سید حبدار قائم: سپاہی سے سخن ور تک
مظہر علی خان کھٹڑ
ادب کی دنیا میں کچھ لوگ محض لفظوں کے شناسا نہیں ہوتے، وہ لفظوں کو زندگی کا ترجمان بنا دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں تجربات کی دھوپ، احساس کی چھاؤں، مطالعے کی خوشبو اور فکر کی روشنی ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ سید حبدار قائم بھی اردو ادب کے ایسے ہی اہلِ قلم ہیں جن کی شخصیت کسی ایک صنف یا ایک رنگ تک محدود نہیں۔ وہ شاعر، نعت گو، نثر نگار، کالم نگار، بچوں کے ادیب اور استاد ہونے کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے ریٹائرڈ فوجی بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کو اگر ایک جملے میں بیان کیا جائے تو شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان کے ہاتھ میں کبھی بندوق تھی تو دل میں شعر، اور جب ہاتھ میں قلم آیا تو سپاہی کا عزم بھی اس کے ساتھ چلتا رہا۔
سید حبدار قائم 10 جنوری 1968ء کو اٹک کے ایک گاؤں غریب وال میں سید کرم حسین شاہ نقوی کے گھر پیدا ہوئے۔ گاؤں کی سادہ فضا، مٹی کی خوشبو اور خاندانی تربیت نے ان کی شخصیت میں سادگی، خود داری اور اپنائیت کے اوصاف پیدا کیے۔ یہی اوصاف آگے چل کر ان کے مزاج اور فن دونوں میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے ادبی سفر کی تشکیل میں ان کے اساتذہ کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ معروف نعت گو شاعر سعادت حسن آس اور اٹک کے معروف خاکہ نگار سجاد حسین سرمد ان کے اساتذہ میں شامل ہیں۔ سجاد حسین سرمد صاحب سے انہوں نے علمِ عروض کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی۔ عروض شاعری کا وہ میزان ہے جہاں لفظ صرف لفظ نہیں رہتا بلکہ وزن، آہنگ اور موسیقیت کے ساتھ شعر کا پیکر بن جاتا ہے۔ سرمد صاحب کی یہ تربیت سید حبدار قائم کے شعری سفر میں ایک مضبوط بنیاد ثابت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں بحر، وزن، قافیہ اور ردیف کی پابندی کے ساتھ شعری آہنگ اور زبان و بیان کی شائستگی بھی نمایاں ہے۔
مگر سید حبدار قائم کی زندگی صرف شعر و سخن کی وادیوں میں نہیں گزری۔ ان کی زندگی کا ایک بڑا باب پاک فوج کی چھبیس سالہ خدمت پر مشتمل ہے۔ عسکری زندگی انسان کو صرف وردی نہیں دیتی، بلکہ نظم و ضبط، صبر، استقامت، فرض شناسی اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے کا ہنر بھی سکھاتی ہے۔ سید حبدار قائم کی شخصیت میں بھی اس تربیت کی جھلک نمایاں ہے۔ ان کے مزاج میں سپاہی کی خود داری ہے اور ان کے قلم میں ادیب کی حساسیت۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کی شخصیت میں دو دریا آ کر مل گئے ہوں؛ ایک طرف فوج کی سخت تربیت کا دریا اور دوسری طرف ادب و احساس کی نرم و شفاف ندی۔ دونوں کے امتزاج نے ایک ایسا انسان تشکیل دیا جو زندگی کو صرف دیکھتا نہیں، اسے محسوس بھی کرتا ہے اور پھر اسے لفظوں میں محفوظ بھی کر لیتا ہے۔
نعت گوئی: عقیدت اور فن کا حسین امتزاج
ان کی ادبی شخصیت کا سب سے روشن پہلو نعت گوئی ہے۔ عشقِ رسولِ اکرم ﷺ ان کے شعری مزاج کا مرکز و محور ہے۔ ان کے لیے نعت محض ایک شعری صنف نہیں بلکہ عقیدت، محبت اور روحانی وابستگی کا اظہار ہے۔ ان کے نعتیہ اشعار میں جذبات کی گرمی کے ساتھ فکر کی پختگی اور فن کی نزاکت بھی موجود ہے۔
ان کے نعتیہ مجموعے مدحِ شاہِ زمن، صبحِ نعت اور روحِ جمال ان کے شعری سفر کے اہم سنگِ میل ہیں۔ ان مجموعوں میں عقیدت کی خوشبو، روایت کی پاس داری اور اظہار کی تازگی ایک ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ ان کے ہاں کلاسیکی نعتیہ روایت سے رشتہ بھی قائم ہے اور عصرِ حاضر کے احساس کی دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے۔ تشبیہ، استعارہ، تلمیح اور دیگر صنائع و بدائع کے استعمال سے ان کی نعتیہ شاعری میں فنی حسن اور معنوی گہرائی پیدا ہوتی ہے۔
نثر نگار سید حبدار قائم
سید حبدار قائم کی ادبی شخصیت کا ایک نہایت اہم پہلو نثر نگاری ہے۔ ان کی نثر اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ وہ صرف شعر کے آدمی نہیں بلکہ نثر کے میدان میں بھی اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ ان کی سات نثری کتابیں ان کے وسیع مطالعے، مشاہدے، فکری تنوع اور نثر پر قدرت کی آئینہ دار ہیں۔
ان کی نثری تصانیف میں نمازِ شب، اکھیاں وچ زمانے، انتقادات و تاثرات، ارتسامِ خیال، آئینۂ خیال، چھانگلا ولی موجِ دریا کی سیرت و کردار اور ننھے بچے ننھی کہانیاں شامل ہیں۔
ان کتابوں کے عنوانات ہی ان کے فکری تنوع کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ کہیں وہ روحانی اور فکری موضوعات سے مکالمہ کرتے دکھائی دیتے ہیں، کہیں اپنے عہد اور معاشرے کو اپنی نگاہِ بصیرت سے دیکھتے ہیں، کہیں ادبی شخصیات اور تخلیقات پر انتقادات و تاثرات پیش کرتے ہیں اور کہیں اپنے منتشر خیالات کو ارتسامِ خیال اور آئینۂ خیال کی صورت میں لفظوں کا پیکر عطا کرتے ہیں۔
”چھانگلا ولی موجِ دریا کی سیرت و کردار“ ان کی نثر میں شخصی و سوانحی مطالعے کی جہت کو نمایاں کرتی ہے، جبکہ ”ننھے بچے ننھی کہانیاں“ ان کی تخلیقی دنیا کے اس پہلو کو سامنے لاتی ہے جہاں وہ بچوں کے معصوم ذہنوں سے ہم کلام ہوتے ہیں۔
ان کی نثری کتابوں کا مجموعی مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سید حبدار قائم کے لیے نثر محض خیالات بیان کرنے کا وسیلہ نہیں بلکہ زندگی، انسان، معاشرے، کردار اور فکر کو سمجھنے کا ایک زاویۂ نظر ہے۔ ان کی نثر میں شاعر کی لطافتِ احساس بھی ہے اور ایک صاحبِ مطالعہ انسان کی فکری گرفت بھی۔
بچوں کا ادب: ننھے ذہنوں کے لیے لفظوں کے چراغ
بچوں کے ادب سے ان کی وابستگی ان کی ادبی شخصیت کا ایک خوب صورت اور قابلِ قدر پہلو ہے۔ ”ننھے بچے ننھی کہانیاں“ کے ذریعے وہ بچوں کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ بچے صرف مستقبل کے قارئین نہیں بلکہ مستقبل کے معمار ہیں۔ اس لیے ان کے لیے لکھی گئی کہانی میں دلچسپی کے ساتھ تربیت، اخلاق اور مثبت اقدار کا عنصر بھی ضروری ہے۔
ان کا یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ادب کو صرف اہلِ ذوق کی تسکین کا ذریعہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور تخلیقی تربیت کا وسیلہ بھی تصور کرتے ہیں۔
کالم نگار اور سماجی شعور
ان کی نثری صلاحیتوں کا ایک نمایاں حوالہ کالم نگاری بھی ہے۔ وہ اپنے گردوپیش کو ایک حساس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ معاشرتی مسائل، شہری معاملات، انسانی رویے اور روزمرہ زندگی کے چھوٹے بڑے واقعات ان کے قلم کی گرفت سے بچ نہیں پاتے۔ ان کے کالم میں محض شکایت نہیں ہوتی بلکہ اصلاح کا جذبہ بھی ہوتا ہے۔
ان کی تحریروں میں ادیب کا دل، شہری کا درد اور ایک ذمہ دار انسان کی آواز سنائی دیتی ہے۔ وہ زندگی سے موضوع لیتے ہیں اور اسے ادب کی زبان عطا کر دیتے ہیں۔
استاد اور ادبی تربیت
ایک استاد کی حیثیت سے بھی سید حبدار قائم نے اپنے علم و تجربے کی شمع آگے منتقل کی۔ ان کے نمایاں شاگردوں میں معروف نعت گو شاعر علامہ الماس، مظہر علی خان کھٹڑ اور عامر بخاری شامل ہیں۔ کسی شاعر کی اصل میراث صرف اس کی کتابیں نہیں ہوتیں؛ اس کے شاگرد بھی اس کے فکری سفر کے امین ہوتے ہیں۔ اس اعتبار سے سید حبدار قائم کی خدمات کا ایک اہم باب ان کے شاگردوں کی صورت میں بھی ہمارے سامنے موجود ہے۔
تحقیق کی دنیا میں سید حبدار قائم
ان کے فن نے تحقیقی دنیا کی توجہ بھی حاصل کی ہے۔ ان پر دو تحقیقی تھیسز لکھے جا چکے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی کی طالبہ ماہا فاروق نے بی ایس سطح پر ”سید حبدار قائم کی کتاب مدحِ شاہِ زمن از سید حبدار قائم کا تجزیاتی مطالعہ “ کے عنوان سے تحقیقی کام کیا، جبکہ ناردرن یونیورسٹی نوشہرہ کی طالبہ علینہ مسعود نے ایم فل سطح پر ”سید حبدار قائم کی نعت گوئی علم بیان و بدیع کے تناظر میں “ کے موضوع پر تحقیق کی۔
کسی تخلیق کار کے فن پر علمی و تحقیقی سطح پر کام ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس کا ادب محض ذاتی اظہار نہیں رہتا بلکہ علمی مطالعے اور تحقیق کے قابل ادبی سرمایہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔
شخصیت کے کئی رنگ
سید حبدار قائم کی شخصیت کا سب سے دل کش پہلو شاید یہی ہے کہ ان کے اندر کئی جہان آباد ہیں۔ ایک جہان سپاہی کا ہے جو نظم و ضبط اور فرض شناسی سے عبارت ہے، دوسرا شاعر کا ہے جہاں احساس لفظوں میں ڈھلتا ہے، تیسرا نعت گو کا ہے جہاں محبتِ رسول ﷺ دل کی زبان بن جاتی ہے، چوتھا نثر نگار کا ہے جو زندگی کے مختلف پہلوؤں کو فکری نظر سے دیکھتا ہے، پانچواں کالم نگار کا ہے جو معاشرے کے زخموں کو محسوس کرتا ہے اور چھٹا بچوں کے ادیب کا ہے جو ننھے ذہنوں میں اچھائی اور امید کے چراغ روشن کرنا چاہتا ہے۔
اور ساتواں ایک شفیق استاد کا ہے جو اپنے شاگردوں کے دلوں میں علم کی شمع روشن کر رہا ہے
یہ تمام جہان ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ فوج نے انہیں زندگی کا نظم سکھایا، عروض نے فن کا سلیقہ دیا، ادب نے اس نظم کو احساس عطا کیا، نعت نے اس احساس کو عقیدت کا رنگ دیا، نثر نے فکر کو وسعت دی، کالم نگاری نے اسے معاشرتی شعور سے جوڑا اور بچوں کے ادب نے اسے آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا راستہ دکھایا۔
سید حبدار قائم کی زندگی دراصل ایک ایسے سفر کی داستان ہے جس میں وردی سے قلم تک کا فاصلہ طے ہوا، مگر مقصد کبھی نہیں بدلا: انسان کی تعمیر، معاشرے کی بہتری اور محبت و خیر کے چراغ روشن کرنا۔
غریب وال کی مٹی سے اٹھنے والا یہ شخص جب چھبیس برس پاک فوج میں خدمت انجام دے کر ادب کی دنیا میں آیا تو اس کے پاس صرف الفاظ نہیں تھے؛ اس کے پاس زندگی کا تجربہ تھا۔ یہی تجربہ اس کے قلم کو وزن دیتا ہے، یہی احساس اس کے شعر کو تاثیر بخشتا ہے اور یہی زندگی اس کی نثر کو سچائی عطا کرتی ہے۔
سید حبدار قائم کو صرف ایک شاعر یا نعت گو کہہ دینا ان کی شخصیت کو ایک دائرے میں محدود کر دینا ہوگا۔ وہ سپاہی بھی ہیں، سخن ور بھی؛ نعت گو بھی ہیں، نثر نگار بھی؛ کالم نگار بھی ہیں، بچوں کے کہانی کار بھی؛ اور استاد بھی۔ ان کی سات نثری کتابیں، نعتیہ مجموعے، بچوں کے لیے کہانیاں، کالم اور شاگردوں کی ادبی تربیت ان کی ہمہ جہت شخصیت کے مختلف روشن پہلو ہیں۔
اور کم وبیش تین کتابوں کا مواد ان کے پاس مزید جمع ہے عنقریب وہ بھی ان شاءاللہ منظر عام پر آ جائے گا
ان کی شخصیت کے یہ تمام رنگ مل کر ایک ایسی ادبی تصویر بناتے ہیں جس میں زندگی کی سختیاں بھی ہیں، محبت کی نرمی بھی، فکر کی روشنی بھی اور فن کی خوشبو بھی۔
یہی ان کی شخصیت کا حسن ہے اور یہی ان کے فن کی پہچان۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں