علی شاہ کے افسانچوں کا مجموعہ ٫٫ زرد پتّے ،،
تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
اِس افسانچوں کے مجموعہ کو شہریار پبلی کیشنز 621 آب پارہ اسلام آباد سے نومبر 2000ء میں شائع کیا ہے۔
انتساب !
علی شاہ نے اپنی اماں جی کے نام ! کیا ہے ۔
علی شاہ کو دُنیا سے گئے ہوئے دس برس بیت گئے ہیں ۔ لیکن اُن کی شخصیت آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے گھومتی ہے ۔ سادات گھرانے کے چشم و چراغ چھ فٹ قد سفید گوری رنگت نرم مزاج خوب صورت خد و خال کے عامل انسان تھے اور گفت گو خوب صورت انداز میں کیا کرتے تھے علم و ادب سے لگاؤ جنون کی حد کیا کرتے تھے ۔ بات اور لہجے میں مٹھاس پایا جاتا تھا ۔ محفل میں بیٹھے ہوئے لوگ گرویدہ ہو جایا کرتے تھے وہ محفل میں ایک تاثر چھوڑ جاتے تھے ۔ زیرِ نظر افسانچوں پر مشتمل مجموعہ
میں افسانچے سو کے قریب ہیں ۔ جو کہ وقت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔
علی شاہ کے افسانچے اصلاحِ معاشرہ میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اپنے اندر کرب میں ڈوبا ہوا زمانہ رکھتے ہیں ۔ چونکا دینے والی حقیقت خیالات کے روپ میں ضمیر کو جھنجھوڑ تے ہوئے اثر انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ آنکھوں کے آگے منظر کشی پیش کرتے ہیں ۔ مشاہدہ فکر ، فن ، سوچ اور قلم کا جہاد نئی نئی راہیں نئے نئے کرب میں دھس کر رہ جانا ہے حالات کا سامنا کرنا قدر مشکل ہے ہی نہیں جان تک دے دینے کا کرب نمایاں طور پر سامنے آتا ہے ۔ جو کہ روح تک کو زخمی کرتا ہے اور ذہن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے ۔ پھوٹتی کونپلیں زالہ باری کا شکار ہونا معمول سا کیوں ؟
افسانچہ جمہوریت
شیر کی اس لیے نہ سنی گئی کہ بندر اکثریت میں تھے ۔
یہ ایک عالمی المیہ ہے صرف موجودہ دور کی بات نہیں ۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے جس کی تاریخ شاید ہے ۔ صرف یہاں تک ہی نہیں یہ تو ہر گھر کی کہانی بھی ہے ۔ جس کو ایک ہی سطر میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس ایک ہی سطر پر مکمل ناول یا افسانہ بھی لکھا جا سکتا تھا ۔ مگر اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانا یہ کمالِ مہارت کی دلیل ہے جو علی شاہ کے اندر موجود تھی ۔
دیباچہ ( زرد پتوں کا الاؤ ) کے عنوان سے بشریٰ رحمٰن ( لاہور ) نے لکِھا ہے ۔ زندگی ننھی منی خوشیوں اور چھوٹے چھوٹے غموں سے مرتّب ہے ۔
دن کے ساتھ رات ہے ۔
دھوپ کے ساتھ سایہ ہے ۔
خزاں کے ساتھ بہار ہے ۔
گرمی کے ساتھ سردی ہے ۔ !!
دُنیا میں ہر شے اپنے تضاد کے ساتھ موجود ہے ۔ اس کے باوجود بنی نو انسان پر چھائیوں کے تعاقب میں سرگرداں رہتا ہے ۔
علی شاہ کی زیرِ نظر کتاب خوشی اور ناخوشی کے معصوم افسانچوں پر مشتمل ہے ۔
زندگی کا افسانہ بھی چھوٹا سا ہے ۔
چیخ سے شروع ہوتا ہے ۔ ہچکی پر ختم ہو جاتا ہے ۔
چیخ اور ہچکی کے پھیلاؤ کے اندر انسانی زندگی کے عمل اور رد عمل کا سارا بکھیڑا ہے ۔
ایک ہچکی کمانے کے لیے بندہ ساری عمر اندھیروں اور روشنیوں کے تعاقب میں مارا مارا پھرتا ہے ۔
علی شاہ نے زندگی اور بندگی کے سائے سائے ۔۔۔۔۔
مختصراً افسانے تراشے ہیں ۔ جن کا تاثر اس قدر گہرا ہے جیسے شفق کی سرخی ڈوبنے کے باوجود افق کے کنارے دہکتے رہتے ہیں ۔
ان کہانیوں کو کوئی بھی نام دے لیں اِن میں سے چیخ اور ہچکی ہی سنائی دے گی ۔
بے حسی۔۔۔۔۔
ناقدری ۔۔۔۔۔
انصافی ۔۔۔۔۔
حرص و ہوا ۔۔۔۔۔
بے بہری ۔۔۔۔۔
قضا و قدر ۔۔۔۔۔
کہانی ایک ہی ہے نام بے شمار ہیں ۔
ساری کی ساری کہانیاں اسی آدم زاد کی بشری جبلّتوں کے گرد گھومتی ہیں جو مسند نشین بھی ہے اور گڑ آلود بھی ۔۔۔۔۔ ( زرد پتّے ص 11 )
مختصر افسانچوں میں بڑے بڑے پیغام معاشرے کو آئینہ دکھانا معاشرے کی عکاسی کرنا معاشرے کی نبض کو جج منٹ کرنا اس معاشرے میں رہ کر معاشرے کو سمجھنا پھر معاشرے کو سمجھنے والی بات کرنا یہ علی شاہ کی ایک بڑی خوبی تھی جو آج بھی بھلائی نہیں جاتی ۔
میں کس کس افسانچے کی بات کروں یہاں پر ہر ایک افسانچہ ایک سے بڑھ کر ایک ہے چند کے نام آپ ملاحظہ فرمائیں ۔
جرنیل کا بیٹا، عقیدے ، بے روزگاری ، یوم خواتین ، سادہ لوگ ، بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے ، خشک سالی اور خواب زیادہ اہمیت کے حامل ہیں ۔
افسانچوں کے اِس مجموعہ میں شامل آرا دیباچہ بشریٰ رحمٰن ( لاہور )
جبار مرزا ( اسلام آباد )
جواز جعفری ( لاہور )
علامہ حسین عارف نقوی ( لاہور )
وصی شاہ ( لاہور )
ذوالقرنین سکندر ( بھکر )
افسانچوں کے اِس مجموعہ کے صفحات 112 ہیں ۔

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں