اَمن جتھہ
تحریر: اظہر سجاد
وہ لوگ ایک ہرے بھرے اور پُر امن جنگل کے باسی تھے۔ اُنہیں بتایا گیا تھا کہ اطراف میں چُھپے دشمن کے حملوں کا خطرہ ہے۔ اُنھیں ایک عظیم خطرے سے آگاہ کرنے والے ایک جیسا لباس پہنے ایک قطار میں چلتے بہت بھلے لگتے تھے۔ اُن کا ہر فرد آنکھیں میچ کر اپنے سے بڑے کا حُکم مانتا۔ پِھر وہ بھی جنگل کی محافظت کے جذبے سے سرشار اُسی اَمن جھتے میں شامل ہو گیا اور سارا دِن دایاں ، بایاں ۔ ۔ ۔ دایاں، بایاں۔ ۔ ۔ کرتا جنگل میں گھاس، پتے اور جھاڑیاں روندتا رہا۔ شام ڈھلے وہ اُس جگہ پہنچ گئے جہاں جنگل ختم ہو رہا تھا اور اُس سے آگے ایک وسیع میدان اور سنگلاخ چٹانوں کا ایک طویل سلسلہ تھا۔پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا گیا، خیموں اور آگ کے لیے درخت کاٹے گئے۔ پِھر کھانا کھا کر سب اپنے اپنے خیموں میں چلے گئے۔ تین تین لوگوں پر مشتمل تین جماعتوں کو اَمن جھتے کے کچھ خاص لوگوں کی حفاظت کے لیے مقرر کیا گیا۔ وہ آخری جماعت میں شامل تھا جس نے سب سے مشکل وقت یعنی را ت کے پچھلے پہر حفاظتی چبوترے پر کھڑا ہونا تھا۔ مقررہ وقت سے پہلے ہی اُس کی آنکھ عین اُس وقت کھُلی جب ہر طرف مہیب سناٹا تھا۔ وقفے وقفے سے غرّانے کی گونج سُنائی دی تو اُس نے ہڑبڑاکر اِدھر اُدھر دیکھا۔ ۔ ۔
چبوبترے پر کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ وہ بھاگا اور خیموں میں جھانکنے لگا۔ ۔ ۔پہلا۔ ۔ ۔دوسرا ۔ ۔ ۔ اور تیسرا سب کمبل تانے سوئے پڑے تھے۔ دشمن کے حملے کے خوف نے اُسے جکڑ لیا، دوڑا دوڑا جھتے کے سردار کے خیمے میں گیا۔ خیمے میں غُراہٹ گونج رہی تھی۔ اُس نے آواز دی۔ کوئی جواب نہ ملا ۔ ۔ ۔ کمبل سرکایا تو حیرت اور خوف سے تھرّا کر رہ گیا، وہاں ۔ ۔ ۔ ایک بھیڑیا سو رہا تھا۔ اِس سے پہلے کہ بھیڑیے کو خبر ہوتی وہ باہر آ گیا۔ اِدھر اُدھر دیکھا۔ ۔ ۔ٖاُسے صرف غراہٹ ہی سُنائی دی۔ مشرقی سنگلاخ چٹانوں کی اوٹ سے روشنی پھوٹ رہی تھی جس سے درختوں کی چوٹیاں بھی روشن ہو رہی تھیں ۔ وہ بے اختیار چٹانوں کی سمت دوڑا۔ جنگل کے اختتام کے بعد شروع ہونے والے میدان کے درمیان پہنچا تو اُس کا سانس پھولنے لگا۔ لمحے بھر کے لیے مُڑ کے دیکھا ہی تھا کہ ایک گولی اُس کے سینے سے پار ہو گئی۔

اظہر سجاد کا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تیسری دیوار” شائع ہو چکا ہے، جسے قارئین اور ناقدین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کھوڑ کے سابقہ سیکریٹری رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب) کیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے وابستہ رہے، جبکہ اس وقت شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ادب، معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں