مولا علیؑ کی نظر میں دنیا ایک دھوکہ

علامہ مفتی جعفر اپنی کتاب”سیرت امیرالمومنین” کے صفحہ ١٢٢ اور ١٢٣ پر رقم طراز ہیں ایک مرتبہ ضرار ابن ضمرہ حنبائی معاویہؓ کے ہاں آئے۔ معاویہؓ نے کہا کہ تمہیں تو علیؑ کی صحبت میں رہنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ کچھ ان کے متعلق بیان کرو۔

ضرار نے معذرت چاہی۔ جب اصرار زیادہ ہوا تو مولا علیؑ کے متعلق یہ کہا :۔

“خدا کی قسم اُن کے ارادے بلند اور قوی مضبوط تھے۔ فیصلہ کن بات کہتے اور عدل و انصاف کے ساتھ حکم کرتے۔ ان کے پہلووں سے علم کے سوتے پھوٹتے اور کلام کے گوشوں سے حکمت و دانائی کے نغمے گونجتے تھے۔ دنیا اور اس کی رونق و بہار سے وحشت کھاتے ۔ رات اور اس کے سناٹوں سے جی بہلاتے آنکھوں سے ٹپا ٹپ آنسو گرتے اور فکر و سوچ میں ڈوبے رہتے لباس وہ پسند آتا جو مختصر ہوتا اور کھانا وہ بھاتا جو روکھا و پھیکا ہوتا۔ وہ ہم میں ایک عام آدمی کی طرح رہتے سہتے۔ ہم کچھ پوچھتے تو جواب دیتےاور کچھ دریافت کرتے تو بتاتے۔ خدا کی قسم باوجود قرب کے ان کی ہیبت و جلال کے سامنے ہمیں لب کشائی کی جرات نہ ہوتی تھی۔ اہل دین کی تعظیم کرتے مسکینوں کو قرب کا شرف بخشتے۔ طاقتور کو یہ توقع نہ ہوتی تھی کہ بے راہروی میں ان کی ہمدردی حاصل کر سکے گا۔ اور کمزور کو ان کے انصاف سے مایوسی نہ ہوتی تھی۔ خدا شاہد ہے میں نے بعض مقامات پر جبکہ رات کے پردے آویزاں اور ستارے پنہاں ہوتے تھے۔ انہیں دیکھا ہے کہ اپنی ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے اس طرح تڑپتے تھے۔ جس طرح کوئی مارگزیدہ تڑپتا ہے اور اس طرح روتے تھے جیسے کوئی غمزدہ روتا ہے اور کہہ رہے ہوتے تھے کہ اے دنیا جا کسی اور کو فریب دے ۔کیا میرے سامنے اپنے آپ کو لاتی ہے۔ یا مجھ پر فریفتہ ہو کر قریب آئی ہے۔ یہ کیونکر ہو سکتا ہے میں تو تجھے تین بار طلاق دے چکا ہوں جس کے بعد رجوع کی صورت نہیں ۔

تیری عمر چند روز اور تیری اہمیت بہت کم ہے۔ افسوس زادِ راہ تھوڑا ،سفر دور دراز اور راستہ وحشت ناک ہے۔”

یہ ہے کردارِ حیدر جو مکمل رودادِ ہستی ہے۔ یہ ہے رات کے سناٹوں میں مناجات و نوافل اور عاجزی و انکساری کا عظیم درس اور یہ ہے اجل کو یاد کرنے کا غم ناک انداز اور یہ ہے دنیا کی چند روزہ زندگی کے بے ثباتی کا تذکرہ۔ جو ہمیں در حیدر سے ورثے میں ملا ہے قبر اور موت کے متعلق یاد دہانی اور دنیا کو چھوڑنے کا۔ ان ہونی موت کے متعلق شاعر نے کیا خوب کہا ہے:۔

قبر کے چوکٹھے خالی ہیں انہیں مت بھولو

جانے کب کون سی تصویر لگا دی جائے

رات کی تنہائیوں ، تاریکیوں بلکہ ماہتاب کی چھلکتی ضیا میں اور ستاروں کی انجمن  میں جو شخص نماز شب کے لیے اٹھتا ہے تو اہل فلک کو وہ ایک روشن ستارہ ہی نظر آتا ہے اور یہی وہ ساعتیں ہوتی ہیں ۔ جب خالق کائنات بار بار پکار کر فرماتا ہے۔ کہ ہے کوئی توبہ کرنے والا ۔ ہے کوئی مغفرت کا طالب۔ اور ہے کوئی موت کی تلخیوں کی بجائے جنت کی بشارت حاصل کرنے والا۔ کیونکہ موت برحق ہے جس کا ہر کسی کو ذائقہ چکھنا ہے۔ جس طرح پھول کی پنکھڑیوں پر شبنم کی ساری کائنات آفتاب کی تمازت ختم کر دیتی ہے۔ اسی طرح موت ہر ذی روح کو زندگی کی حسیں ساعتوں سے محروم کر دیتی ہے اور زندگی کی یہ مختصر ساعتیں اگر شب بیداری میں ذکر خدا وند متعال میں گزری ہوں تو امر ہو جاتی ہے۔ اور ان کا اجر بہت ہی زیادہ اور عظیم ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم موت کی تلخیوں کو یاد رکھیں اور اپنی جبینوں کو رات کے اندھیروں میں

خدا وند متعال کے آگے جھکائے رکھیں کہ چند ساعتہ زندگی کا یہی تقاضا ہے زندگی کے مختصر ہونے کے متعلق قصیر مشہدی اپنے اس شعر میں یوں کہتا ہے:۔

کُھل گیا یہ راز، کتنی  مختصر ہے زندگی

خاک میں ملتے ہوئے گلہائے خنداں دیکھ کر

موت کی آغوش اور زندگی کی بے ثباتی کا تذکرہ انسان کو تدبر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے شیعہ اثنا عشری کو یہ شرف حاصل ہے کہ  آئمہ معصومین نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کو ششدر کر دیا۔ مولا علیؑ سے لے کر گیارہویں امام تک کے اعمال سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے۔ کہ نماز شب کو ہمارے ان عظیم آئمہ نے کبھی بھی ترک نہ کیا۔ مولا علیؑ  کی زیست کی آخری ساعتیں ہی لیجیے ۔آپ کے متعلق السید اولاد حیدر صاحب فوق بلگرامی اپنی کتاب سراج المبین فی تاریخ امیر المومنینؑ کے صفحہ ۴٢١ اور ۴٢٢ اور ۴٢٣ پر لکھتے ہیں کہ:۔

 جناب امیر المومنین پر جو کیفیت اُس رات کو طاری تھی وہ علی العموم تمام اسلامی کتابوں میں درج ہے۔ دن بھر کا روزہ رات بھر کی شب بیداری طول و طویل رکوع و سجود ۔ ایفائے عہد کا خیال اہل و عیال کی مفارقت کچھ ایسی بے چینی اور اضطراب کی کیفیت تھی”کہ امیر المومنین نے وہ تمام رات اسی اضطراب میں بسر کی۔

 اس سے آگے مزید لکھتے ہیں کہ۔

” امیرالمومنینؑ کا معمول تھا کہ رات ہی مسجد میں جاتے اور اُسی وقت سے عبادت الٰہی میں مصروف ہوتے تھے یہاں تک کہ صبح کے آثار نمایاں ہوتے۔ خدا کے  عبادت  گزار بندے اسکی عبادت کے لیے مسجد میں جمع ہوتے تھے۔ امیر المومنین ان کے ساتھ نماز باجماعت پڑھتے تھے۔ اور خطبہ وغیرہ سے فراغت پاکر دن چڑہے گھر واپس آتے تھے اس دن بھی حسب معمول امیرالمومنین اسی طرح مسجد میں تشریف لے گئے گھر سے نکلتے ہی آپ نے یہ اشعار پڑھے

أَشدُد حيازَيمكَ لِلمَو تِ فَإِنَّ المَوتَ لاقيكا وَلا تَجزع مِنَ المَوتِ إِذا حَلَّ بِواديكا

اپنی کمر کو موت کے لیے باندھ لو۔ موت بہت جلد تجھ سے ملاقات کرنے والی ہے اپنی موت سے جبکہ وہ تیرے پاس آئے تو مت گھبرا”

مسجد میں تشریف لائے۔ جو لوگ صحن میں سو رہے تھے انکو بیدار فرما کر خود خدا کی تسبیح و تقدس میں مصروف ہوئے تو عبدالرحمن ابن ملجم اور اس  کے ہمراہی بھی مسجد ہی میں شام سے گھات لگائے ہوئے تھے جب نمازِ صبح کا وقت ہوا اور امیرالمومنین محراب عبادت میں تشریف لا کر نماز میں مصروف ہوئے تو عبدالرحمن ابن ملجم سب سے پہلے صف میں کھڑا ہوگیا۔

امیرالمومنین نے سجدہ اول سے فراغت پاکر دوسرے سجدہ میں جونہی اپنا سر جھکایا کہ ابن ملجم نے اپنی زہر آلودہ تیغ کی ضرب لگائی۔ اتفاق سے اسکی تلوار اسی مقام پر ڈوبی جہاں عمر ابن عبد ود کی تلوار تیس برس پہلے لگ چکی تھی۔ کاسہء سر سے لے کر جبین مبارک تک شگافتہ ہوگئی اور خدا کے برگزیدہ مصلٰی کا خون پانی کی طرح مصلے پر چاروں طرف بہنے لگا ابن ملجم نامراد کی تلوار کھاتے ہی امیرالمومنینؑ نے باآواز بلند کی۔

بسم اللہ وباللہ وعلی ملت رسول اللہ فذت برب الکعبہ

سوانح عمری ٨٠٦ با سند ابن اشبر۔

زخم کی شدت نے اس وقت اس سے زیادہ نہ کہنے دیا۔ دونوں ہاتھوں سے جبین مبارک تھام کر آپ خدا کی راہ میں جھک گئے اور دیر تک اپنے خون میں لوٹتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اٹھے اور مسجد کی خاک لیکر زخم پر چھڑکتے جاتے اور ذیل کا آیہ تلاوت فرماتے جاتے تھے۔

آیت:

منھا خلقنکم وفیھا نعید کم و منھا نخرجکم تارة اخری o

ہم نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو پھیریں گے اور پھر اس سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔

وہ جان نثار اور خالص الایمان مقتدی جو امیرالمومنین کے ساتھ نماز میں شریک تھے اس درد ناک واقعہ کو دیکھ کر دو تین حصوں میں ہو گئے۔ کچھ لوگ تو دولت سرٰی کی طرف خبر دینے کے لیے دوڑے اور کچھ وہیں آپکے پاس رہے بقیہ ابن ملجم کی تلاش میں لگے رہے: ۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ رات بھر عبادت میں مشغول رہتے تھے اور اللہ رب العزت کی حمد و تسبیح اور استغفار کرتے تھے تا کہ آنے والی نسلوں کو نمازِ شب کی اہمیت معلوم ہو جائے اور وہ آپ کی اطاعت میں نماز شب ادا کرتے رہیں۔

hubdar qaim

سیّد حبدار قائم

کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

ڈاکٹر شہریار اقبال ڈیپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر مقرر

ہفتہ جون 4 , 2022
کٹر شہریار اقبال کو ڈیپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر تحصیل اٹک کا ایڈیشنل چارج دے دیا گیا
ڈاکٹر شہریار اقبال ڈیپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر مقرر