کمیٹی پر کمیٹی، ملازمین کے مطالبات کا حل کب؟
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
پنجاب کے سرکاری ملازمین کے مسائل کی کہانی صرف مطالبات کی نہیں بلکہ ان کے حل کے طریقۂ کار کی بھی کہانی ہے۔ برسوں سے کبھی تنخواہوں میں اضافے، کبھی ڈسپیریٹی الاؤنس، پنشن، گریجویٹی، لیو انکیشمنٹ، فیملی پنشن اور کبھی سروس رولز میں تبدیلی کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہیں، مگر مسائل کے حل کا انداز بڑی حد تک وہی رہا: احتجاج، مذاکرات، کمیٹی، یقین دہانی، سمری اور پھر نوٹیفکیشن کا انتظار۔ کچھ عرصے بعد یہی مسئلہ دوبارہ احتجاج کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں پر نظر ڈالیں تو یہ سلسلہ واضح دکھائی دیتا ہے۔ 2018 سے 2022 کے دوران وفاقی ملازمین کے برابر ڈسپیریٹی الاؤنس کا مطالبہ شدت سے سامنے آیا اور احتجاج و مذاکرات کے بعد 2022 میں 15 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس کا فیصلہ ہوا۔ یہ اس بات کی مثال تھی کہ مذاکرات کسی مطالبے کو نتیجے تک پہنچا سکتے ہیں، لیکن اسی کے باوجود 2022 کے آخر میں TEVTA ملازمین نے ڈسپیریٹی الاؤنس کے لیے دوبارہ احتجاج کیا، مذاکرات ہوئے اور معاملہ متعلقہ فورمز تک پہنچ گیا۔ یوں ایک مسئلے کے حل کے بعد بھی وہی انتظامی طریقۂ کار دوبارہ سامنے آ گیا۔ اسی تسلسل نے 2023 میں ایک اور رخ اختیار کیا جب پنشن، لیو انکیشمنٹ اور ریٹائرمنٹ فوائد سے متعلق معاملات پر احتجاج اور دھرنے ہوئے اور AGEGA کے مطالبات کے جائزے کے لیے چھ رکنی کمیٹی قائم کی گئی۔ بظاہر مقصد مسائل کا جائزہ لے کر حل تجویز کرنا تھا، مگر ملازمین کے سامنے پھر وہی سوال تھا کہ کمیٹی کی سفارشات کب فیصلے میں اور فیصلہ کب نوٹیفکیشن میں تبدیل ہوگا۔ اس کے بعد 2024 میں پنشن اصلاحات نے بحث کو مزید وسیع کر دیا اور معاملہ موجودہ پنشن سے بڑھ کر مستقبل کے ریٹائرمنٹ فوائد تک جا پہنچا، جبکہ 2025 میں پنشن، گریجویٹی، لیو انکیشمنٹ، Rule 17-A اور ڈسپیریٹی الاؤنس سمیت مختلف معاملات ایک بار پھر احتجاج کا باعث بنے۔
اب 2026 میں بھی یہی مطالبات زیرِ بحث ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گزشتہ برسوں کے احتجاج، مذاکرات اور کمیٹیوں کے باوجود ایسا مستقل نظام پوری طرح مؤثر نہیں ہو سکا جو ملازمین کے مسائل کو بار بار سڑکوں تک پہنچنے سے پہلے حل کر سکے۔ اسی پس منظر میں پنجاب اسمبلی کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کی جانب سے ملازمین کے مسائل کا نوٹس لینا اور متعدد ارکانِ صوبائی اسمبلی کی طرف سے مختلف اوقات میں ان کے مطالبات ایوان میں اٹھانا اور قراردادیں پیش کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ معاملہ اب محض ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان نہیں رہا بلکہ پارلیمانی نگرانی کا موضوع بھی بن چکا ہے۔ جب ملازمین احتجاج کریں، حکومت مذاکرات کرے، کمیٹیاں قائم ہوں، اسپیکر نوٹس لیں اور ارکانِ اسمبلی قراردادیں پیش کریں تو پھر سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ مطالبہ کیا ہے بلکہ یہ بھی پوچھنا پڑتا ہے کہ ان تمام مراحل کے بعد نتیجہ کیا نکلا؟ یقیناً حکومت کے لیے ہر مطالبہ فوری طور پر تسلیم کرنا آسان نہیں؛ صوبائی بجٹ کی حدود، پنشن کے بڑھتے ہوئے اخراجات، قانونی تقاضے اور مستقل مالی مراعات کے طویل المدتی اثرات فیصلہ سازی میں اہم عوامل ہیں، لیکن اگر کوئی مطالبہ مالی یا قانونی طور پر قابلِ عمل نہیں تو اس کی وجہ واضح کی جا سکتی ہے، اور اگر مرحلہ وار عمل درآمد ممکن ہے تو اس کے لیے واضح ٹائم فریم دیا جا سکتا ہے۔ مسئلہ اختلاف کا نہیں بلکہ غیر یقینی کا ہے۔ ملازم یہ جاننا چاہتا ہے کہ کمیٹی نے کیا سفارش کی، حکومت نے کیا منظور یا مسترد کیا اور اگر فیصلہ اس کے حق میں ہے تو اس پر عمل کب ہوگا۔ اسی لیے گزشتہ دس پندرہ برس کے دوران ملازمین کے مسائل پر قائم ہونے والی اہم کمیٹیوں کی سفارشات اور ان پر ہونے والی کارروائی کا جامع وائٹ پیپر ایک مؤثر قدم ہو سکتا ہے، جس میں کمیٹیوں کے مینڈیٹ، سفارشات، حکومتی فیصلوں اور جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کی مکمل صورتِ حال سامنے لائی جائے۔ اب ضرورت ایک اور کمیٹی کی نہیں بلکہ ماضی کے فیصلوں کا حساب اور مستقبل کے لیے واضح طریقۂ کار طے کرنے کی ہے۔ حکومت اگر ملازمین کے مطالبات سے اتفاق کرتی ہے تو عمل درآمد کی راہ متعین کرے، اختلاف کرتی ہے تو اس کی وجوہ واضح کرے، اور جو معاملات زیرِ التوا ہیں ان کے بارے میں حتمی مؤقف سامنے لائے۔ یہی شفافیت اعتماد کو جنم دے گی اور احتجاج کے اس مسلسل چکر کو توڑنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ سرکاری ملازمین کو غیر معینہ انتظار نہیں، اپنے مطالبات پر واضح اور قابلِ عمل جواب چاہیے۔ اب وقت ہے کہ کمیٹیوں کی فائلیں کھولی جائیں، فیصلوں کی حقیقت سامنے لائی جائے اور جہاں فیصلہ ہو چکا ہے وہاں عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تاکہ مستقبل میں کسی ملازم کو یہ پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے کہ سفارشات کہاں گئیں؛ سرکاری نظام خود اس کا جواب دے رہا ہو۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں