Tag: ادب

  • بہرائچ کے پہلے اردو شاعر: مولانا شاہ نعیم اللہ علوی بہرائچیؒ

    بہرائچ کے پہلے اردو شاعر: مولانا شاہ نعیم اللہ علوی بہرائچیؒ

    بہرائچ کے پہلے اردو شاعر: مولانا شاہ نعیم اللہ علوی بہرائچیؒ


    جنید احمد نور ،بہرائچ
    9648176721
    "سرزمینِ سید سالار مسعود غازیؒ، یعنی بہرائچ، قدیم زمانے سے ہی علم و ادب کا گہوارہ رہی ہے اور آج بھی اس کا ایک اہم مقام علمی دنیا میں ۔ تاریخ میں سرزمین بہرائچ کی اہمیت مشہور و معروف شاعر ڈاکٹر سعیدؔ عارفی صاحب مرحوم کے ان الفاظوں سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ بہرائچ کی تاریخ میں بھی ایسے عہد اور ادوار کی کمی نہیں ہے جنہیں ہم تاریخ کا ذریں عہد کہہ سکتے ہیں اور غالباً یہی وجہ ہے کہ موجودہ عہد میں تما م تر عصری صنعتی ترقی سے دور اور محروم ہونے کے باوجود جب ہم اس کی گزشتہ زندگی کی تاریخ پر نگاہ ڈالتےہیں تو اس کا شمار ہندوستان کے ان اہم شہروں میں کرنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔‘‘
    علم وادب سے بہرائچ کا رشتہ قدیم دور سے رہاہے ،اس بارے میں ڈاکٹر سعید عارفی ان الفاظوں میں رقم کرتے ہیں کہ ’’علمی اور ادبی اعتبار سے بہرائچ کو ہر عہد میں فوقیت حاصل رہی ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہیون سانگ، فاہیان اور ابن بطوطہ جیسے عظیم سیاحوں نے اپنے سفرناموں میں اس کا ذکر کیا ہے۔ بے شمار تاریخی کتب میں اس کی اہمیت کا ذکرموجود ہے۔ سنسکرت کے عظیم شاعر اور بالمیکی رامائن کے خالق رشی بالمیکی کے مولد ہونے کا شرف بہرائچ کے ٹنڈوا گاؤں کو حاصل ہے۔مہا کوی تلسی داس نے بہرائچ کی عظمت و اہمیت کااعتراف اپنی دوہا ولی میں بھی کیاہے ۔‘‘
    اسی طرح بہرائچ میں فارسی ادب کی تاریخ بھی بہت قدیم ہے اس کا پہلا ثبوت حضرت سید افضل الدین ابو جعفر امیرماہ بہرائچیؒ کی مشہورزمانہ تصینف ’’المطلوب فی عشق المحبوب‘ ‘ جو قلمی شکل میں آج ہندوستان اور پاکستان میں موجود ہیں (الحمد للہ ایک نقل راقم الحروف کے پاس بھی محفوظ ہیں واحد ہندوستانی نسخے کی )۔ حضرت امیرماہ بہرائچی کے صاحب زادےجو اپنے میں کمالات میں ممتاز تھے کہ اور کسی زمانہ میں سید امیر ماہ بیمار پڑے تو بیٹے نے والد کی زندگی سے ناامید ہو کر بیماری سلب کر کے اپنے اوپر اوڑھ لی اور ’’جان در مشاہدۂ حق تسلیم کرد‘‘ اور سید امیر ماہ صاحب کو تو صحت ہو گئی ،مگر غمگین باپ کو لڑکے کی استعداد باطنی کا احساس ہوا اور فکر مند رہنے لگے، اتفاقاً ایک دن ان کی قبر پر گیے تو دیکھا کہ ایک مجاور کی ہتھیلی پر ’’بخط سبز‘‘ یہ شعر لکھا تھا، جب تک وہ زندہ رہا مٹا نہیں؎
    بگو اے مرغ زیرک حمد مولیٰ
    کہ جانِ تاج مہ بر عرش بروند
    اسی طرح فارسی کی مشہور درسی کتاب مامقیماں کے مصنف کی جائے مدفن بھی یہی شہر بہرائچ ہے۔ ضلع بہرائچ میں اردو ادب کی تاریخ تقریباً ۳۰۰ سال قدیم ہے۔راقم کی تحقیق کے مطابق، اردو ادب کے اہم ستون حضرت مرزا مظہرؔ جان جاناں شہید ؒ کے شاگرد رشید و خلیفہ خاص ،پہلے سوانح نگار حضرت مولانا شاہ نعیم اللہ صاحب بہرائچیؒ کوبہرائچ کا پہلا اردو شاعر ہونے کا شرف حاصل ہے اور اس سے پہلے بہرائچ کے کسی شاعر کا کوئی کلام یا شعر دست اردو زبان میں دست یا ب نہیں۔شاہ نعیم اللہ بہرائچی کا کلام آج بھی آپ کی خانقاہ نعیمیہ کے کتب خانہ میں محفوظ ہیں۔
    سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ مظہریہ کی ایک عظیم خانقاہ ’’خانقاہ نعیمیہ بہرائچ‘‘ کے بانی حضرت مولانا شاہ نعیم اللہؔ بہرائچی کی پیدائش ۱۱۵۳ھ مطابق ۱۷۴۰ء میں ہوئی۔ آپ کی جائے پیدائش موضع بھدوانی قصبہ فخرپورضلع بہرائچ ہے۔آپ کے والد کا نام غلام قطب الدین تھا۔
    حضرت مولانا شاہ نعیم اللہؒ صاحب علوی سادات تھے۔آپ کے مورثِ اعلی خواجہ عماد خلجی ہمراہ سید سالار مسعود غازیؒ کے ہندستان آئے تھے اور بارہ بنکی کے قصبہ کنتور میں جنگ میں جام شہادت نوش فرمایا تھا۔ شاہ نعیم اللہ نے سات سال کی عمر میں شیخ محمد روشن بہرائچی کی خدمت رسم بسم اللہ ادا کی۔ رسم بسم اللہ کے ایک سال ہی میں آپ نے قرآن مجید ختم فرما کر درسیہ فارسیہ کی طرف توجہ فرمائی اور شہر بہرائچ کے اساتذہ سے مختصرات کی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد علوم عربیہ کی تحصیل کا شوق ہوا اور اس کو حاصل کرنے کے لیے لکھنؤ ،شاہ جہاں پور ،بریلی ،مرادآباد ،دہلی کے متعدد سفر کیا اور علوم ظاہری حاصل کیا۔علوم ظاہری سے فراغت کے بعد علم باطن حاصل کرنے کا شوق ہوا او ر ۱۱۸۶ھ لکھنؤ میں مرزا مظہر جان جاناںؒ کے خلیفہ محمد جمیل نقشبندیؒ سے فیض باطنی حاصل کیا اور طر یقئہ نقشبندیہ مجدیہ کے اذکار و اشغال سیکھے۔بعد میں ۱۱۸۹ ھ مطابق۱۷۷۵ء میں دہلی گیے اور مرزا مظہر جان جاناں کی خدمت میں پہنچ کر بیعت ہونے کا شرف حاصل کیا اور چار سال تک مرزا مظہر جان جاناں کی خدمت میں رہے اور خرقئہ خلافت و طر یقئہ نقشبندیہ،قادریہ چشتیہ اور سہروردیہ کی خلافت اور اجازت حاصل کر کے ۱۱۳۹ھ مطابق ۱۷۷۹ء میں بہرائچ واپس آئے۔ حضرت مرزا مظہر جان جاناں آپ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ’’ تمہاری (شاہ نعیم اللہ بہرائچی) چار سال کی صحبت دوسروں کی بارہ سال کی صحبت کے برابر ہے۔ ‘‘شاہ نعیم اللہ بہرائچی کو شاہ غلام علی دہلویؒ نے جامع معقول و منقول کہا ہے۔
    مولانامولوی محمد حسن نقشبندی مجددی لکھتے ہیں کہ حضرت مولوی نعیم اللہ ساکن بہرائچ حضرت مرزا صاحب قدس سرہ خلفاء نام دار میں سے ہیں۔آپ جامع معقول و منقول تھے۔چار سال تک حضرت مرزا صاحب کی صحبت میں رہے۔حضرت مرزا صاحب فرمایا کرتے تھے کہ تمہاری چار سال کی صحبت اور وں کی بارہ سال کی صحبت کے برابر ہے۔حضرت مرزا صاحب قبلہ آپ کے حال پر نہایت عنایت فرماتے اور فرماتے کہ تمہارے نور نسبت اور فیض صحبت سے عالم منور ہوگا۔پس ایسا ہی ہوا۔حضرت نے بروقت عطاء اجازت و خلافت ہر سہ جلد مکتوبات قدسی آیات حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ بھی ان کو عطا فرمائی تھیں۔اور فرمایا کہ دولت یعنی مکتوبات شریف جو میں نے تم کو دئیے کسی مرید کو نہیں دئیے۔فرمایا کہ مشائخ طریقت جو اپنے مریدوں کو خلعت خلافت دیا کرتے ہیں۔جو میں نے تم کو دیا ہے۔یہ سب میں بہتر ہے۔اس نعمت کا شکر اور قدر کرنا۔یہ تمہارے واسطے ظاہر اور باطن کا ایک خزانہ ہے۔اور اگر طالب جمع ہوا کریں۔اور فرصت ہواکرے تو بعد عصر کے سب کے سامنے پڑھا کرنا اور بجائے مرشد اور مربی کے ہے۔آپ اخلاقِ حسنہ سے آراستہ تھے، اور صبر و توکل کے ساتھ اپنے اوقات یادِ خدا میں بسر کرتے تھے۔

    بہرائچ کے پہلے اردو شاعر: مولانا شاہ نعیم اللہ علوی بہرائچیؒ
    مزار مولانا شاہ نعیم اللہ علوی بہرائچیؒ


    آخر میں مولانا مولوی محمد حسن نقشبندی مجددی نے لکھا ہے کہ راقم الحروف نے آپ کے مزار کی زیارت کی ہے۔
    سید ظفر احسن بہرائچی آپ کے خلفا ء کے بارے میں لکھتے ہیں : شاہ نعیم اللہ بہرائچی سلسلسہ نقشبندیہ مجددیہ مظہریہ کے مشہور بزرگ ہیں۔آپ کے خلفاء کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ شاہ مراداللہ فاروقی تھانیسری لکھنویؒ(مزار مراد علی لین ،اکھاڑہ کریم اللہ شاہ متصل رائل ہوٹل (باپو بھون) لکھنؤ میں ہے۔ مولوی محمد حسن کٹکیؒ(مزار مولوی محلہ پوسٹ مہاسنگھ پور ضلع کٹک صوبہ اڑیسہ) ، مولوی کرامت اللہؒ (مزار درگاہ پیر جلیل لکھنؤ)، مولوی نور محمد ؒ(مزار درگاہ پیر جلیل لکھنؤ)، حاجی سید احمد علی ؒ(مزار مسجد ٹاٹ شاہ چوک فیض آباد ادوھ) ، سید محمد دوستؒ (مزار مسجد ٹاٹ شاہ چوک فیض آباد ادوھ) ، میرمحمد ماہ ؒ (حضرت میر محمد ماہؒ خاندانِ حضرت حضرت امیر ماہ بہرائچیؒ کے ایک فرد تھے۔آپ کے خاندان کے بعض افراد زمین داری بچانے کے لیے مذہب امامیہ کے پیروگار ہو گیے تھے۔) وغیرہ۔
    شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ نے مرزا مظہر جان جاناں کے حالات پر دو کتابیں لکھی ہیں۔بشارات مظہریہ اور معمولات مظہریہ ان میں مرزا مظہر جان جاناں کے خاندانی اور ذاتی حالات اور مشغلوں کے علاوہ مرزا مظہر جان جاناں کے معمولات کا تفصیل سے ذکر ہے۔ بشارات مظہریہ قلمی اور ضخیم ہے اور ۲۱۰؍ اوراق پر مشتمل ہے اس کا ایک نسخہ انڈیا آفس میوزیم (لندن) میں محفوظ ہے ،جب کہ دو نسخہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں محفوظ ہیں۔ معمولات مظہریہ چھپ چکی ہے۔شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ نے مرزا مظہر جان جاناں صاحب کے مکتوبات کا ایک انتخاب بھی رقعات کرامت سعات کے نام سے تیار کیا تھا جو شائع ہو چکا ہے۔ سید ظفر احسن بہرائچی اپنی کتاب آثار حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ میں صفحہ ۳۲۲ پر لکھتے ہیں کہ شاہ نعیم اللہ بہرائچی نے کئی کتابیں تالیف کی جو اس طرح ہے۔
    (۱)رسالہ ادعیہ ماثورہ(عربی/ فارسی)(۲)بشارات مظہریہ (نسخہ انڈیا آفس میوزیم (لندن) میں محفوظ)(۳) مثنوی در مدح حضرت مظہرؒ و خلفائے ایشاں(اردو غیر مطبوعہ)(۴)معمولات مظہریہ (مطبوعہ)معمولات مظہریہ (۵)مثنوی درمدح سلاسل طریقئہ نقشبندیہ مجددیہ(اردوغیر مطبوعہ)(۶)رسالہ دراحوال حضرت مرزا مظہر(۷)متفرق اشعار بہ زبان اردو و فارسی(۸)مکتوبات مرزامظہرجانِ جاناں(۹)شرح سفرالسعادت (۱۰)رقعات مرزا مظہر حصہ اول (مطبوعہ)(۱۱)حاشیہ رسالہ میر زاہد (۱۲)رقعات کرامت ساعت حصہ اول(مطبوعہ)(۱۳)حاشیہ رسالہ ملاجلال (۱۴) خودنوشت سوانح حیات(احوال نعیم اللہ بہرائچی) (غیر مطبوعہ)(۱۵)خلاصئہ وصیت ہائے خاصہ از کلمات اکابر ثلثہ (۱۶) مجموعئہ مکاتیب قاضی ثناء اللہ پان یپتی(مطبوعہ)(۱۷)خلاصئہ بیاض حضرت حاجی محمدافضل محدث سیالکوٹی ( عربی/ فارسی) (۱۸)رسالہ انفاس الاکابر (در خصائص طریقئہ نقشبندیہ) (مطبوعہ(۱۹)خطبات جمعہ (عربی) (۲۰)رسالہ انوراالضمائر(در تحیقیق درویشی ومعنی قیومیت (مطبوعہ) (۲۱) وصیت نامہ (۲۲)رسالہ یقول الحق (در رد اعتراضات شیخ عبد الحق محدث دہلوی بر کلام حضرت مجدد)(۲۳)مکاتیب شریفہ(۲۴)رسالہ سلسلتہ الذہب (در سلوک طر یقئہ نقشبندیہ مجددیہ) (۲۵)دیباچہ(عربی) بر کتاب شیخ محمد عابد سنامی(۲۶)رسالہ المعصومہ
    پروفیسر محمد اقبال مجددی نے آپ کی تصنیف کے یہ نام لکھے ہیں (۱)بشارات مظہریہ(فارسی نثر)،(۲)معمولات مظہریہ (فارسی نثر)(۳)انفاس الاکابر (فارسی نثر)(۴)انوار الضمائر،(۵)رسالہ شمسیہ مظہریہ(۶)رقعات کرامات سعادت مرزا مظہر(فارسی نثر) (۷) رسالہ در بیان نسبِ خود۔(۶۲)
    یہاں پر آپ کی تصنیف کردہ کتابوں کے بارے میں اختلاف ہے۔بہ قول پروفیسر اقبال مجددی کے شاہ نعیم اللہ بہرائچی ؒکی صرف سات (7) کتابیں ہے۔جب کہ خانقاہ شاہ نعیم اللہ بہرائچی ؒکے سجادہ نشین حضرت سید ظفر احسن بہرائچی نے اپنی تصنیف میں صفحہ ۳۲۳ پر شاہ نعیم اللہ صاحب کی تصانیف کی تعداد ۲۶ لکھی ہے۔جن میں سے کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔(واللہ اعلم)۔
    مشہور شاعر اور درگاہ شاہ مراد اللہ صاحب فاروقیؒ تھانیسری ثم لکھنوی کے نگراں مرحوم بشیر ؔؔفاروقی لکھنوی ’گلزارِ مراد‘صفحہ ۸ پر آپ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
    ’شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ کے دست مبارکہ کا تحریر کردہ قرآن مجید بھوپال میں حضرت مولانا منظور احمد خاں صاحب جو حضرت مولانا شاہ فضل احمد رائے پوری کے عزیز ہیں کے پاس موجود ہے۔
    شاہ نعیم اللہ صاحب کے استاذ مشہور صوفی بزرگ اور اردو ادب کے عظیم شاعر حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید ؒ تھے۔خانقاہ نعیمیہ کے سجادہ نشین حضرت سید ظفر احسن بہرائچی صاحب لکھتے ہیں:۔”خانقاہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں میں جہاں ایک طرف متصوّفانہ تعلیم وتربیت کا سلسلہ جاری تھا ،وہیں دوسری طرف شعر وشاعری کے بھی چرچے ہوا کرتے تھے۔اس شغل میں قاضی ثنا ء اللہ پانی پتی،ؒشاہ نعیم اللہ بہرائچی،شاہ غلام علی دہلوی ؒ،مولوی ثناء اللہ سنبھلیؒ،مولوی غلام یحیٰ بہاری ؒ،انعام اللہ خاں یقینؔ،خواجہ احسن اللہ بیانؔ، محمد فقیہ دردمندؔ، ہیبت اللہ خاں قلی حسرتؔپیش و پیش تھے ۔“
    حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ نے اپنے چار سالہ قیام دہلی کے دوران اپنے پیر ومرشد حضرت مرزا مظہر ؔؔجان جاناں سے تصوف کے رموزو نکات کے ساتھ شعر گوئی کی بھی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔آپ نے اردو میں متعدد مثنویاں کہیں ہیں۔حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اور حضرت شاہ محمد عاقل سبزپوش چشتی ؒ کے قادریہ شجرہ کو فارسی میں نظم کیا ہے۔
    ’’حضرت شاہ نعیم اللہ بہرائچی رحمتہ اللہ علیہ نے بہرائچ میں خانقاہ اور مسجد کے علاوہ حضرت مرز ا مظہر ؒ کے حکم سے لکھنؤ کے ایک محلہ بنگالی ٹولہ (بنگالی باغ) میں بھی ۱۱۹۴ھ میں ایک خانقاہ اور مسجد تعمیر فرمائی تھی۔اس بارے میں شاہ صاحب لکھتے ہیں:
    ’’فقیر نےآں حضرت کی شہادت کے سال میں بنگالی باغ میں ایک مکان(خانقاہ)۔۔۔ بنایا تھا۔جب اُس میں سکونت کا ارادہ کیا ،آں حضرت کو خواب میں دیکھا کہ فرماتے ہیں کوئی حاضر ہے؟ میں نے عرض کیا،میں حاضر ہوں،فرمایا ہمارے پاس آؤ جب میں آں حضرت کے سامنے پہنچا،اچانک لعاب دہن اپنے دونوں ہاتھوں میں پُر کرکے میرے سر پر اس طرح ڈالا کہ تمہارے اعضاء پر پہنچ گیاحتیٰ کہ اس کے اکثر قطرات زمین پر بکھر گیے اس کے بعد فرمایا کہ اپنے مکان پر جاؤ،میں نے اس کی تعبیر لوگوں میں اپنے فیض و ارشاد کی کثرت سے لی اور ایسا ہی ہوا۔

    خانقاہ نعیمیہ بہرائچ کا دروازہ
    خانقاہ نعیمیہ بہرائچ کا دروازہ


    دوسری مرتبہ اسی مکان میں خواب میں فرمایا کہ اس مکان کا نام ’’ مظہر آباد‘‘ رکھیں ،جب میں نے اس میں لفظ ’’ما‘‘ بڑھایا تو تاریخ نکلی ،لہذا یہ قطعہ تضمین کیا۔
    قطعۂ تاریخ مسجد و خانقاہ لکھنؤ
    از :شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ
    شُد منور مسجد و خانہ زنور
    چوں بحکم حق بنا کردیم ما
    چوں نمودم فکر تاریخش زغیب
    گفت ہاتف = مظہر آباد ما

    ۱۱۹۴ھ
    (بشارات مظہریہ ورق ۹۲ قلمی)
    نمونۂ کلام
    اپنے پیر و مرشدحضرت مرزا مظہر جان جاناں کی مدح میں میں لکھتے ہیں:
    در مدح مرشد
    حضرت مرزا مظہرؔ جان جاناں شہید دہلویؒ
    زہے مرشد پاک روشن ضمیر
    کہ کشف وکرامت میں ہے بے نظیر
    کیا مظہرشاہ علی جناب
    کہ نور ولایت کا ہے آفتاب
    کیا شمس دیں و حبیب الہٰ
    کہ عرش محبت کا مہر و ماہ
    پھر اس کو شہادت کا درجہ دیا
    بہ اعلیٰ مقام اس کو داخل کیا
    کمالات اس کے ہیں معارف اصول
    کہ ہے اتباع مجسم رسول
    کمال نبوت کے سارے مقام
    بہ نور اتباع کے کئے سب تمام
    اسی نور سے فیض ظاہر ہوا
    کمالات باطن میں مہرہوا
    عجب مظہر پیشوا جانِ جاں
    بہ ظاہر جو شمس وبہ باطن جو جاں
    وہ ہے میرزا جانِ جاناں ولی
    جگر گوشہ و نور چشم علیؓ
    عجب فیض و تاثیر صحبت میں ہے
    جو ہر سو وہاں غرق نسبت میں ہے
    تو کر شکر حق کا نعیم اللہؔ
    ملا مرشد پاک مظہر سا شاہ

    مثنوی(اردو ،قلمی)
    الہٰی مریدوں یہ سر پناہ
    امان و سلامت میں رکھ دیرگاہ
    میرا رہنما مظہر ذوالجلال
    خدا رکھ مجھے اس کے پاؤں میں ڈال
    ٭٭٭
    خدا آرزو دل کی حاصل کرے
    مجھے فیض اسکے میں شامل کرے
    کرے عاصیوں کی دعا مستجات
    کہ ہو اپنے مقصود سے کامیاب

    خانقاہ نعیمیہ بہرائچ کی تاریخی مولسری والی مسجد کا اندرونی منظر
    خانقاہ نعیمیہ بہرائچ کی تاریخی مولسری والی مسجد کا اندرونی منظر

    مولانا شاہ نعیم اللہ بہرائچی ؒ سلسلہ ٔ نقشبندیہ مجددیہ مظہریہ کے ممتاز بزرگوں میں سے ایک تھے ۔آپ کی خانقاہ نعیمیہ بہرائچ اور لکھنؤ واقع خانقاہ ہمیشہ آپ کے مریدین اور وابستگان سلسلہ سے منور رہی ۔ آپ کے خلفاء کی ایک کثیر تعداد ملک کے مختلف شہروں میں ایک وقت میں موجود تھی جن سے سلسلہ کی نشر واشاعت ہوئی ۔ اس بارے میں خانقاہ نعیمیہ بہرائچ کے موجودہ سجادہ نشین حضرت مولاناسید ظفر احسن بہرائچی لکھتے ہیں :
    ’’آپ کے خلفاء کی تعداد بہت کثیر تھی۔ جن کے نام معلوم ہو سکے وہ اس طرح ہیں:
    (۱)شاہ مراداللہ فاروقی تھانیسری لکھنویؒ(مزار مراد علی لین ،اکھاڑہ کریم اللہ شاہ متصل رائل ہوٹل (باپو بھون) لکھنؤ میں ہے۔) (۲)مولوی محمد حسن کٹکیؒ(مزار مولوی محلہ پوسٹ مہاسنگھ پور ضلع کٹک صوبہ اڑیسہ) (۳)مولوی کرامت اللہؒ (مزار درگاہ پیر جلیل لکھنؤ)(۴) مولوی نور محمد ؒ(مزار درگاہ پیر جلیل لکھنؤ)(۵) مولوی بہاءالدین(۶)حاجی سید احمد علی ؒ(مزار مسجد ٹاٹ شاہ چوک فیض آباد ادوھ) (۷)سید محمد دوستؒ (مزار مسجد ٹاٹ شاہ چوک فیض آباد ادوھ) (۸) میرمحمد ماہؒ (میر محمد ماہؒ خاندانِ حضرت امیر ماہ بہرائچی ؒ کے ایک ذی علم فرد تھے آپ نے لکھنؤ کے ایک محلہ مکنیا ٹولہ (قندھاری بازار کے پاس ایک محلہ تھا) میں ۱۱۸۸ھ(۱۷۷۴-۱۷۷۵ء)میں ایک مسجد تعمیر کرائی تھی جو مسجد محمد ماہ کے نام سے مشہور تھی۔اسی مسجد کے صحن میں شاہ محمد تقی کا مزار تھا۔)(۹) شاہ محمد تقی (۱۰) مولوی جان محمد (۱۱) مولوی خدا بخش (۱۲) میرمحمد امین (۱۳)سید حسن شاہ (۱۴)شیخ محمدیاسین (۱۵)شیخ محمد حیات(۱۶) شاہ محمد حسن (۱۷) اسد علی (۱۸) میر بندہ علی خاں
    شاہ نعیم اللہ بہرائچی ؒ کے کثیر تعداد میں شاگرد بھی تھے ۔ اس سلسلہ میں سید ظفر احسن بہرائچی بہ حوالہ مکتوب(قلمی) قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ لکھتے ہیں:
    ’’آل اولاد و شاگردان و مریدان مولوی نعیم اللہ صاحب ‘‘تلاش بسیار کے باوجود چند حضرات کے نام کا پتہ چل سکا جو یہ ہیں۔
    (۱)شاہ پیر غلام لکھنوی (۲) خواہرزادہ حضرت شاہ محمد عاقل سبزپوش چشتی کاکورویؒ(۲)شاہ بدر علی لکھنوی(۳) خواہرزادہ حضرت شاہ محمد عاقل سبز پوش چشتی کاکورویؒ (۳) مرزا عبداللہ (۴) عرف مرزا لالن )فرزند مرزا شاہ علی متنبیٰ اہلیہ حضرت مرزا مظہر جان جاناں ؒ (مکتوبات (قلمی) ص ۵۵)
    شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ کی وفات ۵؍ صفر ۱۲۱۸ھ مطابق۱۸۰۳ء میں ۶۵سال کی عمر میں بروز جمعہ نماز عصر کی تیسری رکعت کے سجدے میں ہوئی تھی۔ آپ کی تدفین جہاں ہوئی وہ آج احاطہ شاہ نعیم اللہ ؒ(گیند گھر میدان) کے نام سے پورے شہر میں مشہور ہے۔آپ کے مزار اور چہار دیواری کی تعمیر ۱۸۱۱ ء مطابق ۱۲۲۶ھ میں اسی نقشہ کے مطابق کرائی گئی جس نقشہ کے مطابق شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ نے مرزا مظہرجان جاناں کی مزار کی تعمیر کرائی تھی۔جو آج بھی اسی حالت میں موجود ہے۔ اسی احاطہ کے ایک حصہ میں محکمہ تعلیم کے دفاتر اور ایک سرکاری نسوا ں انٹر کالج بھی قائم ہیں۔گیند گھر میدان آپ کے ہی خاندان کی ملکیت تھی جسکا بڑا حصہ انگریزی حکومت نے قبضہ کر لیا تھا۔’’معارف‘‘ کے شمارہ فروری ۱۹۹۲ء میں معین احمد علوی ذیل قطعہ تاریخ وصال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ معمولات مظہریہ میں ذیل قطعہ تاریخ وفات درج ہے۔
    ’’معارف‘‘ کے شمارہ فروری ۱۹۹۲ء میں معین احمد علوی ذیل قطعہ تاریخ وصال نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ معمولات مظہریہ میں ذیل قطعہ تاریخ وفات درج ہے۔
    مولوی صاحب نعیم اللہ در وقت نماز
    سال تاریخش چوا نور بادل غمگین بجست
    بہر سجدہ نہا دہ کرو رحلت زین جہان
    ہاتفے گفتا زسرشد سوئے حق راہِ روان

    ۱۲۱۸ھ

    قدیم دور کی یادگار
    قدیم دور کی یادگار

    آثار مرزا مظہر جان جاناں شہید ؒمیں صفحہ۳۲۹ پر مصنف سید ظفر احسن بہرائچی نے دیگرقطعات کے ساتھ اس قطعہ کو اس طرح لکھا ہے۔
    مولوی صاحب نعیم اللہ در وقت نماز
    بہر سجدہ نہا دہ کرو رحلت زین جہاں
    سال تاریخش چوا نور بادل غمگین بجست
    ہاتفے گفتہ زسرشد سوئے راہِ حق رواں

    ۱۲۱۸ھ

    رحلت نمود مولوی نعیم اللہؒ وقتِ شام

    سر رابہ سجدئہ باری نہادہ بہ عشق تام

    کر دم سوال سالِ تواریخ راز غیب

    ہاتف بمن بگفت کہ باغِ نعیم دام

    ۱۲۱۸ھ

    سال ہجری خوب شد تاریخِ اْو
    صْبح فوت آمد نعیم اللہ شاہ

    ۱۲۱۸ھ + ۵۸۶ = ۱۸۰۴ء

    گفتہ ام من خادم درگہ ظفرؔ
    قطع تاریخ نعیم اللہ شاہ

    دیگر
    عالم دیں ،عارفِ نکتہ شناس
    گفتمش تاریخ از یثرب بروں
    بودہ ای حضرت نعیم اللہ شاہ
    رفت در جنت نعیم اللہ شاہ
    ۷۱۲ – ۱۹۳۰
    ۱۲۱۸ ھ
    مادئہ تاریخ :فروکش فردوس ِ بریں = ۱۲۱۸ھ
    کتابیات

    • امنگ میگزین ،روزنامہ سہارا لکھنؤ بہ تاریخ ۲۱؍ نومبر ۱۹۹۱ء
    • المطلوب فی عشق المحبوب(قلمی)
    • بشارات مظہریہ
      *خود نوشت سوانح حیات شاہ نعیم اللہ بہرائچیؒ (قلمی)
      *مقامات مظہری
      *کتاب مستطاب حالات حضرات مشائخ نقشبندیہ مجددیہ
      *آثار حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہیدؒ مطبوعہ ۲۰۱۵ء،
      *تذکرہ علماء و مشائخ پاکستان و ہند جلد دوم مطبوعہ ۲۰۱۵
      *بہرائچ ایک تاریخی شہر حصہ اول مطبوعہ ۲۰۱۹ء
      *بہرائچ ایک تاریخی شہر حصہ دوم (بہرائچ اردو ادب میں ) مطبوعہ ۲۰۲۱ء

  • دوسرا سالانہ بابا طالب جتوئی ایوارڈ پروگرام 2025

    دوسرا سالانہ بابا طالب جتوئی ایوارڈ پروگرام 2025

    دوسرا سالانہ بابا طالب جتوئی ایوارڈ پروگرام 2025

    ٭

    رپورتاژ

    ٭

    ڈاکٹر رحمت عزیزخان چترالی٭

    ادب کسی بھی قوم کی روح ہوتا ہے اور جب یہ ادب اُس قوم کی اپنی مادری زبان میں ہو تو یہ نہ صرف اُس قوم کو اپنی پہچان عطا کرتا ہے بلکہ اسے اپنی جڑوں سے بھی جوڑتا ہے۔ اس تناظر میں پنجابی ادبی تنظیم ”چاننی“ ساہیوال کی جانب سے منعقد ہونے والا دوسرا سالانہ بابا طالب جتوئی ایوارڈ پروگرام جوکہ 12 اپریل 2025 کو ساہیوال میں منعقد کیا گیا، ایک اہم ادبی، ثقافتی اور تہذیبی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

    اس ایوارڈ پروگرام میں ایک فکری وژن کی بھر پور انداز میں عکاسی کی گئی۔ یہ پروگرام صرف اعزازات تقسیم کرنے کی تقریب نہیں بلکہ پنجابی زبان کے ساتھ ساتھ اردو اور کھوار زبان، تہذیب، تاریخ اور ادبی ورثے کی بقا اور ترویج کا ایک بھرپور مظہر بھی تھا۔ شاکر جتوئی (صدر) اور اعظم سہیل ہارون (جنرل سیکرٹری) کی ادبی بصیرت، مسلسل محنت اور خلوص نے اس ایوارڈ پروگرام کو پنجابی ادب کے ساتھ ساتھ اردو اور کھوار زبان و ادب کی ایک معتبر روایت بنا دیا ہے۔

    اس سال پورے پاکستان سے جن شعرا، ادباء، محققین اور دانشوروں کو ایوارڈز کے لیے منتخب کیا گیا ہے، وہ نہ صرف تخلیقی حوالے سے اہم نام ہیں بلکہ فکری و تنقیدی میدان میں بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر محبوب سرمد کی کتاب "اکھراکھر حمداں” میں رب کی حمد و ثنا کو روحانی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر مشرف حسین انجم کی تخلیق "خوشبوئے ختم المرسلین” عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو کو لفظوں میں سمیٹتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز کنول کی تحقیقی کتاب "رومی اور اقبال میں فکری روابط” علم و فکر کے نئے زاویے پیش کرتی ہے۔ یہ فہرست صرف شاعری یا نثر پر مشتمل نہیں بلکہ اس میں تنقید، تحقیق، تاریخی شعور اور زبان کی خدمت کرنے والے سینئر و جونیئر اہلِ قلم کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجابی سیوک ایوارڈ بہت ہی اہم ہے جو کہ پنجابی ادب کے فروع کے لیے ادیبوں کی خدمات کا اعتراف بھی ہے۔ تنظیم ”چاننی“ کی جانب سے پیش کیے جانے والے پنجابی سیوک ایوارڈز اُن شخصیات کو دیے جا رہے ہیں جنہوں نے پنجابی زبان و ادب، تحقیق، تعلیم یا سماجی خدمات کے ذریعے نمایاں کام کیا ہے۔مثلاً: اشرف رجوکا، راکی ولسن، ڈاکٹر طارق محمود آکاش وغیرہ کو یہ ایوارڈ دیا گیا ۔ نذیر زاہد مرحوم کو بعد از وفات ایوارڈ دینا اُن کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے مترادف ہے۔ ایوارڈ میں خواتین کو بھی بھرپور انداز میں نمائندگی دی گئی ہے۔ اس فہرست میں خواتین اہلِ قلم جیسے کہ انیسہ بتول، نوشین نوشی، نمرہ شہزاد، حائقہ نور کی شمولیت اس امر کا ثبوت ہے کہ پنجابی ادب میں خواتین کی موجودگی دن بہ دن مستحکم ہو رہی ہے اور وہ نئے موضوعات اور منفرد انداز کے ساتھ اپنی ادبی شناخت بنا رہی ہیں۔

    دوسرا سالانہ بابا طالب جتوئی ایوارڈ پروگرام 2025

    ساہیوال، لاہور، فیصل آباد، جھنگ، چنیوٹ، سرگودھا، میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور چترال سمیت کئی اضلاع سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی شمولیت اس بات کی مظہر ہے کہ بابا طالب جتوئی ایوارڈ ایک علاقائی نہیں بلکہ قومی سطح پر پنجابی، اردو اور کھوار ادب کے فروغ کی تحریک بنتا جا رہا ہے۔

    بابا طالب جتوئی ایوارڈ صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک ایسی ادبی، فکری اور روحانی تحریک ہے جو پنجابی زبان اور ثقافت کو زندہ رکھنے اور اسے دنیا بھر میں متعارف کرانے کے لیے کوشاں ہے۔ ”چاننی“ جیسی ادبی تنظیمیں نہ صرف زبان و ادب کا تحفظ کر رہی ہیں بلکہ نئی نسل کے لیے ایک روشن مثال بھی قائم کر رہی ہیں۔ بابا طالب جتوئی ایوارڈ فقط ایک تقریب نہیں، بلکہ ایک عہد، ایک خواب اور ایک مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ میں ادبی تنظیم چاننی، تنظیم کے صدر و جنرل سیکریڑی شاکر جتوئی اور اعظم سہیل ہارون ایڈووکیٹ کو تقریب کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ جن جن خوش نصیب ادیبوں کو طالب جتوئی ایوارڈ سے نواز ا گیا ان کے نام یہ ہیں۔

    1۔ محبوب سرمد (فیصل آباد) اکھراکھر حمداں

    2۔ سید مبارک علی شمسی (حاصل پور) والشمس والضحی

    3۔ ڈاکٹر مشرف حسین انجم (سرگودھا) خوشبوٸےختم المرسلین

    4۔ محمد یعقوب فردوسی امیر بادشاہ ( بھلوال) جلوہ نور

    5۔ غلام محمد حامی(ساہیوال) پکھواں بھلیا اڈنا

    6۔ انجینٸر ظفر محی الدین (لاہور) سجن دے ہتھ بانہہ

    7۔ محمد طاہر نعیم (دیپالپور) پھلاں نال یارانے

    8۔ انتظار حسین ساقی (فیصل آباد) اساں پڑھیاں عشق نمازاں

    9۔ احسان فیصل کنجاہی (گجرات) مٹی کے رنگ

    10۔ اعظم سہیل ہارون (حاصل پور) ایک دریا ہے میری آنکھوں میں

    11۔ انیسہ بتول (گجرات) مقالہ نگاربکھری زلفیں

    12۔ پروفیسر طارق ارسلان طارق (ٹوبہ ٹیک سنگھ) پہلی صورت

    13۔ شوکت رفتہ ( تاندلیانوالہ) کھلے پھول حسرتوں کے

    14۔ ارشاد ڈیروی ( ڈیرہ غازی خان ) ڈاج لٹی ہوٸی شام 

    15۔ ملک غلام مرتضی موہانہ ( ڈیرہ غازی خان ) گنڑ جے کاغذ

    16۔ حاجی محمد اسلم جاوید ( گجرات ) تاریخ قاسم آباد

    17۔ ڈاکٹر محمد عبدالمالک ( گجرات) سخن دلنواز

    18۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز کنول ( سانگلہ ہل) رومی اور اقبال میں فکری روابط

    19۔ محمد خضر حیات خان ایڈووکیٹ (حاصل پور) جستجو عین کی

    20۔ احمد دین قادری (ساہیوال) پنجابی سیوک ایوارڈ 

    21۔ عابدعلیم سہو( بھکر) پنجابی سیوک ایوارڈ 

    22۔ اشرف رجوکا(چنیوٹ) پنجابی سیوک ایوارڈ 

    23۔ راٸے انس منیب (چنیوٹ) پنجابی سیوک ایوارڈ 

    24۔ ڈاکٹر طارق محمود آکاش (ڈسکہ) پنجابی سیوک ایوارڈ 

    25۔ راکی ولسن (ڈسکہ) پنجابی سیوک ایوارڈ 

    26۔ اشتیاق احمد نوشاہی سچیاری( گوجر خان) نوشاہیاں نے شاہ

    27۔ پروفیسر عاصم اسلم (ساہیوال) پنجابی سیوک ایوارڈ 

    28۔ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق عادل کاٹھیا(ساہیوال) پنجابی سیوک ایوارڈ 

    29۔ محمود محسن (پاکپتن) سانجھی پیڑ

    30۔ عبدالرحیم بھٹی (ہری پور) تاریخ راجپوت بھٹی

    31۔ علی محمد خاکی بلوچ (میانوالی) مَنیوا

    32۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب (فیصل آباد) اےاللہ میں حاضر آں

    33۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام دستگر (فیصل آباد ) حرفِ حقیقت

    34۔ شوکت مغل (گوجرہ) پیڑاں دے وچکار

    35۔ میاں فیروز قیصر بریت (لاہور) پنجابی سیوک ایوارڈ

    36۔ نذیر زاہد (مرحوم) ۔۔۔(قصور) پنجابی سیوک ایوارڈ

    37۔ صوفی محمد ضیاء شاہد (کمالیہ) پنجابی سیوک ایوارڈ

    38۔ محمد افضل خان وینس (خیر پور ٹامیوالی) پنجابی سیوک ایوارڈ

    39۔ علی تنہا (لیہ) لہو آنکھوں سے بہتا ہے

    40۔ محمد عثمان چشتی پھلروان (تاندلیانوالہ) ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی جہات

    41۔ نوشین حسین نوشی (گوجرانوالہ) آکھیا سی نا لوگ نٸیں چنگے

    42۔ حاٸقہ نور (لاہور) پنجابی سیوک ایوارڈ

    43۔ علی عمران سندھو (حویلی لکھا۔۔۔اوکاڑہ) پنجابی سیوک ایوارڈ

    44۔ منصب علی وٹو (پاکپتن) پنجابی سیوک ایوارڈ

    45۔ نمرہ شہزاد (جھنگ) رنگِ حیات

    46۔ ڈاکٹر رحمت عزیز چترالی (چترال) میرا اقبال

    47۔ ڈاکٹر زاہد یاسین اکھیاں (چنیوٹ) حرفِ حیاتی

    48۔ یسین ثاقب بلوچ(میانوالی) نکات دل

    49۔ بشیر ندیم (سرگودھا) نگھیاں بُکلاں

    50۔ ڈاکٹر عارف حسین عارف (فیصل اباد)انتخاب اصناف شعر و نثر

    51۔ راحت امیر خان تری خیلوی (میانوالی) بے اندازیاں

    52۔ فرح علوی (پاکپتن) بانس کی باڑ

    53۔ ثمرہ کوثر (چیچہ وطنی) حلیم الحق حقی اور تصوف

    54۔ مقصود قلزم (فیصل آباد) پنجابی سیوک ایوارڈ

    55۔ محمد اختر خان (ساہیوال) پنجابی سیوک ایوارڈ 

    56۔ اسرار مسعود ساجد (پاکپتن) پنجابی سیوک ایوارڈ

    57۔ شہراز وٹو (فیصل آباد) پنجابی سیوک ایوارڈ

    58۔ قراةالعین شفق (ساہیوال) پنجابی سیوک ایوارڈ

  • منتہائے فکر اور رثائی ادب 

    منتہائے فکر اور رثائی ادب 

    منتہائے فکر اور رثائی ادب 

    تحریر  :  سید طاہر شیرازی ، جھنگ 

    دُنیا کے ہر خطے میں اپنے اپنے انداز اور اسلوب سے شعر و ادب اور فنونِ لطیفہ پر مختلف پیرائے میں تخلیق اور تحقیق کا عمل جاری اور ساری رہا ہے اور کائنات کے وجود تک یہ مکمل  آب و تاب کے ساتھ چلتا رہے گا ۔ جہاں تک دُنیائے ادب کا تعلق ہے ادب کی کوئی زبان نہیں ہوتی یہ اندر کے جذبات واحساسات کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ دُنیا کے ہر خطہ میں ادب ہی کی زبان کو سمجھا اور محسوس کیا گیا ہے ۔ چاہے وہ لوک ادب ہو افسانوی ، رومانوی ، داستانی  یا کہ شعری ادب ہو چاہے کسی بھی پیرائے  یا صنف میں موجود ہو ۔ اُس کی چاشنی اور مٹھاس ایک خاص لذت رکھتی ہے ۔ دُنیا کی ہر زبان میں ادب تخلیق ہوا اور وہ زبان بولنے والے لوگ اپنے اس ادبی ورثے کے امین ہیں ۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ ادب کی کوئی سرحد نہیں ہوتی اس کی وسعت صرف اور صرف محبت ہی سے ماپی جاسکتی ہے اس کا نہ کوئی اور پیمانہ ہے اور نہ ہی پیرا میٹر جس سے ادب کی پیمائش کی جاسکے ۔ تھل صحرا کے جنوب اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے آباد بھکر کا شہر بہت قدیم ہے ۔ اس کی اپنی زبان  تہذیب  ثقافت اور کلچر ہے جہاں پر زیادہ تر بولنے والوں کی زبان سرائیکی ہے ۔ ضلع کا زیادہ تر علاقہ ریت کے ٹیلوں صحرائے تھل پر مشتمل ہے اور دیکھا جائے تو تھل کے لوگوں کا ایک اپنا رہن سہن تہذیب کلچر بود و باش اور لباس ہے جو کہ ایک خاص خوبصورتی کا حامل ہے ۔ ضلع بھکر شروع سے علم و ادب کا محور و مرکز رہا ہے اور یہاں ہر دور میں اُردو ، سرائیکی اور پنجابی ادب کے لکھنے والے شاعر ادیب اور محقق موجود رہے ہیں  ۔ اِس دھرتی پر ہر دور میں ہر صنفِ سخن میں ادب تخلیق ہوتا رہا چاہے وہ حمد ، نعت ، سلام ، منقبت ، غزل اور نظم کی صورت میں لکھا جانے والا ہو یہ ادب شعر و ادب کی تاریخ کا حصّہ رہا ہے ۔ اس علاقے کو کچھی کا علاقہ بھی کہا جاتا ہے اور اس علاقے نے بہت سے نام ور اور قد آور ادب تخلیق کرنے والی شخصیات کو جنم دیا ۔ جن میں غلام سکندر خان غلام ، غلام حسن تائب ، فیروز ترک ، نذر حسین ترک ، خلشِ پیر اصحابی مضطر حیدری ، سید آلِ محمد سوز ، شکیب جلالی ، کلیم بخاری ، بشیر احمد بشر ، نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، ڈاکٹر اللّٰہ نواز شہانوی ، اقبال حسین ، ڈاکٹر اشرف کمال ، علی شاہ ،  نجف علی شاہ بخاری ، الطاف اشعر بخاری ، انیل چوہان ، محمد اقبال بالم اور مقبول ذکی مقبول اس کاروان کا حصّہ نظر آۓ ۔ رثائی ادب صدیوں سے تخلیق ہوتا چلا آرہا ہے ۔ نواسہ رسول  صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم حضرت امام حسین علیہ السّلام کے ساتھ ہونے والے سانحہ کربلا کی نسبت سے ان علاقوں میں کربلائی ادب کے اثرات ہر دور میں نمایاں رہے ہیں اور بہت سی قد آور شخصیات اُردو اور سرائیکی زبان میں رثائی ادب تخلیق کرتی رہی ہیں ۔ اسی مناسبت سے بھکر کی تحصیل منکیرہ جو کہ صحرائے تھل میں واقع ہے اس دھرتی کے باسی اور شاعر و ادیب محقق مقبول ذکی مقبول کا تذکرہ نہ کرنا ادب کے ساتھ  نا انصافی ہے ۔ کربلائی ادب کے حوالے سے ان کے دو شعری مجموعے ٫٫ سجدہ ،، اور ٫٫ منتہائے فکر ،، منظرِ عام پر آ چکے ہیں جو کہ ادبی حلقوں سے  داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔

    منتہائے فکر اور رثائی ادب

    کربلائی ادب لکھنے کیلئے ہر انسان اس کے اثر پزیری اور ابلاغ کا کس طرح تقاضا کرتا ہے کہ نواسہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے اس کی کتنی عقیدت اور معرفت ہے پھر بصیرت کے حوالے ہی سے یہ کرم اللّٰہ پاک کا اُس کی اپنی خاص عنایت کا ادراک عطا کرتا ہے  ۔ مقبول ذکی مقبول اللّٰہ تعالیٰ کی ایک خاص عطا کا کرم ہے ۔ اگر اُن  کے مجموعہ ء کلام ٫٫ منتہائے فکر ،، کو حقیقی حوالے سے دیکھا اور سمجھا جائے تو انسان تصوراتی طور پر معراجِ عشق پر پہنچ جاتا ہے ۔ ٫٫ منتہائے فکر ،، کو لغوی معنی کے پیرائے میں دیکھیں تو سوچ کی آخری بلندی بنتی ہے اور وہاں سے کہیں کریمِ کربلا کا اور خانوادہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کا مقام شروع ہوتا ہے تو پھر عام آدمی اُن کی فضیلیت و عظمت کو اس محدود سے دائرہ دماغ میں کیسے سمو سکتا ہے ۔؟  یہ تو  اللہ تعالیٰ کی کریمی ہے جس نے کچھ نہ کچھ حصّہ عطا کیا  ہے ۔ یہ انسان کو اُس کی اپنی حیثیت کے مطابق عطا کرتا ہے  ۔ جب خالق کائنات کی توحید اور رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی نبوت کو خطرہ لاحق ہوا تو رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کریم کے خانوادہ ہی سے سرکار امام حسین علیہ السّلام نے ہی دین کی بقا و سرفرازی کیلئے قیام کیا اور علم حق بلند کر کے کربلا میں دینِ مصطفٰی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور توحید کبریا کیلئے اپنے بہتر (ع) رفقا کے ساتھ کار زارِ کربلا میں سیسہ پلائی دیوار بَن کر کھڑے ہوئے اور  اِس وقعہ کو مقبول ذکی مقبول نے یوں بیان فرمایا ہے ۔

    آپ (ع)کی  جو  تھی امامت دین پر آئے نہ آنچ 

    کربلا میں کی قیادت دین پر آئے نہ آنچ 

    آپ (ع)کے اصحاب (ع) پر راضی ہوا ہے پاک ربّ 

    یاد ہے سب کو شجاعت دین پر آئے نہ آنچ 

    ناز کرتے ہم رہیں گے تھے بہتر (ع) باوفا 

    پی گئے جامِ شہادت دین پر آئے نہ آنچ 

    ارجمندِ مصطفٰی (صہ) تھے کربلا میں سوگوار 

    آپ (ع) کی تو ہے بسالت دین پر آئے نہ آنچ 

    یہی تو تھا فلسفہ دینِ حق جس کیلئے حضرت زہرا سلام اللّٰہ علیہا کے لال علیہ السّلام نے اپنا سب کچھ قربان کیا 

    اِک دیا روشن کیا عاشور کی شب کربلا 

    پورے عالم میں ہے اُس کا ہر طرف قصہ الگ 

    کربلا کی داستان اپنی جگہ پر ایک الگ داستانِ غم ہے اگر میدان میں حضرت عباس علیہ السّلام کے بازو کٹتے ہیں تو حجاب کی صدا بلند ہوتی ہے اگر حرمل کا تیر حضرت علی اصغر علیہ السّلام کا گلہ چیرتا ہے تو اُس کی ماں رباب سلام اللّٰہ علیہا ٹوٹ جاتی ہے اس دل سوز لمحے کو مقبول ذکی مقبول نے یوں قلم بند کیا ہے ۔ پہلا شعر حضرت عباس علیہ السّلام کے حوالے سے اور دوسرا حضرت علی اصغر علیہ السّلام کے حوالے سے ملاحظہ فرمائیں ۔

    بازو کٹے جو نہر پر حیدر (ع)کے لال کے (ع)

    خیموں سے اِک صدا اُٹھی ہائے مرا حجاب 

    حرمل کے تیر نے ہی تو امبر ہلا دیا 

    تڑپی صغیر ( ع ) سے بھی جو بڑھ کر وہاں رُباب (ع)

    جب طاغوتی طاقتوں اور ظلم و بریریت سے نظامِ حق اور حق خود ارادیت کیلئے چھ ماہ کے بچے کی قربانی بھی دینی پڑے تو ضروری ہے نظامِ حق کی بقا کیلئے یہ بھی لازم ہے اگر ہم آئے  دن عالمی تناظر میں دیکھیں تو فلسطین اور آزاد جموں کشمیر میں نظام حق اور حق خود ارادیت کیلئے چھ چھ ماہ بچوں کی قربانیاں پیش کی جارہی ہیں ۔ اِس کا آغاز بھی یومِ عاشورہ کربلا سے ہوا تھا ۔ اِسی تناظر میں اُن کا ایک یہ شعر بطور نمونہ پیش ہے ۔

    راہِ حق پر دیا بیٹا وہ تھا معصوم (ع) چھ ماہ کا 

    کہا تھا فوجِ ظالم سے بچائیں گے نظامِ حق 

    مقبول ذکی مقبول جتنا خوبصورت شاعر ہے اُتنا خوبصورت انسان بھی ہے اِن کے علاوہ اُن کے مزید شعری مجموعے 

     ٫٫ یہ میرا بھکر ،، ( فردیات) فروری 2024ء میں شائع ہوا 

    ٫٫ اندازِ بیاں دیکھ ،، ( اُردو ، پنجابی اور سرائیکی شاعری) 14 اگست 2024ء میں شائع ہوا 

    مقبول ذکی مقبول شاعری کے ساتھ ساتھ مختلف تحقیقی مضامین پر مبنی کتابیں لکھ چکے ہیں  جو کہ ٫٫ شذراتِ مقبول ،، مضامین و تبصرے کی کتاب جنوری 2024ء میں شائع ہو چکی ہے ۔ تحقیق کے حوالے سے بھی منکیرہ میں اور دور دراز تک کے علاقوں میں ان کے ادبی طور پر روابط موجود ہیں جو کہ مقبول ذکی مقبول کی ادب دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ وہ کئی دفعہ میرے ہاں جھوک شیرازی ، جھنگ میں تشریف لائے اور جھنگ کے مختلف ادبی پروگراموں کا حصہ بنتے رہے ہیں اور میرے ساتھ تو اُن کا ایک خاص عشق کا رشتہ ہے جو ہم کو جوڑے رکھتا ہے تحقیق کے حوالے سے جو اُن کی مختلف ادبی شخصیات سے ملاقاتیں  رہی ہیں اُن کو ترتیب دے کر انٹرویوز کی شکل بنا کر اُن کو کتابی صورت میں شائع کر کے عظیم ادبی سرمائے کو محفوظ کیا اور ایک ادبی تاریخ مرتب کی ٫٫ سُنہرے لوگ ،، جون 2023ء اور ٫٫ روشن چہرے ،، جولائی 2023ء 

    اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ ٫٫ اعترافِ فن ،، عاصم بخاری تحقیق و تنقید پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو یکم جنوری 2024ء  میں چھپ چکی ہے اُس کے ساتھ ساتھ ٫٫ عاصم بخاری : شخصیت اور شاعر ،، کے نام سے کتاب فروری 2025ء  میں چھپ چکی ہے ۔ یہ بھی مقبول ذکی مقبول کی تحقیق کا سر چشمہ ہے ۔ ٫٫ سید حُب دار قائم  : جگمگاتا ستارہ ،، کے عنوان سے ایک کتاب فروری 2025گء  میں شائع کر کے مؤلف و محقق کے طور پر بھی سامنے آ چکے ہیں ۔ ادب کے میدان میں جب ہم مقبول ذکی مقبول بطور شاعر و ادیب اور محقق دیکھتے ہیں تو اُن کی شخصیت واضح طور پر سامنے آتی ہے ۔ 

    صحرائے تھل کی پیاس کو مقبول ذکی مقبول علم و ادب سے  بجھانے کیلئے سر گرداں ہیں ۔ ذہنی سکون اور ادبی مسرت کیلئے شعر و ادب تخلیق کر کے اپنی دھرتی کے ساتھ محبت کا قرض اُتارنے کی کوشش کر رہیں ہیں ۔ ہر انسان پر اُس کے علاقہ کی مٹی کا حق ہوتا ہے ۔ جس نے اُس کو جنم دیا ہوتا ہے ۔ اُس کا قرض اُتارنا بھی واجب ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی سعی و کوشش اسی قرض کے سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔

  • صحب اردو انٹرنیشنل: بلوچستان کا معیاری رسالہ

    صحب اردو انٹرنیشنل: بلوچستان کا معیاری رسالہ

    صحب اردو انٹرنیشنل: بلوچستان کا معیاری رسالہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    ادبی صحافت کسی بھی زبان کی ترقی و ترویج میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی تناظر میں دیکھا جائے تو "صحب اردو انٹرنیشنل” ایک منفرد اور شاندار ادبی جریدہ ہے جو بلوچستان کے شہر پسنی سے اکمل اور وارث اسلم راہی کی ادارت میں شائع ہو رہا ہے۔ یہ جریدہ نہ صرف اردو زبان کے فروغ کا باعث ہے بلکہ اس نے اردو، بلوچی اور براہوی ادب کے درمیان ایک فکری و علمی پل بھی قائم کیا ہے۔

    "صحب اردو انٹرنیشنل” کا تازہ شمارہ جنوری تا جون 2025 (جلد 7 اور 8) حال ہی میں منظر عام پر آیا ہے۔ اس جریدہے کو مدیران نے مبارک قاضی جیسے نامور بلوچی شاعر کے نام منسوب کیا ہے، جو بلوچی ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اس ادبی جریدے کی سب سے نمایاں بات یہ ہے کہ اس کا اجرا اردو زبان میں کیا گیا ہے، جو بلوچستان جیسے خطے میں اردو کے فروغ کا ایک مثبت اور قابلِ تحسین قدم ہے۔

    یہ جریدہ ملہب پبلشنگ ہاؤس، پسنی، بلوچستان سے شائع ہوتا ہے اور اس کے معاون مدیر وارث اسلم ماہی ہیں۔ جریدے کی کل صفحات کی تعداد 357 ہے اور اس کی قیمت 1000 روپے مقرر کی گئی ہے جو پاکستانی قارئین کے لیے کسی حد تک زیادہ ہے۔

    ہر علمی و ادبی جریدہ ایک خاص نظریے اور مقصد کے تحت شائع ہوتا ہے۔ "صحب اردو انٹرنیشنل” کے مدیر اکمل شاکر نے اپنے اداریے میں جریدے کی اشاعت کے بنیادی اسباب اور اس کے اغراض و مقاصد کو واضح کیا ہے۔ اداریہ مختصر ہے لیکن تفصیلی اداریہ ہوتا تو بہتر تھا جس میں اردو زبان و ادب کی ضرورت، بلوچستان میں اردو کے فروغ کی اہمیت اور اردو و بلوچی ادب کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالی جاتی تو اس کی قدر و قیمت میں مزید اضافہ ہوتا۔ یہ جریدہ نہ صرف اردو زبان کے لیے ایک علمی و تحقیقی پلیٹ فارم فراہم کرے گا بلکہ بلوچی و براہوی ادیبوں اور شاعروں کے لیے بھی ایک ذریعہ بنے گا تاکہ وہ اپنے تخلیقی اظہار کو اردو زبان میں بھی پیش کر سکیں۔

    صحب اردو انٹرنیشنل: بلوچستان کا معیاری رسالہ

    "صحب اردو انٹرنیشنل” میں ادب کی تمام اصناف کو شامل کیا گیا ہے، جس سے اس جریدے کی جامعیت اور ادبی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں مضامین، افسانے، غزلیں، دوہے، کتابوں پر تبصرے اور خطوط جیسے ادبی و تحقیقی مواد شامل ہیں، جو اردو زبان و ادب کی کئی جہات کو سموئے ہوئے ہیں۔

    اس شمارے میں کئی اہم ادبی شخصیات کے لیے خصوصی گوشے مختص کیے گئے ہیں، جو اس جریدے کی ایک منفرد خصوصیت ہے۔ ان گوشوں میں شامل نمایاں ادیب و شعراء کے نام درج ذیل ہیں:

    ڈاکٹر سید قاسم جلال (بہاولپور)

    قاضی اعجاز محور (گوجرانوالہ)

    پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیق (لاہور)

    زیب النساء زیبی (کراچی)

    ڈاکٹر منور احمد کنڈے (لندن)

    سید سردار حسین اداس (اٹک)

    سید شرافت عباس ناز (کوئٹہ)

    شاہدہ لطیف (اسلام آباد)

    ایم زیڈ کنول (لاہور)

    عمران شاہ (اٹک)

    نسیم سحر (راولپنڈی)

    یہ نامور شخصیات اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتی ہیں اور ان کی تخلیقات "صحب اردو انٹرنیشنل” کے ادبی معیار کو مزید بلند کرتی ہیں۔

    یہ جریدہ ایک بین الاقوامی معیار کے ادبی پلیٹ فارم کے طور پر ابھرتا دکھائی دیتا ہے، جس میں پاکستان کے مختلف شہروں اور بیرونِ ملک سے علمی و ادبی شخصیات کی شمولیت اس کی وسعت و اثرپذیری کو ظاہر کرتی ہے۔ اس میں شامل تحریریں فکری پختگی، تنقیدی بصیرت اور تخلیقی اظہار کے اعلیٰ معیار کی حامل ہیں۔

    جریدے کی قیمت 1000 روپے رکھی گئی ہے، جو ایک عام پاکستانی قاری کے لیے نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ قیمت شاید اس کے بین الاقوامی معیار اور شمولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کی گئی ہو، لیکن اردو ادب کے فروغ کے لیے اس کی قیمت کو کچھ کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین اس سے مستفید ہو سکیں۔

    "صحب اردو انٹرنیشنل” بلوچستان جیسے خطے سے نکلنے والا ایک منفرد اردو ادبی جریدہ ہے، جو نہ صرف اردو زبان کی خدمت کر رہا ہے بلکہ مستقبل میں اردو، براہوئی اور بلوچی ادب کے درمیان فکری اور تخلیقی روابط بھی قائم کرے گا۔ مدیر اکمل شاکر اور معاون مدیر وارث اسلم ماہی اس کامیاب اشاعت پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اگر اس جریدے کی قیمت کو مناسب سطح پر لایا جائے اور اس کے اشاعتی دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے تو یہ اردو ادب کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا ان شا الله۔

  • درویشیات – ليت الفتى شجرة

    درویشیات – ليت الفتى شجرة

    درویشیات – ليت الفتى شجرة

    قسط أول 

    تحریر و تحقیق 

    شاندار بخاري 

    مقيم مسقط 

    درویشیات کے نام سے علمی و ادبی سلسے کا آغاز کر رہا ہوں جسمیں دنیا بھر سے چنیدہ لکھاریوں کی تحریروں کو اردو میں ترجمہ کر کے آسان الفاظ میں آپ ادب شناس احباب تک پہنچا سکوں اس پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کیجئے گا تاکہ حوصلہ افزائی یا اصلاح ہو سکے۔

    پہلی قسط میں چونکہ میں خود خطہ عرب میں مقیم ہوں تو عرب لکھاری محمود درويش جو عربي ادب میں عصر حاضر کے نمائندہ اور عظیم ترین شاعر مانے جاتے ہیں ان کی تحریروں پر اردو زبان میں کچھ لکھنے یا ان کو اپنے انداز سے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں تاکہ عربی زبان سے نابلد قارئین تک درويش کے تجربات آسان الفاظ میں منتقل کر سکوں تو ان کی ایک مشہور نظم ” ليس الفتى شجرة ” کے نام سے موجود ہے یعنی درخت کی جبلت پر مبنی تحریر ہے جسے انہوں نے انسانی رویوں اور شخصیت کے پہلوؤں سے تشبیہ دی ہے ان کا موازنہ کیا ہے۔

    درويش لکھتے ہیں کہ ایک درخت دوسرے درخت کی بہن ہو جیسے، کوئی نیک سیرت پڑوسی ہو جیسے، یہ درخت دوسرے درختوں کا پھل نہیں چراتے ، اگر ایک درخت پر زیادہ پھل لگ گئے ہیں تو کم پھل والے درخت اس سے جلتے نہیں ہیں اور اگر کسی درخت پر کم پھل لگے ہین تو زیادہ پھل والے درخت اس کا مذاق نہین اُڑاتے ، بڑا درخت چھوٹے درخت کو چھاؤں فراہم کرتا ہے ، مضبوط درخت کمزور درخت پر حملہ نہیں کرتے ، ایک دوسرے کو برا بھلا نہیں کہتے ، درخت کبھی لکڑھارے کا مقابلہ نہیں کرتے ، یہی درخت جب تراش کر کشتی بن جائیں تو منزل تک پہنچاتے ہیں دروازہ بند جائیں تو لوگوں کے رازوں کو باہر نہیں جانے دیتے ، کرسی بن جائیں تو اپنے اوپر تنے ہوئے آسمان کو کبھی نہیں بھولتے ، جب میز بن جائیں تو لکھاری کو سکھاتے ہیں کہ کچھ بھی ہو تم نے لکڑہارا نہیں بننا ، ان درختوں کی چھاؤں تلے کتنے مسافروں اور کتنے عاشقوں کو سائبان ملا جو اکثر انہیں درختوں کو چھیل کر زخمی کر کے ان پر تحریریں چھوڑ جاتے ہیں اور یہ درخت بجائے بدلہ لینے کے ان کے نقوش کو اپنے سینے میں سمو لیتے ہیں اور ساری عمر کھڑے رہتے ہیں بانہیں پھیلائے۔

    بقول شاعر، 

    ہم محبت میں درختوں کیطرح ہیں أحسن، 

    جہاں لگ جائیں وہاں عمروں کھڑے رہتے ہیں۔

    اے میری شاخ شاخ کے مقروض، جا، شجر بد دعا نہیں دیتے۔ تو اپنی زندگیوں میں بھی اس نظم سے متاثر ہو کر بدلاو لائیں اپنی مصروفیات سے وقت نکالیں اور قدرت کا مشاہدہ کریں اس میں چھائے جمال، سکوت، صبر کے رموزوں سے خود کا آشنا کریں آپ کی بے ہنگم زندگیوں میں بھی جمال، سکوت اور ربط آجائے گا۔

    آخر میں آپ کی نذر عربی زبان میں لکھی محمود درویش کی شہرہ آفاق نظم جو دیدہ وروں کیلئے تعویذ محبت ہے۔

    درویشیات – ليت الفتى شجرة
    محمود درويش

    الشجرة أخت الشجرة، أو جارتها الطيّبة.

    الكبيرة تحنو على الصغيرة، وتُمدُّها بما ينقصها

    من ظلّ. والطويلة تحنو على القصيرة،

    وترسل اليها طائراً يؤنسها في الليل. لا

    شجرة تسطو على ثمرة شجرة أخرى، وإن

    كانت عاقراً لا تسخر منها. ولم تقتل

    شجرةٌ شجرةً ولم تقلِّد حَطّاباً. حين صارت

    زورقاً تعلَّمت السباحة. وحين صارت

    باباً واصلت المحافظة على الأسرار. وحين صارت

    مقعداً لم تنسَ سماءها السابقة.

    وحين صارت طاولة عَلَّمت الشاعر أن لا

    يكون حطاباً. الشجرة مَغْفَرةٌ وسهَرٌ.

    لا تنام ولا تحلم. لكنها تُؤتمنُ على أسرار

    الحالمين، تقف على ساقها في الليل والنهار.

    تقف احتراماً للعابرين وللسماء. الشجرة

    صلاة واقفة. تبتهل الى فوق. وحين

    تنحني قليلاً للعاصفة، تنحني بجلال راهبة

    وتتطلع الى فوق… الى فوق. وقديماً قال

    الشاعر: «ليت الفتى حجر». وليته قال:

    ليت الفتى شجرة!

  • 2024:زبان و ادب کے فروغ لیے کھوار اکیڈمی کی خدمات

    2024:زبان و ادب کے فروغ لیے کھوار اکیڈمی کی خدمات

    2024:زبان و ادب کے فروغ لیے کھوار اکیڈمی کی خدمات

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    کھوار اکیڈمی نے 1996 سے 2024 تک کے عرصے میں لسانی، ادبی اور ثقافتی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس ادارے کی شائع کردہ کتابوں اور سافٹ ویئرز نے نہ صرف کھوار زبان و ادب کو محفوظ کرنے میں مدد کی ہے بلکہ اس کی ترویج و اشاعت میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ کھوار اکیڈمی کی اشاعتیں مختلف موضوعات پر محیط ہیں جن میں لسانیات، ادب، بچوں کا ادب، اقبالیات اور مذہبی علوم شامل ہیں۔

    کھوار زبان کی گرامر، لغت اور محاورات پر مبنی کتابیں جیسے کھوار گرامر، چترالی انگریزی گرامر، ضرب المثال کی لغت اور آن لائن کھوار اردو انگریزی لغت شامل ہیں۔ یہ کتابیں نہ صرف کھوار زبان کے قواعد و ضوابط کو محفوظ کرتی ہیں بلکہ ان کو سیکھنے اور سمجھنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتی ہیں۔

    کھوار ادبیوں کی شاعری اور ادبی تخلیقات نے کھوار ادب کو ایک نئی جہت دی ہے۔ راقم الحروف کی کتابیں جیسے (گلدان رحمت اردو شعری مجموعہ)، (گلدستہء رحمت کھوار شعری مجموعہ)، ٹریبیوٹ ٹو حضرت محمد ﷺ (نعتیہ شعری مجموعہ مع اردو اور انگریزی تراجم) یہ کتابیں کھوار اور اردو زبان و ادب کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہیں اور کھوار زبان میں طنزیہ و مزاحیہ شاعری کی خوبصورتی کو اجاگر کرتی ہیں۔ اردو، پشتو، سرائیکی، ہندکو، سندھی، کھوار اور دیگر چالیس سے زائد پاکستانی زبانوں کے لیے تیار کردہ کھوار زبان کی ہفت پلیٹ فارمی کلیدی تختیوں کا سافٹویر یہاں سے مفت ڈاونلوڈ کیا جاسکتا ہے۔

    کھوار زبان میں بچوں کے ادب کی ترویج کے لیے کھوار اکیڈمی نے کئی اہم کتابیں شائع کی ہیں جن میں چترال کی بچوں کی لوک کہانوں کو تالاش، خوابوں کی شہزادی اور پھوپھوکان اقبال کے نام سے شایع کیا گیا ہے۔ان کھوار اور اردو کتابوں میں بچوں کے لیے کہانیوں اور تخیلاتی ادب کا ایک منفرد ذخیرہ پیش کیا گیا ہے۔کھوار اور اردو زبان میں اقبالیات کے حوالے سے کھوار اکیڈمی نے رحمت عزیز خان چترالی کی تحریر کردہ کتابیں شائع کی ہیں جن میں فکر اقبال (کھوار)، میرا اقبال(اردو/کھوار) اور پھوپھوکان اقبال (کھوار) شامل ہیں۔یہ کتابیں علامہ اقبال کے افکار و خیالات کو کھوار زبان میں متعارف کرانے کا اہم ذریعہ ثابت ہوئی ہیں۔ کھوار زبان و ادب کے بارے میں انگریزی کتابیں اس لنک پر امازوں میں موجود ہیں۔

    اسی طرح مذہبی موضوعات پر شائع ہونے والی کتابوں میں رہبر اعظم ﷺ اور قرآن مجید (سورہ فاتحہ کے کھوار تراجم و تفسیر) شامل ہیں
    یہ کتابیں کھوار زبان میں مذہبی ادب کی ترویج کا ایک منفرد کوشش ہیں۔

    کھوار اکیڈمی نے سفرنامے اور خودنوشت سوانح عمری بھی شایع کیے ہیں۔کھوار اکیڈمی نے کھوار ادب کے ساتھ ساتھ اردو ادب میں بھی حصہ ڈالا ہے، جیسے چترال سے کراچی تک (اردو سفرنامہ)، ہندوکش سے ہمالیہ تک (اردو سفرنامہ) اور چترال کہانی شامل ہیں۔ یہ کتابیں چترال کی ثقافت اور زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں۔

    کھوار اکیڈمی کی خدمات میں لسانی ورثے کا تحفظ بھی شامل ہے۔ کھوار زبان کی گرامر، لغت، اور محاورات پر مبنی کتابوں نے زبان کے تحفظ اور ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    اس اکیڈمی کی ادبی خدمات نے کھوار ادب کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مدد دی ہے۔ جن میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہے۔ کھوار اکیڈمی نے لسانیاتی کی بورڈ سافٹ ویئرز جیسے آراے چترالی ہفت پلیٹ کھوار کیبورڈ سافٹویر کے ذریعے کھوار زبان کو ڈیجیٹل دنیا میں داخل کیا ہے۔

    کھوار اکیڈمی کی کتابیں امازون پر دستیاب ہیں، جو کہ بین الاقوامی قارئین کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    کھوار اکیڈمی کی خدمات زبان، ادب، اور ثقافت کے میدان میں قابل ستائش ہیں۔ ان کی شائع کردہ کتابیں نہ صرف کھوار زبان کے ورثے کو محفوظ کر رہی ہیں بلکہ نئی نسل کو اس سے روشناس بھی کرا رہی ہیں۔ 2024 تک کی اشاعتیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ کھوار اکیڈمی نے اپنے مشن کو کامیابی سے پورا کیا ہے اور مستقبل میں بھی اس کے روشن امکانات ہیں۔

  • ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    تجزیہ نگار : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    حسبِ سابق امسال بھی ضلع بھکر کا نظم و نثر اور جملہ ادبی سرگرمیوں کا اجمالی جائزہ شائقین و قارئینِ ادب کی بارگاہ میں بہ صد خلوص و احترام پیشِ خدمت ہے ۔ جس سے باآسانی گزشتہ سالوں سے موازنہ ہو پائے گا ۔ کہ یہ سال ادبی حوالے سے کیسا رہا ۔

    سرائیکی شاعر استاد الشعراء سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، محلہ سردار بخش بھکر شہر میں رہتے ہیں ۔ آپ سکول آف تھاٹ کا درجا رکھتے ہیں ۔ گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی آپ کی رہائش گاہ ( ڈیرہ کاکا خیل) پر شعراء و ادباء کا آنا جانا لگا رہا ہ ۔ شان دار ادبی نشستیں ہوتی رہیں اور تین مشاعرے بھی ہوئے ۔ اور ایک کتاب کی تقریب رونمائی بھی

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    ارشد حسین خوبصورت شاعر ہیں بھکر شہر سے ہیں حلقہ فروغِ ادب بھکر کے چیئرمین ہیں حلقہ فروغِ ادب کے زیرِ اہتمام 2 ذی الحجہ 2024ء کو ایک محفل مسالمہ منعقد ہوا ۔
    زیرِ صدارت ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ ( سابق ایم این اے) اور مہمانِ خصوصی استاد الشعراء سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی تھے مقامی شعرا نے بھرپور شرکت کی ۔
    یہ محفل مسالمہ ارشد حسین بھٹی کی رہائش گاہ بھکر شہر میں منعقد ہوا اس کے بعد 2024ء میں کوئی اور ادبی کام سامنے نہ آ سکا۔

    جاوید عباس جاوید کے قلم سے لکھے ہوئے چند مضامین مقامی اخبارات میں میں گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں ۔

    روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی اخبار نے مثبت کردار ادا کیا ہے سال 2024ء میں بھی شعرو شاعری میسج بک کے نام سے ڈیلی کی بنیاد پر نوجوانوں کے پسندیدہ منتخب اشعار شائع ہوتے رہے ہیں ۔ جولائی 2024ء سے تسلسل کے ساتھ انیل چوہان کی غزل شائع ہوتی رہی ہے ۔ راقم الحروف اور دیگر قلم کاروں کی تحریریں اور ادبی خبریں وغیرہ روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر کی زینت بنتی رہی ہیں ۔

    روزنامہ ٫٫ نوائے بھکر ،، بھکر روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر اور روزنامہ ٫٫ سچائی ،، بھکر اخبارات گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی ادبی مضامین و خبریں وغیرہ شائع کرنے میں مثبت کردار ادا کیا ہے ۔ اس طرح سے لکھاریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں ۔

    محفلِ مسالمہ 2 جولائی 2024ء کو گلشنِ مدینہ بھکر میں قلب عباس عابس کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا ۔

    ڈاکٹر خالد اسراں شاعر و ادیب ہیں اور ادبی تنظیم بزمِ ہادی کے بانی ہیں ۔ ان کی کُتب کا تفصیلی ذکر ادبی جائزہ سال 2023ء میں کیا گیا ہے ۔ بزمِ ہادی کے زیرِ اہتمام ہاشمی کلینک منڈی ٹاؤن بھکر دو ادبی نشستیں منعقد ہوئی ہیں ۔ اس بزمِ کے زیرِ اہتمام 2024ء میں ایک کتاب بھی شائع ہوچکی ہے ۔

    ادبی مشاعرہ 7 اکتوبر 2024ء کو ( اونرالمدینہ بوائز ہاسٹل نزد لاری اڈا بھکر ) منعقد ہوا جس میں معروف شعراء کرام نے شرکت کی ۔

    تحصیل بھکر کے قصبہ میں عابد علیم سہو ، اڈا جہان خان چک نمبر 46 میں مقیم ہیں ۔ اُردو پنجابی اور سرائیکی زبان میں شاعری کرتے ہیں ۔ بزمِ رفیق کے روحِ رواں ہیں ان کی بزمِ کے زیرِ اہتمام دو ادبی نشستیں 2024ء میں منعقد ہوئی ہیں ۔

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    12 اگست 2024ء کو سالانہ تقریب پرچم کشائی کے موقع پر محفل مشاعرہ واٹر سپلائی گراؤنڈ نزد گرلز کالج ، بہل میں منعقد ہوا جس میں بھرپور شعراء کرام نے شرکت کی اور عوام نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی ۔

    9/10 نومبر 2024ء کی درمیانی شب جناح اسکول اینڈ کالج کیمپس دریا خان دوسرا سالانہ مشاعرہ منعقد ہوا ۔ بانیان محفل مشاعرہ ڈاکٹر محمد پروان انجم اور ملک نصیر پہوڑ تھے ۔

    جاوید اختر فاروق تحصیل دریا خان کے گاؤں برکت والا کے رہائشی ہیں ۔ ادبی تنظیم بہارِ ادب کے روحِ رواں ہیں ۔ ادبی تنظیم بہارِ ادب کے زیرِ اہتمام جون 2024ء کو ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ اس تنظیم بہارِ ادب کے باقی ادبی پروگرام حالات کا شکار ہوگئے ہیں ۔

    تحصیل دریا خان کا قصبہ دُلے والا شاہنواز ارشد (مرحوم) اور نجیب اللّٰہ خان نیازی (مرحوم) کی یاد میں ایک مشاعرہ 14 ستمبر 2024ء کو منعقد ہوا ( بمقام اسلام دال ملز ایم ایم روڈ دُلے والا) جس میں بھرپور شعراء اور سامعین نے شرکت کی منتظمین میں عبد الغفار نئر اور احسن حیات مغل تھے ۔

    تحصیل کلورکوٹ بزمِ طاہر ، شاہ عالم نشیب بستی اکڑا کانجن 2024ء میں ہر ماہ کی پانچ تاریخ کو ادبی نشست ہوتی رہی ہے اور سالانہ مشاعرہ 4 اکتوبر 2024ء کو منعقد ہوا ہے ۔

    تحصیل کلورکوٹ کے گاؤں غلاماں میں ادبی تنظیم بزمِ یاراں کے روحِ رواں فاروق احمد فاروق تھلہ ہیں ۔ ان کی بزمِ کے زیرِ اہتمام 2024ء میں ادبی نشستیں ہر ماہ کو باقاعدگی سے ہوتی رہی ہیں اور ایک شاندار و کامیاب مشاعرہ 23 نومبر 2024ء کو منعقد ہوا ہے
    اسی گاؤں کی ایک اور ادبی تنظیم بزمِ پارت ہے جس کے بانی و صدر ذوالفقار راقم ہیں ۔ 2024ء میں ان کی بزمِ نے ہر تین ماہ بعد ایک ادبی نشست کا اہتمام کیا ہے اور دو بڑے کامیاب مشاعرے بھی کرواچکی ہے ۔

    28/29 ستمبر 2024ء کی درمیانی شب اکڑا کانجن تحصیل کلورکوٹ میں سرائیکی محفل مشاعرہ منعقد ہوا بانی مشاعرہ ملک محمد اشرف جوئیہ ، ملک غلام شبیر کانجن تھے ۔

    تحصیل منکیرہ کے شمالی گاؤں گوہر والا میں بشیر گوندل کی ادبی تنظیم تھل سرائیکی چانناں کے زیرِ اہتمام۔ 5 ستمبر 2024ء کو گوہر والا میں ایک نشست منعقد ہوئی جس میں عصمت گرمانی ، کاظم حسین کاظم اور مقامی شعرا نے شرکت کی اسی تنظیم کا سالانہ مشاعرہ 5/6 اکتوبر 2024ء کی درمیانی شب تیمور چوک گوہر والا میں منعقد ہوا ۔

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    بزمِ اوجِ ادب یہ ادبی تنظیم منکیرہ شہر میں ہے ۔ اس کے بانی و چیئرمین مقبول ذکی مقبول ہیں ۔ گزشتہ سال کی طرح ماشاءاللہ سال 2024ء میں بزمِ اوجِ ادب نے اچھی خاصی کارگردی دکھائی ہے ۔ مرحوم شعراء کی یاد میں تعزیتی اجلاس 2024ء ایک علی شاہ (مرحوم) 16 جون 2024ء کو ہوا دوسرا شاہنواز ارشد (مرحوم) 22 اگست 2024ء کو ہوا مرحومین کے لیے قرآن خوانی کی گئی بلندیِ درجات کے لئے دعائیں کی گئیں اور شعراء نے خراجِ تحسین پیش کیا ۔ جون 2024ء کو نعتیہ نشست ہوئی گرد و نواح اور مقامی شعرا نے شرکت کی بزمِ اوجِ ادب نے ایک اسناد تقریب جھنگ سٹی میں منعقد کرائی 17 نومبر 2024ء کو ایک نعتیہ نشست 30 نومبر 2024ء کو منعقد ہوئی جس میں بہاولپور اور روہی سے شعراء کرام تشریف لائے اور منکیرہ کے مقامی شعرا نے شرکت کی 8 دسمبر 2024ء کو بزمِ اوجِ ادب نے 9 شعراء کرام کو انوارِ اہلبیت علیہ السّلام ایوارڈ پیش کیا ۔ بزمِ اوجِ ادب کے زیرِ اہتمام تین کتابیں بھی شائع ہو چکی ہیں ۔
    راقم الحروف شاعری اور مضامین مقامی ملکی رسائل و جرائد و اخبارات میں گزشتہ سال کی طرح 2024ء میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں ۔

    انیل چوہان منڈی ٹاؤن بھکر میں رہائش پذیر ہیں ۔ ان کا اُردو غزلیات و نظمیات پر مشتمل مجموعہ ٫٫ زندگی نامہ ،، کے نام سے دسمبر 2024ء میں منصہء شہود پر آچکا ہے ۔

    اردو اور سرائیکی شاعر جاوید دانش بھکر کی بستی اکبر آباد نشیب میں مقیم ہیں ۔ ان کی رثائی نظمیں پر مشتمل مجموعہ پلکوں پہ دیپ 2024ء کو لکھنؤ سے شائع ہوا ۔

    قمر بخاری کا تعلق جھوک ٹبہ بھکر نشیب کے رہائشی ہیں ۔ان کا سرائیکی غزلیات پر مشتمل مجموعہ ٫٫ گنگے لوک ،، 2024ء شائع ہوا ۔

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    تحصیل دریا خان کے بستی چاہ اسراں والا چک نمبر TDA 18 میں رہائش پذیر
    ملک نعمان حیدر حامی ان کا افسانوی مجموعہ ٫٫ اے محبت مجھے معاف کر ،، 2024ء کو منصہء شہود آیا ہے ۔

    تحصیل کلورکوٹ کے گاؤں غلاماں کے رہائشی عبد المجید آصف لودھرا کے 2024ء میں دو سرائیکی شاعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ ایک نام ہے ٫٫ دھاڑیں ،، اور دوسرے نام ٫٫ ہکَل ،،

    محمد اقبال بالم کا تعلق منکیرہ شہر سے ہے ۔ ان کے 2024ء میں دو شاعری مجموعے شائع ہوئے ہیں ایک ٫٫ گُدڑیاں ،، اور دوسرا ٫٫ ہیں آنکھیں نم اُسے کہنا ،،

    مقبول ذکی مقبول کا تعلق منکیرہ شہر سے ہے ۔ 2024ء کو دو شعری مجموعے اور ایک نثر کی کتاب شائع ہو چکی ہے ۔ جن کے نام یہ ہیں ٫٫ یہ میرا بھکر ،، ٫٫اندازِ بیاں دیکھ ،، اور ٫٫ شذراتِ مقبول ،،

    2024ء میں جو شعراء ہم سے بچھڑ گئے ہیں ۔
    ان میں عاصم تنہا ( 5جنوری 2024ء) چاندنی چوک ،
    جمشید اقبال جمشید (4 اگست 2024ء) بھکر سیٹی ،
    سجاد ظفر کلیم (7 ستمبر 2024ء) دُلے والا

    ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2024ء

    مجموعی طور پر یہ سال گذشتہ سالوں کے مقابلے میں ادبی لحاظ سے سرد رہا ۔سرگرمیاں ماند رہیں ۔ شاید مالی مشکلات غالب رہیں ۔

  • سیالکوٹ کا ادبی منظرنامہ: بزمِ علم و ادب پاکستان کی سالانہ ادبی ایوارڈز تقریب

    سیالکوٹ کا ادبی منظرنامہ: بزمِ علم و ادب پاکستان کی سالانہ ادبی ایوارڈز تقریب

    سیالکوٹ کا ادبی منظرنامہ: بزمِ علم و ادب پاکستان کی سالانہ ادبی ایوارڈز تقریب

    *
    رپورتاژ
    *
    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*
    rachitrali@gmail.com

    سیالکوٹ کو شاعر مشرق علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کا شہر کہا جاتا ہے، سیالکوٹ شہر کے ادبی و ثقافتی منظرنامے میں بزمِ علم و ادب پاکستان ایک فعال اور مثالی ادبی تنظیم کے طور پر مشہور ہے۔ اس تنظیم کی بنیاد ادب کے فروغ، علمی و ادبی شخصیات کے کام کو سراہنے اور نئی نسل کو ادبی تربیت و رہنمائی فراہم کرنے کے مقاصد کے تحت رکھی گئی ہے۔ یہ تنظیم وقتاً فوقتاً مشاعرے، کتابوں کی تقریبِ رونمائی، اصلاحی نشستوں اور کل پاکستان کانفرنسز کا انعقاد کرتی ہے، جن کا مقصد ادب کے نئے افق دریافت کرنا اور پاکستانی تہذیب و ثقافت کی جڑوں کو مضبوط بنانا ہے۔
    بزمِ علم و ادب پاکستان کا قیام ادب پرور شخصیات کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ صدر بزم نعمت اللہ ارشد گھمن اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کے ذریعے اس پلیٹ فارم کو ملک بھر میں ادب کا ایک معتبر مرکز بنایا ہے۔ تنظیم نے ان شعرا اور ادیبوں کو منظرِ عام پر لانے کا بیڑا اٹھایا ہے جنہیں ان کے فن کے مطابق ابھی تک پہچان نہیں ملی۔


    30 نومبر 2024ء کو سیالکوٹ بزنس اینڈ کامرس سینٹر میں منعقد ہونے والی یہ پروقار تقریب اس تنظیم کی بہترین کاوشوں میں سے ایک تھی۔ تقریب میں پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی علمی و ادبی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔
    تقریب میں مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو ایوارڈز دیے گئے۔ ان ایوارڈز کے نام علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض، امجد اسلام امجد، پروفیسر اصغر سودائی، مولانا ظفر علی خان، اور شیو کمار بٹالوی جیسے مایہ ناز ادیبوں اور شاعروں سے منسوب کیے گئے تھے۔
    تقریب میں پیش کیے گئے ایوارڈز مختلف زمروں میں دیے گئے جن میں علامہ اقبال ایوارڈ ڈاکٹر صائمہ ارم اور دیگر شخصیات کو ان کی ادبی خدمات پر دیا گیا۔
    فیض احمد فیض ایوارڈ برائے کتب: مختلف مصنفین کی تصنیفات کو دیا گیا، جن میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم اور ڈاکٹر رحمت عزیز خان شامل تھے۔
    پنجابی ادب ایوارڈ: شیو کمار بٹالوی ایوارڈ پنجابی ادب کے فروغ پر دیا گیا۔
    سماجی خدمات: خواجہ محمد طفیل ایوارڈ ایسے افراد کو دیا گیا جنہوں نے اپنی کمیونٹیز میں نمایاں کردار ادا کیا۔
    اس پروقار تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، تنظیم کے صدرِ نعمت اللہ ارشد گھمن اور تنظیم کے سرپرست اعلیٰ ایوب صابر نے اپنی تقریر میں تنظیم کی کاوشوں اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مہمانانِ خصوصی ملک اللہ داد اور محمد حسین نے تنظیم کی علمی، سماجی اور ادبی خدمات کو بھرپور سراہا۔
    یہ ایک منفرد تقریب تھی جس میں پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے ادیبوں نے شرکت کی، کھوار اور گوارباتی زبان کے ادیبوں میں رودابہ عیسیٰ خان ایڈوکیٹ، رحمت عزیز خان چترالی اور نصیر الله ناصر نے شرکت کی۔ اسی طرح بلوچستان اور سندھ جیسے دور دراز علاقوں سے بھی ادیبوں نے شرکت کرکے اس پروگرام کو کامیاب بنائے۔ مستقبل کے ایوارڈز پروگرام کے لیے چند تجاویز پر عمل کیا جائے تو اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا:
    ادبی تقریبات کا دائرہ کار سیالکوٹ سے بڑھاکر اسلام آباد، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا تک وسیع کیا جائے، تنظیم کو دیگر چھوٹے شہروں اور دیہات میں بھی ادبی نشستوں اور ایوارڈز کی تقریب کا انعقاد کرنا چاہیے تاکہ دوردراز سے آنے والے ایوارڈز یافتگان کے لیے آسانی ہو۔
    بزم علم و ادب کی خدمات کے فروع کے لیے آن لائن پلیٹ فارم کا قیام بھی ضروری ہے۔ بزم کو ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق آن لائن کانفرنسز اور مشاعروں کا بھی انعقاد کرنا چاہیے۔
    نوجوان ادیبوں کے لیے ورکشاپس بھی وقت کی اشد ضرورت ہے نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد ضروری ہے تاکہ ان کے فن کو نکھارا جا سکے۔
    تنظیم کو عالمی سطح پر اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں ادب کے فروغ کے لیے ادبی تنظیموں سے روابط قائم کرنے چاہئیں۔

    سیالکوٹ کا ادبی منظرنامہ: بزمِ علم و ادب پاکستان کی سالانہ ادبی ایوارڈز تقریب


    ہم نعمت اللہ ارشد گھمن صاحب صدر علم و ادب سیالکوٹ اور ان کی ٹیم کے تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے ادب کی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔ ان کی کاوشیں اردو ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچا رہی ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ یہ تنظیم مستقبل میں بھی اپنی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
    سال 2024 میں جن مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈ ز دیے گئے ان میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ برائے علمی و ادبی خدمات، علامہ اقبال ایوارڈ برائے علمی وادبی خدمات، فیض احمد فیض ایوارڈ برائے علمی وادبی خدمات، فیض احمد فیض ایوارڈ برائے کتب،پروفیسر اصغر سودائی ایوارڈ برائے تعلیمی خدمات، امجد اسلام امجد ایوارڈ برائے علمی وادبی خدمات، شِو کمار بٹالوی ایوارڈ برائے پنجابی ادب، مولانا ظفر علی خان ایوارڈ برائے صحافتی خدمات اور خواجہ محمد طفیل ایوارڈ برائے سماجی خدمات شامل ہیں۔
    لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ برائے علمی و ادبی خدمات پروفیسر ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری(ڈین فیکلٹی آف لینگویجز منہاج یونیورسٹی لاہور)، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال شاہد(پروفیسر ایمرطس گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور) اور پروفیسر سید عدید (ممتاز شاعر،دانشور، ماہر تعلیم ) کو پیش کیا گیا۔
    علامہ اقبال ایوارڈ برائے ادبی و علمی خدمات جن شخصیات کو پیش کیا گیا ان میں ڈاکٹر صائمہ ارم(صدر شعبہ اردو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور)، ڈاکٹر سبینہ اویس (ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اردو و چیئرپرسن اقبال چیئر گورنمنٹ کالج ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ) اورڈاکٹر سمیرا اکبر(اسسٹنٹ پروفیسرشعبہ اردوگورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد) شامل تھیں۔
    فیض احمد فیض برائے علمی و ادبی خدمات ڈاکٹر سید سفیر حیدر(ایسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ اردو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور)، ڈاکٹر بابر نسیم آسی(چیئرپرسن شعبہ فارسی، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور)،چوہدری فہیم ارشد(اقبال اکادمی پاکستان لاہور)، ڈاکٹر نور البصر امن (مالاکنڈ)، پروفیسر نسیم سلیمان (راولاکوٹ آزاد کشمیر)، ڈاکٹر محمد رفیق(پشاور)، ڈاکٹر محمد طاہر بوستان خان (سوات) شامل ہیں۔
    فیض احمد فیض ایوارڈ برائے کتب وصول کرنے والی شخصیات میں ڈاکٹر ہارون الرشید رشید تبسم(سرگودھا)، پروفیسر ڈاکٹر مشتاق عادل(ساہیوال)، ڈاکٹر عامر اقبال(جھنگ)، طالب حسین کوثری( فیصل آباد) ،ڈاکٹر عارف حسین عارف( فیصل آباد )،ڈاکٹرمشرف حسین انجم (سرگودھا )،ڈاکٹر رحمت عزیز خان( چترال)، ڈاکٹر نوید عاجز (پاکپتن)، ڈاکٹر محمد انصر جاوید گھمن (سیالکوٹ)، ڈاکٹر روبینہ پروین (اسلام آباد)، ڈاکٹر غزل یعقوب (اسلام آباد) ،پروفیسر فوزیہ سلطانہ (بھمبھر آزاد کشمیر)،پروفیسر محمد ارشد راہی، محمد جمیل کاچوخیل(مالاکنڈ)، عبدالرحیم بھٹی( ہزارہ)، اخوانزدہ شاہ سعوددیشانوی(چار سدہ)، فرحانہ عنبر( گوجرانوالہ)،منان لطیف(فیصل آباد)، محمد سجاد صفدر(فیصل آباد)،حمزہ محبوب(فیصل آباد)،ارشد ابرار ارشد(تونسہ شریف) ، مہ جبین (لاہور)، ارحم روحان( اسلام آباد)، عینی عرفان(کراچی) اور فاکہہ قمر(سیالکوٹ)شامل تھیں۔
    پروفیسر اصغر سودائی ایوارڈ برائے تعلیمی خدمات ڈاکٹر فضیلت بانو(لاہور)، ملک عظمان احمد (سیالکوٹ)، ڈاکٹر عبدالرحمن (سیالکوٹ)، عاشق حسین صدیقی(سیالکوٹ)، ضیاء الحق (سیالکوٹ)، ڈاکٹر تنویر ہما انصاری(جام شورو سندھ)،مصباح شاہین (سیالکوٹ)، شبیر رضا( پسرور)، سید ندیم الحسن گیلانی( سیالکوٹ)، عدنان احمد راؤ(سیالکوٹ)، تنویر احمد(سمبڑیال)، سلبسیل افتخار چیمہ(سیالکوٹ)،عرفہ مزمل سرور(سیالکوٹ)،محمد حنیف طیب( سیالکوٹ)، رابیل بٹ(سیالکوٹ)،حفصہ خالد (لاہور)،حافظ ملک جمشید (ایبٹ آباد )،سدرہ منور(سیالکوٹ) اور ثمرینہ عبدالمجید(سیالکوٹ)کو پیش کیا گیا ۔
    شو کمار بٹالوی ایوارڈز برائے پنجابی حاصل کرنے والی شخصیات میں ڈاکٹر محمد ایوب (فیصل آباد) ، آصف علی علوی (سیالکوٹ)،مقصود یاور(گوجرانوالہ)،ارشد اعوان (سپین) اورعلی احمد گجراتی( گجرات) شامل تھے۔امجد اسلام امجد ایوارڈ برائے علمی وادبی خدمات وصول کرنے والی شخصیات میں شفقت حیات شفیق (ٹیکسلا)، تسنیم کوثر (لاہور)، عروج دورانی (لاہور)، نصیر اللہ ناصر (لوئر چترال)، رباب ملک (چکوال)، رودابہ عیسی خان (اپرچترال)، سیدہ سعدیہ ظفر جیلانی( فیصل آباد) اورشمیمہ عندلیب(ملتان) شامل تھیں۔ مولانا ظفر علی خان ایوارڈ برائے صحافت طلال فرحت(کراچی)،جنید آفتاب (سیالکوٹ)،خالد لطیف(سیالکوٹ)، شہباز باجوہ(سیالکوٹ)، حسنین پاشا (سیالکوٹ) اور خضر شیخ (سیالکوٹ)نے وصول کیا۔


    مولوی میر حسن ایوارڈ برائے دینی خدمات قاری لیاقت علی باجوہ (سیالکوٹ)، علامہ نصیر القادری(سیالکوٹ)، زبیر احمد صدیقی(چونڈہ )شامل تھے۔خواجہ محمدطفیل ایوارڈ رائے سماجی خدمات محمداعجازغوری(سیالکوٹ)،انجینئر فیضان الحق مرزا (سیالکوٹ)،ڈاکٹر چوہدری تنویرسرور (لاہور)،حفصہ خان (رحیم یار خان )شامل ہیں۔

  • اولاد کبھی دوستوں میں جا کر نہیں بگڑتی

    اولاد کبھی دوستوں میں جا کر نہیں بگڑتی

    اولاد کبھی دوستوں میں جا کر نہیں بگڑتی

    فیصل جنجوعہ

    ایک بڑی تعداد ہے ایسے لوگوں کی جو کہتے ہیں ہمارا بچہ دوستوں میں رہ کر بگڑ گیا ہے، باہر کے ماحول نے اسے بگاڑ دیا یے، بچہ جھوٹ بولے تو دوستوں نے سکھایا، بدتمیزی کرے تو دوستوں نے سکھایا، بچہ گالی دے تو دوستوں نے سکھایا ہے، یقین جانیں یہ سوچ ہی غلط ہے۔۔۔!!

    درحقیقت بچے کے بگڑنے کی وجہ والدین کے اپنے فرائض کی عدم ادایئگی ہے، شروع سے ہی بچے کی تربیت کو اہم فریضہ سمجھا جاتا، بچے کی پرورش کو اولین ترجیح دی جاتی تو یہ بچہ دوستوں میں جا کر کبھی خراب نہیں ہوتا بلکہ دوستوں کی اصلاح کا سبب بنتا۔۔۔!!!

    بچہ پیدا ہوتے ہی دوستوں میں نہیں جا بیٹھتا، پیدا ہوتے ہی اسکے دوست اسے لینے نہیں آجاتے، پیدا ہوتے ہی آوارہ گردی شروع نہیں کرتا، پیدا ہوتے ہی سگریٹ نہیں پکڑتا، کم و بیش شروع کے دس سال تک بچہ مکمل والدین کے ساتھ اٹیچ ہوتا ہے اور یہی وہ دورانیہ ہے جہاں اکثر و بیشتر والدین نہایت عدم توجہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔۔۔!!!

    بچہ جب پیدا ہوتا یے اسکا دل و دماغ بلکل کورا کاغذ ہوتا ہے کہ جو دیکھے گا سنے گا وہ اس پر چھپتا چلا جاۓ گا، اب ہم نے اس کاغذ پر کچھ نہیں لکھا زمانہ لکھتا چلا گیا، اگر ہم بچپن میں ہی اپنی تربیت اس کاغذ پر اتار دیتے تو زمانے کو برایئاں اتارنے واسطے جگہ ہی نا ملتی۔۔۔!!!

    جب ماں اور باپ نے اپنی تربیت شروع میں ہی بچے کے اندر اتار دی تو یہ بچہ خراب لوگوں سے مل کر خود کبھی خراب نہیں ہوگا بلکہ خراب لوگوں کے لیۓ اصلاح کا سبب بنے گا۔۔۔!!!

    ہمارے معاشرے میں تربیت کے نام پر رسمی جملے دہراۓ جاتے ہیں، بیٹا جھوٹ نہیں بولنا بری عادت ہے، بدتمیزی کرنا بری عادت ہے اور یہ رسمی جملے کبھی بچے کے اندر نہیں اترتے بلکہ نہایت ذمہ داری کے ساتھ، غور و فکر کے ساتھ اور دلچسپی سے کی جانے والی تربیت کو بچہ اپنے اندر اتارتا ہے،

    ہم معاشرہ دیکھ لیں ہر والدین بچے کو رٹے رٹاۓ جملے سکھاتے ہیں لیکن فائدہ کوئی نہیں، اور اسکی وجہ یہی کہ تربیت واسطے فکرمند نہیں، دلچسپی نہیں، ہاں سیکھ جاۓ گا، سمجھ جاۓ گا، ابھی چھوٹا ہے، اور اسی سوچ نے بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے۔۔۔!!!

    ٹی وی سیریل اور فلمیں موبائل دیکھتے ہوۓ مائیں بچوں کو دودھ پلارہی ہیں، ایک ہاتھ میں بچے کا فیڈر ہے تو دوسرے ہاتھ میں موبائل ہے، ذرا سا بچہ رونے لگ جاۓ تو ٹی وی کھول کر دے دیں گے، موبائل ہاتھ میں دے دیں گے، اسے کارٹون لگا دیں گے، کوئ موسیقی سن کر بچہ ہاتھ پیر ہلانے لگ جاۓ تو سارے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے، اب وہ ماں اپنے بچے کی اعلی پرورش کیسے کرسکتی ہیں جو کہ اسکی خود کی زندگی ڈرامے، فلمیں، موسیقی، شاپنگ، گھومنا گھمانا، موبائل فیس بک واٹس ایپ تک محدود ہو۔۔۔!!!

    ایک نظر باپ کی ذمہ داریوں پر ڈالیں تو بس وہی رسمی معاملات کہ بچے کے خرچے پورے ہورہے ہیں، ضروریات و خواہشات پوری ہورہی ہیں، پورا دن کام میں مصروف، گھر آۓ کھانا کھایا، بچے کو ایک راؤنڈ لگوا کر پھر دوستوں میں مصروف، اور پھر گھر آکر موبائل میں مصروف، اسی طرح دن پھر ہفتے اور پھر سال گذر جاتے ہیں لہذا اس بچے کی تربیت کا جو سب سے اہم دورانیہ تھا وہ والدین نے اپنی ہی مصروفیات، اپنی ہی مستیوں میں ضائع کردیا بعد میں سر پکڑ بیٹھے کہ اولاد نا فرمان ہے، اولاد بدتمیز ہے، دوستوں نے بگاڑ دیا، ماحول نے خراب کردیا، ارے بھئ ماحول کے ساتھ تو وہ بعد میں جڑا یے، دوست تو اسکے بعد میں بنے ہیں، اتنے سالوں سے تو وہ آپ ہی کے پاس تھا۔۔۔!!!

    ماں اور باپ دونوں کو مل کر ذمہ داری کے ساتھ بچے کی تربیت کرنی ہوگی ، اپنے آپ کو لگانا ہے، اپنے آپ کو کھپانا ہے، اولاد کی تربیت واسطے ماں کی گود سب سے پہلی اور اہم درسگاہ ہے کہ ماں اسے سینے سے لگاۓ اپنی تربیت بچے میں منتقل کرے، اسے اللہ کی پہچان کرواۓ، اسے رسول اللہﷺ کی پہچان کرواۓ، اسے دنیا میں آنے کا مقصد سمجھاۓ، اسے روز مرہ معاملات کی دعایئں سکھاۓ۔
    سچ سے محبت سچ میں عزت سچ پر فضیلت اسکے دل میں اتارے۔
    جھوٹ سے نفرت، جھوٹ میں شرمندگی، جھوٹ پر گناہ کا یقین اسکے دل میں اتارے۔
    گالی، غیبت، چغلی اور بری باتوں سے نفرت اسکے دل میں اتارے۔
    رشتہ داروں سے محبت اور حسن سلوک اسکے دل میں اتارے۔
    جب ماں کے اندر دین ہوگا، ماں کے اخلاق اچھے ہونگے تو یہاں نسلوں کی نسلیں پروان چڑھیں گی۔۔۔!!!

    اولاد کبھی دوستوں میں جا کر نہیں بگڑتی

    اسی طرح باپ ہے کہ روزانہ بچے کے ساتھ بیٹھ کر کچھ وقت گزارے۔
    روز مرہ کے معاملات کا پوچھے۔
    صحیح غلط کی پہچان کرواۓ۔
    بڑوں کا ادب، بڑوں کی عزت سمجھاۓ۔
    غریبوں سے محبت، ضرورت مند کی مدد کا جذبہ اور شوق اسکے اندر پیدا کریں۔
    اسکے سامنے یہ ٹیلیویژن موبائل ڈرامے فلمیں وغیرہ کا استعمال بلکل نا ہو۔
    اسکے سامنے لڑائی جھگڑے گالم گلوچ شور شرابہ بلکل نا ہو۔
    بچے کے سامنے سب سے آپ جناب سے بات کریں۔
    بچہ ذرا بڑا ہوجاۓ تو اسے نماز پر اپنے ساتھ لیکر جاۓ، اسے لوگوں سے ملنا جلنا سکھاۓ۔
    اچھے کام پر اسکی حوصلہ افزائی ہو، فارغ اوقات میں پاس بٹھا کر رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام کے واقعات سناۓ۔۔۔!!!

    ایسے ماحول سے نکل کر آپ کا شہزادہ جب باہر کی دنیا میں آتا ہے تو کبھی باہر کے لوگوں سے خراب ہوکر نہیں آۓ گا بلکہ انکے لیۓ اصلاح کا سبب بنے گا، انکے لیۓ خیر کا سبب بنے گا، جہاں جاۓ گا اپنی اچھائی چھوڑ آۓ گا، جہاں جاۓ گا والدین کا نام چھوڑ کر آۓ گا۔۔۔!!!

    اور یہ شہزادہ دنیا میں تو والدین کے لیۓ سربلندی کا باعث بنتا ہی ہے لیکن اپنے اچھے اعمال و کردار کی بدولت والدین کے انتقال کے بعد قبر میں بھی انکے لیۓ راحت و سکون کا ذریعہ بنے گا۔۔۔!!!

  • کتاب “ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی جہات”

    کتاب "ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی جہات”

    محمد عثمان چشتی پھلروان کی کتاب "ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی جہات”: بہترین تحقیقی کاوش

    محمد عثمان چشتی پھلروان کی تحقیقی کتاب "ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی جہات” ایک بہترین علمی اور تحقیقی کاوش ہے جسے مہر گرافکس اینڈ پبلشرز فیصل آباد نے شائع کیا ہے، یہ کتاب ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی کاوشوں اور ان کے احوال و آثار کی ایک جامع تحقیق پیش کرتی ہے۔ مصنف نے کتاب کا انتساب ڈاکٹر مخدوم سید محمد حبیب عرفانی چشتی کے نام منسوب کیا ہے۔ یہ تحقیقی کتاب کل 164 صفحات پر محیط ہے اور ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کے حالات زندگی اور علم و ادب میں انجام دیئے گئے بے مثال خدمات کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتی ہے۔
    پیش لفظ میں مصنف نے ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی میراث کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس تحقیقی کتاب کی اشاعت کے محرکات پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر شفیع کی زندگی اور کاموں کی تصویر کشی میں تفصیل پر باریک بینی سے توجہ ان کی ادبی کامیابیوں کے تحفظ اور ان کی عزت و احترام کے لیے مصنف کی لگن کی عکاسی کرتی ہے۔
    کتاب کی ساخت کو الگ الگ تفصیلی ابواب میں ترتیب دیا گیا ہے، ہر ایک باب ڈاکٹر افتخار شفیع کی کثیر جہتی ادبی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔ ابتدائی باب ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی سوانح عمری اور ادبی خدمات کے بارے جامع معلومات فراہم کرتا ہے، جس میں ان کی زندگی کے سفر اور ان کی ادبی کوششوں کو تشکیل دینے والے اثرات کے بارے میں تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

    کتاب “ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی جہات”


    اس کے بعد کے ابواب ڈاکٹر شفیع کے شاعرانہ رجحانات، ایک ادبی نقاد کے طور پر ان کی صلاحیتوں اور ایک مترجم کے طور پر ان کی خدمات کو بیان کرتے ہیں۔ باریک بینی سے تحقیق اور تجزیے کے ذریعے کتاب کے مصنف محمد عثمان چشتی پھلروان نے ڈاکٹر افتخار شفیع کے ادبی مجموعے کا ایک جامع نظریہ پیش کیا ہے،کتاب میں مصنف نے افتخار شفیع کی اردو شاعری، تنقیدی نقطہ نظر اور تراجم کی باریکیوں کو وضاحت سے بیان کیا ہے۔
    محمد عثمان چشتی پھلروان کی اپنی ادبی خدمات، جن میں "بہار ادب،” "ملا قاتین،” "گلستان نعت،” "گلشن ادب،” "اچیچی گل بات” اور "ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی جہاد” جیسی کتابیں شامل ہیں، یہ کتابیں ان کی علم و ادب کے لیے انجام دی جانے والی خدمات کی گہرائیوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ اردو ادب اور علمی مشاغل سے ان کی وابستگی نے انہیں ادب کے بڑے بڑے ناموں میں شامل کیا ہے۔


    یہ کتاب مصنف کی علمی تحقیق اور اردو ادب کے ڈاکٹر محمد افتخار شفیع جیسے ادبی محسنوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے ان کے عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی میراث کا ایک جامع فنی و فکری جائزہ پیش کرتے ہوئے مصنف نے اردو ادب سے متعلق گفتگو کو مزید تقویت بخشنے کی کوشش کی ہے اور اپنی اس تحقیقی کاوش سے اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی خدمات کو صحیح معنوں میں تسلیم کیا جائے اور علم و ادب کے لیے انجام دی جانے والی خدمات پر ان کا جشن منایا جائے۔
    خلاصہ کلام یہ ہے کہ مصنف محمد عثمان چشتی پھلروان کی تحقیقی کتاب "ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کی ادبی جہاد” اردو زبان کے ادبی منظر نامے میں ایک قابل قدر اضافہ کے طور پر ہمارے سامنے ہے، جو قارئین کو ڈاکٹر شفیع کی کثیر جہتی ادبی شخصیت کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کرتا ہے۔ محمد عثمان پھلروان چشتی کا تجزیاتی نقطہ نظر اور بصیرت افروز تبصرہ اس کتاب کو اسکالرز، طلبہ اور اردو ادب کے شائقین کے لیے ایک ناگزیر وسیلہ اور بہترین حوالہ بناتا ہے۔ جسے سامنے رکھا کر ریسرچ اسکالرز ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کے بارے میں مزید تحقیقی مقالے لکھ سکتے ہیں۔ میں مصنف کو اس تحقیقی کاوش پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