جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”: تجزیاتی مطالعہ
عتیق الرحمان اعوان
6 مئی 2024 بہ روز پیر ریاست جموں و کشمیر کے ادبی منظر نامے پر نعت، غزل اور نظم کے حوالے سے رقم معتبر نام جناب جاوید الحسن جاوید سے ان کے دفتر میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ محترم جاوید الحسن جاوید سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے عہدہ جلیلہ پر متمکن ہیں اور ان دنوں سیکرٹری اسٹیٹ ارتھ کویک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن اتھارٹی کے طور پر تعینات ہیں۔ موصوف کی جنم بھومی ضلع سدھنوتی تحصیل پلندری ہے۔ پلندری کی آب و ہوا علم و ادب کے حوالے سے انتہائی سازگار ہے اور ادبی لحاظ سے یہ خطہ ارضی خاصا ثروت مند بھی ہے جہاں پروفیسر عبدالعلیم صدیقی جیسے نابغہ روزگار ادیب پیدا ہوئے اور دھائیوں تک دنیائے ادب کے افق پر چمکے اور اپنی روشنی اور حرارت سے نئے لکھاریوں کو نمو بخشی۔ پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کو "ترجمان اقبال” ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے بعد پلندری کو کئی گوہر نایاب تلاش اور تراش کر دیئے جو اب اپنے حصے کا کام بہ خوبی نبھا رہے ہیں۔ ان نایاب نگینوں میں ایک نام جناب جاوید الحسن جاوید کا بھی ہے جنہیں براہ راست پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ موصوف نے جہاں شعر و ادب میں اپنا الگ نام و مقام پیدا کیا وہیں اپنی اعلا اخلاقی اقدار اور پرکھوں سے وراثت میں ملنے والی روایات کی پاسداری میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اعلا حکومتی عہدہ ہونے کے باوجود موصوف عاجزی و انکساری کے جذبے سے سرشار ہیں، انہیں ایک بار ملنے کے بعد بار بار ملنے کو جی کرتا ہے۔
مگر یہ طے ہے کہ جو ایک بار ہم سے ملے کسی کا ہو بھی چکا ہو ہمارا ہوتا ہے
جناب جاوید الحسن جاوید سے ملاقات اور گفتگو کا سحر گھنٹوں طاری رہا۔ انہوں کمال محبت و شفقت سے نظموں اور قطعات پر مشتمل اپنا شعری مجموعہ "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” اپنے دست خط کے ساتھ عنایت کیا، جو میرے لیے باعث اعزاز ہے۔ میری اس تحریر کا بنیادی مقصد ان کے اس مجموعے پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔ "رمیل ہاوس آف پبلی کیشنز” راولپنڈی کے زیر اہتمام منصہ شہود پر آنے والی اس کتاب کا سرورق گہرے آسمانی نیلے رنگ سے مزین ہے جسے پہلی نظر دیکھنے پر ہی بے اختیار پڑھنے کا جی چاہتا ہے۔ مضبوط اور مربوط جلد بندی اضافی وصف ہے۔ مصنف نے اپنی یہ کاوش دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کے نام کی ہے۔ جلد کے اندرونی حصے پر نظر پڑتے ہی آپ جان جائیں گے کہ مصنف کے تن بدن میں وطن کی محبت کس درجہ جاگزیں ہے:
مانو کہ زندگی کی کہانی وطن سے ہے شعروں کا طمطراق جوانی وطن سے ہے نغموں کا لوچ حرف کی صورت گری سبھی سانسوں کا زیر و بم یہ روانی وطن سے ہے!!!
نظموں، نغموں اور قطعات پر مشتمل اس مجموعے کا آغاز خاتم الانبیاء و رسل، نبی برحق، محبوب خدا و خلائق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت میں ڈوبے اس قطعے سے ہوتا ہے:
وہ داغ دہلوی تھے جو کہتے سنے گئے مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہان کی ہے میں نقش پا ہوں اپنے محمدؐ کا اور بس مجھ کو خبر ملی مری مٹی جہاں کی ہے!!!
نظموں کا آغاز معاشرتی برائیوں میں موجود "ونی” جیسی قبیح رسم پر قلم کشائی سے کیا گیا ہے:
میں مویشی تو نہیں ہوں بابا! مجھے تاوان میں دینا تھا اگر کیا ہی بہتر تھا کہ جب آنکھ کھلی تھی میری زندہ درگور ہی کرتے مجھ کو!!!
ہمارے معاشرے میں موجود اس قبیح رسم کے خلاف اپنے لفظوں کے ذریعے علم جہاد بلند کرنا جناب جاوید الحسن جاوید کا ہی خاصہ ہے۔ "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے عنوان سے درج نظم میں شاعر اپنی گزری زندگی پر نظر ڈالتا محسوس ہوتا ہے اور اسے احساس ہو رہا ہے کہ وقت کی مہلت تو ختم ہونے کو ہے اور میزان عمل خالی ہے، شاعر اس بات کو بھی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ اسے تو ابھی بہت کچھ کرنا ہے:
قلم کی روشنائی ختم ہونے کو چلی آئی مگر کاغذ تو کورا ہے ابھی کہنے کی سننے کی کئی باتیں ضروری ہیں ابھی نظمیں ادھوری ہیں!!!
جاوید الحسن جاوید کہیں غریب اور بے گھر بچوں کا رونا روتے نظر آتے ہیں تو کہیں اشرافیہ اور حکمران طبقہ پر اس انداز سے طنز کرتے ہیں:
ہجوم روک کے رستہ کھڑا ہے شاہوں کا انہیں خبر ہی نہیں ہے کہ بادشاہ کیا ہے؟ جو اس کی راہ میں آئے گا مارا جائے گا ہجوم شاہ کی عظمت پہ وارا جائے گا!!!
"مہاجر بچے” کا عنوان لیے نظم کشمیر، فلسطین، روہنگیا، بغداد و مصر کے بچوں کے کرب میں ڈوب کر یوں صورت پذیر ہوتی ہے:
زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے نہ منہ پر نور ہوتا ہے بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں!!!
انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت۔۔۔ بھی نہیں ملتی!!! زباں ہوتی ہے لیکن ظلم سہہ کر بھی نہیں ہلتی!!! "پہلی دنیا کی اقوام” کے عنوان سے لکھی نظم میں اقوام عالم میں پھیلی انارکی، جنگ و جدل اور ناانصافی کے ذمہ داروں کے خلاف جاوید صاحب یوں سینہ سپر ہیں:
انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں کہاں جھکڑ چلانا ہیں کسے آگے بڑھانا ہے کسے پیچھے ہٹانا ہے زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے مقابل کس کو لانا ہے!!!
انہیں معلوم ہے کیسے کبھی بارود، میزائیل جہاز اور فالتو پرزےبنا کر بیچنا ہیں کس طرح سے تیسری دنیا کی قوموں کو لڑانا اور پھر ان کو لڑا کر امن کا رستہ دکھانا ہے انہیں معلوم ہے سب کچھ!
"امر واقعہ” نامی نظم دور حاضر کی سچی تصویر پیش کرتی اور والدین کے دکھ روتی نظر آتی ہے کہ بچے وقت آنے پر ان والدین سے کیسے منہ پھیر لیتے ہیں جنہوں نے انہیں پالنے پوسنے کی خاطر اپنی عزت نفس تک بیچ ڈالی تھی!
تو امر واقعہ یہ ہے یہ بیوہ ہو گئی تھی اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے سو وہ بھی کیا کریں آخر اسے تو مانگتے رہنے کی عادت ہے اسی خاطر اسے بیٹون نے اپنے گھر سے بھی باہر نکالا ہے!!! آپ کی زیادہ تر نظمیں معاشرتی برائیوں پر وقوع پذیر ہوئی ہیں، کبھی آپ سرکاری معالجوں کے رویے پر شکوہ کناں ہیں تو کہیں کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور عالمی اداروں کی کشمیر میں ہونے والے جبر پر چشم پوشی کو بیان کرتے ہیں۔ "اقبال جرم” کا عنوان لیے ایک نظم حاکم و محکوم کے کے لیے بنائے گئے الگ الگ قانون کا رونا روتی محسوس ہوتی ہے۔
بڑی شدت کی اس دن بھوک تھی میں نے ڈبل روٹی چرائی تھی تو آخر دھر لیا جاتا ہے انساں کو
فطرت شناس شاعر جاوید الحسن جاوید بہت باریک بیں نگاہ رکھتے ہیں اور چہروں، رویوں اور ارادوں کو بھانپ لیتے ہیں، ان کی نظم "ترقی کا راز” اسی موضوع کے گرد گھومتی ہے کہ کیسے جھوٹ موٹ کی تعریف اور فرضی لگاوٹ انسان کو ترقی کی راہوں پر ڈال سکتی ہے۔ جاوید صاحب کی نظموں میں کہیں کہیں آپ کو مزاح کا رنگ بھی نظر آئے گا، آپ بہت خوب صورتی سے روز مرہ کی باتوں کو مزاحیہ آہنگ دیتے ہیں ایک نظم "وارننگ” کا مطالعہ آپ کو میرے اس بیان سے متفق کر دے گا۔ جاوید صاحب اپنی شاعری سے متعلق بتاتے ہہں کہ یہ ان کے بچپن کا شوق ہے کہ میں لفظو جوڑوں اور انہیں شعروں کی لڑی میں پرو کر معتبر کر دوں اور یہ سفر جاری ہے۔
"راول پنڈی شہر” کے عنوان سے لکھی نظم بہت معنی خیز ہے اور اس کا حرف حرف ذومعنی ہے، سوچنے سمجھنے والوں کے لیے اس میں بہت سبق ہے۔ محبت کے موضوع کو بھی آپ نے اپنی نظموں میں جا بہ جا جگہ دی ہے: دل کا دروازہ کھلا رہنے دو جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو دل کا دروازہ کھلا رہنے دو یہ ضروری ہے بہت!!!
اور وطن سے محبت میں لکھی نظموں میں "چودہ اگست”، "وطن کا گیت”، "رد الفساد”، "ڈل کنارے پہ سرخ پھول” اور "نذر وطن” میں موصوف نے بلا کے اشعار تخلیق کیے ہیں جو قاری کے لہو میں محبت کا ابال سا پیدا کر دیتے ہیں اور جذبوں کو نئی توانائیاں بخشتے ہیں۔ نظموں کے بعد قطعات کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے جو زیادہ تر معاشرتی موضوعات پر مبنی ہیں اور زندگی میں وقوع پذیر ہونے والے روز مرہ واقعات کو مزاحیہ آہنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ:
ایلو پیتھی ہو یا کوئی اور ہو طرز علاج تم دوا لیتے رہو اک دن شفا ہو جائے گی ہر معالج آپ سے مخلص ہے میرے دوستو گر دوا نہ چل سکی تو فاتحہ ہو جائے گی!!!
اور
ایک خاوند مر گیا تھا دو سے لے لی تھی طلاق اب کوئی جھگڑا ہے باقی اور نہ جنجال ہے کاسمیٹک سرجری نے کر دیا ایسا کمال ساٹھ کی لگتی ہیں لیکن عمر اسی سال ہے
اسی طرح ایک قطعہ یوں ہے کہ:
روز محشر جب اکٹھے تھے سبھی چھوٹے بڑے حق نے فرمایا کہ کاغذ پر گناہ اپنے لکھو ایک حضرت تھے جو دنیا میں بڑے اعلا وکیل وہ لگے کہنے کہ پہلے اک اضافی شیٹ دو!!!
الغرض "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے سے آپ کو اچھی اور بامعنی شاعری کا بھرپور ذائقہ ملے گا۔ جہاں مختلف معاشرتی موضوعات کو اک قرینے سے منظوم کیا گیا ہے۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جناب جاوید الحسن جاوید شعروں کی تخلیق کا ہنر بہ خوبی جانتے ہیں۔ جو لوگ شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں انہیں میں "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔
اردو ادب کی علمی روایت میں بعض شخصیات محض تعارف، عہدوں اور اسناد کی فہرست سے عبارت نہیں ہوتیں۔ ان کی شناخت خاموش ریاضت اور اخلاقی وقار سے تشکیل پاتی ہے۔ ایسی ہی شخصیات میں ڈاکٹر صائمہ خان کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ ان کا علمی و تحقیقی سفر اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ علم اگر خلوصِ نیت اور صبرِ مسلسل کے ساتھ حاصل کیا جائے تو وہ محض ذاتی کامیابی کا وسیلہ نہیں بنتا بلکہ ایک پورے عہد کی فکری تشکیل میں حصہ دار ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اردو زبان و ادب کے میدان میں جس استقلال اور سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھا وہ آج کی تیز رفتار، شہرت پسند اور سطحی علمی فضا میں ایک خوش گوار استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے نہ تو علم کو محض ملازمت کی سیڑھی بنایا، نہ تحقیق کو محض ڈگری کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔وہ ہر مرحلے پر اسے ایک فکری امانت اور اخلاقی ذمے داری تصور کرتی ہیں۔ ڈاکٹر صائمہ خان کا تعلق آزاد جموں و کشمیر کے علمی و تہذیبی مرکز مظفرآباد سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مظفرآباد کے پلیٹ ہائی اسکول سے مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان کی طبیعت میں مطالعے کا شوق اور زبان و بیان سے فطری انس نمایاں ہونے لگا تھا۔ بعد ازاں انھوں نے ایف۔اے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، مظفرآباد سے مکمل کیاجہاں ان کی فکری سَمت واضح طور پر اردو زبان و ادب کی جانب متعین ہو گئی۔ اعلا تعلیم کے مرحلے میں انھوں نے بی۔اے اور ایم۔اے اردو آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی سے مکمل کیا۔ ایم۔اے کے دوران میں ان کی علمی صلاحیت اور تحقیقی رجحان نہ صرف اساتذہ کی توجہ کا مرکز بنا بلکہ ہم عصروں میں بھی ان کی شناخت ایک سنجیدہ طالبہ کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کے اندر محقق کی تشکیل کا عمل شروع ہوا۔ طویل انتظار کے بعد ایم فل اردو کے لیے ڈاکٹر صائمہ خان نے ہزارہ یونی ورسٹی،مانسہرہ کا انتخاب کیا۔ یہاں انھوں نے تحقیقی اصولوں اور تنقیدی توازن کے عملی تقاضوں کو قریب سے سمجھا۔ ان کا تحقیقی موضوع “افتخار مغل بحیثیت شاعر” انتخاب کے اعتبار سے نہایت معنی خیز اور فکری سطح پر خاصا پیچیدہ تھا۔ افتخار مغل کی شاعری جدید اردو شاعری میں فکری تہ داری، علامتی نظام اور عصری شعور کی نمائندہ ہے۔ اس شاعری کا تحقیقی مطالعہ محض اشعار کی توضیح یا موضوعاتی فہرست سازی کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے شعری جمالیات اور فکری پس منظر کا ادراک ناگزیر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس تحقیقی ذمے داری کو نہایت سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ نبھایا۔ 2015ء میں وہ اپنے ایم فل کے تحقیقی مرحلے میں تھیں اور موضوع کی نزاکت کے پیشِ نظر علمی معاونت کی تلاش میں اہلِ علم سے رابطہ کرتی رہیں۔ مسلسل مطالعے، مواد کے انتخاب، تجزیے اور تنقیدی استدلال کے بعد یہ مقالہ پایۂ تکمیل کو پہنچا اور 2017ء میں انھوں نے ہزارہ یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کی ڈگری کامیابی سے حاصل کی۔ یہ مقالہ اس وقت اشاعت کے مراحل میں ہے اور بلاشبہ شائع ہونے کے بعد افتخار مغل کی شاعری کے مطالعے میں ایک مستند حوالہ بنے گا۔
تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صائمہ خان کا تدریسی سفر بھی نہایت منظم اور بامقصد رہا ہے۔ وہ 2010ء سے آزاد کشمیر کے شعبۂ ہائر ایجوکیشن میں بہ طور لیکچرر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس طویل عرصے میں انھوں نے باغ اور چکار کے کالجز میں تدریسی فرائض سرانجام دیے اور ہر جگہ اپنی شناخت ایک محنتی، ذمے دار اور طلبہ نواز استاذ کے طور پر قائم کی۔ 2019ء میں انھوں نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سے اسسٹنٹ پروفیسر اردو کے لیے کامیابی حاصل کی اور یوں وہ اس اہم منصب پر فائز ہوئیں۔ اس وقت وہ گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں میں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی تدریس محض نصابی متن کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ وہ طلبہ میں فکری سوال اٹھانے، تنقیدی سوچ اپنانے اور زبان کی تہذیب سیکھنے کا شعور بےدار کرتی ہیں۔ ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی کا مرحلہ کسی بھی محقق کے لیے سب سے زیادہ صبر آزما اور کٹھن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مرحلے کا آغاز بھی ہزارہ یونی ورسٹی سے کیا۔ ان کا تحقیقی موضوع “اعجاز رحمانی کی شاعری میں اسلامی انقلابی شاعری” تھا۔ یہ موضوع فکری اعتبار سے نہایت حساس اور علمی سطح پر گہری بصیرت کا تقاضا کرتا تھا۔ اسلامی انقلابی شاعری محض جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی ردِعمل کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام، تہذیبی شعور اور اخلاقی نصب العین کی حامل روایت ہے۔ اعجاز رحمانی کی شاعری میں اس رجحان کا تحقیقی مطالعہ ایک ہمہ گیر تنقیدی نگاہ کے ساتھ ساتھ مذہبی علم اور ادبی توازن کا متقاضی تھا۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مقالے میں اسلامی فکر، انقلابی شعور، شعری جمالیات اور فکری تسلسل کو نہایت سلیقے اور تحقیق کے ساتھ مربوط کیا۔ یہ تحقیقی کام ڈاکٹر مطاہر شاہ کی زیرِ نگرانی مکمل ہواجن کی علمی رہنمائی اور فکری سرپرستی نے اس مقالے کو مزید استحکام اور وقار عطا کیا۔ 15 جنوری 2026ء کو ہزارہ یونی ورسٹی کے ایک ہال میں انھوں نے اپنے مقالے کا نہایت اعتماد اور علمی استدلال کے ساتھ کامیاب دفاع کیا اور یوں وہ “ڈاکٹر صائمہ خان” کے معزز خطاب سے سرفراز ہوئیں۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا مظہر تھا بلکہ اردو تحقیق کی روایت میں بھی ایک خوش گوار اضافہ ثابت ہوا۔مقالے کی ممتحن ڈاکٹر فرحت جبین ورک نے ان کے اندازِ تکلم اور اس پر شین قاف کے بہتر ہونے کو خوب سراہا۔ ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شخصیت محض تدریس اور تحقیق تک محدود نہیں بلکہ وہ ادبی و علمی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ کالج سے شائع ہونے والا ادبی رسالہ “سبدِ گل” ان ہی کی ادارت میں شائع ہوا جو ان کی ادبی بصیرت اور تنظیمی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ادبی رسائل اور اخبارات میں ان کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان تحریروں میں تحقیقی اصولوں کی پاس داری اور اسلوب کی سنجیدگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ میں اردو ریویو کمیٹی کا حصہ بھی رہی ہیں جو ان کی علمی اہلیت اور فکری اعتماد کا عملی اعتراف ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شناخت کا ایک روشن پہلو ان کی تحقیقی دیانت اور فکری انکساری ہے۔ انھوں نے تحقیق کو کبھی ذاتی مفاد یا رسمی تکمیل کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہر مقالے اور ہر مضمون کو ایک اخلاقی ذمے داری سمجھ کر تحریر کیا۔ ان کے نزدیک تحقیق، متن اور محقق کے درمیان ایک مقدس رشتہ ہے جس کی پاس داری لازم ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک جذباتی اور روحانی حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے اس علمی کامیابی کو اپنی والدہ کے نام منسوب کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد ان کی والدہ کی خواہش، دعا اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ ناسازیِ صحت، گھریلو ذمے داریاں، اولاد کی پرورش اور ملازمت کے ساتھ اس قدر وقیع تحقیقی کام انجام دینا آسان نہ تھا مگر ماں کی دعا نے اس سفر کو ممکن بنایا۔ ڈاکٹر صائمہ خان کا علمی و تحقیقی سفر اس امر کی زندہ مثال ہے کہ اگر علم کو اخلاص اور دیانت کے ساتھ اختیار کیا جائے تو وہ فرد کی ذات سے آگے بڑھ کر اجتماعی فکری ورثے کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کی کاوشیں اردو تحقیق کے افق پر ایک ایسی روشنی ہیں جو دیر تک اہلِ علم کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ بلاشبہ ڈاکٹر صائمہ خان آزاد کشمیر کی اردو دنیا میں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام کی حیثیت رکھتی ہیں۔
حسب ِ روایت امسال بھی ضلع بھکر کے سالانہ ادبی جائزہ 2025 ء کے ہمراہ نیاز و عقیدت کے ساتھ آپ کا اپنا مقبول ذکی مقبول ( بھکر ) ٫٫ پیشِ خدمت جائزہ ہے سال کا ،، سالِ رواں کی اگر بات کی جائے تو استاد الشعرا سئیں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی محلہ سردار بخش بھکر شہر میں رہائش پذیر ہیں ۔ آپ سرائیکی شاعر ہیں ۔ ایک ادارہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ آپ کی رہائش گاہ ( ڈیرہ کاکا خیل ) بھکر میں آپ کی ادبی تنظیم بزمِ نذیر کے زیرِ اہتمام گزشتہ سال کی طرح سالِ رواں میں بھی آپ کے ہاں متعدد مشاعرے ، شامیں ، ادبی نشستیں ، کروا چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ نوجوان شعرا کی حوصلہ افزائی بھی کرتے رہتے ہیں ۔ 12 اکتوبر 2025ء کو آپ کے دو بیٹوں کی شادی تھی اس موقع پر بھی آپ کے ڈیرہ پر کلام سننے اور سنانے کا سلسلہ جاری رہا ۔ راقم الحروف بھی موجود تھے ۔ بھکر شہر اور تھل یونی ورسٹی میں سالِ رواں میں ہونے والی ادبی تقریبات اور ادبی سرگرمیوں کی اگر بات کی جائے تو امسال کافی مشاعرے ہوئے ۔ کافی طلبہ و طالبات کے تحقیقی مقالہ جات مختلف رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع ہوئے ۔ علاوہ ازیں پروفیسر ڈاکٹر سرور عظیم قریشی کے مختلف آرٹیکلز بھی ریسرچ جنرل کی زینت بنے ۔ مجموعی طور پر ٫٫ تھل یونی ورسٹی ،، کی ادبی خدمات قابلِ ستائش اور حوصلہ افزا رہیں ۔
ادبی بیٹھک بھکر میں نظر مارکیٹ ریلوے روڈ مدثر موبائل شاپ جو کہ جاوید دانش کے کاروبار کا ذریعہ ہے وہاں ایک ادبی بیٹھک کا درجہ بھی رکھتی ہے بھکر کے معروف شاعر جاوید دانش کے ہاں گزشتہ سال کی طرح 2025ء میں بھی آیا روز شعرا و ادباء آتے جاتے رہے ہیں ۔ وہاں علم و ادب کا ایک سما بندھا رہتا ہے ۔ راقم الحروف اور محمّد اقبال بالم کو 9 جون 2025ء میں وہاں جانے کا اتفاق ہوا کلام سننے اور سنانے کا موقع میسر آیا ۔ گورنمنٹ گریجویٹ کالج کلورکوٹ 26 فروری 2025 ء میں ایک عظیم الشان مشاعرہ منعقد ہوا جس کے سرپرست ڈاکٹر ملک محمّد اقبال اولکھ تھے ۔ ان کے شاندار مشاعرے میں بھکر شہر اور دُور دراز کے شعرا نے بھرپور شرکت کی اور شعراء کرام کو سامعین نے بھرپور داد سے نوازا ۔ جوئیہ سرائیکی ادبی سنگت کے زیرِ اہتمام 24 ستمبر 2025ء کو اکڑا کانجن ، کلورکوٹ میں ایک سرائیکی مشاعرہ منعقد ہوا ۔ بانیان میں میں ملک محمّد اشرف جوئیہ اور ملک غلام شبیر کانجن ہیں ۔ 20 فروری 2025ء کو لیّہ کے معروف شاعر و ادیب استاد الشعراء سئیں امان اللّٰہ کاظم کے ساتھ ایک شام وائٹ ہاؤس بھکر ( ڈاکٹر عتیق الرحمٰن قریشی کی رہائش گاہ ) خان سر روڈ پر منائی گئی اس شام میں محفل مشاعرہ منعقد ہوا سامعین میں محکمہ ہیلتھ کے ڈاکٹر صاحبان تھے بھرپور شرکت کی اور جن شعراء نے شرکت کی اُن میں نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ، تنویر حسین فائز بخاری ، شاہد بخاری ، مضطر کاظمی اور مقبول ذکی مقبول شامل تھے ۔ تقدیسی ادب حلقہ فروغِ ادب کے زیرِ اہتمام 22 جون 2025ء کو ارشد حسین بھٹی کی رہائش گاہ بھکر شہر میں ایک محفل مسالمہ منعقد ہوا جہاں شعرا کرام نے امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کو سلام پیش کیا وہاں نبی پاک حضرت محمّد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شانِ اطہر میں نعتیہ کلام بھی پیش کیا گیا ۔ 22 جون 2025 ء سالانہ محفل مسالمہ بر مکان پروفیسر قلب عباس عابس ، گلشنِ مدینہ بھکر ، شعراء کرام میں حشمت رضا بہلول ، کاظم حسین کاظم ، علمدار حسین علمی ، علی عابد ، فیاض حسین بھڈا ، ناصر خیالی ، راحل بخاری اور شاہد مبشر نے شرکت کی ۔ عابد علیم سہو تحصیل بھکر کے چک نمبر 46 اڈا جہان خان سے تعلق رکھتے ہیں ۔ بزمِ رفیق کے بانی و صدر ہیں ۔ بزم رفیق نے 2025 ء کا پہلا پروگرام 12 جنوری 2025ء کو کتاب ٫٫ گونگے لوگ ،، کی تقریب پذیرائی اور مشاعرہ ہاشمی کلینک منڈی ٹاؤن بھکر میں منعقد ہوا دوسرا پروگرام سالانہ کتاب ایوارڈ تقریب 17 مئی 2025 ء کو سحر سٹوڈیو بھکر میں ہوا ۔ 14 اگست 2025ء کو ایک مشاعرہ بمقام سحر اسٹوڈیو بھکر میں منعقد ہوا ۔ عابد علیم سہو کے ساتھ ایک شام نذیر ٹاؤن بھکر میں منائی گئی زیرِ اہتمام اصلاح معاشرہ بھکر 8 نومبر 2025 ہفتہ اور اتوار کے درمیانی شب ادبی تنظیم بہار ادب برکت۔۔۔۔۔ کے اراکین اعجاز رازم اور باسط رمضان باسط کے زیر اہتمام محفل مشاعرہ برموقع شادی خانہ آبادی حسنین سوہا ڈیرہ مولانا محمد رمضان سوہا پر منعقد کیا گیا جس میں پروفیسر قلب عباس عابس منور سعید۔ ضیاء اللہ ضیاء۔ صابر غمگین۔ اشفاق قیس بلال حیدر اور دیگر شعرا نے حصّہ لیا – بھکر ڈیجیٹل نیٹ ورک کی تیسری سالگرہ پر نیشنل پیس کونسل کے اشتراک سے 31 مئی 2025ء کو امن مشاعرہ اور تقسیم ایوارڈز 2025 ء بمقام آنگن مار کی بھکر روڈ دریا خان میں منعقد ہوا ۔ تھل ادبی سرائیکی سنگت کا 20 واں سالانہ سرائیکی محفل مشاعرہ 11 اکتوبر 2025ء۔ کو جنجوں شریف میں منعقد ہوا ۔ تیسرا سالانہ محفل مشاعرہ بیاد نجیب اللّٰہ خان نیازی اور شاہ نواز ارشد جس کے بانی عبدالغفار نئیر اور احسن حیات مغل تھے ۔ ملک ذولفقار راقم ادبی تنظیم ٫٫ بزمِ پارت ،، کے بانی و صدر ہیں ۔ یہ تحصیل کلورکوٹ کے گاؤں غلاماں میں ہے اس بزم پارت کے زیرِ اہتمام سالِ نو کی پہلی ادبی نشست یکم جنوری 2025ء کو بر مکان ملک تنویر کانیہ آف مُوندی والا کلورکوٹ میں منعقد ہوئی ۔ یکم فروری 2025 ء کو ادبی نشست ملک ذوالفقار راقم کی رہائش گاہ غلاماں میں ہوئی ۔ پروفیسر ثناء اللّٰہ خان کے ساتھ 21 فروری 2025ء کو ایک شام کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں بھرپور شعرا نے شرکت کی ۔ 2 شوال یکم اپریل 2025ء عید ملن مشاعرہ اور عبدالمجید آصف لودھرا کی سرائیکی کُتب ٫٫ بلانگ ،، اور ٫٫ کھیچل ،، کی تقریب رونمائی ہوئی ۔ تیسرا سالانہ مشاعرہ 18 اکتوبر 2025 ء کو غلاماں شہر میں منعقد ہوا جس میں شعرا کرام اور سامعین نے بھرپور شرکت کی ۔ عید الاضحیٰ کے تیسرے دن 9 جون 2025ء بیٹھک عید ملن مشاعرہ کا اہتمام بھی کیا گیا ۔ ادبی تنظیم بزمِ یاراں ، غلاماں ، کلورکوٹ اِس بزم کے روحِ رواں فاروق تھلہ فاروق ہیں ۔ جنوری 2025 ء اور فروری 2025 ء کو دو ادبی نشستیں ہوئی ہیں ۔ اِس کے علاوہ کوئی اور ادبی کام سامنے نہ آ سکا ۔ ادبی تنظیم بزمِ ٫٫ اوجِ ادب ،، یہ منکیرہ شہر میں ہے ۔ اس کے بانی و چیرمین مقبول ذکی مقبول ہیں ۔ اس بزم کے زیرِ اہتمام 12 فروری 2025ء کو ایک سرائیکی نعتیہ مشاعرہ منعقد ہوا جس میں شعراء پروفیسر کمال الدین خاکی ( خوشاب) محمد سلیم سعد ( خوشاب ) شہباز حسین ہادی اور دیگر نے شرکت کی ۔ 22 اگست 2025ء اور 16 جون 2025ء کو مرحومین شعرا کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا مرحومین شعرا میں علی شاہ ، منکیرہ شاہنواز ارشد ، دُلے والا جمشید اقبال جمشید ، بھکر اس کے علاوہ 2025ء میں بزمِ اوجِ ادب کے زیرِ اہتمام تین کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ مشاعرے ادب تقریبات تقسیم ایوارڈ تقریبات تنقیدی نشستیں مسالمے نعتیہ مشاعرے ناول افسانے ادبی انٹرویوز امسال کوئی ناول منظر عام پر نہ آسکا ۔ چند افسانے لکھے پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال نثر سے زیادہ شاعری ہوئی ۔۔۔ کوئی ڈراما نہیں لکھا گیا انشائیہ اور خاکہ پر بھی طبع آزمائی نظر نہ آئی۔۔۔۔ حماد علی حادی ، منکیرہ شہر سے ایک نیا قلم کار منظرِ عام پر آیا ہے ۔
مجموعی طور پر اس سال بھکر میں شاعری کا پڑا بھاری رہا جب کہ گذشہ سال نثر زیادہ لکھی گئی ۔ بھکر کے مقامی اخبارات میں روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر روزنامہ ٫٫ عوام کی عدالت ،، بھکر روزنامہ ٫٫ نوائے بھکر ،، بھکر روزنامہ ٫٫ سچائی ،، بھکر اِن اخبارات نے گزشتہ سال کی طرح سال 2025ء میں بھی شعرا ادباء کی بھرپور حوصلہ افزائی کی ان کی ادبی تحریروں کو شائع کیا اور ادبی خبریں بھی شائع کرتے رہے ہیں ۔ بھکر 2025ء میں جن قلم کاروں کی تحریریں رسائل و جرائد اور اخبارات میں شائع ہوتی رہی ہیں ۔ ان میں پروفیسر ڈاکٹر محمّد اشرف کمال کی ادبی سرگرمیاں گزشتہ سال کی طرح 2025ء میں بھی اپنے عروج پر رہی ہیں ۔ پروفیسر جاوید عباس جاوید ، بھکر آج کل علیل ہیں ان کی صحت یابی کے لیے دُعاوں کی درخواست ہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر ضیاء المصطفیٰ ، حسن خان غزالہ کشور ملک ، زوار آباد ملک نعمان حیدر حامی ، چاہ اسراں والا مقبول ذکی مقبول ، منکیرہ
بھکر میں 2025ء کو منصہءِ شہود پر آنے والی ادبی کُتب کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے ۔ ٫٫ شجرہ نسب ،، ( کلیات ) نیا ایڈیشن جنوری 2025ء کو منصہءِ شہود پر آیا ہے ۔ اس کے مصنّف : نجف علی شاہ بخاری ، محلہ سادات نذد سردار بخش روڈ بھکر شہر ۔
٫٫ شیتل ،، ( افسانوی مجموعہ ) ٫٫ دِل من مسافر من ،، ( تحقیق و تنقید ) اِن کے مصنّف تحصیل بھکر کے گاؤں حسن خان سے پروفیسر ڈاکٹر محمّد ضیاء المصطفیٰ ، گورنمنٹ گریجویٹ کالج ، بھکر میں لیکچرار ہیں ۔
٫٫ بلانگ ،، (سرائیکی مجموعہ کلام ) ٫٫ کھیچل ،، ( سرائیکی مجموعہ کلام ) ٫٫ بُکَل ،، ( سرائیکی مجموعہ کلام ) ٫٫ آبلہء جاں ،، ( اُردو مجموعہ کلام ) مصنّف : عبدالمجید آصف لودھرا ، غلاماں سے ان کا تعلق ہے پیشہ کے اعتبار سے ٹیچر ہیں ۔ ٫٫ اُس پار ،، ( غزلیات ) مصنّف : عابد علیم سہو اِن کا تعلق چک نمبر 46 اڈا جہان خان سے ہے ۔ ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، ( کیفِ منظوم ) ٫٫ سید حُب دار قائم : جگمگاتا ستارہ ( شخصیات اور فن ) ٫٫ حُسنِ بیان ،، ( مضامین اور تبصرے ) اِن کے مصنّف : مقبول ذکی مقبول ہیں ۔ جن کا تعلق بستی شمالی منکیرہ شہر سے ہے ۔ ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں ) اِس کتاب کی مؤلفہ : ریحانہ بتول ہیں ۔ ان کا تعلق بستی شمالی وارڈ نمبر 8 محلہ چھینہ والا منکیرہ شہر سے ہے ۔ برین کالج بھکر میں سال 2025ء کی آخری تقریب 21 دسمبر کو ہوئی جس کے مہمانان خاص شاعر پروفیسر قلبِ عباس عابس اور سید مضطر کاظمی تھے ۔
آزاد کشمیر کے ادبی منظرنامے میں سید شہباز گردیزی ایک درخشاں نام مضبوط و معتبر حوالے اور ایک دل آویز شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ صرف شاعر نہیں اسلوب، روایت اور ایک تہذیب کا نام ہیں۔ اپنی شائستگی، انکساری، اخلاص اور وقار کے باعث وہ ہر محفل، ہر حلقے اور ہر دل میں اپنی جگہ بناتے ہیں۔ ان کے یومِ ولادت پر اٹھنے والی محبت کی لہر اور بے شمار خلوص بھری دعائیں خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ دلوں کی دنیا میں کتنے مضبوطی سے رچے بسے ہوئے ہیں۔ 2014ء میں نیلم کے ایک مشاعرے میں ہونے والی پہلی ملاقات نے ایک ایسا قلبی رشتہ تشکیل دیا جس نے وقت کے ساتھ کم زور ہونے کی بہ جائے اور زیادہ استحکام اختیار کیا۔ شہباز گردیزی بھائی سے ملاقات ایک شخصیت سے ملنے کا نام نہیں بلکہ ایک دل آویز انسان، مہربان دوست، معتبر شاعر اور ایک روشن دماغ سے روبہ رو ہونے کا نام ہے۔ ان میں علم و ادب کا وقار بھی ہے اور انسان دوستی کی لطافت بھی۔
باغ کی ادبی فضا اُن کے دم سے زندہ ہے۔ طلوحِ ادب باغ میں ان کا کردار روحِ رواں کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی مشاعرے یا کسی ادبی فورم پر باغ کی نمائندگی جس مضبوطی اور سنجیدگی کے ساتھ دکھائی دیتی ہے وہ دراصل شہباز گردیزی بھائی ہی کی مرہونِ منت ہے۔ اہلِ قلم کی ایک پوری نسل ان سے رہنمائی لیتی ہے۔ وہ بڑے شاعر ہونے کے ساتھ بڑے دل والے انسان بھی ہیں۔ شہباز بھائی کی شاعری احساس، سچائی، درد، مزاحمت، امید اور تجربے کا وہ حسین امتزاج پیش کرتی ہے جو قاری کے دل تک اتر کر اسے دیر تک متاثر رکھتا ہے۔ ان کے اشعار انسانی تجربے کا عطر ہیں سچے اور دل میں اتر جانے والے:
اس ایک بات پہ اٹکی ہوئی ہے سانس مری میں مر گیا تو مرے خواب کون دیکھے گا
ٹھیک ہے میں اس کوشش میں ناکام رہا لیکن میں نے خوش رہنے کی کوشش کی
جب بھی میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی سب نے مجھ کو چپ رکھنے کی کوشش کی
ہمارے پیٹ پچکے رہ گئے ہیں ہماری بھوک پلتی جا رہی ہے
اور شہدائے کربلا کی شان میں کہا گیا یہ شعر ان کی فکری عظمت کا روشن ثبوت ہےجو لمحے کے فیصلے اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کی عظمت کو خوب صورت انداز میں بیان کرتا ہے:
جنگ کا فیصلہ ہو جاتا ہے اس اک پل میں حر کوئی جب کسی لشکر سے نکل آتا ہے
ان کے فن کا ایک اور جان دار حوالہ نظم نگاری ہے ۔ ان کی نظم "سامبا کا رن” ملاحظہ کریں جو تاریخ، قربانی، جدوجہد اور امید کا بامعنی اور دل کش استعارہ ہے:
کبھی اسیر ، کبھی دربہ در ، کبھی خوں بار ہمارے خون سے سامبا کا رن ہے مہکا ہوا ہزار رام نگر ، رائے پور ہم پہ ڈھے مگر یہ کارِ جنوں کم نہیں ہوا اپنا ہزار بار یہ باغ ارم ہوا صحرا ہزار بار یہ صحنِ چمن اجاڑا گیا سو اس زمین پہ گزرے ہیں سانحات کئی کئی بسیں تھیں ستوری سے آگے جا نہ سکیں عجب ٹرین ہے ، وکرم کے چوک پر ہے کھڑی اسی ٹرین سے پھوٹے گی لو آزادی کی شہر سے نکلے ہوئے پھر سے لوٹ آئیں گے عجب نہیں ہے کہ ہم پھر سے گھر بسائیں گے
یہ نظم ان کی فکری رفعت شعری گہرائی اور امید کے ابدی سفر کی واضح دلیل ہے۔ اسی طرح نظم "ہے دعا بس یہی” مزاحمت، آگہی اور عزم کا ایسا بلند آہنگ اظہار ہے جو روح کو جھنجھوڑ دیتا ہے:
ہر کوئی ظالموں کا طرف دار ہے بعیتِ جبر پر شاہ کو اصرار ہے لاکھ گزریں گے اب ہم پہ دشتِ الم گردنیں ہوں گی تشنہ لبی میں قلم ہم سے قائم رہے آگہی کا بھرم اس مصیبت میں نہ لڑکھڑائیں قدم بک چکے قریۂ جان کے بام و در ہے دعا بس یہی جسم کی شاخ پر سر سلامت رہیں اپنے انکار پر گھر سلامت رہیں
یہ نظم انکار کی قوت، آزادی کی آرزو اور شعور کے تحفّظ کا ایسا مرقع ہے جو کم ہی شاعروں کے ہاں ملتا ہے۔ شہباز بھائی کی نظم ہو یا کہ غزل ان میں انسان، معاشرے اور داخلی الجھنوں کی بھرپور تصویر نظر آتی ہے۔اس بات کی دلیل کے طور پر بہ ذیل غزل دیکھیں :
اور اب کیا کوئی تماشا ہو جو یہاں واقعی تماشا ہو
کیا عجب دائروں کی بستی میں جو ہوا پھر وہی تماشا ہو
کیا خبر موت ہو تماشائی کیا پتہ موت ہی تماشا ہو
میں یہاں کس طرح سے رہتا ہوں جس جگہ آدمی تماشا ہو
پھر تماشا ہوا تماشائی اب تو اس پر کوئی تماشا ہو
بھر گیا دل مرا تماشوں سے اب تو بس آخری تماشا ہو
ایسے عالم میں کیا کہوں شہباز جب کہی، ان کہی تماشا ہو
یہ غزل انسانی تجربے کی گہرائی، عہد کی بے حسی اور سچائی کے المیے کا ایک بھرپور تخلیقی اظہار ہے۔ شہباز گردیزی بھائی کے یومِ ولادت پر دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں صحت، عزت، آسودگی، آسانیاں اور دونوں جہانوں کی روشنیاں عطا فرمائے۔ ان کے لفظ اسی طرح نسلوں کے دلوں کو روشن کرتے رہیں، ان کی شخصیت اسی طرح محبتیں بکھیرتی رہے، اور ان کا فن آنے والے زمانوں تک رہنمائی کا چراغ بنا رہے۔ شہباز بھائی کو جنم دن کی بے شمار، بے حساب اور دل کی گہرائیوں سے نکلی مبارک باد۔ اللہ پاک آپ کو ہمیشہ سلامت، شاد اور سربلند رکھے۔
’’وہ گھر کا بارہواں کھلاڑی تھی ضرروت پڑی ،بلا لیا۔۔ورنہ چھوڑ دیا ۔۔وردی کے علاوہ اور کوئی مماثلت ،قطعئی نہیں ۔ایک وقت گزرا ،حکم ملا، وہ اپنے ہونے کی یاد دہانی کے لیے سامنے رہا کرے ۔۔اور اُس نے من وعن ویسا ہی کِیا۔۔تا کہ اُنھیں بھول نا جائے کہ اُسے استعمال کرنا ہے۔جب تک غور کرنے کی اجازت ملی ، تقدیر میدان ِعمل تبدیل کرنے جا رہی تھی۔ تفکّر بے سود ٹھہرا۔۔۔اور پھر جانے والے لوٹ مار کر کے دل کی دنیا کے ساتھ ساتھ نئے میدان بھی لے گئے۔۔اپنے نا ہوتے وجود کو سمیٹ کر پہلے دھوکے کی فریاد کرنا۔۔اور پھر اکیلے ہونے کی بھیانک سچائی کا سامنا۔۔اُس کا دل چاہتا ۔۔آنکھ بند کرے اور کبھی نا کھولے ۔۔اِس کے برعکس وہ اپنی دنیا نئی ۔۔کیسے کرتی۔‘‘
۲
ندا حمید نے مصنفہ ارنیب مصدق کے ناول’’بارہواں کھلاڑی ‘‘ کے درمیان میں شہادت انگلی رکھ کے اُسے اپنے سینے پہ دھر لِیا۔
’’کوئی اتنا مکمل بھی لکھ سکتا ؟‘‘
قدموں کی آہٹ اور صبا جلیل کی آواز۔۔ جیسے پچھلے زمانے کا کوئی خواب تھا۔
’’آں۔۔اوں ۔۔کک کیا ہوا ۔۔کون ۔۔کیا ۔۔‘‘
’’تم !روز ایک جیسی قسط نشر کرتے تھکتی ۔۔کیوں نہیں۔۔؟‘‘
صباء نے اپنا بیگ اُس کے قریب پھینکتے ہوئے برگد کے پیڑ کومحفل بخشی ۔
ندا نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے صباء کو با آوازِ بلند چپس کھاتے دیکھ کر چارو ناچار ’’بارہواں کھلاڑی ‘‘ کو ملائمت سے بند کر کے اپنے بیگ میں رکھا۔اُس کے ذہن میں اپنے نئے مضمون کا خاکہ چکر پھیریاں لینے لگا۔
’’تُم کبھی کبھی اِس کو چھٹی پر بھی جانے دیا کرو۔‘‘ صبا ءنے ایک بے ہنگم آواز کے ساتھ چپس کا نیا پیکٹ کھولا۔انگلی پر لگی مرچ پھونک سےمار کے اُڑائی۔
’’مجھے اللہ نے دماغ استعمال کرنے کے لیے دیا ہے۔تمھارا کُل وقتی چھٹی پر رہتا ہے ۔۔یہ کافی ہے۔‘‘
’’ویسے تُم ارینب مصدق کو اور کتنا گھول کر پی جانے والی ہو‘‘
’’میں اِس کے لیے قسم کھانے کو تیّار ہوں۔۔کہ اُن کی پہلے سے پڑھی ہوئی تحریر اگلی بار مجھ پر ایک اور آہنگ سے دو چار ہوتی ہے۔ایک نیا باب۔۔ایک نئی وجہ۔۔ایک نیا رنگ۔۔ایک نئی۔۔۔‘‘
’’میں تمھیں کیسے بتاؤں۔۔لفظ۔۔لفظ نا ۔۔جیسے کوئی لفظوں کی مجلس ہو اور وہ سب بڑی حسرت
۳
سے۔۔ قلم کو تک رہےہوں، کہ اُن میں سے کب کوئی اُس شہزادی کو بھا ئے گا۔ارنیب جی کی تحریر اتنی
کشادہ ۔۔ایسی بامعنی۔۔دنیا کے رنگوں کے سات وہ پوشیدہ راز آشکار کرتی ہے۔۔گویا انٹارٹیکا کی گہرائیوں میں سرکتا پانی کا ایک قطرہ بھی اُن کی دسترس میں ہو۔۔اور وہ کیوں ہلا۔۔کیسے ہلا۔۔کتنا ہلا۔۔اور کسقدر ہلنا چاہیے تھا۔۔سب دو لائنوں میں سامنے لا کھڑا کرتی ہیں۔‘‘
’’منہ بند کرو۔‘‘
ندا نے جھلا کر کہا تھا مگر صباء نے تمتماتے چہرے کے ساتھ پرجوش آواز میں کہا۔
’’کس طرح زبانی وروانی سے کہہ جاتی ہو۔ تمھارے لفظ ادھر اُدھر نہیں ہوتے۔ ضرور ایک روز ارینب کا دوسرا پارٹ بن جاؤ گی۔۔۔ ‘‘
صبا ءکی بات پر ندا کا چہرہ جھلملا اُٹھا۔
’’یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔کیا کہہ دیا ؟کون سے خواب دکھا رہی ہو۔‘‘
’’ہاں !ادب پڑھنے کا حق تم ادا کرتی ہو۔۔ہم تو بس۔۔‘‘
صبا نے اٹھتے ہوئے کپڑے جھاڑے ، اطمینان سے گزرتے ہوئے کہا۔
’’ویسے وہ ۔۔سر ابراہیم مجلّہ کے مضامین کو حتمی کرتے ہوئے سب کو بلا رہا تھا۔مَیں تمھیں یہی بتانے آئی تھی۔‘‘
’’کیااااا۔اور تم اب ارشاد فرما رہی ہو۔‘‘
’’تُم خوا ہ ،سارا دن نا جاؤ۔سب جانتے ہیں۔مجّلہ کی آخری تیّاری تو وہ تمھارے پہنچنے پر ہی کریں گے۔مس ایڈیٹر صاحبہ۔۔‘‘
۴
’’سو تو ہے۔‘‘
ندا نے بھرپور مسکراہٹ صبا کی جانب روانہ کی۔
دونوں جنّات والے برگد کے پیڑ سے ڈھلوان اترائی، لڑھکتے لڑکھاتے اترتے ہوئے آڈیٹوریم کی طرف قدم اٹھانے لگیں۔
’’ویسے ارنیب مصدق کا قصّہ بھی اپنی نوعیّت کا عجیب وغریب ہے۔وہ کہاں ہوں گی؟دو برس ہو گئے۔لوگ ابھی تک بھولے بھی تو نہیں۔۔آج بھی گاہے بہ گاہے اُن کا ذکر سنائی دے جاتا ہے۔‘‘
’’یہ بات تو ہے۔اتنی شہرت اور بلندی چھوڑی کیسے جا سکتی ہے؟‘‘
’’خیر !چھوڑی تو نہیں تھی۔چھڑوائی گئی تھی۔اب اگر اُن میں ہمت ہوتی تو یوں روپوش نا ہو جاتیں۔سبھی باتوں ، سوالوں کا سامنا کرتیں۔‘‘صباء نے بے نیازی سے کہا۔
ندا ڈھیلے قدموں سے صبا کے سامنے سے ہٹ کر ایک طرف کو آئی۔
’’اب جو ہوا۔تمھارے سامنے ہی ہے۔۔کیسی عجیب بات ہے۔ایک روز پہلے ہی تو ہم اُن سے ملے تھے۔۔۔اور پھر وہ خبریں۔۔اور اُن کا اچانک چھپ جانا۔۔ایسے میں کوئی کیا کہے۔۔‘‘
ندا کا چہرہ تاریک سا ہونے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ندا حمید ہفتم جماعت کی طالبہ تھی۔امّاں کہتیں۔۔کہ یہ بڑی ہو کے ادیبہ بنے گی تو وہ فوراً تصیح کرتی۔۔’’امّی بہت بڑی ادیبہ۔۔‘‘
۵
بارہویں جماعت تک پہنچتے ارنیب کی تحریر سے متعارف ہوئی۔۔۔اور یوں اُس نے اپنی پہلی کہانی لکھی
۔۔مگر صبا ءجلیل کے علاوہ کسی کو اِس بات کی خبر نہیں تھی۔۔کیونکہ اُسے اپنی کہانی ارنیب مصدق کو ہی پیش کرنی تھی۔۔ اور پھر ارنیب سے ملنے کی جو لَو لگی تھی ،تو اُس نے ایک روز یہ ملاقات اپنے نصیب میں لکھوا ہی لی۔
ارینب کو دیکھ کر اُس کے منہ سے ادا ہونے والا پہلا جملہ۔۔بے اختیاری تھا۔
’’آپ۔۔آپ تو بہت حسین ہیں۔‘‘
’’اچھا!تو جو حسین ہوتا ہے، وہ قابل نہیں ہو سکتا؟۔۔۔بیٹھو ‘‘
صباء کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔حُسن۔۔قابلیت ، برجستگی۔۔اور اِس کے ساتھ ساتھ بے انتہا سادگی۔۔اور اُس پر پُرکاری۔۔
’’کیا !کوئی اتنا مکمل بھی ہو سکتا ہے؟‘‘
صباء نے سرگوشی کی تو ایک لمحے کے لیے ندا اُسے دیکھ کر رہ گئی۔۔دوسری نگاہ ارنیب پر جو ٹھہری تو گویا وہیں قیام ہو گیا۔
’’ہاں! تو کہیے۔۔‘‘
’’آپ کے پاس بہت قابلیت ہے۔‘‘
ندا نے مدھم لہجے میں کہا۔۔تو ارنیب دھیرے سے مسکرائی، شربت کا گلاس اُس کی جانب بڑھاتے ہوئے بولی۔
’’آپ مجھے میرے بارے میں بتا رہی ہیں۔۔جب کہ آپ کو اپنا تعارف مکمل کرنا چاہیے۔‘‘
۶
’’آپ کو اچھا نہیں لگا۔‘‘
صبا نے گڑ بڑا کے کہا تو ارنیب نے پھر ایک دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔
’’بات اچھے یا برے کی نہیں۔۔ اصول کی ہے۔یہ تو ایسے ہی ہے کہ میں گھر کی آرائش کرنے کے بعد، انتظار کروں، کب کو ئی آکے مجھےبتائے، میں نے بہت محنت کی۔۔اور سہی کی یا غلط۔۔اور اگر مجھے اپنے ہی اثاثوں کی نوعیّت اور قدروقیمت کا علم نہیں تو گویا میں کھلے عام پارس لیے بیٹھی ہوں۔‘‘
ارنیب مصدق کی بات پر صباء خجل ہوئی ، مگر ندا کے کان کے قریب پسینے کی لکیر تھی۔۔بہرحال ندا نے جانے کَیا ترکیب کی ا،س ملاقات کے بعد۔۔ ارنیب اُسے اچھا وقت دینے لگیں۔۔ہاتھ پکڑ کے ندا کو راستہ دکھایا۔۔فن کی الف بے سے روشناس کرایا۔پہلی ملاقات کے بعد ندا ارنیب کے پاس صبا ءکے ساتھ کبھی نہیں گئی۔صباء کی علم کے مطابق ندا نے دو برسوں ،تقریباََمیں ہر ہفتے ارنیب سے سبق لیا ہی ہو گا۔
اُس روز وہ دونوں ساتھ تھیں۔۔اور وہی ارنیب کے ساتھ اُن کی آخری ملاقات ثابت ہوئی۔۔اِس کے بعد،پھر کِسی کو پتا نا چلا کہ وہ کیوں اور کہاں چلی گئیں۔
صبا کو بھی اکثر اُس ملاقات میں ارنیب سے کیے سوال یاد آتے۔
’’۔۔ارنیب جی آپ میں اتنی صلاحیت کیسے پیدا ہوئی ۔۔؟آپ کو ہر بات کی اصلیّت کا علم کیسےہوجاتا ہے؟۔۔اُس پر لفظ جیسے آپ کے سامنے قطار میں سر جھکائے کھڑے ہوتے ہیں۔۔خیال ، ترکیب، تمحید اور اُس بات کی تقدیر آپ پر مکمل عیاں ہو جاتی ہے۔۔اور پل کے پل آپ اُس کا خلاصہ سامنے والے کو پکڑا دیتی ہیں۔اتنی برق رفتاری۔۔اتنی آمد۔۔کیسے ۔۔کیسے ۔۔؟‘‘
۷
’’ریاضت سے۔۔‘‘
صباء طویل جملے کا جواب مختصر تھا۔
اُس روز ندا کو بات کرنے کا موقع نا ملا۔ صبا ءکا شوق دورانِ گفتگو ،پہلی بات کو دوسری سے جوڑ دیتا۔
’’۔۔تو ارنیب جی اگر ایک روز آپ سو کر اُٹھیں اور پتا چلے کہ سب شہرت ختم ہو چکی۔آپ کو کوئی نہیں جانتا۔‘‘
ارنیب نے چونکے بنا بلا تاخیر جواب دیا۔
’’میں تو اب بھی صرف لکھتی ہوں۔۔ادبی محافل کا حصّہ نہیں ہوں۔میرا لوگوں سے تعارف میری تحریر کے توسط سے ہے۔۔اور اِس کے علاوہ میں چاہتی بھی نہیں۔۔۔دوسری بات ۔۔یہ کہ چھن جانے سے پہلے چھوڑ دینا ہی معراج ہے۔‘‘
صبا اور ندا چونک گئیں۔صبا ءکا ایک بار پھر منہ کھل گیا۔ندا نے چہرے کو صاف کِیا ، اِس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی، صبا پھر بول اٹھی۔
’’مطلب۔۔‘‘
’’چھوڑیں گے نہیں تو چھوڑے ہوئے کی قیمت اور اپنی صلاحیت کا اندازہ کیسے ہو گا۔‘‘
’’مطلب۔۔؟‘‘
اب کہ ندا کے منہ سے ’مطلب‘ پھسلا۔
’’ہمم۔پا لینا۔۔اور بات پائے رکھنا اور بات۔۔‘‘
’’کیاااااا۔؟‘‘
۸
ندا اور صباء دونوں کا منہ کھل چکا تھا۔
’’۔۔۔اور بات تو اِس سے آگے کی بھی ہے۔۔۔‘‘
’’کیااااا؟‘‘
صباء نے بوکھلا کر کہا تو ارنیب ۔۔جو نا سنجیدہ تھی ۔۔اور نا ہی مزاح میں ۔۔ایسے جیسے بس پانی ہلکے
آہنگ سے بہہ رہا ہو۔نا جواب کی طغیانی ۔۔نا ہی آنے والے اجنبی سوال کی الجھن۔۔
’’وہ یہ کہ پانا اور بات ۔۔حاصل کرنا اور بات ۔۔پایا ہوا ، پائے رکھنا ایک بات ۔۔۔مسلسل جہد۔۔اور حاصل کیے ہوئے کو تیاگ دینا ایک بات ۔۔اور بات تو اِس سے آگے کی بھی ہے۔ــ‘‘
۔۔۔۔ندا اور صباء نے یک لخت بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا۔دونوں کا ’’بات تو اِس سے آگے کی بھی ۔۔آگے لے جانے کا ارادہ سسکیاں لے رہا تھا۔۔
پہلا رستہ نڈھال کر رہا تھا ،ارنیب کو جانے کیوں سامنے والے کے دماغ تک رسائی تھی۔۔؟’’خیر یہ بے معنی سوال ہے۔۔انھیں خبر ہوتی ہے کہ دوسرا کیا کہے گا ۔۔اور پھر کیا کہے گا۔۔اور پھر ۔۔پھر کیا کہے گا۔‘‘
صباء رو دینے کو تھی۔۔جب کہ ندا کا چہرہ جانے کیوں زرد پتے کا سا ہو رہا تھا۔ارنیب نے ایک دو لمحے انتظار کیا۔۔جب سامنے سے کِسی ’’کیا‘‘ کا ظہور نا ہوا ،تو بولیں۔
’’۔۔چھوڑ دینے کے بعد ’’ اطمینان‘‘ کی ریاضت بتاتی ہے کہ پائے رکھنا تھا۔۔یا حاصل کیے رہنا تھا۔۔اور بات تو ۔۔۔‘‘
اِس سے پہلے کہ ارنیب کہتی کہ ’’بات تو اِس سے آگے کی بھی ہے‘‘ صباء نے یک دم ہاتھ جوڑ
۹
کر پھر دونوں کان پکڑ لیے۔۔
’’نا کریں۔۔جان لیں گی کیا۔۔؟‘‘
ارنیب مسکرادی۔۔وہ سامنے تصویر بنی بیٹھی تھیں ۔۔مانو۔۔ایک بار پھر مدھم سروں جیسے بہتا پانی ہو۔۔جب کہ اُن دونوں کو ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کسی فوجی سزا میں میدان کا دسواں چکر لگا چکی ہیں۔
’’۔۔ٹھیک ہے،آپ کی مرضی ۔۔مگر بات اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچی۔۔ایک چکر پورا ہو گا تو نئی بات
ہو گی۔نئی ریاضت ۔۔اور۔۔۔۔کیا میں نے کچھ غلط کہا؟‘‘
آخر کار ارنیب نے اپنے رنگروٹوں کو مدھم مسکراہٹ سے نوازا ، دوڑ رکوا کر سانس بحال کروایا۔
’’۔۔۔۔نہیں ۔۔کچھ زیادہ صحیح فرمایا دیا۔۔‘‘
’’اچھا لو۔۔شربت پیو!‘‘
ارنیب نے صباء کے جواب سے محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔
’’۔۔گویا ! صباء انٹرویو ختم شُد۔۔‘‘
’’جی بس ایک سوال۔۔‘‘
صبا نے ندا کی طرف دیکھا۔۔مگر وہاں ایک بھی نہیں تھا۔۔بس گہری چُپ ڈفلی بجا رہی تھی۔
’’۔۔۔لیکن ملے ہوئے کو چھوڑ دینا ہی کیوں۔۔مانو۔۔نعمت کو ٹھکرانا۔۔؟‘‘
’’ٹھیک ہے ،مگر ملے ہوئے کے ساتھ چھن جانے کا خوف لپٹا ہے۔۔جو جذبے کمزور سے کمزور کرتا ہے
۱۰
۔۔اور اکثر دغا کی پہلی دستک ہے۔۔اور۔۔‘‘
’’اور ۔۔۔‘‘صبا نے اب کے ندا کو ناموجود تصوّر کیا۔
’’۔۔۔اور ۔۔حاصل لہو گرم رکھتا ہے۔۔دغا بازی پر چھپٹنے کے لیے ۔۔حاصل تحرک کی نمو جاری رکھتا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’صدقے جاؤں۔۔چہرہ پُر رونق سوا بارہ کیوں بجا رہا ہے؟‘‘
’’تُم ،نا ادھر بیٹھو۔۔صدقے جاؤں کی بچی۔۔پہلی بار تُم میرے ساتھ ارنیب مصدق سے ملی تھیں اور آج دو برس بعد بھی میرے ساتھ ۔۔‘‘
’’ہاں ! تو۔۔‘‘
صباء نے معصومیت سے کہا تو ندا کا چہرہ تمتمانے لگا۔
’’۔۔تو۔۔تو یہ کہ ایسا لگا رہا تھا ، جیسے میں موجود ہی نہیں تھی۔۔۔جب کہ گذشتہ چار برسکے دوران میں اُن سے رابطے میں ہوں۔۔‘‘
’’۔۔اور پھر بھی ناموجود دکھائی دیں۔۔؟‘‘
صبا کھلکھلاتے ہوئے سیڑھیاں پھلانگنے لگے۔
’’صباء ۔۔رکو ذرا تُم۔۔یہ انٹرویو ہم دونوں نے کرنا تھا۔‘‘
صباء یک دم رُک گئی۔ندا اُس کے قریب پھولی سانس کے ساتھ استفسار میں کھڑی تھی۔۔کیونکہ صباء کے منہ سے نکلا جملہ قطعئی غیر متوقع تھا۔
۱۱
’’کیااا۔۔تم نے کہا کہ نہیں دونوں کا نہیں ۔۔۔نام صرف ایک کا ہو گا۔۔کیوں۔۔؟‘‘
’’ہاں!ایک کا ۔۔یعنی تمھارا۔۔میں تو بس یونہی گئی تھی۔‘‘
’’ارے بھئی۔۔میں نے ۔۔نا ارنیب جی کی ریاضت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ دیا ہے ۔۔یہ لو۔۔چھوڑ دیا۔۔پایا ہوا ۔۔نہیں حاصل کیا ہوا ۔۔نہیں پایا ہوا۔۔‘‘
صباء نے اگلی سیڑھی پر دھپ سے زور دار آواز سے قدم رکھتے ہوئے گڑبڑا کر کہا۔
’’ارے بھئی یہ انٹرویو۔۔پایا ہوا ہے یا حاصل کیا ہوا یا ۔۔ملا ہوا ۔۔اُف ۔۔‘‘
ندا نے ایک قہقہہ لگایا تو صباء جھنجھلا کے بولی ۔
’’بتاؤ بھئی۔۔مجھے تیاگ ،میرا مطلب ۔۔چھوڑنا ہے ۔۔جلدی بولو۔۔میں اگلی سیڑھی پر قدم رکھوں پھر ۔۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یونہی سیڑھیاں اترتے چڑھتے اگلا سال گزر گیا۔اُس ایک برس میں ندا کے تبصرے ،مضامین اور افسانوں کا چرچا ہو گیا۔لوگوں نے اُسے ارنیب مصدق کی غائبانہ طالبہ تک کہہ دیا ۔۔ کِسی نے ارنیب مصدق کی دوسری تصویر کہہ دیا اور پھر ایک روز۔۔خوب ہی لکھ دیاگیا۔
۔۔۔۔ ندا حمید نے بر جستگی میں ارنیب مصدق کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔۔اور بات نکلی تو ہم نواؤں کی باد صباء اُڑاتی چلی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٍ ۱۲
آج ندا کی چوتھی کتاب کی رونمائی تھی۔دو برسوں میں بہت کچھ ہو گیا ۔ سر ابراہیم نے ندا کی تحریر کو ارنیب سے بہتر کہا تو ایک دل جلے صحافی نے اپنی کِسی محرومی کا بدلہ لیا۔
’’آ پ تو ارنیب مصدق کے منگیتر تھے۔۔آپ نے کبھی اُنھیں تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔۔اور ایک بار آپ نے ہی فرمایا تھا کہ ارنیب مصدق مصنفہ نہیں۔۔ایک اسکالر ہیں۔اُن کی تحریر میں آنے والے دو سو سال کی دستک سنائی دیتی ہے۔۔اور یہ کہ ارنیب مصدق کی تحریر ہر وقت ، ہر زمانے کی ہے۔۔وہ کبھی پرانی نہیں ہو گی۔۔وہ ہر عمر کے انسان کا فلسفہ ، نفسیات اور ہر معاشرے کی طبیبہ ہے۔۔۔۔۔۔یہ جی۔۔ آپ نے کہا تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔اِس کے بعد ہال میں یک دم سناٹا چھا گیا۔۔وہ ایک اول جلول حلیے والا سر ابراہیم کے الفاظ کے شواہد اپنے بیگ سے نکال نکال کر پیش کر رہا تھا۔
’’آپ کو کیا لگتا ہے۔۔ابراہیم نے اُنھیں چھوڑا تھا ۔۔ویسے تو یہ دو لوگوں کا ذاتی فعل تھا ۔۔مگر اِس کے باوجود آپ جلد بازی سے کام نا لیتے تو دیکھتے کہ میں یہی اعلان اور وعدہ کرنے جارہی تھی کہ بہت جلد میں اپنی روحانی اتالیق کو تلاش کر کے آپ کے سامنے لے کر آؤں گی ۔۔باقی رہ گئی تحریر کی بات تو میں نے کبھی کِسی سے مقابلے کے لیے نہیں کہا۔۔ارنیب مصدق تو یوں بھی میرے لیے ایک مینار روشنی ہیں ۔۔اور رہیں گی۔میں ہمیشہ تنقید کا سامنا کرنے کے لیے موجود ہوں۔‘‘
ہال تالیوں سے گونجنے لگا۔ندا نے ارنیب کی ایک بڑی سی تصویر پر پھولوں کی پتیاں نثار کیں جو کچھ دیر بعد ہی اسٹیج کے پردے کے پیچھے سامنے لائی گئی تھی۔۔جلےبھنے صحافی کی مسلسل ندا سے گفتگو جاری تھی۔۔
۱۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صباء کے لاکھ انکار کے باوجود ندا نے نا صرف اُسے بلکہ کچھ اور یونیورسٹی کے دوستوں کو اپنے ساتھ گھسیٹ لیا۔الوداعی عشائیہ بھی شہر بڑےروساء کی طرف سے دیا گیا تھا۔
’’آپ مس ندا حمید کی پرانی دوست ہیں۔۔ایک فلاحی تنظیم چلا رہی ہیں۔۔آپ کوکبھی لکھنے کا شوق نہیں ہوا۔۔۔جب کہ تبصرے تو آپ کے بھی کبھی کبھار نظر سے گزرتے ہیں۔‘‘
’’نہیں ۔۔وہ تبصرے نہیں میرے کام کے معلوماتی تجزیے ہوتے ہیں۔۔۔اور رہ گئی لکھنے کی بات تو۔۔میرا یہ ماننا ہے ۔۔کہ ہر انسان کو وہی کرنا چاہیے جو دراصل وہ کر سکتا ہو۔۔سب کی اپنی شناخت ہے۔ہر چٹھی ایک پتے پر نہیں جاتی۔‘‘
صباء کی بات جاری تھی کہ ندا نےآواز دی۔۔آج اُن کا اُس ملک میں آخر دن تھا ۔کام ختم ہو چکا تھا۔۔وہ سب مختلف ٹکڑیوں میں مگر تقریباً ساتھ ساتھ موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سڑکوں پر آوارہ گردی کر رہے تھے۔۔۔
ندا ۔۔یاسر اور صبا ایک ساتھ فُٹ پاتھ پر کچھ چیزیں دیکھ رہے تھے کہ اچانک یاسر نے ساتھ والےاسٹال پر کھڑی ایک خاتون کو دیکھ کر چونکتے ہوئے کہا۔
’’ندا !وہ دیکھو۔۔وہ ۔۔وہ ارنیب مصدق نہیں لگ رہیں۔۔؟ارے ہاں۔۔ہمم۔۔وہی ہیں آؤ۔۔۔‘‘
صباءنے چونک کر ہاتھ میں پکڑے کانچ کے کڑے کو بیگ میں رکھا اور اسٹال پر قیمت رکھتے ہوئے برق رفتاری سے یاسر کے تعاقب میں قدم بڑھائے۔
’’۔۔سنیں۔۔آپ ۔۔ارنیب مصدق ہیں نا۔۔‘‘یاسر کی پرجوش آواز میں سامنے کھڑی خاتون نے
۱۴
پرسکون انداز سے چونکے بنا ہاتھ میں پکڑے دھوپ کے چشمے کو آنکھوں پر لگاتے ہوئے جواب دیا۔
’’نہیں۔۔‘‘
نہیں کی آواز اور جانے والی خاتون کے جاتے جاتے ندا بھی پہنچ چکی تھی۔یاسر کہہ رہا تھا۔
’’کمال ہے۔۔وہی لگ رہی تھیں۔۔مگر وہ ہوتیں تو چونکتیں تو سہی۔۔شاید مماثلت تھی۔‘‘
صبا اور ندا نے دور ہوتی خاتون کو دیکھ کر یاسر کی ہاں میں سر ہلایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام کے چار بجے تھے۔گروپ تھک ہار کے واپس ہوٹل جا چکا تھا ۔ رات آٹھ بجے اُن کی روانگی تھی۔صباء گھنے درخت کے نیچے سنگی بینچ کے ایک کونے پر بیٹھ کر دوسری طرف بیٹھے وجود کو دیکھے بنا بولی۔
’’۔۔۔۔۔تو حاصل کو بھی چھوڑ دینا۔۔چہ معنی دارد۔۔جب کہ ملے ہوئے کو ، ملے نا بھی رہنےدیا جا سکتا تھا۔۔۔یہ میرے جیسے کم فہم انسان کی ترکیب ہے۔‘‘
’’ میں تمھارا ہی انتظار کر رہی تھی۔‘‘
’’مجھے معلوم ہے کہ آپ کو معلوم ہو جائے گا۔۔‘‘
ارنیب مصدق ہلکے سے اپنے پرسکون بہتے پانی کے انداز مسکرا دی۔
صبا ء نے ایک گہری سانس لے کے کہا۔
’’۔۔تو حیرانی کا دائرہ بھی چھوڑ دینے کے ساتھ ٹوٹ جاتا ہے۔‘‘
’’ریاضت کے پہلے قدم پر۔۔‘‘
۱۵
’’۔۔تو پھر اب۔۔‘‘
صباء نے بے چینی سے کہا۔
’’مجھے پتا تھا، کہ تمھیں پتا ہے۔‘‘
’’۔۔آگے بھی کہیے ۔۔آج۔۔ نا دوڑایئے ۔۔‘‘
’’کچھ نہیں ۔۔چھوڑ دینے کے بعد ’’ قیمت ‘‘ اور ’’ ہمت ‘‘کا علم حاصل ہو گیا۔‘‘
’’۔۔تو بات تو اِس سے آگے کی بھی ہے۔۔‘‘
ارنیب نے مسکرا کے اٹھتے ہوئے صبا کا ہاتھ تھام کر کہا۔
’’وہ فن جس میں ریاضت نا ہو ،بے روح بُت ہے۔‘‘
’’بات تو اِس سے آگے کی بھی ہے۔۔‘‘
صبا نےا یک بار پھر ارنیب کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا تو وہ کھلکھلا دیں۔
’’ہاں! ہے ، بات تو اِس سے آگے کی بھی ہے۔۔‘‘
صباء کی خوشی اور سرشاری کی مقدار نے اُس کا چہرہ سُرخ کر دیا۔۔‘‘
’’کیاااا؟‘‘
’’ردِعمل کی چیخ ۔۔‘‘
’’سچ۔۔‘‘
صبا ءنے بے اختیار ارنیب کو گلے لگا لیا۔دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کے چلنے لگیں۔
صبا ء نے سرگوشی کی۔
۱۶
’’ردِعمل کی چیخ کیا کہے گی۔‘‘
’’وہ کہے گی۔۔اِس تعلق میں ہم دونوں نے خسارہ اُٹھایا۔۔میں نے تمھیں پا کے ۔۔اور تُم نے مجھے گنوا کے۔۔‘‘
اردو ادب کی ترقی پسند روایت جب اپنے عروج پر تھی تو اسی دور میں ایک منفرد لہجے کا شاعر سامنے آیا۔ اسرار الحق مجاز، جنہیں دنیا مجاز لکھنوی کے نام سے جانتی ہے، 1 اکتوبر 1911 میں رودولی ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ ان کا ادبی سفر نہ صرف لکھنؤ کی تہذیب سے جڑا ہے بلکہ اس پورے دور کے سیاسی اور سماجی پس منظر کو بھی اپنے ساتھ سمیٹتا ہے۔ لکھنؤ میں تعلیم کے دوران انھیں شہر کی فضا، چلن اور ادبی رنگ ایسا بھایا کہ تخلص کے ساتھ ہی اسے اپنا لیا۔ مجاز لکھنوی دراصل لکھنؤ کی تہذیبی نرمی اور ان کے اپنے رومانوی مزاج کا حسین امتزاج بن گیا۔ 1930کی دہائی ہندوستان کی سیاسی بیداری، آزادی کی تحریک اور سماجی شعور کا دور تھا۔ ترقی پسند تحریک نے ادب کو درباروں اور عشقیہ غزلوں کی تنگ گلیوں سے نکال کر سماجی جدوجہد کے میدان میں کھڑا کیا۔ مجاز اسی فضا کے شاعر تھے۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے جہاں نئی سوچ، جدید شعور اور سیاسی سرگرمیاں طالب علموں کے ذہنوں کو نیا رخ دیتی تھیں۔ یہی ماحول مجاز کی شاعری کا فکری ڈھانچہ بن گیا۔ مجازؔ لکھنوی کی مختصر زندگی کا خاصہ ان کی شاعری تھی۔ ان کی سب سے بہترین نظم’آوارہ‘ ہے، جس کے چند بند 1953میں بنی فلم ’ٹھوکر‘ میں گلوکار طلعت محمود کی آواز میں کافی مشہور ہوئے: ’’اے غم دل کیا کروں، اے وحشت دل کیا کروں‘‘ یہ شہر کی رات میں ناشادو ناکارہ پھروں جگمگاتی دوڑتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں 1936میں دہلی ریڈیو اسٹیشن پر میگزین آواز کے پہلے مدیر کے طور پر مجاز نے ایک نئی روایت ڈالی۔ بعد ازاں بمبئی انفارمیشن، لکھنؤ کے رسائل نیا ادب اور پرچم، اور پھر دہلی کی ہارڈنگ لائبریری نے انہیں فکری وسعت دی۔ وہ صرف شاعر نہیں تھے، ادبی فضا کے سرگرم رکن بھی تھے۔ ترقی پسند مصنفین کی انجمن میں ان کا فعال کردار ان کی سوچ کی سمت کا واضح اظہار تھا۔ مجاز لکھنوی کی شاعری میں رومان، بغاوت اور داخلی کرب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ ان کی شاعری میں ایک عجیب کشش ہے۔ رومانوی نرمی بھی ہے، شہری زندگی کا کرب بھی اور سماجی بے چینی بھی۔ ان کے ہاں جذبات کی شدت اور لہجے کی موسیقیت ایک ساتھ چلتی ہے۔
ان کی مشہور نظم "آوارہ” اردو شاعری میں شہری تنہائی، بیزاری اور سرگردانی کا ایک علامتی بیانیہ ہے۔ رات کی روشنیوں میں ایک حساس فرد کا بے مقصد بھٹکنا دراصل اس اجتماعی ذہنی کیفیت کا اظہار ہے جو جدید شہری تہذیب نے پیدا کی۔ طلعت محمود نے جب اس نظم کے بند گائے تو یہ صرف ایک نظم نہیں رہی، ایک نسل کا ترنم بن گئی۔ اسی طرح بچوں کے لیے نظم "ریل” میں ایک الگ دنیا ہے۔ اس میں حیرت، معصومیت، رفتار اور موسیقیت مل کر ایسا منظر بناتے ہیں جو بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ نظم مجاز لکھنوی کی تخلیقی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ محض ترقی پسند نعروں کے شاعر نہیں تھے، بلکہ زبان کو شاعرانہ جادو میں ڈھالنے کا ہنر بھی رکھتے تھے۔ مجاز کا اسلوب ان کی شخصیت کی طرح روشن اور بے باک ہے۔ ان کی زبان نرم لیکن پوری توانائی کے ساتھ چلتی ہے۔ وہ استعارے اور علامتوں کے ذریعے جدید زندگی کے مسائل سامنے لاتے ہیں۔ ان کے ہاں غم ذات بھی ہے اور غم دوراں بھی۔ ان کی شاعری میں رومانی شکستہ دلی بھی ہے اور سماجی غیر اطمینانی بھی۔ اسی امتزاج نے انہیں فراق، جوش اور فیض کے درمیان ایک الگ مقام دیا۔ مجازلکھنوی حساس تھے، جذباتی تھے اور زندگی سے ٹوٹ کر محبت کرنے والے تھے۔ یہی شدت کئی بار انہیں اندر سے کمزور بھی کرتی رہی۔ لکھنؤ کے ایک مشاعرے کے بعد ان کی زندگی کا چراغ اچانک بجھ گیا۔ 5 دسمبر 1955 کو وہ محض 44 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ مگر ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔ مجاز لکھنوی نے اردو کو ایک ایسا لہجہ دیا جو رومان اور احتجاج دونوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کی ادبی تاریخ ان کے بغیر نامکمل ہے۔ ان کے نام پر 2008 میں جاری ہونے والا ڈاک ٹکٹ اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ محض شاعر ہی نہیں بلکہ ایک تہذیبی علامت بھی تھے۔ مجاز لکھنوی کا نام اردو شاعری میں اس لیے روشن ہے کہ انہوں نے انسان کے اندر کے کرب، خواب اور شکستہ دل کی موسیقیت کو شہر کی بے رحم فضا میں یوں رکھا کہ یہ سب ایک اجتماعی تجربہ بن گیا۔ ان کی شاعری آج بھی پڑھنے والے کو ایک خاموش سحر میں لے جاتی ہے۔ نمونہ کلام نیم شب کی خامشی میں زیرلب گاتی ہوئی جیسے موجوں کا ترنم جیسے جل پریوں کے گیت ایک اک لے میں ہزاروں زمزمے گاتی ہوئی جستجو میں منزل مقصود کی دیوانہ وار اپنا سردھنتی، فضا میں بال بکھراتی ہوئی الغرض دوڑتی چلی جاتی ہے بے خوف و خطر شاعر آتش نفس کا خون کھولاتی ہوئی
بھکرکے ادبی و صحافتی افق پر مقبول ذکی مقبول کا نام درخشاں ستارے کی طرح نمایاں ہے ۔ اُن کا تعلق صحرائے تھل کی سر زمین منکیرہ سے ہے ۔ وہ ادب و صحافت کے میدان میں اپنے پیش رو علی شاہ ( مرحوم ) کے مقلد نظر آتے ہیں ۔ جس طرح علی شاہ ( مرحوم ) نے منکیرہ جیسے دور افتادہ اور پسماندہ علاقے میں رہتے ہوئے شاعری اور صحافت کے میدان میں ملکی سطح پر شہرت پائی اسی طرح مقبول ذکی مقبول نے بھی ادب و صحافت کی بے لوث خدمت کر کے ملک گیر شناخت حاصل کر لی ہے ۔ اُن کی ادبی تصانیف اور صحافتی تخلیقات بارہا مقامی اور ملکی سطح پر شائع ہو کے شائقینِ ادب و صحافت سے پزیرائی حاصل کر چکی ہیں ۔ زیرِ نظر کتاب ٫٫ حُسنِ بیان ،، مقبول ذکی مقبول کے علمی ، ادبی ، سماجی ، سوانحی اور صحافتی مضامین پر مشتمل ہے ۔ اِس کتاب میں اُنھوں نے جن موضوعات اور شخصیات کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے اگرچہ اُنھیں اپنے علمی ، ادبی ، سماجی اور صحافتی دائرہ کار میں معتبر حیثیت حاصل ہے لیکن مقبول ذکی مقبول کے قلم نے اُن کے اعتبار میں اور اضافہ کر دیا ہے ۔ اُنھوں نے جو محسوس کیا اُسے دیانت داری سے قلم کے سپرد کر دیا ۔
مقبول ذکی مقبول انتھک قلم کار ہیں ۔ اُن کا ادب و صحافت سے اتنا گہرا تعلق ہے کہ اُس پر رشک آتا ہے ۔ وہ دُنیاوی زندگی کے تقاضوں سے بے نیاز ہو کے ادب و صحافت کی خدمت کرنے میں مصروف رہتے ہیں ۔ میں نے اپنی زندگی میں ایسے مخلص اور درویش صفت ادیب و صحافی بہت کم دیکھے ہیں ۔ خالقِ علم و نطق سے دُعا ہے کہ وہ مقبول ذکی مقبول کے علمی و ادبی رزق میں مزید وسعت پیدا کرے ۔
مقبول ذکی مقبول ، فکر ، فن اور روحانیت کا درخشاں مینار
تحریر : ملک منیر احمد کھوکھر ( لیّہ )
ادب کے وسیع منظرنامے پر کچھ نام ایسے نمودار ہوتے ہیں جو محض لکھنے والے نہیں رہتے بلکہ عہد کے فکری رہنما کے طور پر پہچانے جاتے ہیں ۔ ان کی تحریریں قاری کے ذہن میں نئی سمتیں روشن کرتی ہیں ، دل کو نرم کرتی ہیں اور سوچ کے نئے دریچے کھولتی ہیں ۔ انہی معتبر شخصیات میں مقبول ذکی مقبول کا نام ایک درخشاں ، مستند اور ہم عصر ادبی مینار کے طور پر اپنی الگ پہچان رکھتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول نے شاعری ، نثر ، تحقیق اور تنقید کے میدان میں جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ صرف ادبی سرمائے میں اضافہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری اثاثہ بھی ہیں ۔ ان کی تحریروں میں فکری عمق ، روحانی لطافت ، عصری شعور اور تہذیبی آگہی کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو بہت کم اہلِ قلم کو نصیب ہوتا ہے ۔ سجدہ ، روحانیت اور احساس کا سرائیکی عطر مقبول ذکی مقبول کی سرائیکی شاعری کا مجموعہ ٫٫ سجدہ ،، ان کے فکری اور روحانی سفر کا ایک نمائندہ سنگِ میل ہے ۔ یہ کتاب قاری کو محض شاعری نہیں دیتی بلکہ ایک تجربہ ، ایک احساس اور ایک روحانی لمس عطا کرتی ہے ۔
اس کے اشعار میں انسان اور کائنات کا مکالمہ، درد اور شکر کا توازن ، محبّت اور الوہیت کا ربط ایک ایسے اسلوب میں جلوہ گر ہے جو سرائیکی زبان کی مٹھاس کو فکر کی وسعت کے ساتھ پروتا ہے ۔ کتاب کا سرورق بھی ایک علامتی فن پارہ ہے ۔ ٹوٹ پھوٹ ، تلاش ، تعمیر اور انسان کے باطنی سفر کی تجریدی ترجمانی ۔ ٫٫ سجدہ ،، بار بار پڑھنے کی چیز ہے ، ہر مطالعہ ایک نئی پرت ، ایک نیا ادراک عطا کرتا ہے ۔ منتہائے فکر ۔ شعور کے آفاق تک رسائی مقبول ذکی مقبول کی ایک اور اہم کتاب ٫٫ منتہائے فکر ،، ہے جو ان کے فکری سفر ، ادبی پختگی اور مشاہداتی بصیرت کا آئینہ دار ہے ۔ یہ کتاب قاری کو ایک مسلسل ذہنی سفر پر لے جاتی ہے جہاں : مذہبی و روحانی وابستگی ، سماجی شعور ، عصری حالات کی معنویت ، اور انسان کے باطنی سوالات بے حد سلیقے اور سنجیدگی سے بیان کیے گئے ہیں ۔ کتاب میں شامل حمد ، نعت ، سلام حضرت امام حسین علیہ السّلام ، فکری نظموں میں ایک خاص وقار ، سادگی اور فنی شفافیت نظر آتی ہے جو مقبول ذکی مقبول کے اسلوب کی پہچان ہے ۔ یہ مجموعہ نوجوان نسل کے لیے ذہنی تربیت اور سنجیدہ قارئین کے لیے فکری تازگی کا سامان فراہم کرتا ہے ۔ شذراتِ مقبول ۔ ادبی چہرہ نامہ شذراتِ مقبول ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو مختلف اہلِ قلم کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے لکھی ہیں ۔ ( تحقیق و تنقید ) یہ کتاب ادبی خدمات کو نہ صرف محفوظ کرتی ہے بلکہ ان کی شخصیت کے علمی ، فکری اور انسان دوست پہلوؤں کو بھی سامنے لاتی ہے ۔ سنہرے لوگ ۔ نثر کی دنیا کا خوبصورت سفر ٫٫ سنہرے لوگ ،، ( نام ور ادبی شخصیات کے انٹرویوز ) ایک نثری مجموعہ ہے جس میں ادبی ، سوالات اور فکری مضامین شامل ہیں ۔ یہ کتاب مقبول ذکی مقبول کی شخصیت اور فکر کا دوسرا رخ دکھا تی ہے ۔ نثر میں بھی ان کی زبان : شگفتہ سادہ شفاف اور دل میں اتر جانے والی ہے ۔ یہ کتاب نہ صرف پڑھنے والے کے ذہن کو جِلا بخشتی ہے بلکہ اسے زندگی ، تعلقات ، تاریخ اور انسانی رویوں کے نئے پہلو دکھاتی ہے ۔ کتاب ٫٫ روشن چہرے ،، ( معروف ادبی شخصیات سے مصاحبے ) یہ بھی اسی سلسلہ کی لڑی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول اور کُتب کے نام پیشِ خدمت ہیں ۔ ٫٫ عاصم بخاری : اعترافِ فن ،، ( تحقیق و تنقید ) ٫٫ یہ میرا بھکر ،، ( فردیات ) ٫٫ اندازِ بیاں دیکھ ،، ( اُردو ، پنجابی اور سرائیکی شاعری ) ٫٫ عاصم بخاری : شخص اور شاعر ،، ( کیفِ منظوم ) ٫٫ حُب دار قائم : جگمگاتا ستارہ ،، ( شخصیت اور فن ) اور حُسنِ بیان ، تحقیق کا سنہرا باب ٫٫ حُسنِ بیان ،، ( مضامین اور تبصرے ) مقبول ذکی مقبول کے تحقیقی رجحان کی عکاس ہے ۔ یہ کتاب ادبی اسلوب ، فنِ بیان اور زبان کے فکری ڈھانچے پر روشنی ڈالتی ہے ۔ باقی کتابوں کی طرح علمی و ادبی حلقوں میں بھرپور پزیرائی حاصل کرہی ہے ۔ یہ کتاب اپنی اہمیت و افادیت کے باعث ادبی حلقوں میں موضوعِ گفتگو بن چکی ہے ۔ یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ ٫٫ حسنِ بیان ،، تحقیق و تنقید کے میدان میں ایک بلند معیار قائم کرے گی ۔ مقبول ذکی مقبول ، ادب کا دم دار ستارہ مقبول ذکی مقبول کا قلم محض الفاظ نہیں لکھتا ، بلکہ سچائی ، درد ، محبّت اور فکری آگہی کا راستہ تراشتا ہے ۔ ان کی تحریروں میں : درد کی شدت محبّت کی لطافت سوچ کی وسعت اور جذبے کی سچائی ایک ساتھ ملتی ہیں ۔ وہ ایسے ادیب ہیں جو محض لکھتے نہیں بلکہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ ان کی تخلیقات آنے والے وقت میں ادب کے لیے ایک حوالہ بن جائیں گی ۔ اختتامی کلمات مقبول ذکی مقبول کی تمام کتابیں ۔ ادب کے افق پر روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ یہ کتابیں صرف ادب نہیں ، بلکہ روح ، فکر ، تاریخ اور انسانیت کے سفر کی دستاویز ہیں یوں ہی ادب کے آسمان پر اپنی روشنی بکھیرتے رہے ۔ مقبول ذکی مقبول شخصیت اور فن پر لکھی گئی کتاب اس کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ کتاب کا نام ٫٫ مقبول ذکی مقبول کی ادبی مقبولیت ،، ( مشاہیر کی نظر میں ) مؤلفہ : ریحانہ بتول ادبی چہرہ نامہ ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو مختلف اہلِ قلم نے مقبول ذکی مقبول کی شاعری اور شخصیت کے حوالے سے لکھی ہیں ۔ یہ کتاب ان کی ادبی خدمات کو نہ صرف محفوظ کرتی ہے ۔ بلکہ ان کی شخصیت کے علمی ، فکری اور انسان دوست پہلوؤں کو بھی سامنے لاتی ہے ۔ یہ ایک ادبی دستاویز ہے جو اس بات کی شہادت ہے کہ مقبول ذکی مقبول کا قلم آج کے معاصرین اور نقادوں کے نزدیک بھی قابل قدر ہے ۔
ادب و فن کی دُنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے علم ، خلوص اور خدمت سے روشنی کے چراغ بن کر دوسروں کی راہ منور کرتی ہیں ۔ اُن کے وجود سے صرف کتابیں نہیں ، بلکہ دل بھی روشن ہوتے ہیں ۔ زاہد اقبال بھیل ایسی ہی ایک نابغۂ روزگار ہستی ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں ، علمی خدمات اور ادبی قیادت کے ذریعے اُردُو ادب کے افق پر ایک نیا رنگ بھرا ہے ۔ زاہد اقبال بھیل کا وجود علم و فن کا ایک خوبصورت نگر ہے ، جہاں محبت ، خلوص ، صداقت اور خدمت کے چراغ ہر گوشے میں جلتے ہیں ۔ اُن کے قلم نے محبت کو حرفوں میں ڈھالا اور لفظوں میں احساس کی خوشبو بھر دی ۔ یہی تاثرات میرے دل سے نکل کر اس نظم کی صورت میں ڈھل گئے ہیں:؎
٫٫ علم و فن کا حسیں نگر ،، زاہد اقبال بھیل
علم و فن کا حسیں نگر زاہد الفتوں کا ہو تم شجر زاہد
پیار و اخلاص کے حوالے سے تم ہمیشہ ہو اوج پر زاہد
تیری فطرت میں روشنی دیکھی تیری سوچیں ہیں معتبر زاہد
اہلِ علم و ادب کی دُنیا کا تم ستارہ ہو ، تم قمر زاہد
لوگ کرتے ہیں تیری تعریفیں کس سے اوجھل ترا ہنر زاہد
قلبِ مقبولؔ کی اداؤں میں تیری الفت کا ہے اثر زاہد
زاہد اقبال بھیل کی شخصیت ایک روشن ستارے کی مانند ہے جو ہر سمت اپنی روشنی پھیلا رہا ہے ۔ وہ ادب کو محض فن نہیں سمجھتے بلکہ اسے انسانیت کی خدمت کا وسیلہ مانتے ہیں ۔ اُن کے اندر کا شاعر ، منتظم ، اور مخلص انسان سب ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں ۔ زاہد اقبال بھیل کی ادبی خدمات نے نہ صرف ننکانہ کی زمین کو معتبر کیا بلکہ اُن کی محبتوں کا دائرہ پوری دُنیا کے اہلِ قلم تک پھیل گیا ۔ ٫٫ بھیل انٹرنیشنل ادبی سنگت ،، اُن کے وژن ، اُن کی قیادت اور اُن کے ادب سے لگاؤ کی روشن علامت ہے۔ اُن کے قلم کی سیاہی سے نکلنے والا ہر لفظ جیسے دلوں کی دھڑکن سے ہم آہنگ محسوس ہوتا ہے ۔ وہ الفت کے درخت ہیں جن کے سائے میں علم کے پودے پروان چڑھتے ہیں ، اور یہی اُن کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ دُعا ہے کہ زاہد اقبال بھیل کا یہ علم و فن کا حسیں نگر ہمیشہ آباد رہے ، اور اُن کی روشنی آنے والی نسلوں کے لیے مینارِ رہنمائی بنے۔
صوبہ پنجاب کا آخری ضلع بھکر جو کہ ٫٫کے پی کے ،، کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان کی سرحد اور دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر آباد بھکر ایک ایسا خطہ ہے جو نا وسائلی کے باوجود ہر شعبہء زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بھکر کا نام روشن کیا ہے ۔ چاہے وہ کوئی بھی میدان ہو پاکستان کے باقی ضلعوں کی طرح بھکر بھی پیچھے نہیں رہا ۔ خاص طور پر فنونِ لطیفہ میں تو اپنی مثال آپ ہے ۔ بھکر کو ضلع کا درجہ 1982ء میں ملا ضلع بھکر کا حدودِ اربعہ بھکر کی چار تحصیلیں ہیں جن میں بھکر ، دریا خان ، کلورکوٹ اور منکیرہ شامل ہیں ۔ مشرق کی طرف ضلع جھنگ اور ضلع خوشاب سے جاملتا ہے ۔ مغرب کی جانب ڈیرہ اسماعیل خان ، کے ۔ پی ۔ کے سے جاملتا ہے شمال کی جانب ضلع میانوالی سے جاملتا ہے اور جنوب کی طرف ضلع لیّہ سے جاملتا ہے ۔ رقبہ کے لحاظ سے منکیرہ پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل ہے ۔ میرا آج کا موضوعِ تحقیق میں افسانہ اور ناول نگاری ہے جو قارئین کے لئے پیشِ خدمت ہے ۔
ابوالعمار بلال مہدی
تحصیل منکیرہ کے شمال کی جانب 16 کلومیٹر کے فاصلے پر گاؤں لِتَن میں بلال مہدی ، زوار ملوک حسین کے گھر 15 مارچ 1951ء کو پیدا ہوئے اور وفات 9 دسمبر 2023ء کو ہوئی آپ ادیب ، شاعر ، تبصرہ نگار ، محقق ، افسانہ نگار ، سوانح نگار ، اور مذہبی سکالر تھے ۔ آپ کی شاہد اقبال مطہری ریسرچ لائبریری بھی ہے ۔ اُس کے انچارج آپ کے بیٹے علی حسنین مہدی ہیں ۔ انہوں نے آپ کے افسانوں کا غیر مطبوعہ مجموعہ راقم الحروف کو دکھایا جس میں 24 افسانے موجود ہیں ۔ ان کے نام کچھ اس طرح سے ہیں ۔ بات ہی بات ، مارگلہ موسم ، وعدہ ، صرف ایک دن کا فرق آپ کے افسانوں میں نوجوان نسل کے لیے اصلاح کا پہلو نمایاں نظر آتا ہے ۔ علی حسنین مہدی افسانوں کو کتاب کی صورت میں شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔
الطاف اشعر بخاری
الطاف اشعر بخاری محمد مشتاق شاہ بخاری کے فرزندِ ارجمند ہیں ۔ آپ کی تاریخ و مقام پیدائش 5 اپریل 1970ء بھکر آپ نے ادب کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی ہے ۔ آپ کا پہلا افسانہ ٫٫ مجسمہ ،، روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر میں 13 دسمبر 2009ء کو شائع ہوا آپ نے چار افسانے لکھے ہیں ۔ اُن کے نام درجِ ذیل ہیں ۔ 1 مجسمہ 2 دومنٹ 3 یہ عشق بڑا بے دردی 4 انسان آپ کے افسانے فکر و فن کے ساتھ ساتھ سماج کی صورتِحال اور پختہ کاری میں کمال درجہ پر ہیں ۔ ہر دو طرح سے قابلِ تعریف ہیں ۔ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔
انیل چوہان
انیل چوہان ، بھکر کے اُردو ادب اور صحافت میں ایک منفرد اور نمایاں نام ہے ۔ قلمی و اشاعتی حوالے سے ان کی فروغِ ادب کے حوالے سے خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ اُن کے شعری مجموعے بھی منظرِ عام پر آ چکے ہیں اور نثر بھی ۔ افسانہ نگاری کے حوالے سے سرائیکی زبان میں افسانوں کا مجموعہ ٫٫ اک دے امب ،، ( اگست 1994ء ) کو پاکستان پنجابی بورڈ 15 / 17 آؤٹ فال روڈ سنٹ نگر ، لاہور سے شائع ہوا ۔ جس میں اٹھارہ افسانے شامل ہیں ۔ افسانے ٹیکنیکی اور فنی اعتبار سے پختہ ہیں اور معیار پر پورے اترتے ہیں جو کہ یہ ان کی سرائیکی زبان سے محبت کا ثبوت ہے ۔ انیل چوہان کی مادری زبان اُردوُ ہے ۔ یہ بات اس بات کا اظہار اور ثبوت بھی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اِس طرح کا خوبصورت اُردُو افسانہ بھی لکھ سکتے ہیں لیکن تاحال انہوں نے اُردو افسانہ لکھنے کی طرف توجہ نہیں دی میں امید کرتا ہوں کہ آئندہ اس موضوع پر شائع ہونے والے تحقیقی مقالہ یا مضمون میں ان کے اُردو افسانے بھی شامل ہوں گے اور ان کی علمی ادبی اشاعتی کاوشوں و کوششوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ ان نام کے بغیر کوئی تحقیقی مضمون کسی صنفی لحاظ سے مکمل نہیں ہو گا ۔
جاوید عباس جاوید ( پروفیسر )
جاوید عباس جاوید اُردُو ادب کے کامیاب نثر نگار ہیں ان کا شمار بھکر کے اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا یے ۔ ان کا پہلا افسانہ لاہور کے رسالہ کھلونا میں جولائی 1974ء میں شائع ہوا جب وہ نویں جماعت میں پڑھتے تھے ۔ اس کے بعد اس رسالے میں آپ کے پانچ مزید افسانے شائع ہوئے ۔ 1990ء میں جب وہ کامرس کالج بھکر میں اُردوُ کے پروفیسر تھے انہوں نے کالج کا میگزین الفلاح جاری کیا جس میں ان کا افسانہ سوغات شائع ہوا ۔ پھر 2000ء میں رسالہ سرمایہ میں ان کا افسانہ محنت میں عظمت شائع ہوا ۔ 2007ء میں انہوں نے کامرس کالج منکیرہ کا پہلا میگزین ریگزار شائع کیا ۔ جو تحصیل منکیرہ میں چھپنے والا پہلا میگزین تھا جس میں ان کا افسانہ ریت دھوپ اور بارش شائع ہوا ۔ اس افسانے میں صحرائے تھل کی دشوار زندگی اور موسم کی تلخیوں کا ذکر خوبصورت انداز میں کیا ہے ۔ ان کی افسانہ نگاری میں منظر کشی ، جذبات نگاری اور معاشرتی ناہمواریوں کا احاطہ کیا گیا ہے ۔
خالد اسراں ( ڈاکٹر )
ڈاکٹر خالد اسراں ، ملک عطا محمد اسراں کے گھر ڈیرہ اسماعیل خان میں 5 فروری 1977ء میں پیدا ہوئے خان دانی نام خالد جاوید قلمی نام ڈاکٹر خالد اسراں آج کل ڈی ایچ کیو ہسپتال ، بھکر میں ڈاکٹر سرجن کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں ۔ رہائش منڈی ٹاؤن بھکر میں ہے ۔ ادبی میدان میں 1999ء کو وارد ہوئے بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں ۔ غریب طبقہ کے حق میں قلمی علم بردار ہیں ۔ افسانہ ہو یا شاعری انہی لوگوں کی حمایت میں نظر آتی ہے جو غربت ، بے روزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ افسانہ مزدور سے چند سطریں ملاحظہ کیجئے ۔ ہادی جواب میں کچھ نہیں بولا اور خاموشی سے بات سُنتا رہا ۔ فرید نے اپنی بات جاری رکھی ، بیٹا! میری زندگی تنگ دستی میں گزر گئی ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہارا مستقبل اچھا بن جائے ۔ میری اور تمہاری ماں کی خواہش ہے کہ ہمارا بیٹا ڈاکٹر بنے اور اسے ان تکلیفوں سے نہ گزرنا پڑے جو ہمیں جھیلنی پڑرہی ہیں ۔ وہ باتیں کررہے تھے کہ ہادی کی ماں دونوں کے لیے روٹی لے آئی ۔ آج بھی بینگن کا شوربہ پکا ہوا تھا ۔ وہ روٹی اور سالن ان کے سامنے رکھتے ہوئے بولی ، ٫٫ اف اللّٰہ! کتنی مہنگائی ہو گئی ہے ۔ غریب ٹھیک سے سبزی بھی نہیں کھا سکتا ۔ اب تو سبزی کا بھی شوربہ پکانا پڑتا ہے،، ۔ مہنگائی بہت ہو گئی تھی ۔ بازار میں سب سے سستی سبزی بینگن تھی جو فرید خرید لایا تھا اور آج تیسرا دن تھا کہ گھر میں بینگن کا شوربہ پک رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ ہادی مسلسل بینگن کا شوربہ کھا کر تنگ آیا ہوا تھا ۔ اس نے بڑی مشکل سے نوالے گلے میں اُتارے ۔ فضا میں خنکی بڑھ گئی تھی ۔ وہ اُٹھ کر کمرے میں آگئے ۔۔۔۔۔۔ ( فسوں زار 95 ص ) آپ کے افسانوں کے چار مجموعے اور ایک شاعری کا مجموعہ ان سب مجمو عوں کو اُردو سخن ڈاٹ کام چوک اعظم ( لیّہ ) نے شائع کیا ۔ نام ردجِ ذیل ہیں ۔ ٫٫ آبلہ پا خواب ،، افسانوی مجموعہ ( جون 2017ء ) ٫٫ درِ زنداں ،، افسانوی مجموعہ ( 2018ء ) ٫٫ سر بریدہ سائے ،، افسانوی مجموعہ ( 2021ء ) ٫٫ فسوں زار ،، افسانوی مجموعہ ( 2023ء ) اور شہرِ افلاس شعری مجموعہ ( جنوری 2021ء میں شائع ہوا ۔
خالق داد چھینہ
خالق داد چھینہ ۔۔۔۔۔۔ افسانہ اور ناول نگار جاڑے کا موسم اور 1970ء سے تین سال قبل پنجاب کی پسماندہ ترین تحصیل منکیرہ میں سرفراز چھینہ کے ہاں پیدا ہوئے ( بستی شمالی محلہ فاروق آباد ، منکیرہ ) ان کے والد سرفراز چھینہ منکیرہ کے ایک محنتی کسان اور تیل کے تاجر تھے ۔ خالق داد چھینہ نے میٹرک تک تعلیم منکیرہ سے ہی حاصل کی ۔ نہم کلاس سے باقاعدہ اخبارات و جراید میں لکھنا شروع کیا ، نام کی طرح تخلیق کا عنصر شخصیت کا نمایاں جزو ہو نے کی بنا پر یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ، افسانوں کا ایک مجموعہ ٫٫ صداۓ جرس ،، کمپوز ہو چکا ہے زیرِ طبع ہے جس میں فن پارہ ، پانچواں موسم ، عشق کی عین ، عقیدہ ، لہو رنگ گلابوں کا موسم ، ٹھاہ اس میں ایک درجن سے زائد رومانوی ، معاشرتی مسائل اور کرداروں ، رویوں پر مشتمل افسانے ہیں ۔
افسانہ ٫٫ لہو رنگ گلابوں کا موسم ،،
سکول سے واپسی پر صائمہ کا اترا ہوا چہرہ وہ ان کہی داستان کہہ گیا جو صرف ماں ہی سمجھ سکتی ہے ۔ فیس کی تو تکرار تو آئے روز کی بات تھی ، ماں روز نیا بہانہ بنا کر زبیر کو انجنئیر اور صائمہ کو ڈاکٹر بنا بے کی اُمید پر سکول روانہ کرتی تھی خود دن بھر بے تکان سوچو میں گم رہتی اِس محلے کے گندے ماحول میں بھی اجلی سوچیں ہی تو اس کی سکھیاں تھیں بچوں کو انتہائی غربت میں بھی سکول پڑھانا مختصر ترین گھر کو جنّت بنا نا اور اپنی جوانی کو غربت کی فاؤنڈری میں پگھلانا یہی پچیس سالہ بشریٰ کی زندگی کا ہی خاصہ تھا ۔ خالق داد چھینہ نے چند ناول بھی لکھے ہیں ۔ فاصلے ، زرد پتہ ، نا نجام ، جن کی طباعت نہ ہوسکی مسودے ہنوز مرتب شدہ ہیں ۔ ناول ٫٫ فاصلے ،، ٹیچر کو نائلہ کی حالت دیکھ کر بلآخر پوچھنا ہی پڑا کہہ کیا بات ہے کیونکہ نائلہ کا شمار کلاس کی اچھی لڑکیوں میں یوتا تھا ، اور آج کل طبیعت کی اس تبدیلی نے نائلہ کو چڑ چڑا کر دیا تھا اور انہوں نے ٹیچر کے سوالوں کا جواب بھی نہیں دیا تھا پھر چہرہ بھی دل کی حالت کی چغلی کھا رہا تھا ۔ خالق داد چھینہ نے اپنی تحریروں میں معاشرے کے افراد کے روشن اور تاریک رخ کو سامنے رکھ کر اصلاحی اور رومانوی پہلوؤں کے ساتھ بہت سادہ الفاظ میں اصلاح کی ہے ۔ بچوں کے لۓ کہانیاں بھی لکھیں ہیں جو بھکر کے پہلے اخبار ٫٫ نواۓ حق ،، بھکر اور نوائے حق ،، لیّہ میں چھپی نکٹھو نے مزدوری کی۔ آموں کی چوری ۔ گدھے کی سواری ۔ ہم نے سائکل سیکھی درجنوں کہانیاں لکھیں جو پھول ، تربیت ، بچوں کی دُنیا ، بزم اطفال اور کئ مقامی اور ملکی جرائد میں لکھا ۔ اخبار جہاں ، فیملی ، اُردُو ڈائجسٹ ، سیارہ ڈائجسٹ ، آدابِ عرض ، سلامِ عرض ، فنون ، افکار ، احقاف اوورسیز انٹرنیشنل ، میں شائع ہوئی ہیں ۔ ، آٹھ سال پہلے 2017ء میں بوجوہ منکیرہ سے جہان خان شفٹ ہو گئے ہیں ۔ ( نبے والا موضع کمال تھہیم مسلم کوٹ روڈ نبے والا جہان خان بھکر )
عباس خان
محمد افضل خان کے بیٹے غلام عباس خان 15 دسمبر 1943ء کو بستی گُجہ ، بھکر میں پیدا ہوئے ۔ آپ کا خاندان بلوچوں جسکانی قبیلہ سے ہے ۔ افسانہ اور ناول نگاری کے حوالے سے عباس خان کے نام سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے ۔ ابتدائی تعلیم بستی گُجہ پھر بھکر ، لیّہ ، مظفرگڑھ اور ایم ۔ اے سیاسیات پنجاب یونیورسٹی اور ایل ایل بی کا امتحان پنجاب یونیورسٹی لاء کالج لاہور سے کیا ۔ پہلے آپ ایڈیشنل سیشن جج تعینات ہوئے پنجاب بھر کے مختلف شہروں میں اپنی ذمہ داریاں دیانت داری اور ایمان داری کے ساتھ سر انجام دیں ۔ 14 دسمبر 2003ء کو ملازمت کی مدّت پوری ہوئی ضلع بھکر میں سیشن جج کے عہدے سے ریٹائرمنٹ لی ۔ افسانہ اور ناول نگاری میں آپ نے عالم گیر شہرت حاصل کی آپ کے افسانے اور ناول کالج ، یونیورسٹی ، میگزین کے علاوہ بھی اخبارات ، رسائل و جرائد میں بھی شائع ہوتے رہے ہیں ۔ چند کے نام درجِ ذیل ہیں ۔ سہ ماہی ٫٫ ادبیات ،، ( اکیڈمی آف لیٹرز اسلام آباد ) ماہنامہ تخلیق ، ماہنامہ ادبِ لطیف ، ماہنامہ قومی ، ڈائجسٹ ، ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ ، لاہور سہ ماہی سیپ ، کراچی روز نامہ نوائے وقت ، لاہور ماہنامہ شاعر ، بمبئی اور ہفت روزہ آگ ، بھارت ۔ عباس خان کی افسانہ نگاری کے حوالے سے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال ( ریٹائرڈ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ ) ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔ عباس خان کو علی عباس حسینی ، غلام عباس اور خواجہ احمد عباس کے پائے کا افسانہ نگار قرار دیتے ہوئے انہیں عباس چہارم کا نام دیا ہے ۔ عباس خان کے افسانوں کے مجموعوں کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ٫٫ دھرتی بنام آکاش ،، ( 1978ء ) ٫٫ تنسیخِ انسان ،، ( 1981ء ) ٫٫ قلم ، کرسی اور وردی ،، ( 1987ء ) جنگ پبلشرز 13 آغاز خان روڈ لاہور نے شائع کیا ٫٫ اُس عدالت میں ،، ( 1992ء ) ٫٫ جسم کا جوہڑ ،، ( 1999ء ) کو بیکن بکس ، ملتان نے شائع کیا
افسانچوں کے مجموعوں کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ۔ ٫٫ ریزہ ریزہ کائنات ،، ( 1992ء ) ٫٫ ستاروں کی بستیاں ،، ( 2012ء ) بیکن بکس ، ملتان سے شائع کیا ناولوں کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ۔ ٫٫ زخم گواہ ہیں ،، ( 1984ء ) اس کے بعد ( 1988ء ) میں بھارت میں بھی شائع ہوا تھا ۔ ٫٫ تُو اور تُو ،، ( 2005ء ) کو کلاسیک پبلیشرز 42 مال روڈ لاہور سے شائع کیا دوسرا ایڈیشن بیکن بکس ، گلگشت ملتان نے ( 2007ء ) میں شائع کیا ۔ ٫٫ میں اور امراؤ جان ادا ،، ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے پہلی بار ( 2005ء ) کو شائع کیا دوسرا ایڈیشن پبلیشرز 42 مال روڈ لاہور نے شائع اور اس کے بعد تین بار بیکن بکس گلگشت ملتان نے اس کو شائع کیا ۔ ان کے علاوہ عباس خان ایک اور موضوع پر ایک کتاب ٫٫ پل پل ،، ( 2009ء ) کو بیکن بکس گلگشت ملتان نے شائع کی ۔
علی شاہ
علی شاہ کا خان دانی نام سید اُمید علی شاہ اور ادبی دنُیا میں علی شاہ کے نام سے شہرت رکھتے تھے ۔ یکم فروری 1966ء کو سید محمد اعجاز شاہ کے گھر 38 چک ضلع خانیوال میں آنکھیں کھولیں ۔ زندگی میں 50 بہاریں دیکھ لیں ۔ 16 جون 2016ء کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آنکھیں بند کر لیں ۔ علی شاہ نے گیارہ کتابیں لکھیں ۔ زیادہ تر تحقیق اور شاعری انتخاب پر مشتمل ہیں ۔ علی شاہ کا افسانچوں کا مجموعہ ٫٫ زرد پتے ،، ( معاشرتی افسانچے ) 2000ء کو منصہء شہود پر آیا اس کو شہر یار پبلی کیشنز اسلام آباد نے شائع کیا ۔ علی شاہ کے افسانچوں میں بے رحم زمانے کی تلخ حقیقت ، دوکھا دادھئی ، رشوت کا بازار گرم اور معاشرے میں ناانصافیاں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہیں ۔ جیسے جیسے قاری مطالعہ کرتا جاتا ہے ۔ اُس کے سامنے معاشرے کا چہرہ آنکھوں کے سامنے کھومتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ جیسا کہ ایک مشہور کہاوت ہے جس کی بھیس اُسی کی لاٹھی اِس طرح کے موضوعات پائے جاتے ہیں ۔ آج سے 27 ۔ 28 سال قبل اُس وقت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ آج کل کے دور میں تو لوٹنے اور فراڈ بازی کے نئے نئے تریکے ایجاد ہو گئے ہیں ۔ علی شاہ کے افسانچوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں ۔ اللّٰہ کا گھر ، چمک ، قانون ، جرنیل کا بیٹا ، چوروں کو مور ، عقیدے ، پیٹ کی آگ ، قرض شناسی ، وارننگ ، علاج ، پانچوں گھی میں ، انتقام ، سادہ لوگ ، کرامت ، موت کے سوداگر ، دولت کا نشہ ، ایک سو کے قریب افسانچے شامل کئے گئے ہیں ۔ ٫٫ زرد پتے ،، سے اقتباس
٫٫ وہ رات دس بجے کوئٹہ کے ریلوے سٹیشن پر اترا اور مسافر خانے میں رات بسر کرنے کے متعلق سوچ رہا تھا کہ وہاں پر موجود پولیس کے ایک سپاہی نے اسے دھر لیا تلاشی لینے پر اُس کی جیب سے ہزار روپے کا ایک نوٹ اور خانیوال سے کوئٹہ تک کا ٹرین کا ٹکٹ بر آمد ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ نوٹ دیکھ کر سپاہی کی رال ٹپکنے لگی اور نوجوان کو آوارہ گردی کے جرم میں پولیس چوکی چلنے کی دھمکی دی ۔۔۔۔۔ نوجوان کی منت سماجت پر سو روپے میں مک مکا ہو گیا ۔ سپاہی نے نوٹ اپنی جیب میں رکھ لیا اور نوجوان کو نو سو کے بجائے آٹھ سو روپے واپس کئے اور بغیر گنے وہاں سے بھاگ جانے کو کہا ۔۔۔۔۔ نوجوان نے پرنس روڈ کے ایک ہوٹل میں اطمینان سے رات بسر کی ۔۔۔۔ سپاہی جب دوسری صبح کپڑے کی ایک بڑی دوکان پر ٫٫ بیگم ،، کے ہمراہ خریداری کے بعد ہزار کا نوٹ دوکان دار کے حوالے کیا تو جعلی نوٹ کے جرم میں دکان دار نے اسے پولیس کے حوالے کر دیا ،، ( ص 31 )
علی شاہ نے بچوں کی کہانیاں بھی لکھیں ۔
غزالہ کشور ملک
غزالہ کشور ملک نے افسانہ نگاری کا آغاز 2022ء میں کیا ان کا پہلا افسانہ ٫٫ دکھاوا ،، اپوا تنظیم ،، کے زیرِ انتظام شائع ہونے والی کتاب ٫٫ پیام ہدایت ،، میں شائع ہوا ان کا دوسرا افسانہ ٫٫ مسیحا ،، کے عنوان سے کتاب ٫٫ چمکتے ستارے ،، میں شائع ہوا اس کے علاؤہ قسمت ، کل اثاثہ ، یقین ، محبت امید اور انتظارِ رسائل کی زینت بن چکے ہیں ۔ غزالہ کشور ملک ( زوار آباد ، بھکر ) اپنے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں اپنے تخلیقی سفر کے بارے میں بتاتی ہیں کہ
٫٫ میں نے پہلا ناول 2013ء میں دخل لکھا لیکن وہ پھر شائع نہیں ہوا ۔ اس کے علاؤہ باقاعدہ ناول نگاری کا آغاز 2024ء میں کیا پہلا ناولٹ ٫٫ تیری محبت کے اسیر ،، اکتوبر 2024ء ماہنامہ ٫٫ حنا ،، ڈائجسٹ میں شائع ہوا اس کے بعد دوسرا ناول ٫٫ میرا عشق ہو تم ،، ماہنامہ ٫٫ آنچل ،، میں شائع ہوا ہے تیسرا ناول ٫٫ قید ہجر یاراں ،، حنا ڈائجسٹ ستمبر کے شمارے میں شائع ہونے والا ہے ۔ ناولوں کا موضوع سماجی اور عورت کے مسائل اور حقوق ہیں۔ ناولوں کے موضوع رومان اور سماج کے گرد گھومتے ہیں ۔ پسندیدہ ناول نگار تو بہت ہیں لیکن فرحت اشتیاق صاحبہ میری پسندیدہ لکھاری ہیں مزید تین ناولوں پر مشتمل کتاب زیرِ طبع ہے اِن شاء اللّٰہ اکتوبر میں منظر عام پر آئے گی ۔ میرا تخلیقی و تصنیفی سفر پورے شوق اور مطالعہ سے جاری ہے ،،
انٹرویو کنندہ
مقبول ذکی مقبول ، بھکر
غلام محمد تقی متین کوٹلہ جامی
بھکر کے ادب میں ایک معتبر نام شاعر و ادیب مصنّف (والدِ بزرگوار پروفیسر جاوید عباس جاوید اور ظفر عباس ) غلام محمد تقی متین کوٹلہ جامی ( 18 اکتوبر 1920ء / 15 نومبر 1996ء ) آپ نے بچوں کے لیے اُردو میں کہانیاں بھی لکھیں ۔
فرحت پروین
فرحت پروین کی پیدائش یکم جنوری 1953ء کو غلام حیدر خان کے گھر بھکر میں ہوئی ۔ ان کا قلمی اور خان دانی نام ایک ہی ہے ۔ فرحت پروین ۔ میٹرک تک تعلیم بھکر میں حاصل کی ۔ فرحت پروین کافی عرصہ سے امریکہ میں رہائش پذیر ہیں ۔ افسانہ نگاری میں بین الاقوامی شہرت یافتہ خاتون ہیں ۔ افسانہ کو افسانہ لکھا اور اُس کی رُوح میں اتر گئیں ۔ جس کی وجہ خاص خدا داد صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی ماحول بھی ٖمیصر آیا اور بچپن سے لکھنے اور مطالعہ کا شوق بھی جھلکتا ہوا نظر آتا ہے ۔ فرحت پروین نے افسانہ نگاری کا آغاز 1992ء میں کیا مشہور و معروف رسائل و جرائد میں افسانے شائع ہوتے رہے ہیں ۔ جن میں فنون ، سویرا ، ادبِ لطیف ، اور دیگر ملکی و غیر ملکی میں ہندوستان کا رسالہ ادب ، اور امریکہ کا رسالہ ٫٫ آواز ،، علمی و ادبی حلقوں اور قارئین میں بھرپور پزیرائی ملی ۔ فرحت پروین کی افسانہ نگاری کے بارے میں معروف کالم نگار عطا الحق قاسمی کہتے ہیں ۔ باقی جہاں تک فرحت پروین کی افسانہ نگاری کا تعلق ہے تو میں ان کے فن کے کشتگان میں سے ہوں ۔ ان کا تعلق افسانے کی حقیقت پسندانہ روایت سے ہے ۔ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران جو چند افسانہ نگار خواتین اپنے پورے قد کے ساتھ سامنے آئی ہیں اُن میں فرحت پروین ، طاہرہ اقبال ، نیلم احمد بشیر اور راحت وفا سر فہرست ہیں ۔ فرحت پروین کا ذکر میں نے خواتین افسانہ نگاروں کے ساتھ اس لیے کیا ہے کہ مجھے ان کے افسانوں میں ممتا بہت نظر آتی ہے ۔ اور یہ ممتا کمزروں کیلئے خصوصاً بہت طاقتور ہو جاتی ہے ۔ فرحت پروین کے افسانوی مجموعوں کے نام کچھ اس طرح سے ہیں ۔ 1 ٫٫ منجمد ،، ( 17 فسانے شامل ہیں ) اساطیر لاہور نے 1997ء کو شائع کیا دوسرا ایڈیشن 2005ء کو روش پبلی کیشنز نے شائع کیا 2 ٫٫ ریستوران کی کھڑکی سے ،، ( 18 افسانے شامل ہیں ) جس کو مئی 2000ء میں اساطیر نے شائع کیا 3 ٫٫ صندل کا جنگل ،، ( 24 افسانے شامل ہیں ) 2010ء میں جہانگیر بکس لاہور نے شائع کیا 4 ٫٫ کانچ کی چٹان ،، ( 31 افسانے شامل ہیں ) جس کو 2012ء میں جہانگیر بکس لاہور نے شائع کیا 5 ٫٫ بزمِ شیشہ گراں ،، ( 21 افسانے شامل ہیں ) جس کو 2014ء میں بیاض نے شائع کیا زیرِ طبع ٫٫ برگ گل افسوس ،، ( ناول ) اور غزلیات کا مجموعہ ہے ۔
محمد اشرف کمال ( پروفیسر ڈاکٹر )
محمد اشرف کمال منڈی ٹاؤن بھکر سے ہیں انہوں نے چند افسانے لکھے ہیں ۔ میگزین دِلکُشا 2015ء بھکر نمبر گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بھکر اور دیگر رسائل و جرائد اخبارات میں شائع ہوچکے ہیں ۔ جو انسانی قدروں کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں ۔ جن کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ۔ شکار ، نارسائی ، مجھے میرا چہرہ لادو ، مکافاتِ عمل ، گنجا ، سپہ سالار اور نقب زن ۔
محمد ضیاء المصطفیٰ
محمد ضیاء المصطفیٰ ( پروفیسر ڈاکٹر ) مولانا محمد عاشق حسین فائق کے فرزند محمد ضیاء المصطفیٰ کا تعلق بھکر کے ایک گاؤں حسن خان سے ہے ۔ گورنمنٹ کالج ، بہل میں لیکچرار ہیں ۔ آپ کی مادری زبان سرائیکی ہے جبکہ تخلیقات اُردو میں ہیں ۔ آپ کے افسانے مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں ۔ اُن کے نام کچھ اِس طرح سے ہیں ۔ ماہنامہ ٫٫ ادبِ لطیف ،، لاہور ماہنامہ ٫٫ قومی زبان ،، کراچی سہ ماہی ٫٫ ادبیات ،، اسلام آباد سہ ماہی ٫٫ تسطیر ،، جہلم سہ ماہی ٫٫ ادراک ،، گوجرانولہ اور سہ ماہی ٫٫ فن زاد ،، سرگودھا ۔ بھر انہی افسانوں کو حال ہی میں اگست 2025ء میں ٫٫ شیتل ،، کے نام سے افسانوی مجموعہ منصہء شہود پر آیا ۔ ناشر فکشن گیلری ، لاہور صفحات 235 پر مشتمل ہے ۔ افسانے 19 شامل کئے گئے ہیں ۔
محمد رفیق چغتائی
شاعر و مصنّف محمد رفیق چغتائی کا تعلق مسلم کوٹ سے ہے سرائیکی میں شعر کہتے ہیں ۔ سرائیکی میں افسانے بھی لکھے ہیں جو غیر مطبوعہ ہیں ۔
ملک نعمان حیدر حامی
ملک نعمان حیدر حامی ضلع بھکر کی تحصیل دریا خان کے ایک چھوٹے سے گاؤں چاہ اسراں چک نمبر 18 ٹی ۔ ڈی ۔ اے ۔ میں یکم مارچ 2005ء کو احمد نواز کے گھر پیدا ہوئے بچپن سے لکھنے کا شوق پیدا ہوا یعنی پانچویں کلاس میں تھے شعر کہنا شروع کر دیا ۔ ابھی طالب علم ہی ہیں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ادب بھی تخلیق کر رہے ہیں ۔ اِن کی تحریریں مقامی اخبارات ملکی و غیر ملکی رسائل و جرائد میں شائع ہو چکی ہیں ۔ چند کے نام درجِ ذیل ہیں ۔ روزنامہ ٫٫ بھکر ٹائمز ،، بھکر ماہنامہ ٫٫ بیاض ،، لاہور ٫٫ املاک ،، مردان ، ہفت روزہ ٫٫ مارگلہ نیوز ،، انٹرنیشنل اسلام آباد اور ماہنامہ ٫٫ کامل ،، میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں ۔ ملک نعمان حیدر حامی کا افسانوی مجموعہ ٫٫ اے محبت مجھے معاف کر ،، 2024ء میں منصہء شہود پر آیا ہے ۔ 15 افسانے شامل کئے گئے ہیں ۔ انتساب سعادت حسن منٹو کے نام کیا گیا ہے ملک نعمان حیدر حامی کے افسانوں میں جدیدیت پائی جاتی ہے جیسا کہ افسانہ حیثیت اور پرورش یہ دو ایسے افسانے ہیں جو کہ خوبصورت منزل پر پہنچ جاتے ہیں اور قاری کے اندر موجودہ دور کی ایک تصویر کشی پیدا کرتے ہیں ۔ انہوں نے بچوں کے لئے کہانیاں بھی لکھیں ہیں ۔
منیر بلوچ ( پروفیسر )
منیر بلوچ ، بھکر شہر سے ہیں ۔ دو درجن کے قریب افسانے لکھے ہیں ۔ جو میگزین ٫٫ دِل کُشا ،، 2004ء گورنمنٹ کالج ، بھکر سہ ماہی ٫٫ سفید چھڑی ،، سرگودھا اور دیگر رسائل میں شائع ہوچکے ہیں
منظور حسین قریشی
منظور حسین قریشی ، بستی سیال بھکر میں رہائش پذیر ہیں ۔ آپ نے مختلف مضامین لکھے اور کالم بھی لکھے ہیں ۔ صحافت بھی ان کا شوق ہے ۔ آپ کے افسانے فنون ، لاہور میں شائع ہوتے رہے ہیں ۔ افسانہ ٫٫ شناخت ،، بہت مقبول ہوا جو کہ بیٹی کے حقوق کی طرف بھرپور توجہ دلائی یہی وجہ بنی جو افسانہ سب کی توجہ کا مرکز بنا ۔ بیٹی اور بیٹے کا موازنہ بھرپور انداز میں کیا گیا ہے ۔
نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی
نذیر احمد نذیر ڈھالہ خیلوی ( استاد الشعراء ) محلہ سردار بخش بھکر میں رہائش پذیر ہیں ۔ ایک ملاقات کے دوران افسانہ نگاری کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کہا 30/ 35 سال پہلے افسانے لکھے تھے وہ مقامی اخبار میں بھی شائع ہوئے تھے وہ میرے گھر میں موجود ہیں ۔ تلاش کرنے سے مل سکتے ہیں ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی تخلیقات کا رخ سرائیکی شاعری کی طرف موڑ لیا ۔ میگزین ٫٫ احقاف ،، 1989ء گورنمنٹ کالج ، بھکر میگزین ٫٫ دِل کُشا ،، 2004ء میگزین ٫٫ ریگ زار ،، 2007ء گورنمنٹ کالج آف کامرس ( منکیرہ ضلع بھکر ) میگزین ٫٫ دِل کُشا ،، 2015ء بھکر نمبر گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ، بھکر ان کالج میگزین میں افسانے شائع ہوئے ہیں ۔ اُن میں پروفیسر افتخار احمد بشر ، کا افسانہ ٫٫اج کالا جوڑا پا ساڈی فرمائش تے ،، پروفیسر سجاد حسین شاہ ، کا افسانہ ٫٫ بھوک ،، پروفیسر عامر ملک ، کا افسانہ ٫٫ بوڑھے کا خواب ،، قاضی ظفر اقبال ، کا افسانہ ٫٫ ماضی کے دریچے سے ،، غلام اصغر ، کا افسانہ ٫٫ ہمدردی ،، احمد نواز خان ، کا افسانہ ٫٫ خلش ،، ممتاز میتلا ، کا افسانہ ٫٫ خاموشی ،، شفقت اللّٰہ ہمدانی ، کا افسانہ ٫٫ دستک ،، محمد احمد ریاض ، کا افسانہ ٫٫ ایک ناقابلِ فراموش واقعہ ،، عقیل عباس ، کا افسانہ ٫٫ خدا داد کا ایک دن ،، عامر سہیل ، کا افسانہ ٫٫ غمِ حیات ،، محمد یاسر ، کا افسانہ ٫٫ کڑوا سچ ،، قیصرہ رانا ، کا افسانہ ٫٫ شکست آرزو ،، ***