ڈاکٹر عارفہ شہزاد کی کتاب "انگریزی میں اردو ادب کی تنقید” کا تجزیاتی مطالعہ
ڈاکٹر عارفہ شہزاد کی کتاب "انگریزی میں اردو ادب کی تنقید” انگریزی زبان کے دائرہ کار میں اردو ادب کے تنقیدی تجزیے کا احاطہ کرتی ہے۔ باریک بینی سے تحقیق کے ذریعے ڈاکٹر عارفہ شہزاد صاحبہ قارئین کو اردو ادبی تنقید کی مختلف جہتوں کے بارے میں ایک جامع معلومات پر مبنی تحقیقی کتاب فراہم کی ہے۔ کتاب کا آغاز ایک تفصیلی پیش لفظ سے ہوتا ہے، جس میں اس تحقیقی کتاب کو لکھنے کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ کتاب میں شامل تمام مضامین کو ایک بہترین طریقہ کار سے ترتیب دیا گیا ہے، جس سے قارئین اردو ادبی تنقید کے مختلف پہلوؤں سے روشناس ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عارفہ شہزاد نے مجموعی طور پر ادبی مضامین کی چھان بین کرتے ہوئے بعد میں ہونے والی تحقیق کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا ہے۔ کتاب کے قابل ذکر حصوں میں سے ایک اردو شاعری کا تنقیدی حصہ ہے، جہاں ڈاکٹر عارفہ شہزاد نے شاعرانہ اظہار کی باریکیوں کا فنی، فکری اور تنقیدی تجزیہ پیش کیا ہے اور خصوصی طور پر اردو ادب کے اندر شعری روایات کے ارتقا کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ ادب کی کلاسیکی شکلوں سے لے کر عصری رجحانات تک ڈاکٹر عارفہ شہزاد نے اردو شاعری کا فنی و فکری جائزہ لیا ہے۔
کتاب میں نمایاں کیا گیا ایک اہم پہلو تنقیدی نقطہ نظر کے باہم مربوط ہونے اور ادبی تشریح پر ان کے اثرات کو اجاگر کرنے کی کوشش ہے۔ محتاط تجزیے کے ذریعے ڈاکٹر عارفہ شہزاد ادبی تنقید کی حرکیات کو واضح کرتے ہوئے ادبی گفتگو کی تشکیل میں اس کے کردار پر زور دیتی ہیں۔ مزید برآں یہ کتاب اقبالیات اور تنقیدی مطالعہ پر بھر پور روشنی ڈالتی ہے، جس میں علامہ اقبال کی تخلیقات اور ان کی فکری میراث کے تنقیدی استقبال اور تشریح کے بارے میں تحقیقی مضامین پیش کیے گئے ہیں۔ کتاب کا یہ حصہ اقبال کے افکار کی مستقل مطابقت اور اردو ادبی حلقوں میں ان کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ڈاکٹر عارفہ شہزاد نے اردو نثر کا بھی تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اردو نثری ادب میں بیانیہ تکنیکوں، موضوعاتی خدشات اور اسلوبیاتی اختراعات کی پیچیدگیوں سے پردہ اٹھانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ کلاسیکی شاہکاروں سے لے کر عصری کاموں تک ڈاکٹر عارفہ شہزاد اردو نثری تنقید کا ایک جامع جائزہ پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس کتاب کے ذریعے مصنف تحقیقی و تخلیقی دائرہ کار کو اردو ادبی تنقید کے متفرق جہتوں تک پھیلانے کی بھر پور کوشش کی ہے، جس میں مختلف مضامین جیسے بچوں کا ادب، تنقیدی یادداشتیں، اور تنقیدی کاموں کے اردو سے انگریزی میں تراجم اور دیگر موضوعات شامل ہیں۔ یہ انتخابی نقطہ نظر مختلف اصناف اور ذرائع میں اردو ادبی تنقید کے تنوع اور بھرپوریت کو واضح کرتا ہے۔ کتاب کے آخری صفحات کے ضمیمہ کے حصے میں ڈاکٹر عارفہ شہزاد 2011 سے 2015 کے دوران شائع ہونے والی کتابوں کا انتخاب بھی پیش کرنے کے ساتھ ساتھ وہ غیر دستیاب کتابوں اور شاہکار کتابوں کی تالیف اور قارئین کو مزید تلاش کے لیے قیمتی حوالہ جات فراہم کرنے کے لیے مستند حوالے بھی کتاب میں شامل کیے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ ڈاکٹر عارفہ شہزاد کی تحقیق پر مبنی کتاب "انگریزی میں اردو ادب کی تنقید” انگریزی زبان کے دائرہ کار میں اردو ادبی تنقید کے لیے ایک اہم تحقیقی حوالے کی مستند کتاب کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ یہ کتاب اردو ادب اور اس کے تنقیدی گفتگو کے بارے میں ان قارئین اور محققین کی سمجھ اور علم کو مزید تقویت بخشنے کے ساتھ ساتھ اسے اہل علم، محققین اور شائقین کے لیے ایک ناگزیر وسیلہ اور بہترین حوالہ بناتی ہے۔ کتاب کی فہرست کے مطابق مندرجہ ذیل موضوعات کو شامل کیا گیا ہے:- اردو ادب کی بحیثیت مجموعی تنقید، اردو شاعری کی تنقید، تنقید به سلسله غالبیات، تنقید به سلسله اقبالیات، اردو نثر کی تنقید، متفرق جہتیں، اردو ادب کے جزوی مطالعات پر مبنی کتب، چند متفرق موضوعات، (1) بچوں کا ادب، (ب) تنقید نگاروں پر کتب، (ج) یادگاری کتب، غیر ملکی زبانوں سے انگریزی زبان میں مترجمہ تنقیدی کتب،اردو سے انگریزی زبان میں مترجمہ تنقیدی کتب، محاکمہ، ضمیمه، ۲۰۱۱ء سے ۲۰۱۵ء کے دوران میں شائع ہونے والی کتب، (ب) دستیاب نہ ہو سکنے والی کتب اور آخر میں ماخذ و مصادر شامل کیے گئے ہیں۔
تبصرہ کتاب:۔ عَلم توں قَلم تک تبصرہ نگار:۔ سید حبدار قاٸم
صوتی ترنگ سے آشنا ارشاد ڈیروی نہ صرف بہترین شاعر ہیں بل کہ ایک اچھے نثر نگار بھی ہیں جن کی نثر نگاری شوقِ مطالعہ کو فروغ دیتی ہے اور قاری کو کتاب بینی کی طرف ماٸل کرتی ہے آپ محلہ نورنگ آباد بلاک 52 ڈیرہ غازی خان میں 1967 کو پیدا ہوٸے آپ نے چوداں کتابیں تصنیف کیں جن میں دو کتابیں نثر کی جب کہ بارہ کتابیں شاعری کی ہیں بارہ کتابوں میں آٹھ کتابیں کربلاٸی ادب پر محیط ہیں جو ان کی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہل بیت سے مودت کا بہترین اظہاریہ ہیں علم و ادب سے 1985 میں منسلک ہوٸے تو آپ کو ادب میں جناب عزتِ مآب واحد علوی مرحوم جیسے بلند پایہ استاد ملے جنہوں نے آپ کو ایسا تراشا کہ آپ گوہرِ نایاب ہوٸے آپ لفظ آشنا ہیں اور ماں بولی زباں کی ترویج میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں
آپ کی نثر نگاری بہت رواں دواں اور پختہ ہے الفاظ انتہاٸی سلیقے سے برتتے ہیں جن سے ادب کا معیار بڑھتا ہے اور قاری کی آگہی بڑھتی ہے ہر مضمون میں آپ کا رنگ جدا ہے آپ کا تنقیدی مضمون اس چیز کا ثبوت ہے کہ آپ حق گوٸی و بے باکی کے علمدار بھی ہیں میں نے جب بھی آپ سے بات چیت کی بہت لطف محسوس کیا کیونکہ آپ شیریں سخن ہیں دوستوں کے دوست ہیں اور محبت بھی بے لوث کرتے ہیں انسانیت کا درد رکھنے والے ہیں اور سُچے موتی کی طرح ہیں آپ جیسے لوگ نایاب ہوتے ہیں آپ کی کتاب "عَلم توں قلم تک” میں جن ارباب علم و دانش نے مضامین لکھے ہیں ان میں پروفیسر مرید عباس عارف ڈاکٹر سید مشتاق مہدی ڈاکٹر محمد ایوب معظمہ نقوی اور پروفیسر سید عاصم بخاری شامل ہیں جن سب نے آپ کی نثر کو بھی سراہا ہے ارشاد ڈیروی صاحب سے میری ملاقات سوشل میڈیا پر ہوٸی اور بعد میں شہزاد افق کے ایوارڈ شو میں روبرو ملاقات ہوٸی جس میں انہوں نے مجھے اپنی کتابوں کے گراں قدر تحفہ سے نوازا جنہیں پڑھ کر ان کی ادبی خدمات کا پتہ چلا دوستوں میں مفت کتابیں دینے والے ادیب ہیں جو کہ ادب پروری اور فروغِ ادب کی عمدہ مثال ہے دنیا میں ایسے درویش لوگوں کی کمی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ آلِ رسول ﷺ کا جتنا احترام آپ کرتے ہیں میں نے دوسرے ادبا میں کم ہی دیکھا ہے شہد آگیں مزاج ارشاد ڈیروی دلوں میں بستے ہیں ان کا میں دل سے احترام کرتا ہوں اور ان کی میٹھی گفتگو سن کر میرے آنسو آ جاتے ہیں
اپنی کتاب "عَلَم توں قَلم تک” کے پہلے مضمون "سانجھا ڈکھ ہے کربلا کا” میں جس قرینے سے کربلا کا منظر دکھایا ہے وہ ایک مدلل اور بہترین انداز ہے مضمون پڑھ کر آپ کی علمی بصیرت اور آگہی کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے اس میں بہت ساری کتابوں کے حوالہ جات پڑھ کر آپ کے وسیع مطالعہ کی داد دینی پڑتی ہیں حالانکہ اِس دور میں محقق اور ادیب سنی سناٸی بات لکھ دیتے ہیں جو کٸی معاسرتی اور مذہبی مساٸل کو جنم دیتی ہے لیکن ارشاد ڈیروی کا علم اور تحقیق ایسا نہیں کرتی بل کہ وہ ہر جملہ تاریخ سے پڑھ کر اپنے الفاظ میں بیاں کرتے ہیں کربلا کی تاریخ لہو لہو ہے دسویں محرم کے بعد جو پتھر زمین سے اٹھاتے تھے اس کے نیچے سے ابلتا ہوا لہو نکلتا تھا شام کے وقت افق کی سرخی دسویں کے شام سے پہلے کسی نے نہ دیکھی تھی یہ سب علم ارشاد ڈیروی نے تاریخ کی کتابوں سے کشید کر کے ایک مضمون میں سمو دیا ہے جس میں حضرت زعفر جن کا واقعہ بھی شامل ہے دوسرا مضمون ” حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اور فن شاعری” بھی ارشاد صاحب کے وسیع مطالعہ کی دلیل ہے جو مختلف کتابوں سے اکھٹا کیا گیا ہے اور جو مودت اہل بیت عظام سے عقیدتوں کا مظہر ہے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ان شعرا کے لیے مسند چھوڑ دیتے جو کربلا کا غم لکھتے تھے آپ حضرت امام حسین علیہ السلام کا مرثیہ سن کر زارو قطار روتے تھے اور ایسے اشعار سنانے والوں کے لیے بڑے اجر کا وعدہ کرتے تھے ارشاد ڈیروی اس مضمون میں لکھتے ہیں ” امام نے ارشاد فرمایا جس شخص نے حضرت امام حسین کی شان میں شعر کہا اور اگر اس کا شعر سن کر ایک بھی شخص رو پڑا تو اس کا صلہ جنت ہے” تیسرا مضمون حضرت امام رضا علیہ السلام اور مجلس شہدا ٕ کربلا پر مشتمل ہے جس میں علامہ مجلسی کی بحار الانوار کے حوالے سے یہ تحریر ہے کہ جب شاعر اہل بیت حضرت دعبل خزاعیؒ شعر بیاں فرماتے تو حضرت امام رضا علیہ السلام کس طرح گریہ فرماتے اور کیسے اس کو مجلس کی صورت میں بدل دیتے تھے امام نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص ایسی مجالس میں بیٹھے گا جہاں ہمارا ذکر ہو گا اس کا دل کبھی مردہ نہیں ہو گا
تیسرا مضمون ” امام رضا کی مدح سراٸی اور دعبل خزاعی” ہے جس میں حضرت امام رضا علی السلام شاعرِ اہلبیت دعبل خزاعی سے کیسے پیار کرتے تھے جناب دعبل نے سرکار سے کہا کہ میں نے آپ کی شان میں ایک سو بیس اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ لکھا ہے اور میری تمنا ہے کہ میں اسے سب سے پہلے حضور آپ کو سناوں تو سرکار نے کہا کہ سناو جناب دعبل نے قصیدہ پڑھا تو امام رضا نے انعام کے طور پر ایک سو اشرفی کی تھیلی اسے عطا فرماٸی لیکن دعبل شاعر نے آپ کے اترے ہوٸے پرانے کپڑے کا ٹکڑا تبرک کے طور پر لینا پسند کیا حضرت امام رضا علیہ السلام نے کپڑا بھی دے دیا اور رقم بھی دوبارہ عنایت فرماٸی اور اس قصیدے میں اپنی طرف سے ایک شعر کا اضافہ بھی کیا جس میں آپ نے اپنی شہادت اور قبر کے متعلق پیش گوٸی فرماٸی تھی یہ واقعہ تاریخ نے محفوظ کیا جسے ہم تک جناب ارشاد ڈیروی نے دو اشعار کے ساتھ پہنچایا ہے جسے پڑھ کر ہمارا مودت اہل بیت کا شجر مزید گھنا اور مضبوط ہو گیا ہے ارشاد صاحب کی تاریخ بینی بھی کربلا کے لہو سے معطر ہے جس کی خوشبو سفر کرتے ہوٸے ہم تک پہنچ رہی ہے اور روح کی تقویت کا باعث بن رہی ہے چوتھا مضمون ” مدرسے دی سنجان” ہے جس میں کربلا کا واقعہ نوحے کی صورت میں لکھنے والے وسیب کے شاعر حسین گوہر کا ذکر ہے ارشاد ڈیروی نے حسین گوہر کو مدرسے کی سنجان قرار دے کر ان کا مان بڑھایا ہے پانچواں مضمون ” تقریظ و تحقیق” جس میں ارشاد ڈیروی صاحب نے معروف شاعر محقق کالم نگار اور صحافی سید مبارک علی شمسی کی نعت گوٸی پر جامع مضمون لکھا ہے شاہ جی ایک شعر میں کہتے ہیں:۔
الفاظ میڈے سامنے ہتھ بدھ کے کھڑے ہن شمسی ہے میڈی نعت دا عنوان مدینہ اس مضمون میں سید مبارک شمسی کی نعت گوٸی کی اسلوبیاتی صباحت اور محاسن پر بات چیت ہے اور انہیں وسیب کی نعت گوٸی کا گلستان سیراب کرنے پر حرف تحسین سے نوازا گیا ہے چھٹا مضمون آفتابِ سخن ہے جس میں حاجی فقیر اثر انصاری کو سراٸیکی میں قرآن کا ترجمہ لکھنے پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے ساتواں مضمون تلمیحات دی خوشبو ہے آٹھواں معراج عقیدت دا ادراک اور نواں مضمون بیاض محسن ہے جس میں محسن نقوی کی ادبی خدمات کو سراہا گیا ہے اور انہیں اپنے وسیب کی پہچان کہا گیا ہے دسواں مضمون لکھن دا سنہپ ہے گیارہواں مضمون کربلا دے پچھوکڑ ہے بارہواں مضمون دعوٰی ہے تیرہواں خیانت دار شاعر چودہواں علامہ صاٸم چشتی اور عشق علی پندرہواں اہل تشیع کا قومی ترانہ اور آخری حسینی قلندر ہے اگر سب کی تفصیل لکھوں تو مجھے طوالت کا خوف دامن گیر ہے اس لیے یہاں پر تبصرہ ختم کرتا ہوں ارشاد ڈیروی صاحب ایک ادب پرور شخصیت ہیں جو نہ صرف شاعر ہیں بل کہ اچھے نثر نگار بھی ہیں میں اللہ کی بارگاہ میں ان کے لیے دعا گو ہوں کہ وہ اسی طرح ادب کی خدمت کرتے رہیں اور اپنے وسیب کی شان بڑھاتے رہیں۔آمین
معروف شاعر و ادیب اور محقق و مورخ مقبول زکی مقبول منکیرہ بھکر کی کتاب شذرات ِ مقبول مارکیٹ میں آگئی ہے۔
بھکر (نمائندہ خصوصی)معروف شاعر و ادیب مقبول ذکی مقبول کی کتاب شذراتِ مقبول مارکیٹ میں آگئی ہے معروف ادبی شخصیات اور ان کی کتب پر مضامین و تبصرے لکھے گئے ہیں تونسہ شریف ، لیہ ، بھکر اور دیگر شہروں سے قلم کاروں پر تحقیق و تنقید کی گئی ہے جن کی تعداد 28 ہے اور آخر میں ضلع بھکر کا ادبی جائزہ برائے سال 2023ء بھی شاملِ کتاب ہے پروفیسر و ڈاکٹر صاحبان کی آراء جو کہ مقبول ذکی مقبول کے فن اور شخصیت کے حوالے سے شاملِ کتاب ہیں ۔یاد رہے یہ مقبول ذکی مقبول کی چھٹی کتاب ہے اس سے قبل پانچ کتابیں منصہء شہود پر آچکی ہیں علمی و ادبی حلقوں اور عوام میں پزیرائی حاصل کر چکی ہیں۔ علاوہ ازیں کچھ اشاعتی سلسلے طباعت و اشاعت کے مراحل میں بھی ہیں۔
شدید دھند کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے دفتر سے چھٹی ماری اور گھر بیٹھے مطالعہ میں مصروف ہو گئے۔ باہر دروازے پر دستک ہوئی تو بیٹی بولی ،”بابا جان، باہر شائد رائڈر روٹیاں لایا ہو”
ہم نے دروازہ کھولا تو سامنے ایک عجیب و غریب حلیہ میں شخص کھڑے تھے۔ ہمیں دیکھ کر موصوف ہکالاتے ہوئے بولے جناب اظہر صاحب کا گھر ہے۔ جی محترم بندہ ناچیز کو اظہر عباس کہتے ہیں۔ ہم تو موصوف کا حلیہ دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کہ یہ کس دنیا کی مخلوق ہیں۔ شدید سردی میں بھی سفید کرتہ اور دھوتی زیب تن کئے ساتھ چھبتے سبز رنگ کا کوٹ پہنے، بغیر جراب کے نسواری بوٹ، سر پر سرخ ترکی ٹوپی اور ہاتھ چھڑی لئے موٹی گول شیشوں والی عینک لگائےاور ہاتھ میں ایک پیکٹ کھڑے ہمارا نام دوبارہ کنفرم کرتے ہوئے بولے اظہر عباس کوئٹہ والے! جی محترم اظہرعباس کوئٹہ والے۔ مگر باہر تو مجیٹھا ہاوس لکھا ہے۔ جی ہمارے اباواجداد مجیٹھا امرتسر سے ہجرت کر کے کوئٹہ گئے تھے اس لئے گھر کا نام اپنےبزرگوں کے گاوں کے نام کی مناسبت سے رکھا ہے۔ تو جناب آگے بڑھیں اور گلے لگ کر فخر محسوس کیجئے کیونکہ آپ کسی عام شخصیت سے نہیں محمد توصیف ملک کی جانب سے بھیجے گئے میاں وہمی صاحب سے مل رہے ہیں۔ آپ خوش نصیب ہیں کہ پیکٹ میں موجود کتاب میں خود لے کر حاضر ہوا ہوں۔ مجھے ڈاکیہ پر اعتبار نہیں تھا۔ اور آپ کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ہم میاں وہمی بقلم خود آپ کے پاس چل کر آئیں گے۔
ہم نے تو آپ کی مہمان نوازی کے قصے سن رکھے ہیں اور آپ ہیں کہ ہمیں اندر آنے کا بھی نہیں کہہ رہے۔ میاں وہمی کی یہ تعرف سن کر تو ہم سمجھ گئے کہ پیکٹ میں موجود کتاب محمد ملک توصیف نے نارووال سے بھیجی ہے مگر حیران تھے کہ بھیجی کس نمونے کے ہاتھ ہے۔
اسی دوران رایڈر بھی روٹیاں لے کر پہنچ گیا تھا، روٹیاں دیکھ کر میاں وہمی بولے کمال شخصیت ہے آپ کی ہمارے کھڑے کھڑے روٹیاں بھی منگوا لیں۔ آپ کی مہمان نوازی کا سن رکھا تھا آج دیکھ بھی لیا۔ نمونے نما میاں وہمی کی یہ بات سن کر نہ چاہتے ہوے بھی ہم نے انھیں اندر بلا کیا اور مہمان خانے میں بیٹھا دیا۔
گھر کے اندر داخل ہوے تو بیٹی بولی، بابا جان! روٹیاں آ گئیں کیا؟۔ جی بیٹی روٹیاں بھی آ گئیں اور بن بلائے مہمان بھی نازل ہو گئے ہیں۔محمد توصیف ملک کی کتاب لے کر میاں وہمی خود آن ٹپکے ہیں۔ آپ اور روٹیوں کا آرڈر کر دو اور مہمان خانے میں کھانا بھی بھیجوا دو۔
مہمان خانے میں میاں وہمی ہمارے کتابوں کے ریک کے پاس کھڑے فہیم عالم بھائی کی کتاب چچا تیز گام دیکھ رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر بولے عباس صاحب کھانے میں کیا ہے ہمیں تو دیسی کھانے پسند ہیں۔ یہ سن کر ہمیں غصہ بھی آیا کہ نا جان نا پہچان میں تیرا مہمان اور وہ بھی بے وبال جان منہ پھٹ مہمان۔
میاں جی آپ تشریف رکھیں جو پکا ہے وہ حاضر ہو جائے گا۔ اس گہما گہمی کے دور میں سردی اور دھند کے عالم میں محمد توصیف ملک نے آپ کو کیوں بھیجا ڈاکیہ بھی تو لا سکتا تھا یہ پارسل۔ جی عباس میاں وہ لا سکتا تھا مگر آپ کی مہمان نوازی سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا تھا۔ مجھے تو شہباز اکبر الفت نے کہا تھا کہ جب کھانا کھا لو تو فوری کافی کا مطالبہ کرنا ان کے گھر کی کافی بہت اچھی ہوتی ہے۔ یہ سن کر ہمیں اور بھی غصہ آیا کہ یہ نمونے نما میاں وہمی تو سریش کی طرح چپکنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور شدید غصے میں شہباز اکبر الفت کو دل ہی دل میں کوسنے لگے کہ اگر اب الفت اپنی کتاب "کہانی کار” لے کر آئے گا تو اس کو بغیر چائے کافی کے دروازے ہی سے رخصت کر دیا جائے گا۔ میاں جی آپ شہباز اکبر کو جانتے ہیں!جی عباس میاں وہ آنے سے پہلے میں نے فون پر ان سے آپ کے بارے میں پوچھا تھا۔
الفت تیری تو!!!! دل ہی دل میں ہم شہباز اکبر الفت کو کوسنے لگے۔ اتنے میں کھانا چن دیا گیا تھا اور میاں وہمی ہمارا انتظار کئے بغیر کھانے پر ٹوٹنے کے لئے تیار ہو چکے تھے۔
کھانا کھاتے ہوے میاں وہمی بولے میری تو وسیم کھوکھر ہیڈ مرالہ سے بھی بات ہوئی تھے۔ وسیم کہہ رہے تھے کہ آپ آنے والے مہمانوں کو بحریہ کی سیر کرائے بغیر نہیں آنے دیتے۔ اس لئے کھانے کے بعد آپ کو سیر بھی کرانی پڑے گی۔ یہ سن کے کر ہمارے غصے کی توپوں کا رخ اب وسیم کھوکھر کی جانب ہو گیا تھا۔ دل کیا کہ وسیم کو فون لگاوں اور ایک ہی سانس میں بہت ساری گالیاں اس کی خدمت میں پیش کروں۔
مجھے اس طرح دیکھ کر آپ کو خوشی تو ہوئی ہو گی کیونکہ آپ واحد ادیب ہیں جس کی خدمت میں میں ازخود حاضر ہوا ہوں۔ میاں وہمی کی باتیں سن کر ہمارے اندر غصے کا لاوا پک رہا تھا اور موصوف کہہ رہے تھے کہ ہمیں خوشی ہوئی ہو گی۔
کھانا کھاتے ہوئے اچانک بولے عباس صاحب میٹھے میں کیا ہے؟۔ ان کی اس بے تکلفی پر ہمارے غصہ میں مزید اضافہ ہو گیا۔ مگر مہمان تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں یہ میری ماں نے مجھے سمجھایا تھا،” وہ کہتی تھیں کہ آنے والا مہمان تمہارا کھانے نہیں آتا بلکہ تمہارا رزق لے کر آتا ہے۔ یہ سوچ کر ہمارا غصہ یک دم ختم ہو گیا۔
کھانا کھانے کے بعد میاں وہمی بولے ہمیں شام تک واپس لوٹنا ہے، دھند کا موسم ہے شکرگڑھ کی گاڑی نہیں ملے گی۔ آپ مجھے بحریہ ٹاون کی سیر کروائیں ہم واپسی پر آپ سے کافی پیئں گے اور واپس لوٹ جائیں گے۔ اب آپ ہمیں رات ٹھہرنے کی ضد مت کیجئے گا۔
کھانا کھانے کے بعد ہم نے گاڑی نکالی اور میاں وہمی کو ساتھ لے کر بحریہ ٹاون کی سیر کو نکل گئے۔ سب سے پہلے ہم نے ٹرایفلگار سفاری ویلاز کا رخ کیا۔ میاں وہمی کو یہ جگہ بہت پسند آئی کالے شیروں والی اس جگہ پر میاں وہمی مختلف پوز بنا بنا کر تصاویر بنوانے کی درخواست کرتے رہے۔ ایک ہی طرح کے تعمیر شدہ مکانات دیکھ کر میاں وہمی حیران ہونے لگے۔ اور بولے عباس صاحب یہاں گھروں کے دروازے نظر نہیں آ رہے۔ جی وہمی میاں یہاں سیکورٹی کا بہترین نظام ہے اس لئے گھروں کے دروازے نہیں ہوتے یہاں۔ وہاں سے نکل کر ہم چڑیا گھر پہنچ گئے۔ اس چھوٹے سے چڑیاں گھر میں شیر، بندر، مارخور، ہرن، شترمرغ کے علاوہ مور اور دیگر پرندوں کو دیکھ کر میاں جی بہت خوش ہو رہے تھے اور سلفیوں پے سلفیاں لیے جا رہے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ہمیں بھی تصاویر لینے کی درخواست کئے جا رہے تھے۔
ہم نے گھڑی دیکھی تو میاں جی کو بتایا کہ جناب جلدی کیجئے یہاں موسم سرد ہو رہا ہے اور جلد اندھیرا ہو جائے گا۔ وہاں سے ہم نکلے تو الیگزینڈریا جا پہنچے۔ اہرام مصر کی تہذیب کو دیکھ کر میاں وہمی پرجوش ہو رہے تھے۔ فرعون کے مجسمے ۔۔۔۔ بڑی بڑی بلیاں اور مجسمے دیکھ کر ان کی خوشی دیدنی تھی۔ یہاں بھی مکانات ایک ہی طرز کے بنے ہوے تھے۔ تصاویر کا تقاضہ یہاں بھی جاری رہا۔ ہم وہاں سے نکلے تودنیا کی ساتویں بڑی مسجد پہنچے، خوبصورت مسجد دیکھ کر میاں وہمی کا ایمان تازہ ہو گیا، قرآن اکیڈمی میں نایاب قرآن مجید کے نسخے دیکھ کر بہت مطمئن نظر آ رہے تھے۔ وہاں سے نکلے تو سیدھا ایفل ٹاور پیرس پہنچ گئے۔ اتنا اونچا ٹاور دیکھتے ہوے وہمی میاں کی ترکی ٹوپی گرتے گرتے بچی۔ یہاں وہمی میاں کہنے لگے کہ ہماری ویڈیو بنائیں ہم نے ٹک ٹاک پر لگانی ہے۔ میاں وہمی کی خواہش کو دیکھتے ہوے ہم نے ان کی ویڈیوز بھی بنائیں اور تصاویر بھی۔
بحریہ ٹاون کی سیر کرتے ہوئے میاں وہمی بہت خوش تھے ۔ آلودگی سے پاک صاف ستھرا ماحول دیکھ کر میاں وہمی بولے کہ کیا واقعی ہم پاکستان میں گھوم رہے ہیں۔ یقین نہیں اتا، اتنی صفائی کسی اور جگہ نہیں دیکھی۔ اس سے پہلے کہ شام کے سائے گہرے ہوتے میاں وہمی بولے عباس صاحب چلیں اب گھر چلتے ہیں کافی پی کر واپس ناروال چلتا ہوں۔
ہم نے بھی شکر ادا کیا کہ چلو وہمی میاں سے جان چھوٹے گی۔ اس کے بعد ہم گھر لوٹ آئے۔ کافی پہلے سے تیار تھی۔ کافی پیتے ہوئے۔ میاں وہمی بولے کافی تو واقعی مزےدار ہے۔شہباز اکبر الفت نے جیسا کہا تھا ویسا ہی پایا آپ کو بحریہ ٹاون دیکھ کر دل بہت خوش ہوا مگر افسوس بھی ہوا۔
یااللہ خیر! اب وہمی میاں کو افسوس کس بات کا ہوا ہے۔ ہم نے تو پوری توجہ اور وقت دیا ہے محمد توصیف ملک کے مہمان کو۔
میاں جی دکھ کس بات کا۔۔۔۔! عباس میاں یہاں ترتیب سے بنے خوبصورت طرز تعمیر کےمکانات دیکھے جگہ جگہ پارک دیکھے۔ صاف ستھری سڑکیں دیکھیں خوبصورت پلازہ اور شاپنگ مال دیکھے۔ لندن ، مصر اور پیرس دیکھا۔ دنیا کی ساتویں بڑی مسجد دیکھی، خوبصورت چوراہے اور فاونٹئن دیکھے بچوں کو پارکوں میں کھیلتے دیکھا۔ بزرگوں کو گپ شپ کرتے دیکھا۔ سب کچھ دیکھا مگر افسوس یہاں پبلک لائبریری نہیں دیکھی۔ کاش بحریہ ٹاون میں لائبریری بھی ہوتی۔ پارکوں میں چھوٹے کہانی گھر بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ ان گوشہ کہانی میں لوگ بچوں کو کہانیاں سنا سکتے ہیں۔ کیوں عباس صاحب میں غلط کہہ رہا ہوں کیا؟۔
یہ سن کر ہمیں ہمیں لگا کہ میاں وہمی کچھ کچھ حقیقی بھی ہیں۔ ہم ان کی بات پر ابھی توجہ کر ہی رہے تھے کہ میاں وہمی بولے گاڑی آ رہی ہے اور ہم آپ سے رخصت چاہیں گے۔ آپ کے ساتھ گزرا وقت اچھا رہا۔ محمد توصیف ملک کے لئے کوئی پیغام۔ میاں جی آپ کی آمد کا شکریہ محمد توصیف ملک کی بھیجی کتاب کا شکریہ ادا کیجئے گا اور ان سے کہنا کہ، "اگر وہ چاہتا ہے کہ ان کا کردار امر ہو جائے اپنے کردار میاں وہمی کو ڈرامہ اور انیمیشن کی صورت میں بھی بچوں تک پہنچائے۔”
اتنے میں وہمی میاں کی گاڑی آ چکی تھی وہ ہم سے رخصت ہوئے تو ہم دیر تک سوچتے رہے جسے ہم نمونہ کہہ رہے تھے وہ تو کافی دلچسپ کردار کے مالک ہیں۔ ان کے جانے کے بعد ہم کافی دیر تک ان کے بارے میں سوچتے رہے۔ پھر خیال آیا کہ محمد توصیف ملک کی جانب سے بھیجا گیا تحفہ کھول کر تو دیکھا جائے۔ خوبصورت سرورق کی حامل کتاب میاں وہمی جس میں تیس کہانیاں شامل ہیں ہمارے ہاتھ میں موجود تھی۔ جو خوبصورت مزاح سے بھرپور کردار ان کی تحریروں میں تھا ہم اس سے بالمشافہ مل چکے تھے اور وہ بلکل ویسا ہی تھا جیسا محمد توصیف ملک نے تخلیق کیا ہے۔ کتاب آٹو گراف کے ساتھ ہمیں ملی جس پر محمد توصیف ملک کا شکریہ۔ بچوں کا کتاب گھر نے بہت اہتمام سے شایع کیا اس کتاب کو۔ کتاب انتساب سے لے کر اختتام تک دلچسپ اورمزاح سے بھرپور ہے۔ نذیر انبالوی بھائی نے ادب اطفال کے اس ستارہ کے بارے میں ایک جملہ لکھا ہے،”میاں وہمی آغاز سفر ہے، ابھی محمد توصیف ملک نے اگے،بہت آگے جانا ہے”۔ دلی خواہش ہوگی کہ یہ کردار ڈرامہ اور انیمیشن کی صورت بھی دنیا تک پہنچے۔
نذیر احمد بزمی ایم فل (اُردو) چیئرمین دھریجہ ادبی اکیڈمی دھریجہ نگر، تحصیل خان پور،ضلع رحیم یار خان
اللہ آباد کی دھرتی بہت مردم خیز ہے۔ یہاں کے باسیوں نے اپنی خدا داد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اللہ آباد کا نام روشن کیا۔ خصوصاً سابق ڈپٹی لیڈر آف اپوزیشن پنجاب اسمبلی،اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حاجی محمد سیف اللہ خان اور حضرت کپتان واحد بخش سیال چشتی صابری ربانی رحمۃ اللہ علیہ نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ادبی لحاظ سے بھی اللہ آباد کی بہت سی شخصیات خصوصاً اُردو ادب کے معروف ادیب محمد خالد اختر ، علامہ محمد بشیر اختر اور سید ضیاء الدین نعیم نے اپنی توانا تخلیقات سے دنیائے ادب کو جلا بخشی ہے۔ اللہ آباد کی ادبی شخصیات میں طارق ملک کا نام بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ طارق ملک جن کا اصل نام محمد طارق ہے ، تحصیل لیاقت پور کے مسن قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ان کے دادا ملک اللہ داد مسن قیام پاکستان کے بعد ترنڈہ محمد پناہ کے نواحی موضع سدھوالی کی بستی ” حاجیاں دی وستی "( حاجیاں دی وستی مسن قبیلے پر مشتمل ہے بستی کے بیشتر افراد نے پیدل سفر طے کر کے حج کیے تھےاس لئے یہ بستی حاجیاں دی وستی کے نام سے معروف ہے ۔ ) سے ترکِ سکونت کر کے اللہ آباد میں مقیم ہوئے ، جہاں طارق ملک حاجی عبد القادر مسن کے ہاں 15 جون 1978ء کو پیدا ہوئے۔
شاعر و نثر نگار طارق ملک
طارق ملک نے 1994ء میں گورنمنٹ بوائز سکینڈری سکول اللہ آباد سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔2001ء میں گورنمنٹ بوائز ڈگری کالج لیاقت پور سے گریجوایشن کی۔ بی ایڈ کے بعد وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے اردو (اقبالیات) کر رہے تھے کہ نامساعد حالات کے باعث تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔ طارق ملک زمانہ طالب علمی سے ہی ادبی ذوق کے حامل تھے تاہم اللہ آباد کے معروف شاعر ، ادیب و بابائے صحافت حبیب الرحمٰن مڑل نے جب طارق ملک کو ادبی ماحول فراہم کیا تو وہ بھی شعر کہنے اور نثر لکھنے لگے۔ انہوں نے حبیب الرحمٰن مڑل کے علاوہ ملک کے گراں مایہ شاعر ، ادیب و دانشور سید ضیاء الدین نعیم اور اُردو زبان کے معروف شاعر ظفر حیات ظفر سے بھی کسبِ فیض حاصل کیا۔ طارق ملک 2008ء میں پاکستان کے بڑے گروپ آف نیوز روزنامہ جنگ ملتان اور جیو نیوز سے وابستہ ہوئے اور تا دمِ تحریر اپنی صحافتی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ مختلف موضوعات پر ان کے درجنوں مضامین روزنامہ جنگ ملتان میں شائع ہوئے۔ طارق ملک کی پہلی تصنیف ” تاریخِ ریاست اللہ آباد ” ستمبر 2022ء میں جھوک پبلشرز ملتان سے شائع ہوئی جو ریاست اللہ آباد کی تاریخ ، تہذیب و تمدن ، ادب و ثقافت اور مشاہیر کے تذکروں پر مشتمل ہے اور جو ملک بھر کے ادبی حلقوں میں نہ صرف مقبولِ عام ہوئی بلکہ تاریخ کے طالب علموں پر علم و آگہی کے نئے در بھی وا کیے۔ علاوہ ازیں ان کی دو نثری تصانیف اور ایک شعری مجموعہ بھی زیرِ ترتیب ہے۔ طارق ملک بہت عمدہ شاعری کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں جہاں محبتوں کا پیام ہے وہاں انسانی رویوں کے تلخ تجربات و مشاہدات کا اظہار بھی بہت نمایاں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشاعروں اور ادبی نشستوں میں شرکائے محفل کی سماعتوں میں اپنی مرصع شاعری کا رس گھولتے رہتے ہیں۔ ان کے چند شعر ملاحظہ کیجئے۔ بیچتا ہوں پھول اس کے شہر میں مختصر سا اپنا کاروبار ہے وہ ایک شخص جو آیا ہے ان کے گاؤں سے نجانے کیوں اسے ہر شخص بار بار ملا تم نہ آتے تو مجھے جاں سے گزر جانا تھا تھک چکی تھیں یہ بہت دیر سے چلتی سانسیں ہزار قسم کے رنگوں سے ہے نہایا ہوا تری طرح یہ ترا شہر خوب صورت ہے چشمِ افلاک نے دیکھا ہے یہ کیسا منظر سو گئے لوگ تو پھر ایک دیوانہ جاگا خود کو غلام جان کے بکنے کو آ گئے ہم کو خرید لیجئے قیمت نہ پوچھئے جس کے لئے جیتے رہے مرتے رہے طارق لگتا نہیں اس شخص کو ہم یاد رہیں گے طارق ملک اپنی فکر و خیال کی بہت با وقار شاعری کرتے ہیں۔ ان کی شاعری کے متعلق آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں مقیم پاکستان کی معروف شاعرہ محترمہ نوشی گیلانی لکھتی ہیں کہ ” طارق ملک کی تخلیقات اور موضوعات میں وقار اور اسلوب میں احترام کے عکس ٹھہرے ہوئے محسوس ہوتے ہیں جو ان کے شاعرانہ لب و لہجہ کو معتبر کرتے ہیں۔ان کی شاعری میں کوئی انفرادیت تو ہے جو دامنِ نظر تھام لیتی ہے اور ذوق کو لطف سے ہم آہنگ کرتی ہے۔ طارق ملک کی شاعری میں نرم خو بے ساختگی متاثر کرتی ہے۔ ایک لطیف سادہ دلی ہے جو ان کے شفاف شعور کا پتہ دیتی ہے” طارق ملک کی شاعری میں خیالات کی گہرائی اور رفعتِ خیال دونوں موجود ہیں۔ وہ مانوس استعارے اور تشبیہات کا استعمال اتنی مہارت سے کرتے ہیں کہ شعر کا بنیادی خیال مجروح ہونے کی بجائے مزید نکھر جاتا ہے۔ان کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے کسی ایک موضوع کی پابندی یا مجبوری نہیں ہے۔ موضوعات کی یہی نیرنگی اور تنوع طارق ملک کے سماجی شعور کی پختگی کو آشکار کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں الفاظ کا چناؤ بہت عمدہ اور مصرعوں کی بنت بھی نہایت خوبصورتی سے کی گئی ہے۔ ان کی ایک غزل ملاحظہ فرمائیے۔ اپنے دل کو عشق میں برباد رکھ زندگانی اس طرح آباد رکھ دل یہ تیری دسترس میں دے دیا تیری مرضی شاد رکھ ناشاد رکھ پاؤں چومے گی تمہارے ہر خوشی شرط ہے تو دوسروں کو شاد رکھ خواب ہے یہ زندگانی خواب ہے اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھ خود کو پانا چاہتا ہے تو اگر اپنے اندر عشق کی بنیاد رکھ دل نشیں ہوگا وہ طارق دیکھنا خواہشوں سے اپنا دل آزاد رکھ طارق ملک کی کہی ہوئی آزاد نظمیں جن میں ان کا لا متناہی دردِ آگہی اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے ، دلوں کو چھو لیتی ہیں۔ ان کی ایک مختصر سی آزاد نظم ملاحظہ کیجئے۔ مری سانسوں کی ڈوری سے مرے دل کے جزیرے تک دکھوں کا اک سمندر ہے سمندر خشک ہونے کا کوئی امکاں نہیں ہوتا جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ طارق ملک کی شاعری نہ صرف قومی اخبارات کے ادبی صفحات اور مختلف قومی میگزین میں شائع ہوئی ہے بلکہ ادبی کتب ” رحیم یار خان کا ادبی جائزہ ” ” غزل آفرینی ” ” ہمارے شاعر ” اور ” سخن واران رحیم یار خان ” میں بھی شائع ہو چکی ہے جبکہ معروف گلوکار اور قوال حاجی ظفر اقبال و ہمنوا ، استاد عاشق حسین توکل ، لطافت حسین خان ڈھاڈی ، عمران ساجد ، خوش الحان خواجہ اشتیاق حسین ، سید ناصر حسین شاہ ، غلام عباس آسی ، سجاد گلانی ، صوفی مختار احمد ، نوید احمد عطاری ، بخش درانی ، ملک غلام یٰسین نائچ و دیگر طارق ملک کی شاعری سے اپنی آواز کا جادو جگا چکے ہیں۔ وہ اللہ آباد اور لیاقت پور کی مختلف ادبی تنظیموں بزم ادب اللہ آباد ، دائرہ ادب اللہ آباد ، ہاکڑہ ادبی فورم اللہ آباد اور حلقہ ادب لیاقت پور کے جنرل سیکرٹری کے علاوہ بزمِ احساس لیاقت پور کے جوائنٹ سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں اب جبکہ وہ لیاقت پور کی سب سے معروف ادبی تنظیم ” لیاقت پور ادبی فورم لیاقت پور ” کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے فروغِ ادب کے لئے کوشاں ہیں۔ طارق ملک مختلف تقریبات کے علاوہ انجمن نو جوانانِ اسلام اللہ آباد کے زیرِ اہتمام اللہ آباد میں منعقدہ سالانہ ” کل پاکستان محفلِ نعت ” میں نقابت کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں ۔ ماضی میں انہوں نے ہاکڑہ ادبی فورم اللہ آباد کے زیرِ اہتمام اللہ آباد میں متعدد ادبی نشستیں اور مشاعرے بھی منعقد کرائے ہیں۔ طارق ملک جو دنیائے ادب میں اپنی ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں ان کی ایک غزل ملاحظہ کیجئے۔ لوگ جو بردبار ہوتے ہیں وہ بڑے باوقار ہوتے ہیں اپنے ہونے کا دم نہیں بھرتے اہلِ دل خاکسار ہوتے ہیں جو کسی سے وفا نہیں کرتے اک نہ اک دن وہ خوار ہوتے ہیں حد سے بڑھ کر جو مسکراتے ہیں ان کے دکھ بے شمار ہوتے ہیں ربط رکھتے نہیں جو لوگوں سے بے حسی کا شکار ہوتے ہیں کون دیکھے گا ، کون کھینچے گا تیر جو دل کے پار ہوتے ہیں دل دکھاتے نہیں کسی کا جو اہلِ دل میں شمار ہوتے ہیں خود پسندی بھی اک وبا ٹھہری لوگ جس کا شکار ہوتے ہیں آپ تو عشق کے مخالف ہیں آپ کیوں بے قرار ہوتے ہیں اپنے پہلو میں بیٹھنے دیجئے پھول کے ساتھ خار ہوتے ہیں آئینے ٹوٹتے ہیں جب طارق دل بہت اشکبار ہوتے ہیں
نذیر احمد بزمی ایم فل (اُردو) چیئرمین دھریجہ ادبی اکیڈمی دھریجہ نگر، تحصیل خان پور،ضلع رحیم یار خان
سوال : آپ کا نام پیدائش اور بچپن کے بارے میں معلومات دیں۔۔۔۔۔؟ جواب : نام محمد ایوب پیدائش 15 اگست 1959 فیصل آباد۔ والد حاجی صوبہ خان جو کہ گورنمنٹ لوئر ماڈل اسکول مال لاہور سے فارغ التحصیل تھے۔ والدہ نواب بی بی جو کہ گرورام داس ہائی اسکول امرتسر سے فارغ التحصیل تھیں۔ بچپن فیصل آباد کے علاوہ ساہیوال (تھیال) اور لاہور (دادیال) میں گزارا۔ سوال : آپ کی تعلیم کیا ہے۔۔۔۔۔؟ جواب : میٹرک گورنمنٹ صابریہ سراجیہ ہائی اسکول فیصل آباد۔ ۔ انٹر کی تعلیم 1979ء میں گورنمنٹ میونسپل ڈگری کالج فیصل آباد سے کی۔ 1982ء میں گریجویشن کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر اور 2010ء میں پنجابی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ سوال : ملازمت کا سلسلہ کہاں کہاں رہا۔۔۔۔۔؟ جواب : پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بطور پروفیسر 1988ء میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بہاول نگر سے کیا۔ دوران ملازمت محنت تعلیمی اداروں میں ٹرانسفر ہوتے رہے۔ الحمداللہ اس معلمی سفر میں بھر پور کوشش رہی کہ اس مقدس پیشے میں کوتاہی نہ ہو اور الحمداللہ یہ سفر کامیاب رہا اور2019ء میں معلمی کا یہ سفر اختتام پذیر ہوا۔ 2019ء گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سمن آباد فیصل آباد سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ سوال : ادبی ذوق۔۔۔۔۔؟ جواب : امروز کے پنجابی صفحہ کی وجہ سے ادبی ذوق پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ کالج کے ادبی پروگرام بھی اس ذوق کا باعث بنے۔ سوال : آپ کا ذوقِ مطالعہ۔۔۔۔۔؟ جواب : نثر و شاعری کی کتب چاہیے کسی بھی زبان میں ہوں۔ پڑھتا ہوں۔ خاص کر پنجابی لوک ادب کے بارے پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ اس کے علاوہ سرائیکی اور گوجری کتب پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ سوال : آپ کی نثری خدمات ۔۔۔۔۔؟ جواب : مختلف موضوعات پر 14 کتب شائع ہو چکی ہیں۔ سوال:کیا آپ اپنی کتابوں کے نام بتانا پسند کریں گے۔۔۔۔۔؟ جواب : جی ہاں نمبر 1 خواجہ علی بہادردی کلیات دکھاں دے پندھ دااک فکری ویر واتے لکھاریاں دی پزیرائی (مرتبہ)2012ء نمبر 2 شریف فیاض وزیر آبادی فن اور شخصیت (مرتبہ)2018ء نمبر 3 سوہنے ماہی دے دیس ول(سفر نامہ)2018ء نمبر 4 گوجری زبان و ادب (کھوج)2018ء نمبر 5 تنقیدی ویر وے (پرکھ)2019ء نمبر 6 شہباز دانش شخصیت تے فن (2019ء) نمبر 7 ورثے دی چھاں (کھوج لوک ادب)2019ء نمبر 8 ورثے دی چھاں (دوجا حصہ) (کھوج لوک ادب)2020ء نمبر 9 طب نبوی تے پنجابی ادب (سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)2020ء نمبر 10 سوجھ سار (کھوج تے پرکھ)2020ء نمبر 11 باتاں دادی دیاں (بال ادب، لوک کہانیاں)2021ء نمبر 12 ورثے دی چھاں (تیجا حصہ)(کھوج لوک ادب)2021ء نمبر 13 گل زیب عباس شخصیت تے فن (2021ء) نمبر 14 جیون جاچ سوہنے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم دی سیرت پاک راہیں (سیرت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم)2021ء
سوال : آپ شعر و سخن کی طرف کیوں نہیں آتے۔۔۔۔۔؟ جواب : شاعری میں پہلے صرف صوفیانہ شاعری پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ مگر اب ہر قسم کی شاعری پڑھتا ہوں۔ شاعری کی طرف نہ کبھی دھیان گیا ہے اور نہ ہی اس کا خیال ذہن میں آیا۔ کیونکہ رحجان کھوج کاری اور تنقید نگاری کی طرف ہے۔ مختلف کتب (پنجابی ، سرائیکی، گوجری اور اردو)پر 150 کے قریب تنقیدی مضمون مختلف رسائل میں چھپ چکے ہیں۔ سوال : آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی۔۔۔۔۔؟ جواب : بہاولنگر میں بہاولنگر ادبی پر ہیا کا نائب صدر رہا، بہاولنگر ادبی سنگت کا نائب صدر رہا، اس کے علاوہ کالج رسالہ کا ایڈیٹر (شعبہ پنجابی)رہا۔ فیصل آباد میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج میں بابا فرید ادبی سنگت اور کالج رسالہ، نور محمد کپور تھلوی ادبی سنگت کا نائب صدر، گورنمنٹ کالج سمن آباد، انچارج بابا فرید ادبی سنگت اور کالج رسالہ، آج کل صدر دریچہ ادب فیصل آباد شاخ اور نقیبی کاروان ادب میں نائب صدر کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ میر پور آزاد کشمیر میں گوجری ادبی سنگت کا نائب صدر ہوں۔ سوال : فیصل آباد کا ادبی ماحول۔۔۔۔۔؟ جواب :اگرچہ ہفتہ وار حلقہ اربابِ ذوق کا تنقیدی اجلاس ہوتا ہے۔ مگر میں بہت کم جاتا ہوں۔ وجہ صرف ادب دوست افراد کا پابندی وقت کا خیال نہ رکھنا۔ شہر کے تمام اہل علم و دانش سے اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ مجموعی طور پر ماحول ادب پرور اور نئے لکھنے والوں کےلئے ساز گار ہے سوال : موجودہ ادب۔۔۔۔۔؟ جواب :موجودہ دور میں تخلیق ادب کی رفتار بہت تیز ہے۔ نئے لکھنے کی تعداد میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے۔ نئے نئے موضوعات سامنے آتے ہیں۔ ہیئت میں نئے تجربے بھی ہورہے ہیں۔ مگر نئے لکھنے والوں کا رویہ جس قدر پیار و محبت اور تعاون والا ہونا چاہئے۔ وہ نہیں ہے۔ اپنی ذات کے خول میں بند رہنے کی وجہ سے فن پاروں میں گہرائی نہیں اور معیار ہی نہیں۔
آج کل عام تاثر یہی ہے کہ رسالے کی اشاعت گھاٹے کا سودا ہے۔لیکن یہ رائے قائم کرنے والوں کو عشق کی وہ کہکشاں دکھائی نہیں دیتی جو رسالہ چھاپنے والا دیکھ رہا ہوتا ہے۔اگر اپنی جیب سے خرچ کر کے چند موضوعات و شخصیات کو صدیوں تک محفوظ کر لینا گھاٹے کا سودا ہے تو پھر دوسروں کی جیب کاٹ لینے کو یقیناََ فائدہ مند سمجھا جائے گا۔میں نے اپنے ضلع کی صحافت پر ایک تحقیقی کتاب”ضلع اٹک کے اخبارات و رسائل "لکھی ہے؛اس کتاب کو مرتب کرتے ہوئے مجھے بار بار یہ خیال آتا رہا کہ اخلاص اور محبت سے کیا گیا کام ضائع نہیں جاتا؛جس نے اخلاص سے کسی اخبار یا رسالے کی ایک بھی اشاعت چھاپی ہو ،اہل انظر اور اہل دل کے ہاں اسے شرف قبولیت حاصل ہوتا ہے۔میں چونکہ خود ایک رسالے”ذوق”کا مدیر ہوں ،اس لیے غیر منافع بخش ہوتے ہوئے بھی رسالے کی اشاعت کے ان مفیدمخفی پہلوئوں سے آگاہ ہوں جو سطحی نظر رکھنے والے کو دکھائی نہیں دیتے؛جن میں سب سے بڑا فائدہ”تسکین”ہے؛لیکن اس کے لیے ایک شرط ہے؛وہ یہ کہ مدیر میں”انتخاب "کی صلاحیت اور شعوربہ درجہ اتم ہونے چاہیے۔یہی وہ خوبی ہے جو کسی رسالے کی قدروقیمت کی ضمانت ہے۔”نقوش” کےمحمد طفیل،”فنون” کے احمد ندیم قاسمی اور "اوراق” کے ڈاکٹر وزیر آغا اس کی مثالیں ہیں۔
شعورو دراک کے مدیر محمد یوسف وحید غالباََ ان مفید مخفی پہلوئوں سےآگاہ ہیں ، تب ہی تو ان کے حوصلے نہ صرف بلند ہیں بلکہ وہ "شعوروادراک”کو مزید ترقی دینے کے لیے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ "شعوروادارک”کی علمی خدمات کو "ہائیر ایجوکیشن کمیشن "تسلیم کرے۔”شعور و ادارک”کے”حیدر قریشی: گولڈن جوبلی نمبر”کا مطالعہ کر کے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ محمد یوسف وحید اپنے اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
حیدر قریشی صاحب سے میری دوستی سات آٹھ سال پرانی ہے۔میں ان کی تمام کتب کا مطالعہ کر چکا ہوں۔میں انھیں ان ادیبوں میں شمار کرتا ہوں جو حق سچ بیان کرنے میں پس و پیش نہیں کرتے ۔”ماہیا "کے حوالےسے ان کا کام بہت وقیع ہےجس کا اعتراف "شعور وادراک”کی انتظامیہ نے بھی کیا ہے۔مندرجہ بالا سطور میں میں نے کہیں لکھا تھا کہ مدیر کو تخلیقی،تنقیدی اور تحقیقی موضوعات کے انتخاب کا شعور ہونا چاہیے؛”شعورواداراک”میں شامل موضوعات مدیر کے باشعور ہونے کی دلیل ہیں۔مشمولہ انتخاب نہ صرف حیدر قریشی کی ادبی حیثیت کا اعتراف ہے بلکہ ادب کی دیگر اصناف پر کام کرنے والوں کے لیے بھی بہت مفید ہے۔مثلاََ:دیار غیر میں اردو پر تحقیق کرنے والوں کے لیے ڈاکٹر انورسدید کا مضمون "جرمنی میں پاکستان کا ادبی اور تہذیبی سفیر:حیدر قریشی”بہت کار آمد ہو گا۔روداد نویسی،نظم نگاری اور انشائیہ جیسے موضوعات پر لکھنے والوں کے لیے بھی اس شمارہ میں بہت کچھ ہے۔”اردو ادب اور الیکٹرونک میڈیا”ایسا مضمون ہے جس کی اہمیت اور افادیت میں کبھی کمی نہیں آئے گی کیونکہ اس میں ادب کے اس ارتقا کے متعلق وہ گفتگو کی گئی ہے،جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کی۔
حیدر قریشی کے خطوط کے حوالے سے تشنگی کا احساس ہوتا ہے۔”بنام حیدر قریشی”: محمود ہاشمی کا اپنا خط ہے،اس سے حیدر قریشی کے فن، شخصیت اور اسلوب کا کوئی تعلق نہیں۔رسالے میں انٹرویو منتشر صورت میں ہیں۔بہتر ہوتا اگرانٹرویو کا باب قائم کر کے تمام مکالموں کو اس باب میں رکھا جاتا ؛بہر حال محمدیوسف وحیدداد کے مستحق ہیں کیونکہ مدیر ایک ہوتا ہے اور پڑھنے والے سیکڑوں ہوتے ہیں،ہر ایک کی خواہشات کی تکمیل مدیر کے لیے ممکن ہی نہیں ہوتی۔
یوں تو پاکستان میں کئی علاقائی بولیاں بولی جاتی ہیں لیکن اردو ہماری قومی زبان اور لسانی پہچان ہے ۔ اس کا جنم مغل شہنشاہ شاہ جہان کے زمانے میں دلی میں ہوا اور بقول محمود خان شیرانی ، اردو دلی میں جنمی ، اترپردیش میں بیاہی گئی اور اب بڑھاپا پنجاب میں کاٹ رہی ہے ۔ یہ بات درست ہے یا غلط ، اس بحث میں الجھے بغیر ماننا پڑے گا کہ دنیاء کی قدیم زبانوں کے مقابلے میں اس نوزائیدہ زبان نے جملہ اصناف ادب ، نثر و نظم میں ایسے ایسے روشن ستارے پیدا کئے کہ جو ابدی کہکشاؤں میں ضم ہوجانے کے باوجود آج بھی دنیائے اردو کے آکاش پر جگمگ جگمگ کرتے نظر آتے ہیں ۔
اگر شعراء کی بات کی جائے تو اس زبان کے اولین شعراء ، ولی دکنی اور سراج اورنگ آبادی سے غالب ، میر اور اقبال تک ایک طویل فہرست بنتی ہے ، کہ جن کا کلام اردو ادب کا اثاثہ ہے ، لیکن اس میدان میں کچھ ایسے شاہسوار بھی وارد ہوئے جو آندھی کی طرح آئے اور بگولہ بن کر نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ میرا اشارہ ان شاعروں اور ادیبوں کی طرف ہے جو عین جوانی میں یا جوانی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس دار فانی سے رخصت ہوگئے ۔ اگرچہ یہ لوگ اساتذہ کے درجے پر فائز نہیں لیکن اس قلیل مدتی زندگی میں انہوں نے جو نقوش شاہراہ اردو ادب پر ثبت کئے ، انمٹ اور انمول ہیں ۔ سعادت حسن منٹو جیسا شہنشاہ افسانہ نگاری اور انوکھی طرز تحریر کا مالک وقت سے بہت پہلے چل تو دیا لیکن ہمارے لئے عقل و خرد اور معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی ایسی تحریریں چھوڑ گیا کہ اگر ہم ان پر غور کریں تو بہت ساری گھتھیاں سلجھ سکتی ہیں ۔ ۔ اس دیوتا نے تو کسی طرح زندگی کی پانچویں دھائی میں قدم رکھ ہی لیا تھا جبکہ ملتان کا آنس معین ابھی بارھویں جماعت میں ہی تھا کہ سکھر کے ایک مشاعرے میں جب اس نے اپنا یہ شعر پڑھا ،
” ممکن ہے کہ صدیوں بھی نظر آئے نہ سورج
اس بار اندھیرا میرے اندر سے اٹھا ہے "
تو ، صدر مشاعرہ حضرت جوش ملیح آبادی نے اٹھ کر اس کے ماتھے کو چوما اور سامعین سے مخاطب ہوکر کہا اس بچے کا خیال رکھنا ، وقت سے پہلے اس دنیاء میں آگیا ہے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد اس بچے نے ٹرین کے نیچے لیٹ کر خود کشی کرلی ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ آج کے مضمون کا عنوان بھی ایک ایسے ہی جوہر قابل کی شاعری سے منتخب کیا ہے کہ جو فقط 32 برس اس دنیاء میں مقیم رھا ۔
شکیب جلالی بدایوں کا رہنے والا تھا ہجرت کرکے پاکستان آگیا ۔ پنڈی اور لاھور سے ہوتا ہوا سرگودھا پہنچا اور آنس معین ہی کی طرح نوعمری میں ریل کے آگے لیٹ کر جان دیدی ۔
اس جوانمرگ شاعر کو اہل ادب تو جانتے ہیں لیکن عام آدمی کو علم نہیں کہ نصرت فتح علی خان مرحوم کی گائی ہوئی جس غزل پر وہ سر دھنتے ہیں وہ در اصل اسی شکیب جلالوی کا پیغام ہے ۔ اسی غزل کے مطلعے یا پہلے شعر کا دوسرا مصرعہ میرا آج کا موضوع سخن ہے ، شعر ملاحظہ فرمائیں :
” سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے
کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "
قارئین کرام !
شاعر اور ادیب کسی بھی معاشرے کا دماغ ہوتے ہیں ۔ فلسفےکی زبان میں انہیں تیسری آنکھ یا
Third Eye of the Society
بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ اپنی اضافی خداداد صلاحیتوں کی بدولت وہ کچھ دیکھ لیتے ہیں جو عام آدمی کو نظر نہیں آتا ۔ اس درجے پر فائز لوگ مستقبل بین ہوتے ہیں انہیں پہلے سے علم ہوجاتا ہے کہ آنیوالا وقت کیا پیغام لیکر آرھا ہے ۔
شکیب جلالی نے اپنے شعر میں آج سے کئی برس قبل آج کے پاکستان اور پاکستانیوں کی بات کی تھی ۔ آپ مجھ سے اختلاف کرسکتے ہیں کہ ، ایسا نہیں بلکہ شکیب نے تو اپنے محبوب کو سامنے رکھ کر شعر کہا ، تو حضور والا چونکہ میرا محبوب ، میرا وطن پاکستان ہے لھذا میں اس شعر کی تشریح موجودہ پاکستان اور اس میں موجود پاکستانیوں کو ہی سامنے رکھ کر کرونگا ۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ تقسیم ہند سے قبل ہماری سیاسی سوچ اتنی پاک صاف اور معصومانہ تھی کی ہم ایک پنجابی اقبال کے سپنے کو حقیت جان کر اس کی طرف لپکے ، کیا ہم واقعی معصوم نہیں تھے جب ایک اثناء عشری شیعہ محمد علی جناح کو قائد مانا ۔ کیا یہ درست نہیں کہ ہم نے کرنال کے ایک نواب کو قائد ملت کا خطاب دیا ۔ کیا ہم نے ایک بلوچ قاضی عیسی کو تحریک پاکستان کا رہبر نہیں مانا ۔ کیا ہم ایک پٹھان سردار عبد الرب نشتر کی راھنمائی میں آگے نہیں بڑھے ۔ کیا ہم نے ایک شش امامی اسماعیلی شیعہ کو پاکستان کی خالق جماعت مسلم لیگ کا پہلا صدر منتخب نہیں کیا ۔ ایسی لاتعداد مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمارے ذہن اس وقت ان سیاسی غلاظتوں سے ایسے پاک تھے کہ ہمارے اندر کوئی شیعہ تھا نہ سنی ، پنجابی تھا نہ کوئی پٹھان ، مہاجر تھا نہ کوئی سندھی ، بلوچ تھا اور نہ کوئی گلگتی یا بلتی بلکہ ہم سب ایک قوم پہ یقین رکھتے تھے اور یہی وہ خوبی اور قوت تھی کہ جس نے ہمیں انگریز اور ہندو کی دوہری غلامی سے نجات دلائی اور یہاں آکر شکیب کے پہلے مصرعے کی تشریح مکمل ہوجاتی ہے جس میں اس نے کہا ،
سوچتا ہوں کہ وہ کتنے معصوم تھے
اور
اب
اگلا مصرعہ
” کیا سے کیا ہوگئے دیکھتے دیکھتے "
قائد اعظم ، قائد ملت اور تحریک پاکستان کے عظیم راہنماوں کی رخصتی کے بعد ، قوم ، گدھ نماء مردہ خوروں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں ، مفاد پرستوں اور ملک دشمنوں کے نرغے میں آگئی ۔ سب سے پہلا وار ایک قوم کے نظریئے پر ہوا ۔ بنگالی قومیت کو ہوا دی گئی اور پاکستان بننے کے صرف 25 سال کے اندر آدھا ملک ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا ۔ اب یہ کہنا کہ غلطی کس کی تھی ایک لمبی بحث ہے ۔ اس کا مختصر ترین جواب یہ ہے کہ ہم مخلص ، ایماندار اور محب وطن قیادت سے محروم تھے ورنہ اختلاف کہاں نہیں ہوتا ۔ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کا جھگڑا پیدا کرکے ان بنگالیوں سے جان چھڑائی کہ جنہوں نے مسلم لیگ بنائی تھی ۔ اس کام سے فارغ ہوئے تو مغربی پاکستان یا موجودہ ملک میں قومیتوں کے جھگڑے شروع کرادئیے ۔ سندھی ، پختون ، بلوچی ، سرائیکی اور پنجابی ازم کے بیج بوئے گئے ۔ اس پہ بھی تسلی نہ ہوئی تو مولوی صاحب نے میدان میں آکر کفر کے فتوے بانٹنے شروع کردئے تاکہ جو کسر باقی ہے وہ بھی نکال دی جائے ۔
غور کیجئیے کتنی منظم سازش ہے پاکستان کو کم زور کرنے کی ۔ پہلے لسانی اور علاقائی بنیادوں پر قوم کو بانٹا گیا اور پھر ان لسانی اکائیوں کو مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے شیعہ ، سنی ، وھابی ، دیوبندی اور بریلوی کے خانوں میں تقسیم کیا جارھا ہے ۔ اور اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ کھلے عام صحابہ کرام اور اہلبیت اطہار کی شان میں تقریریں کی جارہی ہیں ۔ حالیہ دنوں میں جو امیر یزید زندہ باد کے نعرے لگے ، کیا یہ محض اتفاق ہے ؟
ایسا نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کا منصوبہ تیار ہوا ہے تاکہ ملک کو افراتفری اور مکمل انتشار میں دھکیل دیا جائے ۔
صرف یہی نہیں کہ لسانی اور فرقہ وارانہ جنگوں کے منصوبے بنائے جارہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ایک مدت سے پاک فوج کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مہم چلائی جارہی ہے تاکہ اگر حالات بگڑیں تو فوج اندرونی اور بیرونی دونوں محاذوں پر ناکام ہو ۔
پاکستانیو !
خدا را دشمن کی ان چالوں کو سمجھو ۔ ہمارے بعض سیاست دان اور کچھ حلوہ خور مُلاں دشمن کی بولی بول رہے ہیں ۔ یاد رکھو مسئلہ عمران خان کا نہیں ، ملک کی سلامتی کا ہے ۔ عمران خان آج ہے کل نہیں ہوگا ۔ ہمیں ملک کی فکر کرنی چاھئیے ۔ لسانی اور مذہبی بنیادوں پر اپنے آپ کو تقسیم مت کرو ۔ اپنی ہی فوج کو گالیاں مت دو ورنہ برا وقت آنے میں دیر نہیں لگتی ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمن کامیاب ہوجائے اور ہم سب معصوم لوگ مہاجر کیمپوں میں بیٹھے ہوں کیونکہ ان جعلی سیاستدانوں نے تو اپنے گھر ، دولت اور آل اولاد سب کو بیرون ملک محفوظ کررکھا ہے اگر ملک ٹوٹا تو برباد عام آدمی ہوگا ۔ میری باتوں پر غور کرو ۔ آذادی اس وقت ملی جب ہم سب صرف مسلمان تھے اور پاکستانی تھے اب اگر اس آذادی کو برقرار رکھنا ہے تو وہی روش اپنانی ہوگی جو تحریک پاکستان کے وقت اپنائی تھی ورنہ ملک گنوا بیٹھوگے اور شکیب جلالی کا یہ مصرعہ یاد آئیگا ۔