مکہ مشترکہ معاہدے کا نیٹو آرٹیکل میں بدلنے کا امکان
دنیا کی جغرافیائی سیاست ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک دفاعی طاقت کے نئے محور بن رہے ہیں۔ کیونکہ ایران امریکہ کشیدگی نے خطے کے ممالک کو ازسرنو دفاعی پالیسیاں مرتب کرنے پر مجبور کیا ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی اتحاد صرف ایک خبر نہیں، بلکہ خطے کے پاور بیلنس کو بدلنے کی نشاندہی ہے۔ گو یہ تینوں مسلم ممالک الگ جغرافیائی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن اگر یہ ایک دفاعی چھتری کے نیچے آ جاتے ہیں تو یہ اتحاد صرف فوجی ہی نہیں، بلکہ تہذیبی اور معاشی اتحاد میں بھی بدل سکے گا۔ یہ تینوں مسلم ممالک اپنی انفرادی حیثیت میں پہلے ہی "اسلامی دنیا” کے طاقتور ملک ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان "ایٹمی قوت” ہے جس کے پاس جدید اسلحہ سے لیس طاقتور فوج ہے۔ پاکستان کے پاس ڈیوٹی پر موجود تقریباً 560,000 اور ریزرو 550,000 لڑاکا فوجی موجود ہیں جس میں پاک فضائیہ کے 70,000، بحریہ کے 30,000 اور 3,200 میرینز بھی شامل ہیں۔ پوری پاکستانی مسلح افواج کی تعداد 6 لاکھ 60 ہزار ہے، جو ایشیا میں چوتھی اور دنیا کی 7ویں بڑی فوج ہے، اصل تعداد سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پبلک نہیں کی جا سکتی۔
پاکستان کی پیشہ ور فوج کو 40 سال سے زائد "انسدادِ دہشت گردی” کا تجربہ ہے۔ پاکستان کی فوج کو دنیا کی بہترین "کاؤنٹر انسرجنسی” Counter Insurgency فورسز میں شمار کیا جاتا ہے۔ دفاعی پیداوار میں ڈرون، میزائل اور جے ایف-17 جیسے اثاثے ہیں۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک ہے جس کے پاس جدید ترین امریکی و یورپی اسلحہ، خلیج کا جغرافیائی کنٹرول، اور تیل کی معاشی طاقت ہے۔ سعودیہ کی سب سے بڑی کمزوری "فوجی افرادی قوت اور تجربے کی کمی ہے جو پاکستان پورا کر سکتا ہے۔ جبکہ ترکیہ نیٹو کا دوسرا بڑا فوجی ملک ہے۔ اس کے پاس اپنے ڈرونز، جنگی جہاز، بحری بیڑا اور دفاعی صنعت ہے۔ ترکیہ شام، لیبیا اور ناگورنو کاراباخ میں جنگی تجربہ رکھتا ہے۔ ترکیہ ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ میں پاکستان اور سعودیہ سے بھی آگے ہے۔
یعنی ایک کے پاس تجربہ، دوسرے کے پاس پیسہ اور تیسرے کے پاس ٹیکنالوجی ہے اور اگر یہ تینوں ملک ایک دوسرے کے دفاع میں اکٹھے ہو جاتے ہیں تو یہ ایک "مکمل دفاعی پیکج” بنتا ہے۔ اس معاہدے کی ایک اہم ترین شق یہ ہے: "کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ملکوں پر حملہ متصور ہو گا”۔ اسی لیئے اس معاہدے پر ایران نے فوری ردعمل دیا ہے۔ اس معاہدے پر اسرائیل کو بھی تحفظات ہوں گے مگر ایران نے اپنی تشویش کا اظہار بھی کر دیا ہے۔
ایرانی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن ابراہیم رضائی نے کہا ہے:” سعودیوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ترکی اور پاکستان کے ساتھ کاغذی معاہدے اُن کے لیے سلامتی کی ضمانت نہیں بن سکتے، بالکل اُسی طرح جیسے برسوں تک امریکہ کا یکطرفہ طور پر ساتھ دینے سے بھی انھیں سلامتی حاصل نہیں ہوئی۔” ایران یا اسرائیل کو اس معاہدے سے جتنی بھی تشویش ہے یہ تین ملکی دفاعی اتحاد دنیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ دنیا دو بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور مغرب جبکہ دوسری طرف چین اور روس ہیں۔ مسلم دنیا میں غیر یقینی کی کیفیت میں یہ معاہدہ "گیم چینجر” Game Changer ثابت ہو سکتا پے۔ ایران، اسرائیل اور بھارت جیسے عوامل نے خطے کو غیر مستحکم کر رکھا ہے۔ ابھی بھی غزہ، یمن، شام، کشمیر اور فلسطین کے تنازعات عالمی امن کے لیئے خطرہ ہیں۔
اس تین ملکی دفاعی معاہدے کو "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” کا نام دیا گیا ہے۔ اگر پاکستان، سعودیہ اور ترکی مل کر "مسلم دنیا کا دفاعی کمانڈ سینٹر” قائم کر لیں تو اس میں متحدہ عرب امارات سمیت، عمان، قطر، کویت، مصر، عراق اور دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں، جس سے دفاعی مقاصد کے ساتھ ساتھ معاشی میدان میں بھی تعاون بڑھایا جا سکے گا۔
یہ معاہدہ آگے چل کر کامیاب ہوا تو ہتھیاروں کے لیے مسلم ممالک کا مغرب پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت مشترکہ ڈرون، میزائل اور ریڈار سسٹم بنائے جا سکیں گے۔ کسی ایک ملک پر حملہ ہوا تو تینوں فوراً رسپانس دیں گے۔ یہ دفاعی معاہدہ "نیٹو آرٹیکل” Neto Artificial جیسے معاہدے میں بدل سکتا ہے۔ پھر یہ دفاعی اتحاد اتنا آسان بھی نہیں کیونکہ ابھی یہ باضابطہ دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ اس معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ "اعتماد” ہے۔ سعودیہ کے امریکہ سے گہرے تعلقات ہیں۔ ترکیہ نیٹو ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان چین اور امریکہ دونوں سے توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج قیادت کا ہے کہ اس دفاعی اتحاد کی کمانڈ کون کرے گا؟ فیصلے کیسے ہوں گے؟ فنڈنگ کا فارمولا کیا ہو گا؟ ابھی دیگر مسلم ممالک کا ردِ عمل آنا باقی ہے، جس سے اس معاہدے کی کامیابی اور مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔
20ویں صدی میں مسلم دنیا تقسیم رہی۔ 21ویں صدی میں تقسیم کی گنجائش باقی نہیں بچی ہے۔ پاکستان کو معاشی سہارا چاہیے۔ سعودیہ کو سیکیورٹی چاہیے۔ ترکیہ کو جغرافیائی گہرائی چاہیے۔ اس معاہدے سے ان تینوں مسلم ملکوں کی ضرورت پوری ہو سکتی ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں