شعوروادراک کا ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘.. .لائقِ صد تحسین کاوش

شعوروادراک کا ’’حفیظ شاہد نمبر ‘‘.. .لائقِ صد تحسین کاوش
تبصرہ : ڈاکٹر عادل سعید قریشی
(ایبٹ آباد پبلک سکول ،ایبٹ آباد)

مدیر ’’شعوروادراک‘‘ ، محمد یوسف وحید کی طرف سے کتابی سلسلہ نمبر ۶،خاص شمارہ(اپریل تا جون 2021ء)، ’’ حفیظ شاہد نمبر‘‘کے چار شمارے موصول ہوئے۔جن میں سے تین شمارے بالترتیب ڈاکٹر عامر سہیل ،سہیل احمد صمیم اور محسن نذیر چوہان صاحب کو دیے اور ایک ہزارہ یونیورسٹی مانسہرہ کی ڈاکٹر صابر کلوروی میموریل لائبریری کے شعبہ اُردو میں جمع کرادیا ۔اس فراخ دلی پر آپ کا دلی شکریہ ۔خاص شمارہ ’’حفیظ شاہد نمبر‘‘ پڑھا تو شرابِ طہُور کا لطف پایا۔ اللہ آپ کے اس مشن کے لیے غیبی ذرائع سے مدد فرمائے اور آپ کو اس عظیم کام کا اَجر اپنی شان کے مطابق عنایت کرے۔ آمین
برادرم !آپ کا یہ رسالہ فرضِ کفایہ ادا کر رہا ہے اور آپ کی لگن اور کوشش کے ساتھ ساتھ معاشرے کے لیے اس زرِکثیر کی انویسمنٹ ،آپ کے اخلاص ، وژن اور مشن کا عکاس ہے۔

Shaoor o Idrak01


حفیظ شاہدمرحوم سے تعارف اسی مجلہ کے توسط سے ہوا ۔ ایک اہم اور بڑی شخصیت سے ملاقات جہاں میرے لیے خوشی اور مسرت کا باعث بنی ہے‘ وہیں دل ہی دل میں یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ ایسے کتنے ہی اُردو زبان و ادب کے نابغہ ہائے روزگار ہوں گے جو ملک کے گلی کوچوں میں اور ان کی تخلیقات الماریوں اور بکسوں میں اوجھل پڑی ہوں گی۔جن سے خود ان کے اپنے اہلِ علاقہ ناواقف ہوں گے۔ کیوں کہ ہرکوئی حفیظ شاہد،قیس فریدی،سید محمد فاروق القادری تھوڑے ہی ہوتا ہے کہ جن کو محمد یوسف وحید میسر آ جائے۔
وطنِ عزیز کو جس قدر ذہنی،فکری اورلسانی ہم آہنگی کی ضرورت اکیسیویں صدی کی ان دو دہائیوں میں محسوس ہو رہی ہے ‘شاید اس سے قبل کبھی نہ ہوئی ہو۔البتہ اس فکری، قلبی اور ذہنی یگانگت کے لیے کئی ذرائع اور وسائل استعمال میں لائے جا سکتے ہیں ۔ایک تجویز میرے پیشِ نظر ہے جو میں آپ کے مجلہ کے توسط سے اہلِ فکر ونظر کی خدمت میں پیش کرنے کی سعی کرتا ہوں کہ پاکستان کے ان عبقری حضرات کی تخلیقات اور مطبوعات کو یونیورسٹی کے درجہ پر ایک دوسرے کے ساتھ متعارف کرایا جائے۔ان حضرات پر مختلف یونیورسٹیز میں ایم فل اور بی ایس کے درجوں پر مختلف جہتوں اور عنوانات کے تحت تحقیقی اور تنقیدی کام کرایا جائے ۔اس طرح پاکستان کے ایک علاقے کے شعرا اور ادباء کاتعارف پاکستان کے دوسرے شہروں کے ادیبوں اور شاعروں سے بھی ہو گااور ملکی سطح پر افہام وتفہیم بھی پیدا ہو گی نیز تخلیقی سطح پر بہتر ادبی کاوشیں منظرِ عام پر آئیں گی ۔ یقینا اس سرگرمی سے عوام الناس بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں گے۔ یہاں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ مجلہ شعور ادراک اس حوالے سے بھر پور کام کر رہا ہے جو لائقِ صد تحسین ہے۔

idrak


شعور و ادراک کا تازہ شمارہ، کتابی سلسلہ نمبر ۶ ، ’’حفیظ شاہد نمبر‘‘ میں معروف شاعر حفیظ شاہد کی ادبی شخصیت اور ان کے ذاتی کوائف کے تمام پہلوئوں کا بھر پور احاطہ پیش کیا گیاہے۔ حالیہ شمارے میں لکھنے والوں کے پاس حفیظ شاہد کے فن و شخصیت کے حوالے سے نہ صرف عمدہ معلومات تھیں بلکہ تمام اہلِ قلم حفیظ شاہد ایسی بڑی شخصیت سے محبت اور احترام کا رشتہ بھی رکھتے تھے ۔مذکورہ خاص شمارے کے ذریعے میں ذاتی طور پر حفیظ شاہد مرحوم کے بارے میں جتنا جان پایا ہوںوہ بقولِ میر :
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
چھ شعری مجموعوں اور کلیات ’’ختمِ سفر سے پہلے ‘‘ کے خالق ، اُستادالشعراء حفیظ شاہد کی حمد ونعت سے شروع ہونے والا شعور وادراک انہی کی غزلوں پر ختم ہوا ہے۔۲۷۲ صفحات پر مشتمل خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہدنمبر ‘‘باذوق قارئین اور ادب کے طالب علموں کے لیے ایک مستند حوالہ ہے ۔ یقینا شعوروادراک کے دیگر شماروں کی طرح یہ شمارہ بھی ایک سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔خصوصی شمارہ میں شامل تمام مضامین معیاری اور منظوم خراج ِتحسین بھی نہایت عمدہ ہیں ۔خصوصی شمارہ میں شامل حفیظ شاہد کا سوانحی خاکہ ‘ جو محترمہ سعدیہ وحید نے ترتیب دیا ہے ، نہایت خوب صورت اور عمدہ کاوش ہے ۔ خصوصی شمارے کے مطالعے سے حفیظ شاہد کے شخصی اَوصاف سے واقفیت کے ساتھ ساتھ ادبی مقام و مرتبہ بھی عام قاری کے سامنے آتا ہے۔
ڈاکٹر عامر سہیل کی نثر کا میں ہمیشہ سے مداح رہا ہوں،ان کا مضمون نہایت معروضی اور معیاری ہے ۔ انہو ں نے اپنے موضوع کے ساتھ خوب انصاف کیا ہے۔ ڈاکٹرمحمد نواز کاو ش نے بھی حفیظ شاہد کی شاعری کا متوازن جائزہ پیش کیا ہے ۔حیدر قریشی کے علمی و ادبی قد کاٹھ سے کون متعارف نہیں ۔حفیظ شاہد کی شاعری کے حوالے سے ان کا مضمون بھی متاثر کن ہے ۔
ہیں دفن اسی جگہ تری تاریخ کے نقوش
بستی کے ساتھ ساتھ کھنڈر کا خیال کر
کس قدر دل نشیں کہانی ہے
میرے نینوں کی ،تیرے خوابوں کی
مرحلہ درمرحلہ روداد مسافت
انجام سفر اصل میں آغازِ سفر ہے
صادق جاوید کا مضمون بھی خاصا وقیع ہے جس میں حفیظ شاہد کی شاعری کا ناقدانہ جائزہ لیاگیا ہے اورنہایت عمدہ انداز میں ان کی خدمات کو سراہاگیا ہے ۔زاہدہ نور نے جاندار مضمون میں حفیظ شاہد کو عمدہ خراجِ تحسین پیش کیاہے ۔
الغرض محمد یوسف وحید ‘ مدیر مجلہ ’’شعوروادراک ‘‘ کو خصوصی شمارہ ’’ حفیظ شاہد نمبر ‘‘ شائع کرنے پر دلی تہنیت اور ڈھیر وں دُعائیں۔
٭٭٭

dr adil

سونیا بخاری

Next Post

5جنوری ...تاریخ کے آئینے میں

بدھ جنوری 5 , 2022
پانچ جنوری ...تاریخ کے آئینے میں
January 05 in History