بحار الانوار میں شیعہ کی وضاحت

کتاب “بحار الانوار” میں ہے کہ مولا علیؑ اپنے شیعہ سے بہت محبت کرتے تھے اپنے شیعہ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

“زیادہ رونے کی وجہ سے ان کی آنکھیں سفید ہو جاتی ہیں زیادہ روزے رکھنے کی وجہ سے ان کے پیٹ اندر دھنس جاتے ہیں دعا کرتے کرتے ان کے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں اور شب بیداری (نماز تہجد) کی وجہ سے ان کا رنگ پیلا پڑ گیا ہے اور ان کے چہروں پرخاشعیت کی علامات ہیں”

اس لیے شیعہ بننے کے لئے یہ بنیادی عنصر ہیں ۔ اگر کوئی ان پرعمل کرے تو وہ شیعہ ہے اور اگر کوئی ان باتوں کا ان درخشاں ضوابط کا قائل نہیں ہے تو وہ شیعہ نہیں ہے بلکہ سرکار کا نام لیوا ہے ایک عام مسلمان ہے اور وہ  نام کا شیعہ ہے اور شیعہ کا لباس اوڑھ کر شیعانِ علی کرم اللہ وجہہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔

میری کیا بساط !

میں کسی کو اچھا یا برا کہوں اور نہ ہی کہہ سکتا ہوں نہ ہی لکھ سکتا ہے ۔ کیونکہ میں خود انتہائی گناہ گار اور سیاه کار انسان ہوں ۔ اپنی لغزشوں اور خطاؤں کو دیکھتا ہوں تو تڑپ جانتا ہوں کہ میں بھی اپنے آپ کو شیعہ کہتا ہوں۔ میں اپنی

خود احتسابی کرتا ہوں ۔ تو کانپ جاتا ہوں مولا علی کرم اللہ وجہہ کے مذکورہ فرمان کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے کیونکہ اگر مولا علی کرم اللہ وجہہ نے روز قیامت  ٹھکرا دیا تو جہنم کا عذاب چکھنا پڑے گا۔

کیونکہ آپ ” ومن یشری نفسہ ابتغاء  مرضات اللہ ” ہیں ۔ آپکی خواہش اللہ رب العزت پوری فرماتا ہے۔ آپ کا ٹھکرایا ہوا انسان نہ دنیا کا ہے ۔ نہ ہی آخرت کا۔ اس لیے میری مانیے اور آپ بھی اپنا احتساب کیجئے !

کیا خوف خدا میں زیادہ رونے کی وجہ سے آپ کی آنکھیں سفید ہو گئیں ہیں؟

کیا زیادہ روزہ رکھنے کی وجہ سے آپ کا پیٹ اندر دھنس گیا ہے۔

 کیا زیادہ دعا کرتے کرتے آپ کے لب تشنہ وخشک دکھائی دیتے ہیں؟

کیا بہت زیادہ نماز شب پڑھنے اور راتوں کو تلاوت قرآن مجید کرنے سے آپ کا رنگ پیلا پڑ گیا ہے؟

اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے۔

تو خدا پر یقین کیجیے کہ آپ بھی پھر مثلِ بہلول دانا ہیں ! آپ بھی جنت بیچ ڈالیے۔ کیونکہ یہی کام تو مولا علی کے ملنگوں کا ہے جیسے بہلول دانا جیسے  محب نے کیا ہے۔ آپ کے عاشقوں نے آپ کی محبت کو اپنا سب کچھ کہا ہے  اسی لیے تو حضرت بہلول نے زبیدہ کو ( ریت کی ایک ڈھیری دے کر کہا تھا کہ یہ جنت ہے اور اس کی قیمت تمہارے گلے کا قیمتی ہار ہے  ) جنت کا ایک محل قیمتی ہار کے بدلے میں دے دیا تھا۔

اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو زندگی کی ظاہری نمود و نمائش ٹھکرا دیجیے ۔ اور توشہء آخرت اکھٹا کر کے اجل کا انتظار کیجیے اور جنت الفردوس میں حوض کوثر سے تشنہ لبی مٹانے کا انتظار کیجیے ۔

لیکن

اگر آپ ان احکامات پر عمل پیرا نہیں ہیں تو فکر آخرت کے لیے اپنے آپ کو آج ہی تیار کر لیجیے نماز شب آج ہی پڑھیے اور دیکھیے کہ خدا وند غفار کیسے اپنی رحمتوں کے خزانے آپ پر وا کرتا ہے۔ اور کیسے آپ کی لغزشوں  کو معاف کر کے آپ کو معصوم بچے کی طرح گناہوں سے بالکل پاک کرتا ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالٰی غفار بھی اور غفور بھی ۔

(غفور سے مراد جو بار بار غلطی کر نے پر بخش دیتا ہے اگر کوئی انسان  بخشش طلب کرے تو۔۔۔۔)

مولا علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں۔

“نماز شب پڑھنے والا جب قبر سے باہر نکلے گا تو سب سے پہلے فرشتے

 اس کو جنت کی خوشخبری سنائیں گے”۔

لیکن جنت کی خوشخبری سے پہلے ہمیں آج سورہ التکویر کی پہلی چند مقدس آیات کو پڑھ لینا چاہیے ۔ تا کہ استغفار کا قرینہ آ جائے اور قیامت کی ہولناکیوں کا خاکہ ہمارے ذہنوں پر ثبت ہو جائے اور ہم اس خوف اور اس عذاب سے بچنے کے لیے نماز شب کا دامن پکڑے رکھیں۔

hubdar qaim

سیّد حبدار قائم

کتاب ” نماز شب” کی سلسلہ وار اشاعت

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

ڈاکٹر محسن اشرف چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ اٹک تعینات

جمعہ اکتوبر 15 , 2021
انشاء اللہ شعبہ صحت کی خدمات میں بہتری آئے گی
Punjab