عظیم لیڈر اور مر د ِ حر یت…قائد ِ اعظم محمد علی جناح ؒ

عظیم لیڈر اور مر د ِ حر یت…قائد ِ اعظم محمد علی جناح ؒ
ترتیب و تدوین : محمد یوسف وحید
(مدیر: شعوروادراک خان پور)
قائد اعظم محمد علی جناح کے والد کا نام جناح پونجا اور والدہ کانام مٹھی بائی تھا۔ قائداعظم کے بہن بھائیوں میں رَحمت، مریم،احمد علی، بندے علی،شیریں اور فاطمہ جناح شامل تھے۔ایمی بائی اور مریم المعروف رَتی بائی قائد اعظم کی شریک حیات تھیں، قائد اعظم کی واحد اَولاداُن کی بیٹی دینا جناح تھیں جو مریم سے پیدا ہوئیں۔
لنکن اِن سے بیرسٹری کی تربیت حاصل کرنے والے قائد اعظم محمد علی جناح نے بمبئی ہائیکورٹ میں بطور وکیل رجسٹرڈ کروایا اور 1896ء میں اپنی عملی زندگی کا آغاز لندن گراہم ٹریڈنگ کمپنی میں اپرنٹس شپ کرکے کیا۔قائداعظم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1906 ء میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے کیا۔قائد اعظم 1913ء میں آل انڈیامسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے مابین ہونے والے میثاق ِ لکھنٔو کو مرتب کرنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
قائد اعظم وہ عظیم لیڈر ہے ‘جن کے بارے میں شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا: ’نہ تو اسے خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ خیانت کر سکتا ہے‘۔

Quaid E Azam


1920ء میں جب قائداعظم محمد علی جناح کی شادی ہوئی تو اُنہوں نے اپنے غسل خانہ کی تعمیر میں اُس وقت کے ہزاروں روپے خرچ کیے۔ مگر یہی جب گورنر جنرل کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں تو قائداعظم ڈیڑھ روپے کا موزہ لینے سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ غریب مسلمان ملک کے گورنر کو اتنی مہنگی چیز نہیں پہننی چاہیے۔
ایک دفعہ سرکاری استعمال کے لیے(37)روپے کا فرنیچر لایا گیا۔ قائداعظم نے لسٹ دیکھی تو سات روپے کی ایک کرسی ا ضافی آئی ہے، آپ نے پوچھا یہ کس لیے ہے؟ توکہا گیا کہ آپ کی بہن فا طمہ جناح کیلئے، آپ نے فرمایاکہ اس کے پیسے فاطمہ جناح سے لو۔
1933ء سے 1946ء تک قائداعظم محمد علی جناح نے کم و بیش 17قراردادیں پیش کیں، جس میں فلسطین کے حق ِخودارادایت کی بات کی گئی۔ یہ وہ دَور تھا جب پاکستان بھی وجود میں نہیں آیا تھا مگر اس کے باوجود اُن کے دل میں اُمت ِ مسلمہ کیلئے جذبہ کوٹ کوٹ کے بھراتھا۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ’پاکستان اسی روز وجود میں آگیا تھا جس روز پہلا شخص یہاں مسلمان ہوا تھا‘۔ظاہر ہے جب برصغیر میں پہلے شخص نے کلمہ پڑھا تو یہاں ایک تہذیب، ثقافت اور دین کی بنیاد پختہ ہو گئی۔ کلمہ گو اَفراد کے نام، آداب اور معاشرت بدل گئی۔ پہلے شخص کے کلمہ پڑھنے سے ہندو اور مسلم میں جو نظریاتی لکیر قائم ہوئی ، درحقیقت وہی فرق جو بعد اَزاں مطالبہ پاکستان اور قیامِ پاکستان کی وجہ بنا۔
الغر ض قائد اعظم محمد علی جناح کی شخصیت کے کن کن پہلوؤں کا تذکرہ کیا جائے۔ وہ برصغیر کی عظیم کر شماتی شخصیت کے مالک اور مردِ حُریت تھے۔ تاریخ کے معیار پراگر پر کھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح تحریک ِآزادی کی آخری سربر شخصیت تھے جسے اُن کی ذات میں اپنا نقطہء عروج حاصل ہوا۔
قائد اعظم ؒ کے چندروشن و تاباں اَقوال
۱۔ دنیا کی کوئی قوت پاکستان کا بال بیکا نہیں کرسکتا۔
۲۔ ایمان نظم و ضبط اور بے غرضی سے ذمہ داری نبھانے کے ذریعے آپ ہر وہ شے پا سکتے ہیں جسے حاصل کرنا چاہیں۔
۳۔ دیانت داری اور خلوص سے اپنا کام کیجئے۔ حکومت پاکستان کے ساتھ وفادار رہیے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ دنیا میں آپ کا ضمیر سب سے بڑی قو ت ہے آپ کی سعی ہونی چاہیے کہ جب آپ اپنے رب کے حضور پیش ہوں توکامل اعتماد سے کہہ سکیں کہ میں نے اپنی ذمہ داریاں پوری راست بازی سچائی اور خلوص سے انجام دی ہیں۔
۴۔ پاکستان کی کہانی، اسے آزاد کرانے کی جدوجہد اور کامیابیوں کی داستان، یہ عظیم انسانی اقدار ہی کا حصہ ہے۔ جب انسان زبردست مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود اپنی بقا کی جنگ لڑتا ہے۔
۵۔ میں نے سادہ اور مصنوعی ٹیپ ٹاپ کے بغیر زندگی گزاری ہے اور عام انسان کی طرح دنیا سے رخصت ہونا چاہتا ہوں۔ میں خاص طور پر اعزاز و خطاب لینے سے احتراز برتتا ہوں۔ قائد اعظم محمد علیؒ جناح اپنی گفتگو اور تقاریر میں باربار اسلام اور قر آن حکیم کا ذکر کرتے تھے۔ ان کا باطن حب ِرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قر آن کے نور سے منور تھا۔
گاندھی کے نام خط میں انہوں نے لکھا: ’قر آن مجید مسلمانوں کا ضابطہ ء حیات ہے۔ اس میں مذہبی، مجلسی، دیوانی، فوج داری، عسکری، تعزیری، معاشی اور سیاسی غرض کہ تمام شعبوں کے اَحکام موجود ہیں‘۔
1946ء میں خواتین کے جلسے میں فرمایا: ’ہندو بت پرستی کے قائل ہیں۔ ہم نہیں ہیں، ہم مساوات، حریت اور بھائی چارے کے قائل ہیں جب کہ ہندو ذات پات کے بند ھن میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے لیے یہ کس طر ح ممکن ہے کہ ہم صرف بیلٹ بکس میں اکٹھے ہو جائیں۔ آئیے اپنی کتاب مقدس قر آن حکیم اور حدیث نبوی اور اسلام کی عظیم روایات کی طرف رجوع کریں جس میں ہماری راہ نمائی کے لیے ہر چیز موجود ہے۔ ہم خلوص ِ نیت سے ان کی پیروی کریں اور اپنی عظیم کتاب قر آنِ کریم کا اتباع!‘
آل انڈیا ریڈیو سے عید کے موقع پر نومبر1930ء میں مسلمانان ِ ہند سے خطاب کر تے ہوئے فرمایا: ’قر آن حکیم میں انسان کو اللہ تعالیٰ کا زمین پر خلیفہ قرار دیا گیا ہے، اس لیے ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم قر آن کریم کی تعلیمات پر عمل کریں اور دوسروں سے اسی طرح سلوک کریں جس طر ح اللہ بھی انسانوں سے کرتا ہے‘۔
قائد اعظم کی لائبریری میں قرآن حکیم کے کئی عمدہ نسخے موجود تھے۔ ایک بہترین نسخہ ان کے بیڈروم میں اونچی جگہ پر رکھا رہتا تھا۔ وہ قر آن حکیم اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی پڑھتے اور قرآن پاک سے راہ نمائی حاصل کر تے تھے۔ ان کے زیر استعمال قر آنی نسخے میں بہت سے معاملات پر جگہ جگہ نشان لگے ہوئے تھے۔ قر آنِ کریم کا وہ نسخہ اب بھی میوزیم کی زینت ہے ۔شاہی مسجد کے امام مولانا غلام رشید مفسراور شارح قر آن تھے۔ قائد اعظم کے بارے میں فرمایا کہ میں بڑی بڑی نا م ور ہستیوں سے ملا، سیاسی لیڈروں اور مذہبی رہنماؤں کو دیکھا لیکن مجھے پوری زندگی میں قائد اعظم سے بڑھ کر کوئی شخصیت متاثر نہ کر سکی۔ میں نے ہر ایک کو اُن سے کم پایا۔ بلندی ء کردار کے اعتبار سے بھی اور قر آنی بصیرت کے نہج سے بھی۔ اس قسم کے انسان صدیوں میں جا کر پید ا ہوتے ہیں۔
٭


قائد اعظم کے متعلق اَہل ِ نظر کی آرا ء
٭ شہنشاہ اور نگزیب کے بعد ہندوستان نے اتنا بڑا مسلمان لیڈر پیدا نہیں کیا جس کے غیر متزلزل ایمان اور اَٹل ارادے نے دس کروڑ شکست خوردہ مسلمانوں کو کامرانیوں میں بدل دیا ہو۔
(علامہ شبیر احمد عثمانی)
٭تاریخ ایسی مثالیں بہت کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبور و محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سر و سامانی اور مخالفت کی تند و تیز آندھیوں کے دوان دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا کر رکھ دی ہو۔ (مولانا ظفر علی خان)
٭اس کا عزم پائندہ و محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھا، جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کوئی باک محسوس نہ کر تا تھا۔ یہ الفاظ قائد کے انتہائی مخالف کی زبان سے اَدا ہوئے تھے۔ (عنایت اللہ مشرقی)
٭قائد اعظم بر گزیدہ ترین ہستیوں میں سے تھے جو کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ اُن کا شمار عظیم ترین ہستیوں میں کرے گی۔ (لیاقت علی خان)
حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم کے معیار کی کامیابی دنیا میں بہت کم رہنماؤں کو میسر ہوئی ہے۔ ان کی مخالفت پر دو بہت بڑی طاقتیں کمر بستہ تھیں یعنی انڈین نیشنل کانگریس اور بر طانوی حکومت۔ پھر جس وقت انہوں نے حصولِ پاکستان کے لیے مسلمانوں کی قیادت کا فیصلہ کیا۔ اس وقت بظاہر برصغیر کے مسلمان منتشر اور کمز ور نظر آرہے تھے۔ قائد اعظم کی قیادت ہمیں بتاتی ہے کہ انسانوں کی زندگی میں عزم و ہمت اور صداقت کی کتنی اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ
یقین اَفراد کا سرمایہء تعمیرِ ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیرِ ملت ہے
قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری سالانہ اجلاس میں‘جو کراچی میں منعقد ہوا تھا، دسمبر 1943ء کے آخری ہفتے میں اپنے خطبۂ صدارت میں واضح الفاظ میں فرمایا تھا:
……وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے ہم مسلمان جسدِ واحد کی طرح ہیں؟
……وہ کون سی چٹان ہے جس پر اس ملت کی عمارت اُستوار ہے؟
……وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس اُمت کی کشتی محفوظ کر دی گئی ہے؟
وہ رشتہ، وہ چٹان، وہ لنگر اللہ کی کتاب ’قر آنِ مجید‘ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے چلے جائیں گے، ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا چلا جائے گا‘۔
اس پورے پسِ منظر میں ’ایمان، اتحاد، تنظیم‘ کے معانی واضح ہو جاتے ہیں۔ قائد اعظم کی قیادت اسی جذبہء ایمانی کی مظہر تھی۔ قائد اعظم کو خراجِ عقیدت
ہر سمت مسلمانوں پہ چھائی تھی تباہی
ملک اپنا تھا اور غیروں کے ہاتھوں میں تھی شاہی
ایسے میں اُٹھا دینِ محمدؐ کا سپاہی
اور نعرہء تکبیر سے دی تو نے گواہی
اسلام کا جھنڈا لیے آیا سرِ میدان
اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان
٭
دیکھا تھا جو اقبالؒ نے اک خواب سہانا
اس خواب کو اک روز حقیقت ہے بتانا
یہ سوچا جو تو نے تو ہنسا تجھ پہ زمانہ
ہر چال سے چاہا تجھے دشمن نے ہرا نا
مارا وہ تو نے داؤ کہ دشمن بھی گئے مان
اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
لڑنے کا دشمنوں سے عجب ڈھنگ نکالا
نہ توپ نہ بندوق نہ تلوار نہ پھالا
سچائی کے انمول اصولوں کو سنبھالا
پنہاں تیرے پیغام میں جادو تھا نرالا
ایمان والے چل پڑے سن کر تیرا فرمان
اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان
٭
پنجاب سے بنگال سے جو ان چل پڑے
گھر بار چھوڑ بے سرو سامان چل پڑے
ساتھ اپنے مہاجر لیے قر آن چل پڑے
اور قائد ملت بھی چلے ہونے کو قربان
اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان
٭
نقشہ بدل کے رکھ دیا اس ملک کا تو نے
سایہ تھا محمد کا، علی کا تیرے سر پہ
دنیا سے کہا تو نے کوئی ہم سے نہ اُلجھے
لکھا ہے اس زمیں پہ شہیدوں نے لہو سے
آزاد ہیں آزاد رہیں گے یہ مسلمان
اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان
٭
ہے آج تک ہمیں وہ قیامت کی گھڑی یاد
میت پہ تیری چیخ کے ہم نے جو کی فریاد
بولی یہ تیری روح نہ سمجھو اسے بیداد
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کر بلا کے بعد
گر وقت پڑے ملک پہ ہوجائیے قربان
اے قائداعظم تیرا احسان ہے احسان
تیرا احسان ہے تیرا احسان
٭
(بحوالہ : قائد نے فرمایا ، ترتیب و تدوین : محمد یوسف وحید ، ناشر : الوحید ادبی اکیڈمی خان پور، 2020ء )
٭٭٭

yousuf waheed

محمد یوسف وحید

Next Post

27 دسمبر ...تاریخ کے آئینے میں

اتوار دسمبر 26 , 2021
27دسمبر 1994ء ۔ پاکستان کے محکمہ ڈاک نے لاہور عجائب گھرکے قیام کی سوویں سالگرہ کے موقع پر ایک خوبصورت یادگاری ڈاک ٹکٹ کا اجرا کیا
27 دسمبر …تاریخ کے آئینے میں