مصنوعی ذہانت کی گُل کاریاں
تحریر: اظہر سجاد
ایک مصّور نے کئی دنوں کی محنت کے بعد اپنے عزیز دوست کی پینٹنگ بنائی۔ دوست کو متعجب پا کر مصّور ٹھنڈی آہ بھر کر بولا، ”یار! تم کتنے بدل گئے ہو۔“ مصنوعی ذہانت کی گلکاریوں سے بنائی گئی تصاویر کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ تصویر دیکھ کر انسان خود حیرانی سے کَہ اُٹھتا ہے، ”میں کتنا بدل گیا ہوں۔“ بدلا بدلی کےاِس سوشل میڈیائی دور میں کچھ لوگ اپنی عمر اور چہرے کے ساتھ ساتھ قدو قامت اور لباس میں مزید بہتری لا کر نجانے کِس کِس کو خوش کر رہے ہوتے ہیں؟ کوئی کسی مقدس مقام پہ کھڑا دعائیں مانگ رہا ہے،کوئی ارطغرل غازی بنا پھرتا ہے اور کوئی ستم ظریف مائیک اُٹھائے صحافیوں کی بھیڑ کے سامنے اس شانِ سے کھڑا ہے گویا پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنے کا اعلان کرنے والا ہے۔ ایک صاحب کی تصویر برج خلیفہ پر جگمگا رہی تھی جس کا لوگوں کی کثیر تعداد شوق سے دیدار کر رہی تھی۔ اب تو یہ دیکھنا بھی ممکن ہے کہ کوئی 1980ء میں کیسا دکھائی دیتا تھا اور ساٹھ ستر سال کی عمر میں کیسا نظر آئےگا؟ اِسی طرح کے کئی شہ کار روزانہ فیس بُک، ٹک ٹاک ، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بکثرت نظر آتے ہیں۔ البتہ صورتِ حال اُس وقت مضحکہ خیز ہو جاتی ہے جب اے آئی سے استفادہ کرکے کوئی شخص خود کو دانشور، بزنس مین یا ٹاپ کا کھلاڑی دکھا رہا ہو اور ہم اُس نابغہ روزگار ہستی سے بخوبی واقف ہوں۔
شروع شروع میں چہرے کا رنگ اور روشنی کی کمی بیشی سے تصویر بہتر کرنے کا آپشن موبائل کے کیمرے میں میّسر تھا مگر اب اے آئی کی بدولت رنگ و روپ اور لباس بدلا جاسکتا ہے، یہاں تک کہ چہرے کی جھُریاں بھی غائب کر کے اپنی اصل عمر سے بیس سال کم دکھائی دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح چہرے کے خدوخال کی باآسانی تراش خراش بھی ممکن ہے۔
اِس کا فائدہ خوش فہمی کی کمی کا شکار افراد کو بہت زیادہ ہوا ہے، کیوں کہ اگر اُن کو زندگی بھر اپنے بارے میں خوش فہمی کا موقع میّسر نہیں آیا، تو اب وہ خواتین و حضرات کم از کم اپنی مرضی کے خدوخال، رنگ روپ اپنا کر اور بدیسی لباس پہن کر خود کو خوش کر سکتے ہیں۔ البتہ ایسے کمزور دل ناظرین کو شدید نقصان کا اندیشہ ہو سکتا ہے جو اے آئی کی گلُ کاریوں اور کرشمہ سازیوں کو حقیقت مان لیتے ہیں۔اب تو یہ بھی ممکن ہے کہ ہم کسی جوہڑ کے کنارے پر کھڑے ہو کر تصویر یا وڈیو بنائیں اور پھر پسِ منظر کو، کے ٹو ، شنگریلا یا نیاگرا فال سے بدل دیں یا خود کو کِسی قیمتی گاڑی کے پاس یوں کھڑا کر لیں جیسے ہم ہی اُس کے مالک و مختار ہیں۔ دُھوتی کے بدلے جینز اور گنجے سر پر لہراتے ریشمی بال بھی بنا سکتے ہیں اور خود دِل والے دولہا بن کر اپنے ساتھ ایک خوبصورت دُلہنیا کو کھڑا کر کے مسکرا بھی سکتے ہیں۔ مگر مجھے لگتا ہے کچھ لوگوں کے لیے اِیسی تصویر اپ لوڈ کرنے سے شادی کے امکانات میں مزید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ البتہ اپنی اصلی تصویر میں تھوڑی سی ترمیم کر کے، نوے کی دہائی کا کوئی رومانوی نغمہ لگا کر پوسٹ کر دیں تو ممکن ہے کہ کوئی نہ کوئی متاثر ہو ہی جائے۔
مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی تصاویر کے حوالے سے ایک اور پہلو پر بھی بات کرنا ضروری ہے، کہ آج کل دعوت ناموں اور مذہبی اجتماعات اور دیگر مخصوص دن منانے کے حوالے سے اے آئی سے پوسٹس بنوائی جا رہی ہیں ۔ اِن میں اِملا کی بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں، مگر کوئی دھیان ہی نہیں دیتا۔ تشویش اُس وقت لاحق ہوتی ہے جب مقدس ہستیوں کے نام بھی غلط لکھے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ پریشانی یہ ہے کہ کوئی بھی ایسی پوسٹیں غور سے دیکھ کر درستی کرنے یا کروانے کی کوشش نہیں کرتا۔ دیکھنے والے تو بس پوسٹ کے خوبصورت کِھلے کِھلے رنگ دیکھ کر خوش ہو جاتے ہیں۔ ایک اور بات کا ذکر بھی مناسب رہے گا کہ اِن پوسٹوں میں سبز رنگ کا زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی منصوبہ بندی ہے کہ اے آئی سے بنوائی گئی ہماری تصویریں مخصوص رنگ اور ہیئت کی ہی ہوں؟
یہاں ایک مثبت پہلو کا بھی ذکر کرنا چاہوں گا اور وہ یہ ہے کہ قدرت نے ہر انسان کو کئی خوبیوں سے نوازا ہے، مگر بہت کم لوگ اپنی خوبیوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اگر اپنی ذات سے متعلقہ اچھے پہلوؤں سے واقف ہوں تب بھی اُن کا اظہار کرنے سے کتراتے ہیں یا شرم محسوس کرتے ہیں۔پھر قریبی لوگ بھی کُھلے دل سے کسی کی خصوصیت کا اعتراف نہیں کرتے ۔ مگر اب صورتِحال یکسر مختلف ہے۔ اب تو سارے گُن اور کمال چمک دمک اور شادیانوں کے ساتھ سوشل میڈیا پر بڑے شان سےآشکار کیے جا رہے ہیں۔ کچھ یوٹیوبرز، ٹِک ٹاکرز اور انسٹاگرام استعمال کرنے والوں کی ریلز، دلچسپ کونٹنٹک اور کیمرے کا زبردست استعمال دیکھ کر لگتا ہے کہ لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والےشوبِز کے ستارے تو بس ٹھیک ہی تھےاور دنیا کے عظیم ترین مکالمہ نویسوں کو کیا پتہ کہ مکالمہ کیا ہوتا ہے۔ پسماندہ اور غیر معروف علاقوں سے تعلق رکھنے والے فنکاروں کا رقص دیکھ کر تو کلاسیکی رقاص بھی شرما جائیں۔ بعینہٖ سوشل میڈیا پر پیش کی جانے والی کچھ کہانیاں تو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ مختصراً یہ کہنا بجا ہے کہ کسی ٹیلنٹ، صلاحیت یا خوبی کو اب کسی بڑے صاحب کی نظرِکرم یا بریک تھرو کی بالکل بھی ضرورت نہیں۔ بس موبائل لو اور شروع ہو جاؤ۔ انجوائے منٹ کے ساتھ ساتھ پیسے بھی کمائیے۔ سوشل میڈیا کے دن بدن بڑھتے استعمال نے اب اِسےضرورت کے ساتھ ساتھ باقاعدہ انڈسٹری بنا دیا ہے۔چند دِن پہلے ہی ایک پوسٹ دیکھی جِس پر بتایا گیا کہ خواتین گھر میں اپنے روزمرہ کے کام کاج کی وڈیو بنا کر ربورٹ بنانے والی کمپنیوں کو بیچ رہی ہیں، جو اُنھیں اچھی خاصی رقم ادا کر رہے ہیں۔ اب بچے، جوان اور بوڑھے خواتین و حضرات تفریح کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی کما رہے ہیں۔یہ کوئی بُری بات نہیں۔ بس ضرورت ہے تو اِس امر کی کہ مصنوعی ذہانت کی حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے اور مذہبی و اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے اِسے بخوشی قبول کر کے دُنیا کے ساتھ قدم سے قدم مِلا کر چلنا چاہیے۔

اظہر سجاد کا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تیسری دیوار” شائع ہو چکا ہے، جسے قارئین اور ناقدین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کھوڑ کے سابقہ سیکریٹری رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب) کیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے وابستہ رہے، جبکہ اس وقت شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ادب، معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں