طارق محمود: کاروبار سے خدمتِ خلق تک
انٹرویو: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
تین دہائیوں پر محیط کاروباری سفر، فارماسیوٹیکل شعبے سے وابستگی، تاجر برادری کی نمائندگی اور سماجی خدمت کا ایک جامع سفر
طارق محمود اٹک کی کاروباری، تجارتی اور سماجی زندگی میں ایک معروف نام ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصے سے شعبۂ ادویات اور میڈیسن مارکیٹنگ سے وابستہ طارق محمود نے قومی و ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں میں مارکیٹنگ اور مینجمنٹ کے شعبے میں خدمات انجام دینے کے بعد سنہ 2000ء میں اپنے صاحبزادے اویس کے نام پر "اویس فارما” کے نام سے کاروباری سفر کا آغاز کیا۔
فارماسیوٹیکل شعبے کا وسیع تجربہ، کاروباری معاملات کی سمجھ، تاجر برادری کے ساتھ طویل وابستگی اور سماجی خدمت کا جذبہ ان کی شخصیت کے نمایاں پہلو ہیں۔
طارق محمود مختلف اوقات میں متعدد اہم کاروباری و تجارتی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے ہیں، جن میں:
چیئرمین، قائمہ کمیٹی برائے صحت، ایف پی سی سی آئی
سینئر نائب صدر، مرکزی تنظیم تاجران ضلع اٹک
چیف آرگنائزر، پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن ضلع اٹک
سابق صدر، ایوانِ صنعت و تجارت اٹک
سابق ممبر، جنرل اسمبلی سارک چیمبر آف کامرس
ممبر، وفاقی، اسلام آباد اور راولپنڈی چیمبر آف کامرس
شامل ہیں۔
کاروبار کے ساتھ ساتھ سماجی خدمت بھی ان کے سفر کا اہم حصہ رہی ہے۔ جیل کے قیدیوں، بے سہارا بچوں، فنی تعلیم اور صحت سے متعلق مختلف سرگرمیوں میں معاونت کے علاوہ کرونا اور ڈینگی جیسی وبائی صورتحال کے دوران سرکاری محکموں کے ساتھ تعاون بھی ان کی سماجی سرگرمیوں میں شامل رہا۔
ملکی و غیر ملکی دوروں، مختلف اداروں میں نمائندگی اور کاروباری و سماجی حلقوں کے ساتھ طویل وابستگی نے ان کے وژن کو وسعت دی۔ ان کی خصوصی گفتگو میں کاروبار، فارماسیوٹیکل شعبے، اٹک کی تجارت، صحت، نوجوانوں، فنی تعلیم اور خدمتِ خلق جیسے موضوعات نمایاں ہیں۔
خصوصی گفتگو
"بڑی قومی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنا میرے لیے ایک عملی تربیت گاہ ثابت ہوا”
طارق صاحب، آپ کی عملی زندگی تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ اگر ہم آپ کے ابتدائی سفر سے آغاز کریں تو آپ نے عملی زندگی کا آغاز کیسے کیا اور فارماسیوٹیکل شعبے کا انتخاب کیوں کیا؟
جواب: میری عملی زندگی کا آغاز فارماسیوٹیکل شعبے ہی سے ہوا اور وقت کے ساتھ اس شعبے سے میری وابستگی مضبوط ہوتی گئی۔ مجھے قومی اور ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں میں مارکیٹنگ اور مینجمنٹ کے شعبے میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اس دوران مارکیٹ، صارفین اور کاروباری انتظام کو قریب سے سمجھا۔ یہی تجربہ بعد میں میرے اپنے کاروبار کی بنیاد بنا۔
"منصوبہ بندی، مارکیٹنگ، ٹیم ورک اور کسٹمر ریلیشن شپ کاروبار کے بنیادی اصول ہیں”
آپ نے اپنے ذاتی کاروبار سے قبل قومی اور ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنیوں میں مارکیٹنگ مینجمنٹ کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ اس دور کے تجربات نے آپ کی کاروباری شخصیت کو کس طرح تشکیل دیا؟
جواب: بڑی قومی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرنا میرے لیے ایک عملی تربیت گاہ ثابت ہوا۔ وہاں سے میں نے منصوبہ بندی، مارکیٹنگ، ٹیم ورک، نظم و ضبط اور کسٹمر ریلیشن شپ کے اہم اصول سیکھے۔ مختلف مارکیٹس میں کام کرنے سے میری سوچ میں وسعت آئی۔ یہی تجربہ بعد میں اویس فارما کے قیام اور اسے چلانے میں بہت مفید ثابت ہوا۔
"اویس فارما میرے لیے محض ایک کاروباری ادارہ نہیں بلکہ میرے تجربے کا عملی اظہار ہے”
سنہ 2000ء میں آپ نے اپنے صاحبزادے اویس کے نام پر "اویس فارما” قائم کیا۔ اس ادارے کے قیام کے پیچھے کیا سوچ اور مقصد تھا، اور اس سفر میں آپ کو کن بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: اویس فارما میرے لیے محض ایک کاروباری ادارہ نہیں بلکہ میرے پیشہ ورانہ تجربے کا عملی اظہار ہے۔ میں نے اسے اپنے صاحبزادے اویس کے نام سے شروع کیا، جس کے ساتھ ایک جذباتی اور خاندانی نسبت بھی قائم ہوئی۔ مقصد اپنے تجربے کو ایک منظم کاروباری پلیٹ فارم کے ذریعے آگے بڑھانا تھا۔ اس سفر میں مستقل مزاجی، اعتماد اور بدلتے ہوئے کاروباری حالات سے ہم آہنگ ہونا بنیادی چیلنجز رہے۔
"فارماسیوٹیکل شعبے میں ٹیکنالوجی کے ساتھ معیار، قیمت اور دستیابی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں”
تین دہائیوں میں پاکستان کی میڈیسن مارکیٹنگ اور فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں آپ نے کیا نمایاں تبدیلیاں دیکھی ہیں؟ آج اس شعبے کو درپیش اہم مسائل کیا ہیں؟
جواب: اس شعبے میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران بہت بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ روایتی مارکیٹنگ کی جگہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذرائع نے لے لی ہے۔ اس کے ساتھ معیار، قیمت، دستیابی اور مارکیٹ میں شفافیت جیسے معاملات بھی اہم ہیں۔ میری نظر میں اس شعبے کی ترقی کے لیے معیار اور مریض کے مفاد کو بنیادی اہمیت دینی چاہیے۔
"تاجر برادری اور سرکاری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ معاشی ترقی کے لیے ضروری ہے”
آپ ایوانِ صنعت و تجارت اٹک کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ اس ذمہ داری کا تجربہ کیسا رہا اور اٹک کی کاروباری برادری کے کون سے مسائل آپ کو سب سے زیادہ اہم محسوس ہوئے؟
جواب: چیمبر آف کامرس کی صدارت میرے لیے ایک اہم اور ذمہ دارانہ تجربہ تھا۔ تاجر برادری کے مسائل کو قریب سے سمجھنے اور متعلقہ اداروں تک ان کی آواز پہنچانے کا موقع ملا۔ میری کوشش رہی کہ کاروباری طبقے اور سرکاری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم ہو۔ اس منصب نے مجھے اٹک کی معیشت اور کاروباری صلاحیتوں کو مزید قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔
"اٹک کے نوجوان ہماری سب سے بڑی طاقت اور اثاثہ ہیں”
آج اٹک میں صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کن شعبوں میں امکانات موجود ہیں، اور ان امکانات کو عملی شکل دینے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟
جواب: اٹک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے بہت سے امکانات موجود ہیں۔ مقامی صنعت، زراعت، لائیو اسٹاک، چھوٹے کاروبار اور نوجوانوں کی فنی تربیت پر خصوصی توجہ دی جا سکتی ہے۔ بنیادی سہولیات، سرمایہ کاری کا سازگار ماحول اور اداروں کا تعاون ضروری ہے۔ اٹک کے نوجوان اس سلسلے میں ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں۔
"صحت کی سہولیات ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہیں”
آپ کئی برس تک قائمہ کمیٹی برائے صحت کے چیئرمین بھی رہے۔ صحت کے شعبے سے آپ کی طویل وابستگی نے آپ کو پاکستان کے نظامِ صحت کے بارے میں کیا تجربات اور مشاہدات دیے؟
جواب: صحت کا شعبہ میرے پیشہ ورانہ اور سماجی تجربے کا اہم حصہ رہا ہے۔ اس شعبے میں کام کرتے ہوئے یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ صحت کی سہولیات ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہیں۔ سرکاری اداروں، طبی ماہرین اور سول سوسائٹی کے درمیان مؤثر تعاون بہت ضروری ہے۔ جہاں ممکن ہو، صحت سے متعلق عوامی مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
"وباؤں کا مقابلہ اجتماعی تعاون، بروقت اقدامات اور عوامی شعور سے ہی ممکن ہے”
کرونا اور ڈینگی کی وباؤں کے دوران آپ نے سرکاری محکموں کے ساتھ تعاون کیا۔ ان مشکل حالات میں آپ کا تجربہ کیسا رہا اور مستقبل میں ایسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا بہتری ضروری ہے؟
جواب: کرونا اور ڈینگی کے ادوار ہم سب کے لیے غیر معمولی اور مشکل حالات تھے۔ ایسے وقت میں معاشرے کے ہر فرد اور ادارے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہوتی ہے۔ میں نے سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر عوامی آگاہی اور معاونت کی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی۔ ان تجربات سے یہ سبق ملا کہ وباؤں کا مقابلہ اجتماعی تعاون، بروقت اقدامات اور عوامی شعور سے ہی بہتر طور پر کیا جا سکتا ہے۔
"قیدیوں کے لیے سزا کے ساتھ اصلاح اور بحالی کے پہلو کو بھی اہمیت دینی چاہیے”
آپ کی سماجی خدمات میں جیل کے قیدیوں کی معاونت بھی شامل رہی ہے۔ قیدیوں اور ان کے خاندانوں کے حوالے سے آپ نے کیا مسائل محسوس کیے اور معاشرے کو ان کی بحالی کے لیے کیا کردار ادا کرنا چاہیے؟
جواب: قیدی بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور ان کی اصلاح اور بحالی پر توجہ دینا ضروری ہے۔ میری کوشش رہی ہے کہ جہاں ممکن ہو، ان کے لیے انسانی ہمدردی اور فلاح کے جذبے کے تحت معاونت کی جائے۔ ان کے خاندانوں اور مستقبل کے حوالے سے بھی سوچنا ضروری ہے۔ معاشرے کو سزا کے ساتھ اصلاح اور بحالی کے پہلو کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔
"ایک نوجوان کو باعزت روزگار کے قابل بنانا معاشرے کی بڑی خدمت ہے”
بے سہارا بچوں اور فنی تعلیم کے لیے آپ کی معاونت بھی قابلِ ذکر ہے۔ آپ کے نزدیک فنی تعلیم نوجوانوں اور معاشرے کے مستقبل کو کس طرح تبدیل کر سکتی ہے؟
جواب: میرا یقین ہے کہ ہنر انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا بہترین ذریعہ فراہم کرتا ہے۔ خصوصاً بے سہارا اور کم وسائل رکھنے والے بچوں کے لیے فنی تعلیم زندگی بدلنے کا موقع بن سکتی ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف ڈگریاں نہیں بلکہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر بھی دینا چاہیے۔ ایک نوجوان کو باعزت روزگار کے قابل بنانا معاشرے کی بڑی خدمت ہے۔
"مختلف معاشروں اور کاروباری نظاموں کو دیکھنے سے سوچ میں وسعت آتی ہے”
آپ نے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں نمائندگی کے ساتھ ملکی و غیر ملکی دورے بھی کیے۔ ان تجربات نے آپ کے کاروباری اور سماجی وژن میں کیا تبدیلی پیدا کی؟
جواب: ملکی و غیر ملکی دوروں نے مجھے مختلف معاشروں، کاروباری نظاموں اور اداروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا۔ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ ترقی کے لیے وسائل کے ساتھ بہتر منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی نظم بھی ضروری ہے۔ مختلف لوگوں اور ثقافتوں سے رابطے نے میری سوچ کو وسعت دی۔ کوشش رہی کہ ان تجربات کے مثبت پہلو اپنے شہر اور معاشرے کے لیے بروئے کار لاؤں۔
"مسائل کے حل کے لیے رابطہ، برداشت اور مثبت مکالمہ ضروری ہے”
آپ کو سول سوسائٹی سے لے کر سرکاری اداروں اور حکومتی ایوانوں تک مختلف حلقوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ مختلف طبقات کے ساتھ کام کرتے ہوئے آپ نے سب سے اہم سبق کیا سیکھا؟
جواب: میرا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ مسائل کے حل کے لیے رابطہ، برداشت اور مثبت مکالمہ ضروری ہے۔ ہر ادارے اور ہر طبقے کا اپنا کردار ہوتا ہے اور بہتر نتائج اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب سب مل کر کام کریں۔ میں نے یہ بھی سیکھا کہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی مسئلے کو ترجیح دی جائے۔ خدمت کا اصل مقصد لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ہونا چاہیے۔
"تعلیم کے ساتھ عملی ہنر نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھول سکتا ہے”
آج کے نوجوان کاروبار اور ملازمت کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر نوجوانوں کو کاروبار، ہنر اور پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: میں نوجوانوں سے یہی کہوں گا کہ تعلیم کے ساتھ کوئی نہ کوئی عملی ہنر ضرور سیکھیں۔ حالات مشکل ہوں تو بھی محنت، مستقل مزاجی اور دیانت داری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ کاروبار میں آنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مارکیٹ کو سمجھیں اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں۔ کامیابی ایک دن میں نہیں ملتی، مسلسل محنت اس کی بنیاد بنتی ہے۔
"کاروبار کے ساتھ معاشرے کو واپس دینا بھی ہماری ذمہ داری ہے”
آپ نے کاروبار کے ساتھ مسلسل سماجی خدمت کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنایا۔ آپ کے نزدیک ایک کامیاب کاروباری شخصیت کی معاشرے کے لیے کیا ذمہ داری ہونی چاہیے؟
جواب: میری نظر میں کاروبار صرف منافع کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کے ساتھ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ جس معاشرے نے ہمیں آگے بڑھنے کے مواقع دیے، ہمیں بھی اپنی استطاعت کے مطابق اس معاشرے کو واپس دینا چاہیے۔ یہ خدمت تعلیم، صحت، فلاح یا کسی ضرورت مند کی مدد کی صورت میں ہو سکتی ہے۔ اصل اہمیت نیت، اخلاص اور مستقل مزاجی کی ہے۔
"ہمیں آنے والی نسل کے لیے ایک بہتر اٹک بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا”
آخر میں، اگر آپ اٹک کے کاروباری طبقے، نوجوان نسل اور آنے والی قیادت کے لیے اپنے طویل تجربے کی بنیاد پر ایک پیغام دینا چاہیں تو وہ کیا ہوگا؟ اور آپ مستقبل کے اٹک کو کس روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں؟
جواب: میں اٹک کو ایک ایسا شہر دیکھنا چاہتا ہوں جہاں نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے بہتر مواقع ہوں، سرمایہ کاری بڑھے اور مقامی صنعت و تجارت کو فروغ ملے۔ اس کے لیے کاروباری برادری، سرکاری اداروں اور سول سوسائٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ہماری نوجوان نسل میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، اسے درست سمت اور مواقع دینے کی ضرورت ہے۔ میرا پیغام ہے کہ ہم اپنے شہر کی ترقی کو مشترکہ ذمہ داری سمجھیں اور آنے والی نسل کے لیے ایک بہتر اٹک بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اختتامی کلمات
طارق محمود کی گفتگو میں تین دہائیوں سے زائد کے کاروباری تجربے، فارماسیوٹیکل شعبے سے طویل وابستگی، تاجر برادری کی نمائندگی، صحت کے شعبے سے تعلق اور سماجی خدمت کے مختلف پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔
ان کا سفر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کاروباری زندگی اور سماجی ذمہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ کاروباری تجربہ اگر اجتماعی شعور اور خدمت کے جذبے سے جڑ جائے تو معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
اٹک کی کاروباری ترقی، نوجوانوں کے لیے مواقع، صحت، فنی تعلیم اور خدمتِ خلق جیسے موضوعات آج بھی ہماری اجتماعی توجہ کے متقاضی ہیں۔ طارق محمود کے تجربات اور مشاہدات اسی وسیع تر منظرنامے کو سمجھنے کی ایک کوشش ہیں۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں