جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

 جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔قسط اول  

جغرافیہ ضلع اٹک 1935۔برائے جماعت سوم کے سو صفحات ہیں اس کو منشی گلاب سنگھ اینڈ سنز لاہور نے ایک ہزار کی تعداد میں چھاپا اس کی قیمت چار آنے ہے ۔ اس نایاب کتاب کی پی ڈی ایف کے لئے ھم  ڈاکٹر ناشاد صاحب ( علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ) کے شکر گزار ہیں ۔ اس کتاب کی تلخیص پیش خدمت ہے ۔

200 گاؤں ملا کر اٹک تحصیل بنائی گئی ھے اس کا تحصیلدار کیمبلپور میں رہتا ہے۔فتح جنگ تحصیل میں 209 گاؤں اور پنڈی گھیب تحصیل میں 148 گاؤں ہیں۔ 102 گاؤں ملا کر تلہ گنگ تحصیل بنی ہے۔ تحصیلدار کے ماتحت کئی ذیلدار ہوتے ہیں جن کی انعام خوار مدد کرتے ہیں ذیلدار کے ماتحت ہر گاوں میں نمبردار ہوتے ہیں۔ ضلع کا رقبہ چار ہزار مربع میل ہے اس میں 659 گاؤں آباد ہیں اور پانچ لاکھ آدمی بستے ہیں۔

اٹک ضلع میں بہت سے پہاڑ ہیں۔کالا چٹا پہاڑ ،گندگر، کھیڑی مار،کوا گاڑ،کھیری مورت ، ڈونگی ( یہاں 2024 میں تھانہ چونترہ علاقے میں جاوا ڈیم ہے )اور کوہستان نمک۔

کالا چٹا پہاڑ 45 میل لمبا ہے یہ دریائے سندھ سے مارگلہ تک شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے ۔دریائے سندھ کے پاس اس کی۔ چوڑائی 12 میل ہے اس کی بلند ترین چوٹی رانی کوٹ ساڑھے تین ہزار فٹ بلند ہے یہ سوجنڈا باٹا کے قریب ہے۔اس پہاڑ کے دو سلسلے ہیں۔شمالی پہاڑ دریائے سندھ سے مارگلہ تک پھیلا ہوا ہے اس کے پتھروں کی رنگت لائم سٹون کی وجہ سے سفید ہے اس نسبت سے اس کا نام چٹا پہاڑ ہے۔ جنوبی پہاڑ دریائے سندھ سے گگن تک ہے اس کے پتھر سینڈ سٹون ہیں جو بادو باراں سے سیاہ پڑ گئے ہیں اس لئے اس کو کالا پہاڑ بولتے ہیں ۔

گندگر پہاڑ چھچھ کے مشرق میں ضلع ہزارہ کا پہاڑ ہے ۔گندگر اور کالا چٹا پہاڑ کے درمیان شرقاً غرباً دو پہاڑ اور ہیں۔بڑا پہاڑ 8 میل لمبا اور 2 میل چوڑا ہے اس کا نام کھیڑی مار ہے اس کا سخت پتھر کھیڑی چپل کو بھی کاٹ دیتا ہے ۔کھیڑی مار اور گندگر کے درمیان حسن ابدال اور برہان کے زرخیز علاقے ہیں ۔دوسرا پہاڑ کواگاڑ ہے ۔( گاڑ چھوٹی پہاڑی کو کہتے ہیں ۔حسن ابدال کے پاس چھوئی گاڑ نام کا گاؤں ہے )۔اٹک قلعہ کے پاس اٹک کی پہاڑیاں ہیں جن سے سلیٹ پتھر نکلتا ہے ۔

کالا چٹا پہاڑ کے جنوب میں مکھڈ کی پہاڑیاں شرقاً غرباً ہیں نرڑہ علاقہ ان کے قریب ہے ( چھب سے جنڈ تک ان پہاڑیوں میں چار ریلوے ٹنل ہیں )۔فتح جنگ کے جنوب میں 24 میل لمبا کھیری مورت پہاڑ ہے ۔

کوہستان نمک تلہ گنگ کے جنوب میں ھے یہ ضلع اٹک سے باہر ہے اس کا سرد مقام سکیسر ہے اٹک ،میانوالی اور شاہ پور تینوں ضلعوں کے صاحبان ڈپٹی کمشنر بہادر گرمی کے موسم میں یہاں رہتے ہیں

سندھ ، ہرو،سواں ، سیل ، نندنہ اور گھبیر یہاں کے دریا اور نالے ہیں۔

دریائے سندھ شملل سے آتا ہے اور ہزارہ ضلع سے ہوتا ہوا غازی کے مقام پر ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے چھچھ اور یوسف زئی کے علاقوں کو چیرتا ہوا جنوب کی طرف بہتا ہے ۔یہاں اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔بیچ میں بہت سے ٹاپو ہیں۔ اٹک قلعہ کے پاس اس کا اس کا پاٹ تنگ ہوگیا ہے کیونکہ دو طرفہ سلیٹ کے پتھر کا پہاڑ ہے ۔ اٹک سے نیچے اس کا پانی شفاف نیلگوں ہے اس لیے نیلاب کہلاتا ہے ۔اس سے نیچے ہاٹ اور بھی تنگ ہو جاتا ہے ۔سوجنڈہ کے قریب اس کی چوڑائی صرف ساٹھ فٹ رہ گئی ہے یہ نام گھوڑا ترپ کہلاتا ہے مکھڈ میں اس دریا پر کشتیوں کا بڑا  پتن ہے ۔

1841 میں ایک بڑا سیلاب آیا تھا جس میں یاسین اور سرکہ کے درمیان سارے گاؤں ڈوب گئے تھے ۔اٹک قلعہ سے تین میل نیچے لوہے کا پل ہے اوپر سے ریل جاتی ہے بیچ سے لاریاں گزرتی ہیں پل پون میل لمبا ہے ۔ خوشحال گڑھ کے قریب ایک اور پل بنایا گیا ھے ۔

ھرو دریا خانپور سے گندگر کے پہاڑوں کی طرف بہتا ہے یہ دریا اٹک قلعہ سے بارہ میل نیچے گھڑیالہ کے مقام پر دریائے سندھ میں گرتا ہے ۔حسن ابدال کے پاس زراعت کے لئے اس سے نالیاں نکالی گئی ہیں ان کو کٹھہ بولتے ہیں ۔اسی سبب اس علاقے کو پنج کٹھہ کہتے ہیں اس میں سترہ گاؤں آباد ہیں ۔اکثر مقامات پر اس کے پانی سے پن چکیاں چلتی ہیں۔

دریائے سواں مری سے نکلتا ہے اور چونترہ تحصیل فتح جنگ کے پاس ضلع اٹک میں داخل ہوتا ہے ۔یہ مکھڈ سے دس میل نیچے دریائے سندھ میں جا ملتا ہے ۔

اکثر برسات میں نہایت چڑھاؤ پر ہوتا ہے سرکاری ڈاک بھی کئی روز تک رک جاتی ہے اور مسافر بھی عبور نہیں کرسکتے ۔ان دنوں ڈسٹرکٹ بورڈ کی طرف سے مسافروں کو رسد بہم پہنچانے کے لیے ایک دکان متصل بنگلہ  ڈھوک پٹھان کھولی جاتی ہے

کھرسا میں سواں ہمیشہ پایاب ہوتا ہے اس کے قریب بعض مقامات پر اتنی ریت ( Quicksand) ہوتی ہے کہ اس میں ہاتھی بھی غائب ہو جاتے ہیں ۔1850 میں حضور لاٹ صاحب جس وقت کالا باغ جا رہے تھے ان کا ایک ہاتھی اس ریت میں دھنس کر غائب ہوگیا۔ سواں کے کنارے چونترہ ,ادھوال ,  چکری ،ڈھڈھمبر،گنڈاکس،ڈھوک پٹھان،جبی ( شاہ دلاور) اور تراپ مشہور گاؤں ہیں۔

پنڈی گھیب والی سیل ۔یہ نالہ کھیری مورت سے نکل کر  مغرب کو بہتا ہوا پنڈی گھیب کے پاس سے گزرتا ہے اور سواں میں جا گرتا ہے ۔ پنڈی گھیب کے پاس اس کا پاٹ ایک میل ہے ۔اس نالے کے پہلے حصے کا نام ٹوتھل ہے ۔پنڈی گھیب کے پاس اس کا نام سیل Seel ہو گیا ہے ۔اس کے کنارے اخلاص ،پنڈی گھیب اور دندی کے قصبے ہیں ۔

فتح جنگ والی سیل کا پنڈی گھیب والی سیل سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ دونوں مختلف نالے ہیں۔یہ نالہ کھیری مورت سے جنوب کی طرف بہتا ہے اور سواں میں ( چکری کے پاس) جا ملتا ہے ۔

نندنہ نالہ کھیری مورت سے شمال کی طرف سے نکل کر کالا چٹا پہاڑ کو چیرتا ہوا اکھوڑی پہنچ جاتا ہے ۔یہ کنجور کے قریب دریا ھرو سے جا ملتا ہے ۔

نالہ چیل  بیس میل لمبا ہے یہ ھٹی ( ھٹیاں) کی دلدل ( اب خشک ہو گئی ) سے نکل کر شمس آباد سے گزرتا ہوامانسر کے قریب سندھ میں جا ملتا ہے ۔ھٹی کے مقام پر چھ سو ایکڑ رقبہ پر جھیل تھی اس کو ڈپٹی کمشنر گاربٹ صاحب نے خشک کرا کر آباد کر دیا ہے ۔

جاری ہے …….

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

ڈاکٹر عبدالسلام

Next Post

تحریک لبیک کا گوجر خان میں جلسہ

ہفتہ فروری 3 , 2024
تحریک لبیک دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مقابلے میں عشق رسول ﷺ کی وجہ سے عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتی ہے
تحریک لبیک کا گوجر خان میں جلسہ

مزید دلچسپ تحریریں