حاجی لطیف کھوکھر سے مکالمہ

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات ، لاہور

حاجی لطیف کھوکھر صاحب ، لاہور

انٹرویو کنندہ : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

سوال : آپ کا کھوکھر خاندان سے تعلق ہے ۔ تھوڑی سی معلومات دیں ۔ ؟
جواب : جی اس بارے میں میرے پاس کوئی سند نہیں سوائے اس کے کہ اپنے بڑوں سے جو سنا ، لکھ دیا ۔ اتنا یاد ہے جب ہم گاؤں میں ہوتے تھے اور ہمارا شمار علاقے کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا ۔ ہم اپنے علاقے کے سیٹھ کہلاتے تھے ۔ ہمارا کاروبار بہت وسیع تھا ۔ اس وقت سال میں ایکب ار ایک پارٹی گوئیوں کی آتی تھی ۔ ساری رات گاتی اور قصے کہانیاں سناتی ۔ آخر میں ہمارا شجرہ پڑھ کر سناتے ۔ اُس پارٹی کو” کلال” کہا کرتے تھے جو کہ سنا ہے میری والدہ نے بھی شجرہ لکھ کر رکھا ہوا تھا ۔ بعد میں والدہ فوت ہو گئیں اور علاقہ سیلاب کی وجہ سے فصل پیدا کرنے کے قابل نہ رہا ۔ ہم علاقہ چھوڑ کر خوشاب چلے گئے ۔ وہاں میں چار سال رہا ۔ واپس کچھ ماہ سانگلہ ہل اپنی بہن کے پاس رہا ۔ قالینوں کا کام کیا پھر لاہور آ کر کچھ عرصہ گولی ٹافی کا کام کیا پھر پلاسٹک کے کام میں آ گیا۔ اس میں آج بھی ہوں۔ اللّٰہ تعالیٰ کا خاص کرم ہے اس نے سفید پوشی کا بھرم رکھا ہوا ہے ۔ میرے پانچ بچے ہیں ۔ سب اپنے اپنے گھروں میں خوش و خرم ہیں اور سب صاحب اولاد ہیں ۔

حاجی لطیف کھوکھر سے مکالمہ
حاجی لطیف کھوکھر صاحب


سوال : تعلیم کہاں تک ہے ۔ ؟
جواب : تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ مل سکا ۔ جیسا کے آپ کو بتا چکا ہوں ۔ جو عمر تعلیم حاصل کرنے کی تھی گھریلو حالات خراب ہو گئے بلکہ دربدر ہو گئے تو تعلیم حاصل نہ کر سکا ۔لیکن یہ بھی نہیں کہ میں بالکل سفید ہوں ، گزارے کیلئے تعلیم بھی ہے اور علم بھی ہے ۔
سوال : آپ اپنی کتابوں کے نام بتائیں ۔ ؟
جواب : کتابیں اس وقت تک پندرہ ہیں ۔ اس میں چار مرتب ہیں اور نو میری تحریر شدہ ہیں ۔ پہلی کتاب میری (دو شہیدوں کی وارث) اس میں افسانے ہیں۔ دوسری کتاب (اعتبار کا قتل) یہ بھی افسانے ہیں۔ اس کے بعد بچوں کہانیوں کی کتاب ہے۔ (من پسند کہانیاں) اور دوسری کتاب ہے (جادو کی سرنگ) یہ دو بچوں کی کتابیں ہیں اس کےبعد ضلع شیخوپورہ کے ادبی ستارے” چونکہ میری پیدائش کا ضلع ہے، اس لیے میں نے اس کا حق سمجھتے ہوئے اس کیلئے کام کیا ۔ اس میں کوئی تین سو سے اوپر شعراء و ادباء کا ریکارڈ ہے ۔ اس کے بعد میں حج پر گیا تو وہاں دیکھا لوگ حج اور نماز میں بہت غلطیاں کرتے ہیں اور اس پر کتاب لکھی “حج مبرور”جس میں حج اور نماز کے بارے میں مسئلے مسائل شامل ہیں پھر 2012ء میں میرا بڑا بھائی اقبال راحت جو کہ بہت اچھا شاعر تھا اور چار کتابوں کا مصنف تھا، دو کتابیں ان کی میں نے ان کے فوت ہونے کے بعد شائع کروائی جن کے نام ہیں وطن ایمان” اور “نین پیالے راحت دے” یہاں تک ہو گئیں آٹھ ۔ آگے پھر میں نے بھائی کے فوت ہو جانے کے بعد شاعری شروع کی ۔ پہلی کتاب میری شاعری میں آئی “ہتھ جوڑی” اس پر تبصرہ کرتے ہوئے جناب عاشق راحیل صاحب نے کہا تھا کہ آپ کے کلام میں روانی بہت ہے ۔ اس کے بعد میں نے نعت لکھنی شروع کی “نعتاں سرکار دیاں” 2019ء میں اس کتاب کو سیرت ایوارڈ حکومت پاکستان کی طرف سے دیا گیا ۔ اس کے بعد میری تعلیم زیادہ تر بال ادب سے ہے۔ اس لیے میں نے دوسری ڈائریکٹری “وفائے پاکستان کے ادبی ستارے “کے نام سے بچوں کیلئے شاعری اور ادیبوں کی ڈائریکٹری تیار کی۔ دو سو پچاس کے قریب دوستوں کا تعارف ہے ۔ ابھی اس کا دوسرے حصے پر کام جاری ہے ۔ بلوچستان کے شاعروں اور ادیبوں کیلئے الگ سے ڈائریکٹری تیار ہو رہی ہے جو کہ کمپوز ہو رہی ہے ۔ اس کے بعد میں نے سیرت پاک پر کتاب لکھی “وفائے مصطفیٰ تقاضا ایمان” پھر میں نے افواج پاکستان پر کتاب لکھی ۔ پھر کشمیر پر “آخری سانس تک” پھر سیرت پر پنجابی زبان میں کتاب لکھی “محبت مصطفیٰ “اس پر 2021ء میں سیرت ایوارڈ مل چکا ہے ۔ پھر مجھ پر مقالہ لکھا گیا ۔ اس کو میں نے کتابی شکل میں شائع کیا ۔ اس کے بعد جو میری کتابیں آنے والی ہیں اس میں ایک کا نام ہے “انسان خسارے میں ہے”اور ایک نعت کی ہے اور ایک میرے کالموں کی ہے “سوچو ذرا ہٹ کے”ہر ہفتے میں ایک کالم لکھتا ہوں ۔ جو بہت سے اخبارات میں شائع ہوتا ہے ۔ کبھی کبھی دلّی کے اخبارات میں بھی شائع ہو جاتا ہے ۔

سوال : شعر و ادب کی جانب کیسے راغب ہوئے ۔؟
جواب : شعر و ادب کی طرف میری ماں کا رجحان تھا ۔ اس لیے ہم بھی ادب کی طرف آ گئے ۔ میرا بڑا بھائی اقبال راحت جو بچپن سے ہی شعر کہنے لگا تھا ، میں نے بھی چند شعر کہے تو اقبال راحت نے مجھے منع کر دیا کہ تم اپنے کاروبار کی طرف توجہ دو میں نے ان کی بات مان کر کام پر توجہ دینے لگا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرا کام ان سے اچھا ہو گیا ۔ پھر 2008ء کی بات ہے وہ میرے گھر آئے اور کہنے لگے اب تمھارا کام سیٹ ہو گیا ہے ، بچے بھی کام میں ہاتھ بٹا رہے ہیں اب تم لکھو ۔ میں نے کہا شاعری تو تم کرتے ہو اس لیے میں شاعری تو نہیں کروں گا، میں نثر لکھوں گا۔ کہنے لگا جو مرضی لکھو مگر لکھو ۔ میں نے ایک افسانہ لکھا ہوا تھا بہت عرصہ پہلے وہ ان کو سنایا تو بہت خوش ہوئے ۔ افسانے کا نام “ٹریفک جام”۔ وہ انہوں نے مجھ سے لے کر اسی وقت کسی رسالے کو بھیج دیا ۔ دو دن بعد فون آیا کہ میں ڈاکٹر رضوان ثاقب بول رہا ہوں یہ افسانہ آپ نے لکھا ہے ۔ میں نے کہا جی ہاں ۔ تو کہنے لگے افسانہ بہت اچھا ہے ۔ پہلے کہیں چھپا تو نہیں میں نے کہا نہیں تو کہنے لگے اور لکھو اور مجھے بھیجتے جاؤ ان کا “آنکھ مچولی “رسالہ تھا ۔ جب رسالہ چھپ گیا تو مجھے فون آیا کہ رسالہ چھپ گیا ہے ۔ آپ کو کتنی کاپیاں چاہئیں تو میں نے کہا پچاس دے دیں ۔ پھر انہوں نے مجھے ایڈریس سمجھایا اچھرہ میں شمع بلڈنگ ان کا دفتر تھا ۔ میں وہاں گیا رسالہ لیا اور وہاں ہی میری ملاقات پھول بھائی اور بشریٰ عظمت سے ہوئی جو آج بشریٰ نسیم ہے ۔

سوال : آپ کا زیادہ میلان نثر کی طرف ہے ۔ یا نظم کی طرف ۔؟
جواب : میں آل راؤنڈر ہوں جو چاہوں لکھ لیتا ہوں ۔ نظم ، نثر ، کہانی ، افسانہ ، کالم ۔ نعت ، سیرت سب کچھ میں نے لکھا اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ تخلیق کاری رب کی عطا ہے ۔ سے اس کا تعلق نہیں الحمدللّٰہ میں نے ایک دن میں پانچ پانچ نعتیں بھی کہیں ہیں اور جس وقت چاہتا ہوں ، نعت کہتا ہوں ۔
سوال : آپ نے تھوڑے عرصے میں بہت زیادہ شہرت پائی ، اس کامیابی کی وجہ کیا ہے ۔ ؟
جواب : میں تو خیر اس کو شہرت نہیں سمجھتا ابھی تو چند دوستوں تک ہی محدود ہوں ۔ ہاں یہ ہے کہ سارے پاکستان میں میرے دوستوں کی کافی تعداد ہے ہر بڑے چھوٹے شہر میں کوئی نہ کوئی دوست مل ہی جاتا ہے ۔ زیادہ تر بال ادب کے حوالے سے کیوں کہ میرا زیادہ تر تعلق بال ادب سے ہے اور شاعروں سے بھی کافی اور علماء کرام سے بھی کافی تعلق ہے ۔
سوال : آپ کو الیکٹرک میڈیا پر یا سوشل میڈیا پر زیادہ کامیابی کہاں ملی ۔؟
جواب : مجھے سوشل میڈیا پر تھوڑی بہت کامیابی ملی ۔
سوال : صنف سخن میں زیادہ تر شہرت غزل کو ملی یا نظم کو حاصل ہے ۔ ؟
جواب : جو آپ اچھا لکھ لیں اس کو شہرت مل جاتی ہے ۔ میری ایک نظم بہت مشہور رہی ہے جس کا پہلا شعر ہے

اوہ جے میری ہمسائی نہ ہوندی
فیر میرے گھر لڑائی نہ ہوندی

ایک دوسری نظم ہے وہ بھی بہت پسند کی جا رہی ہے ۔

میں کیوں بیگم میکے گھلاں
دُکھ جدائیاں والے جھلاں

سوال : لاہور میں نامور ادبی شخصیات کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ آپ کا رابطہ کس کس سے ہے ۔
جواب : سینکڑوں ہیں لیکن یہاں چند کے نام بتا دیتا ہوں ۔ بچوں کے ادب میں ۔ جناب اختر عباس بڑا نام ہے ۔ جناب نذیر انبالوی ، جناب امان اللّٰہ ، نیئر شوکت ، جناب رضوان ثاقب ، جناب فہیم عالم ، جناب شعیب مرزا ، پھول بھائی ، حکیم سلیم اختر ، عاشق ، اقبال راہی ، عدل منہاس لاہوری ، تنویر سرور، نوید مرزا ، بابا اثر انصاری ، اشرف سہیل ، سہیل قیصر ہاشمی ، خالد یزدانی ، نجمہ شاہین ، پروین وفا ہاشمی ، ناصر زیدی ، نسیم الحق زاہدی ، عابد قادری ، امجد رسول امجد ، تنویر ظہور اور بہت سے جن کا نام یہاں ممکن نہیں عارف شاہ ، نادر کھوکھر اور دیگر ۔
سوال : آپ نے لاہور کی ادبی فضا سے کیا پایا ۔؟
جواب : لاہور کی ادبی فضا سے بہت سے دوست پائے جوکہ ایک سرمایہ ہیں ۔
سوال : آپ ایک ادبی تنظیم (وفائے پاکستان) کے نام سے بتائی ہے ۔ اس کا منشور کیا ہے ۔ ؟
جواب : منشور نے لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ان کی حوصلہ افزائی کرنا، سالانہ تقریبات کا انعقاد اور ہر کارکردگی پر ایوارڈ نوجوانوں کے دلوں ، جذبہ حب الوطنی بیدار کرنا، محبت، اخوت اور بھائی چارہ کی فضا قائم کرنا ۔
سوال : نعت پاکستان کے کس شہر میں زیادہ تخلیق ہو رہی ہے ۔ ؟
جواب : نعت تو ایک ایسی صنف ہے دنیا کے ہر خطے میں لکھی جا رہی ہے ۔ مسلمان تو لکھتے ہی ہیں، غیر مسلم بھی بڑے شوق سے لکھتے ہیں۔ جہاں تک شہروں کا ہے نعت تو ہر شہر بھی لکھی جا رہی ہے ۔
سوال : آپ کی زوجہ محترمہ نے بھی کتاب لکھی ہے ۔ اس پر تھوڑی سی بات کریں ۔؟
جواب : جی وہ قرآن اور حدیث کی باتیں ہیں جس سے ہمارا روزمرہ زندگی میں واسطہ رہتا ہے لیکن ہم اس کی طرف توجہ نہیں دیتے ۔ اس میں یہی کوشش کی گئی ہے کہ لوگ اپنے معاملات اسلام کے مطابق چلائیں اور کچھ ٹوٹکے بھی ہیں پرانے بزرگوں کے ۔
سوال : حضرت محمد ﷺ اور حضرت حسین علیہ السلام پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے اور لکھا جاتا رہے گا ۔ اس پر اظہار خیال فرمائیں ۔؟
جواب : اس کے بارے میں یہی کہوں گا کہ مومن ہو اور لکھ بھی سکتا ہو اور ان ہستیوں پر نہ لکھے تو اس کا لکھنا نہ لکھنا ایک برابر ۔ میں یہاں اپنا ایک شعر سناتا ہوں امید ہے سب دوستوں کو پسند آئے گا ۔

محبت حسینؑ دی اِک شمع اے دوستو
لطیف اے اِک چھوٹا جیہا پروانہ حسینؑ دا
سوال : حاجی صاحب آج کل کتاب سیل نہیں ہوتی اس کی کیا وجہ ہے ۔؟
جواب : کتاب سیل ہوتی ہے جناب آپ کو کس نے کہہ دیا کہ کتاب سیل نہیں ہوتی ۔ یہ اتنی بڑی بڑی کتابوں کی دکانیں کیسے چل رہی ہیں ۔ وہ لوگ بھی تو روزی کما رہے ہیں۔ یہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ادبی یا ہم جیسوں کی کتابیں کیوں نہیں بِک رہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی کو پتا ہی نہیں کہ کیا چھپا ہے تو کون خریدے گا سوشل میڈیا پر اپنی کتاب تشہیر کریں تو کتاب بِک جائے گی ۔
سوال : ادب نے ہمیشہ قوم کی قسمت سنواری ، آپ کا کیا خیال ہے ۔؟
جواب : جی بالکل سچ ہے، قوم کی رہنمائی کرنا ادیب کا کام ہے۔ جناب علامہ اقبال صاحب نے یہی تو کہا تھا ۔
سوال : ماشاء اللّٰہ آپ صدارتی ایوارڈ یافتہ ہیں ۔ دیگر اعزازات سے آگاہ کریں ۔؟
جواب : جی الحمد للّہ صدارتی ایوارڈ ملے ۔ ایک ملا 2019ء کو اور دوسرا ملا 2021ء میں۔ ایک مقالہ بھی ہو چکا ہے جس کو میں نے کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے باقی ایوارڈ کی تفصیل مشکل ہے۔ ویسے بتا دیتا ہوں کہ پچاس کے قریب ہیں اور اس سال چار یا پانچ اور مل جائیں گے انشاء اللّٰہ ۔
سوال : جناب حفیظ جالندھری صاحب کی ادبی خدمات پر تھوڑی روشنی ڈالیں ۔؟
جواب : ان کی یہی خدمت بہت ہے کہ ان کا لکھا ہوا قومی ترانہ چل رہا ہے۔ جب تک دنیا قائم ہے انشاء اللّٰہ پاکستان قائم ہے اور حفیظ صاحب کا نام بھی زندہ رہے گا ۔
سوال : قارئین کیلئے ایک نعت عطا فرمائیں ۔؟
جواب : جی ہاں ضرور

کتب ستارے میں جو سجایا تھا
جس سے دنیا کو روشن بنایا تھا

ہر طرف چرچا اُسی نور کا ہے
ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

ظلم پھیلا ہوا تھا ہر طرف
بے ایمانی کا راج تھا ہر طرف

نظام قائم کیا دستور کا ہے
ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

ظلم کے خلاف تلوار اٹھائی
پھر اللّٰہ کی مدد بھی آئی

راستہ روکا کفر کے فتور کا ہے
ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

فتح مکہ کا دن جب آیا
سب کو آپؐ نے معاف فرمایا

سر جھک گیا آج غرور کا ہے
ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

حق مظلوم کو ظالم سے دلوایا
نہ کوئی اپنا تھا نہ پرایا

اک پیمانہ لطیف دستور کا ہے
ذکر اعلیٰ میرے حضورؐ کا ہے

سوال : لاہور نے آپ کو کیا دیا اور آپ نے لاہور کو کیا دیا ۔ ؟
جواب : لاہور نے مجھے نام دیا ، عزت دی، روزی روزگار دیا اور بہت سے مخلص دوست دیئے جہاں تک میں نے لاہور کو کیا دیا محبت دی، پندرہ کتابیں دیں اور سفر جاری ہے۔ لاہور کے قبرستان میں میرے والد، میرے تین بھائی، دو بہنیں دفن ہیں ۔ اللّٰہ میرے لاہور کی خیر کرے ۔ (آمین ثم آمین)
سوال : آپ نئے لکھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے ۔ ؟
جواب : جی نئے لکھنے والوں کیلئے میرا پیغام ہے کہ کہانی ہو یا نظم ، کچھ بھی لکھیں احترام آدمیت کا خاص خیال رکھیں اور دین سے اور دین دار لوگوں سے محبت کریں، مسجدیں آباد کریں اور اپنی تحریر سے ہیرو کو بھی ناکام نہ دکھائیں اور دنیا کے مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ اللہ اور اللہ کا رسولﷺ آپ کے ساتھ ہے۔

maqbool

 مقبول ذکی مقبول

بھکر، پنجاب، پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

طارق محمود نویں مرتبہ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی

بدھ جون 1 , 2022
ضلع اٹک کا اعزاز طارق محمود مسلسل نویں مرتبہ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے ہیلتھ ایف پی سی سی آئی مقرر
طارق محمود  نویں مرتبہ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی