شافعء محشر آنحضورؐ کی نمازِ شب

آنحضورؐ ساری ساری رات اللہ رب العزت کی پاک بارگاه میں قیام ، رکوع اور سجود میں محوِ عبادت رہتے تھے بہت زیادہ عبادت و ریاضت اور راتوں کو جاگنا خداوند قدوس کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کرنا آپؐ کا وطیرہ تھا۔

رات کی تاریکیوں میں بہت زیادہ ذکر کرنا الفتِ الٰہی کا مظہر ہے۔ اللہ رب العزت کو اپنے پاک حبیبؐ کی شب بیداری کرنا اور تکلیف اٹھانا اچھا محسوس نہ ہوا تو رحمت خداوندی اپنے پاک حبیبؐ کی پاکیزہ محبت کے جوش میں آئی اور ارشاد فرمایا۔

یایها المزمل

قم الليل إلا قليلا

 نصفہ  اوانقص منه قليلا

او زد عليه ورتل القران ترتیلا 

إنا سنلقی علیک قولا ثقيلا

 انا ناشئتہ اللیل هی اشد وطا واقوم قيلا

 انا لك فی النهار سبحا طويلا

واذکر اسم ربک وتبتل اليه تبتیلا

ترجمہ:

” اے چادر لپیٹنے والے (رسولؐ ) تم رات کو (نماز کے لیے ) اٹھا کرو مگر کم (یعنی) آدھی رات یا اس میں سے کچھ کم کر دو

یا اس پر کچھ بڑھا لو اور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو عنقریب ہم تم

پر ایک سخت حکم نازل کریں گے۔

یقینا رات کا اٹھنا بڑا سخت اور ذکر کا بہت ٹھیک وقت ہے ۔

بے شک دن میں تمہارے لیے بڑی فراغت ہے اور تم اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب طرف سے ٹوٹ کر اسی کے ہو کے رہو” ۔

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:۔

یہ خاموشی کہاں تک ؟ لذت فریاد پیدا کر

زمین پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

سورہ مزمل کی مذکورہ ابتدائی آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنے پاک حبیبؐ کو نمازِ شب کے متعلق احکام صادر فرمائے ہیں ۔ اللہ

رب العزت نے اپنے محبوبؐ سے اپنی محبت کا اظہار یوں فرمایا

ہے کہ اے میرے حبیب آپ زیادہ تکلیف میں نہ رہا کریں یعنی آپ راتوں کو زیادہ نہ جاگیں بلکہ کچھ آرام بھی کر لیا کریں

آپ کی اتنی تکلیف اللہ جل شانہ نے برداشت نہ کی اور عبادت کم کرنے کے لیے کہہ دیا اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ آپؐ  دن کو فراغت کے لمحات میں عبادت کیا کریں اور ساری دنیا کو بھول کر اسی سے لو لگانے کی سعی کیا کریں ۔ سجدہ ریزی انتہائی عقیدت اور عاجزی کا مظہر ہے۔ سجدہ انبیاء کا شعار ہے سجدہ اولیاء کی زندگی ہے سجدہ محبت کی گہرائی و گیرائی ہے سجدہ خدا کی معرفت کی تلاش  کے لیے زینہ ہے ۔ سجده انتہائے بندگی ہے۔ سجدہ زیست کی ضیا کا نام ہے سجدہ معرفت قلب کا خزینہ ہے۔ سجدہ انتہائے زندگی ہے سجدہ منشائے رب ہے۔

سجدہ کمالِ حیاتِ انسان ہے سجدہ سعادتِ انسان ہے ۔ سجده علم و آگہی و عرفان ہے ۔ سجدہ معرفت انسان ہے اللہ جل شانہ کی برکت اور درخشان و تاباں و معطر کلام میں لفظ “سجده ” چونسٹھ مرتبہ دہرایا

گیا ہے ۔ اور ہر بار ایک نئی خوشبو ایک نئے زاویے ، ایک نئے اندازِ فکر اور ایک نئے اسلوب سے بیان کیا گیا ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ، ڈالی ڈالی، پھول پھول، کلی کلی ،شجر شجر، اپنی جبین کو خدائے بزرگ کے سامنے سجده ریز کرتا ہے ۔ سوره رعد میں اس کے متعلق اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔

ولله یسجد من فی السموات والأرض طوعااو کرها وظلالهم بالغدو والاصال .

زمین و آسمان میں جو کچھ بھی موجود ہے سب کے سب اللہ رب العزت کو سجدہ کرتے ہیں ۔ وہ ہی نہیں ان کے اظلال (سائے) بھی سجدہ کرتے ہیں۔

نماز شب میں یہی سجدہ جب عاجزی و انکساری اور پرنم آنکھوں کے ساتھ ادا کیا جائے تو خداوند کریم اپنی رحمتیں اور خزانوں کی چابیاں انسان کے سپرد کر دیتا ہے۔ کیونکہ اس کو انسان کا اپنے گناہوں پر نادم ہونا

بہت زیادہ پسند ہے ۔ اپنے برگزیدہ بندوں کی نشانیاں بیان فرماتے ہوئے اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے ۔ کہ جب ایسے لوگوں کے سامنے میری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو

اذا اتتلیٰ علیھم اٰیات الرحمٰن خرو اسجد وبکیا

یعنی ” روتے روتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں”۔

جب انسان کے دل پر اللہ رب العزت کا خوف اور ہیبت طاری ہوتی ہے تو وہ روتے روتے زمین پر سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ آہوں سسکیوں اور آنسووں کا نزرانہ لے کر رب کے حضور گڑگڑاتا ہے اور معافی کا خواستگار ہوتا ہے۔ اُس کی رات کی سجدہ ریزی اور اشکوں کے گوہر قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں وہ گناہوں کو یاد کر کے اللہ کا خوف دل پر وارد کر کے معافی کی طلب کرتا ہے تو اس انسان کو نویدِ شفاعت اور نویدِ بخشش سنا دی جاتی ہے۔ کیونکہ اللہ بہت کریم ہے بہت رحیم ہے۔

زیرِ نظر حدیث پاک کی رو سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تہجد کی نماز اہل سنت بھائیوں کے مطابق گیاراں رکعت  ہے اگرچہ شیعہ اثناء عشری کا بھی طریقہءنمازِ شب گیاراں رکعت ہی ہے (حوالہ جات تک تحریر گوگل پر  “”بہنوں کی درس گاہ”” کی آئی ڈی سے لی ہے)

“”” اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ رات کو گیارہ رکعات پڑھتے تھے :

’’ایک رکعت کے ساتھ تمام رکعات کو طاق بنا لیتے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد دائیں کروٹ لیٹ جاتے حتٰی کہ آپ کے پاس مؤذن آتا پھر آپ دو رکعت (سنت فجر) مختصرًا پڑھتے۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب صلوة المسافرين، باب صلوة الليل و عدد رکعات النبی صلی الله عليه وآله وسلم فی الليل، 1 : 508، رقم : 736

نمازِ تہجد کی کم از کم دو رکعات ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعات ہیں۔ بعد نمازِ عشاء بسترِ خواب پر لیٹ جائیں اور سو کر رات کے کسی بھی وقت اٹھ کر نمازِ تہجد پڑھ لیں، بہتر وقت نصف شب اور آخر شب ہے۔ تہجد کے لیے اٹھنے کا یقین ہو تو آپ عشاء کے وتر چھوڑ سکتے ہیں اس صورت میں وتر کو نماز تہجد کے ساتھ آخر میں پڑھیں یوں بشمول آٹھ نوافلِ تہجد کل گیارہ رکعات بن جائیں گی۔ رات کا اٹھنا یقینی نہ ہو تو وتر نماز عشاء کے ساتھ پڑھ لینا بہتر ہے۔

 تنہائی میں پڑھی جانے والی یہ نماز اللہ تعالیٰ سے مناجات اور ملاقات کا دروازہ ہے۔ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو تمام نفل نمازوں میں سب سے زیادہ محبوب نماز، صلاۃِ داؤد علیہ السلام ہے۔ وہ آدھی رات سوتے (پھر اٹھ کر) تہائی رات عبادت کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے۔‘‘

مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب النهی عن الصوم الدهر لمن تضرر به او فوت به حقاً لم يفطر العيدين، 2 : 816، رقم : 1159″””

فقہ جعفریہ کے مطابق نمازِ شب کا طریقہ کار کتاب کے آخر میں بتایا جائے گا۔

hubdar qaim

سیّد حبدار قائم

کتاب ‘نماز شب’ کی سلسلہ وار اشاعت

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

عظیم لیڈر اور مر د ِ حر یت...قائد ِ اعظم محمد علی جناح ؒ

ہفتہ دسمبر 25 , 2021
قائد اعظم وہ عظیم لیڈر ہے ‘جن کے بارے میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا: ’نہ تو اسے خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ خیانت کر سکتا ہے‘۔
Quaid E Azam