف‘ بہاول پور ، ۲۹ ستمبر ۱۹۶۴ء
    (بشکریہ : سہ ماہی شعوروادراک خان پور ، مدیر: محمد یوسف وحید ، شمارہ نمبر ۳-۲، اپریل تا ستمبر ۲۰۲۱ء ۔خصوصی گوشہ قیس فریدی )
    ٭٭٭

    Yousuf Waheed

    محمد یوسف وحید

    شعوروادراک ، خان پور

  • تو غنی از ھر دو عالم من فقیر

    تو غنی از ھر دو عالم من فقیر

    خالد جاوید کے نعتیہ مجموعے’’خوشبوئے مدینہ ‘ ‘ پر تبصرہ
    ’’ تو غنی از ھر دو عالم من فقیر ‘ ‘
    تبصرہ : محمد یوسف وحید
    (مدیر: شعوروادراک خان پور)

    دل ِ حزیں کا سکوں ہے ہَوا مدینے کی
    فضائے خُلد کی ہمسر فضا مدینے کی
    ملے اب ا ذن ِ حضوری رسولؐ کے دَر سے
    خدا دکھائے مجھے بھی فضا مدینے کی
    ’خوشبوئے مدینہ‘ محترم ادیب دوست خالد جاوید کا پہلا اُردو نعتیہ مجموعہ ہے ۔ جس میں ایک حمد ، 45 نعتیں،2منقبت اور 3سلام شامل ہیں ۔’ ’خوشبوئے مدینہ‘ ‘ 112صفحات پر مشتمل مجلد خوب صورت اشاعت جسے حضرت داتا گنج بخش ؒ کے نام منسوب کیا ہے ۔ نام ور اہل ِ قلم اور نکتہ داں کے سامنے بندۂ ناچیز کی بات کچھ معنی نہیں رکھتی ۔ مگر جو حکم ِیار ہوا تو چند خلوص کے الفاظ پیش کرتا ہوں ۔
    گر قبول اُفتد زہے عزو شرف
    ’نعت‘ اصطلاحاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منظوم توصیف بیان کرنا ہے۔ اگر نعت کو اپنے لغوی معنوں ’’تذکرہ ٔصفات‘‘ کے حوالے سے دیکھا جائے تو اللہ ربّ العزت نے نعت کا اہتمام اپنے محبوب کے لیے نام پسند کرتے ہوئے ہی کرلیا تھا۔’’محمد‘‘۔ اس چار حرفی غیر منقوط پرُ تاثیر لفظ کے معنی ہی’’بہت تعریف کیا گیا‘‘ کے ہیں۔ لفظ ’’محمد‘‘ کا مادہ’’حمد‘‘ سے ہے اور یہ خود میں ایک مکمل نعت ہے۔ یعنی وہ ہستی جس کی بہت تعریف کی گئی ہو۔’’وَ رَفعنا لَک ذِکرک‘‘ کی آب یاری سے اس ذکر کومزید پھیلا دیا گیا۔
    صنف ِنعت کی دو شاخیں ہیں۔ ایک نعت گوئی اور دوسرا نعت خوانی۔ ’’نعت‘‘ کی دونوں شاخوں میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شمائل و فضائل، سیرت و پیغام اور تذکار کے ذریعے قارئین و سامعین کی پیاسی روحوں کو سیراب کیا جاتا ہے۔نعت گوئی ایک مذہبی فریضہ بھی ہے اور اس حیثیت سے اس کے تقاضے کمالِ احتیاط پر مشتمل ہیں۔’’بعض نعت گو حضرات غلو، اغراق اور مبالغے سے اس قدر کام لیتے ہیں کہ مدحت ِرسول ؐ میں اللہ جل جلالہٗ کے اَوصاف بھی شامل کر دیتے ہیں‘‘۔
    خالد جاوید بیک وقت شاعر،ادیب اور محقق ہیں،خالد جاوید کا پہلا پنجابی غزلوں کا شعری مجموعہ’’ عشق دے پندھ اَڑانگے ‘‘ 2005ء میں شائع ہوا جس نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کافی شہرت پائی۔اس کے علاوہ 2016ء میں پنجابی زبان میں بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں کا مجموعہ ’ ’تتلیاں‘ ‘ کے نام سے جو’ ’ پنجابی بال ادبی بورڈ لاہور ‘‘ نے شائع کیا اور حال ہی میں پہلا اُردو نعتیہ مجموعہ’’خوشبوئے مدینہ ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے ۔
    ’’خوشبوئے مدینہ ‘‘کے ابتدائی صفحات میں نعتیہ شاعری اور نعتیہ مجموعہ پرتین مضامین شامل ہیں جن میں پاکستان اور مصر کے ممتاز اہلِ علم و قلم میںمحمد اَحمد الازہری (فارغ التحصیل کلیۃ اللغتہ العربیہ الازہر یونی ورسٹی ، قاہرہ (مصر ) ،خواجہ غلام قطب الدین فریدی ( سجادہ نشین آستانہ عالیہ خواجہ محمد یار فریدی، گڑھی اختیار خان ، تحصیل خان پور ) اور محمد منشا ء تابش قصوری ( جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ) جیسے نام ہیں۔
    محمد اَحمد الازہری نے نعتیہ مجموعہ پر اپنی گفت گو میں کہا ہے:’ ’ اس میں کوئی شک نہیں کہ محترم جناب خالد جاوید صاحب کی نبی پاک ؐ کی مد ح سرائی میں منظم کر دہ نعتیہ بھرے مہکتے پھول اور قصائد جن کو آپ نے اپنی کتاب ’ ’خو شبوئے مدینہ ‘ ‘میں سمویا ہے ، بے نظیر و بے مثال ہے اور عاشقا ن ِ مصطفی ؐ کیلئے لاجواب ا ور لازوال گراں قدر عظیم خزانہ اور سرمایہ ہے ۔چونکہ ارباب ِ اہل فن کے نزدیک کلام وہی سب سے اعلیٰ اور عمدہ ہوتا ہے جس میں جذبات ، احساسات سچے ہوں ، سو محترم خالد جاوید صاحب کے کلام کی یہی امتیازی شان ہے جس کی مثال گویا اس بہار اور شبنم کی سی ہے جو پھولوں اور اُن کی کلیوں کی نگہت و تر و تازگی اور حسن و جمال میں اور اضافہ کر دیتی ہے‘ ‘۔
    اسی طرح معروف علمی و اَدبی شخصیت اور نعت گو شاعر جناب خواجہ غلام قطب الدین فریدی نے کتاب پر بات کر تے ہوئے کہا :’’ میں سمجھتا ہو ں کہ یہ حضور داتا گنج بخش ؒ کی چوکھٹ کا فیض ہی ہے کہ ان کے دل کو عمدہ جذبات ملے ، جذبات کو اظہار کی لفظی قوت ملی اور الفاظ کو صحیح بندی کی دولت میسر آئی ۔ محترم خالد جاوید صاحب کی بارگاہ ِ نبوی ؐ سے والہانہ عقیدت ، وارفتگی جذبات اور تخیل کی بلندی ہر ہر شعر سے عیاں ہے ‘ ۔
    اور ممتاز ادیب و عالم محمد منشاء تابش قصوری نے کچھ یوں خراجِ تحسین پیش کیا کہ ’ میر ے پیشِ نظر محترم خالد جاوید صاحب کا نعتیہ مجموعہ خوشبوئے مدینہ کتابی صورت میں موجود ہے ۔ جس میں لکھتے ہیں ہدیہ نعت کے ساتھ ساتھ رویا( دو اَشعار ) جس میں محبوب ِ اکرم ؐ کی ذات ِ اَقدس کے ساتھ اپنی والہانہ محبت کو نعت کی صورت دی ہے ۔ راقم ہر ایک نعت پر از خود تبصرہ کرنے کی بجائے قارئین کی صوابدید پر چھوڑتا ہے کہ موصوف نے کتنی محبت ، کتنے پیار ، عقیدت اور کیسے نرالے عشق سے نعت کے موتی پروئے ہیں اور ان نعتوں سے کیسی بھینی بھینی خوشبو آرہی ہے ‘ ‘۔

