پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب سے بات چیت

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، فیصل آباد

پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب، فیصل آباد

انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر

professor ayyub and zaki

سوال : آپ کا نام پیدائش اور بچپن کے بارے میں معلومات دیں۔۔۔۔۔؟
جواب : نام محمد ایوب پیدائش 15 اگست 1959 فیصل آباد۔ والد حاجی صوبہ خان جو کہ گورنمنٹ لوئر ماڈل اسکول مال لاہور سے فارغ التحصیل تھے۔ والدہ نواب بی بی جو کہ گرورام داس ہائی اسکول امرتسر سے فارغ التحصیل تھیں۔ بچپن فیصل آباد کے علاوہ ساہیوال (تھیال) اور لاہور (دادیال) میں گزارا۔
سوال : آپ کی تعلیم کیا ہے۔۔۔۔۔؟
جواب : میٹرک گورنمنٹ صابریہ سراجیہ ہائی اسکول فیصل آباد۔
۔ انٹر کی تعلیم 1979ء میں گورنمنٹ میونسپل ڈگری کالج فیصل آباد سے کی۔ 1982ء میں گریجویشن کا امتحان پنجاب یونیورسٹی سے امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر اور 2010ء میں پنجابی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
سوال : ملازمت کا سلسلہ کہاں کہاں رہا۔۔۔۔۔؟
جواب : پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بطور پروفیسر 1988ء میں گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج بہاول نگر سے کیا۔ دوران ملازمت محنت تعلیمی اداروں میں ٹرانسفر ہوتے رہے۔ الحمداللہ اس معلمی سفر میں بھر پور کوشش رہی کہ اس مقدس پیشے میں کوتاہی نہ ہو اور الحمداللہ یہ سفر کامیاب رہا اور2019ء میں معلمی کا یہ سفر اختتام پذیر ہوا۔
2019ء گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج سمن آباد فیصل آباد سے ریٹائرمنٹ لے لی۔
سوال : ادبی ذوق۔۔۔۔۔؟
جواب : امروز کے پنجابی صفحہ کی وجہ سے ادبی ذوق پیدا ہوا۔
اس کے علاوہ کالج کے ادبی پروگرام بھی اس ذوق کا باعث بنے۔
سوال : آپ کا ذوقِ مطالعہ۔۔۔۔۔؟
جواب : نثر و شاعری کی کتب چاہیے کسی بھی زبان میں ہوں۔ پڑھتا ہوں۔ خاص کر پنجابی لوک ادب کے بارے پڑھنا اچھا لگتا ہے۔ اس کے علاوہ سرائیکی اور گوجری کتب پڑھنا اچھا لگتا ہے۔
سوال : آپ کی نثری خدمات ۔۔۔۔۔؟
جواب : مختلف موضوعات پر 14 کتب شائع ہو چکی ہیں۔
سوال:کیا آپ اپنی کتابوں کے نام بتانا پسند کریں گے۔۔۔۔۔؟
جواب : جی ہاں
نمبر 1
خواجہ علی بہادردی کلیات دکھاں دے پندھ دااک فکری ویر واتے لکھاریاں دی پزیرائی (مرتبہ)2012ء
نمبر 2
شریف فیاض وزیر آبادی فن اور شخصیت (مرتبہ)2018ء
نمبر 3
سوہنے ماہی دے دیس ول(سفر نامہ)2018ء
نمبر 4
گوجری زبان و ادب (کھوج)2018ء
نمبر 5
تنقیدی ویر وے (پرکھ)2019ء
نمبر 6
شہباز دانش شخصیت تے فن (2019ء)
نمبر 7
ورثے دی چھاں (کھوج لوک ادب)2019ء
نمبر 8
ورثے دی چھاں (دوجا حصہ) (کھوج لوک ادب)2020ء
نمبر 9
طب نبوی تے پنجابی ادب (سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)2020ء
نمبر 10
سوجھ سار (کھوج تے پرکھ)2020ء
نمبر 11
باتاں دادی دیاں (بال ادب، لوک کہانیاں)2021ء
نمبر 12
ورثے دی چھاں (تیجا حصہ)(کھوج لوک ادب)2021ء
نمبر 13
گل زیب عباس شخصیت تے فن (2021ء)
نمبر 14
جیون جاچ سوہنے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم دی سیرت پاک راہیں (سیرت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم)2021ء

سوال : آپ شعر و سخن کی طرف کیوں نہیں آتے۔۔۔۔۔؟
جواب : شاعری میں پہلے صرف صوفیانہ شاعری پڑھنا اچھا لگتا تھا۔ مگر اب ہر قسم کی شاعری پڑھتا ہوں۔ شاعری کی طرف نہ کبھی دھیان گیا ہے اور نہ ہی اس کا خیال ذہن میں آیا۔ کیونکہ رحجان کھوج کاری اور تنقید نگاری کی طرف ہے۔ مختلف کتب (پنجابی ، سرائیکی، گوجری اور اردو)پر 150 کے قریب تنقیدی مضمون مختلف رسائل میں
چھپ چکے ہیں۔
سوال : آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی۔۔۔۔۔؟
جواب : بہاولنگر میں بہاولنگر ادبی پر ہیا کا نائب صدر رہا، بہاولنگر ادبی سنگت کا نائب صدر رہا، اس کے علاوہ کالج رسالہ کا ایڈیٹر (شعبہ پنجابی)رہا۔ فیصل آباد میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج میں بابا فرید ادبی سنگت اور کالج رسالہ، نور محمد کپور تھلوی ادبی سنگت کا نائب صدر، گورنمنٹ کالج سمن آباد، انچارج بابا فرید ادبی سنگت اور کالج رسالہ، آج کل صدر دریچہ ادب فیصل آباد شاخ اور نقیبی کاروان ادب میں نائب صدر کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ میر پور آزاد کشمیر میں گوجری ادبی سنگت کا نائب صدر ہوں۔
سوال : فیصل آباد کا ادبی ماحول۔۔۔۔۔؟
جواب :اگرچہ ہفتہ وار حلقہ اربابِ ذوق کا تنقیدی اجلاس ہوتا ہے۔ مگر میں بہت کم جاتا ہوں۔ وجہ صرف ادب دوست افراد کا پابندی وقت کا خیال نہ رکھنا۔ شہر کے تمام اہل علم و دانش سے اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ مجموعی طور پر ماحول ادب پرور اور نئے لکھنے والوں کےلئے ساز گار ہے
سوال : موجودہ ادب۔۔۔۔۔؟
جواب :موجودہ دور میں تخلیق ادب کی رفتار بہت تیز ہے۔ نئے لکھنے کی تعداد میں قابلِ ذکر اضافہ ہوا ہے۔ نئے نئے موضوعات سامنے آتے ہیں۔ ہیئت میں نئے تجربے بھی ہورہے ہیں۔ مگر نئے لکھنے والوں کا رویہ جس قدر پیار و محبت اور تعاون والا ہونا چاہئے۔ وہ نہیں ہے۔ اپنی ذات کے خول میں بند رہنے کی وجہ سے فن پاروں میں گہرائی نہیں اور معیار ہی نہیں۔

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

بھکر

مقبول ذکی مقبول

Next Post

ہمرازاچوی کے ساتھ ایک شام

اتوار دسمبر 19 , 2021
سر زمین لیہ ۔ بزم حسنی ادبی سنگت ۔ بزم شفقت کے زیر اہتمام آج کی شام اردو اور سرائیکی کے معروف استادالشعراء ہمراز اچوی کے نام ادبی نشست منعقد کی گئی
hmaraaz uchvi