Tag: لاہور

  • فیصل آباد کے بیٹے کی حیران کن صنعتی کامیابی

    فیصل آباد کے بیٹے کی حیران کن صنعتی کامیابی

    فیصل آباد کے بیٹے کی حیران کن صنعتی کامیابی

    Dubai Naama

    فیصل آباد کو "منی مانچسٹر” یونہی نہیں کہا جاتا۔ یہ شہر محنت، ہنر اور کاروباری ذہن کا استعارہ ہے۔ یہاں کی گلیوں میں پیدا ہونے والا بچہ بھی صنعت و تجارت کی خوشبو سونگھ کر بڑا ہوتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ فیصل آباد کی فیکٹریوں میں کام کرنے والا ایک عام مزدور بھی ایک دن کارخانوں کا مالک بن جاتا ہے۔ پاکستانی صنعت و حرفت کی ترقی میں فیصل آباد آج بھی کراچی اور لاہور کے بعد تیسرے نمبر پر ہے، اور اس کی وجہ یہاں کے لوگوں کا "کوشش کرنے والا” مزاج ہے۔

    انہی خودساختہ (Self Made Man) صنعت کاروں میں ایک روشن نام ندیم شاہد صاحب کا ہے، جو پیٹروفاسٹ مڈل ایسٹ ایف زیڈ سی (Petrofast Middle East FZC) کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ ان کی کہانی کسی فلم کے اسکرپٹ سے کم نہیں۔ 1997 میں انہوں نے متحدہ عرب امارات کے عجمان الحمریہ فری زون میں صرف فاسٹنرز اور نٹ بولٹس کی ایک چھوٹی سی فیکٹری لگائی۔ نہ بڑا سرمایہ تھا، نہ کوئی سفارش۔ صرف ہنر، ایمانداری اور اللہ پر بھروسہ تھا۔ آج وہی چھوٹی سی فیکٹری ایک "ملٹی نیشنل گروپ” بن چکی ہے۔ اس کے مینوفیکچرنگ یونٹس سعودی عرب کے دمام، پاکستان کے لاہور اور امریکہ کے ٹیکساس میں کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ہزاروں خاندانوں کا چولہا ان فیکٹریوں سے جلتا ہے۔

    فیصل آباد کے بیٹے کی حیران کن صنعتی کامیابی

    ندیم شاہد کی تعلیم کامرس میں ہے، لیکن قسمت انہیں اتفاقی طور پر صنعت کے میدان میں لے آئی۔ اور پھر انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ان کی "کمپنی پیٹروفاست مڈل ایسٹ” (Petrofast Middle East) آج مشرق وسطیٰ کی سب سے تیز رفتار فاسٹننگ سلوشن پرووائیڈر کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ وہ ایڈناک (ADNOC) کے منظور شدہ وینڈر ہیں اور اینکر بولٹس (Anchor Bolts) سمیت تمام سٹینڈرڈ فاسٹنرز سپلائی کرتے ہیں۔ ان کے پاس ISO 9001:2015 سرٹیفیکیشن ہے اور ان کا گودام ہزاروں مربع فٹ پر پھیلا ہوا جدید ویئر ہاؤس ہے۔ الائے اسٹیل، کاربن اسٹیل، سٹین لیس اسٹیل، ڈوپلیکس، مونیل اور ہیسٹیلائے جیسے تمام گریڈز ان کے پاس دستیاب ہیں۔

    چند روز قبل ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ میں نے سوچا تھا ایک بڑے صنعت کار سے ملوں گا تو غرور، شان و شوکت ملے گی۔ لیکن حیرت ہوئی جب انتہائی منکسرالمزاج شخص سامنے بیٹھا تھا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے جو بات کہی وہ سیدھی دل پر لگی گئی۔ بولے: "بھائی، انسان صرف کوشش کر سکتا ہے۔ نتیجہ اس کے ہاتھ میں نہیں۔ میری ہر کامیابی میں میرا کوئی کمال نہیں۔ یہ سب اللہ کا کرم ہے۔ اگر وہ نہ چاہے تو میں کچھ بھی نہیں۔”

    یہ جملہ ایک کامیاب بزنس مین کی زبان سے سننا نایاب ہے۔ آج کل ہر کوئی اپنی کامیابی کا کریڈٹ خود لیتا ہے۔ لیکن ندیم شاہد کی عاجزی بتا رہی تھی کہ اصل کامیاب انسان وہی ہے جو اپنے اصل مالک کو نہ بھولے۔ ان کا ماننا ہے کہ فیصل آباد کے لوگ اسی لیے آگے بڑھتے ہیں کیونکہ وہ محنت کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔

    ان کی کہانی ہر اس نوجوان کے لیے مشعلِ راہ ہے جو کہتا ہے "موقع نہیں مل رہا”۔ یاد رکھیں  موقع ملتا نہیں، بنایا جاتا ہے۔ ایک نٹ بولٹ سے شروع کر کے ملٹی نیشنل کمپنی بنانا کوئی جادو نہیں، صرف لگن اور عاجزی کا نتیجہ ہے۔

    فیصل آباد کے ایسے بیٹے ہمارا سرمایہ ہیں۔ حکومت کو چایئے کہ ایسے محنتی، متحرک اور قابل تقلید صنعت کاروں کو سامنے لائے تاکہ نئی نسل کو پتہ چلے کہ کرکٹ اور ٹک ٹاک کے علاوہ بھی کامیابی کے راستے ہیں۔

  • ٹرک کے بمپر کا ڈیزائنر شاہد خان بلینیئر کیسے بنا

    ٹرک کے بمپر کا ڈیزائنر شاہد خان بلینیئر کیسے بنا

    ٹرک کے بمپر کا ڈیزائنر شاہد خان بلینیئر کیسے بنا

    Dubai Naama

    واحد پاکستانی نژاد امریکی شاہد خان سنہ 2019ء کے بعد مشہور امریکی جریدے فوربز کی جاری کردہ دنیا کے 400 امیر ترین افراد کی فہرست میں مسلسل 3 سال تک شامل رہا۔ دنیا کی مشہور ترین کمپنیوں ٹیسلا، نیورا لنک اور اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک، آن لائن ریٹیل کمپنی امازون کے بانی اور سابق سی ای او جیف بزوز اور فیس بک کے مالک مارک زکربرگ جیسے افراد کے ساتھ شائع ہونا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔

    شاہد خان جب 16 برس کی عمر میں امریکہ گئے تو اس وقت ان کے پاس 500 ڈالر کی معمولی رقم اور جہاز کے ٹکٹ کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔انہوں نے امریکہ میں اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک ریسٹورنٹ میں برتن مانجھنے سے کیا، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے آگے سے آگے بڑھتے چلے گئے !

    انجینیئر شاہد خان نے 1980ء میں اپنے سابق مالک سے آٹو پارٹس کی "فلیکس این گیٹ” نامی ایک دیوالیہ کمپنی خریدی تو ان کی کامیابی کی وجہ ان کا ڈیزائن کیا گیا ٹرک کا ایک "بمپر” بنا۔ اس وقت دنیا بھر میں ان کی کمپنی کے 66 کارخانے اور پلانٹس ہیں جن میں 24 ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔ جب شاہد خان نے یہ کمپنی خریدی، تو وہ دیوالیہ ہو چکی تھی۔ شاہدخان نے نئے سرے سے اسے پاوں پر کھڑا کیا اور آج یہ کمپنی شمالی امریکہ میں فاضل پرزہ جات بنانے والی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ سنہ 2011ء میں فلیکس این گیٹ نے 3 ارب 40 کروڑ ڈالر (یعنی 326 ارب 40 کروڑ پاکستانی روپے) کا مال فروخت کیا۔ امرا کی جائیدادوں کا حساب لگانے والے اس مشہور امریکی رسالہ کے مطابق شاہد خان واحد پاکستانی امریکی ہیں جو سب سے زیادہ معروف ہیں جنہیں امیرترین پاکستانی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ شاہد خان کی داستان جدوجہد بے مثال کامیابیوں سے عبارت ہے۔ وہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ان کا تعلق پاکستانی متوسط طبقے سے ہے۔ والد نے عمر بھر کی جمع پونچی خرچ کر کے اپنے ہونہار بیٹے کو امریکہ بھجوایا تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے۔ جب بیٹے نے تعلیم مکمل کی، تو انہوں نے ابتدائی مزدوری کے بعد اپنے  کاروبا کا آغاز کیا اور پھر امریکہ ہی میں بس گئے۔

    جنوری 2012ء میں شاہد خان نے امریکی فٹ بال کے سب سے بڑے ٹورنامنٹ "نیشنل فٹ بال لیگ” (این ایف ایل) میں شامل ٹیم، ’’جیگ وار‘‘ کو 700 ملین ڈالر (تقریباً پاکستانی سات ارب روپے) میں خریدا۔ یوں انھیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہوا کہ وہ کسی بھی اقلیتی نسل سے تعلق رکھنے والے پہلے فرد بن گئے جو این ایف ایل میں کسی ٹیم کے مالک ہیں۔ امریکی عوام نیشنل فٹ بال لیگ کے دیوانے ہیں۔ جب اس چیمپیئن شپ کے مقابلے ہوں، تو وہ سبھی کام چھوڑ کر انھیں دیکھتے ہیں۔ ان  مقابلوں کا فائنل "سپر بال سنڈے” کہلاتا ہے۔ یہ ایک مخصوص امریکی چیمپیئن شپ ہے، لیکن یہ امریکہ کی آزادی اور کھلے پن کا اعجاز ہے کہ اس میں پاکستانی بھی میں شامل ہے۔

    بقول شاہد خان این ایل ایف میں جیگ وارز کو خریدنا ان کی کاروباری صلاحیتوں کا امتحان تھا کیونکہ این ایل ایف میں جیگ وارز ہی 32 ٹمیون میں سب سے زیادہ کمزور ٹیم تھی لیکن شاہد خان کی محنت اور صلاحیتوں نے اسے چار چاند لگا دیئے۔ ایک حالیہ جائزے میں پتہ چلا ہے کہ جیگ وارز جو تمام ٹیموں میں آخری نمبر پر تھی آج امریکیوں اور برطانویوں کی پسندیدہ ترین ٹیم ہے۔ جیکسن ویل شہر کا میٹروپولٹین علاقہ اس کی پسندیدگی کا گڑھ ہے۔ اس علاقہ کی آبادی تقریباً 15 لاکھ ہے۔

    امریکی جریدے کے مطابق 2019 ء میں کورونا وبا کے باوجود امریکہ کے چار سو ارب پتیوں کی دولت میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت بھی شاہد خان کی کمپنی کے اثاثوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 8 فی صد اضافہ ہوا تھا۔ اب بھی 7 اعشاریہ 8 ارب ڈالر سے زیادہ اثاثوں کے ساتھ شاہد خان دنیا بھر کے امیر ترین افراد کی اس فہرست میں 66 ویں نمبر پر ہیں۔

    اب شاہد خان ارب پتی تو بن گیا لیکن اسے احساس ہوا کہ سفید فام رئیس اسے کم تر سمجھتے ہیں۔ براؤن رنگ، دیسی قد کاٹھ اور نوکیلی مونچھوں والے شاہد خان کو گورے  ارب پتی ماننے کے لیئے تیار نہیں تھے۔ شاہد خان نے یہ دیوار توڑنے کا فیصلہ کیا۔ امریکہ میں "رگبی” کے کھیل کو فٹ بال کہتے ہیں۔ جس روز اس لیگ کا فائنل ہوتا ہے امریکہ میں عام تعطیل ہوتی ہے اور سڑکیں بازار سنسان ہو جاتے ہیں۔

    ٹرک کے بمپر کا ڈیزائنر شاہد خان بلینیئر کیسے بنا

    شاہدخان نے سوچا کہ وہ ایک کمزور ٹیم کو خرید کر رئیس ارب پتیوں کی لیگ میں شامل ہو جائے گا۔ یہاں کہانی شاہد خان کی کہانی میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب فوربس میگزین والوں نے امریکہ کے 40 امیر ترین افراد میں سے ایک نوکیلی مونچھوں والا پاکستانی بھی شامل تھا۔ جب شاہد خان کی تصویر پہلی بار فوربز کے ٹائیٹل پر چھپی تو شاہد خان پوری دنیا میں ایک برانڈ بن چکا تھا۔ 

    اس نے جیکسن جیگ وارز کی ایسی کایا پلٹی کہ امریکی کھیل کی تاریخ دنگ رہ گئی۔ وہ یہ جانتا تھا کہ یہ چھوٹا شہر کبھی بھی لاس اینجلس یا نیویارک کی ٹیموں جیسا منافع نہیں کما سکے گا۔ یہاں اس نے ایک ایسا "ماسٹر سٹروک” کھیلا جو ایک چھوٹی ٹیم کو بلندیوں پر لے گیا بلکہ شاھد خان کا نام امریکہ سے نکل کر پوری دنیا میں پھیل گیا اور شاہد خان شہرت میں امریکہ کے دیگر عام ارب پتیوں سے بھی آگے نکل گیا۔ وہ اپنی ٹیم کو لندن لے گیا اور ویمبلے سٹڈیم سے ایگریمنٹ کیا کہ امریکن نیشنل لیگ (این ایف ایل) کا ایک میچ ہر سال اس سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ جیکسن جیگ وارز پر ڈالر اور پاؤنڈ بارش کی طرح برسنے لگے۔ لندن کے برطانوی جو پہلے امریکی این ایف ایل کو ایک تماشہ سمجھتے تھے انہیں اس کا ایسا چسکا لگا کہ اب وہ جیکسن جیگ وارز کو اپنی ٹیم ماننے لگے جس کے میچ کی ٹکٹیں آج بھی منٹوں میں فروخت ہو جاتی ہیں۔ جب شاہد خان کے پاس ڈالر اور پاؤنڈ برسنے لگے تو شاہد خان نے بہترین کھلاڑی خریدے۔ شاہد خان نے جیکسن وئیل فلوریڈا کا ایک پورا ڈاؤن ٹاون خرید کر وہاں فائیو اسٹار ہوٹل بنا دیا اور سٹڈیم کو جدید ترین بنایا، اتنی بڑی سکرینیں لگائیں کہ جتنی کسی امریکی نے پہلے کبھی نہ دیکھی تھیں۔ سٹڈیم میں تماشائیوں کے سوئمنگ پول تک بنا دیئے۔

    لندن کے میچوں نے شاہد خان کو انگلینڈ اور یورپ کی اشرافیہ میں شامل کر دیا جس  کے بعد ان کے تعلقات برطانوی شاہی خاندان سے بھی بن گئے۔ شاہد خان جو 18 جولائی 1950ء کو لاہور میں پیدا ہوئے اور جو اب تک زندگی کی 75 بہاریں دیکھ چکے ہیں۔ ان کے پاس امریکی شہریت ہے اور وہ فلوریڈا میں مقیم ہیں، اور ابھی ان کی ترقی کا یہ سفر جاری ہے۔

  • راہِ سلوک اور سالک محبوب

    راہِ سلوک اور سالک محبوب

    راہِ سلوک اور سالک محبوب

    میرے تبصرے کا عنوان کتاب کے مندرجات سے میل تو نہیں کھاتا لیکن یہ عنوان دینے کی ایک خاص وجہ ہے جو مصنف کی شخصیت سے متعلق ہے۔ اگر آپ مصنف سے نہیں بھی ملے تو بھی آپ کتاب کے مطالعے کے بعد جان جائیں گے کہ میں نے تبصرے کا یہ عنوان کیوں رکھا؟ برادرم سالک محبوب اعوان گہرے صوفیانہ مزاج کے انسان ہیں اور ان کی تحریریں بھی ان کے مزاج کے عین مطابق ہوتی ہیں اسی بناء پر میں نے اپنے تبصرے کو یہ عنوان دیا!

    عرض کچھ یوں ہے کہ سفر نامہ نگاری ایک ایسی ادبی صنف ہے جو ہر نوع کے قاری کے لیے قابلِ  قبول ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی دلچسپی کا عنصر رکھتی ہے اور اس صنف کو ادبی و غیر ادبی دونوں طرح کے ماحول یکساں قبول کرتے ہیں۔ اگر سفر نامہ نگار سالک محبوب اعوان جیسے کہنہ مشق اور محتاط لکھاری ہوں تو سفر نامہ کا الگ ہی لطف ہوتا ہے۔ میری خوش بختی کہ میں راہِ ادب کا ادنیٰ مسافر ہوں اور مجھے اس سفر میں برادرِ مکرم سالک محبوب جیسے ہم سفر میسر ہیں جو قدم قدم پر میری رہ نمائی کا سبب ہیں۔ حیرت ہے کہ موصوف نے زیر بحث کتاب پر تاثرات قلم بند کرنے کے لیے ناچیز کا بھی انتخاب کیا جسے ادب کا طالب علم کہنا بھی شاید مناسب نہیں خیر بہ موجب حکم کتاب ہذا پر میرے تاثرات بہ صورت تبصرہ  پیش خدمت ہیں۔ 

    راہِ سلوک اور سالک محبوب

    سالک صاحب کے ساتھ میرے تعلقات کا آغاز سال 2019 سے تب ہوا جب پروفیسر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کے ہم راہ وہ ہمارے گاؤں تشریف لائے۔ ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف میں عجز و انکسار اور شخصی مٹھاس ہے جو ان کے ملاقاتی کو ہمیشہ ان کے ساتھ جڑے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ خوبیاں ان کی تحریر میں بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ان کی ہر تحریر گہرے مطالعاتی تجزیے اور شعوری ارتقاء کی عکاس ہوتی ہے۔ وہ جب قلم سنبھالتے ہیں تو لفظوں میں اپنی شخصیت کی شیرینی سمو کر اس انداز سے نذرِ قارئین کرتے ہیں کہ قاری مضامین مکمل ہونے تک راہِ فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ آپ ان کا کوئی بھی مضمون اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ میرے بیان سے متفق ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ سفر نامے کی بات کی جائے تو جوں جوں آپ ان کی تحریر کے ساتھ سفر کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ آپ بہ نفسِ نفیس اس سفر میں شریکِ سفر ہیں یہ خوبی انہیں اس صنف ادب میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔ بنیادی طور پر وہ ماہر معاشیات ہیں اور اس مضمون پر ان کی پہلے سے دو کتب موجود ہیں جن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مضمون خشک سے خشک تر ہی کیوں نہ ہو جب وہ سالک بھائی کے قلم سے ہو کر قرطاس پر بکھرے گا تو وہ الگ ہی چاشنی لیے ہوئے ہو گا۔ کتاب ہذا میں سفر لاہور کی یادداشتیں بھی حصہ بنائی گئی ہیں جس میں احقر بھی موصوف کے ہم سفر رہا۔ ان مضامین میں جا بہ جا آپ مجھے بھی مصنف کے ساتھ ساتھ پائیں گے۔ سالک بھائی کے ساتھ سفر کا اپنا ہی لطف ہے جو آپ ان کے آنے والے مضامین میں بہ قدر جسہ وصول کر پائیں گے۔ ان کی تحاریر ادبی کسوٹی پر ہر زاویے سے پورا اترتی ہیں۔ آپ کے مضامین جہاں ادب کی چاشنی سے بھرپور ہیں وہیں اپنے اندر صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں جو مصنف کی تصنیفی صلاحیتوں کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ 

    آپ جوں جوں کتاب کے ساتھ سفر کریں گے تو اس کے مندرجات میرے تبصرے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے جائیں گے۔ 

    عتیق الرحمان اعوان 
    بانی رکن 
    "قلم قبیلہ” سراڑ 
    مظفرآباد

    08 جنوری 2026

    .

  • آنگن کی ملکہ (افسانہ)

    آنگن کی ملکہ (افسانہ)

    آنگن کی ملکہ (افسانہ)

    غانیہ ریاض ، جام پور

    پنجاب کے پسماندہ گاؤں کی کچی گلیوں میں جہاں شام ڈھلے مٹی کی خوش بو ہوا میں گھل جاتی اور دور کہیں بیلوں کی گھنٹیاں بجتی سنائی دیتیں وہیں ایک آنگن ایسا بھی تھا جو قہقہوں سے آباد رہتا تھا۔ اس آنگن کی جان تھی بیس سالہ کہف۔معصوم سی، روشن آنکھوں والی، خوابوں سے بھری ہوئی۔

    کہف باقی لڑکیوں جیسی نہ تھی۔ نہ اس کے قدموں میں گھریلو زنجیریں تھیں، نہ سوچ پر دقیانوسی پہرے۔ وہ ماں کے آنچل سے لپٹی رہتی  کبھی سہیلیوں کے پاس جا بیٹھتی، کبھی کھلے آسمان تلے دیر تک ہنستی رہتی۔ اس کا بے فکری سے جینا گاؤں کی عورتوں کو کھٹکتا تھا۔

    “آخر تم باقی لڑکیوں کی طرح گھر داری کیوں نہیں دیکھتی؟”

    کہف کی خالہ کی تیز آواز اکثر آنگن کی دیواروں سے ٹکرا کر گونجتی۔

    کہف مسکرا کر ماں کے ہاتھ چومتی اور کہتی، “امی جان، آپ کے بغیر یہ دنیا مجھے جینے نہ دے گی۔”

    مہرین جسے سب  پیار سے مہرو کہتے تھے اپنی بیٹی کے لیے چٹان کی طرح کھڑی رہتی۔ اس کی سوچ گاؤں کی عورتوں سے مختلف تھی۔ وہ کہتی، “بیٹی بوجھ نہیں روشنی ہوتی ہے۔” یہی روشنی لوگوں کی آنکھوں میں چبھتی تھی۔

    گاؤں میں دس برس کی لڑکیوں کو چولھے سے باندھ دیا جاتا اور کم عمری میں بیاہ دیا جاتا۔ مگر مہرو نے کہف کو کالج بھیجا، کتابوں سے دوستی کرائی، خواب دیکھنے کی اجازت دی۔ اس آزادی کی قیمت ماں بیٹی کو اکثر طنز کی صورت میں چکانا پڑتی۔

    آنگن کی ملکہ (افسانہ)

    گھر میں مگر محبت کا بسیرا تھا۔ حالم، سنجیدہ مزاج، کم گو۔ ماہر، شوخ و شریر، ہنسی کا پٹارا۔ ننھی بیرو کی کلکاریاں اور بیچوں بیچ مہرو، جس کے ہنسی آنگن کو جنت بناتے۔

    ایک دن حالم نے قدرے سخت لہجے میں کہا:

    “امی جان! آپ نے اسے سر پر چڑھا رکھا ہے۔ دیگر لڑکیوں کی طرح اسے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔”

    مہرو نے مسکرا کر جواب دیا: “وقت سب سکھا دیتا ہے بیٹا! ابھی اس کے حصے میں ہنسی رہنے دو۔”

    زندگی یوں ہی چلتی رہی جیسے نرم دھارمگر تقدیر کے پہیے بے آواز گھوم رہے تھے۔

    ایک شام اچانک مہرو کو شدید سر درد نے آن گھیرا۔ پہلے پہل سب نے اسے معمولی سمجھا۔ کسی نے پیناڈول تھمائی تو کسی نے سر دبایا۔ مگر درد تھا کہ تھمنے کا نام نہ لیتا۔

    کہف کی آنکھوں میں ان جانا خوف اتر آیا۔

    “بابا جان! یہ معمولی درد نہیں لگتا…”

    بابا نے طے کیا کہ لاہور لے جانا ہوگا۔

    وہ شہر جہاں علاج تو تھا مگر مہنگائی آسمان کو چھوتی تھی۔

    گھر کے قیمتی سامان فروخت ہوئے۔ آنگن کی ملکہ کو بچانے کے لیے آنگن خالی کیا گیا۔ سفر خاموش تھا دعاؤں سے بوجھل۔

    لاہور کے نہایت معروف معالج  ڈاکٹر عمر اعوان نے رپورٹ دیکھ کر نظریں جھکا لیں۔

    “اب دوا نہیں… دعا ہی راستا ہے۔”

    یہ جملہ کسی قیامت سے کم نہ تھا۔ بابا کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔

    گھر واپسی پر مہرو چلنے سے قاصر تھی۔ ایک ہفتے میں جیسے زندگی کے چراغ کی لو مدھم پڑ گئی تھی۔ مگر چہرے پر اب بھی ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ماں کی ضد کہ بچوں کے سامنے کم زور نہ پڑے۔

    کہف نے پہلی بار کچن کا دروازا پار کیا۔ بہن بھائیوں کو سنبھالا، اسکول بھیجااور کھانا بنایا۔ رات کو کسی کونے میں بیٹھ کر خاموش آنسو بہاتی۔

    وہ آنگن جو کل تک قہقہوں سے گونجتا تھا اب سناٹے کی چادر اوڑھے تھا۔

    اس رات مہرو کی حالت مزید بگڑ گئی۔ لوگ جمع ہونے لگے۔ ماہر سرھانے بیٹھ کر تلاوت کرنے لگا۔ کہف سجدے میں گر کر رب سے فریاد کرنے لگی۔

    “یا اللہ! معجزہ کر دے…”

    مہرو کی سانسیں ٹوٹنے لگیں۔ آنکھیں کہف پر جمی تھیں۔ شاید وہ آخری بار بیٹی کو دیکھ لینا چاہتی تھی۔ لب ہلے۔

    “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ…”

    اور ہاتھ ڈھلک گیا۔

    آنگن میں قیامت برپا ہو گئی۔ بابا کی صدا گونجی،

    “مہرو! میرے گھر کی رونق!”

    مگر رونق جا چکی تھی۔

    مہرو کے جانے کے بعد وہی آنگن اجڑا ہوا باغ بن گیا۔ مگر اس ویرانی میں ایک تبدیلی جنم لے رہی تھی۔ کہف کی آنکھوں میں اب بچپن کی شوخی نہ تھی مگر ایک نئی مضبوطی ضرور تھی۔

    وہ جان گئی تھی۔وقت نے وہی سکھایا جس کا وعدہ مہرو نے کیا تھا۔

    اب وہی کہف جو کبھی چولھے کے قریب نہ گئی تھی گھر کی ڈھال بن گئی۔ ماہر کی شرارتیں کم ہو گئیں، حالم کی سنجیدگی اور گہری ہو گئی۔ مگر سب کے دلوں میں مہرو کی ہنسی اب بھی گونجتی تھی۔

    کہف جب کبھی تھک جاتی آنگن کے بیچ کھڑے ہو کر آسمان کو دیکھتی اور سرگوشی کرتی:

    “امی جان!میں ہاروں گی نہیں۔ آپ کی روشنی بجھنے نہیں دوں گی۔”

    اور یوں ایک ماں کی محبت نے بیٹی کو بچپن سے بلوغت کے سفر تک لا کھڑا کیا ایک ہی جھٹکے میں۔

    خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا لوگ

    ہم نے سونا سپردِ خاک کیا

    مگر شاید سونا دفن نہیں ہوتاوہ نسلوں کی رگوں میں چمکتا رہتا ہے۔

  • ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت

    ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت

    اردو ادب میں ایسا کون شخص ہو گا جو ڈاکٹر شفیق انجم کے نام سے واقف نہ ہو۔ شفیق انجم صاحب ایک استاد کی حیثیت سے جہاں شناخت رکھتے ہیں وہیں آپ محقق، مدون، نقاد،لغت نویس ، رپورتاژ نگاراور افسانہ نگار کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ناول نگاری میں بھی آپ کا "وجود ” اپنی پہچان رکھتا ہے۔ آپ کی تدوین کردہ کتب میں کلامِ طارق 2008ء میں نقش گر پبلشر راول پنڈی سے شائع ہوئی۔ کلامِ بشیر صرفی 2010ء میں پورب اکادمی کے زیر اہتمام چھپی۔ گلزارِ فقر اور سیرِ دریا الفتح پبلی کیشنز راول پنڈی نے 2011ء میں شائع کیں۔ انشائے اردو پورب اکادمی اسلام آباد نے 2015ء میں چھاپی ۔اسی طرح 2007ء میں اسلوب پبلشر اسلام آباد سے آپ کی تنقیدی کتاب جائزے منظرِ عام پر آئی۔ اردو افسانہ آپ کی تنقید کی دوسری کتاب تھی جو 2008ء میں پورب اکادمی کے زیرِ اہتمام سامنے آئی۔ یہ کتاب دراصل آپ کا پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے لکھا گیا مقالہ تھا۔ ڈاکٹر شفیق انجم کے افسانوی مجموعوں میں پہلا میں+میں 2008ء میں اسلوب پبلشر اسلام آباد سے شائع ہوا۔ دوسرا افسانوی مجموعہ لکھت لکھتی رہی کے نام سے 2011ء میں الفتح پبلی کیشنز نے شائع کیا۔ روشنی آواز دیتی ہے تیسرا افسانوی مجموعہ تھا جو 2019ء میں الفتح پبلی کیشنز اسلام آباد نے چھاپا۔ استاد محترم ڈاکٹر محمد شفیق انجم نے سوانحی کتب کے ضمن میں اپنے اساتذۂ کرام ڈاکٹر گوہر نوشاہی اور ڈاکٹر رشید امجد کے فن اور شخصیت پر دو کتب تصنیف کیں۔ ڈاکٹر گوہر نوشاہی: ایک مطالعہ نقش گر پبلشر راول پنڈی سے 2009ء میں منصۂ شہود پر آئی۔ ڈاکٹر رشید امجد اکادمی ادبیات آف پاکستان کے سلسلہ پاکستانی ادب کے معمار کے ڈاکٹر رشید امجد شخصیت اور فن کے نام سے 2010ء میں شائع ہوئی۔ ڈاکٹر مَہر عبد الحق (شخصیت وفن) 2020ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان سے طباعت ہوئی۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی تحقیق کے حوالے سے کتب میں اردو رسمیاتِ مقالہ نگاری 2011ء میں الفتح پبلی کیشنز راول پنڈی سے شائع ہوئی۔ تحقیق کے موضوع پر دوسری کتاب حاشیائی مقالات نامی پورب اکادمی اسلام آباد سے 2015ء میں سامنے آئی۔ قواعدِ تحقیق و تدوین کے نام سے تصنیف پورب اکادمی اسلام آباد سے 2015ء میں شائع ہوئی۔ اردو سیکھیے طلبہ کے لیے لکھی جانے والی تصنیف 2020ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی۔ استاد محترم کچھ عرصہ چین کے تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ کی علمی پیاس بجھاتے رہے ۔چین میں قیام کے عرصے کو آپ نے ایک رپورتاژ سنکیانگ نامہ کی صورت 2018ء میں کتابی صورت میں قارئین کی نذر کیا۔ چین کی یادگار کے طور پر ایک لغت بھی ڈاکٹر شفیق انجم صاحب نے اردو چینی لغت کے نام سے مرتب کی جسے 2019ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان نے شائع کیا۔ شفیق انجم صاحب نے اپنی نظمیہ کہانیوں کے پانچ مجموعے شائع کیے جن میں پہلا میں نہیں ہوں کے نام سے 2016ء میں ، دوسرا جلا وطن میں خود کلامی 2017ء میں اور سنکیانگ میں محبت 2018ء میں پورب اکادمی اسلام آباد سے شائع ہوئے۔ چوتھا مجموعہ موتیوں کی مالا 2021ء میں کتابی دنیا ،لاہور سے شائع ہوا۔

    ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت


    ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کا آخری نظمیہ مجموعہ خود کلام فروری 2024ء کتابی دنیا ،لاہور سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ 150صفحات کو محیط ہے جس کا انتساب بے چہرگی میں اک چہرہ بناتے خود کلام کے نام کیا گیا۔ اس مجموعے میں دس نظمیں ہیں۔ یہ نظمیہ کہانیاں معاشرتی، نفسیاتی اور فلسفیانہ مسائل پر گہری روشنی ڈالتی ہیں۔ قاری ان کے مطالعے کے بعد خود کو ایک الگ دنیا میں محسوس کرتا ہے۔شفیق انجم صاحب کی تجریدیت اور علامت نگاری کا استعمال کہانیوں کو نیا زاویہ فراہم کرتا ہے۔ روایتی کہانیوں سے ہٹ کر یہ ایک کام یاب تجربے کی حامل ہیں۔ان نظمیہ کہانیوں میں سلیس اور بلیغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے جو تاثیر کو بڑھاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان کہانیوں کا معیار تخلیق کار کی گہری فکری بصیرت ،نفسیاتی تجزیے اور ادبی مہارت کی غمازی کرتا ہے ۔

    farhad and shafiq
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار  اور ڈاکٹر شفیق انجم


    30 نومبر 2024ء کو جب میں اپنے کنبے کے ہم راہ استادِ گرامی کے دولت کدے پر علی بیگ آرائیاں ضلع بھمبر حاضر ہوا تو میرے شفیق استادِ محترم نے نہایت محبت سے یہ مجموعہ عنایت کیا۔ اس مجموعے پر انھوں نے کمال شفقت کا اظہار کرتے ہوئے مجھے میرے دفاع سے قبل ڈاکٹر لکھا جسے دیکھ کر یوں اطمینان ہوا کہ اب آخری معرکہ بھی سر ہو جائے گا کہ میرے استاد محترم نے تیقن سے لکھ دیا ہے۔ شفیق انجم صاحب کے حوالے سے بہت کچھ لکھنے کا سوچتا ہوں لیکن ان کی شخصیت اتنی وسیع ہے کہ میرا قلم اس حد کو چھو نہیں سکتا۔ گزشتہ دنوں ایک صاحب نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں ڈاکٹر افتخار مغل مرحوم کے بعد کوئی محقق نہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ ڈاکٹر افتخار مغل کے بنا آزاد کشمیر کا ادب مکمل نہیں ہو سکتا تاہم ان کی تحقیق سندی تھی جو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اسناد کے لیے تھی۔ اگر آزاد کشمیر میں کوئی محقق ہے تو وہ ڈاکٹر شفیق انجم ہیں۔ تدوین ، تحقیق اور تنقید کے حوالے سے ان کی تصانیف کا اوپر مختصر تعارف بھی ہو چکا۔ شفیق انجم صاحب کا کام مختلف حوالوں سے ہے۔ یہ فہرست ابھی نامکمل ہے استادِ گرامی کئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو عن قریب ادب کے طلبہ اور شائقین کے ہاتھوں میں ہو گا۔ میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ ایم اے اردو سے پی ایچ ڈی اردو تک کا سفر شفیق انجم صاحب کی زیرِ سرپرستی مکمل ہوا۔ اللہ کریم میرے سبھی اساتذۂ کرام پر اپنا کرم فرمائے جنھوں نے مجھے لفظوں کی حرمت سکھائی۔
    آخر میں ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی ایک نظمیہ کہانی” چل بھئی شفیق انجم” ملاحظہ کریں۔

    چل بھئی شفیق انجم ،اٹھ جا
    ہمت کر
    رات بھر خراٹے بھرنے والے اٹھ چکے ہیں
    تو بھی اٹھ جا
    الارم تیسری بار بج چکا ہے
    یعنی آج بھی
    بہت پُھرتی دکھانا پڑے گی
    دوڑ بھاگ میں ناشتا کرنا پڑے گا
    جلدی جلدی نہانا
    بھاگم بھاگ شیو بنانا پڑے گی
    عجلت عجلت میں کپڑے بدل
    گاڑی میں کودنا پڑے گا
    اور حسبِ سابق
    آج بھی پہیوں کو پر لگانا پڑیں گے
    امید ہے
    مقررہ وقت پر
    تم اس دیوار تک پہنچ جاؤ گے
    جو کل آدھی سے زیادہ چاٹ آئے تھے
    ۔۔۔ اٹھ جا، شفیق انجم
    اس امید پر
    کہ کوئی تو دن ایسا آئے گا
    جب تم الارم لگائے بغیر سو جاؤ گے
    اور جب اٹھو گے
    تو وقت رکا ہوا
    سویا سویا سا ملے گا
    دھیرے سے تم اسے جگاؤ گے
    اور ناشتے کی میز پر
    چائے کی چسکیوں کے ساتھ
    کوئی رومانوی سا منظر خلق ہو گا
    اور کم و بیش
    ایک صدی ٹھہرا رہے گا
    ۔۔۔ اٹھ جا شفیق انجم
    پچھلے چالیس سال کی طرح
    ۔۔۔۔ پھرتی دکھا
    دیوار چاٹنے کو چل
    ۔۔۔ آج کا مشکل دن بھی بھگتا!

    books
    ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کا قلمی سرمایہ
  • اعلی پائے کی لیڈر چانسلر انجیلا مرکل

    اعلی پائے کی لیڈر چانسلر انجیلا مرکل

    اعلی پائے کی لیڈر چانسلر انجیلا مرکل 

    Dubai Naama

    ایک بار لاہور کے جناح باغ میں ایک جرمن جوڑے سے ملاقات ہوئی۔ یہ سنہ 1984ء کی بات ہے جب ہم ایف سی کالج لاہور کے طالب علم تھے۔ وہ دونوں میاں بیوی واپڈا ہاوس لاہور میں انجینئرز کے طور پر کام کرتے تھے۔ انگریزی بولنے کا نیا نیا شوق تھا، ان سے خوب گپ شپ لگی۔ اتفاق سے وہ قذافی سٹیڈیم کے پاس گلبرگ3 کے جس بنگلے میں رہتے تھے میں اسی روڈ کے اپوزٹ تیسرے گھر میں رہتا تھا جس کے مالک سید مختار شاہ صاحب تھے۔ انہوں نے برطانوی فوج میں کرنل کے طور پر جرمن فوج کے خلاف دوسری جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا۔ جب میں نے کرنل صاحب کو اس جرمن جوڑے کی بابت بتایا اور کہا کہ وہ ہمارے ہمسائے میں رہتے ہیں تو اگلے روز انہوں نے ان کو ڈنر پر انوائٹ کر لیا۔ اس رات کھانے کی میز پر جنگ عظیم دوم اور  جرمن قوم کے بارے میں بہت ساری معلومات  سننے کو ملیں۔

    گزشتہ 16سال تک جرمنی کی بلاشرکت غیرے اقتدار میں رہنے والی سابقہ چانسلر انجیلا مرکل کی پارٹی کرسچئن ڈیمو کریٹک یونین (سی ڈی یو) نے انہیں دوبارہ اگلا لیڈر چننے کا عندیہ دیا ہے۔ ان کی ذاتی جماعت نے سنہ 2017ء کے انتخابات جیتے تھے جس کے بعد وہ چوتھی مرتبہ پھر سے چانسلر منتخب ہو گئی تھیں۔ وہ کافی سالوں تک "انگرکھا” نامی ایک ہی لباس پہنتی رہی تھیں۔ انجیلا کے اس پرانے لباس پر کئی بار تنقید ہوتی رہی۔ حتی کہ پیرس کے میڈیا نے انہیں ایک بدلباس دیہاتی عورت کا نام دیا۔ ایک دفعہ پریس کانفرنس کے دوران تو ایک خاتون صحافی نے ان سے پوچھ ہی لیا تھا کہ، "میڈم چانسلر، آپ پچھلے کئی برسوں سے ایک ہی سوٹ پہنے جا رہی ہیں، کیا آپ کے پاس دوسرا نہیں ہے؟” اس پر انہوں نے ٹکا سا جواب دیا تھا کہ، "میں سرکاری نوکر ہوں، کوئی ماڈل نہیں ہوں”. جس قومی لیڈر کو اپنی ایماندارانہ ذمہ داریوں کا احساس ہوتا ہے وہ قوم کا پیسہ قوم پر ہی خرچ کرتا ہے۔

    انجیلا مرکل مشرقی جرمنی کے ایک پادری کی بیٹی ہیں، انہوں نے  کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور عملی زندگی کا آغاز ایک سائنس دان کے طور پر کیا اور بعد میں وہ سیاست میں آ گئیں۔15جنوری 2021 ء کے دن جرمنوں نے وہ کیا جس کی توقع ان سے کم کی جاتی ہے۔ جرمنوں کو دنیا ٹھنڈی اور روکھی قوم کے طور پر جانتی ہے لیکن اس دن جرمن ممبران اپنی سیٹوں پر  کھڑے ہو گئے اور زوردار تالیاں بجانے لگے، یہ تالیاں 6 منٹ تک بجتی رہیں اور گیلری میں بیٹھے بہت سے لوگوں کے چہرے جذبات کی تپش سے گل و گلنار ہو گئے اور بہتوں کی آنکھوں سے تو آنسو بہہ نکلے. 8 کروڑ جرمنوں کی قائد اور دنیا کی سب سے طاقتور خاتون رہنما انجیلا مرکل کی کل کمائی یہی تالیاں تھیں. انہوں نے 16سال کی حکومت میں صرف یہی ستائش اور عزت کمائی۔ ان کی قیادت اور اختیار کے ان تمام برسوں میں کوئی مالیاتی سکینڈل نہیں بنا۔ دنیا کی سب سے بڑی مالی قوتوں میں سے چار ہزار ارب ڈالر جی ڈی پی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی انجیلا نے کوئی بندر بانٹ نہیں کی، ان کا نام کسی "پانامہ سکینڈل” میں نہیں آیا. انہون نے کوئی پلاٹ الاٹ کروایا اور نہ ہی کوئی پرمٹ جاری کیا.  انہوں نے کوئی رولز رائس خریدی اور نہ ہی کسی سوس بنک میں کوئی اکاؤنٹ کھلوایا۔ انہوں نے کوئی بھاشن نہیں دیئے، تصویریں کیھنچوانے کے لئے کوئی پوز نہیں بنایا. انہوں نے اپنے نام کے ساتھ "خادم اعلیٰ” نہیں لگایا، اور انہوں نے نیا جرمنی بنانے کا کوئی وعدہ نہیں کیا لیکن انہوں نے خاموشی اور سادگی کے ساتھ اقتدار کے اپنے سولہ سالوں میں تقریباً پندرہ سو ارب ڈالرز کے جی ڈی پی میں اضافہ کیا، اپنا کام کیا اور جرمن قوم کے دلوں میں اعلی پائے کے لیڈر کا مقام بنایا۔ انجیلا مرکل نے قرآن پاک نذر آتش کرنے کے تحریک کی شدید مذمت کی تھی، جس پر ان کے خلاف یورپ میں بہت تنقید ہوئی تھی. ترکی کے دورے کے دوران انہوں  نے کہا تھا، "اسلام اور جرمنی ایک ہیں،” جس پر یورپ میں طوفان برپا ہو گیا تھا۔ شام کی خانہ جنگی کےدوران جب مسلم ملکوں نے شامیوں پر دروازے بند کر دیئے تھے تو یہ انجیلا مرکل تھیں جنہوں نے لاکھوں شامی خاندان جو بحیرہ روم کی بےرحم لہروں میں کود کر سلامتی کی تلاش میں نکلے تو انہوں نے پورے 10 لاکھ یعنی ایک ملین مہاجرین کو جرمنی میں پناہ دی تھی  اور شدید مخالفت کے باوجود انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا تھا۔

    اعلی پائے کی لیڈر چانسلر انجیلا مرکل

    ایک دفعہ انجیلا مرکل سے ایک اور پریس کانفرنس میں پوچھا گیا کہ، "تمہارے گھر میں کتنی خادمائیں ہیں اور  آپ کے گھر کا کھانا کون پکاتا ہے؟” انہوں نے جواب دیا تھا "میرے پاس کوئی خادمہ نہیں ہے. نہ ہی مجھے ضرورت پڑتی ہے. میں اور میرا شوہر مل کر سارا کام نپٹا لیتے ہیں”. ایک اور صحافی نے مزید تجسس کا اظہار کیا.” کپڑے کون دھوتا ہےآپ یا آپ کے شوہر؟” انہوں نے جواب دیا تھا "میں کپڑے جمع کر کے واشنگ مشین میں ڈالتی ہوں اور میرا شوہر مشین چلاتا ہے. ہم دونوں  کوشش کرتے ہیں کہ یہ کام رات کو بغیر کسی شور شرابے کے کریں تاکہ ہمارے پڑوسی پریشان نہ ہوں”۔ پھر انہوں نے صحافیوں سے مخاطب ہو کر اضافہ کیا تھا کہ، "میرا خیال ہے تم لوگ میری حکومت کی کارکردگی پر توجہ دو تو زیادہ بہتر ہے”.

    انجیلا مرکل جرمنی برلن کے ایک عام سے فلیٹ میں پچھلے بیس برس سے رہ رہی ہیں۔ اقتدار کے ان تمام برسوں میں بھی ان کا پتہ نہیں بدلا ہے۔ وہ کسی ولا میں منتقل نہیں ہوئیں نہ ہی کسی سوئمنگ پول اور باغ والے گھر کی مالکن بنی ہیں۔ وہ حکمران بھی اسی فلیٹ سے بنیں اور ان کی واپسی بھی اسی فلیٹ میں ہوئی. پچھلے 20 برسوں میں انجیلا کی ٹکر کا کوئی لیڈر پیدا نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو نعرے اور بڑھکیں مارے بغیر کچھ لوٹایا ہو. اس سے پہلے میں نے مونیکا رٹر نامی جرمن خاتون پر کالم لکھا تھا۔ آج جب انجیلا مرکل کے بارے پڑھ رہا تھا تو لاہور میں جرمن جوڑے سے ملاقات یاد آ گئی کہ حقیقی عزت و احترام کے قابل وہی اقوام اور لیڈر ہوتے ہیں جو سادہ طرز زندگی اپناتے ہیں اور ذاتی مفادات حاصل کرنے کی بجائے ملک کے سارے ذرائع کو قوم کی خدمت کے لیئے استعمال کرتے ہیں۔ نازی ہٹلر بھی جرمن حکمران تھا جس کے طرز زندگی اور غرور نے اسے جنگ عظیم دوم میں شکست دو چار کیا۔ یہ فقید المثال طرز زندگی اور حکمرانی کا طریق سب سے پہلی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہما نے اپنایا تھا جن کی بدولت آدھی سے زیادہ دنیا پر مسلمانوں کی حکمرانی قائم ہو گئی تھی۔

    اب یہ طرز زندگی اور حکمرانی مغربی ممالک کے لیڈران اپناتے ہیں جو مسلم ممالک سے زیادہ طاقتور ہیں۔ ایک دفعہ سابق برطانوی وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کے بیٹے کے بارے میں بھی پڑھا تھا کہ 10ڈاوننگ سٹریٹ میں منتقل ہونے کے لیئے ان کا ایک بیٹا وزنی بیگ کھینچ رہا تھا تو گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔ یہ اظہاریہ لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے رہنما دنیا بھر میں گھومتے پھرتے ہیں اور اکثر ممالک کے لیڈرز کی ذاتی زندگی اور طرز حکومت کے بارے میں بھی اچھی طرح آگاہ ہیں  لیکن وہ انجیلا مرکل جیسی خوبیوں کو نہیں اپناتے ہیں حالانکہ عملی زندگی اور حکمرانی کے اوصاف کا اعلی نمونہ تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین جیسی عظیم ہستیوں کی زندگیاں اور تعلیمات ہیں۔

    Title Photo: Arno Mikkor (EU2017EE)

  • افتخار فلک کاظمی کی شعری اٹھان

    افتخار فلک کاظمی کی شعری اٹھان

    2015ء کی بات ہے، لاہور میں نسلِ نو کا ایک یادگار مشاعرہ منعقد ہوا جس میں شرکت کا موقع عزیز دوست اور معروف شاعر حسن ظہیر راجا کی معیت میں نصیب ہوا۔ یہ مشاعرہ اپنی نوعیت کا منفرد تجربہ تھا جس میں ملک کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان شعرا شریک ہوئے۔ اس محفل میں ڈیرہ اسماعیل خان سے برادرم خوش حال ناظر، کراچی سے محترم عمار اقبال، اوکاڑہ سے افتخار اشعر اور پہاڑ پور ضلع لیّہ سے جناب افتخار فلک شامل تھے۔ ان میں خوش حال ناظر اردو نظم کی تازہ آواز کے طور پر نمایاں ہیں، جب کہ عمار اقبال غزل کے میدان میں اپنی انفرادیت قائم کر چکے ہیں۔
    انہی نوجوان شعرا میں سے افتخار فلک کاظمی وہ نام ہے جو ضلع لیّہ کی زرخیز دھرتی سے اُبھرا اور کم عرصے میں اردو غزل کے اُفق پر نمایاں شناخت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ افتخار فلک اس وقت اپنے پہلے شعری مجموعے "اذیت” کا خالق تھا جو نومبر 2014ء میں سخن سرائے پبلی کیشنز، ملتان کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔
    افتخار فلک کی اس اولین کاوش نے نہ صرف قارئین کی توجہ حاصل کی بلکہ اردو ادب کے نام ور نقادوں اور شعرا کی تحسین بھی حاصل کی۔
    "اذیت” پر آپا حمیدہ شاہین اورجناب قمر رضا شہزاد جیسی معتبر ادبی شخصیات نے اپنے تاثرات رقم کیے جو افتخار فلک کی شعری صلاحیتوں کی پختگی اور اس کے فکری رجحانات کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔
    قمر رضا شہزاد رقم طراز ہیں:

    "افتخار فلک نئی نسل کے ان تازہ کار شاعروں میں سے ہے جو ادبی منظرنامے پر اپنی الگ شناخت کے ساتھ نمایاں ہونے کی تگ و دو کر رہے ہیں، اور یہ بڑا کام وہی لوگ کر سکتے ہیں جو ناکامی یا کامیابی کے حوالے سے کسی خوف میں مبتلا نہیں ہوتے۔ افتخار فلک کی غزل لفظیاتی اور موضوعاتی سطح پر نئی کیفیات کے ساتھ جلوہ گر ہو رہی ہے۔”

    اسی طرح آپا حمیدہ شاہین نے لکھا:
    "افتخار فلک کی شعری وجاہت ان کی استقامت اور ریاضت پر منحصر ہے۔ مطالعے کے رفیع الشان آفاق، اپنا فرومایہ شعر تو کرنے کی ہمتِ عالی اور تلازمات کا دائرہ مکمل کرنے کی مشقت وہ اوصافِ چنیدہ ہیں جن سے روشنی کشید کر کے افتخار فلک غزل میں اپنی منفرد اور الگ کہکشاں ترتیب دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔”

    افتخار فلک کاظمی کی شعری اٹھان

    یہ دونوں آرا اردو غزل کی دنیا کے معتبر اور نمایاں ناموں کی ہیں۔ ان کے مشاہدات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ افتخار فلک کی شاعری ابتدا ہی سے فکری سنجیدگی، فنی سلیقے اور جدتِ اظہار کی حامل رہی ہے۔ ان آرا کے تناظر میں جب ہم افتخار فلک کے شعری سفر پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ وہ اپنے ادبی سفر میں نہ صرف کامیابی سے گام زن ہے بلکہ مسلسل تخلیقی ارتقا کے مراحل طے کر رہا ہے۔ وقت بدلتا ہوا 2014ء سے 2024ء میں داخل ہو جاتا ہے۔ دس سال بعد اس من موہنے شاعر کا دوسرا مجموعۂ کلام”عشق رقاص” سامنے آتا ہے۔ اس مجموعے کو ارمغان مطبوعات ،لاہورکے زیر اہتمام شائع کیا جاتا ہے۔ اس پر لکھنے والوں میں جناب نسیم عباسی، جناب ندیم ناجد،جناب رحمان حفیظ ، محسن اسرار اور جناب قاسم راز سمیت اردو شعری دنیا کے کئی اہم نام نظر آتے ہیں۔جناب قاسم راز لکھتے ہیں کہ:
    ” افتخار فلک کی شاعری معاصر ادب اور شاعری میں مطلوب فکری جہتوں کو دامنِ الفاظ میں سمیٹنے کے ارتقائی قرینوں سے آراستہ ہے۔ ان کی شاعری سے ہر طبقے اور مزاج کا باشعور اپنے مقصد اور مطلب کی ترجمانی پا کر اپنے ادبی ذوق کی تسکین کا سامان حاصل کر سکتا ہے ۔”
    جناب رحمان حفیظ کے نام اور قد کاٹھ سے کون ناآشنا ہو گا۔ ان کی رائے افتخار فلک کے لیے مضبوط سند ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
    "افتخار فلک نئے دور کا لکھاری ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اس کی عمر سیکڑوں برس ہے کیوں کہ اس کا سخن جیسے تجربات کا حامل اور جن موضوعات کا مرقع ہے ان کے لیے صدیوں کا مشاہدہ چاہیے۔ کیا معلوم یہ بھی روحانیت کی کوئی شکل ہو۔”
    افتخار فلک کی شاعری پر نام ور شاعر جناب نسیم عباسی کی رائے ملاحظہ کیجے:
    "افتخار فلک کے جو اشعار میری نظر سے گزرے انھیں پڑھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ وہ اپنی داخلی اور خارجی واردات پر حیرت انگیز ردِ عمل کا اظہار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ان کے اشعار سے یہ اندازہ کرنا قطعی مشکل نہیں کہ اس نے روایت کی پاس داری ضرور کی لیکن اس میں مقید ہو کر رہنے سے گریز کرتے ہوئے عصری حقائق کی روشنی میں اپنے اُسلوب ِ سخن کو سادگی،پرکاری، جمالیاتی قرینے اور جذبے کی سچائی کو ساتھ قائم رکھا۔”
    ان آرا کی روشنی میں جب افتخار فلک کا شعری سفر دیکھا جائے تو تمام کی تمام آرا حرف بہ حرف سچ دکھائی دیتی ہیں۔
    افتخار فلک نے مختصر بحروں میں ایسے ایسے عمدہ اشعار تخلیق کیے ہیں کہ قاری اور سامع داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔
    ان کی پہلی کتاب سے یہ اشعار دیکھیں۔
    سانحہ پیشِ نظر ہے دیکھیے
    شہر سارا در بہ در ہے دیکھیے

    بات میری مانیے ،ضد چھوڑیے
    عشق کارِ معتبر ہے دیکھیے

    پہلے درویشی کو چھوڑا خیر سے
    اب محبت داؤ پر ہے دیکھیے

    جائیے صحرا میں ہو کے مطمئن
    قیس بھی جانِ جگر ہے دیکھیے

    افتخار فلک کی مختصر بحر کی غزل سے یہ اشعار مجموعی طور پر ایک ایسے داخلی و خارجی منظرنامے کی ترجمانی کرتے ہیں جہاں شاعر کے سامنے بھی کوئی سانحہ ہے اور پورا معاشرہ بھی انتشار اور بےچینی کا شکار ہے۔
    سانحہ پیشِ نظر ہے دیکھیے
    شہر سارا در بہ در ہے دیکھیے

    میں شاعر اپنے مخاطب کو اس اجتماعی کیفیت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ شہر کی دربہ دری صرف ظاہری نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بکھراؤ کی علامت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ لوگ عدم استحکام، جھنجھلاہٹ، بےروزگاری یا کسی ایسے دباؤ میں مبتلا ہیں جو شہری زندگی کو عدم تحفظ اور اضطراب میں بدل دیتا ہے۔
    اسی ماحول میں شاعر مخاطب کو نرمی اور سمجھوتے کی راہ دکھاتا ہے۔ "بات میری مانیے، ضد چھوڑیے” کا لہجہ محض ذاتی مشورہ نہیں بلکہ سماجی رویے کی اصلاح کی طرف اشارہ ہے گویا وہ کہنا چاہتا ہے کہ معاشرہ ضد اور انا کی وجہ سے مزید ٹکرا رہا ہے اس لیے نرمی، سنجیدگی اور حقیقت پسندی ضروری ہو چکی ہے۔ جب وہ کہتا ہے "عشق کارِ معتبر ہے دیکھیے” تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس انتشار زدہ دنیا میں جہاں ظاہری تعلقات اور معاشرتی ترتیب ڈگمگا رہی ہے عشق ہی واحد سچی اور قابلِ بھروسا قوت ہے جو انسان کو داخلی استحکام دے سکتی ہے۔

    پہلے درویشی کو چھوڑا خیر سے
    اب محبت داؤ پر ہے دیکھیے

    شاعر ایک اہم معاشی و روحانی تبدیلی کا اعتراف کرتا ہے۔ درویشی ترک کرنا اس بات کی علامت ہے کہ روحانی سادگی اور قناعت سے دور ہو کر انسان دنیاوی مصروفیات، معاشی دوڑ یا خواہشات کے پیچھے لگ گیا ہے لیکن اس کے بعد جب عشق داؤ پر لگ جاتا ہے تو اس سے یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ دنیاوی دوڑ میں سب سے زیادہ نقصان دل اور جذبات کو ہوتا ہے۔ اس میں شاعر انسان کی اس نفسیاتی کش مکش کو بیان کرتا ہے کہ چاہے جتنی بھی مادی پریشانیاں ہوں محبت کی نزاکت سب سے زیادہ حساس ہوتی ہے اور ہر معاشرتی یا معاشی بحران سے فوراً متاثر ہوتی ہے۔
    بعد ازاں شاعر مخاطب کو ایک طرح کا روحانی یا ذہنی فرار تجویز کرتا ہے: "جائیے صحرا میں ہو کے مطمئن”۔ صحرا کی تنہائی، سکون اور دنیاوی ہجوم سے دوری کی علامت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شہر کی شورش اور معاشی دباؤ انسان کو اندر سے تھکا دیتے ہیں اور حقیقی سکون کے لیے وہ اپنی ذات کے صحرا میں پڑاؤ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ جب وہ قیس کا حوالہ دیتا ہے”قیس بھی جانِ جگر ہے دیکھیے”تو اس سے عشق کی شدت، جنون اور پاکیزگی دونوں سامنے آتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ عشق اگرچہ آزمائش میں ڈالتا ہے مگر اس کی گہرائی اور اس کا جنون انسانی وجود کے لیے خوراکِ روح بن جاتا ہے۔
    اسی طرح ایک اور غزل سے یہ دو شعر دیکھیں جن میں افتخار نے کم الفاظ میں کتنی گہری بات کہ ڈالی ہے:

    تیرے پاؤں کا نشاں رہبر بنے
    کارواں یہ معجزہ چکھتا رہا

    ماں تمھاری یاد میں بوڑھی ہوئی
    باپ پیہم عارضہ چکھتا رہا

    افتخار کے یہ اشعار داخلی دکھ، جدائی کے زخم اور وقت کے ستم کی ایک بھرپور علامتی تصویر پیش کرتے ہیں۔ "تیرے پاؤں کا نشاں رہبر بنے” میں شاعر محبوب یا کسی عظیم ہستی کی نسبت کو رہنمائی کا سرچشمہ قرار دیتا ہے مگر ساتھ ہی "کارواں یہ معجزہ چکھتا رہا” یہ بتاتا ہے کہ رہنمائی موجود ہوتے ہوئے بھی سفر میں تھکن شکست اور زوال جاری ہے یعنی زندگی میں روشنی اور اندھیرا ایک ساتھ چلتے ہیں۔ یہ ایک گہرا فکری نکتہ ہے کہ انسان کے راستے میں نشان بھی ہوں تو اس کے اپنے حالات اور آزمائشیں اسے شکست کے قریب لے جا سکتی ہیں۔
    دوسرے شعر میں ذاتی اور خاندانی المیہ نمایاں ہے: "ماں تمھاری یاد میں بوڑھی ہوئی” ایک بیٹے کی جدائی سے ماں کی آہستہ آہستہ مرتی ہوئی امیدوں کا نوحہ ہے جب کہ "باپ پیہم عارضہ چکھتا رہا” باپ کی خاموش ٹوٹ پھوٹ، بیماری اور اندرونی کرب کا بیان ہے۔ یہاں شاعر نے جذباتی موضوع کو بہت کم الفاظ میں شدید اثر کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اگرچہ ردیف بجھتا رہا خشک محسوس ہوتی ہے مگر اسی خشکی نے اشعار میں زندگی کے بجھتے ہوئے چراغ، امید کے مرجھانے اور خاندان کے درد کو ایک ہی تاثر میں سمو دیا ہے۔یاد رہے یہ اشعار ان کے پہلے مجموعے سے ہیں یعنی اس عمر میں جب لڑکے ہر فکر سے آزاد ہوتے ہیں یہ سنجیدہ طبعیت والا درویش شاعر معاشرے کا نوحہ لکھ رہا ہے۔
    اسی طرح افتخار فلک نے اپنی شاعری میں جو مضامین رقم کیے ہیں ان کو دیکھ کر اس شاعر کی فکر کی داد ہر قاری دیتا ہے۔ شعر دیکھیں:

    تجھے رونا پڑے گا ہر خوشی پر
    تری آنکھوں کا پانی مر گیا ہے

    افتخار فلک کے اس شعر میں مختصر بحر، سادہ زبان اور گہری داخلیت مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جس میں انسان کی جذباتی حسّیت کے زوال کا شدید المیہ سامنے آتا ۔ "آنکھوں کا پانی مر گیا ہے” ایک طاقت ور استعارہ ہے جو محض آنسو خشک ہونے کی بات نہیں کرتا بلکہ اس داخلی موت کی علامت ہے جب انسان کے احساسات، رحم، محبت اور درد سے جھلس کر بےجان ہو جائیں۔ اس بےحسی کا براہِ راست اثر یہ ہوتا ہے کہ خوشی بھی دکھ کا روپ دھار لیتی ہے اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ خوشی پر بھی رونا پڑے گا۔یعنی روح اتنی تھک چکی ہے کہ مسرت بھی اذیت بن گئی ہے۔ یہ کیفیت ان داخلی صدمات کی نشان دہی کرتی ہے جو انسان کو جذباتی طور پر منجمد کر دیتے ہیں اور باہر کی دنیا کی خوشیاں بھی اندر کے صحرا میں جذب ہو کر کڑواہٹ بن جاتی ہیں۔ بہت سادہ الفاظ میں ایک پوری نفسیاتی و روحانی ٹریجڈی بیان کرنا افتخار فلک کے اسلوب کی وہ خوبی ہے جو اسے مختصر بحر میں بھی گہرے اور تِہ دار معنی ترتیب دینے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔اسی طرح افتخار فلک کے اس شعر میں محبت کو ایک ایسی قوت اور آزمائش کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو زندگی بھر انسان کو بھگتنا پڑتی ہے۔ شاعر دکھاتا ہے کہ محبت محض دل کا معاملہ نہیں بلکہ ایک مسلسل کرب، قربانی اور بےپناہ صعوبتوں کا سفر ہے جس میں سچے اور مخلص لوگ اپنی سادگی، اخلاص اور وفاداری کے باعث وقت کے ہاتھوں حالات کے دھکوں یا رشتوں کی ناقدری کے سبب راستے ہی میں ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں۔ "یار ٹھکانے لگتے ہیں” میں ایک تلخ حقیقت پوشیدہ ہے کہ محبت کا راستا ہمیشہ روشن نہیں ہوتا۔ یہ راستا اکثروبیش تر ایسے حسّاس دلوں کو لہولہان کر دیتا ہے جو خود کو اس جذبے کے سپرد کر دیتے ہیں۔ شاعری میں اس قسم کا بیان افتخار فلک کی اس فکری سمت کو نمایاں کرتا ہے کہ وہ محبت کو رومان تک محدود نہیں سمجھتا بلکہ اسے انسان کی آزمائش، تنہائی، شکست اور داخلی ٹوٹ پھوٹ کے ساتھ دیکھتا ہے یعنی محبت جتنی خوب صورت ہے اتنی ہی بےرحم بھی ہے۔
    افتخار فلک کے ان تمام اشعار میں معانی کی گہرائی اور عصری شعور اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ چھوٹے اور سادہ الفاظ میں اتنی وسیع معنوی تہیں پیدا کرنا دراصل افتخار فلک کی وہ خصوصیت ہے جو اسے نئی نسل کے شعرا میں نمایاں کرتی ہے۔ ہر شعر اپنے اندر داخلی کرب، سماجی مشاہدے، اخلاقی زوال، طبقاتی کش مکش، خاندانی ذمہ داری اور انسانی رشتوں کے ٹوٹنے کا نوحہ سموئے ہوئے ہے۔

    "دھجیوں کو سنبھال لیتے تم
    اس نے پگڑی جو پھاڑ ڈالی تھی”

    یہ شعر عزت، وقار اور معاشرتی اقدار کے انہدام کا عکس ہے۔ آج کے معاشرتی حالات میں پگڑی پھٹنے کا مطلب صرف کسی کی ذاتی بےعزتی نہیں بلکہ وہ اجتماعی اخلاقی بحران ہے جہاں رشتوں، خاندانوں، دوستیوں اور اعتماد کی بنیادیں ٹوٹ رہی ہیں۔ شاعر شکوہ نہیں کرتا مگر اشارہ دے کر پوری کہانی مکمل کر دیتا ہےکہ تم ذرا سا تھام لیتے تو شاید بکھراؤ رک جاتا۔

    "چوم کر نور بھر دیا ورنہ
    ان لبوں پر تو خشک سالی تھی”

    یہاں شاعر محبت کو زندگی بخشنے والی قوت کے طور پر دکھاتا ہے۔ "خشک سالی” آج کے انسان کی جذباتی تھکن ذہنی بندش اور بےحسی کی علامت ہے۔ محبت کا ایک لمس، ایک لفظ اور سچی توجہ انسان کی پوری داخلی دنیا بدل دیتی ہے۔ آج کے دور میں جب رشتے مشینی ہو چکے ہیں اس شعر کی معنویت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
    "مکالمے کی فضا بناؤ
    تبھی تو اندر کا ڈر مٹے گا”

    یہ شعر موجودہ سماجی اور نفسیاتی بحران کی جڑ پر ہاتھ رکھتا ہے۔ گھر ہو معاشرہ ہو یا سیاست ہم مکالمے سے دور ہو گئے ہیں۔ اندر کے خوف، غلط فہمیاں، تشدد، دشمنی اور ذہنی بوجھ اسی لیے بڑھ رہے ہیں کہ ہم بات کرنا بھول گئے ہیں۔ شاعر علاج بتاتا ہے۔مکالمہ دلوں کے درمیان فاصلہ کم کرنے کا واحد راستا۔

    "سمے کی آری چلی نہیں ہے
    جو چل پڑی تو پتا چلے گا”

    یہ شعر وقت کے بےرحم فیصلوں کی طرف اشارہ ہے۔ ابھی تخت و تاج، طاقت، دولت اور اختیار کی مستیاں قائم ہیں لیکن وقت کی آری چلنے میں دیر نہیں لگتی۔ آج کے سیاسی اور معاشی حالات پر غور کریں تو یہ شعر ایک تنبیہ محسوس ہوتا ہے۔ وقت سب کو کٹہروں میں لاتا ہے کسی کے اختیار کا غرور دائمی نہیں۔

    "ترے ماں باپ بوڑھے ہو چکے ہیں
    تجھے اب نوکری کرنی پڑے گی”

    افتخار کا یہ شعر آج کے نوجوان کے سماجی دباؤ کی مکمل تصویر ہے۔ معاشی بحران، بےروزگاری، والدین کی بڑھتی عمر اور ذمہ داریوں کا بوجھ یہ سب مل کر نئی نسل کو اندر تک توڑ رہے ہیں۔ یہ شعر محض نصیحت نہیں موجودہ دور کے خاندانی نظام اور معاشی حقیقت کا کھرا بیان ہے۔

    "درختوں میں سیاست چل رہی ہے
    پرندوں میں کمی کرنی پڑے گی”

    یہ دو مصرعے کسی کلاس روم میں پڑھائے جائیں تو معاصر سیاسی اور ماحولیاتی صورتِ حال سمجھنے کے لیے کافی ہوں۔
    درختوں میں سیاست یعنی نظامِ قدرت میں بھی طاقت کی کھینچا تانی، مفادات، کش مکش۔
    پرندوں میں کمی یعنی کم زور طبقہ ہمیشہ قربانی بنتا ہے۔
    یہ شعر آج کے سیاسی نظام ماحولیاتی بحران طاقت ور طبقوں کی سازشوں اور کم زوروں کی قربانی کی ایک علامتی مگر نہایت گہری تصویر ہے۔
    مجموعی طور پر فکری گہرائی موجودہ حالات کے تناظر میں ہے
    افتخار فلک کے یہ اشعار پڑھ کر واضح ہوتا ہے کہ وہ محض جذباتی یا رومانوی شاعر نہیں بلکہ معاشرتی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھنے والا حساس اور باشعور قلم کار ہے۔
    اس نے مختصر لفظوں میں:
    معاشرتی عزت و غیرت کا زوال
    انسانی جذبات کی خشک سالی
    مکالمے کی کمی سے پیدا ہونے والا انتشار
    وقت کی ناانصافی
    نوجوانوں کی معاشی جدوجہد
    طاقت ور کے ہاتھوں کم زور کی قربانی
    سب کچھ ایسی سادگی سے بیان کیا ہے کہ قاری حیران رہ جاتا ہے کہ کم سے کم الفاظ میں اتنی بڑی سچائیاں کیسے سما گئیں۔
    یہ فکری گہرائی نہ صرف اس کے مشاہدے کی پختگی دکھاتی ہے بلکہ اس بات کی دلیل بھی ہے کہ افتخار فلک موجودہ عہد کے المیوں، کش مکشوں اور سماجی بےچینی کو پوری شدت کے ساتھ محسوس کر کے انہیں اپنی شاعری کا حصہ بناتا ہے۔میں سمجھتا ہوں افتخار فلک کے شعری سفر کی یہ ابتدا ہے۔ ابھی اس نے طویل سفر طے کرنا ہے جس میں اس نے اردو ادب کے دامن کو بہت وسعت دینی ہے۔ اس کی شاعری سے یقیناً اردو شاعری ثروت مند ہو گی۔ اس کے شعری رزق سے ایک جہان فیض پائے گا۔ یہ مختصر مضمون اس کی شاعری کو جاننے کےلیے فقط ایک ہلکا سا نمونہ ہے۔

  • غازی علم دین: شہید رسالتﷺ

    غازی علم دین: شہید رسالتﷺ

    (4 دسمبر یوم پیدائش پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    برصغیر کی تحریکِ آزادی کے کئی کردار ایسے ہیں جن کی جدوجہد کا محور قومی سیاسی حقوق نہیں بلکہ مذہبی غیرت اور عقیدے کا تحفظ تھا۔ غازی علم دین شہید انہی کرداروں میں وہ نام ہے جس نے نوآبادیاتی دور میں مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات، غیرتِ ایمانی اور ناموسِ رسالتﷺ کے تصور کو ایک نئی سمت دی۔ بیسویں صدی کے ابتدائی ربع میں لاہور سیاسی، سماجی اور فکری لحاظ سے ایک زندہ شہر تھا۔ اس ماحول میں پروان چڑھنے والا ایک سادہ نوجوان جب تاریخ کے ایک نازک موڑ پر سامنے آتا ہے تو وہ ایک فرد نہیں بلکہ ایک علامت بن جاتا ہے۔

    غازی علم دین 1908 میں لاہور کے قدیم محلے کوچہ چابک سواراں میں پیدا ہوئے۔ ترکھان گھرانے سے تعلق رکھنے والے یہ نوجوان مذہبی ماحول میں تربیت پاتے رہے۔ محلے کی مسجد اور چھوٹے سے مدرسے میں تعلیم حاصل کی۔ عملی زندگی نجارت کے پیشے سے شروع ہوئی، جو ان کے خاندان کا ورثہ تھا۔ ان کا سلسلہ نسب اُس بزرگ بابا لہنو سے جا ملتا ہے جس نے جہانگیر کے دور میں اسلام قبول کیا اور بعد ازاں اپنی استقامت اور روحانیت کے باعث احترام کا مقام پایا۔ اس پس منظر نے علم دین کی زندگی میں ایک نظریاتی اور روحانی رنگ بھی شامل کیا۔

    1920کے بعد برصغیر میں مذہبی اور سیاسی کش مکش بڑھ چکی تھی۔ "رنگیلا رسول” کے نام سے شائع ہونے والی گستاخانہ کتاب نے مسلمانوں کے جذبات میں آگ لگا دی۔ راج پال نامی ناشر کے خلاف اجتماعی احتجاج صرف مذہبی نہیں بلکہ سیاسی مزاحمت بھی تھی۔ مسلمان رہنما اور عوام دونوں چاہتے تھے کہ برطانوی حکومت قانون کے مطابق سزا دے، مگر عدالتی فیصلوں اور حکومتی رویے نے یہ تاثر پختہ کیا کہ انصاف کا دروازہ مسلمانوں پر بند ہے۔

    غازی علم دین: شہید رسالتﷺ

    یہ وہ لمحہ تھا جب اجتماعی غم و غصہ ایک فرد کے اندر جذب ہو کر عملی قدم کی صورت اختیار کرتا ہے۔ غازی کی اپنے رشتہ داروں کوجو وصیت فرمائی وہ قابل غور ہے۔

    "میرے تختہ دار پر چڑھ جانے سے وہ بخشے نہیں جائیں گے‘ بلکہ ہر ایک اپنے اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا حق دار ہوگا اور انہیں تاکید کی کہ وہ نماز نہ چھوڑیں اور زکوٰة برابر ادا کریں اور شرعِ محمدی پر قائم رہیں”۔

    راج پال کے خلاف کیے گئے ابتدائی حملے ناکام رہے۔ اس کے باوجود یہ بات واضح ہو گئی کہ لاہور کے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور یہ معاملہ عدالتوں یا حکومتی کاروائی سے حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس پس منظر میں علم دین کا قدم اچانک نہیں بلکہ ایک تاریخی تسلسل کی کڑی تھا۔ مذہبی غیرت، عدالتی مایوسی اور مسلمانوں کی اجتماعی تذلیل نے اس نوجوان کو اس جانب دھکیل دیا۔

    جب علم دین نے راج پال کو اس کی دکان پر للکارا تو یہ ایک جذباتی حملہ نہیں تھا بلکہ شعور کے ساتھ کیا گیا فیصلہ تھا۔ گرفتاری کے بعد ان کا پُرسکون رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس اقدام کو مذہبی فریضہ سمجھتے تھے۔

    مقدمہ اس زمانے کے سیاسی حالات کی علامت بن گیا۔ ان کے وکیل سلیم بارایٹ لا نے قانونی نکات سے بھرپور دفاع کیا، بعد ازاں محمد علی جناح اور بیرسٹر فرخ حسین نے ہائی کورٹ میں اپیل کی لیکن نوآبادیاتی نظام نے اس اپیل کو مسترد کر دیا۔ اس مرحلے پر مسلمان قیادت کو اندازہ ہوا کہ عدالتیں انصاف دینے کے لیے تیار نہیں اور ایک سیاسی پیغام دیا جا رہا ہے۔

    غازی علم دین کی مسکراہٹ کے ساتھ سزا سن کر سنبھل جانا اس پورے مقدمے کا سب سے نمایاں لمحہ ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”میں یہی چاہتا تھا“ اس بات کی مثال ہے کہ یہ مقدمہ صرف قتل کا نہیں بلکہ عقیدے اور عزتِ رسول کے تصور کا تھا۔

    31اکتوبر 1929 کو آپ کو میانوالی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ جسدِ خاکی کی حوالگی میں تاخیر نے حالات کو مزید حساس بنا دیا۔ علامہ اقبال، مولانا ظفر علی خان، سر فضل حسین، اور دیگر رہنماؤں نے دباؤ ڈال کر میت کی واپسی کو ممکن بنایا۔

    جب جسدِ خاکی لاہور پہنچا تو لاکھوں افراد کا اجتماع صرف ایک جنازہ نہیں تھا۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی غیرت اور نوآبادیاتی جبر کے خلاف خاموش احتجاج تھا۔ لاہور کی تاریخ میں شاید ہی کوئی دوسرا جنازہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہو۔ اقبال نے شہید کی تدفین میں شرکت کی اور ان کا وہ مشہور جملہ تاریخ کا حصہ بن گیا کہ ”یہ ترکھان کا لڑکا ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا“۔

    یہ جملہ اس نوجوان کے روحانی مرتبے، اس کی ایمانی جسارت اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی عظمت کو واضح کرتا ہے۔

    غازی علم دین شہید کا واقعہ کئی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مسلمانوں کی دینی غیرت کے بیانیے میں بنیادی حوالہ بنا۔ اس نے برصغیر میں قانونِ توہینِ رسالت کے لیے تحریک کی بنیاد رکھی۔ نوآبادیاتی عدالتی نظام کے یکطرفہ رویے کو بے نقاب کیا۔ اقبال، مولانا ظفر علی خان اور قائد اعظم جیسے رہنماؤں کا متفقہ موقف مسلمانوں کی وحدت کا مظہر بنا۔ مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات نے پہلی مرتبہ یہ محسوس کیا کہ مذہبی شناخت ہی ان کی سیاسی طاقت ہے۔

    غازی علم دین شہید کی شخصیت تاریخ میں ایک جذباتی کردار نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی رجحان کی نمائندگی کرتی ہے۔ ان کا عمل مذہبی غیرت کا اظہار ضرور تھا لیکن اس کے پیچھے وہ تاریخی محرکات موجود تھے جنہوں نے پورے برصغیر کے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ عزتِ رسولﷺ کے معاملے میں وہ کسی سمجھوتے پر آمادہ نہیں۔

    ان کی شہادت نے ایک سادہ کاریگر کو عہد ساز شخصیت بنا دیا۔ آج بھی ان کا مزار لاہور میں ایک تاریخی نشان ہے جو اس دور کی مذہبی و سماجی کش مکش کی یاد دلاتا ہے۔

  • استاد دامن: پنجابی زبان کا فی البدیہہ شاعر

    استاد دامن: پنجابی زبان کا فی البدیہہ شاعر

    (۳ دسمبر یوم وفات پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    لاہور کی گلیوں میں پلنے والے چراغ دین دامن نے اپنی جوانی کا بیشتر حصہ اسی شہر کے ہنگاموں میں گزارا۔ گھر کا ماحول سادہ تھا۔ والد درزی تھے اور دامن نے بھی کم عمری میں سلائی کا ہنر اپنا لیا۔ یہی سادگی، یہی محنت اور یہی شہر کی مٹی بعد میں ان کی پوری شاعری کی شناخت بنی۔

    چوک متی سے باغبانپورہ تک کا سفر صرف رہائش کی تبدیلی نہ تھا۔ اس نے ان کے سامنے شہر کے مختلف رنگ کھول کر رکھ دیے۔ یہی مشاہدہ آگے چل کر ان کے لہجے میں وہ بے ساختگی پیدا کرتا ہے جس نے انہیں عوام کا شاعر بنا دیا۔

    قیام پاکستان کے ہنگامے ان کے لیے شدید آزمائش ثابت ہوئے۔ دکان لٹ گئی، کتابیں جل گئیں، ہیر کا مسودہ خاک میں مل گیا۔ لیکن یہ وہ لمحہ تھا جس نے دامن کو سر جھکانے کے بجائے اپنی یادداشت پر بھروسا کرنا سکھایا۔ یہی ضد بعد میں ان کی فنکارانہ شخصیت کی ایک علامت بن کر سامنے آئی۔

    استاد دامن کی اصل پہچان پنجابی شاعری ہے۔ وہ لوک رنگ، طنز، سیاسی شعور اور بے ساختہ گوئی کے شاعر تھے۔ عام آدمی کی روزمرہ زبان ان کا اوزار تھی اور اسی زبان میں وہ بڑے سوال اٹھاتے تھے۔ ظلم، ناانصافی، معاشی ناہمواری اور سیاسی ڈھونگ سب کچھ ان کی نظموں میں کھل کر بیان ہوا۔

    استاد دامن: پنجابی زبان کا فی البدیہہ شاعر

    میاں افتخارالدین کی زیرِ صدارت لاہور میونسپل کمیٹی کے اجلاس میں پڑھی گئی نظم نے انہیں شہر میں پہچان بخشی۔ اس کے بعد وہ سیاسی جلسوں کا حصہ بنے اور پھر پورے پنجاب میں ان کے اشعار گونجنے لگے۔ ان کے الفاظ سادہ ہوتے تھے، لیکن ان کے پیچھے زندگی کا گہرا تجربہ بولا کرتا تھا۔

    فی البدیہہ گوئی ان کی وہ صلاحیت تھی جس نے بڑے بڑے مشاعروں میں حاضرین کو حیران کیا۔ دہلی کے ایک مشاعرے میں کہی گئی نظم سن کر پنڈت نہرو کا ان سے محبت بھرپور اصرار بھی انہی لمحوں کی گواہی ہے۔

    اگرچہ استاد دامن کی شہرت کا مرکز پنجابی زبان ہے، مگر ان کی اردو شاعری بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔ ان کا اردو لہجہ سادہ ہے، کسی دکھاوے یا لفظی چالاکی سے دور۔ وہ سیدھی بات کرتے ہیں اور وہی سیدھی بات پڑھنے والے کے دل میں اترتی ہے۔

    ان کی اردو شاعری میں تین عناصر نمایاں ہیں جن میں سرفہرست سیاسی آگہی اور احتجاج ہے۔ وہ سچ کو چھپاتے نہیں تھے۔ اردو نظموں میں بھی سیاست دانوں کی تنگ نظری، وعدوں کی کھوکھلاپن اور سماجی ناہمواریوں پر کھری تنقید ملتی ہے۔ ان کا انداز براہ راست تھا، اور یہی انداز بعد میں جالب جیسے شاعروں میں مزید پختہ صورت میں نظر آتا ہے۔

    دوسرا عنصر ان کا محبتِ وطن ہونا ہے۔ پاکستان سے ان کی محبت جذباتی بھی تھی اور فکری بھی۔ انہوں نے غصے میں وطن پر تنقید کی، مگر کبھی اس سے دوری قبول نہ کی۔ ان کا اپنا کہا ہوا جملہ “اگر میرا اردو ایڈیشن دیکھنا ہو تو جالب کو دیکھ لو” ان کی فکری سمت واضح کرتا ہے۔ استاد دامن کہتے ہیں:

    جاگن والیاں رج کے لٹیا اے

    سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں

    لالی اکھیاں دی پئی دس دی اے

    روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں

    ان کی شاعری میں پنجابیت کا تسلسل بھی ہے۔ان کی اردو شاعری میں بھی پنجابی مزاج کی کھری مٹی کی خوشبو موجود ہے۔ محاورے، لہجے، اور سادہ اظہار اردو میں بھی ان کی پہچان رہتے ہیں۔ نور جہاں کی زیر ہدایات بننے والی فلم چن وے کے ایک ایک گیت کا مکھڑا لکھا۔

    چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا

    آپے بناؤونا تے آپے مٹاؤنا

    استاد دامن صرف شاعر ہی نہیں تھے، وہ پنجاب کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گئے۔ ان کا کلام، ان کا مزاج، ان کی بے ساختگی سب کچھ تاریخ میں محفوظ ہو چکا ہے۔

    ان کی اہم ادبی خصوصیات میں ان کا عوامی لہجہ نمایان ہے۔ وہ دل کی بات عام آدمی کی زبان میں کہتے ہیں۔ ان کے اشعار مصنوعی ادبیت سے آزاد ہیں، اسی لیے وہ دل تک پہنچتے ہیں۔

    ان کی شاعری میں حقیقت نگاری بھی ہے۔ وہ زندگی کو جیسا دیکھتے تھے، ویسا بیان کرتے تھے۔ ان کی شاعری دکھ بھی ہے، احتجاج بھی، اور امید بھی ہے۔

    پنجابی ہو یا اردو، ان کا لفظ کبھی کمزور نہیں پڑتا۔ تخیل، مشاہدہ اور طنز تینوں میں ان کی گرفت مضبوط ہے۔ انہوں نے نہ صرف پنجابی زبان کی ترویج کے لیے ادارے بنائے بلکہ عملی طور پر لوگوں کو پنجابی اظہار کے قریب لانے میں کردار ادا کیا۔ دامن اکیڈمی جیسے ادارے انہی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ زندگی نے انہیں غیر معمولی دکھ دیے۔ بیوی اور کم سن بیٹے کی موت، لائبریری کا جل جانا، فقر و تنگی ان سب نے انہیں توڑا نہیں، بلکہ ان کی شاعری کو مزید گہرا کیا۔ فیض کی وفات نے انہیں اندر تک ہلا دیا۔ صرف تیرہ دن بعد خود بھی اسی دکھ کے پیچھے رخصت ہو گئے۔ دوستوں سے وابستگی اور وفاداری ان کی شخصیت کا بنیادی رنگ تھی۔

    استاد دامن کی زندگی، ان کی شاعری اور ان کا عمل تینوں مل کر ہمیں ایک ایسے فنکار سے روشناس کراتے ہیں جو لفظوں سے زیادہ سچ بولنے پر یقین رکھتا تھا۔ پنجابی ادب میں ان کا مقام مسلم ہے، مگر ان کی اردو شاعری بھی اس قابل ہے کہ اسے الگ سے دیکھا اور سمجھا جائے۔ وہ صرف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ اپنے عہد کی آواز بھی تھے۔ ان کا فن آج بھی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سادگی میں طاقت ہوتی ہے، اور سچ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔ دعا ہے کہ اللہ رب العزت استاد دامن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین

  • مقبول ذکی مقبول کی کتاب حسن بیان منصہءِ شہود پر آگئی ہے

    مقبول ذکی مقبول کی کتاب حسن بیان منصہءِ شہود پر آگئی ہے


    بھکر ( نمائندہ خصوصی ) مقبول ذکی مقبول کی کتاب کو ممتاز پبلکیشنز لاہور نے بڑے خوبصورت اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے اس کتاب میں ( شامل مضامین اور تبصرے ) بھکر کے معروف اُردو غزل گو ، بھکر میں نظم نگاری ، اور بھکر میں افسانہ اور ناول نگاری کے حوالے سے شاندار مضامین شامل ہیں اور صرف یہی نہیں دیگر علاقوں سے بھی کتاب میں مضامین اہم ادبی شخصیت پر لکھے گئے ہیں جو مقبول کی مقبول کے قلم سے وجود میں آئے ہیں تحقیقی اور تنقیدی بہترین کتاب ہے اس میں مقبول ذکی مقبول کے فن اور شخصیت کے حوالے سے جن کی آرا شامل ہیں ان میں ڈاکٹر فرحت عباس ، اسلام آباد مظہر نیازی ، میانوالی پروفیسر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ، آزاد کشمیر اور سید معراج جامی کراچی کی آرا موجود ہے

    مقبول ذکی مقبول کی کتاب حسن بیان منصہءِ شہود پر آگئی ہے

    بیک ٹائٹل پروفیسر ڈاکٹر سیدہ آمنہ بہار ، آزاد کشمیر یونیورسٹی ، مظفرآباد نے لکھا ہے ایسی کتاب علمی و تحقیقی تنقیدی کتاب ہے یہ مقبول ذکی مقبول کے قلم سے وجود میں آئی ہے بزمِ اوجِ ادب منکیرہ ( بھکر ) کتاب کی اشاعت پر مقبول ذکی مقبول کو مبارک باد بھی کہی ہے ۔