    Khushboo E Madina


    بلا شبہ میں سمجھتا ہوں خالد جاوید کو قدرتِ سخن اور اُردونعت پر ان کی دستر س لائقِ ستائش ہے۔’’خوشبوئے مدینہ ‘ ‘کے ہر گوشے سے ایسی خوشبوئیں پھوٹ رہی ہیں۔’’خوشبوئے مدینہ ‘‘ مدحت ِ رَسول ؐ اور عشق ِ رسول ؐ کی مختلف کیفیات اور جذبات کا نام ہے ، اس لیے خالد جاوید کی نعت محض روایات نہیںیہ ایک کیفیت اور ایک تاثر ہے، نعت خالد جاوید کا اظہارِ عشق ہے جو بعد میں سوزِ عشق بنا ، اس عشق کی لو رَوشن بھی ہے اور گرم بھی۔ یہ جلتی بھی ہے اور جلاتی بھی ہے۔
    مجھے بار بار یہ خیال آتا ہے، لیکن آزمائش شرط ہے۔ اگر کوئی شخص اَشکوں سے وضو کر کے رات کی تنہائی میں’’خوشبوئے مدینہ‘ ‘ کو پڑھے تو اس پر بھی اُن کیفیات کا کچھ حصہ وارد ہو سکتا ہے،جن کیفیات سے گزر کر خالد جاوید نے یہ اَشعار کہے ۔ خالد جاویداپنے اشعار میںبارہا اپنے خدا کا شکر ادا کر تے ہوئے نظر آتے ہیں جس نے خالد جاویدکو نعت کہنے کی صلاحیت دی۔
    ’’خوشبوئے مدینہ ‘‘کہنے کو تو شاعری ہے، لیکن حقیقت میں عشق ِ رسولؐ سے فیض یاب ہونے کا عمل ہے۔یہ قدسیوں کے اُسی ذکر کی ایک شکل ہے جسے نامِ محمدؐ لب پر آتے وقت اہلِ اسلام کے لئے لازم ٹھہرایا گیا۔
    ان کا نعتیہ مجموعہ ’ ’خوشبوئے مدینہ‘ ‘ ادارہ پنجابی بال ادبی بورڈ لاہور سے شائع ہوا، جس میں عبد اور معبود کے درمیان ایک حدِ فاصل شعوری طور پر موجود ہے، اور یہی امتیاز انھیں عہدِ حاضر کے نعت گو شعراء پر فوقیت دلاتا ہے۔کتاب کے آخر میں منقبت حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور سلام بھی شامل ہیں جو کمال اظہار ِ محبت و خلوص کا بین ثبوت ہیں ۔
    پاکستان میں اُردونعت کے حوالے سے بیش بہا کام ہورہا ہے لیکن یہ سارا کام پاکستان میں اُردو پڑھنے والے قارئین کو میسر نہیں ہورہا جس کی وجہ سے ہم دنیا بھر میں اُردو زبان کی ترقی اور رفتار سے آگاہ نہیں ہوپارہے،دنیا بھر میں اشاعتی ادارے اُردو زبان کی کتابیں چھاپتے ہیں اورپوری دنیا میں یہ کتابیں تقسیم ہورہی ہیں لیکن پاکستانی روپے کی قدر میں غیر معمولی کمی کی وجہ سے پاکستانی بک سیلرز اب غیر ملکی کتابیں اس وجہ سے بھی نہیں لا رہے ہیں کہ ان کی قیمت پاکستانی روپوں میں کافی زیادہ ہوجاتی ہے۔پھر بھی کچھ اچھی کتابیں یہاں دستیاب ہوجاتی ہیں۔اس سلسلے میں حکومتی پالیسی اگر نرم کی جائے تو یہ کتابیں باآسانی یہاں دستیاب ہوسکتی ہیں جس سے اہل علم کو فائدہ ہوگا۔آخر میں خدائے رب ِ ذو الجلال کے حضور دُعائے پُر خلوص ہے کہ اللہ کریم خالد جاوید کے علم ، عمل اور کار ِ خیر میں ڈھیروں برکتیں عطا فرمائے ۔ آمین
    ’خوشبوئے مدینہ ‘ سے چند منتخب نعتیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
    معتبر لفظ ہی سے ابتدا لکھوں
    نبی ؐ کو سلک ِ نبوت کی انتہا لکھوں
    ٭٭٭
    زمانہ کتنا بُرا تھا حضور ؐ سے پہلے
    ہر اِک کا اپنا خدا تھا حضور ؐ سے پہلے
    اب اپنی سوچ کو خالدؔ سمیٹو نہ کہہ کر
    جہاں میں کچھ بھی نہیں تھا حضور ؐ سے پہلے
    ٭٭٭
    جس نام کی خوشبو میری رَگ رَگ سے عیاں ہے
    اس نام سے روشن ہی میرا سارا جہاں ہے
    خالد ؔ کی یہ بخشش کا بنے کاش وسیلہ
    اَشکوں کا جو دریا میری آنکھو ں سے رَواں ہے
    ٭٭٭
    یہی تو ایک میں اپنی زباں سے کام لیتا ہوں
    سرور ِ قلب پانے کو نبی ؐکا نام لیتا ہو ں
    طلوع ِ صبح کا منظر غروبِ شام ہو خالد ؔ
    نبی ؐ کے نور سے ہی روشنی ہر گا م لیتا ہوں
    ٭٭٭
    ضیاء ہے شب میں ذکر اُن کی ذات کا ہونا
    بڑے نصیب سے ہوتا ہے نعت کا ہونا
    اُدھر ہو روضہ ٔ اَقدس کا دلنشیں منظر
    اِدھر مچلتے ہوئے دل پہ ھات کا ہونا
    ٭٭٭
    بے کراں دونوں جہانوں سے ہے عظمت تیری
    کون سا دل ہے نہیں جس میں محبت تیری
    ہم کو جو کچھ بھی میسر ہے کرم ہے تیرا
    کام آئے گی محشر میں شفاعت تیری
    ٭٭٭
    ٹوٹ سکتے نہیں بحمد اللہ
    عشق احمد کے پکے دھاگے ہیں
    نعت خالد کہے گا کیا اُن کی
    اس کے ادراک سے وہ آگے ہیں
    ٭٭٭
    جہاں تلک ہمیں جو کچھ دکھائی دیتا ہے
    فقط حضور ؐ کا عکسِ جمال ہے لوگو
    میں نعت لکھتا رہوں گا حضور ؐ کی خالد ؔ
    سفر یہ سانس کا جب تک بحال ہے لوگو
    ٭٭٭
    سلام کے چند اَشعار
    غم کا پہاڑ جھیلنے والے حسین ؓہیں
    سب صابریں میں سب سے نرالے حسین ؓہیں
    اعزاز ہے یہ سیدہ زہرا ؑ کے لعل کا
    دوش ِ نبی ؐ پہ کھیلنے والے حسین ؓہیں
    خون ِ شہیداں کر گیا سر سبز دین کو
    اسلام کی بقا کے حوالے حسین ؓ ہیں
    خالد ؔ نبی ؐ کی آل پر اَن گنت ہوں سلام
    مجھ اَیسوں کو اُجالنے والے حسین ؓ ہیں
    ٭٭٭

    Yousuf Waheed

    محمد یوسف وحید

    مدیر: شعوروادراک خان پور

  • اُردو نظم کا باوقار حوالہ …ثمینہؔ راجہ

    اُردو نظم کا باوقار حوالہ …ثمینہؔ راجہ

    اُردو نظم کا باوقار حوالہ …ثمینہؔ راجہ
    تحریر :محمد یوسف وحید
    (مدیر: شعوروادراک خان پور)
    ثمینہ راجہ کا بنیادی تعلق میرے آبائی گائوں راجہ کوٹ تحصیل وضلع رحیم یار خان سے تھا ۔1990ء سے اسلام آباد میں مقیم تھیں ۔ثمینہ راجہ نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اُردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔شاعری کا آغاز 1973 ء میں کیا اور 12 شعری مجموعے، دو کلیات اور رومانوی آیات پر مشتمل ایک انتھالوجی تصنیف کی۔ثمینہ راجہ کے اُردو نثری مضامین بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ متعدد تحریروں کے انگریزی سے اُردو میں تراجم بھی کیے۔ اُردو نظم میں ملکہ حاصل رہا ۔ شعری نشستوں میں بہت کم شرکت کرتیںتھیں ۔
    ثمینہ راجہ نے بیک وقت بطور شاعرہ، مصنفہ، ایڈیٹر، مترجم، ماہر تعلیم اور براڈکاسٹرخود کو منوایا۔ نیشنل لینگویج اتھارٹی میں بطور سبجیکٹ اسپیشلسٹ بھی کام کرتی ر ہیں۔ 1998 ء میں نیشنل بک فاؤنڈیشن میں بطور کنسلٹنٹ اور ماہنامہ’’ کتاب‘‘ کے ایڈیٹر کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ پاکستان ٹیلی ویژن سنٹر اسلام آباد میں منعقدہ مشاعروں کی میزبانی کی ۔ ثمینہ راجہ نے پی ٹی وی پرایک مشہور ادبی پروگرام ’’اُردو ادب میں عورت کا کردار‘‘ کی طویل سیریز بھی پیش کی ۔
    ثمینہ راجہ اپنے عہد کی خواتین شعرا ء میں نمائندہ اور صف ِ اَوّل کے قلم کاروں میں شامل رہیں ۔ منفرد اُسلوب اور جدید تراکیب اُن کی شاعری کا خاصہ ہیں ۔ثمینہ راجہ کی زیر اِدارت متعدد اَدبی رَسائل بھی شایع ہوتے رہے ۔ ذیل میں اُردو شعر و اَدب کی دو نمائندہ شخصیات کی ثمینہ راجہ کی فن و شخصیت پر مختصر آرا ء ملاحظہ فرمائیں :
    ’ ’ثمینہ راجہ شاعری کے جملہ محاسن سے پوری طرح آگاہ ہیں اور حیرت انگیز طورپر اُن کی پوری گرفت بھی ہے ۔ وہ شعراکی اس مختصر ترین تعداد سے تعلق رکھتی ہیں جو فن پر پورا عبور رکھتی ہے ۔ جہاں تک شعری موضوعات کا تعلق ہے ، ان کی شاعری میں ذات کے ساتھ ساتھ پوری کائنات کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں ، جن پر محبت کا جگمگاتا ہوا رنگ غالب ہے ۔ مجھے یہ دیکھ کر حیر ت ہوتی ہے کہ بے پناہ تخلیقی وفور کے باوجود وہ خود اپنی شاعری کی کڑی نقاد ہیں اور ضرورت سے زیادہ آواز بلند نہیں کرتیں ۔ اَوزان و بحور پر مکمل گرفت ، خوب صورت ترین آہنگ ، شدید حساسیت ، اور جدیدیت ، ان کی شاعری کے نمایاں اَوصاف ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان کی تمام تر تخلیقات جادو کا سا اَثر رکھتی ہیں اور ان میں روحِ عصر کی دھڑکن صاف طور پر دکھائی دیتی ہے‘‘ ۔( احمد ندیم قاسمی)
    ’’ثمینہ اس وقت شاعری کی اس منزل پر ہیں ، جہاں آدمی مدّتوں کی صحرا نوردی کے بعد پہنچتا ہے ۔ وہ نظم اور غزل دونوں میں اتنی خوب صورت شاعری کر رہی ہیں کہ آج انگلیوں پر گنے جانے والے گنتی کے شاعروں میں اُن کا شمار ہوتا ہے ۔ شاعری بہت مشکل چیز بھی ہے اور بہت آسان بھی ۔ آسان اس لیے کہ آپ کو ہر طرف بے شمار شاعر نظر آئیں گے مگر مشکل اس وقت ہو جاتی ہے جب اتنی بڑی تعداد میں لکھنے والی مخلوق موجود ہو اور اس میں اپنا ایک الگ تشخص اور قدو قامت قائم کیا جائے اور اس میں ثمینہ کو نہ صرف کامیابی ہوئی ہے بلکہ وہ ان سب سے آگے نظر آتی ہے ۔شاعری کے علاوہ ان میں ایک اور وصف بھی ہے کہ کئی اَدبی رَسائل کی مدیر ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ہی کی وجہ سے ان رَسائل کا وقار بلند ہو اہے‘‘۔(اَحمد فراز )
    12شعری مجموعوں کی خالق ثمینہ راجہ طویل عرصہ کینسر کے مرض میں مبتلا رَہ کر 2012ء میں51سال کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال کر گئیں۔
    ٭

    Samina Raja


    ثمینہ راجہ کی نظم میں محبت اور آرزو کے نسائی اور انسانی تناظر، ماضی اور ماضی کی زندگیوں کی یادیں، نئے زمانے کے سماجی ، افسانوی ،نفسیاتی مسائل اور مابعدالطبیعاتی مضامین نہایت عمدگی سے ملتے ہیں ۔ثمینہ راجہ اپنے عہد کی نامور شاعرہ رہیں۔ انہیں غزل اور نظم دونوں پر مکمل عبور حاصل رہا ۔چند اُردو نظمیں بطور نمونہ ملاحظہ فرمائیں :
    مجھے نیا طلسم دے
    خدائے دل !
    مجھے بتا میں کیا کروں
    کہ راز مجھ پہ ہوں عیاں
    کہ رنگ مجھ پہ کِھل اُٹھیں
    ہووقت مجھ پہ مہرباں ،
    مرے یہ پائوں
    راہ کی تپش سے اب جھلس گئے
    مری نظر بھی تھک گئی
    مجھے ملا نہیں نہالِ سبز کا کوئی نشاں
    نہ شہر میں کوئی صدائے آشنا
    نہ صبحِ دلبری ۔۔ نہ شامِ دوستاں
    مرا نصیب سوچکا
    مرا طلسم کھو چکا ،
    خدائے دل !
    ٭
    اچانک
    سرد تھے ہونٹ
    بہت زرد تھی یہ شاخِ بدن
    سخت پتھرائی ہوئی تھیں آنکھیں
    دشت کی طرح تھی ساری دنیا
    آسماں ، درد کا لمبا صحرا ،
    جانے کیا بات چلی باتوں سے
    جانے کس طرح ترا ذکر چھڑا
    ایسا لگتا ہے تنِ مردہ میں
    روح پھونکی ہے کسی نے تازہ
    ٭
    کتابوں میں لکھی ہوئی زندگی
    کئی بار ایسا ہوا ہے
    کتابوں کو پڑھتے ہوئے
    سخت حیران ہوکر
    مرے دل نے آنکھیں مَلیں
    اور حیرت سے آنکھوں کو سکتہ ہوا
    دیر تک سوچتی رَہ گئی
    کیا حقیقت میں بھی ایسی ہوگی
    کتابوں میں لکھی ہوئی زندگی ؟
    (نظموں کا مجموعہ : ھویدا )
    ٭
    یہ عشق سپہر رنگ میرا
    یہ زیست اگرچہ پُر خطرہے
    جنگل میں یہ شام کا سفر ہے
    لیکن مرے ساتھ چل رہا ہے
    سایا کہ خیال یا تصّور
    اِس عرصۂ زندگی میں شاید
    آئے مری طرح اِک مسافر
    اک نرم ، لطیف مسکراہٹ
    ہر گام پہ دیتی ہے پناہیں
    ہر سمت سے مجھ کو گھیرتی ہیں
    وہ راز کی طرح چُپ نگاہیں
    اِک عشق سپہر رنگ پھر سے
    آنکھوں میں قیام کر رہا ہے
    اک خواب کے فاصلے سے کوئی
    اِ س دل سے کلام کر رہا ہے
    (شعری مجموعہ : شہرِ سبا )
    ٭
    نیند آتی نہیں
    آنکھ حیران ہے
    آنکھ کے سامنے
    صبح آتی ہے …آکر گزر جاتی ہے
    شام آتی ہے …پَل بھر ٹَھہر جاتی ہے
    رات آتی ہے …اور پھر گزرتی نہیں
    چاند تارے زمیں پر اُتر آتے ہیں
    بات کرتی ہے سرگوشیوں میں ہَوا
    پھول ہی پھول سانسوں میں کِھل جاتے ہیں
    دھیان کے روزنوں سے …ترے خواب سب
    جھانگکتے ہیں ۔۔۔مگر پاس آتے نہیں
    جھلملاتی ہیں …مگر پاس آتے نہیں
    ایک اُمید پر مسکراتی نہیں
    رات آتی ہے …آکر ٹھہر جاتی ہے
    نیند آتی نہیں !
    (نظموں کا مجموعہ: بازدید )
    ٭
    وقت کے اُس نگارخانے میں
    آج پھر اِس شب بہاراں میں
    مانگتا ہے یہ دل ذرا مہلت
    چند لمحوں کی ، چند ساعتوں کی
    زندگی سے نظر بچائے ہوئے
    خواب کا اِک دیا جلائے ہوئے
