جسارت خیالی : میدان ادب میں
تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر
جسارت خیالی دُنیائے ادب میں ایک ایسا معتبر نام ہے جو کسی بھی تعارف کا محتاج نہیں ہے ۔ لیکن نئے قارئین کے لیے تھوڑا سا تعارف کرانا بھی ضروری سمجھتا ہوں ۔
جسارت خیالی
خاندانی نام : منظور حسین
قلمی نام : جسارت خیالی
12 اپریل 1954ء کو پہاڑ پور ضلع لیّہ میں اللّٰہ بخش سنبل کے گھر میں آنکھ کھولی ۔
تعلیم :
بی اے ، اُردو فاضل
پیشہ درس و تدریس میں اپنی خدمات سر انجام دی درس و تدریس میں انہوں نے اپنا بھرپور کردار نبھایا گورنمنٹ ہائی اسکول کوٹ سلطان میں 2014 ء کو ریٹائرمنٹ لے کر خود کو ادب کے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وقف کر دیا ہے ۔ راقم الحروف کو اِن کے دولت خانہ پر جانے کا کئی بار اتفاق ہوا یہ اِن کی محبّت تھی جو کھینچ کر لے جاتی رہی ہے ۔ اور استاد الشعرا سائیں امان اللّٰہ کاظم ( مرحوم ) کے دولت خانہ لیّہ میں بھی بارہا ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک اور یادگار ملاقات مشاعرے میں ناصر ملک کے ہاں چوک اعظم ( لیّہ ) میں ہوئی وہاں اشو لال ، سلیم اختر ندیم ، محمد اقبال بالم اور جسارت خیالی کے ساتھ پروگرام کے بعد کھانا ایک ساتھ کھانے کا شرف بھی حاصل ہوا ۔
جسارت خیالی دبلا پتلا آنکھوں میں ایک چمک جو دیکھنے والے کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور آنکھوں کو پڑھنے اور سوال کرنے پر بھی توجہ دلاتی ہے اور ہر وقت سوچ میں گم صم رہتے ہیں ۔ لیکن ان کے اندر جذبہ محبّت کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے جہاں تک میری ان سے ملاقاتیں ہوئی ہیں جہاں تک میں نے ان کو دیکھا محسوس کیا تو وہی ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔
دل کے اچھے وعدے کے پکے اور دوستوں پر بھروسہ اور یقینِ کامل رکھنے والے وعدہ وفا نبھانے والے دوستوں کی دِل سے عزت دینے والے ، مہمان نوازی میں خوشی محسوس کرنے والے ، دل سے قدر کرنے والے ، ایسا انسان جسارت خیالی اللّٰہ پاک کی طرف سے ایک نعمتِ ہے ۔
جسارت خیالی بطور ایڈیٹر سہ ماہی ٫٫ نیا قدم ،، انٹرنیشنل مجلّہ بھی پہاڑ پور ، لیّہ سے نکالتے رہے ۔ جس کا باقاعدہ آغاز 1999ء میں ہوا ۔ پاکستان اور غیر ملکی شعرا و ادبا کی تحریریں رسالہ کی زینت بنتی رہیں اور خطوط کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ۔ اس مجلّہ نے بھرپور شہرت حاصل کی جس میں اُردو مضامین و کلام اور سرائیکی مضامین و کلام ، تبصرے افسانے اور معروف شعراء و ادباء کے نمبر بھی نکلے جن میں
ڈاکٹر خیال امروہوی نمبر ( لیّہ )
پروفیسر اقبال ندیم نمبر ( ڈیرہ اسماعیل خان )
جسارت خیالی کی شب و روز کی محنت کی بدولت مجلّہ نے بھرپور شہرت حاصل کی ۔ صرف انٹرنیشنل نام ہونے تک ہی نہیں رہا انٹرنیشنل ہونے کا حق ادا کیا ۔ پاکستان بھر میں تو اس کا ڈھنگ کا بجتا ہی رہا ہے اور غیر ممالک میں بھی اس کا ڈھنگ کا اپنے عروج پر رہا ہے ۔ جس میں انڈیا ، بنگلہ دیش ، برطانیہ ، امریکہ ، سعودی عرب ، اور دیگر ممالک میں بھی پڑھا جاتا رہا ہے شماروں کی تعداد 13 تک پہنچ سکی ۔ اِس کے بعد شائع نہ ہو سکا یہ حالات کی نظر ہو گیا ۔
جسارت خیالی کی ہر حوالے سے حوصلہ افزائی ہوئی صرف پاکستان بھر سے نہیں غیر ممالک سے بھی ان کو قد آور ادبی شخصیات کے خطوط وصول ہوئے جس کو سعید سوہیہ ( ایڈووکیٹ ) نے ٫٫ مشاہیرِ ادب کے خطوط جسارت خیالی کے نام ،، سے کتابی شکل دی ۔ جس کے صفحات 144 رنگِ ادب پبلی کیشنز کراچی نے 2019ء کو شائع کیا ۔
اس کے بعد جسارت خیالی نے تنقیدی و تحقیق مضامین لکھے اور اشعار بھی کہتے رہے ان کو کتاب بھی شکل دی ۔
جسارت خیالی کا ادبی ورثہ
1 لا زماں سے زماں تک ( ڈاکٹر خیال امروہوی کی خود نوشت)
2 شعاعِ فردا ( شعری مجموعہ)
3 اقبال سوکڑی شخصیت و فن ( تنقید )
4 سطوتِ حرف ( شعری مجموعہ )
5 تذکرہء شعرائے تونسہ شریف ( تحقیقی مضامین )
6 نویدِ سحر ( شعری مجموعہ )
7 نقدِ سخن ( مضامین )
8 سرائیکی اہلِ قلم کی تحقیقی ، تنقیدی اور شعری خدمات
9 غالب کے نقش قدم پر ( غالب کی زمینوں میں غزلیں )
10 تذکرہء شعرائے لیّہ ( اُردُو ، سرائیکی )
11 سخن سخن جسارت ( شاعری )
12 چند نام ور اہلِ قلم ( تنقیدی مضامین )
13 کلیاتِ خیال امروہوی ( شعری کلیات ) مرتب
14 مجموعہء خیال امروہوی ( نثری کلیات ) مرتب
جسارت خیالی کا ناقدانہ رویہ بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ دوستانہ یا منافقانہ طرزِ عمل سے کوسوں دور ہے ۔ تحریر کو دیکھ کر اس کی روح تک کو پہنچ کر اور دل و دماغ کی روشنی اور گہرائی میں اتر کر پھر حقیقی صورتِ حال اور حتمی فیصلہ کرنا اپنا فرضِ عین سمجھتا ہے ۔ پھر اِس طرح سے ہے کہ قرطاس پر تحریر کو رقم کرتا ہے صاحبِ تحریر کے لئے ان کا فیصلہ صرف انصاف تک ہی نہیں ہوتا بلکہ صاحبِ کتاب کو سمجھنے اور سنورنے کا موقع بھی دیتا ہے ۔ یہی ایک اچھے نقاد کی خوبی ہے ۔
جسارت خیالی کا نمونہ تحریر ملاحظہ فرمائیں ۔
شعیب جاذب درویش شاعر تھے ۔ لیکن نظام جبر کے خلاف مرد آہن تھے ۔ یہ ان کا عصری شعور تھا اُنہوں نے اپنے قلم کو ظلم و نا انصافی کے خاتمے کے لیے تلوار بنایا ہوا تھا ، وہ جدید غزل کی توانا آواز تھے ۔ اس لیے اُنہوں نے نئی نئی تراکیب ناخن سنگ ، براق فکر ، غزالِ اشق ، دشت اُفق ، ریاص کرب ، بیاضِ زخم ، صحت دریا اور لخت موج اور دھوپ چھاؤں ، دریا ، آندھی ، تشنگی ریت ، پرندے جیسی علامات تراش کر ممنویت کا جہاں آباد کیا جس کے اندر مظلوم ، مقہور اور مجبور انسانوں کے دکھ اور غم نوحہ کناں نظر آتے ہیں ۔
کتاب تذکرء شعرائے لیّہ ( اُردو ، سرائیکی ) ص 32
جسارت خیالی کی شاعری انسان کو بیدار کرنے والی شاعری ہے ۔ ان اندر امن و محبت بھائی چارہ ، مثبت فکر ، سوچ انقلابی ، اپنے وطن عزیز میں خوش حالی چاہتے ہیں ۔ روز مرہ کے ناخوشگوار واقعات سے دل برداشتہ نظر آتے ہیں ۔ یہ ایک امید کی کرن کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ امید کی وہ کرن ضرور پھوٹے گی اور رنگ لائے گی اپنی شاعری میں بات کرنے کا سلیقہ قاری کی پہنچ تک پہنچانا یہ ان کے فن کی ایک ایسی خوبی ہے کہ جو قاری پر اثر بھی کرتی ہے اور زندگی کی گاڑی کو فکر اور سوچ میں مبتلا کر کے اس کے اندر ایک تبدیلی لانے کا جذبہ پیدا کرتی ہے جذبے میں ارادہ اور کشش کا احترام دیکھا جا سکتا ہے ۔
جسارت خیالی صرف قاری تک ہی محدود نہیں رہتے وہ اہل قلم کو بھی پیغام دیتے ہیں ۔
ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
ہمیں ہر ظلم دُنیا سے مٹانا ہے قلم کارو
اُٹھو باندھو کفن سر پر قلم شمشیر کرنا ہے
حق کی آواز کہیں سے بھی اٹھائی جا سکتی ہے یہ ضروری تو نہیں کہ گنجان آباد سے اٹھائی جائے ۔
گلشنِ دُنیا کو شعلوں میں سلگتا دیکھ کر
اب تو اپنے ہی کیے پر باغباں مغموم ہے
آخر میں ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں ۔
کہ انصاف سب کو ملے گا مگر آپ
یہ طبقاتی دیوار پہلے گِرائیں

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں