دماغی و جسمانی پروپری او سیپشن کی صلاحیت
انسانی دماغ کی صلاحیتوں اور کارکردگی کا مقابلہ "مصنوعی ذہانت” AI بھی نہیں کر سکتی ہے، کیونکہ جتنا تیز ترین "ردعمل” Response انسانی دماغ دیتا ہے اتنا دنیا کا کوئی انتہائی طاقتور ترین کمپیوٹر بھی نہیں دے سکتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ آپ گوگل سے کوئی سوال کرتے ہیں تو وہ سوال کے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے سوال کے دو کروڑ پانچ لاکھ بیس ہزار جواب صفر اعشاریہ چھ پانچ سیکنڈز میں حاضر ہیں. اس وقت کو جو گوگل جواب کی تلاش میں استعمال کرتا ہے اسے "سرور رسپانس ٹائم” Server Response Time کہتے ہیں، لیکن ایک نارمل انسانی دماغ اس سے بھی زیادہ برق رفتاری سے کسی سوال کا جواب تلاش کر لیتا اور بغیر وقت ضائع کیئے ‘ردعمل’ بھی دیتا ہے۔
گوگل دنیا کے جدید ترین زی اون سرور اور جدید ترین لنکس ویب سرور آپریٹنگ سسٹم استعمال کرتا ہے جسے تمام معلومات پہلے ہی انسانی دماغ فراہم کر چکے ہوتے ہیں. دنیا کا کوئی طاقتور ترین کمپیوٹر بھی سوچنے سمجھنے، ردعمل دینے یا کوئی نیا تخلیقی کام کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے۔ پہلے سے معلومات رکھنے والے اس سسٹم نے صرف موجود معلومات کو جواب کی مناسبت سے میچ کر کے آپ کیلئے لائن اپ کرنا ہوتا ہے، اور وہ اس کام کیلئے آدھے سیکنڈ سے ایک سیکنڈ کا وقت استعمال کرتا ہے جس کے بعد وہ بڑے فخر سے جواب سے پہلے آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کیلئے میں نے یہ جواب چھ سو پچاس ملی سیکنڈز میں تلاش کیا ہے.
انسانی دماغ کی مشینوں پر برتری کی ایک اور مثال کی طرف چلتے ہیں جہاں کمپیوٹر کی سکرین سے کرکٹ کا میدان سجا ہوا ہے. فرض کریں آج تک کا دنیا کا تیز ترین پاکستانی باولر شعیب اختر باؤلنگ کروا رہا ہے. گیند ایک 161 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تیز رفتار سے پھینکی گئی ہے. وکٹ کی لمبائی بیس اعشاریہ ایک دو میٹر ہے. ایک اینڈ سے دوسرے اینڈ تک پہنچنے میں بال کو چار سو اسی ملی سیکنڈز سے بھی کم وقت لگے گا جبکہ جہاں بیٹسمین کھڑا ہے انیس میٹر کے فاصلے پر، چار سو پچاس ملی سیکنڈز لگتے ہیں. اب فرض کریں کہ گنید شارٹ آف لینتھ ہے تو وکٹ کے نصف کے قریب ٹپہ دیا گیا ہے. جب بیٹسمین کو احساس ہوتا ہے کہ یہ باؤنسر ہے اور وہ بیٹھ جاتا ہے تاکہ باؤنسر سر کے اوپر سے گذر جائے. اس وقت اس کے پاس صرف دو سو پچیس ملی سیکنڈز یعنی ایک سیکنڈ کا قریب ایک چوتھائی وقت بچتا ہے.
اب ذرا اس ایک چوتھائی سیکنڈ سے بھی کم وقت میں انسانی جسم کیا کیا افعال سرانجام دیتا ہے، اس کا ایک ہلکا سا اندازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں. سب سے پہلے آنکھ نے ابھرتے ہوئے گیند کی پردہ بصارت پر شبیہ بنائی جو کہ الٹی ہے یعنی آپ سائیڈ ڈاون پر ہیں. دماغ نے سب سے پہلے اس شبیہ کو سیدھا کر کے سمجھا کہ باؤنسر آ رہا ہے. پھر اس نے فیصلہ کیا کہ اس باؤنسر کی سمت شاٹ لگانے کیلئے درست نہیں لہذا مجھے بیٹھ جانا چاہیے. اس فیصلے کے بعد دماغ کے چھیاسی ارب نیورونز میں سے ایک حصے میں موجود لاکھوں نیورونز نے اپر موٹر نیورونز کو "پروپریوسیپشن” Proprioception کا حکم دیا اور بیٹسمین اتنے کم وقت میں فیصلہ کیا اور وہ فورا بیٹھ گیا۔
انسانی دماغ کا پروپریوسیپشن وہ عمل ہے جس میں انسانی ذہن جسم کے عضلات کو حرکت دینے سے پہلے ان کی درست جگہ کا تعین کرتا ہے کہ کونسا مسل کس پوزیشن پر اور کتنے کھچاؤ میں ہے.
پروپریوسیپشن کو آسان لفظوں میں دماغ اور جسم کی "چھٹی حس” بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ حس ہے جس کی وجہ سے آپ کو آنکھیں بند ہونے کے باوجود بھی پتہ چلتا ہے کہ آپ کے ہاتھ، پاؤں اور جسم کے باقی حصے اس وقت کہاں ہیں۔ اس کی سادہ مثال یہ ہے کہ آپ آنکھیں بند کر کے بھی اپنی ناک کو انگلی سے چھو سکتے ہیں۔اندھیرے میں چلتے ہوئے آپ کو سیڑھی کا اندازہ ہو جاتا ہے، اور آپ بغیر دیکھے گاڑی چلاتے ہوئے گیئر بدل لیتے ہیں۔
یہ سارے خودکار کام پروپریوسیپشن کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ہمارے مسلز (پٹھوں)، جوڑوں اور ٹینڈنز میں چھوٹے چھوٹے سینسرز لگے ہوتے ہیں جنہیں ‘پروپریوسیپشن’ Proprioceptors کہتے ہیں۔ یہ سینسر ہر وقت دماغ کو پیغام بھیجتے رہتے ہیں کہ: جسم کس پوزیشن میں ہے۔ کتنی طاقت لگ رہی ہے۔ جسم کتنی تیزی سے حرکت کر رہا ہے۔
دماغ ان پیغاموں کو جوڑ کر جسم کا ایک نقشہ بنا لیتا ہے۔ اگر یہ حس خراب ہو جائے تو انسان کا توازن بگڑ جاتا ہے، بار بار گرتا ہے۔ نشے میں ہونے کی طرح لڑکھڑا کر چلتا ہے۔ اپنی حرکتوں پر کنٹرول نہیں رہتا ہے۔ اسی لیے جب ڈاکٹر آپ کا معائنہ کرتے ہوئے آپ کو آنکھیں بند کر کے سیدھی لائن پر چلنے کو کہتا ہے، تو وہ دراصل آپ کی اسی پروپریوسیپشن کو چیک کر رہا ہوتا ہے۔
اس مثال میں انسانی دماغ نے جسم کے سارے مسلز کو کروڑوں مسل فائبرز کی درست جگہ اور کھچاؤ کی معلومات پہنچا دیں. تب اس نے ساڑھے چار سو کے قریب عضلات کے لاکھوں مسل فائبر کو اپنی جگہ سے سکڑنے یا پھیلنے کیلئے "اپر موٹر نیورونز” اور "حرام مغز” کو پہنچا دیئے. حرام مغز نے "لوئر موٹر نیورونز” کے ذریعے ساڑھے چار سو مسلز کے لاکھوں مسل فائبرز کو علیحدہ علیحدہ ہدایات جاری کیں جو سارے سسٹم سے ہوتے ہوئے آخری سرے ایکسون پر پہنچیں جس نے ایک کیمکل "ایسی ٹو کولین” acetylcholine پیدا کیا جس نے "مسل نیورونز جنکشن” پر عمل کر کے مسلز کو مطلوبہ کھچاؤ فراہم کر دیا. یاد رہے کہ لاکھوں میں سے ہر مسل فائبر کے "مسل نیورونز جنکشن” پر ایسی ٹو کولین کی مقدار طلب کے حساب سے مختلف پیدا کی گئی.
ایک بار کے سگنلز کے بعد دوبارہ "سینسری فیڈ بیک” لی گئی کہ جسم غیر متوازن ہو کر گر نہ جائے. پھر اس فیڈ بیک کی روشنی میں نئے سرے سے "پاسچورل ایڈجسٹمنٹ” کی گئی اس سارے عمل کو جانے کتنی بار دہرایا گیا جس سے بیٹسمین بیٹنگ پوزیشن سے بیٹھی ہوئی حالت میں پہنچا. اور یہ سارے کروڑوں نہیں اربوں عوامل ایک سیکنڈ کے ایک چوتھائی سے بھی کم عرصے میں بخیر و خوبی انجام پائے.
خدائے بزرگ و برتر کی قسم آپ خود کو ٹھیک سے نہیں جانتے. آپ ہومین نہیں سپر ہیومین ہیں. اس کائنات کے سب سے ارفع خالق کی سب سے احسن تقویم مخلوق ہیں۔ اگر آپ اپنی صلاحیتوں کا درست ادراک کر لیں تو آپ ہیومین نہیں بلکہ "سپر ہیومین” ہیں۔ اٹھیے اپنی توانائیوں کو درست سمت میں استعمال کرتے ہوئے اپنی محرومیاں مٹا دیجئے. اپنے حصے کی خوشحالی چھین لیجیے. خدا کی قسم آپ یہ کر سکتے ہیں.

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں