جب ریاست غم کی گھڑی میں سہارا بن جائے
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
موت اپنے ساتھ صرف ایک انسان کو نہیں لے جاتی، وہ ایک گھر کی رونق، ایک خاندان کی امید اور کئی دلوں کا سکون بھی اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔ کسی عزیز کی وفات کا لمحہ ایسا ہوتا ہے جب الفاظ بے معنی اور تسلی کے جملے بے اثر محسوس ہوتے ہیں۔ آنکھیں نم ہوتی ہیں، دل بوجھل ہوتا ہے اور انسان صرف اپنے پیارے کی آخری رسومات باوقار انداز میں ادا کرنے کی فکر میں رہ جاتا ہے۔
لیکن سوچئے، اگر اسی لمحے ایک اور سوال سامنے آ کھڑا ہو کہ میت کو آبائی گاؤں یا شہر تک کیسے پہنچایا جائے؟ گاڑی کہاں سے ملے گی؟ کرایہ کون دے گا؟ اور اگر رقم نہ ہوئی تو کیا ہوگا؟ یہ سوال کسی صاحبِ استطاعت خاندان کے لیے شاید محض ایک انتظامی مسئلہ ہو، لیکن ایک غریب اور متوسط طبقے کے خاندان کے لیے یہ ایک اور امتحان بن جاتا ہے۔
بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں ایسے مناظر کم نہیں جہاں کسی دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھنے والا خاندان اپنے عزیز کی وفات کے بعد میت کی منتقلی کے لیے پریشان دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف موت کا صدمہ، دوسری طرف نجی گاڑی کی تلاش، تیسری طرف بھاری کرایہ اور چوتھی طرف یہ فکر کہ آبائی علاقے تک پہنچنے کا انتظام کیسے ہوگا۔ بعض خاندان قرض لیتے ہیں، کچھ رشتہ داروں سے مدد مانگتے ہیں اور بعض کو چندہ تک جمع کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو صرف ہمدردی کے الفاظ نہیں بلکہ عملی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔
میرے ذاتی مشاہدے میں بھی ایسے کئی واقعات آئے ہیں۔ بڑے ہسپتالوں میں ایسے خاندانوں کو دیکھا جو اپنے عزیز کی وفات کے بعد اس سوال میں الجھے ہوئے تھے کہ میت کو گھر کیسے لے کر جائیں۔ ان کی بے بسی دیکھ کر یہ احساس شدت سے پیدا ہوتا تھا کہ اگر اس مشکل وقت میں کوئی سرکاری سہولت موجود ہو تو نہ جانے کتنے خاندانوں کا بوجھ ہلکا ہو سکتا ہے۔
کئی مرتبہ ہم دوستوں نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق ایسے خاندانوں کی مدد کی۔ مگر ذاتی مدد اپنی جگہ، اصل ضرورت ایک ایسے منظم نظام کی تھی جو کسی خاندان کی مالی حیثیت دیکھے بغیر اس کے مشکل وقت میں اس کا ساتھ دے۔
اسی تناظر میں حکومت پنجاب کی جانب سے بلا معاوضہ میت منتقلی کی سہولت ایک اہم عوامی اقدام ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر کی زیرِ نگرانی ضلع اٹک کی تمام چھ تحصیلوں—اٹک، حضرو، حسن ابدال، جنڈ، پنڈی گھیب اور فتح جنگ—کے لیے چھ خصوصی ایمبولینسیں فراہم کی گئی ہیں۔ یہ گاڑیاں ریسکیو 1122 کے حوالے کی گئی ہیں تاکہ ضرورت مند خاندان اپنے پیاروں کی میت آبائی علاقوں تک بلا معاوضہ منتقل کر سکیں۔
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 اٹک ڈاکٹر میاں محمد اشفاق کے مطابق یہ ایمبولینسیں ضلع کی تمام تحصیلوں میں عوام کو مفت خدمات فراہم کریں گی۔
یہ بظاہر چھ گاڑیوں کی فراہمی ہے، مگر اس کے پیچھے چھ خاندانوں سے کہیں زیادہ کی کہانی ہے۔ ہر ایمبولینس کسی ایسے گھر تک پہنچ سکتی ہے جہاں اس وقت آنسو ہوں، خاموشی ہو اور ایک خاندان اپنے عزیز کو آخری بار گھر لے جانے کی فکر میں مبتلا ہو۔
ایسے موقع پر اگر ریاست یہ کہے کہ میت آپ کی ہے، غم آپ کا ہے، لیکن اسے گھر تک پہنچانے کی ذمہ داری میں ہم آپ کے ساتھ ہیں تو یہ محض ایک سرکاری سہولت نہیں رہتی، انسانی ہمدردی کی ایک عملی مثال بن جاتی ہے۔
ہمارے معاشرتی اور ثقافتی نظام میں آبائی قبرستان اور اپنے لوگوں کے درمیان تدفین کی خاص اہمیت ہے۔ بیرونِ شہر وفات پانے والے شخص کے لواحقین عموماً یہی چاہتے ہیں کہ ان کا پیارا اپنے آبائی علاقے میں اپنے بزرگوں اور اپنوں کے قریب سپردِ خاک ہو۔ مگر یہ خواہش بعض اوقات مالی مشکلات کے سامنے بے بس ہو جاتی ہے۔ مفت میت منتقلی کی سہولت اس مشکل کو کم کرنے کی کوشش ہے۔
یہ اقدام اس اعتبار سے بھی اہم ہے کہ ریسکیو 1122 عوامی خدمت کا ایک ایسا ادارہ ہے جس کا بنیادی تعلق پہلے ہی انسانی زندگی اور ہنگامی حالات سے ہے۔ اب میت منتقلی کی سہولت کے ذریعے خدمت کا ایک ایسا پہلو سامنے آ رہا ہے جس کا تعلق زندگی بچانے سے نہیں بلکہ انسان کی آخری منزل تک باوقار سفر سے ہے۔
تاہم یہاں ایک اہم بات قابلِ توجہ ہے۔ کسی بھی سرکاری منصوبے کی اصل کامیابی گاڑی خریدنے یا اعلان کرنے سے نہیں بلکہ اس وقت ہوتی ہے جب ضرورت مند شخص کو واقعی اور بروقت سہولت میسر آئے
اس لیے ضروری ہے کہ عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ میت منتقلی کے لیے کس نمبر پر رابطہ کرنا ہے، درخواست کیسے دی جائے گی، کن علاقوں تک سروس دستیاب ہے اور گاڑی کتنے وقت میں فراہم کی جائے گی۔ سروس کا طریقۂ کار آسان، شفاف اور عام آدمی کی سمجھ میں آنے والا ہونا چاہیے
ایمبولینسوں کی مناسب دیکھ بھال، عملے کی تربیت، بروقت رسپانس اور دور دراز علاقوں تک رسائی بھی اس منصوبے کی کامیابی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کسی غم زدہ خاندان کو سہولت حاصل کرنے کے لیے طویل دفتری مراحل یا غیر ضروری مشکلات سے گزرنا پڑے تو خدمت کا بنیادی مقصد متاثر ہو سکتا ہے
اسی طرح عوامی آگاہی بھی ضروری ہے۔ ہسپتالوں، تحصیل ہیڈکوارٹرز، بنیادی مراکز صحت اور ریسکیو مراکز پر اس سروس کے بارے میں واضح معلومات موجود ہونی چاہئیں تاکہ کسی خاندان کو اپنے عزیز کی وفات کے بعد ایک دفتر سے دوسرے دفتر کے چکر نہ لگانے پڑیں
حقیقت یہ ہے کہ ریاست کی فلاحی ذمہ داری صرف سڑکیں بنانے، عمارتیں تعمیر کرنے یا بڑے منصوبے شروع کرنے تک محدود نہیں۔ ریاست کا اصل امتحان اس وقت بھی ہوتا ہے جب ایک عام شہری زندگی کے ایسے مرحلے پر پہنچ جائے جہاں اسے اپنے اردگرد صرف سہارا چاہیے
ایک غریب باپ جب اپنے بیٹے کی میت گھر لے جانے کے لیے پریشان ہو، ایک بیوہ جب اپنے شوہر کی میت آبائی گاؤں پہنچانے کے اخراجات سے خوف زدہ ہو، یا کوئی خاندان اچانک حادثے کے بعد اپنے عزیز کی آخری رسومات کے انتظام میں بے بسی محسوس کرے—تو ایسے موقع پر حکومت کی ایک چھوٹی سی عملی مدد بھی ان کے لیے بہت بڑی مدد بن جاتی ہے
یہی وجہ ہے کہ اٹک کی چھ تحصیلوں کے لیے چھ خصوصی ایمبولینسیں محض سرکاری گاڑیاں نہیں۔ اگر یہ نظام درست انداز میں چلایا جائے تو یہ ان خاندانوں کے لیے امید اور سہارا بن سکتی ہیں جو پہلے ہی زندگی کے ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہوتے ہیں
ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس سہولت کو وقتی اعلان تک محدود نہ رکھا جائے۔ اس کا مستقل نظام بنایا جائے، ضرورت کے مطابق گاڑیوں کی تعداد بڑھائی جائے، سروس کے معیار کی نگرانی کی جائے اور کامیاب تجربے کی بنیاد پر اسے پنجاب کے دیگر اضلاع تک وسعت دی جائے۔
آخرکار حکومتوں کی یاد صرف بڑے منصوبوں سے نہیں رہتی۔ بعض اوقات ایک چھوٹی سی سہولت کسی خاندان کے دل میں برسوں کے لیے جگہ بنا لیتی ہے۔غم کے لمحے میں کسی دروازے پر دستک دینا اور یہ کہنا کہ "آپ اکیلے نہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں” شاید ریاستی خدمت کی سب سے خوبصورت صورت ہے۔
موت کا دکھ کوئی حکومت ختم نہیں کر سکتی، کسی عزیز کی جدائی کا خلا کوئی نظام پُر نہیں کر سکتا، مگر ریاست یہ ضرور کر سکتی ہے کہ اس دکھ میں ایک اور دکھ شامل نہ ہونے دے اٹک میں مفت میت منتقلی سروس اسی احساس کی ایک عملی تصویر ہے۔
اگر ایک غم زدہ خاندان اپنے عزیز کی میت کو عزت، سکون اور بغیر مالی بوجھ کے اپنے گھر تک پہنچا سکے، اگر ایک ماں اپنے بیٹے کو آخری بار اپنے آبائی گھر کی دہلیز سے رخصت کر سکے، اگر ایک باپ کو اپنے عزیز کی میت کے کرایے کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے—تو شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سرکاری سہولت حقیقی معنوں میں انسانی خدمت بن جاتی ہے۔
اور شاید فلاحی ریاست کی اصل پہچان بھی یہی ہے کہ جب کسی گھر کا چراغ بجھ جائے تو ریاست کم از کم اس گھر تک پہنچنے والی آخری راہ کو آسان بنا دے۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں