Tag: لاہور

  • دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai

    دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai

    دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai

    Dubai Naama

دبئی، دبئی اے Dubai is Dubai


    کویت سنہ 1994ء میں کسی ملک پہلی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ تب طالب علمی کے زمانے میں حب الوطنی کے بارے بہت کچھ پڑھ اور سن رکھا تھا۔ شائد ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ریت اور مٹی کے صحرا میں واقع 3 گھنٹوں کی مسافت اور 2 شہروں پر مشتمل کویت کو دیکھ کر کھلا ڈلا مادر وطن "پاکستان” بہت زیادہ یاد آیا تھا۔ بیرون ملک یہ میرا پہلا سفر تو تھا ہی مگر آپ حیران ہونگے کہ میرا دوسرا غیرملکی سفر بھی کویت ہی کا تھا جب سنہ 1997ء میں صحافی کے طور پر مجھے دوبارہ کویت جانے کا موقعہ ملا۔ پہلی بار بھی وہاں حکومت کویت کی دعوت پر گیا تھا اور دوسری بار بھی کویت کی اطلاعات و نشریات کی "وزارتہ الاعلام” نے بلایا۔ اس وقت ایک عربی زبان جاننے والے دوست نے میرے کویت کے ویزہ پر لفظ "مجانہ” لکھا دیکھا تو مشورہ دیا کہ میں متحدہ عرب امارات کا ویزہ بھی لگوا لوں۔ چونکہ میرے پاس کویت کا سرکاری ویزہ تھا میں اسلام آباد میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانہ گیا تو میرا امارات کا ویزہ بھی لگ گیا۔ لیکن تب بھی "دبئی” Dubai اتنا مشہور تھا کہ متحدہ عرب امارات کے سفارت خانہ کو لوگ "متحدہ عرب امارات ایمبیسی” کی بجائے "دبئی ایمبیسی” کہتے تھے۔


    میں دوسری دفعہ کویت گیا تو حکومت کویت کی وزارت اطلاعات کا عملہ مجھے ائیر پورٹ پر رسیو کرنے کے لیئے موجود تھا۔ میں نے جنوری، سنہ 1991ء میں کویت کی آزادی کے حق میں کچھ کتابچے اور  اخبارات میں مضامین لکھے تھے۔ یہ ریکارڈ کویت ایمبیسی میں موجود تھا۔  جب 28فروری سنہ 1991ء میں کویت عراق کے قبضے سے آزاد ہوا تو کویت کی حکومت نے مجھے خصوصی طور پر کویت جانے کی دعوت دی مگر بوجوہ میں پہلی اور دوسری بار بلترتیب 1994 اور 1997 میں کویت جا سکا۔ جب میں دوسری بار کویت گیا تو کویتی حکام مجھے کویت کا دوسرا شہر دکھانے کے لیئے "فاہیل” بھی لے کر گئے۔ کویت کے میرے اس دورے کے بنیادی مقصد میں کویت کی تاریخ اور تعمیر نو کے بارے میں کچھ مزید مضامین لکھنا شامل تھے۔ لیکن کویت کے اس دس روزہ دورے کے دوران بھی دبئی Dubai کے بارے بہت ساری معلومات پڑھنے اور سننے کو ملیں۔ جب میں کویت سے واپسی پر دبئی ائیر پورٹ پر اترا تو دبئی ائیرپورٹ کو دیکھ کر تجسس دوبالا ہو گیا۔ اس وقت تک میرے سمیت دیگر پاکستانیوں کی اکثریت صرف  دبئی کو جانتی تھی۔ پاکستانی عوام شارجہ کا نام بھی محض شارجہ میں ہونے والے کرکٹ میچوں کی وجہ سے سنتے اور یاد رکھتے تھے جن میں زیادہ تر لوگوں کا یہی خیال ہوتا تھا کہ دبئی ایک ملک ہے اور شارجہ اس کا کوئی شہر ہے۔
    میں جنوری اور مارچ سنہ 1997ء میں دبئی Dubai مزید دو بار وزٹ پر آیا، میں جولائی سنہ 1998ء میں پاکستان سے انگلینڈ چلا گیا، مگر اس شہر کی چھاپ دل و دماغ میں ایسی بیٹھی کہ میں جب 9سال بعد سنہ 2007ء میں پاکستان آیا تو جون 2008ء میں ایک بار پھر دبئی آ گیا اور پھر یہ شہر دل کو ایسا بھایا کہ یہاں پکے پکے ڈیرے جما لیئے۔  1997 میں  عجمان سے دبئی آتے ہوئے رستے میں ریت کے ٹیلوں اور "ملا پلازہ” کے سوا کچھ نہیں ہوتا تھا۔ جب دوسری ریاستوں سے ٹریفک دبئی آتی تھی تو تیز ہوا کے طوفان سے سڑکیں ریت سے بھر جایا کرتی تھیں۔ شیخ زید روڈ پر "کراو’ن پلازہ” اور چند دیگر عمارتیں نظر آتی تھیں۔ تب "برج العرب” تکمیل کے مراحل میں تھا جس کا افتتاح دسمبر 1999ء میں ہوا۔ اٹلانٹس ہوٹل،  جمیرا کے ویلاز اور جے بی آر وغیرہ کی تعمیرات بھی جاری تھیں۔ برج خلیفہ جس کا پہلے "برج دبئی” نام تھا بھی 2004 میں شروع ہو کر 2010 میں مکمل ہوا۔ اسی دوران  دنیا کے سب سے بڑے شاپنگ مال یعنی "دبئی مال” جس کا پہلا نام "دی دبئی مال” تھا کی اوپننگ بھی 4نومبر 2008 کو ہوئی جس کی مزید توسیع کی چند روز قبل منظوری دی گئی ہے۔
    گو کہ دبئی مال دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ مال ہے مگر اب یہ مزید پھیلنے کیلئے تیار ہے۔ دبئی مال کی توسیع کے منصوبے پر 40 کروڑ ڈالرز سے زائد خرچ کئے جائیں گے۔ میں نے دبئی Dubai کے وزٹس اور 2008 کے بعد اس کی مسلسل ترقی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ یہاں نئی عمارات، سڑکوں کا نظام  اور انفراسٹرکچر ایسا ہے کہ ہر نیا آنے والا مسافر دبئی Dubai کی ترقی کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے 1997 کے وزٹ کے دوران ایک جرمن جوڑے سے پوچھا تھا کہ جرمنی اور دبئی میں کیا فرق ہے تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ دبئی میں جرمنی سے زیادہ خوبصورت عمارتیں ہیں، یہاں کی سڑکیں اچھی ہیں اور مہنگی کاریں زیادہ ہیں۔ حالانکہ جدید ترقی کے لحاظ سے جرمنی انگلینڈ سے بھی زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ میں انگلینڈ میں 9 سال رہا ہوں مجھے سہولیات، امن و امان اور بہت سے دیگر مواقع کی وجہ سے لندن کے مقابلے میں دبئی زیادہ پسند ہے۔ میرے خیال میں کم ترین وقت میں دبئی دنیا بھر میں تیز ترین ترقی کرنے والی ریاستوں اور شہروں میں پہلے نمبر پر ہے۔ اس وقت بھی دبئی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ شائد دبئی کو تعمیراتی شعبے میں ریکارڈز بنانا بہت زیادہ پسند ہے۔
    دبئی Dubai دنیا کی بلند ترین عمارت کا گھر ہے اور  اسی شہر میں دنیا کا سب سے بڑا شاپنگ سینٹر بھی موجود ہے جو اب مزید پھیلنے جا رہا ہے!
    دبئی مال ایک کروڑ 20 لاکھ اسکوائر فٹ رقبے پر پھیلا ہوا شاپنگ سینٹر ہے اور اب اس میں مزید 240 دکانوں اور ہوٹلوں کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس شاپنگ  سینٹر میں دنیا کا سب سے بڑا فش ایکوریم بھی موجود ہے جبکہ یہاں ڈیجیٹل آرٹ میوزیم بھی ہے، 15 کروڑ سال پرانا ڈائنا سور کا ڈھانچہ بھی ہے اور 26 اسکرینوں پر مشتمل ایک سنیما کے علاوہ اور بھی بہت کچھ موجود ہے۔
    دبئی Dubai کی نئی تعمیرات میں 58 میل طویل ائیر کنڈیشنڈ شاہراہ کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ دبئی میں سیاحوں کی بڑھتی تعداد کو زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ فروری 2023 میں اس منصوبے کی تفصیلات سامنے آئی تھیں جس کے مطابق یہ شاہراہ اٹھاون میل طویل ہو گی جس کے اوپر ایک چھت موجود ہو گی اور اسے "دی لوپ” کا نام دیا جائے گا۔


    بنیادی طور پر یہ شاہراہ سائیکل چلانے یا پیدل گھومنے والوں کے لئے ہو گی جس کا ایک مقصد دبئی Dubai میں کسی بھی جگہ آسانی کے ساتھ پہنچ جانے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ یہ شاہراہ دبئی Dubai کے گرد گھومے گی اور یہ گاڑیوں سے پاک سر سبز راہداری ہو گی تاکہ لوگ پیدل یا سائیکل پر شہر کی سیر کر سکیں!
    میں جب 80 کی دہائی میں پاکستان لاہور ایف سی کالج کا طالب علم تھا تو مجھے لاہور بہت پسند تھا۔ لاہور میں شالیمار باغ ہے، شاہی قلعہ اور شاہی مسجد ہے جس کے دامن میں مزار اقبال ہے، پنجاب یونیورسٹی ہے اور سب سے بڑھ کر وہاں تاریخی مقام "چوبرجی” اور "انار کلی بازار” ہیں۔ یہاں تک کہ لاہور میں جتنی رونقیں ہیں یا وہاں کے شہری جتنے مہمان نواز اور "جی دار” ہیں، لوگ بجا طور پر کہنے میں حق بجانب ہیں کہ "لہور لہور اے” مگر لاہوری بھی دبئی آتے ہیں تو اسے دیکھ کر لاہور کو لاہور کہنا بھول جاتے ہیں کہ دبئی Dubai واقعی دنیا بھر کا ایسا "عروس البلاد  شہر” (میٹروپولیٹن سٹی) بن چکا ہے کہ دبئی آنے والے سیاح دبئی کے ائیر پورٹ ٹرمینل3 پر اترتے ہی اس شہر کو دل دے بیٹھتے ہیں کہ لاہور میں اب پولیوشن کے سوا کچھ نہیں بچا۔
    دبئی Dubai میں آسمان سے باتیں کرتی عمارتیں ہیں جن میں ہر طرف صفائی ہے جو ماحول دوست ہیں تعمیر و پائیداری کا نمونہ ہیں، سڑکوں پر گاڑیوں کا رش  ہے مگر دھواں نہیں، یہاں جھیلیں ہیں، چھوٹی لگژری لانچیں ہیں، شاہراہوں کے کناروں کے ساتھ کیفے اور ریسٹورنٹس ہیں، کھجور اور پام کے درخت ہیں، آپ کھلے سمندر کے کنارے چلے جائیں تو مجال ہے کہ وہاں کوئی شاپر بیگ، کھانے کے ریپر، پلاسٹک کی بوتلیں یا کوئی دیگر کباڑ پھینک سکے۔ٹریفک جام نہیں ہوتی، فلائی اوور برجز ہیں، سڑکیں صرف اس مقام سے عبور کی جاتی ہیں جہاں زیبرا کراسنگ ہو، گاڑی پارک کرنے کی فیس ہے، لباس پہننے کی آزادی ہے لیکن اس پر اعتراض کرنے کا حق کسی فرد کو نہیں۔ یہ کہنا بالکل بجا ہے  کہ دبئی ایک منظم زندگی کا شہر ہے۔ پاکستان کے بہت سے شہر دبئی سے زیادہ قدرتی وسائل کے مالک ہیں، پاکستان میں پانی کی کمی ہے لیکن پھر بھی وہاں پانی اس قدر وافر ہے کہ لوگ گلیوں میں بہاتے رہتے ہیں، جس سے جگہ جگہ جوہڑ بن جاتے ہیں اور مچھروں کی نرسریاں قائم ہو جاتی ہیں۔ اس سے ہماری "سوک سینس” کی سطح ظاہر ہوتی ہے کہ ہم اپنے وسائل کو کس بے دردی سے لٹا رہے ہیں۔ دبئی میں ترقی کے عمل کا شاید ہی ہمارے فیصلہ سازوں اور ماہرین تعلیم نے کبھی تجزیہ کیا ہو، دبئی کی ریاست کے بارے زیادہ تر علم میڈیا کی کوریج سے ملتا ہے، خاص طور پر نیوز میگزین اور کاروباری رپورٹس سے، دنیا دبئی کی ترقی کو ایک ماڈل کے طور پر جانچ رہی ہے جو کہ ایسا کاروباری ماڈل ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود صرف دولت سے مزید دولت پیدا کرنے میں دبئی دنیا بھر کے شہروں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے کہ پوری دنیا کا پیسہ بلا رکاوٹ یہاں پہنچ رہا ہے۔
    گزشتہ 10 برسوں میں متحدہ عرب امارات کی تیل کے بغیر تجارت 16.14 کھرب درہم (4.4 کھرب امریکی ڈالر) تھی۔ متحدہ عرب امارات کی جی ڈی پی سنہ 2021ء میں 407 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2022ء میں 440 ارب ڈالر اور سنہ 2023ء میں 467 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح فی کس جی ڈی پی جو سال 2020ء میں 43,868 ڈالر تھی، بڑھ کر گزشتہ سال 48,822 ڈالر ہو گئی۔ تیل کی پیداوار جو کبھی دبئی Dubai کی مجموعی جی ڈی پی کا 50 فیصد تھی، آج ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتی ہے۔ سنہ 2018ء میں تھوک اور خوردہ تجارت کل جی ڈی پی کے 26 فیصد کی نمائندگی کرتی تھی۔ نقل و حمل اور لاجسٹکس 12 فیصد، بینکنگ، انشورنس اور کیپٹل مارکیٹ 10 فیصد، مینوفیکچرنگ 9فیصد، رئیل اسٹیٹ 7 فیصد، تعمیرات 6 اور سیاحت 5 فیصد تھی۔ تازہ ترین اعداد وشمار سے پتہ چلتا ہے کہ سیاحت، مینو فیکچرنگ اور کیپٹل مارکیٹ میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔
    آج دبئی Dubai نے ہوٹلوں کی تعمیر اور رئیل اسٹیٹ کو ترقی دے کر اپنی معیشت کا محور سیاحت کو بنا لیا ہے۔ پورٹ جبل علی، جو 1970ء کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا، دنیا کی سب سے بڑی انسانی ساختہ بندرگاہ ہے۔ دبئی مارینہ کے علاوہ ڈیرہ مرینہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ واٹر فرنٹس، گرین سٹی اور سموک فری سٹی کے منصوبوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔ دبئی اور ابوظہبی کے درمیان بلٹ ٹرین کا منصوبہ زیر تکمیل ہے جو اڑھائی گھنٹے کی بجائے یہ فاصلہ صرف 30 منٹ میں طے کروائے گا۔ یہ ٹرین جاپانی ٹرینوں سے بھی زیادہ تیز رفتار ہو گی۔ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر، آئی ٹی اور فنانس جیسی سروس انڈسٹریز کے مراکز بھی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں۔ایمریٹس ایئرلائن کی بنیاد حکومت نے 1985ء میں رکھی تھی (جسے پی آئی نے پروموٹ کیا تھا)، یہ اب بھی سرکاری ملکیت میں ہے اور دنیا کی آج بھی انتہائی منافع بخش اور نمبر ون آئیر لائن ہے جبکہ خود پی آئی اے بنک رپٹ ہو چکی ہے۔


    دبئی Dubai دنیا بھر کے کاروباری دفاتر کا مرکز ہے، یہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کے لئے سب سے بڑا کاروباری گیٹ وے ہے اور بزنس ہب ہے، دبئی انٹرنیٹ سٹی، اب دبئی میڈیا سٹی کے ساتھ دبئی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک کامرس اور میڈیا فری زون اتھارٹی کے ساتھ مل کر ایک ایسا انکلیو ہے جس کے ممبران میں آئی ٹی فرمز جیسے ای ایم سی کارپوریشن، اوریکل کارپوریشن، مائیکروسافٹ، سیج سافٹ ویئر اور آئی بی ایم شامل ہیں۔ کئی میڈیا ہاوس جیسے ایم بی سی، سی این این، رائٹرز اور اے پی کے دفاتر یہاں کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے میڈیا اداروں کے نمائندے یہاں موجود ہیں۔ دبئی نالج ولیج، دبئ فری زونز، دبئی انٹرنیٹ سٹی اور دبئی میڈیا سٹی بھی کام کر رہے ہیں، جو کلسٹرز کے مستقبل کے کارکنوں کو تربیت دینے کے لئے سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ دبئی آؤٹ سورسنگ زون ان کمپنیوں کے لئے ہے جو آؤٹ سورسنگ کی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ یہاں کمپنیاں دبئی حکومت کی طرف سے فراہم کردہ مراعات کے ساتھ اپنے دفاتر قائم کر سکتی ہیں۔
    مزید برآں دبئی Dubai میں سیاحت کے لیئے شاپنگ مالز، ڈزنی لینڈز، برج العرب کے ساتھ "وائلڈ وادی”، ڈو کروز، ڈیزرٹ سفاری دبئی مال کا "واٹر ڈانس”، شوٹنگ، اور دیگر بے شمار ایسی ٹورسٹ اٹریکشنز ہیں کہ دبئی Dubai میں دنیا بھر سے سیاح امڈ آتے ہیں جس سے سیاحت دبئی کے لیئے آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں غیر ملکی نقدی کے بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لئے سیاحت دبئی حکومت کی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق سیاحت کے شعبے نے سنہ 2017ء میں جی ڈی پی میں تقریباً 41 ارب ڈالر کا حصہ ڈالا، جو کہ جی ڈی پی کا 4.6 فیصد بنتا ہے اور یہ شعبہ تقریباً 570,000 ملازمتیں بھی فراہم کرتا ہے، جو کل روزگار کا 4.8 فیصد بنتا ہے۔سال 2007ء سے2017ء کے دوران جی ڈی پی میں اس شعبے کی شراکت میں 138 فیصد اضافہ ہوا۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے 2016ء میں 83.6 ملین مسافروں کو خوش آمدید کہا اور اسی سال 14.9 ملین سیاح دوبئی کے ہوٹلوں میں ٹھہرے، جو کہ 2015ء سے 5% زیادہ تھا۔2023 اور 2024 میں سیاحوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
    پاکستانی فخر سے لاہور کے بارے کہتے تھے: "جئنے لہور نہئ ویکھیا او جمیا ای نہئ” اب دبئی Dubai کی اس بے مثال ترقی کو دیکھتے ہوئے دنیا دبئی کے بارے کہتی ہے کہ جس نے دبئی نہیں دیکھا اس نے دیکھا ہی کیا ہے؟  انڈیا اور پاکستان سے لوگ تیزی سے یہاں کاروبار قائم کر رہے ہیں اور پراپرٹیاں خرید رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انڈین اور پاکستانی دبئی میں زیادہ پراپرٹیوں کے مالکان کے طور پر بلترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ریکارڈ کیئے گئے۔ یہ ہمارے لیئے سبق آموز بات ہے کہ دبئی Dubai کتنا کاروباری دوست ماحول رکھتا ہے جس کے مقابلے میں پاکستان انوسٹمنٹ کے لحاظ سے کس قدر بدترین ملک ہے۔
    آج کی سائنسی ٹیکنالوجی اور کونیات کے دور میں دولت اور ذرائع سے زیادہ "آئیڈیاز” بکتے ہیں۔ دبئی Dubai ہر لحاظ سے ایک لبرل اور کمرشلایزڈ سٹیٹ ہے۔ آپ کے پاس کوئی اچھوتا خیال ہے، آپ محنت کرنا جانتے ہیں یا آپ میں کوئی بھی غیر معمولی صلاحیت ہے تو دبئی Dubai ایسا شہر اور ریاست ہے جہاں آپ کو آگے بڑھنے کا ضرور موقع ملتا ہے۔ مجھے دبئی میں رہتے ہوئے 15 سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ میں مزدوروں اور ان پڑھوں کو اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر ملینئیر بنتے دیکھا ہے۔۔۔ قانون شکنی کیئے یا کسی کو نقصان پہنچائے بغیر آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں اور جو چاہیں بیچ سکتے ہیں جو شرطیہ منافع کی ضمانت ہے۔ دبئی اپنی انہی لچک دار پالیسیوں کی وجہ سے دنیا بھر کی کاروباری شخصیات کو اٹریکٹ کرتا ہے۔ آج متحدہ عرب امارات کی حکومت نے کچھ ممالک کے ویزوں پر پابندی لگا رکھی ہے مگر ان ممالک کے شہری ہیں کہ دبئی پہنچنے کے لیئے ہر جائز و ناجائز طریقہ استعمال کر کے یہاں پہنچنے کے لیئے پریشان و بیتاب ہیں۔ اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ دبئی دنیا کے ہر شہری کو وہ سہولیات اور پرامن رہنے کی وہ سہولیات فراہم کرتا ہے جو دُنیا کا دوسرا کوئی ملک یا شہر فراہم نہیں کرتا۔


    دبئی Dubai دنیا کی واحد ایسی جگہ ہے جہاں دوست اور دشمن ایک ساتھ امن و سکون سے رہ رہے ہیں۔ کہاوت کے مطابق، یہاں شیر اور بکری قانون کی پابندی اور حکومت کے اس پر عمل کروانے کی وجہ سے ایک گھاٹ پر پانی پیتے ہیں۔ جہاں قانون کی بالادستی ہو وہاں نہ صرف ترقی ہوتی ہے بلکہ وہاں دنیا کے تمام ممالک سے لوگ امان پانے کے لیئے کھچے چلے آتے ہیں۔  
    Title Image by Pexels from Pixabay

  • “صاحب اقلیم ادب” از نواب ناظم میو اور احمد فہیم میو

    "صاحب اقلیم ادب” از نواب ناظم میو اور احمد فہیم میو

    "صاحب اقلیم ادب” از نواب ناظم میو اور احمد فہیم میو

    "صاحب اقلیم ادب” میواتی زبان و ادب کے منظر نامے میں ایک قابل ذکر تحقیقی کتاب کے طور پر ہمارے سامنے ہے، جو ممتاز صحافی، شاعر، ادیب اور دانشور شیر اخگر چوہدری میو کی زندگی اور خدمات پر تفصیل سے مرتب کی گئی ہے۔ لاہور میں سسٹم پبلی کیشنز کے ذریعے اس کتاب کو شائع کیا گیا ہے، یہ کتاب میو قبائل کی پائیدار میراث کو بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ کتاب کا انتساب کمال الدین سالار پوری اور ریاض رومانی کے لیے وقف کیا گیا ہے۔
    کتاب کے مصنفین نواب ناظم اور احمد فہیم میو، اخگر چودھری میو کے ادبی سفر کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے والے مضامین کا ایک مجموعہ نہایت احتیاط سے پیش کرتے ہیں۔ کتاب میں نمایاں کردہ بنیادی موضوعات میں سے ایک میو صاحب کے کام کے تناظر میں رسم الخط کی اہمیت اور فوائد شامل ہیں جس میں آرٹ کی شکل کے طور پر اس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں "صاحب اقلیم ادب ۔۔۔ تالیف کرنے کی احتیاج ؟؟” کے عنوان سے مولفین لکھتے ہیں ” شیر محمد چوہدری المعروف اخگر میو ایک ایسی شخصیت تھے جنہوں نے میو برادری میں جنم لیا اور پھر اپنے پدر محترم اور برادران کی نہج پر چلتے ہوئے حتی المقدور تعلیمی روشنی سے قلب و جگر منور کئے اور ثابت کر دیا کہ وہ ایک سکول ٹیچر کے بیٹے ہیں کیوں کہ ان کی زندگی کے حالات کی روشنی میں ان کا ہر قدم ان کی تعلیمی روشنی کی شہادت دیتا دکھائی دیتا ہے۔ اور قدم قدم پر ان کی شخصیت میں پائے جانے والے علمی جو ہر کی جھلک ہر لمحہ اپنے وجود کا احساس دلاتی نظر آتی ہے ان کی شخصیت کا یہ پہلو بھی نا قابل فراموش ہے کہ نام ان کا شیر محمد چوہدری ہے اور ادبی دنیا میں اخگر تخلص کے باوجود ان کی شیرانہ اور شاعرانہ جدوجہد کی روشنی میں انہیں شیر ادب کا نام بھی دیا جا سکتا ہے کیوں کہ شیر محمد چوہدری فطری اور جبلی طور پر ادب ، صحافت اور شعر و سخن کے میدان میں جو ہر قابل کے مقام پر ہیں ۔ انہوں نے اپنی زندگی میں ادب اور صحافت کے عملی میدان میں ناقدانہ ادبی کاوش بھی کی ، ماہنامہ میوات ، لاہور سے نکالتے تھے جس میں میواتی برادری کے مسائل، پیغامات اور ادبی سماجی رابطے کے لئے بھی چند صفحات مختص تھے ۔ اس طرح انہوں نے ماہنامہ میوات کے نام سے جو رسالہ نکالا اس میں میواتی برادری کے باشعور نو جوانوں کے لئے چند صفحات بھی علیحدہ مختص تھے جس سے انہیں تعلیمی ادبی صحافتی روشنی بھی میسر آتی تھی ۔ کیوں کہ ”ماہنامہ میوات“ اسی نقطہ نگاہ کے پیش نظر نکالا تھا کہ وہ میواتی برادری کو بہر طور زندگی کے ہر شعبہ میں ترقی کی راہ پر دیکھنے کی توقع رکھتے تھے۔ نوجوانوں کے لئے مذکورہ رسالے میں ادبی نقطہ نگاہ سے ناول افسانہ اور دیگر ادبی کوائف کے لئے انفرادی سطح پر صفحات موجود تھے مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ”ماہنامہ میوات نے میو ، نو جوانوں کو تحریکی سطح پر ایک ایسا مجلہ دیا جو روشن پیغام کی حیثیت سے پوری میوات کے لئے نا قابل شکست سنگ میل ثابت ہو رہا تھا۔ ان کے اس رسالہ میں شعر و شاعری کے علاوہ تعلیمی اور سیاسی سماجی اداروں اور تنظیموں کی کارکردگی کی رپورٹس اور عوامی بہتری کے لئے متعدد پروگرامز کی تشہیر بھی سامنے آتی تھی”۔


    کتاب کا بیانیہ ذوقی مظفر نگری مرحوم کے ہنر کی بھی کھوج کرتا ہے، جو ان کی فنکارانہ شراکت کے بارے میں بصیرت انگیز معلومات پیش کرتا ہے۔ شیر محمد چودھری (اخگر میو) کی اپنی صحافتی خدمات کے ذریعے میواتی ادب کی بے مثال خدمات پر بحث خاص طور پر قابل ذکر ہے، جو اکثر غیر تسلیم شدہ ہے۔
    مزید برآں کتاب اخگر میو کی ایک ناول نگار کے طور پر بھی ان صلاحیتوں کو بیان کرتی ہے، جس میں بیانیہ کہانی سنانے میں ان کی مہارت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ان کے ادارتی اور مضمون نگاری کا ایک مختصر تنقیدی تجزیہ بھی کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔
    "رسم دنیا بھی، موقع بھی دستور بھی ہے” کی شمولیت میو کے تناظر میں سماجی اصولوں اور رسوم و رواج کی ایک فکر انگیز تحقیق فراہم کرتی ہے، جو اپنے اردگرد کی دنیا پر اس کے گہرے مشاہدات کو سمیٹتی ہے۔
    قابل ذکر بات یہ ہے کہ کتاب کا اختتام شیر محمد چوہدری کی شاعری پر ایک جامع نقطہ نظر اور اردو تراجم کے ساتھ ہوتا ہے، جسے احمد فہیم میو نے مہارت سے ترتیب دیا ہے۔ یہ حصہ میو کی شاعرانہ صلاحیت کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اس کی زبان اور جذبات پر مہارت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ "صاحب اقلیم ادب” نواب ناظم میو اور احمد فہیم میو کی ایک قابل تحسین تحقیقی کاوش ہے، جس میں شیر چوہدری کی زندگی اور ادبی کارناموں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ میو کے کثیر جہتی کیریئر میں متنوع تناظر اور ادبی کاوشوں کو پیش کرتے ہوئے، یہ اشاعت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ میواتی زبان اور ادب میں ان کی انمول شراکت کو تسلیم کیا جائے اور ان کی سرکاری سطح پر تعریف اور ایوارڈ کی صورت میں پزیرائی کی جائے۔ یہ کتاب ادبی برادری میں میو کے پائیدار اثر و رسوخ اور تحریک کے ثبوت کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ میں مصنفین کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور میو برادری کے ہر فرد سے گزارش کرتا ہوں کہ ہر میو اور میواتی اس خوبصورت کتاب کو ضرور خریدے تاکہ اس معیار کی دیگر تصانیف میدان ادب میں آ سکیں۔

    Title Image by Heba *Sourani from Pixabay

  • ڈاکٹر جہانگیر خان پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک

    ڈاکٹر جہانگیر خان پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک

    ڈاکٹر جہانگیر خان  پی ایچ ڈی  کرکٹر / ماھر تعلیم /  پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک

    ڈاکٹر جہانگیر خان 1910 میں جالندھر میں پیدا ھوئے اور 1988 میں فوت ھوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاھور سے بی اے اور 1930 کی دہائی میں کیمبرج سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ۔ان کے بیٹے ماجد خان اور پوتے بازید خان بھی کرکٹر تھے۔ اس ان کی تین نسلیں کرکٹر ھیں
    ڈاکٹر جہانگیر باقاعدہ ڈائری لکھتے تھے۔ ان کی ڈائری نمبر چار سے سات تک میں ان کے کیمبل پور کالج میں بطور پرنسپل کام کرنے کے واقعات ھیں۔موصوف 1942 سے 1945 تک کیمبلپور کالج کے پرنسپل رھے۔ 1942 میں ان کے یہاں آنے سے چند ماہ پہلے کیمبلپور کالج میں بی اے کی کلاسیں شروع ھوئیں ان کی کوششوں سے اس کالج میں لڑکیوں کو بھی پڑھنے کی اجازت ملی۔

    ڈاکٹر جہانگیر خان پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک
    ڈاکٹر جہانگیر خان پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک


    ڈاکٹر جہانگیر  ٹیسٹ کرکٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی  ٹیم کے رکن تھے۔ اس ٹیم نے اپنا پہلا ٹیسٹ 25 جون 1932ء کو لارڈز کے میدان میں کھیلا تھا۔ اس ٹیم میں ڈاکٹر جہانگیر خان بطور بائولر شامل تھے ۔ ڈاکٹر جہانگیر خان کا ٹیسٹ کیریئر بہت مختصر رہا۔ انہوں نے کل 4 ٹیسٹ کھیلے
    جولائی 1936ء کو، جہانگیر خان لارڈز میں کیمبرج کی طرف کھیلتے ہوئے ایم سی سی کے خلاف  گیند کر رہے تھے، جہانگیر خان نے اسٹرائیکنگ اینڈ پر کھڑے ہوئے بیٹسمین ٹی این پیئرس نے بائولنگ کرانے کے لئے دوڑنا شروع کیا جیسے ہی گیند جہانگیر خان کے ہاتھ سے فضا میں بلند ہوئی ایک چڑیا گیند کے راستے میں آگئی اور اس سے ٹکرا کر وہ چڑیا وہیں ہلاک ہوگئی۔ وہ تاریخی گیند اور چڑیا کا حنوط شدہ جسم  لارڈز میموریل گیلری میں کھ دیا  گیا ھے۔


    ڈائری کے مطابق ڈاکٹر صاحب لکھتے ھیں۔16 اپریل 1942 کو خواجہ صاحب کا خط ملا کہ گورنمنٹ پنجاب ایجوکیشن سروسز کلاس اول میں دو آدمی ایک ھندو اور ایک مسلمان لے رھی ھے ۔اس کے لئے عرضی بھجوا دی ۔15 مئی کو اخبار میں اشتہار دیکھا کہ گورنمنٹ کالج منٹگمری اور کیمبل پور کے لیے پرنسپلوں کی ضرورت ھے۔تنخواہ تین سو سے ایک ھزار روپے تک اور  یک صد روپیہ الائونس
    20 جولائی کو انٹرویو ھوا سات مسلم امیدواروں میں ڈاکٹر (علامہ ؟) اقبال کا بڑا لڑکا بھی شامل تھا۔5 ستمبر کو سرکاری طور پر کیمبلپور تقرری کی اطلاع آئی ۔375 روپے تنخواہ اور سو روپیہ الائونس۔
    26 ستمبر کو شیخ چراغِ دین پرنسپل نے کیمبل پور سے سٹاف کی فہرست بھیجی۔کل تیرہ آدمی تھے جن میں آٹھ غیر مسلم بہت سے آدمی تھرڈ کلاس ایم اے تھے ۔سنسکرت کا لڑکا کالج میں کوئی نہیں تھا لیکن پروفیسر موجود ھے ۔27 ستمبر کو زکریا کا کیمبل پور سے خط آیا کہ آج تک چار لڑکے تھرڈ ائیر میں داخل ھوئے ھیں ( 1942 میں کیمبل پور کالج میں تھرڈ ائیر کی پہلی کلاس شروع ھوئی تھی)

  •  جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

     جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

     جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

    جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔برائے جماعت سوم کے سو صفحات ہیں اس کو منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز لاہور نے ایک ہزار کی تعداد میں چھاپا اس کی قیمت چار آنے ہے ۔ اس نایاب کتاب کی پی ڈی ایف کے لئے ھم  ڈاکٹر ناشاد صاحب ( علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ) کے شکر گزار ہیں ۔ اس کتاب کی تلخیص پیش خدمت ہے ۔

    200 گاؤں ملا کر اٹک تحصیل بنائی گئی ھے اس کا تحصیلدار کیمبلپور میں رہتا ہے۔فتح جنگ تحصیل میں 209 گاؤں اور پنڈی گھیب تحصیل میں 148 گاؤں ہیں۔ 102 گاؤں ملا کر تلہ گنگ تحصیل بنی ہے۔ تحصیلدار کے ماتحت کئی ذیلدار ہوتے ہیں جن کی انعام خوار مدد کرتے ہیں ذیلدار کے ماتحت ہر گاوں میں نمبردار ہوتے ہیں۔ ضلع کا رقبہ چار ہزار مربع میل ہے اس میں 659 گاؤں آباد ہیں اور پانچ لاکھ آدمی بستے ہیں۔

    اٹک ضلع میں بہت سے پہاڑ ہیں۔کالا چٹا پہاڑ ،گندگر، کھیڑی مار،کوا گاڑ،کھیری مورت ، ڈونگی ( یہاں 2024 میں تھانہ چونترہ علاقے میں جاوا ڈیم ہے )اور کوہستان نمک۔

    کالا چٹا پہاڑ 45 میل لمبا ہے یہ دریائے سندھ سے مارگلہ تک شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے ۔دریائے سندھ کے پاس اس کی۔ چوڑائی 12 میل ہے اس کی بلند ترین چوٹی رانی کوٹ ساڑھے تین ہزار فٹ بلند ہے یہ سوجنڈا باٹا کے قریب ہے۔اس پہاڑ کے دو سلسلے ہیں۔شمالی پہاڑ دریائے سندھ سے مارگلہ تک پھیلا ہوا ہے اس کے پتھروں کی رنگت لائم سٹون کی وجہ سے سفید ہے اس نسبت سے اس کا نام چٹا پہاڑ ہے۔ جنوبی پہاڑ دریائے سندھ سے گگن تک ہے اس کے پتھر سینڈ سٹون ہیں جو بادو باراں سے سیاہ پڑ گئے ہیں اس لئے اس کو کالا پہاڑ بولتے ہیں ۔

    گندگر پہاڑ چھچھ کے مشرق میں ضلع ہزارہ کا پہاڑ ہے ۔گندگر اور کالا چٹا پہاڑ کے درمیان شرقاً غرباً دو پہاڑ اور ہیں۔بڑا پہاڑ 8 میل لمبا اور 2 میل چوڑا ہے اس کا نام کھیڑی مار ہے اس کا سخت پتھر کھیڑی چپل کو بھی کاٹ دیتا ہے ۔کھیڑی مار اور گندگر کے درمیان حسن ابدال اور برہان کے زرخیز علاقے ہیں ۔دوسرا پہاڑ کواگاڑ ہے ۔( گاڑ چھوٹی پہاڑی کو کہتے ہیں ۔حسن ابدال کے پاس چھوئی گاڑ نام کا گاؤں ہے )۔اٹک قلعہ کے پاس اٹک کی پہاڑیاں ہیں جن سے سلیٹ پتھر نکلتا ہے ۔

    کالا چٹا پہاڑ کے جنوب میں مکھڈ کی پہاڑیاں شرقاً غرباً ہیں نرڑہ علاقہ ان کے قریب ہے ( چھب سے جنڈ تک ان پہاڑیوں میں چار ریلوے ٹنل ہیں )۔فتح جنگ کے جنوب میں 24 میل لمبا کھیری مورت پہاڑ ہے ۔

    کوہستان نمک تلہ گنگ کے جنوب میں ھے یہ ضلع اٹک سے باہر ہے اس کا سرد مقام سکیسر ہے اٹک ،میانوالی اور شاہ پور تینوں ضلعوں کے صاحبان ڈپٹی کمشنر بہادر گرمی کے موسم میں یہاں رہتے ہیں

    سندھ ، ہرو،سواں ، سیل ، نندنہ اور گھبیر یہاں کے دریا اور نالے ہیں۔

    دریائے سندھ شملل سے آتا ہے اور ہزارہ ضلع سے ہوتا ہوا غازی کے مقام پر ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے چھچھ اور یوسف زئی کے علاقوں کو چیرتا ہوا جنوب کی طرف بہتا ہے ۔یہاں اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔بیچ میں بہت سے ٹاپو ہیں۔ اٹک قلعہ کے پاس اس کا اس کا پاٹ تنگ ہوگیا ہے کیونکہ دو طرفہ سلیٹ کے پتھر کا پہاڑ ہے ۔ اٹک سے نیچے اس کا پانی شفاف نیلگوں ہے اس لیے نیلاب کہلاتا ہے ۔اس سے نیچے ہاٹ اور بھی تنگ ہو جاتا ہے ۔سوجنڈہ کے قریب اس کی چوڑائی صرف ساٹھ فٹ رہ گئی ہے یہ نام گھوڑا ترپ کہلاتا ہے مکھڈ میں اس دریا پر کشتیوں کا بڑا  پتن ہے ۔

    1841 میں ایک بڑا سیلاب آیا تھا جس میں یاسین اور سرکہ کے درمیان سارے گاؤں ڈوب گئے تھے ۔اٹک قلعہ سے تین میل نیچے لوہے کا پل ہے اوپر سے ریل جاتی ہے بیچ سے لاریاں گزرتی ہیں پل پون میل لمبا ہے ۔ خوشحال گڑھ کے قریب ایک اور پل بنایا گیا ھے ۔

    ھرو دریا خانپور سے گندگر کے پہاڑوں کی طرف بہتا ہے یہ دریا اٹک قلعہ سے بارہ میل نیچے گھڑیالہ کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے ۔حسن ابدال کے پاس زراعت کے لئے اس سے نالیاں نکالی گئی ہیں ان کو کٹھہ بولتے ہیں ۔اسی سبب اس علاقے کو پنج کٹھہ کہتے ہیں اس میں سترہ گاؤں آباد ہیں ۔اکثر مقامات پر اس کے پانی سے پن چکیاں چلتی ہیں۔

    دریائے سواں مری سے نکلتا ہے اور چونترہ تحصیل فتح جنگ کے پاس ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے ۔یہ مکھڈ سے دس میل نیچے دریائے سندھ میں جا ملتا ہے ۔

    اکثر برسات میں نہایت چڑھاؤ پر ہوتا ہے سرکاری ڈاک بھی کئی روز تک رک جاتی ہے اور مسافر بھی عبور نہیں کرسکتے ۔ان دنوں ڈسٹرکٹ بورڈ کی طرف سے مسافروں کو رسد بہم پہنچانے کے لیے ایک دکان متصل بنگلہ  ڈھوک پٹھان کھولی جاتی ہے

    کھرسا میں سواں ہمیشہ پایاب ہوتا ہے اس کے قریب بعض مقامات پر اتنی ریت ( Quicksand) ہوتی ہے کہ اس میں ہاتھی بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔1850 میں حضور لاٹ صاحب جس وقت کالا باغ جا رہے تھے ان کا ایک ہاتھی اس ریت میں دھنس کر غائب ہوگیا۔ سواں کے کنارے چونترہ ,ادھوال ,  چکری ،ڈھڈھمبر،گنڈاکس،ڈھوک پٹھان،جبی ( شاہ دلاور) اور تراپ مشہور گاؤں ہیں۔

    پنڈی گھیب والی سیل ۔یہ نالہ کھیری مورت سے نکل کر  مغرب کو بہتا ہوا پنڈی گھیب کے پاس سے گزرتا ہے اور سواں میں جا گرتا ہے ۔ پنڈی گھیب کے پاس اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔اس نالے کے پہلے حصے کا نام ٹوتھل ہے ۔پنڈی گھیب کے پاس اس کا نام سیل Seel ہو گیا ہے ۔اس کے کنارے اخلاص ،پنڈی گھیب اور دندی کے قصبے ہیں ۔

    فتح جنگ والی سیل کا پنڈی گھیب والی سیل سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ دونوں مختلف نالے ہیں۔یہ نالہ کھیری مورت سے جنوب کی طرف بہتا ہے اور سواں میں ( چکری کے پاس) جا ملتا ہے ۔

    نندنہ نالہ کھیری مورت سے شمال کی طرف سے نکل کر کالا چٹا پہاڑ کو چیرتا ہوا اکھوڑی پہنچ جاتا ہے ۔یہ کنجور کے قریب دریا ھرو سے جا ملتا ہے ۔

    نالہ چیل  بیس میل لمبا ہے یہ ھٹی ( ھٹیاں) کی دلدل ( اب خشک ہو گئی ) سے نکل کر شمس آباد سے گزرتا ہوامانسر کے قریب سندھ میں جا ملتا ہے ۔ھٹی کے مقام پر چھ سو ایکڑ رقبہ پر جھیل تھی اس کو ڈپٹی کمشنر گاربٹ صاحب نے خشک کرا کر آباد کر دیا ہے ۔

    جاری ہے …….

  • شاہراہ پہلوی، جی ٹی ایس اور رعایتی کارڈ

    شاہراہ پہلوی، جی ٹی ایس اور رعایتی کارڈ

    شاہراہ پہلوی، جی ٹی ایس اور رعایتی کارڈ

     ہم لوگوں نے 1974 میں ایف ایس سی کی اس وقت رعایتی بس کارڈ دیکھنا / استعمال کرنا یاد نہیں پڑتا ۔ بھٹو صاحب ہی کے دور میں طلباء کو بسوں پر رعایتی کرایے کی سہولت مل گئی تھی اس رعایت سے ہم نے بھی 1975 سے 1981 تک کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور کے قیام کے دوران خوب فائدہ اٹھایا ۔آد ہے کرائے میں اٹک سے لاہور پہنچ جاتے تھے۔

     ناناجی کی کاغذات والی صندوقچی میں ماموں عرفان اور غفران کے بس کارڈ نظر آئے تو پرانی یادوں کا دریچہ کھل گیا ۔

    شاہراہ پہلوی، جی ٹی ایس اور رعایتی کارڈ

    یہ ایک تفصیلی کارڈ تھا اس کے چھ صفحات اور تین پرت تھے ۔پہلے صفحے پر لکھا ہے

     شناخت نامہ طالب علم۔  پھر کالج کا لوگو بنا ہوا ہے اور نیچے لکھا ہوا ہے ، گورنمنٹ کالج کیمبلپور

     دوسرے صفحے پر دو تصدیقات ہیں

    دستخط مع مہر ،نمائندہ پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ بورڈ،یہ گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس GTS کی طرف سے تصدیق ہے ۔یہ مہر 1976 کی لگی ہوئی ہے اور مہر کنندہ ڈسٹرکٹ مینیجر LOS (Local Omnibus Service)ہیں۔ اور اس کے نیچے دستخط مع مہر ،نمائندہ روڈ ٹرانسپورٹ فیڈریشن ۔ یہ پرائیویٹ بسوں میں سفر کرنے کی تصدیق تھی ۔ یعنی کام بہت  پکا کیا ہوا تھا مہر کنندہ ہیں

    Pakistan Motor Transport Federation

    25. Shahrah-e-Pehlvi Rawlpindi

    تیسرے صفحے پر طالب علم کے کوائف لکھے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ یہ تیس اپریل 1978 تک کار آمد ہے۔

    چوتھے صفحے پر طالب علم کی تصویر  ہے

    پانچویں صفحے پر صرف ایک لائن لکھی ہے ،لقمان آرٹ پریس  کیمبلپور۔

    چھٹے صفحے پر  طالب علموں کیلئے رعایت   کے عنوان سے لمبی چوڑی تفصیلات ہیں۔

    1- اومنی بس میں تعلیمی اداروں میں آنے جانے کیلئے رعایتی کارڈ دکھانے پر طلباء اور طالبات سے یکطرفہ کرایہ  دس پیسے  لیا جائے گا۔

    2-سرکاری اور نجی بسوں میں بین الاضلاعی سفر کیلئے عام شرح کا نصف کرایہ وصول کیا جائے گا ۔یہ رعایت تمام دنوں کے تمام اوقات کیلئے ہے۔

    3- کسی طالب علم کو اس کی نشست سے اٹھایا نہیں جائے گا ۔بہر حال طالب علموں سے امید ہے کہ عورتوں اور ضعیفوں کیلئے جگہ چھوڑ دیں گے۔

    4- کسی طالب علم کو رعایت کے متعلق شکایت ہو تو ضلعی مجسٹریٹ ( ضلع کچہری) سے رجوع کرے ۔

      اب یہ کارڈ تاریخ کا حصہ بن گیا ہے ۔۔کیمبلپور کا نام 1978 میں اٹک بن گیا۔ شاہراہ پہلوی پرانے زمانے میں مری جاتی تھی اور اس نسبت سے مری روڈ کہلاتی تھی۔ سنا ہے جب اس کا نام شاہراہ پہلوی رکھا گیا تو اس نے احتجاج کے طور پر مری جانے سے انکار کردیا بس خاموشی سے لیٹی رہتی تھی سوتی رہتی تھی . 1979 میں ایران میں انقلاب آیا تو اس کے شور رستاخیز سے اس کی آنکھ بھی کھل گئی اور یہ مری کی طرف دوبارہ رواں دواں ہو گئی۔اومنی بس سروس اور گورنمنٹ ٹرانسپورٹ سروس کو سنا ہے کہ باڑ کھا گئی ۔اب لاھور اچھرہ میں اس کی یادگار ایل او ایس بس سٹاپ کے طور پر موجود ہے  ۔

  • تسنیم تصدق صاحبہ سے گفتگو

    تسنیم تصدق صاحبہ سے گفتگو

    تسنیم تصدق صاحبہ ، راولپنڈی

    معروف ادبی شخصیت سے مصاحبہ ، راولپنڈی

    مصاحبہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    تسنیم تصدق صاحبہ کا آبائی شہر لاہور ہے ۔ سنت نگر لاہور میں 1958ء کو محمد اکرام قادری کے گھر میں آنکھ کھولی جامع ہائی اسکول سرگودھا سے میٹرک پاس کیا اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایف اے کیا پھر بی اے کیا اردو لٹریچر میں ایم اے کرنا چاہتی تھیں مگر اللّٰہ پاک کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔ ان کے میاں تصدق حسین اللّٰہ میاں کو پیارے ہو گئے ۔ آگے تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ۔ تسنیم تصدق کو بچپن میں کہانیاں لکھنے کا شوق پیدا ہوا پھر کچھ عرصہ بعد اشعار کہنے شروع کر دیئے تسنیم تصدق نے بچپن سے لے کر آج تک محرومیاں ناانصافیاں کو برداشت کیا ایسے ماحول میں پروان چڑھنے والی کو دو عظیم ہستیاں ملی جن کی محبت و ہمدردی سے تسنیم تصدق کو کمتری کا احساس نہیں ہونے دیا ۔ ایک ان کے میاں تصدق حسین اور دوسری ساس جس کی وجہ سے ٹوٹ کر بکھرنے سے بچ گئی ۔ اپنی منزل کی طرف آج بھی رواں دواں ہیں ۔ تسنیم تصدق چند سال قبل لاہور کو خیر آباد کہہ کر راولپنڈی آگئی ہیں ۔
    کتاب کا نام "بھیگی پلکیں ” مصنفہ تسنیم تصدق صفحہ نمبر گیارہ پر ڈاکٹر شہناز مزمل صاحبہ لکھتی ہیں تسنیم تصدق اپنے نام کی خوشبو مہکائے "بھیگی پلکیں ” کے ساتھ دنیائے ادب میں داخل ہورہی ہیں ۔ دور خزاں نے انہیں در بدر کر دیا تو سوچا کہ کہیں یہ جستجو بے اثر نہ جائے ۔ لیکن آپ تو آگے بڑھنا جانتی ہیں ۔ کوئی کوہ گراں ان کو کہاں روک سکتا ہے ۔ وہ خود کو تلاش کرتے آگے بڑھ رہی ہیں ۔ کڑی دھوپ سا سفر تو کوئی سونپ گیا اور دھوپ میں خوشیوں کے سرخ گلاب زرد ہونے لگے ۔

    تسنیم تصدق صاحبہ سے گفتگو


    تسنیم تصدق سے اکثر ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں ۔ چند روز قبل جو ملاقات ہوئی ہے ۔ اس میں علمی و ادبی حوالے سے سوالوں جوابات ہوئے ہیں ۔ وہ نذر قارئین ہیں ۔
    سوال : تسنیم کیا ہے ۔؟
    جواب : تسنیم ایک جنت کی نہر کا نام ہے مگر میں خاکسار کچھ بھی نہیں
    سوال : تصدق بھی آپ کے نام کا حصہ ہے ۔ یہ آپ کا تخلص ہے ۔؟
    جواب :جی جی تسنیم تصدق میرا ادبی نام ہے تخلص میرا تسنیم ہے
    سوال : تصدق کا کیا مطلب ہے ۔ ؟
    جواب : تصدق کے معانی ہیں صدقہ قربان ہونا اور تصدق حسین میرے میاں کا نام ہے ۔ اس لئے میں نے اپنے نام کے ساتھ رکھا
    سوال : آپ اشعار کہنے کی طرف کیسے مائل ہوئیں ۔؟
    جواب : میں اشعار کہنے کی طرف کیسے آئی نہیں شعر کہنا میرے لہو میں شامل ہے
    سوال : اشعار کہتے وقت آپ کی کیا کیفیت ہوتی ہے ۔ ؟
    جواب : اشعار کہتے وقت مجھے کیفیت کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ مجھے کسی کیفیت میں اترنا پڑتا ہے ۔ یہ ایسا ہے جب جب میرا رب مجھے لفظ عطا کرتا ہے میں لکھ لیتی ہوں
    سوال : آپ کے نزدیک ادب انسان کو کیا دیتا ہے ۔؟
    جواب : سب سے پہلے ادب انسان کو با ادب بناتا ہے ۔ پھر انسانیت سے متعارف کرواتا ہے ۔ محسوسات کو جنم دیتا ہے ۔ خیالات کو فروغ دیتا ہے ۔ احساسات کی پہچان کر واتا ہے ۔ ضمیر کو زندہ رکھتا ہے ۔ شعور کو بیدار کر کے عقل سلیم سے جوڑتا ہے اور جس شخصیت کے پاس ادب نہیں وہ کھبی بھی بامراد نہیں ہوسکتا میرے خیال میں آخری سانس تک ادب سیکھتے رہنا چاہیے ۔
    سوال : کیا آپ کو شاعری وارثت میں ملی ہے ۔ ؟
    جواب : جی ہاں ! میں بڑے وثوق کے ساتھ کہہ سکتی ہوں ۔ شاعری مجھے وارثت میں ملی ہے ۔ میرے پردادا شاعر دادا شاعر پھپھو شاعرہ تایا ابو شاعر حزیں قادری جن کے بیشمار پنجابی گانے مشہور ہیں ۔ جن کو دنیا جانتی ہے ۔ میں ان کا نام اپنے نام کے ساتھ لگا سکتی تھی مگر میں اپنے میاں کا نام لگایا اور اپنا اک الگ نام پیدا کیا الحمدللہ میرے تایا ابو ۔ حزیں قادری بہت بڑے اور عظیم شاعر تھے ۔ میری پھوپھی کے بیٹے بھی شاعر تھے ۔
    سوال : آپ کالم اور کہانی کار بھی ہیں ۔ ان کی روح کیا کیا ہے ۔ تھوڑی روشنی ڈالیں ۔ ؟
    جواب : کالم نگاری ایک موضوع کو لے کر چلنا پڑتا ہے ۔ پہلے تمحید باندھنی پڑتی ہے اور لفظ لفظ پر تفصیلی بحث و مباحثے کی روشنی ڈالتے ہوئے اپنا مدعا بیان کرتے کرتے معاشرے کی خامیاں اور اچھائیاں لے کر اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں اور کہانی ایک الگ صنف ہے ۔ اس میں بے شمار راستے ہوتے ہیں کردار سازی کا دھیان رکھنا ہوتا ہے سارے کرداروں کے ساتھ ساتھ کر ایک دل چسپی کو سامنے رکھتے ہوئے چلنا پڑتا ہے ۔ قاری کہانی ادھوری نہ چھوڑ کر جائے پوری پڑھنے تجسس پارے اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے دونوں بہت مختلف ہیں ۔
    سوال : کیا مرد کے مقابلے میں ادب میں نام اور مقام بنانے میں عورت کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہے ۔؟
    جواب : جی ہاں ! مرد کے مقابلے میں ادبی دنیا میں اپنا مقام اور جگہ بنانے میں بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔ کچھ عورتیں بہت خوار ہوتی ہیں اور کچھ عورتیں ثابت قدم رہتی ہیں ۔ تو ان کو بہت وقت لگ جاتا ہے ۔ اپنا مقام اور جگہ بنانے میں کچھ مرد ایک اچھی شاعرہ کو آگے نہیں آنے دیتے یہ کہہ کر ابھی آپ کو سیکھنا چاہیے ابھی آپ کو کچھ نہیں آتا ۔
    سوال : آپ کی تصانیف ۔ ؟
    جواب : جی ہاں ! میری تصانیف
    پہلی کتاب بھیگی پلکیں (2015ء)
    دوسری کتاب یہی ہے اوراق زندگی (2016)
    تیسری کتاب دوپٹہ (2017ء)
    چوتھی کتاب دکھتے حرف (2019ء)
    پانچویں کتاب سفنا ویاہ دا (2022ء)
    سوال : حلقہ تصنیف ادب کے بانی بابا غضنفر علی ندیم مرحوم کے بارے میں کچھ کہنا پسند کریں گیں ۔ ؟
    جواب : بابا غضنفر علی ندیم کے بارے میں میں نا چیز کیا کہہ سکتی ہوں ۔ وہ بہت عظیم انسان تھے ۔ جن کی شخصیت کو لفظوں میں اتارنا میرے لئے بہت مشکل اور ناممکن بات ہے ۔ ان کے بارے کون سی بات کی جائے اور کون سی نہ کی جائے ان ہر بات کمال کی بات ہوا کرتی تھی ۔ درویش سا آدمی فقیری میں ڈوبا ہوا نظر آتے تھے ۔ عشق کی حد تک ادب سے لگاؤ رکھتے تھے ۔ لفظوں میں جیتے اور لفظوں سے مر جاتے تھے ۔ ایک پان کھا کر گزارا کرتے تھے ۔ کسی سے کچھ نہیں کہتے تھے یعنی اپنا حال بیان نہیں کرتے تھے اور بہت عظیم ہستی کے مالک تھے ۔
    سوال : آپ کے ادبی حوالے سے آپ کے میاں تصدق حسین مرحوم کا کیسا رویہ رکھتے تھے ۔؟
    جواب : میرے میاں کی اللّٰہ پاک عالم برزخ کے منازل آسان فرمائے آمین
    ادب کے حوالے سے میری بہت حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے ۔ وہ میری لکھی ہوئی تحریر کو نیٹ کیا کرتے تھے اور جس جس اخبار میں نام ہوتا خرید کر بچوں کو دکھایا کرتے تھے ۔
    بہت خوش ہوتے تھے ۔ املا میں غلطی کرتی تو بہت ڈانٹتے تھے ۔
    بہت معاون ثابت ہوتے تھے ۔
    سوال : آپ کے اعزازات ۔ ؟
    جواب : عزازات کے جواب میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گی کہ اس حوالے سے مجھ پر قدرت کا خصوصی انعام رہا
    دو گولڈ میڈل متعدد ایوارڈز سرٹیفکیٹس اور پرانی تقریباً ہر نئی تنظیم نے نوازا حوصلہ افزائی کی۔ اس حوالے سے خوش نصیب ہوں مجھے میری زندگی میں خوب پذیرائی ملی ہے ۔
    سوال : کیا آپ کے اشعار میں لاہور اور راولپنڈی کی مقامیت پائی جاتی ہے ۔ قارئین کو آگاہ کریں ۔؟
    جواب : لاہور اور پنڈی کے موازنے کی اگر بات کی جائے تو بس ایک جملہ کافی ہو گا کہ۔۔۔۔لاہور ، لاہور ہے۔۔۔پنڈی کا اپنا ادبی مقام ہے مگر ادبی لحاظ سے لاہور کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں۔۔۔
    سوال : جڑواں شہروں یعنی پنڈی اور اسلام آباد کی ادبی فضا میں آپ نے کیا ادبی فرق محسوس کیا ہے ۔؟
    جواب : پنڈی اسلام آباد کی ادبی فضا لاہور کی ادبی فضا سے یکسر مختلف ہے ۔ یہاں صرف اردو ہی مشاعروں میں قبول کی جاتی ہے مگر لاہور میں پنجابی اور دیگر علاقائی زبانوں کا بھی بڑا ماحول تھا ۔ پنڈی میں آج کل پوٹھوہاری کو رواج دینے کی کوششیں جاری ہیں ۔نئے لکھنے والوں کی راہ نمائی اور حوصلہ افزائی لاہور میں زیادہ تھی ۔جڑواں شہروں کی ادبی فضا اتنی حوصلہ افزا نہیں۔
    سوال : کیا ان دونوں شہروں کی ادبی فضا لاہور کے جیسی ہو سکتی ہے ۔ ؟
    جی۔۔۔کبھی نہیں
    یہ گملے میں اگا ادبی شہر ہے
    سوال : پنڈی کے ادبی ماحول نے آپ کو کیا دیا ۔؟
    جواب : جی ہاں! ذکی صاحب
    پنڈی کے ادبی ماحول میں میرا فنی شعور پختگی کے مقام پر ہے لہٰذا سیکھنے کا عمل لاہور میں رہا
    سوال : کیا آپ قارئین کے لئے غزل عطا کرنا پسند کریں گی ۔ ؟
    جواب : جی ہاں!
    غزل
    زندگی سے مجھے بے خبر کر گیا
    اک نظر دیکھنا وہ اثر کر گیا

    پھول کھلتے نہیں فصل گل میں یہاں
    ایک دور خزاں در بدر کر گیا

    اک چلن چاند کی چاندنی میں تھا جو
    کتنے ویران شام و سحر کر گیا

    میں جسے پوجتی تھی صنم کی طرح
    جستجو میری سب بے اثر کر گیا

    خوف آنے لگا زندگی سے مجھے
    بے صدا میرا دل ایک ڈر کر گیا

    سوال : آپ خواتین لکھاری کے لئے کوئی پیغام دینا چاہیں گی ۔؟
    جواب : جی ہاں ضرور
    خواتین کے لیے مشرقیت اسلامیت اور پاکستانیت کو بہت لازمی سمجھتی ہوں ۔ مغربیت آج کی عورت کے ذہن پر بری طرح سوار نظر آتی ہے جسے سختی سے جھٹکنے کی ضرورت ہے

  • شہزاد اسلم راجہ  سے گفتگو

    شہزاد اسلم راجہ سے گفتگو

    شہزاد اسلم راجہ

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، لاہور

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر پنجاب پاکستان

    شہزاد اسلم راجہ کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور کی تحصیل احمد پور شرقیہ سے ہے ۔ ان کی تاریخ پیدائش 4 اپریل 1984ء ہے ولدیت محمد اسلم ۔ تعلیم ایم اے پنجابی ہے ۔ 20 یا 22 برس پہلے روز گار کے سلسلے میں لاہور تشریف لے آئے اور لاہور کے ہی ہو گئے ہیں ۔ ایک پرائیویٹ انجینئرنگ فرم میں بطور ایڈمن منیجر روزی روٹی کما رہے ہیں ۔ ادبی دنیا میں بچوں کا ادب ہو یا صحافت کا شعبہ ، ان میں اگر سرسری نظر دوڑائی جائے تو ہمیں ایک ابھرتا ہوا نام”شہزاد اسلم راجہ” نظر آتا ہے ۔ شہزاد اسلم راجہ روہی کی دھرتی جنوبی پنجاب کی تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کے روشن ستارہ ہے ۔ 90 کی دہائی میں شہزاد نے ادبی میدان میں بچوں کے ادب سے اپنی ادبی زندگی کا سفر شروع کیا جو آج بھی جاری و ساری ہے ۔ اگرچہ شہزاد اسلم راجہ لاہور میں بستے ہیں ۔ لیکن اپنی جنم بھومی کو نہیں بھولتے ۔ اپنا تعلق احمد پور شرقیہ سے ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔ گزشتہ روز شہزاد اسلم راجہ سے ملاقات ہوئی تو ان سے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر کرتا ہوں ۔

    شہزاد اسلم راجہ  سے گفتگو

    سوال : آپ نے لکھنے کا آغاز کب اور کیسے کیا ۔؟
    جواب : 90 کی دہائی سے قلم سے جڑا ۔ آوارگی کے نام سے کالم لکھتا ہوں ۔ لکھنے لکھانے کا آغاز 1996؁ء میں بچوں کے رسائل میں لکھنے سے کیا جن میں سر فہرست روزنامہ نوائے وقت کا ہفتہ وار بچوں کا صفحہ ”پھول اور کلیاں“، بچوں کا پاکستان اور ماہنامہ طفل کوکب ملتان ہیں۔
    سوال : آپ کی کتابوں کے نام ۔؟
    جواب : میرے کالموں کا مجموعہ ”آوارگی“ کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے جسے دا رالشعور پبلیکیشنز نے بڑے اہتمام سے شائع کیا اور میرا پنجابی سفر نامہ”ٹردے ٹردے“ کے نام ہے منظر عام پر آیا ہے جو پنجابی ادب میں بچوں کا پہلا سفر نامہ ہے ۔اس سفر نامے کو ادارہ پنجابی بال ادبی بورڈ لاہور نے شائع کیا ہے اور پنجابی ادب کے معتبر ادارہ مسعود کھدر پوش ٹرسٹ کی طرف سے اس سفر نامہ کو سال 2018 کا پہلا ایوارڈ بھی ملا ۔ اس سال2022ء میں میری مجموعی طور پر تیسری کتاب جو کہ میرے کالموں کا دوسرا مجموعہ ”پھر آوارگی“ ہے منظر عام پر آئی ۔ اس کے علاوہ لاہور سے کوئٹہ بچوں کے لئے سفر نامہ اردو زبان اور پنجابی زبان میں لکھ رہا ہوں اور بچوں کے لئے پیارے نبی ﷺ کی سیرت پنجابی زبان میں لکھ رہاہوں۔
    سوال : آپ کو کیسے پتا چلا کہ آپ کے اندر تخلیق کار موجود ہے ۔؟
    جواب : مجھے توآج تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ مجھ میں ایک تخلیق کار موجود ہے ۔ بس جب دل اور دماغ میں کوئی سوچ ہو تو اس کو صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتا ہوں ۔ کم لکھتا ہوں مگر اچھا لکھنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اب یہ معلوم نہیں کہ مجھ میں تخلیق کار موجود ہے یانہیں اس بات کو بہتر طور پر میرے قارئین ہی جانتے ہوں گے ۔
    سوال : کالم کی تعریف کیا ہے ۔؟ کالم لکھنے کے لئے کن باتوں کو مد نظر رکھنا چاہیئے ۔؟
    جواب : معروف کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی کالم کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں ”کالم ایک تحریر ی کارٹون ہے“ تو کارٹون کو دلچسپ بنانے کے لئے اس کی شکل و صورت اس کی زبان اس کا قد کاٹھ سب کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے ۔ آج کل اچھا کالم نگار وہی ہے جسے کالم نگاری کے ساتھ ساتھ کالم لکھاری پر بھی عبور حاصل ہو ۔ جو کالم نگار اپنے کالم میں حکمرانوں سے اپنے مراسم کا حوالہ دے تو وہ بہترین کالم لکھاری کر رہا ہو گا ۔ پھر بھی بطور کالم نگاری کے طالب علم کے کالم نویسی کے لئے میری ناقص عقل کے مطابق جن باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیئے وہ عرض کیئے دیتا ہوں ۔

    (1) جس بھی عنوان پر کالم لکھنا مقصود ہو اس کے متعلق ضروری معلومات اور اعدادو شمار آپ کے پاس ہونا انتہائی ضروری ہے ۔

    (2) اپنی علمی قابلیت کی قاری پر بلاوجہ دھاک بٹھانے کی خاطر مشکل الفاظ اورمشکل جملوں کا استعمال نہیں کرنا چاہیئے بلکہ آسان اور سادہ زبان میں اپنی بات کو بیان کریں ۔ ضرورت کے تحت مشکل الفاظ اور جملوں کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

    (3) اگر آپ اپنے کالم میں کسی فرد یا کسی ادارے کے بارے میں لکھ رہے ہیں تو اپنی الفت یا دشمنی کو بالائے طاق رکھ کر لکھیں کسی ایک طرف جھکاؤ نہ ہو ۔

    (4) ان تمام باتوں پر عمل کرنے کے لئے لازمی ہے کہ آپ کا مطالعہ وسیع ہو ۔ وسیع مطالعہ ہی کالم نویسی کی جڑ ہے ۔ مطالعہ ہی سے آپ کے پاس وافر معلومات ، الفاظ اور جملوں کا ذخیرہ ہو گا ۔ لہٰذا مطالعہ کالم نویسی میں سب سے پہلا اور اہم جُزو ہے ۔

    (5) کالم یا تحریر لکھ کر لازمی ہے کہ 2 یا 3 بار ضرور پڑھیں جس سے آپ کو اپنے کالم میں کچھ اہم پوائنٹ لکھنے یاد آجائیں گے یا پھر کوئی غیر موزوں بات یا جملہ جو لکھا گیا ہو وہ بھی نکل سکے گا ۔

    آج کل کمپیوٹر نے کالم یا تحریر کو خوبصورت لکھنے کے لئے آسانی پیدا کر دی ہے ۔ ضرور اس سے استعفادہ کرنا چاہیے مگر میرا یہاں مشورہ ہو گا کہ کالم یا تحریر لکھتے وقت آپ اپنے ہاتھ میں قلم لے کر کاغذ پر لکھیں اس سے آپ کو لکھتے وقت بہت سی باتیں تحریر کے عنوان کی مناسبت سے لاشعور سے شعور میں عود آئیں گی اور کاغذ پر روشنائی سے تحریر بنتی جائیں گی ۔ ہاتھ سے لکھنے کے بعد پھر کمپیوٹر جیسی مشین مشین پر ٹائپ کریں ۔ تحریر ٹائپ کرتے وقت بھی بہت سی تحریر کی کمی یا کوتاہی نظر میں آجائے گی ۔ کالم لکھنے کے بعد اگر آپ کا کالم کسی بڑے اخبار میں نہیں چھپتا تو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ بڑے اخباروں میں بہت سے چھوٹے لوگ چھپتے ہیں جبکہ چھوٹے اخباروں میں بہت سے بڑے لوگ چھپتے ہیں ۔ کیونکہ کسی بھی جماعت میں پڑھنے کے لئے آپ کو پہلے نرسری کلاس میں تو پڑھنا پڑتا ہی ہے ۔
    سوال : آپ کے کالم کون کون سے اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔؟
    جواب : مختلف قومی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں جن میں سر فہرست روزنامہ” آفتاب”لاہور ، روزنامہ "پاکستان” ملتان ، روزنامہ "نوائے وقت” ملتان ، روزنامہ” سماء” لاہور ، گوجرانوالہ ، اسلام آباد ، کراچی ، روز نامہ "دفاع” رحیم یار خان اور اس کے علاوہ روزنامہ "حریف "لاہور شامل ہے ۔
    سوال : لاہور میں آپ کو 22 سال سے زیادہ عرصہ ہوا ہے ۔ ادب کے حوالے سے لاہور کو کیسا پایا ۔؟
    جواب : لاہور نے جہاں مجھے رزق کمانے کے مواقع فراہم کئے وہاں مجھے ادبی حلقہ میں متعارف بھی کروایا ۔ لاہور ایک بڑا شہر ہے اور یہاں ادب سے جڑے بہت بڑے بڑے نام آباد ہیں ان سے ملاقات اور سیکھنے کا موقع بھی ملا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ لاہور میں ادب کے حوالے تعمیر ی کام ہوتا رہا ہے ، ہو بھی رہا ہے اور امید ہے مستقبل میں بھی اسی طرح ہوتا رہے گا ۔ ہاں ایک بات ضرور ہے کہ لاہور میں ماضی کی نسبت اب بہت سی ادبی تنظیمیں بن چکی ہیں ۔ جس سے کچھ احباب کا خیال ہے کہ یہ دھڑے بندی ہو رہی ہے ۔ ہر ایک نے اپنی اپنی پسند کا گروہ بنایا ہوا ہے ۔ لیکن میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ یہ بہت سی ادبی تنظیمیں جو ادبی کام کر رہی ہیں وہ بہت حد تک تعمیری ادب تخلیق کرنے میں اپنا اپنا کردار نبھا رہی ہیں ۔
    سوال : ادبی تنظیم”القلم رائٹرز فورم پاکستان“۔ آپ اور چند دوستوں نے اس کی بنیاد1999ء میں رکھی اس کے کام سے قارئین کو آگاہ کریں ۔؟
    جواب : جی بالکل القلم رائٹرز فورم پاکستان کی بنیاد میرے ادبی استاد اور دوست شہزاد عاطر کے ہمراہ شبیر فراز عباسی ، مامون الرشید بھٹی ، ڈاکٹر آصف اسلم راجہ اور میں نے مل کر 1999ء میں رکھی ۔ اس ادبی تنظیم کا مین مقصد طلباء و طالبات اور نوجوانوں میں چھپی ہوئی ادبی قابلیت منظر عام پر لانا تھا ۔ اس مقصد کے لئے ہم نے بہت سے ادبی مقابلہ جات منعقد کئے جس میں مقابلہ قرات ، نعت ، ملی نغمہ اور تحریری مقابلے شامل تھے ۔الحمد للہ ان مقابلہ جات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والوں کو روزنامہ” نوائے وقت "ملتان کے بچوں کے صفحہ ”پھول اور کلیاں“ کے زیر اہتمام ہر مقابلہ میں پہلی دو پوزیشن ہمارے شہر کے ان بچوں کے حصہ میں آتی تھیں ۔ ہمارے شہر احمد پور شرقیہ کے ٹاؤن ہال جسے ”جناح ہال“ کہتے ہیں وہاں سال 2000ء میں ہم نے 24 ادبی پروگرامز منعقد کئے ۔ یعنی ہر ماہ دو ادبی پروگرامز ۔ ہمارے شہر کا یہ اعزاز ہماری ادبی تنظیم القلم رائٹرز فورم پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ جب ہم نے اس تنظیم کی بنیاد رکھی تھی تب ہم خود اس عمر میں تھے جس عمر میں ہمیں انعام حاصل کرنے تھے لیکن ہم خود بچوں کو انعامات دے رہے تھے ۔آج الحمد اللہ القلم رائٹرز فورم پاکستان کے زیر اہتمام کتب کی اشاعت بھی ہو رہی ہے ۔ القلم رائٹرز فورم پاکستان ایسے شاعر اور ادیب حضرات کو صاحب کتاب کرنے میں مدد کرتا ہے جو کتاب کی اشاعت کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے ۔ القلم رائٹرز فورم نے اس حوالے سے ایسا پیکج بنایا ہے کہ جو حضرات اپنی کتاب96 سے 160 صفحات کی کتاب شائع کرنا چاہتے ہیں ان کی تعداد 100ہو گی لیکن وہ اپنی ضرورت کے مطابق 10 سے 15کتابوں کی قیمت ادا کر کے اقساط میں اپنی 100 کتابیں حاصل کر سکتے ہیں ۔
    سوال : آپ شعر و شاعری کی طرف کیوں نہیں آئے ۔؟
    جواب : شاید مجھے شعر کی آمد نہیں ہوتی اس لئے شاعری نہیں کر پاتا ۔ ویسے اچھی شاعری مجھے پڑھنا اور سننا بہت پسند ہے ۔
    سوال : آپ ادبی شخصیات کے حوالے سے کس سے متاثر ہیں ۔؟
    جواب : بچپن میں مجھے منو بھائی کی تحریر جب بھی پڑھنے کا موقع ملتا میں ضرور پڑھتا تھا اور پھر ساتھ ساتھ کرنل اشفاق احمد صاحب کی تحریریں بھی پڑھیں اور ان کی ہی تحاریر پڑھ کر مجھے لکھنے کا شوق پیدا ہوا اس لئے آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں منو بھائی اور کرنل اشفاق احمد سے متاثر ہوں ۔اس کے علاوہ شاعری میں شاعر مشرق علامہ محمد اقبال ؒ کے ساتھ ساتھ جناب زاہد شمسی ؔ، پروفیسر ڈاکٹر عاصم درانی اور شہزاد عاطر کی شاعری مجھے بہت پسند ہے ۔
    سوال : سفرنامہ تحریر کرتے ہوئے کس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ جس سے سفرنامہ کی روح زخمی نہ ہو ۔؟
    جواب : ذکی صاحب ! یہ سوال تو کسی ماہر سفر نامہ نگار سے ہونا چاہئے ۔ میں نے تو ایک ہی سفر نامہ لکھا ہے وہ بھی بچوں کے لئے اور دوسرا بھی بچوں کے لئے لکھ رہاہوں ۔ میں اس سفر نامے میں جو سفر کرتا ہوں وہ بچہ بن کر کرتا ہوں ۔ جس جگہ سے گزر ہوا اس کا تاریخی حوالہ اور مقام بتاتے ہوئے سادہ اور عام فہم الفاظ استعمال کرتا ہوں تاکہ بچوں کی طبیعت پر گراں نہ گزرے اور سفر کے واقعات کو بچوں کی زبان میں دلچسپ بنانے کی کوشش کرتا ہوں ۔
    سوال : علامہ اقبال ؒ کے کلام میں زیادہ تر فلسفہ پایا جاتا ہے ۔ آپ کیا کہتے ہیں ۔؟
    جواب : علامہ اقبال ؒہمارے قومی شاعر اور مفکرِ پاکستان ہیں۔آپؒ کی شاعری انسانیت ،اخوت و بھائی چارے کا درس دینے کے ساتھ ساتھ خودی کی پہچان کا سبق بھی دیتی ہے ۔”فلسفہ خودی“ تصوف (معرفت)کی ابتدا بھی ہے اور انتہا بھی ۔رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا ارشاد ہے ”من عرف نفسہ فقد عرف ربّہ“ ترجمہ: جس نے اپنے نفس (ذات) کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا ۔ معلوم ہوا کہ اللّٰہ کی پہچان کا ایک ذریعہ اپنی ”ذات“ پر غور و فکر کرنا بھی ہے ۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری انسان کو اپنی ذات اور کائنات کے اسرار و رموز پر”غور و فکر“کرنے پر مائل کرتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ”اس کائنات اور تمہارے اپنے نفوس میں میری نشانیاں ہیں“(سورۃ الذاریَات 2) ۔ اکثریت ، علامہ اقبالؒ کو صرف قومی شاعر کی حیثیت سے جانتی ہے ۔ اقبال ؒکی حقیقت سے آشناوہی ہیں جو اُن کی شاعری کو پڑھتے اور سمجھتے ہیں ۔ جو اقبالؒ ناآشنا ہیں ، وہ مزارِ اقبالؒ پر علامہ اقبالؒ کو قومی شاعر یا مفکرِ پاکستان سمجھ کر حاضر ہوتے ہیں اور جو اقبالؒ آشنا ہیں ، وہ اقبال ؒکو مردِ خود آگاہ ، عارف باللہ،حق آشنا اور ولی اللّٰہ سمجھ کر بڑے ادب کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں ۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری میں کائنات اور اس کے اسرار و رموز بیان کیے ہیں ۔انسان ،کائنات اور خدا ،علامہ اقبال ؒکی شاعری کا موضوع نظر آتے ہیں ۔
    سوال : آپ کا احمد پور شرقیہ (بہاولپور) کے لکھاریوں سے کیا رابطہ رہتا ہے ۔؟
    جواب : جی آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے ۔ احمد پور شرقیہ کے لکھاری احباب سے سوشل میڈیا کے ذریعے سے رابطہ میں رہتا ہوں ۔ جن لکھاری دوستوں سے قریبی تعلق ہے ان سے تو ٹیلی فون پر اکثر ادبی گفتگو ہوتی رہتی ہے ۔
    سوال : بہاولپور۔۔۔۔ سے ادب کی کس درجہ خدمت ہو رہی ہے ۔؟
    جواب : جی احمد پور شرقیہ اور بہاولپور میں ماضی میں بھی ادب تخلیق ہوتا رہا اور اب بھی ہو رہا ہے آپ شہزاد عاطر کی کتاب”احمد پور شرقیہ کی ادبی تاریخ“ اٹھا کر پڑھ لیں یا شیخ عزیزالرحمان کی کتاب”مشاہیر ریاست بہاولپور“ پڑھ لیں آپ کو احمد پور شرقیہ کی ماضی اور حال میں ادب کی خدمت روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی ۔
    سوال : آخر میں ہم یہ کہ آپ کو لاہور کا کہیں یا احمد پور شرقیہ کا ۔؟
    جواب : جناب اگر روزی روٹی اور مزدوری کے حوالے سے کہیں گے تو لاہور کا کہہ سکتے ہیں اوراگر میری جنم بھومی ، میری مٹی ، میری مٹھڑی روہی ، میرے شباب کے دن، میری تعلیم و تربیت کے حوالے سے میں پہلے بھی احمد پور شرقیہ کا تھا اور آج بھی احمد پور شرقیہ کا ہوں ۔ میں آج بھی جب کسی ادبی کانفرنس میں شرکت کے لئے اپنے فارم پُر کرتا ہوں تو اپنا تعلق احمد پور شرقیہ کا ہی بیان کرتا ہوں ۔مجھے فخر ہے کہ میں نوابوں کے شہر احمد پور شرقیہ (ڈیرہ نواب صاحب) کی دھرتی کا بیٹا ہوں ۔

    maqbool

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • راحتِ نعت

    راحتِ نعت

    لاہور ادب کا گڑھ ہے راحت افشاں کا تعلق بھی اسی سر زمین سے ہے ۔ ان کی پیدائش 20 جون 1970ء کو ہوئی ہے والد کا نام حاجی تاج دین ہے- راحت افشاں نے 17 سال کی عمر میں لکھنے کا آغاز کیا – اس وقت کالج میگزین میں کالم لکھا جو "آج کی عورت کل کی ماں”کے عنوان سے شائع ہوا۔ اس کے بعد باقاعدہ طور پر ان کی تحریریں اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں- شروع میں یہ سلسلہ کم از کم تقریباً چھ سال تک جاری رہا۔ایک مرتبہ ان کو سسر نے ایک سچی کہانی سنائی جس نے اتنا متاثر کیا کہ اس پر ایک ناول لکھنے کا ارادہ کیا۔ یہ ناول "جنبش” کے نام سے شائع ہوا۔ اس ناول کی کامیابی کے بعد انہوں نے "اضطراب ِزندگی” کے نام سے ایک اور کہانی لکھی۔ اس ناول کے دو سال بعد ایک اور ناول "عشق وفا سے فنا تک” ناول کے نام سے لکھا۔ اس کی کہانی بھی اصلی تھی-

    راحتِ نعت

    اس کے بعد راحت افشاں کی ادب کی دوسری اصناف میں شاعری میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ انہوں نے اپنی ابتدائی غزلیں الطاف اشعر بخاری صاحب (بھکر)کو اصلاح کے لیےدکھائیں۔ جنہوں نے حوصلہ افزائی کی۔ لیکن جوں جوں شاعری میں داخل ہوتی گئی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ سے نعت اور حمد میں دلچسپی بڑھتی گئی۔ اس عقیدت اور محبت میں دنیا و آخرت دونوں کو سنوارنے میں کامیاب نظر آتی ہے ۔ اب بات کرتا ہوں ۔ راحت افشاں صاحبہ کے "نعتیہ مجموعہ کلام راحتِ نعت ” پر اس کے چار حصے ہیں ۔ پہلا حصہ حمدیہ کلام دوسرا حصہ نعتیہ کلام تیسرا حصہ نعتیہ نظمیں چوتھاحصہ سلام حضرت امام حسین علیہ السلام ہے ۔ انہوں نے اس کتاب کا انتساب اپنے مرحوم والد حاجی تاج دین صاحب کے نام ! کیا ہے۔ راحتِ نعت کے صحفات 128 ہیں اور اس کا سن اشاعت 2022ء قیمت 580 روپے ہے ۔ اللّٰہ پاک بے مثل و بے مثال ہے ۔ اس کی مثال کائنات میں نہیں ملتی وہ واحد ھو لاشریک ہے ۔ اللّٰہ پاک کی تعریف اشعار کی صورت میں کرنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نشانیوں کے ذریعے نظر آتا ہے اور وہاں تک پہنچنا اور اُس کو محسوس کرنا پھر سوچ و فکر کرنا صرف اور صرف باشعور و عظیم لوگوں کا کام ہے ۔ راحت افشاں صاحبہ نے جب خالقِ کائنات کو دیکھنے کی کوشش کی ہے تو بے ساختہ کہا

    سب رنگ ہیں تجھ سے کہ ترا رنگ نرالا
    تو سب سے جدا سب سے جدا شاہد و مشہود

    نعت گو شاعر ہر ایک کی یہ حسرت ہوتی ہے کہ مدینہ شریف ضرور جائے بلکہ ہر ایک مسلمان و مومن کی زندگی بھر کی خواہش ہوتی ہے ۔ اُس کو نعت کے رنگ میں اکثر شعراء و شاعرات بیان کرتے رہتے ہیں ۔ ہر ایک کا اپنا اپنا اسلوب ہوتا ہے ۔ راحت افشاں صاحبہ کے” نعتیہ مجموعہ کلام راحتِ نعت” میں مختلف اور بڑے حسین و جمیل اور منفرد خیالات و عقیدت سے مزین اشعار موجود ہیں ۔ مگر مدینہ شریف جانے پر اظہارِ عقیدت زیادہ پایا جاتا ہے ۔ اسی وجہ سے ان کا کلام عروج پر دکھائی دیتا ہے ۔ اور قارئین کو ان کے اندر کی آواز لگتا ہے ۔ ایسے اشعار کچھ دیر تک ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو بات خلوص کے ساتھ دل سے نکلے وہ روح کو معطر بھی کرتی ہے اور اثر بھی رکھتی ہے ۔ سوچ ، فکر ، عمل ، انقلاب اور عشقِ رسول ﷺ میں جذبہ پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی ہے ۔ جس سے معاشرہ اپنے اندر کے انسان کو بیدار رکھتا ہے ۔ ایسے شان دار کلام کی وجہ سے صرف ان کا کلام ہی نہیں بلکہ تخلیق کار خود بھی امر ہو جاتے ہیں ۔ یہ تمام تر خوابوں میں رچا بسا راحت افشاں صاحبہ کا ” نعتیہ مجموعہ کلام راحتِ نعت”اعلیٰ سوچ و فکر کا حامل ہے ۔ دو شعر ملاحظہ فرمائیں

    کھل جائیں گے وہاں پر دروازے رحمتوں کے
    درِ مصطفیٰ ؐ سے لیں گے بخششِ کے ہم نگینے

    اپنی آنکھوں کو نئی روشنی دینے کے لئے
    خاک اُن گلیوں کی آنکھوں میں بھر لاؤں

    جہاں اللّٰہ پاک کا ذکر ہوتا ہے ۔ وہاں نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بھی ہوتا ہے اور نبی اعظم شافعِ روزِ محشر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آلِ اظہار علیہ السلام کا ذکر بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ یہ ذکر ایمان کی تازگی کا سبب ہی نہیں بلکہ جزوِ ایمان ہے ۔ سلامِ عقیدت کے حوالے سے دو شعر ملاحظہ فرمائیں ۔

    جو نبیوں ؑ میں اونچا لقب پانے والے
    ہیں راہِ خدا سب کو دکھلا نے والے

    جتنے خیام تھے جل بجھ کے ہوئے راکھ وہاں
    ہائے مشکیزے سے دو بوند نہ ٹپکا پانی

    آخر میں ان کی بیٹی آرزو طارق صاحبہ کی کہی ہوئی تین عدد نعتیں بھی شامل ہیں ۔ کتاب پر اظہارِ رائے کرنے والوں میں اردو کے بڑے نام جن میں عباس خان ، ڈاکٹر محمد اشرف کمال ، ڈاکٹر سعید عاصم ، پروفیسر افضل راشد ، شرجیل بخاری شامل ہیں۔ اس کا بیک ٹائٹل اقبال حسین کا لکھا ہوا ہے ۔

    maqbool

راحتِ نعت

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر پنجاب پاکستان

  • حاجی لطیف کھوکھر سے مکالمہ

    حاجی لطیف کھوکھر سے مکالمہ

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، لاہور

    حاجی لطیف کھوکھر صاحب ، لاہور

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    سوال : آپ کا کھوکھر خاندان سے تعلق ہے ۔ تھوڑی سی معلومات دیں ۔ ؟
    جواب : جی اس بارے میں میرے پاس کوئی سند نہیں سوائے اس کے کہ اپنے بڑوں سے جو سنا ، لکھ دیا ۔ اتنا یاد ہے جب ہم گاؤں میں ہوتے تھے اور ہمارا شمار علاقے کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا ۔ ہم اپنے علاقے کے سیٹھ کہلاتے تھے ۔ ہمارا کاروبار بہت وسیع تھا ۔ اس وقت سال میں ایکب ار ایک پارٹی گوئیوں کی آتی تھی ۔ ساری رات گاتی اور قصے کہانیاں سناتی ۔ آخر میں ہمارا شجرہ پڑھ کر سناتے ۔ اُس پارٹی کو” کلال” کہا کرتے تھے جو کہ سنا ہے میری والدہ نے بھی شجرہ لکھ کر رکھا ہوا تھا ۔ بعد میں والدہ فوت ہو گئیں اور علاقہ سیلاب کی وجہ سے فصل پیدا کرنے کے قابل نہ رہا ۔ ہم علاقہ چھوڑ کر خوشاب چلے گئے ۔ وہاں میں چار سال رہا ۔ واپس کچھ ماہ سانگلہ ہل اپنی بہن کے پاس رہا ۔ قالینوں کا کام کیا پھر لاہور آ کر کچھ عرصہ گولی ٹافی کا کام کیا پھر پلاسٹک کے کام میں آ گیا۔ اس میں آج بھی ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے اس نے سفید پوشی کا بھرم رکھا ہوا ہے ۔ میرے پانچ بچے ہیں ۔ سب اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم ہیں اور سب صاحب اولاد ہیں ۔

    حاجی لطیف کھوکھر سے مکالمہ
    حاجی لطیف کھوکھر صاحب


    سوال : تعلیم کہاں تک ہے ۔ ؟
    جواب : تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکا ۔ جیسا کے آپ کو بتا چکا ہوں ۔ جو عمر تعلیم حاصل کرنے کی تھی گھریلو حالات خراب ہو گئے بلکہ دربدر ہو گئے تو تعلیم حاصل نہ کر سکا ۔لیکن یہ بھی نہیں کہ میں بالکل سفید ہوں ، گزارے کیلئے تعلیم بھی ہے اور علم بھی ہے ۔
    سوال : آپ اپنی کتابوں کے نام بتائیں ۔ ؟
    جواب : کتابیں اس وقت تک پندرہ ہیں ۔ اس میں چار مرتب ہیں اور نو میری تحریر شدہ ہیں ۔ پہلی کتاب میری (دو شہیدوں کی وارث) اس میں افسانے ہیں۔ دوسری کتاب (اعتبار کا قتل) یہ بھی افسانے ہیں۔ اس کے بعد بچوں کہانیوں کی کتاب ہے۔ (من پسند کہانیاں) اور دوسری کتاب ہے (جادو کی سرنگ) یہ دو بچوں کی کتابیں ہیں اس کےبعد ضلع شیخوپورہ کے ادبی ستارے” چونکہ میری پیدائش کا ضلع ہے، اس لیے میں نے اس کا حق سمجھتے ہوئے اس کیلئے کام کیا ۔ اس میں کوئی تین سو سے اوپر شعراء و ادباء کا ریکارڈ ہے ۔ اس کے بعد میں حج پر گیا تو وہاں دیکھا لوگ حج اور نماز میں بہت غلطیاں کرتے ہیں اور اس پر کتاب لکھی "حج مبرور”جس میں حج اور نماز کے بارے میں مسئلے مسائل شامل ہیں پھر 2012ء میں میرا بڑا بھائی اقبال راحت جو کہ بہت اچھا شاعر تھا اور چار کتابوں کا مصنف تھا، دو کتابیں ان کی میں نے ان کے فوت ہونے کے بعد شائع کروائی جن کے نام ہیں وطن ایمان” اور "نین پیالے راحت دے” یہاں تک ہو گئیں آٹھ ۔ آگے پھر میں نے بھائی کے فوت ہو جانے کے بعد شاعری شروع کی ۔ پہلی کتاب میری شاعری میں آئی "ہتھ جوڑی” اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب عاشق راحیل صاحب نے کہا تھا کہ آپ کے کلام میں روانی بہت ہے ۔ اس کے بعد میں نے نعت لکھنی شروع کی "نعتاں سرکار دیاں” 2019ء میں اس کتاب کو سیرت ایوارڈ حکومت پاکستان کی طرف سے دیا گیا ۔ اس کے بعد میری تعلیم زیادہ تر بال ادب سے ہے۔ اس لیے میں نے دوسری ڈائریکٹری "وفائے پاکستان کے ادبی ستارے "کے نام سے بچوں کیلئے شاعری اور ادیبوں کی ڈائریکٹری تیار کی۔ دو سو پچاس کے قریب دوستوں کا تعارف ہے ۔ ابھی اس کا دوسرے حصے پر کام جاری ہے ۔ بلوچستان کے شاعروں اور ادیبوں کیلئے الگ سے ڈائریکٹری تیار ہو رہی ہے جو کہ کمپوز ہو رہی ہے ۔ اس کے بعد میں نے سیرت پاک پر کتاب لکھی "وفائے مصطفیٰ تقاضا ایمان” پھر میں نے افواج پاکستان پر کتاب لکھی ۔ پھر کشمیر پر "آخری سانس تک” پھر سیرت پر پنجابی زبان میں کتاب لکھی "محبت مصطفیٰ "اس پر 2021ء میں سیرت ایوارڈ مل چکا ہے ۔ پھر مجھ پر مقالہ لکھا گیا ۔ اس کو میں نے کتابی شکل میں شائع کیا ۔ اس کے بعد جو میری کتابیں آنے والی ہیں اس میں ایک کا نام ہے "انسان خسارے میں ہے”اور ایک نعت کی ہے اور ایک میرے کالموں کی ہے "سوچو ذرا ہٹ کے”ہر ہفتے میں ایک کالم لکھتا ہوں ۔ جو بہت سے اخبارات میں شائع ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی دلّی کے اخبارات میں بھی شائع ہو جاتا ہے ۔

    سوال : شعر و ادب کی جانب کیسے راغب ہوئے ۔؟
    جواب : شعر و ادب کی طرف میری ماں کا رجحان تھا ۔ اس لیے ہم بھی ادب کی طرف آ گئے ۔ میرا بڑا بھائی اقبال راحت جو بچپن سے ہی شعر کہنے لگا تھا ، میں نے بھی چند شعر کہے تو اقبال راحت نے مجھے منع کر دیا کہ تم اپنے کاروبار کی طرف توجہ دو میں نے ان کی بات مان کر کام پر توجہ دینے لگا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرا کام ان سے اچھا ہو گیا ۔ پھر 2008ء کی بات ہے وہ میرے گھر آئے اور کہنے لگے اب تمھارا کام سیٹ ہو گیا ہے ، بچے بھی کام میں ہاتھ بٹا رہے ہیں اب تم لکھو ۔ میں نے کہا شاعری تو تم کرتے ہو اس لیے میں شاعری تو نہیں کروں گا، میں نثر لکھوں گا۔ کہنے لگا جو مرضی لکھو مگر لکھو ۔ میں نے ایک افسانہ لکھا ہوا تھا بہت عرصہ پہلے وہ ان کو سنایا تو بہت خوش ہوئے ۔ افسانے کا نام "ٹریفک جام”۔ وہ انہوں نے مجھ سے لے کر اسی وقت کسی رسالے کو بھیج دیا ۔ دو دن بعد فون آیا کہ میں ڈاکٹر رضوان ثاقب بول رہا ہوں یہ افسانہ آپ نے لکھا ہے ۔ میں نے کہا جی ہاں ۔ تو کہنے لگے افسانہ بہت اچھا ہے ۔ پہلے کہیں چھپا تو نہیں میں نے کہا نہیں تو کہنے لگے اور لکھو اور مجھے بھیجتے جاؤ ان کا "آنکھ مچولی "رسالہ تھا ۔ جب رسالہ چھپ گیا تو مجھے فون آیا کہ رسالہ چھپ گیا ہے ۔ آپ کو کتنی کاپیاں چاہئیں تو میں نے کہا پچاس دے دیں ۔ پھر انہوں نے مجھے ایڈریس سمجھایا اچھرہ میں شمع بلڈنگ ان کا دفتر تھا ۔ میں وہاں گیا رسالہ لیا اور وہاں ہی میری ملاقات پھول بھائی اور بشریٰ عظمت سے ہوئی جو آج بشریٰ نسیم ہے ۔

    سوال : آپ کا زیادہ میلان نثر کی طرف ہے ۔ یا نظم کی طرف ۔؟
    جواب : میں آل راؤنڈر ہوں جو چاہوں لکھ لیتا ہوں ۔ نظم ، نثر ، کہانی ، افسانہ ، کالم ۔ نعت ، سیرت سب کچھ میں نے لکھا اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ تخلیق کاری رب کی عطا ہے ۔ سے اس کا تعلق نہیں الحمدللّٰہ میں نے ایک دن میں پانچ پانچ نعتیں بھی کہیں ہیں اور جس وقت چاہتا ہوں ، نعت کہتا ہوں ۔
    سوال : آپ نے تھوڑے عرصے میں بہت زیادہ شہرت پائی ، اس کامیابی کی وجہ کیا ہے ۔ ؟
    جواب : میں تو خیر اس کو شہرت نہیں سمجھتا ابھی تو چند دوستوں تک ہی محدود ہوں ۔ ہاں یہ ہے کہ سارے پاکستان میں میرے دوستوں کی کافی تعداد ہے ہر بڑے چھوٹے شہر میں کوئی نہ کوئی دوست مل ہی جاتا ہے ۔ زیادہ تر بال ادب کے حوالے سے کیوں کہ میرا زیادہ تر تعلق بال ادب سے ہے اور شاعروں سے بھی کافی اور علماء کرام سے بھی کافی تعلق ہے ۔
    سوال : آپ کو الیکٹرک میڈیا پر یا سوشل میڈیا پر زیادہ کامیابی کہاں ملی ۔؟
    جواب : مجھے سوشل میڈیا پر تھوڑی بہت کامیابی ملی ۔
    سوال : صنف سخن میں زیادہ تر شہرت غزل کو ملی یا نظم کو حاصل ہے ۔ ؟
    جواب : جو آپ اچھا لکھ لیں اس کو شہرت مل جاتی ہے ۔ میری ایک نظم بہت مشہور رہی ہے جس کا پہلا شعر ہے

    اوہ جے میری ہمسائی نہ ہوندی
    فیر میرے گھر لڑائی نہ ہوندی

    ایک دوسری نظم ہے وہ بھی بہت پسند کی جا رہی ہے ۔

    میں کیوں بیگم میکے گھلاں
    دُکھ جدائیاں والے جھلاں

    سوال : لاہور میں نامور ادبی شخصیات کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ آپ کا رابطہ کس کس سے ہے ۔
    جواب : سینکڑوں ہیں لیکن یہاں چند کے نام بتا دیتا ہوں ۔ بچوں کے ادب میں ۔ جناب اختر عباس بڑا نام ہے ۔ جناب نذیر انبالوی ، جناب امان اللّٰہ ، نیئر شوکت ، جناب رضوان ثاقب ، جناب فہیم عالم ، جناب شعیب مرزا ، پھول بھائی ، حکیم سلیم اختر ، عاشق ، اقبال راہی ، عدل منہاس لاہوری ، تنویر سرور، نوید مرزا ، بابا اثر انصاری ، اشرف سہیل ، سہیل قیصر ہاشمی ، خالد یزدانی ، نجمہ شاہین ، پروین وفا ہاشمی ، ناصر زیدی ، نسیم الحق زاہدی ، عابد قادری ، امجد رسول امجد ، تنویر ظہور اور بہت سے جن کا نام یہاں ممکن نہیں عارف شاہ ، نادر کھوکھر اور دیگر ۔
    سوال : آپ نے لاہور کی ادبی فضا سے کیا پایا ۔؟
    جواب : لاہور کی ادبی فضا سے بہت سے دوست پائے جوکہ ایک سرمایہ ہیں ۔
    سوال : آپ ایک ادبی تنظیم (وفائے پاکستان) کے نام سے بتائی ہے ۔ اس کا منشور کیا ہے ۔ ؟
    جواب : منشور نے لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ان کی حوصلہ افزائی کرنا، سالانہ تقریبات کا انعقاد اور ہر کارکردگی پر ایوارڈ نوجوانوں کے دلوں ، جذبہ حب الوطنی بیدار کرنا، محبت، اخوت اور بھائی چارہ کی فضا قائم کرنا ۔
    سوال : نعت پاکستان کے کس شہر میں زیادہ تخلیق ہو رہی ہے ۔ ؟
    جواب : نعت تو ایک ایسی صنف ہے دنیا کے ہر خطے میں لکھی جا رہی ہے ۔ مسلمان تو لکھتے ہی ہیں، غیر مسلم بھی بڑے شوق سے لکھتے ہیں۔ جہاں تک شہروں کا ہے نعت تو ہر شہر بھی لکھی جا رہی ہے ۔
    سوال : آپ کی زوجہ محترمہ نے بھی کتاب لکھی ہے ۔ اس پر تھوڑی سی بات کریں ۔؟
    جواب : جی وہ قرآن اور حدیث کی باتیں ہیں جس سے ہمارا روزمرہ زندگی میں واسطہ رہتا ہے لیکن ہم اس کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔ اس میں یہی کوشش کی گئی ہے کہ لوگ اپنے معاملات اسلام کے مطابق چلائیں اور کچھ ٹوٹکے بھی ہیں پرانے بزرگوں کے ۔
    سوال : حضرت محمد ﷺ اور حضرت حسین علیہ السلام پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے اور لکھا جاتا رہے گا ۔ اس پر اظہار خیال فرمائیں ۔؟
    جواب : اس کے بارے میں یہی کہوں گا کہ مومن ہو اور لکھ بھی سکتا ہو اور ان ہستیوں پر نہ لکھے تو اس کا لکھنا نہ لکھنا ایک برابر ۔ میں یہاں اپنا ایک شعر سناتا ہوں امید ہے سب دوستوں کو پسند آئے گا ۔

    محبت حسینؑ دی اِک شمع اے دوستو
    لطیف اے اِک چھوٹا جیہا پروانہ حسینؑ دا
    سوال : حاجی صاحب آج کل کتاب سیل نہیں ہوتی اس کی کیا وجہ ہے ۔؟
    جواب : کتاب سیل ہوتی ہے جناب آپ کو کس نے کہہ دیا کہ کتاب سیل نہیں ہوتی ۔ یہ اتنی بڑی بڑی کتابوں کی دکانیں کیسے چل رہی ہیں ۔ وہ لوگ بھی تو روزی کما رہے ہیں۔ یہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ادبی یا ہم جیسوں کی کتابیں کیوں نہیں بِک رہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی کو پتا ہی نہیں کہ کیا چھپا ہے تو کون خریدے گا سوشل میڈیا پر اپنی کتاب تشہیر کریں تو کتاب بِک جائے گی ۔
    سوال : ادب نے ہمیشہ قوم کی قسمت سنواری ، آپ کا کیا خیال ہے ۔؟
    جواب : جی بالکل سچ ہے، قوم کی رہنمائی کرنا ادیب کا کام ہے۔ جناب علامہ اقبال صاحب نے یہی تو کہا تھا ۔
    سوال : ماشاء اللّٰہ آپ صدارتی ایوارڈ یافتہ ہیں ۔ دیگر اعزازات سے آگاہ کریں ۔؟
    جواب : جی الحمد للّہ صدارتی ایوارڈ ملے ۔ ایک ملا 2019ء کو اور دوسرا ملا 2021ء میں۔ ایک مقالہ بھی ہو چکا ہے جس کو میں نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے باقی ایوارڈ کی تفصیل مشکل ہے۔ ویسے بتا دیتا ہوں کہ پچاس کے قریب ہیں اور اس سال چار یا پانچ اور مل جائیں گے انشاء اللّٰہ ۔
    سوال : جناب حفیظ جالندھری صاحب کی ادبی خدمات پر تھوڑی روشنی ڈالیں ۔؟
    جواب : ان کی یہی خدمت بہت ہے کہ ان کا لکھا ہوا قومی ترانہ چل رہا ہے۔ جب تک دنیا قائم ہے انشاء اللّٰہ پاکستان قائم ہے اور حفیظ صاحب کا نام بھی زندہ رہے گا ۔
    سوال : قارئین کیلئے ایک نعت عطا فرمائیں ۔؟
    جواب : جی ہاں ضرور

    کتب ستارے میں جو سجایا تھا
    جس سے دنیا کو روشن بنایا تھا

    ہر طرف چرچا اُسی نور کا ہے
    ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

    ظلم پھیلا ہوا تھا ہر طرف
    بے ایمانی کا راج تھا ہر طرف

    نظام قائم کیا دستور کا ہے
    ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

    ظلم کے خلاف تلوار اٹھائی
    پھر اللّٰہ کی مدد بھی آئی

    راستہ روکا کفر کے فتور کا ہے
    ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

    فتح مکہ کا دن جب آیا
    سب کو آپؐ نے معاف فرمایا

    سر جھک گیا آج غرور کا ہے
    ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

    حق مظلوم کو ظالم سے دلوایا
    نہ کوئی اپنا تھا نہ پرایا

    اک پیمانہ لطیف دستور کا ہے
    ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

    سوال : لاہور نے آپ کو کیا دیا اور آپ نے لاہور کو کیا دیا ۔ ؟
    جواب : لاہور نے مجھے نام دیا ، عزت دی، روزی روزگار دیا اور بہت سے مخلص دوست دیئے جہاں تک میں نے لاہور کو کیا دیا محبت دی، پندرہ کتابیں دیں اور سفر جاری ہے۔ لاہور کے قبرستان میں میرے والد، میرے تین بھائی، دو بہنیں دفن ہیں ۔ اللّٰہ میرے لاہور کی خیر کرے ۔ (آمین ثم آمین)
    سوال : آپ نئے لکھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے ۔ ؟
    جواب : جی نئے لکھنے والوں کیلئے میرا پیغام ہے کہ کہانی ہو یا نظم ، کچھ بھی لکھیں احترام آدمیت کا خاص خیال رکھیں اور دین سے اور دین دار لوگوں سے محبت کریں، مسجدیں آباد کریں اور اپنی تحریر سے ہیرو کو بھی ناکام نہ دکھائیں اور دنیا کے مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ اللہ اور اللہ کا رسولﷺ آپ کے ساتھ ہے۔

    maqbool

     مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • محمد ساجد سے گفتگو

    محمد ساجد سے گفتگو

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ۔کاہنہ (لاہور)

    محمد ساجد صاحب،کاہنہ(لاہور)

    انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول، بھکر

    سوال : آپ کا مختصر تعارف ۔؟
    جواب۔ میرا نام محمد ساجد ہے اور یہ ہی میرا قلمی نام ہے۔ میری پیدائش 11 اپریل 1983ء کو بنگلہ بستی کاہنہ نو ضلع لاہور میں ہوئی۔اب یہ گلی سابق چیرمین کاہنہ (حاجی بشارت رحمانی صاحب) کاہنہ نے ایک نوٹیفکیشن کے تحت میرے نام "ساجد سٹریٹ” منسوب کر دی ہے۔ میرے والد کا نام محمد اشرف ہے ۔ ہمارا خاندان فن پہلوانی سے وابستہ رہا ہے ۔ میرے آباء کا تعلق بابا بلھے شاہ جی کے شہر قصور سے ہے اور اس نسبت سے اہلیان کاہنہ ہم کو قصوری کہتے ہیں۔

    محمد ساجد سے گفتگو


    سوال : اپنے گاؤں کے نام” کاہنہ” کا مطلب بتائیے گا ۔؟
    جواب : اردو لغت کے مطابق کاہن ، جادوگر کو کہتے ہیں مگر لوک روایت کے مطابق میرے قصبہ ایک سکھ سردار کاہن سنگھ نے آباد کیا تھا۔
    سوال : آپ کی شاعری کا موضوع کیا ہے ۔؟
    جواب : انسانیت ، محبوبیت ، احساسیت اور سماجیت ۔
    سوال : ماشاءاللہ آپ ماہرِ تعلیم بھی ہیں۔ یہ پیغمبرانہ پیشہ ہے اس پر تھوڑی روشنی ڈالیں۔؟
    جواب ۔ معلم کا پیشہ پیغمبری پیشہ ہے ۔ یہ بہت ذمہ داری کا تقاضہ کرتا ہے ۔ نسل نو کی تعلیم و تربیت کا سارا دارو مدار استاد پر ہے ۔ اگر استاد اپنے منصب سے غافل ہے تو سمجھ لیجیے کے نسل نو اور معاشرے کا تباہ ہونا لازمی امر ہے ۔سو ، اس پیشے میں ان لوگوں کو آنا چاہئے جو بغیر کسی لالچ اور طمع کے انسانیت اور پاکستانیت کے لئے کام کرنے کا جذبہ رکھتے ہو ، اس کو کاروبار نہیں بلکہ معمار قوم کی حیثیت سے لے کر چلیں۔
    سوال : آپ کی تصانیف ۔؟
    جواب ۔ میں اب تک چودہ کتب تخلیق کر چکا ہوں ۔
    سوال : کیا نام بتانا پسند کریں گے ۔ ؟
    جواب : جی ہاں ضرور ۔
    (1)نائین الیون ،حقیقت سے اردو افسانے تک
    (2) شہر دل میں آوارگی
    (3) محبت، موسم اور جاناں
    (4)کاہنہ کہانی
    (5)لاہور میں محبت
    (6)تاریخ پانڈوکی
    (7)اتہاسک جیابگا
    (8)تاریخ کاہنہ
    (9)تاریخ شہزادہ
    (10)نائین الیون کے اردو افسانے پر اثرات
    (11)ادبی تاریخ جیابگا
    (12)کہنیامثل اور حاکمان پنحاب
    (13)ادائے قلندر
    (14)لہور دے پنڈاں دی وار
    ان میں سے زیادہ کتب تاریخ کے حوالے سے لکھیں گئیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دھرتی ماں کے دیہات کےحوالے سے تحقیقی کام بہت کم ہوا۔ سو، میں نے لاہور ، قصور کے دیہات پر خاص طور پر تحقیقی کام کیا مضامین ، مقالات اور کتب تحریر کیں ۔ دھرتی کی عوامی تاریخ کو کھنگالنے کی کوشش کی۔
    سوال : کتاب کی اہمیت ہر دور میں رہی ہے اور رہے گی۔ اس پر اظہارِ خیال فرمائیں۔؟
    جواب۔کتاب کی اہمیت ایک مسلمہ امر ہے یہ کسی دور میں بھی کم نہیں ہوسکتی ۔ امریکا، یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں کتب بینی کا رجحان آج بھی ہے ۔ وہاں کی گورنمنٹ اس کے فروغ کیلئے بہت سرمایہ خرچ کرتی ہیں مگر افسوس ہمارے ملک میں فروغ کتاب اور اشاعت کتاب کے لئے نہ ہی کوئی فنڈ مختص کیا جاتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ یہ بہت افسوس کن امر ہے۔ میں گورنمنٹ آف پاکستان سے درخواست ہے کہ اس احسن کام کی طرف توجہ دے ۔
    سوال : لاہور ہمیشہ سے علم و ادب کا مرکز رہا ہے اور عالمی شہرت یافتہ شہر ہے ۔ آپ لاہور قریب کاہنہ نو میں رہتے ہیں ۔ یہاں ادبی ماحول کیسا ہے۔؟
    جواب ۔ لاہور صدیوں پرانا شہر ہے جس کی اپنی ایک الگ تہذیب وثقافت ہے۔ عروس البلاد شہر لاہور میں علمی و ادبی سرگرمیاں بھی صدیوں سے جاری ہیں۔ کاہنہ نو شہر لاہور کا ایک مشہور و معروف قصبہ ہے ۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہاں ادبی سرگرمیاں بہت محدود سطح تک ہیں۔ میں نے یہاں فروغ ادب کے لئے اپنی کوششوں کو جاری رکھا ہوا ہے ۔ امید ہے کہ آنے والے چند سالوں میں یہاں ادبی ماحول بہت بہتر ہو گا اور میری محنت رنگ لائے گی ۔
    سوال : ماشاءاللہ آپ نوجوان ہیں اور آپ کے ادبی جذبے بھی جوان ہیں آپ کو کیسا لگتا ہے۔؟
    جواب ۔ تخلیق تو انسان کی گھٹی میں ہوتی ہے ۔ میں اللّٰہ تعالیٰ کا بہت شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ علم اور قلم کی دولت سے نوازا اور مجھے بہ طور ادیب اور شاعر معاشرے میں ایک مقام بنانے کا موقع ملا ۔ میں اپنی مثبت سوچ کو ادبی تخلیقات کے لئے بروئے کار لا رہا ہوں اور لاتا رہوں گا ۔ انشاءاللہ ۔
    سوال : آپ دور حاضر میں کس ادبی شخصیت سے متاثر ہیں۔؟
    جواب : میں اپنے اورینیٹل کالج ، پنجاب یونی ورسٹی ،اولڈ کیمپس کے اساتذہ کرام ڈاکٹر ضیاءالحسن صاحب ، ڈاکٹر ناصر عباس نیر صاحب اور پروفسیر صابر لودھی صاحب جیسی شخصیات سے بہت متاثر ہوں ۔ یہ شخصیات ادب میں میری آئیڈیل ہیں۔
    سوال : آپ نے فروغِ ادب کے لیے کون سا منفرد کام کیا۔؟
    جواب : ادب میں اپنی ناول "لاہور میں محبت ،،کو ٹائم فکشن لحاظ سے تخلیق کیا اس طرح تاریخ جیسے خشک ، پچیدہ اور دقیق موضوع کو آسان ، مدلل اور عوامی انداز میں ڈھالنے پر فخر محسوس کرتا ہوں ۔بلکہ پنجاب کے دیہاتوں پر جو تحقیقی کام کیا اس کو ایک نئی صنف "مائیکرو ہسٹری”کے کلیشے کے تحت لکھا۔
    سوال : پاکستان میں افسانہ کم اور شاعری بہت زیادہ تخلیق ہو رہی ہے اس کی کیا وجہ ہے۔ ؟
    جواب : شاعری ،افسانے سے قدرے آسان تخلیق ہے۔شاعری میں اہم کام شعر کو موزوں کرنا ہے جب کہ افسانے کو ایک خاص تکنیک کے تحت ہی لکھا جا سکتا ہے ۔سو،افسانہ واقعی ہی ایک پچیدہ عمل ہے۔
    سوال : کہا جاتا ہے کہ شاعری سچ بولتی ہے۔ آپ کیا کہیں گے۔؟
    جواب : وہ شاعری جو تخلیقی عمل سے نمود پاتی ہے وہ سچی ہو یا نہ ہو ، یہ ایک الگ بحث ہے ہاں البتہ اس میں ایک آفاقی سچائی موجود ہوتی ہے ۔

    sajid kahna


    سوال : اعزازات کے بارے میں بھی بتائے گا؟
    جواب : کسی بھی ادیب اور شاعر کے لئے سب سے بڑا اعزاز اس کے قارئین ہوتے ہیں جو اس کی لکھت کو پڑھتے ہیں اس پر اپنی آراء دیتے ہیں اس پر تحریری یا زبان تنقید کرتے ہیں ۔ یہاں تک ادبی تنظیمات کی طرف سے اعزازت کی بات ہے تو الفانوس ایوارڈ(گوجرانوالہ)
    بھیل ادبی ایوارڈ (ننکانہ صاحب )
    نقیبی ادبی ایوارڈ (فیصل آباد )
    کے ایم ایس ایوارڈ(نارووال)
    شریف کنجاہی ایوارڈ(کنجاہ،گجرات)
    پیر فضل گجراتی ایوارڈ(گجرات)
    سوال : تاریخ اور تحقیق یہ مشکل ترین کام ہیں ۔ کچھ مشکلات کا ذکر کریں ۔؟
    جواب ۔ واقعی یہ ایک مشکل امر ہے اس کے لئے پاوں گرم اور دماغ ٹھندا رکھنا پڑتا ہے ۔ اس لئے ایک مشکل کام ہے ۔ اس کے لئے مطالعہ ، مشاہدہ ، تجربہ ، سفر اور تحقیقی اصولوں سے آگاہ ہونا بہت ضروری ہے ۔

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان