سیّد محمد فاروق القادری کی علمی و ادبی جہتیں

سیّد محمد فاروق القادری کی علمی و ادبی جہتیں
محمد یوسف وحید

زماں پہ بارِ خدایا یہ کس کا نام آیا
کہ میرے نطق نے بوسے میر ی زباں کے لیے
فخر المحققین سیّد محمد فاروق القادری تین لفظوں سے مرکب ہے مگر حقیقت میں ایک درہائے معانی ہے ۔ اس نام کا مراد و مصداق ایک بے بدل عمرانی ایکائی بھی ہے اور کثیر الجہات ادبی تحقیقی و روحانی شخصیت بھی ہے جس نے زندگی کے جس تار کو بھی چھیڑا اک نغمۂ جاں فزا ماحول کو مسحور و معمور کر نے کے لیے نہ صرف میسر فرما دیا بلکہ اس کے تسلسل کے لیے تمام تر وسائل بہم پہنچائے تو اس کی شخصیت میں موجود گہرائی فکر ، دُور اندیشی اور فہم و فراست بھی نہ صرف طشت از بام ہوتی چلی گئی بلکہ ان کے مخصوص ساحرانہ تشخص کا جادو بھی سر چڑھ کر بولنے لگا ۔

farooq qadri


گڑھی اختیار خاں ایسے پسماند ہ علاقے سے اُبھر کر پنجاب یونی ورسٹی میں خود کو ایڈجسٹ کرلینا ہی اپنی جگہ پر ایک کارنامہ تھا مگر اس فخرِ سادات شہزادے نے گلشنِ سیادت کے عظیم المرتبت اکابرین کے صدری پندار کی لاج رکھتے ہوئے ایم اے اردو ، عربی ، اسلامیات کے ساتھ ساتھ فاضل عربی، فاضل فارسی ، فاضل درس نظامی ایسی فتوحات کا سرنامہ گولڈ میڈل حاصل کرکے گویا آبِ زر سے لکھ دیا جس کی کشش نے نہ صرف اس وقت کے اعلیٰ اذہان سے داد و تحسین وصولی بلکہ اپنے ضلع رحیم یار خان اور خانوادہ سے منسلک فرد فرد کے لیے سر بلندی ٔ افتخار و انبساط کا سامان بھی کر دیا ۔
اس سب کے پیچھے فیضانِ نظر ہی کار فرما تھی ۔ کیونکہ مشائخ شاہ آباد شریف کی روحانی منزلت کا ایک زمانہ معترف چلا آرہا ہے اور اس حقیقت سے بھی کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ
یک زمانہ صحبت با اولیاء
بہتر از صد سالہ طاعتِ بے ریا
اسی زمانے میں آپ کو حکومتِ وقت کی طرف سے نہایت پُر کشش جاب آفرز بھی ہوئیں لیکن حضرت سیّد محمد فاروق القادری ؒ نے اصلاحِ معاشرہ کے منصب پر ظاہری کروفر کو نہ صرف قربان کر دیا بلکہ خاندانی روایات کے عین مطابق دینِ متین کی خدمت اس لگن سے کی کہ آپ کا مسکن شاہ آباد شریف نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد علمی و روحانی مرکز کے طور پر معروف ہوگیا ۔ جہاں مذہبی ، روحانی اور خالصتاً صوفیانہ افکار کی فکری و عملی ترویج کے لیے نہایت سازگار ماحول میسر تھا ۔
ایک خوبی جو علامہ سیّد محمد فاروق القادری کو دوسرے تمام مشائخِ عظام ، سجادگان اور روحانی پیشوائوں میں منفرد و ممتاز کرتی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ آپ نے خانقا ہ یا سلسلہ عالیہ قادریہ کو اپنے نام کے ساتھ دان کے لیے استعمال کرنا ہر گز گوارہ نہیں کیا بلکہ اپنے عمل سے آسمانِ ادب کے عالم تصوف ، میدانِ تحقیق کے ساتھ ساتھ قرطاس و قلم اور حُسنِ خطاب سے ناموری ، ارفع مقام کے وہ جھنڈے گاڑے جو نہ صرف لہراتے چلے گئے بلکہ ہزاروں پیرو کاروں کے لیے استعارے اور سہارے بھی بنتے چلے گئے ۔
جلا سکتی ہے شمع کشتہ کو موجِ نفس ان کی
الہٰی کیا چھپا ہوتا ہے اہلِ دل کے سینوں میں
کہتے ہیں حُسنِ بیان ایک جادو ہے اور حُسنِ تحریر مہا جادو ہے۔ یہ دونوں جادو کسی ایک شخص میں بیک وقت دیکھے جا سکیں، اوّل تو ایسابہت کم ہی ہوتا ہے ۔ مگر آبروئے قلم و قرطاس ، شہنشاہِ خطابت ، فخر المحققین علامہ سیّد محمد فاروق القادری ؒ کے ہاں یہ دونوں جادو نہ پائے جاتے ہیں بلکہ اپنے استحضار کے لیے باہم مقابل ہو کر قاری و سامع کی فرحت و شادمانی کا سامان کر نے میں عدیم المثال ہی ثابت ہوتے ہیں ۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ شوق شوق میں لکھاری کوئی اُچھوتا سا موضوع منتخب تو کر لیتے ہیں مگر اس کے تقاضے نبھاتے ہوئے مجبور و عاجز دکھائی دیتے ہیں ۔
مگر علامہ سیّد محمد فاروق القادریؒ نے جب قلم کو رُشد و ہدی کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کیا تو نہ صرف اپنے موضوع سے انصاف کرنے پر قادردکھائی دیئے بلکہ دنیا کی دوسری زبانوں میں محفوظ ادب کا ترجمہ کرکے اس کی فیض رسانی کو اس طرح عام اور دلچسپ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ آپ کی ہر کتاب جلد ہی اشاعتِ ثانی کا سامان کرتی چلی جاتی ہے ۔ علامہ سیّد محمد فاروق القادری ؒ نے تیس سے زیادہ کتابیں تحریر کی ہیں جس کا مشترکہ موضوع بندے اور ربّ کے درمیان ربط کی راہیں آسان کرنا ، روحانی دنیا کے اسرار و رموز کو عام فہم کرکے بھولی بھٹکی انسانیت کو اللہ کے حبیبؐ کی محبت کے چراغ روشن کرنا ہے ۔
’’ انفاس العارفین ، جامِ عرفان ، فتوحاتِ مکیہ اور اَصل مسئلہ معاشی ہے ‘‘ میں سے جس کتاب کو بھی دیکھ لیں اپنے نام کی طرح دلچسپ موضوع ، منفرد، خوب صورت حاشیہ اورمدلّل اندازِ بیان کے ساتھ علامہ سیّد محمد فاروق القادری ؒ کی علمی سخاوت و قابلیت کا عملی ثبوت ہے ۔

farooq qadri


شجاعت ، راست گوئی ، قادر الکلامی جو کہ آلِ رسول ؐ کا خاصہ رہی ہے ۔ علامہ سیّد محمد فاروق القادری ؒ کے ہاں برہانی کیفیت نمایاں دکھائی دیتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بڑے بڑے جید عالم ، محقق اور روحانی پیشوا آپ کی رائے کو بطور سند اختیار کرتے دکھائی دیتے چلے جار ہے ہیں ۔
المختصر علامہ سیّد محمد فارو ق القادری ؒ کی شخصیت کو ایک شعر کے ذریعے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں:
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
٭
(بحوالہ : شعوروادراک ، شمارہ نمبر 5،جنوری تا مارچ 2021ء، ناشر: الوحید ادبی اکیڈمی خان پور )
٭٭٭

yoousuf

محمد یوسف وحید

Next Post

30دسمبر ...تاریخ کے آئینے میں

جمعرات دسمبر 30 , 2021
30دسمبر ...تاریخ کے آئینے میں
December 30 in History