Tag: ادب

  • میانوالی کےادبی منظر نامہ کی منظوم جھلک

    میانوالی کےادبی منظر نامہ کی منظوم جھلک

    میانوالی کےادبی منظر نامہ کی منظوم جھلک

    (عاصم بخاری کی شاعری میں)

    تجزیہ کار

       (راحت امیر نیازی میانوالی)

    عاصم بخاری کی شاعری کا اختصاص یہ بھی ہے کہ انھوں نے ہر موضوع کو اپنی شاعری میں کامیابی سے عنوان بنایا ہے۔جہاں انھوں نے سیاسی ، سماجی ، اقتصادی اور معاشرتی موضوعات پر قلم کشائی کی ہے وہاں انھوں نے اپنی مقامیت یعنی میانوالی کے ادبی منظر نامہ کو بھی منظوم کر کے ادبی تاریخ کی جھلک کا ایک باب بھی رقم کیا ہے۔عاصم بخاری کی جہاں عصری مسائل پر نظر ہے وہاں میانوالی کی ادبی سرگرمیاں بھی قلم کشائی کی طرف راغب کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

    ارتقائی حوالے سے  دیکھا جائے تو فارق روکھڑی کی ادبی خدمات کو کچھ اس نداز میں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں

    قطعہ

    شہرت ہوئی نصیب جنہیں زندگی میں ہی

    شاعر بھی کیا کمال تھے فاروق روکھڑی

    اسی طرح بابائے تھل فاروق روکھڑی کی شخصیت اور اس کے دیگر  سماجی و اخلاقی پہلو کا تذکرہ یوں کرتے ہیں۔

    قطعہ

    مہماں نواز تھے بڑے حق مغفرت کرے

    اک زندہ دل ادیب تھے فاروق روکھڑی

    بابائے تھل کا پایا لقب شہرتیں ملیں

    کتنے ہی خوش نصیب تھے فاروق روکھڑی

    معاصر ادبی منظر نامے پر اردو کے ساتھ ساتھ ماں بولی میں ادبی خدمات سرانجام دینے والوں شعرا کے بھی معترف دکھائی دیتے ہیں۔ غلام حسین مجبور عیسیٰ خیلوی کا ذکر کچھ اس منظوم انداز میں کرتے ہیں۔

    شعر

    آپ اپنی مثال ہیں عاصم

    گیت مجبور کے زمانے میں

    اسی طرح دونوں ہم عصر شعرا مجبور عیسیٰ خیلوی اور فاروق روکھڑی کا ایک ساتھ منظوم  تذکرہ یوں کرتے ہیں

    فاروق روکھڑی    اور   مجبور عیسیٰ خیلوی کے نام

                   ۔

                  ایک نظم

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    پہچان ادب میں آپ اپنی ماں بولی میں، قومی میں بھی

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    اک چہکے عاصم  محفل میں  اور دوجے کا دھیما لہجہ

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    قدرت نے” لالے” کی سُر میں ہے ہر جا کیسے  منوایا

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    سچ تو  ہے یہ  ہی جذبے سے  پرچار کیا ماں بولی    کا  

    فاروق بھی میاں والی سے مجبور بھی میاں والی سے

    میانوالی کےادبی منظر نامہ کی منظوم جھلک

            مجبور عیسیٰ خیلوی کے ہم عصر پروفیسر منور علی ملک صاحب جن کی اردو سرائیکی انگریزی تینوں زبانوں مییں خدمات کوں قطعہ میں یوں بیان کرتے ہیں

    قطعہ

    میاں والی کا ناز اعزاز تم

    ہر اک کہہ  رہا ہے منور علی

    ترا رنگ ِ تحریر سچ تو ہے یہ

    کہ سب سے جدا ہے منور علی

    منور علی ملک صاحب کے ساتھ ساتھ پروفیسر سرور نیازی کی علمی و ادبی خدمات اور شخصیت کی کچھ ان لفظوں میں تصویر کشی کرتے ہیں۔

    ایک شعر

    ادب سادگی ہو کہ یاروں کی محفل

    ہیں پہچان آپ اپنی سرور نیازی

     پروفیسر موصوف کی ادبی شخصیت کی منظر کشی ایک اور زاویے سے یوں کرتے ہیں۔

    شعر

    تمہاری قابلیت ، سادگی کا

    زمانہ معترف ، سرور نیازی

     پروفیسر رئیس احمد خان عرشی صاحب زبان و ادب کی خدمت کے حوالے سے نمایاں ادبی شخصیت ہیں۔نظم و نثر دونوں میں ان کی خدمات لائق ِ تحسین ہیں

    قطعہ

    باریکیوں سے خوب  جو  سچ تو یہ باخبر

    تب ہی تو احترام ہے نظم اور نثر میں

    اردو زباں کا ایک حوالہ ہے معتبر

    عرشی کا اک مقام ہے نظم اور نثر میں

        نظم کے ساتھ ساتھ میانوالی کی نثر نگاری پر بھی عاصم بخاری کی منظوم نظر  ہے۔محمد حامدسراج مرحوم کی افسانہ نگاری کے برِ صغیر تک کے چرچوں کا حوالہ یوں دیتے ہیں۔

    شعر

    افسانوی ادب کی اگر بات میں کروں

    پہچان اپنی آپ ہی حامد سراج تھے

    خورشید شاہ سرائیکی دوہڑے میں ایک بہت بڑا نام۔گزرا ہے۔اسے یوں خراج ِ تحسین پیش کرتے ہیں۔۔

    قطعہ

    ہر اک کا دل ربا تھا خورشید شہ بخاری

    کب فرد ، قافلہ تھا خورشید شہ بخاری

    جس نے کمال لکھا اپنی زباں میں عاصم

    دُہڑے کا بادشہ تھا، خورشید شہ بخاری

     ۔

    محمد محمود احمد

    تری پہچان دنیاۓ ادب میں

    لب و لہجہ ترا محمود احمد

    بہت جلدی ہمیں چھوڑا ہے تو نے

    یہی تجھ سے گلہ محمود احمد

    عاصم بخاری کی ایک اور نظم محمود ہاشمی کے نام

    کچھ منفرد ہی کر کے گزر جانا چاہیے

    عاصم بخاری کہتا تھا محمود ہاشمی

    لہجے میں بات کرتا تھا سوچیں نئی نئی

    زرخیز ذہن رکھتا تھا محمود ہاشمی

     ۔

    دنیا تُو چھوڑ جائے گا عالم شباب میں

    قسمت میں ایسے لکھا تھا محمود ہاشمی

     ۔

    اپنی تو بس دعا یہی حق مغفرت کرئے

    اکثر درود پڑھتا تھا محمود ہاشمی

    شعرو ادب کی دنیا میں عاصم ہے سچ تو یہ

    تازہ ہوا کا جھونکا تھا محمود ہاشمی

     ۔

    نذیر یاد اردو سرائیکی کے حوالے سے ایک سرمایہ ہیں ۔خصوصا”ان کی سرائیکی نظم گوئی کا کوئی ثانی نہیں۔جس کے حوالے سے یوں منظوم اعتراف کرتے ہیں

    مشہور تم بھی شہر میں مقبول آج کل

    تم بھی نذیر یاد کی ہو نظم کی طرح

    مظہر نیازی

    مظہر یازی  کی بھی اردو سرائیکی نظم اور نثر دونوں میں بہت خدمات ہیں۔علاوہ ازیں قدرت نے انہیں ترنم بھی عطا کیا ہے۔

    قطعہ

    راس آیا تمہیں ترنم بھی

    حصے لفظوں کی دولتیں آئیں

    تم کہ وہ خوش نصیب ہو مظہر

    گیتوں غزلوں سے شہرتیں پائیں

         میانوالی کے شاعروں میں ایک توانا آواز اور نام۔خالد ندیم شانی کا ہے۔عاصم بخاری ان کی شخصیت ، شاعری  اور طرزِ ادا سے خاصے متاثر نظر آتے ہیں جس کا برملا اظہار بھی ان کے ہاں  شعری صورت میں مختلف زاویوں سے ملتا ہے۔

    فردیات

    شاعر تو بہت اچھے ہیں وطن ِعزیز میں

    خالد ندیم۔شانی کا لیکن یہ دور ہے

         بخاری صاحب شاعر ِ موصوف کی اک اور ادا سے بھی متاثر اور معترف نظر آتے ہیں۔

    شعر

    ہنس کے جینے کا ہے ہنر سیکھا

    میں نے خالد ندیم  ، شانی سے

    قطعہ

    مانا ہوں گے ہزار ، دنیا میں

    اسکاثانی نہ خوش بیانی میں

    ولولہ جوش زندگی  پائی

    میں نے خالد ندیم شانی میں

         یہ تھی میانوالی کے ادبی منظر نامہ کی ایک جھلک۔ ابھی بہت سے ہمالہ قد ادبی نام اور کام باقی ہیں جن میں اساتذہ کے حوالے لکھنا بھی باقی ہے اور آج کے جدید شعرا پر بات بھی باقی ہےلیکن مضمون کی طوالت کے باعث فی الحال اتنا ہی   ، مزید ان شااللہ اگلے مضمون میں   حیات باقی ، ملاقات باقی  

                       ***

  • بشیر بدر بھی چلے گئے  

    بشیر بدر بھی چلے گئے  

    بشیر بدر بھی چلے گئے  

    اردو غزل کا ایک عہد اختتام پذیر ہوا  

    شہرِ خواب ۔ صفدر علی حیدری  

    بشیر بدر بھی آخرکار رخصت ہو گئے۔  یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اردو غزل کا ایک نرم، مہذب اور خوشبو بھرا عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہو۔ وہ عہد جس میں محبت دھیرے لہجے میں بولتی تھی، جدائی چیخ نہیں بنتی تھی بلکہ خاموشی میں آنکھیں نم کر دیتی تھی، اور انسان اپنے ٹوٹنے کا اعلان نہیں کرتا تھا بلکہ ایک شعر کہہ کر گزر جاتا تھا۔

    بشیر بدر صرف ایک شاعر نہیں تھے، وہ ایک احساس تھے۔ ایک ایسا احساس جو برسوں تک اردو زبان کے قاری کے دل میں سانس لیتا رہا۔ ان کی شاعری میں محبت بھی تھی، تنہائی بھی، ہجرت کا دکھ بھی، بدلتے شہروں کی بے حسی بھی اور انسان کے اندر چھپی ہوئی وہ خاموش اداسی بھی جسے ہر شخص محسوس تو کرتا ہے مگر بیان نہیں کر پاتا۔

    بشیر بدر کا اصل کمال یہی تھا کہ وہ مشکل ترین احساس کو نہایت سادہ لفظوں میں بیان کر دیتے تھے۔ ان کے یہاں تصنع نہیں تھا، بناوٹ نہیں تھی، فلسفے کا بوجھ نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی شائستہ انسان دھیرے سے دل کی بات کر رہا ہو۔ یہی سادگی ان کی عظمت بن گئی۔

    بشیر بدر بھی چلے گئے  

    زندگی اور ادبی سفر

    بشیر بدر 15 فروری 1935ء کو پیدا ہوئے۔ وہ اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے تقسیمِ ہند کے بعد ٹوٹتے ہوئے رشتے، بدلتی ہوئی تہذیب اور بکھرتی ہوئی انسانی قدروں کو بہت قریب سے دیکھا۔ انہی تجربات نے ان کی شاعری کو ایک منفرد گہرائی عطا کی۔

    انہوں نے تعلیم حاصل کی، تدریس سے وابستہ رہے اور پھر مکمل طور پر ادب کی دنیا میں اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں کلاسیکی غزل کی خوشبو بھی موجود ہے اور جدید عہد کی بے چینی بھی۔ یہی امتزاج انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتا ہے۔

    انہوں نے غزل کو صرف ادبی حلقوں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ عام آدمی کے دل تک پہنچایا۔ ان کے کئی اشعار زبان زدِ عام ہوئے اور روزمرہ گفتگو کا حصہ بن گئے۔

    بشیر بدر کی شاعری کے نمایاں موضوعات

    محبت  

    بشیر بدر محبت کے شاعر تھے، مگر ان کی محبت محض رومان نہیں تھی۔ اس میں انتظار بھی تھا، محرومی بھی، بے یقینی بھی اور وقت کی تلخی بھی۔ ان کے یہاں محبت انسانی وجود کا بنیادی تجربہ بن کر سامنے آتی ہے۔

    تنہائی  

    ان کی شاعری میں جدید انسان کی تنہائی بار ابھرتی ہے۔ شہر آباد ہیں مگر انسان اندر سے ویران ہے۔ بشیر بدر نے اس داخلی ویرانی کو نہایت شدت کے ساتھ محسوس کیا۔

    بدلتا ہوا شہر  

    انہوں نے شہروں کی بے حسی اور تعلقات کی سرد مہری کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کے کئی اشعار آج کے انسان کی سماجی تنہائی کی مکمل تصویر محسوس ہوتے ہیں۔

    یاد اور ماضی  

    بشیر بدر کے یہاں یاد محض ماضی نہیں بلکہ زندہ تجربہ ہے۔ ان کے اشعار میں بچھڑنے کا دکھ ایک دھیمی آگ کی طرح جلتا رہتا ہے۔

    بشیر بدر کے چند لازوال اشعار

    کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا  

    جو گلے ملو گے تپاک سے  

    یہ نئے مزاج کا شہر ہے  

    ذرا فاصلے سے ملا کرو  

    اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو  

    نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے  

    لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں  

    تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں  

    دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے  

    جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں  

    کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی  

    یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا  

    پتھر مجھے کہتا ہے مرا چاہنے والا  

    میں موم ہوں اُس نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا  

    محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا  

    اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا  

    ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے  

    جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا  

    کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو  

    مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو  

    یونہی بے سبب نہ پھرا کرو  

    کوئی شام گھر بھی رہا کرو  

    بشیر بدر کی مقبولیت کی اصل وجہ

    بشیر بدر کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ ان کی زبان تھی۔ انہوں نے مشکل الفاظ، بھاری تراکیب اور پیچیدہ علامتوں کے بجائے عام فہم زبان استعمال کی۔ ان کے اشعار پڑھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص آپ کے اپنے دل کی بات آپ ہی کو سنا رہا ہو۔

    ان کی شاعری میں تہذیب بھی تھی، درد بھی، شائستگی بھی اور جدید عہد کی اداسی بھی۔ وہ چیخ کر بات نہیں کرتے تھے بلکہ دھیرے سے دل میں اتر جاتے تھے۔

    جدید اردو غزل پر اثرات

    بشیر بدر نے جدید اردو غزل کو ایک نیا لہجہ عطا کیا۔ ان کے بعد آنے والے بے شمار شعرا نے ان کے انداز سے اثر قبول کیا۔ مختصر بحر، سادہ الفاظ، روزمرہ کی زبان اور گہرے احساسات ان کے اسلوب کی پہچان بنے۔

    انہوں نے ثابت کیا کہ بڑی شاعری کے لیے مشکل زبان ضروری نہیں۔ سادہ لفظ بھی اگر سچے احساس کے ساتھ ادا کیے جائیں تو صدیوں تک زندہ رہتے ہیں۔

    ایک مہذب اداسی کا شاعر

    بشیر بدر کی شاعری پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ وہ انسان کے اندر چھپے ہوئے دکھ کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ ان کے یہاں شکست بھی وقار کے ساتھ آتی ہے۔ ان کی شاعری میں شور نہیں، ایک مہذب اداسی ہے۔ یہی اداسی ان کے اشعار کو دیرپا بناتی ہے۔

    اردو ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان

    بشیر بدر کے انتقال سے اردو ادب کا ایک روشن چراغ بجھ گیا۔ مگر ایسے لوگ حقیقت میں کبھی نہیں مرتے۔ وہ اپنے لفظوں میں زندہ رہتے ہیں۔ ان کے اشعار آنے والی نسلوں کے دلوں میں اسی طرح گونجتے رہیں گے جیسے آج گونجتے ہیں۔

    وہ شاعر جس نے محبت کو شائستگی دی، جدائی کو وقار دیا اور تنہائی کو زبان دی، اب ہمارے درمیان نہیں رہا، مگر اس کے لفظ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

    بشیر بدر واقعی صرف ایک شاعر نہیں تھے، ایک پورا عہد تھے۔

    اور ایسے عہد بار پیدا نہیں ہوتے۔

    ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے  

    جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہو جائے گا

  • پروفیسر عاصم بخاری — ایک تاثراتی خاکہ

    پروفیسر عاصم بخاری — ایک تاثراتی خاکہ

    پروفیسر عاصم بخاری — ایک تاثراتی خاکہ

    (شہرِ خواب — صفدر علی حیدری)

    پروفیسر عاصم بخاری کا نام میں عرصۂ دراز سے سنتا آ رہا تھا اور ان کے ادبی کام سے بھی کسی حد تک آگاہ بھی تھا، لیکن بالمشافہ ملاقات کا موقع کبھی نہ ملا تھا۔
    پھر اچانک اور اتفاقاً ان سے ملاقات کی ایک صورت نکل آئی۔ یہ واقعہ تقریباً ساڑھے تین سال پرانا ہے۔ میں اُس وقت قائم پور میں سید مبارک علی شمسی کے ہاں مقیم تھا جب ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات میرے لیے ایک یادگار ادبی تجربہ ثابت ہوئی۔

    اس شب گفتگو کا سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ حیرت انگیز طور پر زیادہ تر میں ہی گفتگو کرتا رہا، یوں محسوس ہوتا تھا جیسے برسوں پرانا تعلق ہو۔ وہ بڑے اطمینان، تحمل اور شائستگی کے ساتھ سنتے رہے۔ کبھی مسکرا دیتے اور کبھی مختصر مگر بامعنی جملوں سے گفتگو کو آگے بڑھاتے رہے۔

    ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ان کی سادگی، کم گوئی اور شگفتگی ہے۔ وہ محض سننے والے نہیں بلکہ "اچھا سننے والے” ہیں، اور یہ وصف ہر کسی میں نہیں ہوتا۔ مجھے ان کی یہی ادا اس لیے بھی متاثر کرتی ہے کہ میں خود نسبتاً زیادہ گفتگو کرنے والا آدمی ہوں، اور وہ خاموشی کو وقار کے ساتھ برتنے کا ہنر رکھتے ہیں۔

    پروفیسر عاصم بخاری — ایک تاثراتی خاکہ

    پروفیسر عاصم بخاری ایک ایسے صاحبِ قلم ہیں جن کے پاس بیس سے زائد کتب کا سرمایہ ہے، مگر ان کے انداز میں اظہار سے زیادہ احتیاط اور شائستگی نمایاں ہے۔ وہ کم بولتے ہیں مگر جب بولتے ہیں تو نپا تلا اور بامعنی کلام کرتے ہیں۔ ان کی خاموشی بھی ایک معنی خیز اظہار بن جاتی ہے۔

    وہ استاد بھی ہیں، شاعر بھی اور ادیب بھی۔ فردیات اور قطعات میں بھی ان کی ایک الگ شناخت موجود ہے۔
    ان کی نظم و نثر میں اختصار ، ہئیتی و مضوعاتی جدت اور اصنافی تنوع ان کی پہچان کا خاص حوالہ ہے۔
    ہماری ملاقات سے قبل بھی ان کی بعض تحریریں افسانچے کے ذیل میں سامنے آ چکی تھیں، مگر اس صنف میں ان کی باقاعدہ شناخت بعد میں ابھری۔

    نظم و نثر دونوں پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ ہماری ملاقات کے بعد جب انہوں نے میرے افسانچے سنے تو ان کے اندر افسانچہ نگاری کی طرف ایک خاص دلچسپی پیدا ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے باقاعدگی سے لکھنا شروع کیا اور مختصر عرصے میں ان کی پہلی افسانچوں کی کتاب "اثاثہ” منظرِ عام پر آ گئی۔

    اگر وہ اس ادبی رجحان کی تبدیلی کا کریڈٹ مجھے دیتے ہیں تو یہ ان کا حسنِ ظن اور انکسار ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ ادب ہمیشہ داخلی تحریک سے جنم لیتا ہے، البتہ بعض ملاقاتیں اس تحریک کو ایک واضح سمت ضرور دے دیتی ہیں۔

    یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ انہوں نے اس سفر کو ادھورا نہیں چھوڑا۔ ان کی دوسری کتاب "وارث” اس تسلسل کا ثبوت ہے، جس کا مسودہ بھی سامنے آ چکا ہے۔ اس میں انہوں نے مختلف سماجی اور انسانی موضوعات پر افسانچے تحریر کیے ہیں۔

    ان کے افسانچوں کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اختصار کے باوجود زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ اردگرد کے حقیقی ماحول اور معاشرتی کرداروں سے اخذ شدہ ہیں۔ چونکہ وہ خود ایک ملازمت پیشہ فرد ہیں، اس لیے ان کے ہاں اسی طبقے کے مسائل، کردار اور رویے زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں۔

    ان کا قلم ان چہروں سے نقاب اٹھاتا ہے جن کے ظاہر و باطن میں تضاد پایا جاتا ہے۔ معاشرتی منافقت جب ان کی نظر میں آتی ہے تو ان کا قلم خود بخود حرکت میں آ جاتا ہے، اور وہ مختصر مگر اثر انگیز افسانچے تخلیق کرتے چلے جاتے ہیں۔

    گویا ان کے افسانچوں کا پہلا قاری بھی میں ہوں اور پہلا ناقد بھی۔ میں ہر تحریر پر دیانت داری کے ساتھ اپنی رائے دینے کی کوشش کرتا ہوں، کیونکہ ادبی رشتہ صرف تحسین نہیں بلکہ رہنمائی کا بھی متقاضی ہوتا ہے۔

    مجھے ابتدا میں ان سے یہ شکوہ رہا کہ وہ زیادہ تر بیانیہ انداز اختیار کرتے تھے، جس سے افسانچے کی شدت کم ہو جاتی تھی۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اور مسلسل مکالمے کے نتیجے میں ان کے اسلوب میں واضح بہتری آئی ہے، جو ان کی موجودہ تحریروں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

    افسانچہ ایک نہایت نازک، مشکل اور حساس صنفِ ادب ہے۔ اسے محض مختصر تحریر سمجھ لینا ایک عام غلط فہمی ہے۔ اس میں وحدتِ تاثر، برجستگی اور مؤثر اختتام بنیادی عناصر ہیں۔ اس کا اصل حسن کم لفظوں میں زیادہ معنویت پیدا کرنا ہے۔

    ان کے افسانچوں میں یہ خوبیاں نمایاں طور پر موجود ہیں۔ وہ مختصر دائرے میں ایک مکمل فکری جھٹکا پیدا کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔

    میں افسانچہ نگار کو ایک ماہر نشانہ باز کی طرح دیکھتا ہوں جو لمحوں میں ہدف کو درست نشانے پر لگاتا ہے۔ اگر نشانہ درست ہو تو اثر بھی دیرپا ہوتا ہے۔

    عاصم بخاری کے افسانچے بھی قاری کے ذہن میں ایک ہلکی سی چبھن، ایک سوال اور ایک فکری ارتعاش چھوڑ جاتے ہیں، اور یہی کسی بھی تخلیق کی کامیابی ہے۔

    مجھے امید ہے کہ وہ اسی تسلسل کے ساتھ اس صنف میں مزید آگے بڑھیں گے اور اپنی ادبی پہچان کو مزید مستحکم کریں گے۔

    اللہ کرے ان کا قلم اسی طرح نکھرتا رہے اور ان کی تحریر مزید حسن و معنویت سے مزین ہوتی جائے۔

  • ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ

    عالمی ریکارڈ و اعزاز یافتہ ماہرِ لسانیات ، محقق ، کالم نگار اور ادیب ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے ایک تفصیلی مصاحبہ 

    مصاحبہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر 

    سوال : کچھ تعلیم کے اسفار کا احوال کہاں کہاں سے حاصل کی اور تعلیم حاصل کرنے میں درپیش مشکلات کا ذکر کریں ۔ ؟

     جواب : میری ابتدائی تعلیم وادی چترال کے مقامی مساجد اور سرکاری تعلیمی اداروں یعنی ٹاٹ کے سکول سے ہوئی ۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے مختلف شہروں کراچی اور اسلام آباد کا رخ کیا۔، پہاڑی خطے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے تعلیم کے سفر میں کئی عملی مشکلات پیش آئیں ، جن میں طویل فاصلے، محدود وسائل اور جدید سہولیات کی کمی شامل تھیں ۔ مگر شوقِ علم نے ہمیشہ ان رکاوٹوں کو عبور کرنے کا حوصلہ دیا ۔

    سوال : آپ اپنی ابتدائی ادبی زندگی کے بارے میں بتائیں ۔؟

    جواب : ادبی زندگی کا آغاز کھوار زبان میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری سے ہوا ۔  شروع میں کھوار زبان میں جذبات کا اظہار کیا ، پھر اُردُو کی طرف آیا ۔ ابتدائی دور میں فطرت۔، معاشرت ، امن کی حمایت ، جنگ سے نفرت اور مقامی چترالی ثقافت میرے پسندیدہ موضوعات رہے ، جو بعد میں فکری اور تحقیقی جہت اختیار کر گئے ۔

    سوال : آپ نے کس کس زبان میں اشعار کہے ہیں ۔ ؟

    جواب  : میں نے کھوار اور اُردوُ اور کچھ حد تک انگریزی میں بھی شاعری کی ہے ۔ ہر زبان کے مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے اظہار کی کوشش کی ہے ۔ میری طنزیہ و مزاحیہ کتابوں میں گلدان رحمت اور گلدستہء رحمت شامل ہیں جوکہ کھوار اکیڈمی کے پلیٹ فارم سے 1996ء  میں شائع ہوئیں ۔ 

    سوال : قارئین کو بتائیں آپ کی شاعری کا نقطۂ نظر کیا ہے ۔ ؟

    جواب : میری شاعری کا بنیادی محور انسان ، امن ، محبت ، انسان کی شناخت اور اس کی تہذیبی جڑیں ہیں ۔ میں زبان کو صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی اور ثقافتی ورثہ سمجھتا ہوں ۔

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی سے مصاحبہ

    سوال : قاری کتاب سے دُور کیوں ہوتا جا رہا ہے ، اس پر اظہارِ خیال فرمائیں ۔ ؟

    جواب : دیکھئیے ڈیجیٹل دور میں قاری کی توجہ کتاب سے  بٹ گئی ہے ۔ مختصر اور فوری مواد نے گہرے مطالعے کی جگہ لے لی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کتاب کو نئی نسل کے لیے زیادہ پرکشش اور قابلِ رسائی بنائیں ۔

    سوال : آج کا ادب اور ادیب دونوں پر روشنی ڈالیں ۔ نے؟

    جواب : گوکہ آج کا جدید ادب موضوعاتی لحاظ سے وسیع ضرور ہے مگر کہیں کہیں فکری گہرائی کم نظر آتی ہے ۔ ادیب کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کرے ، نہ کہ صرف عکاسی تک محدود رہے ۔

    سوال : جدید ادب وقت کے تقاضے پورے کرنے میں کس مقام پر ہے ۔ ؟

    جواب  : جدید ادب نے نئے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھا ہے ، مگر اسے اپنی روایت سے جڑے رہنے کی ضرورت ہے ۔ توازن کے بغیر ترقی ادھوری رہتی ہے ۔

    سوال : آپ کے کالموں کی دھوم مچی ہوئی ہے ، یہ بتائیں گے کالم کی روح کیا ہے ۔؟

    جواب  : کالم کی روح سچائی ، مشاہدہ ، تحقیق ، سچ کا پرچار ، جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے پرہیز اور فکری دیانت ہے ۔ ایک اچھا کالم وہ ہوتا ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرے ۔

    سوال : کیا آپ نے ادبی کالم بھی لکھے ۔ ؟

    جواب : جی ہاں، میں نے ادبی کالم بھی لکھے ہیں جن میں مختلف ادبی رجحانات ، شخصیات اور تخلیقات پر گفتگو کی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ میں ظرف ظرافت کے لوگوں سے مزاحیہ کالم بھی لکھے ہیں ۔ 

    سوال : چترال میں اُردو ادب کی کیا صورتِ حال ہے ۔ ؟

    جواب : چترال میں اُردو  ادب ترقی کی راہ پر ہے ۔ نئی نسل اُردو میں لکھ رہی ہے ، مگر کھوار ، کالاشہ۔، یدغہ ، پالولہ ، انڈس کوہستانی اور مقامی زبانوں کا اثر بھی نمایاں ہے ۔

    سوال۔: چترال میں شاعری زیادہ ہو رہی ہے یا نثر ۔؟

    جواب : چترال میں شاعری کا رجحان زیادہ ہے ، خاص طور پر کھوار اور اُردوُ  میں ، تاہم نثر بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے ۔

    سوال۔: چترال میں کیا مشاعرے کا رواج ہے ۔ ؟

    جواب : جی ہاں ، اُردو اور کھوار دونوں زبانوں میں مشاعرے چترال کی ادبی روایت کا حصّہ ہیں اور باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں۔

    سوال :  چترال میں اُردو زبان و ادب کی کیا صورتِ حال ہے ۔؟

    جواب : اُردو یہاں ایک مضبوط رابطے کی زبان ہے ، مگر تخلیقی سطح پر اسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔

    سوال : چترال کے معروف شعرا و ادبا کون سے ہیں ۔؟

    جواب : چترال میں کئی اہم ادبی شخصیات ہیں جنہوں نے کھوار ، انگریزی اور اُردو ادب میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ ان میں سینئر اور نوجوان دونوں شامل ہیں۔

    سوال : چترالی ادب میں کس صنفِ شعر کا رواج اور چرچا ہے ۔؟

    جواب : غزل اور نظم دونوں مقبول ہیں ، مگر غزل کو زیادہ پذیرائی حاصل ہے ۔ اس کے ساتھ لوک شاعری بھی بہت مضبوط روایت رکھتی ہے ۔

    سوال : پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کے ادبی کام پر اظہارِ خیال فرمائیں ۔؟

    جواب : ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کا کام تحقیقی اور ادبی اعتبار سے نہایت اہم ہے ۔ وہ  ایک بہترین استاد کے ساتھ ساتھ ماہر اقبالیات بھی تھے انہوں نے ادب میں سنجیدگی اور معیار کو برقرار رکھا ہے ۔ میں نے ان کی کئی کتابوں کے لیے دیباچے لکھے ہیں ۔ 

    سوال : آپ نے اُردو میں کیا کھویا کیا پایا ۔ ؟

    جواب : اُردو نے مجھے وسیع قارئین اور فکری وسعت دی۔ کھویا شاید یہ کہ مقامی زبانوں کے لیے وقت کم ہو جاتا ہے ، مگر حاصل کہیں زیادہ کیا ہے ۔ میں نے اُردو زبان کے لیے ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹ ویر بھی بنایا ہے ۔

    سوال : آپ نے لسانیات اور ٹیکنالوجی کو ایک ساتھ کیسے جوڑا ۔؟

    جواب : یہ دراصل ضرورت سے پیدا ہونے والا عمل تھا ۔ میں نے محسوس کیا کہ ہماری مقامی زبانیں ڈیجیٹل دُنیا میں موجود ہی نہیں۔ اسی احساس نے مجھے مجبور کیا کہ ایسے آلات تیار کروں جن کے ذریعے لوگ اپنی مادری زبان میں لکھ سکیں۔

    سوال : چالیس زبانوں کے لیے کی بورڈ کی تیاری کا خیال کیسے آیا ۔ ؟

    جواب : یہ خیال ایک مشاہدے سے پیدا ہوا کہ ہر زبان کے لیے الگ الگ نظام بنانا مشکل ہے۔ میں نے کوشش کی کہ ایک ایسا متحدہ نظام بنایا جائے جو بیک وقت کئی زبانوں کو سہولت دے سکے ۔

    سوال: آپ کے اس کام کی تاریخی اہمیت کیا ہے ۔؟

    جواب : اگر ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو بہت سی زبانیں صرف اس لیے ختم ہو گئیں کہ وہ تحریری یا جدید ذرائع میں منتقل نہ ہو سکیں۔ میرا کام دراصل ان زبانوں کو ڈیجیٹل دور میں زندہ رکھنے کی ایک کوشش ہے ۔

    سوال : مادری زبان میں تعلیم کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں ۔ ؟

    جواب  : میری رائے میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہونی چاہیے ۔ بچہ جس زبان میں سوچتا ہے ، اسی زبان میں بہتر سیکھ سکتا ہے ۔

    سوال : کھوار اور اُردو وکیپیڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر آپ کی خدمات کو آپ کیسے دیکھتے ہیں ۔؟

    جواب  : یہ ایک اجتماعی علم کی خدمت ہے ۔ جب کوئی زبان وکیپیڈیا پر آتی ہے تو وہ عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کرتی ہے ۔

    سوال : آپ کی نظر میں مستقبل میں پاکستانی زبانوں کا کیا حال ہوگا ۔؟

    جواب : اگر ہم نے ان زبانوں کو تعلیم ، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے نہ جوڑا تو یہ کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ معدوم ہو جائیں گی ۔ لیکن اگر سنجیدہ کوشش جاری رہی تو ان کا مستقبل روشن ہے ۔

    سوال  :  نئے شعرا ادبا  کے لیے کوئی پیغام ۔؟ 

    جواب  :  میرا پیغام محبّت ہے جہاں تک پہنچے ،  نئے ادبا مطالعہ کو اپنا شعار بنائیں ۔  صبر کریں اور اپنی مادری زبان اور ثقافت سے جڑے رہیں ۔  جلدی شہرت کے بجائے پائیدار کام پر توجہ دیں ۔ 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ محض ایک شاعر یا محقق نہیں بلکہ زبان، ثقافت اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان ایک مضبوط سہارا ہیں ۔ ان کا کام نہ صرف ادبی دُنیا بلکہ قومی شناخت کے تحفظ میں بھی ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔

  • پروفیسر فیروز بخاری مرحوم

    پروفیسر فیروز بخاری مرحوم

    پروفیسر فیروز بخاری مرحوم

          خاکہ نگار۔       (عاصم بخاری میانوالی)

    اس دھرتی کے گورے چِٹے

    گبھرو عاصم سب کو بھاتے

     بخاری صاحب  کی شخصیت کے بارے خاکہ کا آغاز اپنے ہی ایک شعر سے کر رہا ہوں 

    وہی دھرتی

    جو  قد آور اور سرخ سفید وجیہہ جوانوں کی دھرتی میاں والی کہلاتی ہے۔ بخاری صاحب بھی اسی میاں والی سے ہی ہیں۔

     دراز قامت 

    دراز زلف ۔۔۔

     اور

     زلف ِ دراز کے سنوارنے کےلیے ہینڈ بیگ میں مخصوص کنگھا۔۔۔

    کاندھے پہ چادر

    میانوالی کے روایتی خوب صورت جوانوں کے نمائندہ اعلٰی  تعلیم وتہذیب یافتہ جوان

    خوش مزاج ۔ذہین ، لائق و خوش اخلاق خاندان ِ سادات ِ نورنگا میانوالی کے چشم و چراغ اور مرنجاں مرنج ، طبیعت ، اور شرافت و لیاقت  جن کی پہچان ۔سراپا عجز و انکسار ، درویش صفت ، صوفیانہ مزاج ، دنیا داری سے کوسوں دُور ، بامروت اور اتحاد ِ بین المسلمین کے علمبردار تھے۔

    پروفیسر فیروز بخاری مرحوم

    فارسی انگریزی و اردو ادب کا وسیع مطالعہ رکھتے تھے

    شعبہ اردو کے پروفیسر۔۔۔ اردو اور ادب ہی جن کااوڑھنا بچھونا۔۔۔ ہمہ خانہ آفتاب کے فرد

    ہمہ وقت جن کے  ہاتھ میں کتاب ہی دیکھی ، جہاں موقع ملا  مطالعہ میں مشغول پائے۔ احباب  ، عزیزان و شاگردان کو کتاب کی بینی و کتاب خوانی کی تلقین ہی نہیں وصیت کی حد تک تاکید کرتے۔

    مخصوص انداز میں سگریٹ کا کش لگانا۔۔۔ 

    شفیع والا بِیڑا (نسوار ) جسے روش دماغ کا نام دیا کرتےتھے۔لطیف حسِ مزاح کے مالک فیروز بخاری صاحب  محفلوں کی جان ہوتے علم و دانش کی گفت گو کے ساتھ ساتھ  چُٹکلے محفل کو زعفران بناتے ۔انبالہ مسلم کالج سرگودھا علمی و ادبی فضا میں دہلوی و لکھنوی انداز میں کلام ِ شاعر بزبان ِ شاعر۔۔۔۔

    عین عالم ِ شباب میں

    تپ ِ دق (ٹی۔ بی) کا مرض کیا لاحق ہوا

    ہمت و حوصلہ کی چٹان تھے بیماری کا تا دم ِ آخر مردانہ وار مقابلہ کیا۔پیارے کرنے والے انسان تھے۔

    مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

    اور

    23 دسمبر 2003ء میں بالآخر

    اس بیماریءدل نے۔۔۔۔ دل کا کام تمام کیا۔۔۔۔۔

       شاید  فیروز بخاری  صاحب کو واپسی کی جلدی تھی۔ کاتب ِ تقدیر نے کچھ ایسا ہی لکھا تھا۔ایک وسیع حلقہ ء احباب کو افسردہ چھوڑ گئے جو آج بھی ان کی یادوں کے سہارے اپنی ادبی محفلیں سجا رہا ہے۔اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔

  • ” تم جو چاہو کر سکتے ہو ” ایک اجمالی جائزہ

    ” تم جو چاہو کر سکتے ہو ” ایک اجمالی جائزہ

    ” تم جو چاہو کر سکتے ہو ” ایک اجمالی جائزہ

    ادب اطفال :” عاصم بخاری کا شعری مجموعہ” تم جو چاہو کر سکتے ہو ” ایک اجمالی جائزہ

    از۔۔۔۔
    (پروفیسر محمد ارشد حسان میانوالی)

    عاصم بخاری میانوالی کا ایک ایسا روشن حوالہ ہے جس کے ذکر کے بغیر میانوالی کی ادبی تاریخ کا کوئی بھی باب رقم نہیں ہو سکتا ۔ میانوالی میں فردیات کی پہلی کتاب کا خالق بھی وہ ہے جن کے تعداد تا دم تحریر ہذا تین ہو چکی ہے ۔میانوالی میں پہلی افسانچہ نگاری کی کتاب شائع کرانے کا سہرا بھی ان کے سر ہے۔ نسائی ادب کو دیکھیں تو ظلم عورت پر میانوالی کی واحد شعری تصنیف ہے جس میں تمام نظمیں عورت کے موضوع پر لکھی گئ ہیں۔ ماحولیاتی شاعری کے باب میں پاکستان میں دوسرا اور میانوالی میں پہلے شعری مجموعے کے خالق ہونے کا اعزاز بھی ان کو حاصل ہے۔ اور ادب اطفال کے حوالے سے ” تم جو چاہو کر سکتے ہو” پہلی شعری تخلیق ہے جو بچوں میں ترغیب و تحریک پیدا کرنے کے لیے ان کی پینسٹھ نظموں کا مجموعہ ہے ۔

    ” تم جو چاہو کر سکتے ہو ” ایک اجمالی جائزہ

    عاصم بخاری کے سر پر ہمیشہ کوئی نئی دھن سوار رہتی ہے اور ہر بار ہی وہ کوئی نئی سوغات اپنے پڑھنے والوں کو پیش کرتے رہتے ہیں۔ بچوں سے ان کی محبت کا عالم دیکھنے کے لائق ہے ۔ جن درسگاہوں میں انہوں نے پڑھایا ہے وہاں کے طلباء شاہد ہیں کہ وہ بچوں کو کتنا own کرتے تھے ۔ وہ فن ،مزاح اور بر محل اشعار کی پیشکش سے تعلیم و تعلم جیسے خشک کام کو فرحت بخش تجربہ بنا دیتے تھے۔ جو لوگ ان سے شناسا ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں ان کے طلباء ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔اپنے بچوں سے ان کی محبت و وارفتگی پر قاریہ اچھی بچی ہے اور ایک نظم مہوش بیٹی کے نام جیسی نظمیں شہادت دے رہی ہیں ۔ مہوش میری ڈائریکٹ سٹوڈنٹ ہے اور میں جانتا ہوں کہ عاصم صاحب کی تربیت اس کی شخصیت اور رویوں میں صاف جھلکتی ہے۔
    امام غزالی کی ایھا الولد ،میر تقی میر کی فیض میر، غالب کا قادر نامہ ، ڈپٹی نذیر احمد کا مراہ العروس ،حالی کا مجالس النساء ، اقبال کی جاوید کے نام وغیرہ جیسی تخلیقات والدین کی اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت کے لیے فکر مندی کو ظاہر کرتی ہیں۔
    "تم جو چاہو کر سکتے ہو” کی تخلیق کے ساتھ عاصم بخاری نے خود کو ادب اطفال لکھنے والے محمد حسین آزاد ، علامہ اقبال ،تلوک چند محروم،اسماعیل میرٹھی ، صوفی غلام تبسم ،حامد اللہ افسر جیسے بڑے ناموں میں شامل کر لیا ہے۔ ان کی نظمیں اخلاق ، حب الوطنی ،ایثار محنت ،جفاکشی اور علم وہنر کی اہمیت جیسے موضوعات کو سادہ اور دلپذیر انداز میں پیش کرتی ہیں۔ عاصم ہماری تہذیبی شناخت کو کھوجتے ہوئے نونہالان وطن کو اپنی اصل کو پہچاننے کا شعور عطا کرتے ہیں۔وہ بار بار ان نظموں میں اپنے مشاہیر ،ہیروز اور قومی و ملی تہواروں سے واقفیت دلانے کی سعی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان نظموں کو پڑھ کر یقیناً بچوں میں اخلاقی و نظریاتی اقدار پیدا ہونے کے وافر امکانات موجود ہیں۔
    عاصم بخاری چوں مرگ آید میں مذکور تقریباً تمام عوارض میں مبتلا ہونے کے باوجود چٹان کی طرح ہر میدان میں نہ صرف ڈٹے رہے بلکہ تقریباً ہر میدان میں اپنی کامرانی کے جھنڈے گاڑے۔ اور ان نظموں میں وہ یہی خصائص اپنی پاکستانی نسل میں پیدا کرنے کے خواہاں نظر آتے ہیں ۔ بچوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے انہوں نے نہایت آسان مگر دلنشین پیرائے اظہار کو اپنایا ہے۔ اکثر نظموں کا انداز بیان اتنا سہل مگر مترنم ہے کہ ان کو کورس کی شکل میں گایا جائے تو زیادہ موثر طریقے سے بچوں میں جذبہ عمل بیدار کیا جا سکتا ہے۔
    وقت پہ آئیں اچھے بچے سب کو بھائیں اچھے بچے محنت ہی کے بل بوتے پر نام کمائیں اچھے بچے
    جب سکول سے آتی ہے سب کو ہاتھ ملاتی ہے
    قاریہ اچھی بچی ہے
    شوق سے منہ یہ دھوتی ہے نہ لڑتی نہ روتی ہے
    قاریہ اچھی بچی ہے
    خود ہی ہاتھ بڑھاتی ہے ناخن یہ کٹواتی ہے
    قاریہ اچھی بچی ہے
    وقت پہ آنا جانا ہے
    ایسے کھانا کھانا ہے پوچھے کوئی رستہ تو سیدھا ہی بتلانا ہے
    پیار سے بہنوں بھائیوں کو ہر نکتہ سمجھانا ہے
    ان ساری نظموں میں میری سب سے پسندیدہ نظم مہوش بیٹی کے نام ہے۔ باپ بیٹی کے رشتے کے جذباتی اور نفیس ترین پہلو پر لکھی گئی اردو شاعری کی بہترین نظموں میں اس نظم کو شمار کیا جاسکتا ہے۔
    میرا نور نظر مہوش
    میرا لخت جگر مہوش مجھے گھر سونا لگتا ہے
    نہ ہو اس میں اگر مہوش مری نظریں یہ کہتی ہیں بتا تو ہے کدھر مہوش
    مری آہوں دعاؤں کا
    ہے تو ہی اک ثمر مہوش
    یہ تمام نظمیں نہایت آسان اور سبق آموز ہیں۔ ان کی اخلاقی اہمیت تو اپنی جگہ ہماری ثقافتی و تہذیبی تاریخ کے حوالے سے بھی ان میں کافی مواد موجود ہے ۔میری خواہش ہے کہ پرائمری کلاس کے بچوں کے لیے اس کتاب کو تمام تعلیمی اداروں میں شامل نصاب کیا جائے

  • تحقیق کی دنیا کا روشن نام

    تحقیق کی دنیا کا روشن نام

    تحقیق کی دنیا کا روشن نام


    از: ڈاکٹر صائمہ خان
    موجودہ معاشرہ جہاں ادب و کتاب سے بہ تدریج دور ہوتا جا رہا ہے وہیں کچھ ایسے باصلاحیت اور علم دوست انسان بھی موجود ہیں جن کی وابستگی اس زوال پذیر روایت کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ یہ امید کی کرن ہیں کہ مستقبل میں یہی افراد علم و ادب کی شمع کو روشن رکھنے کا فریضہ خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیتے رہیں گے۔ انہی روشن ناموں میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا ہے جو اب تحقیق و ادب کی دنیا میں ایک معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار آزاد کشمیر شعبۂ تعلیمِ کالجز میں بہ طور لیکچرر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی اعلا تعلیم نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے حاصل کی، جہاں سے ایم۔اے اور ایم۔فل کے بعد انھوں نے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان کا تحقیقی موضوع “اردو میں املا اور تلفظ کے مباحث: لسانی محققین کا تنقیدی و تقابلی مطالعہ” تھا۔یہ مقالہ اردو لسانیات کے ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو پر ایک وقیع اضافہ ہے۔
    علمی و ادبی خدمات کے میدان میں ڈاکٹر فگار نہایت متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج میرپورہ ، نیلم کے ادبی مجلے “بساط” کے مدیرِ اعلا اور گرین ایرا ہائی اسکول مظفرآباد کے مجلے “کاوش” کے اعزازی مدیرِ اعلا کی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ٹھیریاں مظفرآباد کے رسالے فن تراش کی ادارت بھی انہی کی ذمے داری ہے۔ضلع نیلم کی تاریخ کا پہلا کالج میگزین”بساط” ان ہی کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے جو ان کی ادبی بصیرت کا روشن ثبوت ہے۔
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق ادب کے اس قبیلے سے ہے جس کے لیے اردو زبان محض ایک ذریعۂ اظہار نہیں بلکہ ایک طرزِ حیات ہے۔ انھوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہےاور یہی وجہ ہے کہ ملک کے نام ور ادیب اور شعرا بھی ان کی کاوشوں کے معترف ہیں۔ اگر انھیں اردو کا سچا عاشق کہا جائے تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ وہ علم و ادب کا ایسا دریا ہیں جو تشنگانِ علم کو سیراب کر رہا ہے۔
    اگرچہ ڈاکٹر فگار بہ یک وقت شاعر، ادیب، کالم نگار، نقاد اور محقق ہیں مگر ان کی اصل پہچان ایک محقق کی حیثیت سے قائم ہوئی ہے۔ وہ تحقیق میں غیر معمولی احتیاط اور دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی بھی لفظ یا شعر کی تصدیق کے لیے مختلف مآخذ تک رسائی حاصل کرنا، ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور مستند نتائج تک پہنچنا ان کا خاصہ ہے۔ اگر کوئی مشتبہ شعر یا متن ان کی نظر سے گزر جائے تو وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتے جب تک اس کی حقیقت تک نہ پہنچ جائیں خواہ اس کے لیے انھیں طویل مسافت ہی کیوں نہ طے کرنی پڑے۔

    تحقیق کی دنیا کا روشن نام


    ان کی یہی تحقیق پسندی اور ادب دوستی انھیں اہلِ علم کے حلقوں میں ممتاز بناتی ہے۔سن کی تحقیقی خدمات پر پشاور یونی ورسٹی سے تحقیقی مقالہ "فرہاد احمد فگار بہ طور محقق” کے عنوان سے لکھا جا چکا ہے۔ انھوں نے بڑے نام ور ادبا اور شعرا سے فیض حاصل کیا اور اپنی علمی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو زبان کی اصلاح اور دفاع کا جذبہ بھی ہےجو ان کے تحقیقی موضوع سے بہ خوبی ظاہر ہوتا ہے۔
    تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر فگار ایک عمدہ شاعر بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں فکری گہرائی، سماجی شعور اور جذباتی سچائی نمایاں ہے۔ وہ ہر حال میں شعر کہنے کا ذوق رکھتے ہیں۔ شہدائے اسلام کے حوالے سے ان کا یہ شعر خاص طور پر مقبول ہے:
    شمعِ اسلام جس سے فروزاں ہوئی
    وہ لہو مصطفیٰ کے گھرانے کا ہے
    اسی طرح معاشرتی ناہمواریوں پر ان کی تنقیدی نظر بھی قابلِ داد ہے:
    مزدوروں کے نام پہ اب کے بھی
    کچھ لوگوں نے صرف سیاست کی
    اگرچہ ان کا شعری سفر ابھی جاری ہے، تاہم اس میں روشن امکانات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف علمی و ادبی حلقوں میں کیا جا رہا ہے۔
    تحقیق ایک بحرِ بے کراں ہے، جس میں اتر کر اس کی گہرائی تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایک سچا محقق وہی ہے جو اس سمندر کی تِہ تک جا کر نایاب موتیوں کو تلاش کرے اور انھیں اہلِ ادب کے سامنے پیش کرے۔ ڈاکٹر فرہاد احمد فگار اس کٹھن سفر کو جس عزم، محنت اور خلوص سے طے کر رہے ہیں وہ قابلِ تحسین ہے۔
    ان کی شائع شدہ تصانیف “احمد عطا اللہ کی غزل گوئی” اور “بزمِ فگار” ان کی تحقیقی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جب کہ ڈاکٹر افتخار مغل کی کتاب “آزاد کشمیر میں اردو شاعری” کو مرتب اور شائع کروانا بھی ان کا اہم کارنامہ ہے۔ ان کی شاعری میں تحقیق کا رنگ ملاحظہ ہو:
    تحقیق کس جگہ ہوئی اور کس جگہ نہیں
    اس باب میں بھی تھوڑی تحقیق ہو نہ جائے
    اسی طرح بیٹیوں سے محبت اور گھریلو فضا کی خوب صورت ترجمانی ان کے اس شعر میں جھلکتی ہے:
    اداسیوں سے اٹے ہوں گے سب در و دیوار
    جو آنگنوں میں ہمارے نہ بیٹیاں بولیں
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ایک ایسے تخلیق کار ہیں جو اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں عجز، انکساری اور سادگی نمایاں ہے، جو ان کے علمی وقار کو مزید جِلا بخشتی ہے۔
    بلاشبہ ڈاکٹر فرہاد احمد فگار تحقیق کی دنیا کا ایک روشن نام ہیں اور اردو زبان کی بقا و ترقی کی ایک مضبوط امید بھی۔

  • راہِ سلوک اور سالک محبوب

    راہِ سلوک اور سالک محبوب

    راہِ سلوک اور سالک محبوب

    میرے تبصرے کا عنوان کتاب کے مندرجات سے میل تو نہیں کھاتا لیکن یہ عنوان دینے کی ایک خاص وجہ ہے جو مصنف کی شخصیت سے متعلق ہے۔ اگر آپ مصنف سے نہیں بھی ملے تو بھی آپ کتاب کے مطالعے کے بعد جان جائیں گے کہ میں نے تبصرے کا یہ عنوان کیوں رکھا؟ برادرم سالک محبوب اعوان گہرے صوفیانہ مزاج کے انسان ہیں اور ان کی تحریریں بھی ان کے مزاج کے عین مطابق ہوتی ہیں اسی بناء پر میں نے اپنے تبصرے کو یہ عنوان دیا!

    عرض کچھ یوں ہے کہ سفر نامہ نگاری ایک ایسی ادبی صنف ہے جو ہر نوع کے قاری کے لیے قابلِ  قبول ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی دلچسپی کا عنصر رکھتی ہے اور اس صنف کو ادبی و غیر ادبی دونوں طرح کے ماحول یکساں قبول کرتے ہیں۔ اگر سفر نامہ نگار سالک محبوب اعوان جیسے کہنہ مشق اور محتاط لکھاری ہوں تو سفر نامہ کا الگ ہی لطف ہوتا ہے۔ میری خوش بختی کہ میں راہِ ادب کا ادنیٰ مسافر ہوں اور مجھے اس سفر میں برادرِ مکرم سالک محبوب جیسے ہم سفر میسر ہیں جو قدم قدم پر میری رہ نمائی کا سبب ہیں۔ حیرت ہے کہ موصوف نے زیر بحث کتاب پر تاثرات قلم بند کرنے کے لیے ناچیز کا بھی انتخاب کیا جسے ادب کا طالب علم کہنا بھی شاید مناسب نہیں خیر بہ موجب حکم کتاب ہذا پر میرے تاثرات بہ صورت تبصرہ  پیش خدمت ہیں۔ 

    راہِ سلوک اور سالک محبوب

    سالک صاحب کے ساتھ میرے تعلقات کا آغاز سال 2019 سے تب ہوا جب پروفیسر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کے ہم راہ وہ ہمارے گاؤں تشریف لائے۔ ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف میں عجز و انکسار اور شخصی مٹھاس ہے جو ان کے ملاقاتی کو ہمیشہ ان کے ساتھ جڑے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ خوبیاں ان کی تحریر میں بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ان کی ہر تحریر گہرے مطالعاتی تجزیے اور شعوری ارتقاء کی عکاس ہوتی ہے۔ وہ جب قلم سنبھالتے ہیں تو لفظوں میں اپنی شخصیت کی شیرینی سمو کر اس انداز سے نذرِ قارئین کرتے ہیں کہ قاری مضامین مکمل ہونے تک راہِ فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ آپ ان کا کوئی بھی مضمون اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ میرے بیان سے متفق ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ سفر نامے کی بات کی جائے تو جوں جوں آپ ان کی تحریر کے ساتھ سفر کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ آپ بہ نفسِ نفیس اس سفر میں شریکِ سفر ہیں یہ خوبی انہیں اس صنف ادب میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔ بنیادی طور پر وہ ماہر معاشیات ہیں اور اس مضمون پر ان کی پہلے سے دو کتب موجود ہیں جن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مضمون خشک سے خشک تر ہی کیوں نہ ہو جب وہ سالک بھائی کے قلم سے ہو کر قرطاس پر بکھرے گا تو وہ الگ ہی چاشنی لیے ہوئے ہو گا۔ کتاب ہذا میں سفر لاہور کی یادداشتیں بھی حصہ بنائی گئی ہیں جس میں احقر بھی موصوف کے ہم سفر رہا۔ ان مضامین میں جا بہ جا آپ مجھے بھی مصنف کے ساتھ ساتھ پائیں گے۔ سالک بھائی کے ساتھ سفر کا اپنا ہی لطف ہے جو آپ ان کے آنے والے مضامین میں بہ قدر جسہ وصول کر پائیں گے۔ ان کی تحاریر ادبی کسوٹی پر ہر زاویے سے پورا اترتی ہیں۔ آپ کے مضامین جہاں ادب کی چاشنی سے بھرپور ہیں وہیں اپنے اندر صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں جو مصنف کی تصنیفی صلاحیتوں کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ 

    آپ جوں جوں کتاب کے ساتھ سفر کریں گے تو اس کے مندرجات میرے تبصرے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے جائیں گے۔ 

    عتیق الرحمان اعوان 
    بانی رکن 
    "قلم قبیلہ” سراڑ 
    مظفرآباد

    08 جنوری 2026

    .

  • ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت

    ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت

    اردو ادب میں ایسا کون شخص ہو گا جو ڈاکٹر شفیق انجم کے نام سے واقف نہ ہو۔ شفیق انجم صاحب ایک استاد کی حیثیت سے جہاں شناخت رکھتے ہیں وہیں آپ محقق، مدون، نقاد،لغت نویس ، رپورتاژ نگاراور افسانہ نگار کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔ ناول نگاری میں بھی آپ کا "وجود ” اپنی پہچان رکھتا ہے۔ آپ کی تدوین کردہ کتب میں کلامِ طارق 2008ء میں نقش گر پبلشر راول پنڈی سے شائع ہوئی۔ کلامِ بشیر صرفی 2010ء میں پورب اکادمی کے زیر اہتمام چھپی۔ گلزارِ فقر اور سیرِ دریا الفتح پبلی کیشنز راول پنڈی نے 2011ء میں شائع کیں۔ انشائے اردو پورب اکادمی اسلام آباد نے 2015ء میں چھاپی ۔اسی طرح 2007ء میں اسلوب پبلشر اسلام آباد سے آپ کی تنقیدی کتاب جائزے منظرِ عام پر آئی۔ اردو افسانہ آپ کی تنقید کی دوسری کتاب تھی جو 2008ء میں پورب اکادمی کے زیرِ اہتمام سامنے آئی۔ یہ کتاب دراصل آپ کا پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے لکھا گیا مقالہ تھا۔ ڈاکٹر شفیق انجم کے افسانوی مجموعوں میں پہلا میں+میں 2008ء میں اسلوب پبلشر اسلام آباد سے شائع ہوا۔ دوسرا افسانوی مجموعہ لکھت لکھتی رہی کے نام سے 2011ء میں الفتح پبلی کیشنز نے شائع کیا۔ روشنی آواز دیتی ہے تیسرا افسانوی مجموعہ تھا جو 2019ء میں الفتح پبلی کیشنز اسلام آباد نے چھاپا۔ استاد محترم ڈاکٹر محمد شفیق انجم نے سوانحی کتب کے ضمن میں اپنے اساتذۂ کرام ڈاکٹر گوہر نوشاہی اور ڈاکٹر رشید امجد کے فن اور شخصیت پر دو کتب تصنیف کیں۔ ڈاکٹر گوہر نوشاہی: ایک مطالعہ نقش گر پبلشر راول پنڈی سے 2009ء میں منصۂ شہود پر آئی۔ ڈاکٹر رشید امجد اکادمی ادبیات آف پاکستان کے سلسلہ پاکستانی ادب کے معمار کے ڈاکٹر رشید امجد شخصیت اور فن کے نام سے 2010ء میں شائع ہوئی۔ ڈاکٹر مَہر عبد الحق (شخصیت وفن) 2020ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان سے طباعت ہوئی۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی تحقیق کے حوالے سے کتب میں اردو رسمیاتِ مقالہ نگاری 2011ء میں الفتح پبلی کیشنز راول پنڈی سے شائع ہوئی۔ تحقیق کے موضوع پر دوسری کتاب حاشیائی مقالات نامی پورب اکادمی اسلام آباد سے 2015ء میں سامنے آئی۔ قواعدِ تحقیق و تدوین کے نام سے تصنیف پورب اکادمی اسلام آباد سے 2015ء میں شائع ہوئی۔ اردو سیکھیے طلبہ کے لیے لکھی جانے والی تصنیف 2020ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی۔ استاد محترم کچھ عرصہ چین کے تعلیمی اداروں میں بھی طلبہ کی علمی پیاس بجھاتے رہے ۔چین میں قیام کے عرصے کو آپ نے ایک رپورتاژ سنکیانگ نامہ کی صورت 2018ء میں کتابی صورت میں قارئین کی نذر کیا۔ چین کی یادگار کے طور پر ایک لغت بھی ڈاکٹر شفیق انجم صاحب نے اردو چینی لغت کے نام سے مرتب کی جسے 2019ء میں ادارہ فروغِ قومی زبان نے شائع کیا۔ شفیق انجم صاحب نے اپنی نظمیہ کہانیوں کے پانچ مجموعے شائع کیے جن میں پہلا میں نہیں ہوں کے نام سے 2016ء میں ، دوسرا جلا وطن میں خود کلامی 2017ء میں اور سنکیانگ میں محبت 2018ء میں پورب اکادمی اسلام آباد سے شائع ہوئے۔ چوتھا مجموعہ موتیوں کی مالا 2021ء میں کتابی دنیا ،لاہور سے شائع ہوا۔

    ڈاکٹر شفیق انجم: ہمہ جہت شخصیت


    ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کا آخری نظمیہ مجموعہ خود کلام فروری 2024ء کتابی دنیا ،لاہور سے شائع ہوا۔ یہ مجموعہ 150صفحات کو محیط ہے جس کا انتساب بے چہرگی میں اک چہرہ بناتے خود کلام کے نام کیا گیا۔ اس مجموعے میں دس نظمیں ہیں۔ یہ نظمیہ کہانیاں معاشرتی، نفسیاتی اور فلسفیانہ مسائل پر گہری روشنی ڈالتی ہیں۔ قاری ان کے مطالعے کے بعد خود کو ایک الگ دنیا میں محسوس کرتا ہے۔شفیق انجم صاحب کی تجریدیت اور علامت نگاری کا استعمال کہانیوں کو نیا زاویہ فراہم کرتا ہے۔ روایتی کہانیوں سے ہٹ کر یہ ایک کام یاب تجربے کی حامل ہیں۔ان نظمیہ کہانیوں میں سلیس اور بلیغ زبان کا استعمال کیا گیا ہے جو تاثیر کو بڑھاتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں ان کہانیوں کا معیار تخلیق کار کی گہری فکری بصیرت ،نفسیاتی تجزیے اور ادبی مہارت کی غمازی کرتا ہے ۔

    farhad and shafiq
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار  اور ڈاکٹر شفیق انجم


    30 نومبر 2024ء کو جب میں اپنے کنبے کے ہم راہ استادِ گرامی کے دولت کدے پر علی بیگ آرائیاں ضلع بھمبر حاضر ہوا تو میرے شفیق استادِ محترم نے نہایت محبت سے یہ مجموعہ عنایت کیا۔ اس مجموعے پر انھوں نے کمال شفقت کا اظہار کرتے ہوئے مجھے میرے دفاع سے قبل ڈاکٹر لکھا جسے دیکھ کر یوں اطمینان ہوا کہ اب آخری معرکہ بھی سر ہو جائے گا کہ میرے استاد محترم نے تیقن سے لکھ دیا ہے۔ شفیق انجم صاحب کے حوالے سے بہت کچھ لکھنے کا سوچتا ہوں لیکن ان کی شخصیت اتنی وسیع ہے کہ میرا قلم اس حد کو چھو نہیں سکتا۔ گزشتہ دنوں ایک صاحب نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں ڈاکٹر افتخار مغل مرحوم کے بعد کوئی محقق نہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ ڈاکٹر افتخار مغل کے بنا آزاد کشمیر کا ادب مکمل نہیں ہو سکتا تاہم ان کی تحقیق سندی تھی جو ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اسناد کے لیے تھی۔ اگر آزاد کشمیر میں کوئی محقق ہے تو وہ ڈاکٹر شفیق انجم ہیں۔ تدوین ، تحقیق اور تنقید کے حوالے سے ان کی تصانیف کا اوپر مختصر تعارف بھی ہو چکا۔ شفیق انجم صاحب کا کام مختلف حوالوں سے ہے۔ یہ فہرست ابھی نامکمل ہے استادِ گرامی کئی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جو عن قریب ادب کے طلبہ اور شائقین کے ہاتھوں میں ہو گا۔ میں اپنی خوش نصیبی سمجھتا ہوں کہ ایم اے اردو سے پی ایچ ڈی اردو تک کا سفر شفیق انجم صاحب کی زیرِ سرپرستی مکمل ہوا۔ اللہ کریم میرے سبھی اساتذۂ کرام پر اپنا کرم فرمائے جنھوں نے مجھے لفظوں کی حرمت سکھائی۔
    آخر میں ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی ایک نظمیہ کہانی” چل بھئی شفیق انجم” ملاحظہ کریں۔

    چل بھئی شفیق انجم ،اٹھ جا
    ہمت کر
    رات بھر خراٹے بھرنے والے اٹھ چکے ہیں
    تو بھی اٹھ جا
    الارم تیسری بار بج چکا ہے
    یعنی آج بھی
    بہت پُھرتی دکھانا پڑے گی
    دوڑ بھاگ میں ناشتا کرنا پڑے گا
    جلدی جلدی نہانا
    بھاگم بھاگ شیو بنانا پڑے گی
    عجلت عجلت میں کپڑے بدل
    گاڑی میں کودنا پڑے گا
    اور حسبِ سابق
    آج بھی پہیوں کو پر لگانا پڑیں گے
    امید ہے
    مقررہ وقت پر
    تم اس دیوار تک پہنچ جاؤ گے
    جو کل آدھی سے زیادہ چاٹ آئے تھے
    ۔۔۔ اٹھ جا، شفیق انجم
    اس امید پر
    کہ کوئی تو دن ایسا آئے گا
    جب تم الارم لگائے بغیر سو جاؤ گے
    اور جب اٹھو گے
    تو وقت رکا ہوا
    سویا سویا سا ملے گا
    دھیرے سے تم اسے جگاؤ گے
    اور ناشتے کی میز پر
    چائے کی چسکیوں کے ساتھ
    کوئی رومانوی سا منظر خلق ہو گا
    اور کم و بیش
    ایک صدی ٹھہرا رہے گا
    ۔۔۔ اٹھ جا شفیق انجم
    پچھلے چالیس سال کی طرح
    ۔۔۔۔ پھرتی دکھا
    دیوار چاٹنے کو چل
    ۔۔۔ آج کا مشکل دن بھی بھگتا!

    books
    ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کا قلمی سرمایہ
  • آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ

    آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ


    کسی بھی معاشرے کی فکری اور تہذیبی شناخت اس کے اہلِ قلم اور اہلِ علم سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ وہ شخصیات ہوتی ہیں جو خاموشی سے نسلوں کی تربیت کرتی ہیں،زبان کو وقار بخشتی ہیں اور ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ شعور اور ذمہ داری کا عمل بناتی ہیں۔ استاذاور شاگرد کا رشتہ بھی اسی تہذیبی تسلسل کی ایک مضبوط کڑی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ محض تعلیمی تعلق نہیں رہتا بلکہ اخلاقی اور روحانی نسبت میں ڈھل جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کی ادبی روایت میں ایسی ہی نسبتوں نے ادب کو دوام اور گہرائی عطا کی ہے۔
    پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے علم و ادب کو پوری دیانت اور وقار کے ساتھ برتا۔ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں ان کا مقام نمایاں اور مسلم ہے۔ ان کا تخلیقی اسلوب سادگی، معنویت اور داخلی کرب کا حسین امتزاج ہے۔ ان کا شعری مجموعہ "کہے بغیر” محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک حساس ذہن کی فکری واردات ہے جہاں خاموشیوں میں بھی معنی بولتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کی تدریس کے میدان میں ان کی خدمات نہایت اہم اور دیرپا ہیں۔ انھوں نے درس و تدریس کو رسمی فریضہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ مشن کے طور پر انجام دیا۔
    میری ذاتی زندگی میں پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا کردار ایک استاذ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں انھیں اپنا محسن اور مربی مانتا ہوں۔ میں نے ان سے نصابی اسباق نہیں سیکھے مگر ادب سے محبت، لفظ کی حرمت، تحقیق کی دیانت اور شاگرد نوازی کا سلیقہ سیکھا۔ ایک اچھا استاذوہی ہوتا ہے جو شاگرد کے اندر چھپی صلاحیت کو پہچان لے اور اسے اعتماد عطا کرے پروفیسر صاحب اس وصف کا عملی نمونہ ہیں۔

    آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ


    مجھے آج بھی یکم اکتوبر 2019ء کا وہ دن پوری شدت سے یاد ہے جب پبلک سروس کمیشن میں لیکچرر منتخب ہونے پر سب سے پہلے پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب اپنی اہلیہ کے ہم راہ مٹھائی اور ایک خوب صورت تحفہ لے کر میرے غریب خانےپر تشریف لائے۔ اس موقعےپر ان کے کہے ہوئے الفاظ میرے لیے ہمیشہ کا سرمایہ بن گئے:
    "مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ آج میں نے ایک مرتبہ پھر پی ایس سی کا امتحان پاس کر لیا ہے۔”
    یہ جملہ دراصل ایک استاذ اور دوست کی اس بے لوث خوشی کا اظہار تھا جو دوستوں کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔
    ایسی ہی شخصیات کسی خطے کا اصل سرمایہ ہوتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی ادبی شناخت، اس کی فکری روایت اور اس کی علمی آبرو ایسے ہی اساتذہ اور اہلِ قلم کے دم سے قائم ہے۔ پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کی علمی، تدریسی اور تخلیقی خدمات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ سنجیدہ ادب آج بھی زندہ ہے اور اثر رکھتا ہے۔
    آج مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی اور سرشاری ہوئی کہ پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا ایم فل کی سندی تحقیق کے لیے تحریر کردہ مقالہ ایک معتبر اور بڑے ادارے مجلسِ ترقیٔ ادب کے زیرِ اہتمام شائع ہو چکا ہے۔ جس وقت یہ مقالہ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں جمع کروایا گیا تھااسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ موضوع اور معیار دونوں حوالوں سے ایک غیر معمولی اور جان دار علمی کام ہے۔ اس کتاب کی اشاعت نہ صرف پروفیسر صاحب کے علمی مقام کا اعتراف ہے بلکہ اردو کے ادبی اثاثے میں ایک قیمتی اضافہ بھی ہے۔
    اللہ کریم میرے اس محسن کو سلامت رکھے، ان کے علم و قلم کو دوام عطا فرمائے اور وہ اسی طرح ادب کی بے لوث خدمت کرتے رہیں۔ ہم جیسے شاگردوں کے لیے یہ موقع محض مبارک باد کا نہیں بلکہ فخر، شکر اور عقیدت کا لمحہ ہے۔