اداس موسم، گہری کہانیاں
ڈاکٹر فرہاد احمد فگار
اختصاریہ نثر کی ایک ایسی مختصر اور بامعنی صنف ہے جس میں زندگی کے کسی ایک پہلو، سماجی رویے، انسانی المیے یا فکری تضاد کو نہایت کم الفاظ میں اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ پوری تحریر ایک وحدتِ تاثر قائم رکھے۔ اس میں غیر ضروری تفصیل، کرداروں کی کثرت یا واقعاتی پھیلاؤ کی بجائے اشاریت، علامت، اور معنوی گہرائی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ہم کہ سکتے ہیں کہ:”اختصاریہ نثر کی ایک مختصر مگر گہری اور علامتی صنف ہے جس میں زندگی کے کسی ایک پہلو یا خیال کو نہایت اختصار، اشاریت اور فکری شدت کے ساتھ اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ کم وقت میں پڑھا جا سکے اور افسانے کی طرح قاری پر بھرپور اور دیرپا وحدتِ تاثر قائم کرے۔ اختصاریے کا اختتام عموماً چونکا دینے والا یا فکر انگیز ہوتا ہے۔”
اس تعریف کی روشنی میں جب ہم شوکت اقبال کے اختصاریوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اختصاریے اردو ادب میں ایک اہم اور بامعنی تجربے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف اختصار اور اثر آفرینی کا حسین امتزاج ہیں بلکہ عصرِ حاضر کے سماجی، فکری اور اخلاقی مسائل کی نہایت گہرائی سےعکاسی بھی کرتے ہیں۔ شوکت اقبال کے اختصاریوں کا یہ مجموعہ "اداس موسم میں ملاقات” اردو ادب میں اس صنف کے حوالے سے اوّلیت کا حامل ہے۔ اس مجموعے نے اس نئی صنف کو باقاعدہ ادبی شناخت عطا کی۔
اختصاریہ اپنی ساخت کے اعتبار سے مختصر ضرور ہے مگر بہ لحاظ معنویت نہایت وسیع اور تِہ دار ہوتا ہے۔ شوکت اقبال کے اختصاریوں میں یہ خوبی نمایاں ہے کہ وہ ایک لمحے، ایک منظر یا ایک مکالمے کے ذریعے سے پورے معاشرے کی تصویر کھینچ دیتے ہیں۔ مثلاً "تفریق و تقسیم” میں زندگی کو ریاضی کے استعارے میں پیش کیا گیا ہے:
"جمع بھی محض لفظی اور وقتی تسکین تھی ، عملاً وصولی کے فوراً بعد تقسیم وتفریق کا دفتر کھل جاتا”
یہ اقتباس انسانی زندگی کی اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ خوشیاں عارضی اور دکھ مستقل ہو جاتے ہیں۔ یہاں ریاضی کی اصطلاحات علامتی انداز میں استعمال ہو کر زندگی کی بے معنویت اور مسلسل کٹاؤ کو ظاہر کرتی ہیں۔
شوکت اقبال کے اختصاریوں کا ایک اہم پہلو ان کا سماجی اور سیاسی شعور ہے۔ "غدار” ایک نہایت مختصر مگر گہرا طنزیہ اختصاریہ ہے:
"میرے خیال میں انھیں ان کے حقوق ۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کون غدار ہے”
یہاں اختلافِ رائے کو غداری قرار دینے کی روش پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ محض ایک جملے کے ذریعے سے پورے سیاسی بیانیے کی منافقت بے نِقاب کر دی گئی ہے۔ اسی طرح "راستہ” میں استحصال اور چالاکی کو نہایت سادہ مکالمے کی صورت میں پیش کیا گیاہے:
"زمین نہیں دیں گے تو گزریں گے کہاں سے ؟”
یہ جملہ طاقت اور وسائل کے ناجائز استعمال کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔
شوکت اقبال کے اختصاریوں میں جذباتی گہرائی بھی نمایاں ہے۔ "افسردہ ستارے” میں ایک ادبی شخصیت کے بچھڑنے کا کرب یوں بیان ہوا:
"مگر میرا ستارہ ، میرا ‘افتخار’ نہیں پلٹا”
یہاں "ستارہ” ایک علامت ہے جو نہ صرف ایک فرد بلکہ ایک عہد کے اختتام کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح "دھندلا منظر” میں محبت اور جدائی کا احساس نہایت لطیف انداز میں ابھرتا ہے:
"روح سے اُٹھتا دھواں آنسوؤں کی صورت لفظوں میں ڈھلتا ہے”
یہ اقتباس داخلی کرب کو تصویری انداز میں پیش کرتا ہے، جو قاری کے دل پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
"تہوار” ایک نہایت مؤثر اختصاریہ ہے جو طبقاتی فرق کو اجاگر کرتا ہے:
"جن کے پیٹ روٹی کی فکر سے آزاد ہوں ان کے لیے یہ برفانی طوفان بھی تہوار کی طرح ہے”
یہ جملہ پورے معاشی نظام پر ایک گہرا تبصرہ ہے جہاں ایک طبقہ مشکلات میں بھی خوشی تلاش کر لیتا ہے جب کہ دوسرا بنیادی ضروریات سے محروم رہتا ہے۔
"قاتلوا” اور "میرے ہم نام قاتل” میں احتجاجی لہجہ نمایاں ہے۔ خاص طور پر یہ اقتباس:
"میں جنھیں اپنا سمجھ بیٹھا تھا”
اپنوں کی بے وفائی اور داخلی انتشار کو نہایت دردناک انداز میں بیان کرتا ہے۔ یہ اختصاریے قاری کو صرف متاثر نہیں کرتے بلکہ اسے سوچنے اور سوال اٹھانے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔
"گھاس خور” ایک مختصر مگر برجستہ طنز ہے:
"جو ان اشیائےخورونوش کو حقیر جانے وہ کیا کھاتا ہو گا ؟ ‘گھاس'”
یہاں سادہ مکالمے کے ذریعے سے تکبر اور طبقاتی برتری کے احساس کو طنزیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو شوکت اقبال کے اختصاریے اختصار میں جامعیت، وحدتِ تاثر، علامت اور استعارے کے مؤثر استعمال اور گہرے سماجی و فکری شعور کے حامل ہیں۔ یہ تحریریں محض کہانیاں نہیں بلکہ عہدِ حاضر کا آئینہ ہیں جن میں انسانی جذبات، معاشرتی ناہم واری اور فکری تضادات نہایت خوب صورتی سے سمٹ آئے ہیں۔
شوکت اقبال کا یہ تجربہ اس لحاظ سے نہایت کامیاب ہے کہ انھوں نے ایک مختصر صنف میں بڑے اور گہرے موضوعات کو سمو دیا ہے اور "اداس موسم میں ملاقات” جیسے مجموعے کی صورت اسے ادبی روایت کا حصہ بنا دیا ہے۔ موجودہ دور میں جہاں وقت کی قلت ہے وہاں ایسی تحریریں نہ صرف قاری کی ادبی پیاس بجھاتی ہیں بلکہ اسے سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔ یہ اختصاریے اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ ادب کی تاثیر اس کی طوالت میں نہیں بلکہ اس کی معنوی گہرائی اور سچائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |