Tag: لاہور

  • وارث: عہدِ حاضر کی جھلک

    وارث: عہدِ حاضر کی جھلک


    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار،مظفرآباد

    "وارث "پروفیسر سید عاصم بخاری کے افسانچوں کا دوسرا مجموعہ ہے۔ قبل ازیں ان کا پہلا مجموعہ "اثاثہ” علمی و ادبی حلقوں میں من چاہی مقبولیت حاصل کر چکا۔ وارث 2025 میں ارسلان پبلی کیشنز، لاہور کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔ یہ کتاب اپنی ترتیب، اندازِ پیش کش، اور فکری جہت کے لحاظ سے اردو ادب میں ایک قابلِ قدر اضافہ ہے۔ اس مجموعے کا انتساب عدیم الفرصتی کے اس دور کے ہر قاری کے نام کیا گیا ہےجو نہ صرف عاصم بخاری کی قاری دوستی بلکہ ان کی عصری شعور کی علامت بھی ہے۔ کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں افسانچوں کی فہرست مرتب نہیں کی گئی جس سے قاری کو مطالعے کی آزادی میسر آتی ہے اور ہر کہانی ایک خودمختار تخلیقی تجربے کے طور پر سامنے آتی ہے۔
    کتاب کے حوالے سے معروف ادبی شخصیات نے اپنے تبصرے بھی پیش کیے ہیں جو مجموعے کی ادبی اہمیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ پروفیسر رئیس احمد عرشی، نسیم سحر، پروفیسر منور علی ملک، شاعر علی شاعر، ڈاکٹر رانا خالد محمود قیصر اور صفدر علی حیدری نے وارث کے لیے اپنے اپنے تاثرات لکھے ہیں۔ ان کے تبصروں میں زبان و بیان کی روانی، موضوعات کی تازگی، اور کرداروں کی حقیقت پسندی پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔ ان آرا سے ظاہر ہوتا ہے کہ وارث صرف کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اردو افسانچوں کے ارتقائی سفر میں ایک نمایاں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کتاب کے آغاز میں ڈاکٹر مشرف حسین انجم کا منظوم خراج بھی شامل ہے جو اس مجموعے کو ایک فکری اور ادبی وقار عطا کرتا ہے۔
    وارث کے افسانچے حقیقت کے اس قدر قریب محسوس ہوتے ہیں کہ قاری کو یوں لگتا ہے جیسے وہ خود ان مناظر کا مشاہد بن گیا ہو۔ عاصم بخاری کی نثر میں وہ تخلیقی بصیرت موجود ہے جو روزمرہ زندگی کے معمولی واقعات کو معنی خیز تجربات میں بدل دیتی ہے۔ ان کے افسانچوں کا پلاٹ محض کہانی سنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی تضادات اور عہدِ حاضر کی پےچیدگیوں کو اجاگر کرنے کا وسیلہ ہے۔ بخاری صاحب کی تحریر میں جو سادگی، روانی اور سچائی ہے وہ قاری کو نہ صرف کہانی میں کھینچ لیتی ہے بلکہ اسے دیر تک اپنے اثر میں رکھتی ہے۔

    وارث: عہدِ حاضر کی جھلک


    عاصم بخاری نے اپنے افسانچوں میں دورِ جدید کی علامتوں کو نہایت مؤثر انداز میں برتا ہے۔ خاص طور پر موبائل فون جیسی جدید ایجاد کو بہ طور علامت استعمال کرنا ان کی فکری گہرائی اور مشاہدے کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ علامتیں صرف تکنیکی ترقی کا حوالہ نہیں بلکہ انسانی تعلقات، تنہائی اور بدلتے سماجی رویوں کی علامت بن کر ابھرتی ہیں۔ ان کہانیوں میں موبائل ایک طرف رشتوں کی قربت کا ذریعہ بنتا ہے تو دوسری طرف اجنبیت اور فاصلوں کی دیوار بھی قائم کرتا ہے۔
    زبان و بیان کے اعتبار سے عاصم بخاری کا اسلوب نہایت سادہ مگر پُراثر ہے۔ ان کے ہاں منظر نگاری، کردار نگاری اور جزئیات نگاری کی ایسی ہم آہنگی ملتی ہے جو کہانیوں کو زندگی سے قریب کر دیتی ہے۔ ان کے کردار عام لوگوں کی طرح محسوس ہوتے ہیں ۔وہ محبت کرتے ہیں، الجھتے ہیں، خواب دیکھتے ہیں اور ٹوٹتے ہیں۔ یہی انسانی پہلو ان افسانچوں کو روحانی اور فکری گہرائی عطا کرتا ہے۔
    پروفیسر عاصم بخاری کی اس تصنیف میں اگرچہ کہیں کہیں تکرار کا احساس بھی ہوتا ہے مگر وہ زیادہ تر موضوعی تسلسل یا فکری استقامت کی علامت معلوم ہوتی ہے۔ یہ تکرار کہانیوں کو ایک وحدت فراہم کرتی ہے اور بخاری صاحب کی مخصوص فکری سَمت کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کی تحریروں میں ترقی پسندانہ رجحانات واضح طور پر نظر آتے ہیں جو فرد اور سماج کے باہمی تعلق، طبقاتی فرق اور انسانی مساوات کے نظریے پر استوار ہیں۔
    ایک اور قابلِ ذکر پہلو یہ ہے کہ عاصم بخاری نے اپنے افسانچوں میں اپنے اشعار کو بھی برمحل شامل کیا ہے۔ یہ اشعار نثر میں جذب ہو کر کہانی کے جذباتی اور فکری تناؤ کو مزید گہرا کر دیتے ہیں۔ کہیں یہ اشعار کردار کی داخلی کیفیت کی ترجمانی کرتے ہیں اور کہیں کہانی کے انجام کو شاعرانہ تاثر عطا کرتے ہیں۔
    مجموعی طور پر "وارث” ایک ایسا مجموعہ ہے جس کے افسانچے عہدِ حاضر کی حساسیت، انسانی رشتوں کی نازکی اور سماجی شعور کو ایک ساتھ سمیٹتے ہیں۔ عاصم بخاری کے یہ افسانچے اردو ادب میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہیں جو قاری کو نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتے ہیں بلکہ اسے اپنے اندر کے انسان سے دوبارہ جوڑتے ہیں۔ یہی اس کتاب کی سب سے بڑی کامیابی اور اس کے مصنف کی تخلیقی بصیرت کا ثبوت ہے۔

  • نسیم عباس کاشف ایک خوبصورت شاعر

    نسیم عباس کاشف ایک خوبصورت شاعر

    نسیم عباس کاشف ایک خوبصورت شاعر

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    خطہء جھنگ ارب کے حوالے سے ایک عظیم خطہء ہے ۔ اِس علاقے میں تخلیق ہونے والا ادب اپنی مثال آپ ہے ۔ اِس خطہء میں بڑے بڑے شاعر ، ادیب ، محقق پیدا ہوئے جنہوں نے ادب کے میدان میں نمایاں نام پیدا کیا ۔ اِس دھرتی پر دو عالمی شہرت یافتہ لوک داستانوں نے جنم لیا جن میں ہیر رانجھا اور مرزا صاحبہ کے نام قابلِ ذکر ہیں ۔ رومانیت کی وجہ اس خطے کو عاشقوں صادقوں کا خطہ کہا جاتا ہے ۔ اِن رومانوی داستانوں کی وجہ سے ہی یہاں پر تخلیق ہونے والا ادب اپنے اندر ایک انوکھی چاشنی رکھتا ہے ۔ اس لئے اس خطے کے تخلیقی ادب میں عشق و محبت ، ہجر و وصال اور رومانیت کے اثرات کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ شاعری میں اگر پیار ، محبت ، عشق کے ساتھ وصول اور فطری جذبے نہ ہو تو شاعری ، شاعری نہیں کہلاتی اسی لئے یہ جذبے شاعری بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
    نسیم عباس کاشف اُردُو اور پنجابی زبان کا خوبصورت شاعر ہے ۔ نسیم عباس کاشف 12 دسمبر 1974ء کو اوکاڑہ چھاؤنی میں خادم حسین جعفری کے ہاں پیدا ہوئے ۔ اِن کے والد پاک فوج میں بطور حوال دار ملازم تھے ۔ پھر کچھ عرصے کے بعد سر زمین جھنگ کے چک نمبر 166 دوکہ تحصیل و ضلع میں آ کر رہائش پذیر ہوئے اور اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا چند سالوں کے بعد وہاں سے ہجرت کرکے جھنگ کے علاقے موضع دابگر کلیکہ جو کہ جھنگ شہر سے دور دس کلومیٹر سرگودھا روڈ پر واقع وہاں آ کر سکونت اختیار کی ۔ وہاں کے قریبی گاؤں موضع پکے والا کے ہائی اسکول سے مڈل تک تعلیم حاصل کی ۔ آگے کی تعلیم کچھ نجی معاملات و مسائل کی وجہ سے پوری نہ ہو سکی ۔
    نسیم عباس کاشف نے 1992ء میں اپنے شعری سفر کا آغاز کیا ۔ اُردو ، پنجابی ادب کی تمام اصناف میں اشعار کہے اور اِن کا کلام ماہنامہ ٫٫ جواب عرض ،، لاہور میں شائع ہوتا رہا ہے ۔
    جھنگ کے قریبی دریائے چناب میں 2014ء میں ایک طوفانی سیلاب آیا جس کی وجہ سے موصوف شاعر کا بیشتر کلام اُس دریا کی طوفان کی نظر ہو گیا ۔ اِس بہت بڑے سانحہ نے شاعر کے اعصاب پر گہرے اثرات مرتب کئے اور ایک طویل عرصہ شاعری کی زندگی تخلیقی سقوط کا شکار رہی اور پھر آہستہ آہستہ دوبارہ سے ذہن ادب کی طرف مائل ہوا اور پھر سے تخلیقی شعری سفر کا آغاز ہوا جو اب تک جاری و ساری ہے ۔ اُس وقت ڈائجسٹ میں چھپنا اعزاز سمجھا جاتا تھا ۔ اس لئے بہت سے لکھتے ان اور ماہناموں میں اپنا کلام چھپواتے تھے ۔ دور افتادہ علاقوں کے لکھے اکثریت چھپتی نہیں تھی جو چھپتے تھے وہ ادبی جرائد و رسائل کی بجائے ان ڈائجسٹوں چھپنا ایک کار نامہ سمجھتے تھے ۔
    اب ہم نسیم عباس کاشف کی شعری جہتوں پر بات کرتے ہیں اور اُن کی شاعری مختصر سا ناقدانہ جائزہ بھی پیش کرتے ہیں ۔ اُن کی غزل کے کچھ اشعار ملاحظہ فرمائیں ۔

    نسیم عباس کاشف ایک خوبصورت شاعر
    نسیم عباس کاشف

    گرچہ صورت ہی جاودانی ہے
    پھر یہ الفت کی کیا کہانی ہے

    خواب سارے لُہو لُہو دیکھے
    بکھری بکھری میری جوانی ہے

    پھول پایا نہ اُن دریچوں کو
    رات بچپن کی کیا سہانی ہے

    کوئی دا مان نہ ملا کاشف
    اُجڑی اُجڑی یہ زندگانی ہے

    نسیم کاشف کے ان کے شعروں کو دیکھا اور پڑھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے یہ اُن کے اندر کی وہ ٹوٹ پھوٹ ، سماجی رویوں کے شکار اُن جذبوں کی محرومیوں کا ذکر ہے جن سے انسان صدیوں سے لڑتا آیا ہے ۔ اس میں محبت جھوٹ نفرت بے بنیاد اَنا پرستی کے ان کے کرداروں سے لڑتا لڑتا آخر کار اندر سے کرچی کرچی ہو جاتا ہے ۔
    نسیم کاشف بھی انہی رویوں کے ظلم کا نشانہ بنتا دیکھائی دیتا ہے ۔ اُن کے کچھ اور اشعار بطور نمونہ پیش خدمت ہیں ۔

    اُس کی آنکھوں میں اِک تجسّس تھا
    تیرگی سا نظارہ اُس کا تھا

    کون جانے گا اُس کے رازوں کو
    کس طرف وہ اشارہ اُس کا تھا

    وہ چلی تھی جو سمت باغوں کے
    جیسے منزل کنارہ اُس کا تھا

    کیسے ہم راز تم ہو کیسے میرے
    یہ سوال ہی دوبارہ اُس کا تھا

    نسیم عباس کاشف رومانوی اور جمالیاتی شاعری کے ساتھ ساتھ رثائی ادب بھی جوبصورت انداز میں تخلیق کرتا ہے ۔ ربّ کائنات اُن کے اِن جذبوں کو ہمیشہ زندہ رکھے اور وہ اسی طرح ادب تخلیق کرتا رہے ۔ آمین

  • فروٹ فروشی پر بہیمانہ مگر سبق آموز قتل

    فروٹ فروشی پر بہیمانہ مگر سبق آموز قتل

    فروٹ فروشی پر بہیمانہ مگر سبق آموز قتل

    Dubai Naama

    یہ واقعہ ہماری انتہائی عدم برداشت، متشددانہ رویوں اور "جہالت” کا مظہر ہے۔ محض چند درجن کیلوں کی خریداری اور پھر ریزگاری کی بحث پر دو بھائیوں کو قتل کر دینے کے واقعہ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ لاہور میں پیش آیا اور یہ دو بھائی سرگودھا کے بتائے جا رہے ہیں۔ ایک بھائی کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے اور کچھ میڈیا خبروں کے مطابق دوسرا بھائی بھی جاں بحق ہو گیا ہے۔

    ہوا کچھ یوں کہ مقتولین نے کچھ کیلے خریدے جن کی کل قیمت میں صرف 30روپے کم تھے اور فروٹ فروش جاہل کو غلطی سے انہوں نے 5ہزار روپے کا نوٹ پکڑا دیا، کیونکہ ان کے پاس کھلا نہیں تھا، جس پر مجوزہ قاتل نے کہا کہ چینچ لے کر آو’ تو دونوں بھائیوں نے کہا کہ یہ آپ کا کام ہے آپ لے کر آئیں۔ اسی بات پر بحث و تکرار ہوئی۔ پھر دونوں بھائیوں نے کہا کہ چینچ نہیں ہے تو فروٹ واپس لے لو جس پر فروٹ فروش نے کیلے واپس لینے سے انکار کر دیا۔ اس پر مزید گرمی سردی ہوئی تو ایک بھائی نے سہوا یہ کہہ دیا کہ، "فروٹ تمھارا باپ بھی واپس لے گا۔” بس فروٹ فروش کا یہ سننا تھا کہ اس نے فون پر اپنے کچھ ساتھی بلائے اور پھر کرکٹ بیٹ سے ان دونوں بھائیوں کی پٹائی کرنے لگا جس پر ایک بھائی کو سر پر بلا لگا تو وہ خون میں لت پت ہو کر نیچے گر گیا۔ دوسرا بھائی مار کھاتے کھاتے آگے بڑھا اور اپنے بھائی کا سر اپنی گود میں لے کر بیٹھ گیا۔ اسی دوران قاتل فروٹ فروش نے زور سے وہ بلا اس کے سر پر بھی دے مارا۔

    اطلاعات کے مطابق مقتول سرگودھا کے تھے جو لاہور سے واپس گھر جا رہے تھے۔ اب تک پولیس نے قاتل کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ میڈیا پر قاتل کی تصویر کو سلاخوں کے پیچھے دکھایا گیا ہے۔ ایک یہ تصویر اور ویڈیو بھی فیس بک پر گردش کر رہی ہے کہ جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ دہرا قتل درجنوں افراد کی موجودگی میں ہوا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ لوگوں کی اس کثیر تعداد میں موجود قاتل کرکٹ کا بیٹ پکڑے حملہ کرنے کے لیئے تیار کھڑا ہے مگر ہمارا معاشرہ اتنا ظالم اور بے حس ہو گیا ہے کہ کوئی ایک بھی تماشائی قاتل کو روکنے کے لیئے آگے نہیں بڑھتا ہے۔ ویڈیو میں یہ بھی صاف نظر آ رہا ہے کہ لڑائی ختم ہو گئی ہے اور ایک بھائی نزع کی حالت میں اپنے زخمی بھائی کو گود میں لے کر نیچے بیٹھ گیا ہے مگر جنونی قاتل کا حوصلہ ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہو رہا ہے۔

    یہ واقعہ ہمارے معاشرے کی مجموعی بے رحمانہ نفسیات کا آئینہ دار ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ دوسروں کے معاملات میں یا ان کی لڑائی میں نہیں پڑنا ہے یعنی ان کے معاملات میں خواہ مخوا ٹانگ نہیں اڑانی ہے، حالانکہ ظلم ہوتے ہوئے دیکھ کر خاموش رہنے والا بھی اتنا ہے ظالم ہوتا ہے کہ جتنا ظالم اور سفاک ظلم کرنے والا ہوتا ہے۔

    فروٹ فروشی پر بہیمانہ مگر سبق آموز قتل

    اب ہر دو طرح کے جو تبصرے آ رہے ہیں ان میں کوئی قاتل کو اور کوئی مقتولین کو قصوروار ٹھہرا رہا ہے۔ "قہر خدا کا۔” یہاں ہماری نفسیات جاہل سے جاہل معاشروں اور جنگل کے جانوروں سے بھی بدتر دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف ایک بیچارہ خون میں لت پت اپنے مرے ہوئے بھائی کا سر گود میں لے کر غمزدہ حالت میں آنسو بہا رہا ہے تو دوسری طرف نسل یزید سے ایک ظالم آتا ہے اور بلا مار کر اسے بھی ڈھیر کر دیتا ہے۔ نجانے ہمارے ملک میں ایسی بہیمانہ سوچ اور متشدد رویئے کیوں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں یا کیا وجہ ہے کہ ایسے وحشی لوگ ہمارے درمیان روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں؟ سوال یہ نہیں ہے کہ بحث اور لڑائی جھگڑے میں قصور کس کا تھا؟ ممکن ہے قصور دونوں بھائیوں کا تھا۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں قتل کر دیا جاتا۔ یہاں کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ مقتولوں نے یہ کیوں کہا تھا کہ کیلے تمھارا باپ بھی واپس کرے گا۔ شائد اسی ایک بات نے اور وہاں موجود ان افراد نے جن کو اس نے لڑنے کے لیئے بلایا تھا قاتل کا حوصلہ بڑھایا اور اس نے قتل جیسا گھناونا فعل انجام دے دیا۔

    اس پر مستزاد ہمارے معاشرے میں ہجوم کی نفسیات اس بھی گھناونی ہے کہ جو اچھے اچھوں کی سوچ کو مسلوب کر دیتی ہے اور اس سے کسی بھی طرح سے خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی ہے۔ جھگڑے والی جگہ پر تو ہجوم ایسے اکٹھا ہوتا ہے جیسے یہاں کوئی مفت میں کوئی سنسنی خیز ڈرامہ دکھایا جا رہا ہے۔ یہاں پہنچ کر ہجوم کی نفسیات اتنا کمینہ پن دکھاتی ہے کہ اس میں شامل لوگوں کے ہمدردانہ جذبات بھی گھاس چرنے نکل جاتے ہیں۔

    ہمارے ہاں ایک تو تعلیمی تناسب کم ہے اور اوپر سے عوام کی اخلاقی اور ذہنی تربیت کا بھی کوئی خاطر خواہ نظام موجود نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے اخلاقی سوشل ورکر یا مخصوص ادارے تو بلکل ہی نہیں ہیں کہ جو ہمارے اندر کردار سازی کریں اور ہمیں برداشت اور صبر و تحمل کرنا سکھائیں۔ ہماری جو اخلاقی تربیت مدرسوں یا سکولوں میں کی جاتی ہے وہ بھی "بنیاد پرستانہ” اور "دقیانوسی” قسم کی ہے۔ یوں ہمارے ذہنوں میں بچپن ہی سے گالی گلوچ، انتقام، بدلہ لو، مار دو، گرا دو اور آگ لگا دو وغیرہ کا کلچر بھرا ہوا ہوتا ہے۔ لوگ ایک دوسروں کو سننے یا برداشت کرنے کے لیئے تیار ہی نہیں ہوتے ہیں۔ جس وجہ سے آئے روز ہم ایک "جذباتی قوم” میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ایسے مواقع پر تو بس ہجوم کو آگ کے الاو’ میں بدلنے کے لیئے بس ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے۔

    خدا را، ملک و قوم اور اپنا مستقبل بچائیں۔ بے مقصد اور منفی جذبات تباہی کے سوا کچھ نہیں لاتے۔ یہ فروٹ فروش بھی کوئی لینڈ لارڈ نہیں تھا، بلکہ محض ایک دہاڑی دار غریب آدمی تھا۔ ظاہر ہے کہ اس کے ماں باپ، بہن بھائی یا بیوی بچے بھی ہوں گے۔ اگر ایک لمحہ کے لیئے وہ یہ سوچ لیتا کہ یہ محض 30 روپے ہی کا تو فرق ہے، وہ میرے دشمن نہیں ہیں بلکہ میرے گاہک ہیں، وہ میرا رزق لے کر آئے ہیں۔ میرا ان سے کوئی ذاتی لین دین یا جھگڑا نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے غصے میں آ کر مجھے زخمی وغیرہ کیا ہے، تو شاید وہ اتنا طیش میں نہ آتا اور نہ ہی قاتل کے طور سلاخوں کے پیچھے جاتا۔ اب اسے تو قتل کی سزا ملے ہی گی اور فوری طور پر ملنی بھی چایئے تاکہ اس سے دوسرے لوگ نصیحت پکڑیں اور لواحقین کو بھی انصاف ملے۔ لیکن درحقیقت ان مقتولین کے ساتھ مر تو وہ گئے ہیں جن بہن بھائیوں، والدین یا بچوں کے لیئے وہ فروٹ کی ریڑھی یا ٹھڑا لگاتا تھا۔

  • آزادی کی پھر بھی قدر کیجے

    آزادی کی پھر بھی قدر کیجے

    آزادی کی پھر بھی قدر کیجے


    تحریر  محمد ذیشان بٹ

    الحمدللہ! ہمارا پیارا ملک پاکستان 75 برس سے زیادہ کا سفر طے کر چکا ہے۔ یہ وہ ملک ہے جو لاکھوں جانوں کی قربانی، بے شمار آنسوؤں، لہو اور دعاؤں کے بعد وجود میں آیا۔ مگر افسوس کہ آج بھی ہمارے بنیادی مسائل تقریباً وہی ہیں جو آغاز میں تھے۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، بجلی و گیس کی کمی نے زندگی اجیرن کر دی ہے، اور نوجوان اپنی صلاحیتیں لے کر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ یہ سب حقائق اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم آزادی کی اہمیت کو بھول جائیں یا اس کی قدر کم کر دیں۔

    ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ آزادی آسانی سے نہیں ملی۔ ہمارے آباؤ اجداد نے ایسی قربانیاں دی ہیں جن کا تصور بھی آج کے دور میں مشکل ہے۔ ہجرت کے وقت ہزاروں خاندان اپنا سب کچھ چھوڑ کر محض اس امید پر پاکستان آئے کہ یہ وہ زمین ہوگی جہاں وہ اپنے دین پر آزادی سے عمل کر سکیں گے۔ لاہور، دہلی، امرتسر، لدھیانہ اور دیگر شہروں سے قافلے نکلے جن پر راستے میں حملے ہوئے، عورتوں کو بے عزت کیا گیا، بچوں کو شہید کیا گیا، مگر لوگوں نے ہار نہیں مانی۔

    پنجاب کے ایک گاؤں کی تاریخ میں درج ہے کہ وہاں کی بیٹیوں نے اپنی عزت بچانے کے لیے اجتماعی طور پر کنویں میں چھلانگیں لگا دیں۔ بعض کنویں خون اور لاشوں سے بھر گئے۔ گورداسپور سے آنے والے قافلے پر حملہ ہوا تو بزرگ مردوں نے نوجوانوں کو بھاگنے کا کہا اور خود دشمن کے سامنے ڈٹ گئے تاکہ قافلہ محفوظ نکل جائے۔ کئی مائیں اپنے بچوں کو گود میں لیے شہید ہو گئیں، مگر پاکستان پہنچنے کی خواہش ان کے چہروں پر لکھی رہی۔

    یہ قربانیاں محض زمین کے ٹکڑے کے لیے نہیں تھیں، بلکہ ایک نظریے کے لیے تھیں۔ "لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ” کے نام پر بننے والے ملک میں مسلمان اپنے دین کے مطابق زندگی گزار سکیں، یہی خواب تھا۔

    آزادی کی پھر بھی قدر کیجے

    آج ہم پاکستان میں جتنی بھی مشکلات کا ذکر کرتے ہیں، ایک لمحے کو ذرا اُن ملکوں کی حالت دیکھیں جہاں آزادی نہیں ہے۔ پڑوسی ملک بھارت میں مسلمان اپنی شناخت بچانے کے لیے ترس رہے ہیں۔ مشہور شاعر جاوید اختر اور سیاستدان اسد الدین اویسی کو محض اس لیے پاکستان کے خلاف بیان دینا پڑتا ہے کہ وہاں رہنا آسان ہو جائے، ورنہ جان کو خطرہ لاحق ہو جائے۔ کشمیر میں بہترین سڑکیں، تعلیمی ادارے، اور انٹرنیٹ ہونے کے باوجود لوگ آزاد نہیں، اپنے دین کی بات کھل کر نہیں کر سکتے۔ فلسطین میں معصوم بچے اور عورتیں روزانہ شہید ہو رہی ہیں، اور اپنی زمین پر بھی قیدی ہیں۔ عراق، شام، لیبیا — ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے۔

    اس پس منظر میں پاکستان کی قدر خودبخود واضح ہو جاتی ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں آج بھی ہم کھل کر اذان دے سکتے ہیں، قرآن پڑھ سکتے ہیں، جمعے کا خطبہ سن سکتے ہیں، اور دینی تعلیم عام کر سکتے ہیں۔ یہاں آپ کو یہ حق ہے کہ اپنی بات کہہ سکیں، اختلافِ رائے رکھ سکیں، اور اپنی مرضی کا لباس پہن سکیں۔ یہ سب آزاد فضاؤں کا تحفہ ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

    ہاں، مسائل ہیں، اور بہت ہیں۔ لیکن یہ گھر ہمارا ہے۔ گھر میں چاہے بھائی بہنوں کے بیچ جھگڑے ہوں، کوئی گھر چھوڑ کر اجنبی نہیں بن جاتا۔ بلکہ سمجھدار لوگ گھر کی اصلاح کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ پاکستان بھی ہمارا گھر ہے، اور یہاں کی بہتری کے لیے ہمیں ہی کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت سے شکوے اپنی جگہ، مگر سوال یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص خود اس ملک کے لیے کیا کر رہا ہے؟

    ہماری نوجوان نسل کے پاس سب سے بڑی طاقت تعلیم ہے۔ اگر آپ ڈاکٹر بن رہے ہیں تو صرف اپنے کیریئر کے لیے نہیں، بلکہ اس نیت سے بنیں کہ آپ اپنی قوم کو صحت کی بہتر سہولت فراہم کر سکیں۔ اگر انجینئر بن رہے ہیں تو پاکستان کے انفراسٹرکچر، صنعت و ٹیکنالوجی میں ترقی لانے کے لیے کام کریں۔ اگر استاد ہیں تو اپنے شاگردوں کو نہ صرف علم بلکہ شعور دیں تاکہ وہ جہالت کے اندھیروں سے نکل سکیں۔ اگر امام مسجد ہیں تو اپنی تقریروں میں اتحاد، اخلاق اور محبت کا پیغام دیں، تاکہ یہ معاشرہ نفرت سے نکل کر بھائی چارے کی طرف آ سکے۔

    پاکستان کے قیام کا مقصد صرف ایک جغرافیائی ملک نہیں تھا، بلکہ ایک اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا۔ اگر آج ہم محنت، ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ اپنے حصے کا کردار ادا کریں تو یہ خواب حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے۔ آزادی کا اصل حق تب ادا ہوگا جب ہم اس ملک کو اپنے بزرگوں کے خوابوں کا پاکستان بنا سکیں — ایک ایسا پاکستان جو دنیا میں عزت و وقار کی مثال ہو۔

    لہٰذا، 14 اگست صرف جشن منانے کا دن نہیں، بلکہ عہد کرنے کا دن ہے۔ آئیں یہ عہد کریں کہ ہم اپنی صلاحیتیں، اپنی محنت، اپنا وقت، اور اپنا جذبہ اس ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے وقف کریں گے۔ یہ ملک ہمارا ہے، اور اس کی عزت و حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج اٹک نے صوبائی بیڈمنٹن چمپئن شپ جیت لی

    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج اٹک نے صوبائی بیڈمنٹن چمپئن شپ جیت لی

    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج اٹک نے صوبائی بیڈمنٹن چمپئن شپ جیت لی

    اٹک(ہشام خان اعوان سے/نیوز ایڈیٹر)گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج اٹک نے صوبائی بیڈمنٹن چمپئن شپ جیت لی ہے،اٹک کالج کی ٹیم نے سیمی فائنل میں گوجرانوالہ اور فائنل میں لاہور ڈویژن کو ہرا کر ٹرافی اپنے نام کی ہے،تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج اٹک پنجاب کا معروف تاریخی ادارہ ہے جو تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی ہمیشہ ممتاز رہا ہے، تیسری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گیمز 2025ء کے فائنل راؤنڈز میں جمعرات کے روز راولپنڈی ڈویژن کی چمپئن ٹیم گورنمنٹ کالج اٹک نے ایک اور تاریخی فتح اپنے نام کرتے ہوئے صوبائی بیڈمنٹن چمپئن شپ کا فائنل جیت لیا ہے

    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج اٹک نے صوبائی بیڈمنٹن چمپئن شپ جیت لی
    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج اٹک کی فاتح بیڈمنٹن ٹیم

    اٹک کالج نے گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز میں ہونے والے فائنل میں لاہور ڈویژن کی ٹیم کو ان کے ہوم کورٹ میں ہرایا ہے، جبکہ سیمی فائنل میں اس نے گوجرانوالہ ڈویژن کی ٹیم کو شکست سے دوچار کیا ہے، اس شاندار کامیابی پر ڈائریکٹر کالجز راولپنڈی ڈویژن اور ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز اٹک پروفیسر ارشد خان سمیت ڈویژن بھر کے تعلیمی اور سماجی حلقوں نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج اٹک کے پرنسپل ڈاکٹر سید محمد عمران کو مبارکباد پیش کی ہے جو کہ کالج کی ترقی اور نیک نامی کیلئے مسلسل کوشاں ہیں،پرنسپل گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ ڈگری کالج اٹک نے اس شاندار کارکردگی پر اپنے کھلاڑیوں رامش اور افتخار احمد اور ان کے کوچز پروفیسر اعتزاز عزیز اور پروفیسر آصف حیات کی شاندار الفاظ میں تعریف کی ہے اور انتھک محنت اور عزم کی بدولت کالج کا نام روشن کرنے پر انہیں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خوب سراہا ہے۔

  • مقبول ذکی مقبول اچھا اور سچا شاعر

    مقبول ذکی مقبول اچھا اور سچا شاعر

    مقبول ذکی مقبول اچھا اور سچا شاعر

    تحریر : گُلشن آراء طارق ( لاہور )

    مقبول ذکی مقبول سے میری پہلی ملاقات ناصر باغ چوپال میں ہوئی جب وہ ایک ایوارڈ تقریب میں ایوارڈ وصول کرنے کے لیے لاہور تشریف لائے تھے ۔ نام ور شاعر اور پبلشر عقیل شافی خُوبصورت لہجے میں تقریب کی نظامت کر رہے تھے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ وہاں اس پروگرام میں مجھے اور مقبول ذکی مقبول کو اکٹھے ایوارڈ ملا تھا ۔ بعد میں بھی ان سے گاہے بگاہے ادبی پروگراموں اور مشاعروں میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ مقبول ذکی مقبول اچھے بھلے مانس اور شریف شخص ہیں ۔ لوگوں کی عزت کرتے اور اُن سے کرواتے ہیں ۔ ان کا یہ سلسلہ عام لوگوں کے لیے بھی ہے چاہے وہ شاعر ہوں یا نہ ہوں میں اُن کی شاعری اور نثر دونوں کی مداح ہوں وہ قلم اور کاغذ سے بھی اپنا رشتہ نِبھا رہے ہیں اور شاعروں اور شاعرات سے بھی ۔ وہ پورے مُلک میں سبھی شاعروں ، ادیبوں اور شاعرات سے مراسم قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ ان سے روابط رکھنا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ یہ ادب قبیلہ میری فیملی ہے میرا خاندان ہے وہ لوگوں کے دُکھ سُکھ میں بھی شامل ہوتے ہیں ۔

    مقبول ذکی مقبول اچھا اور سچا شاعر

    مجھے اچھی طرح یاد ہے چند سال قبل جب میں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں داخل تھی تو مجھے تواتر کے ساتھ مقبول ذکی مقبول کا فون آتا تھا ۔ یہ اُن کے احساس ہمدردی اور سنجیدہ ہونے کی ایک چھوٹی سی مثال ہے ۔ آج کل اُن کے شب و روز ادب کے فروغ کے لیے مختلف سکیمیں سوچنے اور اُن پر عمل کرکے کامیاب کرنے پر گُزرتے ہیں ۔ اِن دونوں وہ دھڑا دھڑ ادبی کام کر رہے ہیں ۔ بہت تھوڑے عرصہ میں اُنہوں نے بہت سا ادبی کام کر لیا ہے ۔ ان کی بہت سی کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ یہ کتابیں نہ صِرف شائع ہوچکی ہیں بلکہ علمی ادبی اور عوامی حلقوں سے خُوب کامیابی اور پسندیدگی کی سند بھی حاصل کر چکی ہیں ۔ ان کا طرزِ اسلوب سادہ مگر دِلکش ہے ۔ ان کی تحریروں کو جب کوئی پڑھنا شروع کرتا ہے تو پڑھتا ہی چلا جاتا ہے وہ سچ بولتے ہیں سچ لکھتے ہیں وہ اچھے اور سچے لکھاری ہیں ۔ ان کے قول اور فعل میں تضاد نہیں ۔ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں اُن کے لکھنے کا انداز منفرد اور دلچسپ ہے ان کا مطالعہ اور مشاہدہ وسیع ہے جو ان تحریروں میں نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول اچھے اخلاق کے مالک ہیں عاجزی اور انکساری بھی ان کی ذات کا خاصا ہے مغرور لوگوں کو وہ اچھا نہیں سمجھتے وہ سب کو پیار ، محبت ، اخلاق اور امن کا درس دیتے ہیں ان کے خیال میں مختصر سی زندگی کو پیار ، محبت اور امن سے گزارنا عقل مندی ہے ۔
    آخر میں مقبول ذکی مقبول کے مجموعہ کلام ٫٫ اندازِ بیاں دیکھ ،، میں سے دو فرد قارئین کی نظر کرتی ہوں جو وطن کے حوالے سے ہیں ۔

    بڑا خُوب صورت وطن ہے ہمارا
    خُدا کے کرم سے بنے یہ نظارے

    سبز ہلالی پرچم نے ہی
    دی ہے سچ میں عظمت ہم کو

  • اوورسیز پاکستانیوں کا اقتدار میں کوٹا مقرر ہونا چاہئے

    اوورسیز پاکستانیوں کا اقتدار میں کوٹا مقرر ہونا چاہئے

    اوورسیز پاکستانیوں کا اقتدار میں کوٹا مقرر ہونا چاہئے

    Dubai Naama

اوورسیز پاکستانیوں کا اقتدار میں کوٹا مقرر ہونا چاہئے

    لاہور کے زاہد منظور بھٹی برمنگھم میں "یوکے کیب” (UKCAB) کے نام سے ایک چیرٹی ادارہ چلاتے ہیں۔ ایک عرصہ سے ان کے خیراتی کاموں کی تفصیل پڑھ رہا ہوں دماغ میں اکثر خیال آتا ہے کہ وہ یہ کام پاکستان میں کیوں نہیں کرتے ہیں؟ شنید ہے کہ انہوں نے لاہور ماڈل ٹاؤن کے علاقے میں ایک ہسپتال بنوایا ہے جہاں غریب اور نادار مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے۔ انگلینڈ ایک خوشحال، ترقی یافتہ اور "سوشل ویلفیر سٹیٹ” ہے کیا وہاں بھی لوگوں کو مکان، کپڑوں، کھانے پینے کی اشیاء اور خیرات کی نقد رقم لینے کی ضرورت پڑتی ہے؟ زاہد منظور یہ خیر و نیکی کا کام بلاتفریق و تحقیق انجام دے رہے ہیں۔ وہ کاروبار سے جتنا ہیسہ کماتے ہیں چیرٹی کے کاموں میں لگا دیتے ہیں جن افراد کو وہ خوشیاں دیتے ہیں وہ انہیں جانتے ہیں اور نہ ہی ان سے کسی قسم کے صلہ یا انعام کی توقع رکھتے ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے لاہور کے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے فنڈ ریزنگ پروگرام میں بھی 10000پونڈ دیئے تھے۔ امکان ہے کہ وہ خفیہ طور پر پاکستان میں چیرٹی کے بہت سے اور پروگرام بھی چلا رہے ہوں گے۔

    ان کے علاوہ دیگر خوشحال اور متمول سمندر پار پاکستانی باہر اور پاکستان کے اندر دل کھول کر چیرٹی کے کام کرتے ہیں۔ انگلینڈ ہی کے بیسٹ ویز کے مالک پاکستانی برٹش انور پرویز، جنہیں ملکہ برطانیہ نے کاروباری خدمات کے عوض "سر” کا خطاب بھی دیا، وہ ہر سال اپنے منافع کا 2اشاریہ 5فیصد حصہ چیرٹی میں دیتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس کے تحت انہوں نے "بیسٹ ویز سیمنٹ فیکٹری” لگائی اور کچھ بنکوں کے شیئرز بھی خریدے۔ وہ انگلستان میں سب سے زیادہ امیر پاکستانی ہیں جن کے اثاثے 3اشاریہ ایک بلین ڈالر کے ہیں۔ امریکہ میں مقیم شاہد خان ان سے زیادہ امیر ہیں جن کے اثاثوں کی مالیت 2025ء میں 13اشاریہ 3 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ وہ بھی پاکستان میں چیرٹی اور بھلائی کے کاموں میں ضرور حصہ لیتے ہوں گے۔ انگلینڈ کے پاکستانی برٹش چوہدری محمد سرور بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ، رجانہ، پیرمحل اور راولپنڈی میں چیرٹی ہسپتال چلا رہے ہیں جہاں ادویات سمیت بلکل مفت علاج ہوتا ہے بلکہ رجانہ میں چوہدری محمد سرور صاحب ایک بچوں کا ہسپتال بھی چلا رہے ہیں جہاں چند سال پہلے میں نے خود وزٹ کیا تھا۔ وہاں پورے ضلع ٹوبہ بلکہ فیصل آباد ڈویژن سے لوگ آتے ہیں۔ چوہدری سرور فاونڈیشن کا یہ ہسپتال بہت مشہور ہے جہاں سپیشلسٹ ڈاکٹرز ہیں اور بچوں کی پیدائش اور علاج کا ایک روپیہ بھی چارج نہیں کیا جاتا ہے اور دوائیاں بھی بلکل مفت دی جاتی ہیں۔

    پاکستان کے لیئے خیراتی کام کرنے والے ان سمندر پار پاکستانیوں کی تفصیل کافی طویل ہے۔ آغا جہانگیر بخاری صاحب بتا رہے تھے کہ ضلع اٹک چھچھ کے علاقے میں ایک سمندر پار پاکستانی ہیں جو نیکی اور خیرات کے کاموں میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کا خیراتی کام چلتا رہتا ہے وہ ایک "لنگر کھانا” بھی چلاتے ہیں جہاں روزانہ ایک بیل زبح کیا جاتا ہے۔ تاہم یہ غیر ملکی امیر پاکستانی اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے سے دور بھاگتے ہیں۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ پاکستان میں بہت زیادہ کرپشن ہے، لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے اور پاکستان کے یہ سرمایہ دار غیرملکی پاکستانی ایک عمومی رائے یہ رکھتے ہیں کہ، "پاکستان ایک انتہائی خطرناک اور غیریقینی سٹیٹ ہے جہاں کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔” لھذا یہ غیرملکی پاکستانی دیگر محفوظ ممالک مثلا متحدہ عرب امارات، دبئی وغیرہ میں سرمایہ انوسٹ کرتے ہیں۔ بے شک بیرون ملک مقیم پاکستانی بہت سرمایہ دار ہیں جنہوں نے مختلف ممالک میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ دبئی میں جنرل انوسٹمنٹ کے اعتبار سے پہلے 10 ممالک کی فہرست میں انڈیا، یو کے، چائنا، رشیا، ایران اور سعودی عرب کے بعد پاکستان کا 7واں نمبر ہے جبکہ ترکی 8ویں نمبر پر ہے جبکہ کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ کے سیکٹر میں پاکستانی سرمایہ کار بھارت کے بعد دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔

    جیسا کہ گزشتہ اظہاریہ میں بھی وضاحت کی تھی کہ پاکستانی وطن سے محبت کے باوجود کرپشن، قبضہ مافیا اور بدانتظامی کے باعث مایوس ہو کر اور "اپنا سب کچھ پاکستان چھوڑ کر” واپس چلے جاتے ہیں۔ اگر پاکستان کو ترقی کرنی ہے تو حکومت کو انہیں محفوظ سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع فراہم کرنے ہوں گے، ورنہ ہم اپنی سب سے بڑی معاشی اور ذہنی صلاحیت سے یونہی محروم ہوتے رہیں گے۔

    پاکستان سے باہر کے ترقی یافتہ ممالک میں اعلی حصول تعلیم یا روزگار کے لیئے باہر جانے والوں کے حوالے سے پاکستان کو "ذہانت کے اخراج” (برین ڈرین) کا مسئلہ بھی درپیش ہے، جس پر ایک الگ سے اظہاریہ لکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے سمندر پار پاکستانیوں نے زندگی کے سرد گرم دن دیکھے ہوتے ہیں، ان کے پاس اعلی تعلیم، تجربہ اور ہنر ہوتا ہے اور مختلف قومیتوں سے لین دین، ماحول اور معیار کی وجہ سے ان میں صبروتحمل، برداشت اور دانشمندی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ سرمایہ کیسے اکٹھا ہوتا ہے اور خوشحالی کیسے آتی ہے۔ اگر حکومت انہیں سرمایہ کاری کی بہتر سہولیات اور ماحول دے یا اس سے بھی بڑھ کر ان کے لیئے اسمبلیوں میں خصوصی نشستوں کا کوٹا مقرر کیا جائے اور انہیں اقتدار میں بھی شامل کیا جائے تو اس سے ایک نہایت شاندار، اہل اور باکردار قیادت ابھر کر سامنے آ سکتی ہے۔

    پاکستانی حکومت ہر سال دو سال بعد بیرونی قرضوں کی قسط یا ان پر محض سود کی ادائیگی کے لئے دوست ممالک سے ایک دو بلین کا قرض لینے کی جو بھیک مانگ رہی ہوتی ہے، یہی سمندر پار بزنس مین اس مد میں نہ صرف کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں بلکہ اس تجویز پر عمل کیا جائے تو وہ پاکستان کا پورا قرضہ سال دو سال میں چکتا کر سکتے ہیں۔ ان قیادتوں کو تو ستر سال ہو گئے بہت آزما لیا۔ جہاں ہماری اسمبلیوں میں ان پڑھ، راشی، شرابی اور زانی تھوک کے اعتبار سے پہنچ جاتے ہیں، ان صاف ستھرے اور باکردار سمندر پار پاکستانیوں میں سے کچھ کو وہاں بیٹھنے کا موقع دیا جائے تو حرج ہی کیا ہے؟ اس سے پاکستان بہت کم وقت میں اپنے پاوں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ لیکن حکومت کو سنجیدہ اور مخلص ہو کر انہیں ساتھ لے کر چلنا ہو گا۔

    البتہ اس تجویز پر عمل وہی حکومت کر سکتی ہے جو اپنے اقتدار سے زیادہ ملک سے مخلص ہو۔ وزیراعظم شہباز شریف صاحب نے بیان دیا تھا کہ، "بھارت کو ترقی میں پیچھے نہیں چھوڑا تو شہباز نام نہیں۔” اس میں کوئی شک نہیں کہ اتنا بڑا دعوی ایسے ہی چند "تخلیقی” اور "انقلابی” اقدامات اٹھانے ہی سے پورا ہو گا۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف میں یہ کر گزرنے کی بھرپور ہمت اور صلاحیت بھی ہے اور ہم اہل وطن خوش قسمتی بھی ہیں کہ پاکستان کی باگ ڈور ان کے پاس آئی ہے اور اس پر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ آرمی چیف عاصم منیر بھی انقلابی سوچ رکھتے ہیں۔

  • بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی

    بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی


    بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    پاکستان  میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل ملک  کی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ بجلی چوری، واجبات کی عدم وصولی اور بدعنوانیوں کے مختلف پہلو ملک کی معاشی مشکلات کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے متعدد کوششیں کی گئیں لیکن سیاسی اور بیوروکریٹک مزاحمت کی وجہ سے یہ اصلاحات اب تک مؤثر ثابت نہیں ہو سکیں جوکہ غربت کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر  ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔

    پاکستان میں بجلی کی تقسیم کا نظام ہمیشہ سے مسائل کا شکار رہا ہے۔ 1990 کی دہائی میں بجلی کی نجکاری کے تحت تقسیم کار کمپنیوں کا شعبہ  قائم کیا گیا تاکہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کو بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم  ان کمپنیوں کی ناقص کارکردگی، غیر پیشہ ورانہ رویے  اور بدعنوانی نے اس نظام کو مزید کمزور کر دیا۔ بجلی کی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل نے ان کمپنیوں کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا۔

    وفاقی حکومت نے چھ ماہ قبل ایک مؤثر حکمت عملی تیار کی جس کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں  میں اصلاحات لانا تھا۔ اس حکمت عملی کے تحت ملتان اور سکھر سے آغاز کرتے ہوئے انٹیلی جنس، انویسٹی گیشن  اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران کو تعینات کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد بدعنوانی کو ختم کرنا اور واجبات کی وصولی کو یقینی بنانا تھا۔ لاہور اور کوئٹہ میں بھی اس حکمت عملی کے مثبت نتائج سامنے آئے  لیکن سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) میں اس فیصلے کے نفاذ میں بڑی رکاوٹیں درپیش رہیں۔

    سیپکو کے حوالے سے وفاقی حکومت کو طویل سیاسی اور غیر سیاسی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم  حالیہ دنوں میں حکومت نے سکھر میں بھی اصلاحات کے نفاذ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ایک جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق سیپکو کے سی ای او اور سول آرمڈ فورسز کے سیکٹر کمانڈر کو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)، ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی)  اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے افسران کو ڈی ایس یو کے ممبران کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔

    ملتان اور لاہور میں اس حکمت عملی کے تحت حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ واجبات کی وصولی میں بہتری، بجلی چوری کی روک تھام  اور بدعنوانی کے خاتمے میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ کوئٹہ میں بھی اس اقدام کے مثبت اثرات دیکھنے کو ملے ہیں۔ ان کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سکھر میں بھی ان اصلاحات کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بجلی کے نظام کی درستگی اور معیشت کی بہتری کے لیے وفاقی حکومت کی کوششیں قابل ستائش ہیں  لیکن یہ مسئلہ صرف وفاقی سطح پر حل نہیں ہو سکتا۔ سندھ کی تمام بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں بدعنوانی ختم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کو بھی بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ ضروری ہے کہ صوبائی حکومت وفاقی اقدامات کی حمایت کرے اور ان کے نفاذ کو یقینی بنائے۔

    سیاسی اثر و رسوخ کے باعث اصلاحات کے نفاذ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں غیر جانبدارانہ رویہ اپنائے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔

    بدعنوانی کے خاتمے کے لیے سخت قوانین اور ان کے مؤثر نفاذ کی ضرورت ہے۔ احتساب کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ بدعنوان عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے عوام میں شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ میڈیا اور سماجی تنظیموں کے ذریعے عوام کو اس بات کا احساس دلایا جائے کہ یہ مسائل قومی معیشت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

    بجلی کی تقسیم کے نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے چوری اور دیگر مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اسمارٹ میٹرز اور خودکار نظام کے ذریعے بجلی کی ترسیل اور تقسیم کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔

    بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی اور بدعنوانی کے مسائل پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اگرچہ وفاقی حکومت کی حالیہ کوششیں اصلاحات کی جانب ایک مثبت قدم ہیں لیکن ان کو کامیاب بنانے کے لیے سیاسی اور بیوروکریٹک مزاحمت کو ختم کرنا ہوگا۔ صوبائی حکومتوں اور عوام کا تعاون بھی ان مسائل کے حل کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر ان اصلاحات کو مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف بجلی کے نظام کو بہتر بنائے گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی مستحکم کرے گا۔

  • لندن سے لاہور تک: کسانوں پر ٹیکسز کا نفاذ

    لندن سے لاہور تک: کسانوں پر ٹیکسز کا نفاذ

    لندن سے لاہور تک: کسانوں پر ٹیکسز کا نفاذ


    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے)
    پوری دنیا میں ایک طرف جہاں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہر خاص و عام، چرند پرند، حیوانات، حشرات، نباتات اور انسان تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں وہیں پر نیچرل انوائرمنٹ یعنی قدرتی ماحول کے حوالے سے ایک اہم اور بنیادی اکائی ”شعبہ زراعت“ اور اس سے متعلقہ کاشتکار اور کسان جو قدرتی ماحولیات کے غیر اعلانیہ محافظ اور نگہبان کا کردار ادا کرتے چلے آ رہے ہیں کو حکومتوں کیطرف سے سہارا دینے کی بجاۓ ان پر لندن سے لاہور تک نہ صرف ٹیکس لگانے کی باتیں ہو رہی ہیں بلکہ جنوری 2025 سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں اور اپریل 2026 سے برطانیہ میں کسانوں کو مزید ٹیکس دینا پڑے گا-


    موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے کام کرنے والی بڑی بڑی آرگنائزیشنز دنیا بھر کے مختلف ممالک میں بڑے بڑے عالی شان ہوٹلوں میں تقریبات اور کانفرنسز کے انعقاد پر اپنے بجٹ کا بڑا حصہ خرچ کر کے اس بات پر زور دیتی ہیں کہ معاشرے کو دن بدن بڑھتی گیسز کے اخراج اور انرجی کے مضرصحت اثرات سے کیسے بچانا ہے، آلودگی کو کیسے کم کرنا ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کا کیسے مقابلہ کرنا ہے تاکہ اس کرہ ارض کو بچایا جا سکے لیکن اکثر ایسے پراجیکٹ اور منصوبے بناۓ جاتے ہیں کہ براہ راست کسان کو ان میں شامل نہیں کیا جاتا مثلاً کہا جاتا ہے کہ گلوبل وارمنگ یعنی عالمی تپش کو کم کرنے کیلئے شجرکاری کا عمل سب سے بہترین ہے اور اس مقصد کے لۓ اگر درخت لگانے ہیں تو براہ راست کسانوں کی مدد کر کے اس کو کامیاب کیا جا سکتا ہے کیونکہ کسان ہی ہیں جو تیزی سے بڑھتی ان تبدیلیوں سے متاثر ہونے کے باوجود انکے آگے ابھی تک ایک طرح سے بند باندھے کھڑے ہیں- اگرچہ تیزی سے رونما ہوتی ان موسمیاتی تبدیلیوں کے اسباب پیدا کرنے میں تو کسانوں کا حصہ کم ہے لیکن متاثرین میں وہ سب سے سے آگے ہونے کے باوجود براہ راست کسی قسم کی امداد سے محروم ہیں-
    چاہئے تو یہ تھا کہ پاکستان میں زرعی زمینوں پر سیمنٹ، ریت، بجری اور سریے کے پہاڑ کھڑے کرنے والوں پر کوئی قدغن لگتی، قدرتی پہاڑوں، درختوں، ندی نالوں، آبشاروں کو کاٹ کھانے والوں پر پابندی نافذ ہوتی لیکن قدرتی وسائل کو تیزی سے ختم کرنے والوں پر تو کوئی خاص قدغن نہیں لیکن مغرب سے مشرق تک کسان نشانے پر ہیں جسکی واضح مثال برطانوی دارالحکومت لندن اور وطن عزیز پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب جو زراعت کے حوالے سے نہ صرف ایک خوبصورت ماضی کا حامل ہے بلکہ اس وقت بھی پورے ملک کو اجناس اور غلے کی فراہمی میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے کے دارالحکومت لاہور میں کسانوں پر ٹیکس لگانے کے قوانین منظور کۓ گۓ ہیں جنہوں نے کسانوں کو احتجاج پر مجبور کر دیا ہے-
    ماہِ نومبر میں لاہور شہر میں تو سموک اور فوگ کے مرکب ”سموگ“ کے ڈیرے تھے جس میں خوش آئند طور پر بتدریج کمی واقع ہوئی ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام نے اِس کا بھی سارا الزام کسانوں پر ہی دھرا کہ وہ اپنی فصلوں کی باقیات کو آگ جلا کر سموگ پیدا کرنے کے موجب ہیں جبکہ حقیقتاً فصلوں کی باقیات کی شرح ٹرانسپورٹ کے دھوئیں سے پھیلنے والی آلودگی سے بہت کم ہے-
    پنجاب اسمبلی میں ایگریکلچرل انکم ٹیکس ایکٹ 1997 میں ترامیم اور کچھ نئی شقوں کے اضافے کے بعد ایگریکلچر انکم ٹیکس بل 2024 منظور کیا جا چکا ہے جسکے مطابق کسانوں پر دو طرح کے زرعی ٹیکس کا نفاذ کیا گیا ہے اور اس کو ”سپر ٹیکس“ کا نام دیا گیا ہے شاید اس ٹیکس کو سپر کا نام دینے کی وجہ یہ ہو کہ جب باقی چیزیں تنزلی کی طرف رواں دواں ہوں تو پھر ٹیکس ہی سپر رہ جاتا ہے جو عوام سے بزور وصول کر کے اپنی راجدھانی کو قائم رکھنے اور اس کو چلانے کے لۓ اور نظام کار چلانے والوں کے لۓ بیش بہا اخراجات پورے کۓ جاتے ہیں-
    زرعی ٹیکس کو دو حصوں آمدن یا ایکڑ کے حساب سے جنوری 2025 سے وصول کرنے کا منصوبہ ہے جس کے مطابق چھ لاکھ روپے سالانہ آمدن والے کسان پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہو گا جب کہ چھ لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ آمدن پر چھ لاکھ کا 15 فی صد سالانہ، 12 لاکھ سے 16 لاکھ روپے پر 20 فی صد، 16 لاکھ سے 32 لاکھ تک 30 فی صد اور 32 لاکھ سے 56 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن پر 40 فی صد کے حساب سے سالانہ ٹیکس وصول کیا جائے گا یہاں پر منافع کا ذکر نہیں ہے بلکہ حیران کن طور پر صرف آمدن کا ذکر ہے جس میں اخراجات پر سے صَرفِ نظر کیا گیا ہے جو نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں زرعی اخراجات پہلے ہی کسان کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں اور اس ٹیکس کا نفاذ کسان کے ساتھ سراسر زیادتی اور زراعت دشمنی ہے- اسی طرح ایکڑ کے حساب سے ساڑھے بارہ ایکڑ تک زمین سے اوپر یعنی ساڑھے بارہ سے 25 ایکڑ زمین تک زمیندار کو 3900 روپے سے 7500 روپے، 25 سے 50 ایکڑ پر دس ہزار سے 20 ہزار روپے، 50 ایکڑ سے زیادہ رقبے والے زمیندار سے 25 ہزار روپے سالانہ ٹیکس وصول کیا جائے گا جبکہ لائیو سٹاک یعنی جانوروں پر اور پھلوں کے درختوں کے باغات پر الگ سے ٹیکس ہونگے جن پر کسانوں کی تنظیموں نے اخباری بیانات اور میڈیا ٹاک کی حد تک اظہار ناراضگی کیا اور ٹیکس واپس نہ ہونے کی صورت میں باقاعدہ احتجاج کے اعلانات کۓ تھے-
    اسی طرح پاکستان سے ہزاروں میل دُور برطانیہ میں لیبر پارٹی کی حکومت نے پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد کسانوں پر ”وراثتی ٹیکس“ نافذ کر دیا ہے جس پر یہاں کے کسانوں نے ماہِ نومبر میں ہی لندن کے یخ بستہ موسم میں باقاعدہ اپنے ٹریکٹرز لیکر پارلیمنٹ کے سامنے بھرپو احتجاج کیا تھا جہاں انکے بچے بھی اپنے کھلونے ٹریکٹرز لیکر احتجاج میں شامل ہوۓ تھے تاہم لیبر پارٹی کی حکومت نے اس ٹیکس کو واپس لینے سے انکار کرتے ہوۓ کہا ہے کہ ٹیکس وصولی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی پر خرچ ہونے والی رقم میں جو خساره ہے اس کو اس ٹیکس سے پورا کیا جاۓ گا-
    کسانوں کی نمائندہ تنظیم ”نیشنل فارمرز یونین“ اپنے احتجاج کے ذریعے وراثتی ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے انہوں نے 19 دسمبر کو بینر ڈے کے طور پر منایا تھا اور فیملی ٹیکس کے خاتمے کے مطالبے پر مبنی ملک بھر میں دیہی علاقوں میں بینر لگاۓ گۓ ہیں جبکہ اس سے پہلے ماہ دسمبر میں ہی لندن سمیت مختلف شہروں میں باقاعدہ احتجاج اور سیمینارز بھی کۓ گۓ ہیں اور اب 25 جنوری کو ملک بھر میں تمام کسانوں کا متحد ہو کر احتجاج کا پروگرام ہے-
    زرعی وراثتی ٹیکس جسے کسان اور انکی تنظیمیں اب فیملی ٹیکس کا نام دے رہے ہیں کے خاتمے کے مطالبے کی اقتدار سے الگ ہونے والی کنزرویٹو پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی بھی حمایت کر رہی ہیں- کنزرویٹو پارٹی کی نئی سربراه کیمی بیڈینوچ نے ماہ نومبر کے لندن مظاہرے میں شامل ہو کر نہ صرف بلند آواز میں پرجوش نعرے لگواۓ تھے بلکہ اس ٹیکس کو "فیملی فارمز ٹیکس” کا نام دیا تھا، انہوں نے اسے ظالمانہ ٹیکس قرار دیتے ہوۓ برسراقتدار آ کر اس کو ختم کرنے کا وعدہ بھی کیا اور کہا کہ یہ ٹیکس اور اس ٹیکس کا نفاذ کرنے والے اس ملک سے "کھیتی باڑی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے”۔
    لبرل ڈیموکریٹس نے بھی اس ٹیکس پر تنقید کی ہے اور حکومت کی اس توجیح کو "کچرہ“ کہا ہے کہ اس سے صرف 500 امیر ترین کسانوں کی جائیدادیں متاثر ہوں گی۔ پارٹی کے ماحولیات کے ترجمان ٹم فیرون کا کہنا ہے کہ وراثتی ٹیکس کی ادائیگی کرنے کا واحد طریقہ کسانوں کے لۓ فارم سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے یعنی اپنے زرعی فارم کو بیچ کر ٹیکس ادا کر دیں اور یوں کارپوریٹ سیکٹر انہیں خرید لیں گے۔
    برسر اقتدار لیبر پارٹی کے لیڈر اور موجودہ حکومت کے وزیراعظم سر کئیر سٹارمر بھی اپنے ٹیکس اقدام کا دفاع کرتے ہوۓ کہہ رہے ہیں کہ اس وراثتی ٹیکس سے صرف پانچ سو بڑے کسان متاثر ہونگے جبکہ چھوٹے کسانوں کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا لیکن کسان یہ ماننے کو تیار نہیں ہیں اور وراثتی ٹیکس کو واپس لینے کا پرزور مطالبہ کر رہے ہیں-
    نیشنل فارمرز یونین (NFU) اور کنٹری لینڈ اینڈ بزنس ایسوسی ایشن (CLA) کا اندازہ ہے کہ ایک ملین پونڈ سے زیادہ مالیت کے ستر ھزار فارمز متاثر ہو سکتے ہیں۔
    نئے قوانین کے تحت ایک ملین پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کا فارم وراثت میں حاصل کرنے والے کو 20 فیصد وراثتی ٹیکس دینا پڑے گا۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کی زمینیں اور زرعی آلات قیمتی ہیں، لیکن منافع کا اصل مارجن کم ہے، یعنی ان کے بچوں کو ٹیکس ادا کرنے کے لیے زمین بیچنی پڑ سکتی ہے۔


    اس ٹیکس کو واپس لینے کیلئے ایک پٹیشن بھی سائن کی جا رہی ہے جس پر اڑھائی لاکھ سے زیادہ برطانوی دستخط کر چکے ہیں جبکہ کسانوں کے خدشات ہیں کہ وراثتی فارم کی ملکیت جب متوفی سے اس کے جائز ورثا کو منتقل کی جاۓ گی تو انہیں بھاری رقوم بطور ٹیکس دینا پڑیں گی جو سراسر زیادتی ہے اور فارمنگ کو ختم کرنے کے مترادف ہے کیونکہ کسان اور انکی فیملیز تو پہلے ہی کیش کی کمی کا شکار ہوتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اب کسان اپنی زرعی مشینری اور زمینیں بیچ کر ٹیکس دیں گے- (ختم شد)

  • جیل اصلاحات:لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

    جیل اصلاحات:لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

    جیل اصلاحات:لاہور ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*

    ایک بہت ہی اچھی عدالتی خبر ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں پنجاب کی جیلوں کے نظام فیصلہ جاری کیا ہے جس سے میں جیل خانہ جات میں اصلاحات کرنے کا ایک نیا باب کھل گیا ہے۔ اس فیصلے میں قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ، خواتین قیدیوں کے لیے الگ جیلوں کے قیام، اور ذہنی امراض میں مبتلا قیدیوں کے علاج و معالجے کو یقینی بنانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہوگا بلکہ انسانی حقوق کے تحفظ اور قیدیوں کی بحالی کے لیے ایک جامع حکمت عملی بھی فراہم کرے گا۔

    فیصلے میں لاہور، راولپنڈی، اور فیصل آباد میں خواتین قیدیوں کے لیے الگ جیلوں کے قیام کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ اقدام خواتین قیدیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔ موجودہ نظام میں خواتین قیدیوں کو مرد قیدیوں کے ساتھ مشترکہ جیلوں میں رکھا جاتا تھا جس سے ان کے لیے کئی مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔ الگ جیلوں کا قیام ان کے لیے محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کرے گا۔

    عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لمبے عرصے تک قید میں رہنے والے قیدیوں کو دوبارہ معاشرے کا مہذب شہری بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ یہ نکتہ جیل کے روایتی تصور کو چیلنج کرتا ہے اور قیدیوں کی بحالی اور معاشرتی انضمام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تربیتی پروگرامز، تعلیمی مواقع، اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔

    فیصلے میں اوپن جیلز کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جہاں کم سکیورٹی کے ساتھ قیدیوں کو رکھا جائے گا۔ یہ نظام قیدیوں کی بحالی کے لیے ایک جدید تصور ہوگا جو انہیں ذمہ داری اور خود انحصاری کا احساس دلانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    ذہنی امراض میں مبتلا قیدیوں کے لیے خصوصی وارڈز کی تعمیر اور ان کے علاج و معالجے کے لیے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں منتقلی کی ہدایت دی گئی ہے۔ یہ اقدام ذہنی صحت کے مسائل کو جیلوں کے نظام میں ایک اہم مسئلے کے طور پر تسلیم کرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ملتان اور راولپنڈی جیلوں میں قیدیوں کے علاج کو یقینی بنانا بھی اس فیصلے کا حصہ ہے۔

    فیصلے میں راولپنڈی جیل میں اسلام آباد کے 3200 قیدیوں کی موجودگی کو ایک اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے اور اسلام آباد میں جیل کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف راولپنڈی جیل کے رش کو کم کرے گا بلکہ قیدیوں کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

    حکومت پنجاب کو پروبیشن آفیسرز کی تربیت پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ وہ قیدیوں کی بحالی اور ان کے مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ یہ تربیت خاص طور پر ذہنی امراض، منشیات کی لت، اور دیگر پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ انسانی حقوق کے تحفظ اور جیلوں کے نظام میں اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس فیصلے پر عمل درآمد سے نہ صرف قیدیوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ معاشرے میں جرائم کی شرح کو کم کرنے اور قیدیوں کو کارآمد شہری بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ فیصلہ ایک ایسا ماڈل فراہم کرتا ہے جسے دیگر صوبے بھی اپنا سکتے ہیں۔

    Title Image by Booth Kates from Pixabay