    پھر سے اُس سر زمین تک جائے
    جس جگہ چاند کی حکومت تھی
    اور ستاروں کی بزم آرائی
    جب سَمے کے حسین گلشن میں
    آرزو کے سپید پھول کھلے
    اور خوشبو نے کی پذیرائی
    جس جگہ دل سے آن لپٹی تھی
    ایک موجِ ہَوائے دلداری
    اور کسی چشمِ سادہ نے پائی
    اَوّلیں عشق کی سمجھ داری
    آج پھر اس شب نگاراں میں
    مانگتا ہے یہ دل ذرا فرصت
    زندگی سے نظر بچانے کی
    پھر سے اُس سرزمیں کو جانے کی
    خواب کی روشنی میں چلتے ہوئے
    وقت کے اُس نگار خانے میں
    ایک بُھولے ہوئے فسانے میں
    ( شعری مجموعہ:عَدن کے راستے پر )
    ٭
    پورے چاند کی رات
    آنکھ تلک اُتری آتی ہے پورے چاند کی رات
    جیون کی لمبی راہوں پر سایا اک ساتھ
    ہونٹوں پر ایسی ہی لالی ۔۔۔
    ماتھے پر ایسے ہی ستارے
    مانگ میں جگمگ جگمگ اَفشاں
    اور چُنری میں جگنو سارے
    پلکوں کے پیچھے اِک سپنا
    اُس سپنے میں نین تمہارے
    یاد آئی ہے آج مجھے اِک پچھلے جنم کی بات
    بھول گئی اب
    ہاتھ سے کیسے چُھوٹا تھا وہ ہاتھ
    (شعری مجموعہ: دل لیلیٰ )
    ٭
    آنکھیں جو کُھلیں تو
    اب یاد نہیں کہ شہرِ جاں میں
    وہ کیسی عجب ہَوا چلی تھی
    جو مجھ کو مری ہی زندگی سے
    اُس سمت اُڑا کے لے گئی تھی
    پائوں کے تلے تھی دھند گویا
    اور سر پہ سنہری چاندنی تھی
    آنکھوں میں عجیب سی تھی ٹھنڈک
    چہرے پہ گل آب کی نمی تھی
    کچھ دُور ستار بج رہا تھا
    یا وَجد میں کوئی راگنی تھی
    آہستہ سے میرا نام لے کر
    اک شخص نے کوئی بات کی تھی
    آنکھیں جو کھلیں تو میں نے دیکھا
    میں کوچۂ عشق میں کھڑی تھی
    (شعری مجموعہ: عشق آباد)
    عکس ریز
    کس کے غم کا اُجلا شیشہ ۔۔ روشنی کے رُخ پر رکھا ہے
    چاروں اور بدن کے جس کی نیلی نیلی لُو پھیلی ہے
    جس کے حسن کے آگے ساری دنیا کی ہر ضَو ۔۔ میلی ہے
    جس کی اک جنبش سے دھرتی ، پائوں تلے چلنے لگتی ہے
    جس کی حدّت سے ۔۔۔سرما کی سر د ہَوا جلنے لگتی ہے
    انے کس کی یاد کا چہرہ ۔۔۔ روشنی کے رُخ پر رکھا ہے
    جس کے سامنے ، چاروں جانب پھیلے چہرے
    دھند ہوئے ہیں
    جانے پہچانے جو نام ، زباں پر تھے
    سب بھول گئے ہیں
    جس کی آسیبی نظروں سے ۔۔ان آنکھوں پر
    کچھ اَن جانے ، کچھ اَن دیکھے ۔۔ ہلکے ہلکے عکس بنے ہیں
    دل کے بدن پر ۔۔ جس کے ناخونوں سے گہرے نقش بنے ہیں
    (شعری مجموعہ: حیرت کدۂ ہجر)
    ٭
    ثمینہ راجہ نے اُردو نظم کے ساتھ ساتھ اُردو غزل کو توانائی بخشنے کے لیے بھی خوب محنت و ریاضت کی ہے ۔ غزل میں نت نئے مضامین پیش کیے ۔ چند اُردو غزلیں ملاحظہ فرمائیں :
    تنہا، سرِ انجمن کھڑی تھی
    میں اپنے وصال سے بڑی تھی
    ہاں صرف نہیں تھی بنتِ ناہید
    انجم تھی، فلک پہ میں جَڑی تھی
    اک پھول تھی اور ہَوا کی زد پر
    پھر میری ہر ایک پنکھڑی تھی
    اک عمر تلک سفر کِیا تھا
    منزل پہ پہنچ کر گِر پڑی تھی
    طالب کوئی میری نفی کا تھا
    اور شرط یہ موت سے کڑی تھی
    وہ ایک ہوائے تازہ میں تھی
    میں خوابِ قدیم میں گڑی تھی
    وہ خود کو خدا سمجھ رَہا تھا
    میں اپنے حضور میں کھڑی تھی
    آنکھوں میں رُکے تھے سرد آنسو
    وہ دل کے قرار کی گھڑی تھی
    ٭
    گو سایۂ دیں پناہ میں ہوں
    زندہ تو خود اپنی آہ میں ہوں
    اُس منزلِ خواب کی طلب میں
    مدّت سے فریبِ راہ میں ہوں
    کیا وہ بھی مرا ہی منتظر ہے
    اک عمر سے جس کی چاہ میں ہوں
    باہر تو لگا ہے سنگِ مر مر
    میں دفن مگر سیاہ میں ہوں
    پھر شاخ پہ مجھ کو پھوٹنا ہے
    غلطاں، ابھی خاک و کاہ میں ہوں
    غم دینے کو تو نے چُن لیا ہے
    خوش ہوں کہ تری نگاہ میں ہوں
    کیسے تری حیرتی نہ ٹھہروں
    گُم، انجم و مہر و ماہ میں ہوں
    جو عشق مثال بن چکا ہے
    اُس منزلِ غم کی رَاہ میں ہوں
    ( شعری مجموعہ: اور وِصال )
    ٭
    فرق اپنی آرزو میں سرِ مُو نہ آئے گا
    دل کو قرار اب کسی پہلو نہ آئے گا
    کیا چشمِ نم سے روٹھ گیا ہے ترا جمال
    کیا اب یہ ماہتاب، لبِ جُو نہ آئے گا
    تجھ سے ہَوا نژاد کی اب جستجو نہیں
    پَل بھر کو آبھی جائے تو قابو نہ آئے گا
    کیا سیرِ باغ و راغ، کہاں لطفِ صد چراغ
    جب تُو مثالِ پیکرِ خوشبو نہ آئے گا
    یہ آنکھ ٹوٹ جائے گی فرطِ ملال سے
    لیکن ترے خیال سے آنسو نہ آئے گا
    وہ رات ہے کہ چاند ستاروں کا ذکر کیا
    اب روشنی کے نام پہ جگنو نہ آئے گا
    اب کون قیدِ سنگ سے مجھ کو رہائی دے
    اب تو کسی نظر کو یہ جادو نہ آئے گا
    بجھتی ہوئی یہ رات، یہ دم توڑتے چراغ
    دل مانتا نہیں ہے کہ اب تُو نہ آئے گا
    (شعری مجموعہ:: ہفت آسمان )
    ٭
    دشت میں اِک طلسمِ آب کے ساتھ
    دور تک ہم گئے سراب کے ساتھ
    پھر خزاں آئی اور خزاں کے بعد
    خار کھلنے لگے گلاب کے ساتھ
    رات بھر ٹوٹتی ہوئی نیندیں
    جُڑ گئیں سحرِ ماہتاب کے ساتھ
    ہم سدا کی طرح بجھے ہوئے تھے
    وہ تھا پہلی سی آب و تاب کے ساتھ
    چھوٹی عمروں کی پہلی پہلی بات
    کچھ تکلف سے ، کچھ حجاب کے ساتھ
    اور پھر یہ نگاہِ خیرہ بھی
    ڈوب جائے گی آفتاب کے ساتھ
    رات کی طشتری میں رکھی ہیں
    میری آنکھیں کسی کے خواب کے ساتھ
    اُس گلی میں نہ کوئی کیسے جائے
    شام کو اِس دلِ خراب کے ساتھ
    یہ فقط رسم ہی نہیں اے دوست
    دل بھی شامل ہے انتساب کے ساتھ
    ( پری خانہ )
    ٭
    دو قطعات
    دنیا سے نہیں تھا ربط کوئی
    اک رابطہ بس کتاب سے تھا
    آگاہ تھا راحتوں سے بھی تن
    اور آشنا ہر عذاب سے تھا
    ۔۔۔
    تاروں سے تہی تھیں اپنی راتیں
    اور دن تھے بہت ہی خالی خالی
    دل، شوق و مراد کا طلب گار
    آنکھیں، کسی خواب کی سوالی
    (شعری مجموعہ: ہجر نامہ)
    ٭٭٭

    Yousuf Waheed

    محمد یوسف وحید

    مدیر: شعوروادراک خان پور