عالمِ امثال کا انسان
ہر انسان کی زندگی میں ایک چیز اول سے آخر تک مستقل رہتی ہے۔ اس کے بغیر نہ زندگی کا احساس ہوتا ہے، نہ ہی یہ پتہ چلتا ہے کہ دراصل ہم کون ہیں۔ عام زبان میں اسے "روح” کہتے ہیں۔ مذہب، فلسفہ اور سائنس تینوں میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ ہمارا جسم ہر لمحہ بدلتا ہے، خلیے مرتے اور نئے بنتے ہیں، لیکن "میں” کا احساس پیدائش سے موت تک ایک ہی رہتا ہے۔
ہم کون ہیں؟ یہ سوال سب سے مشکل ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ میرا جسم ہے، میرا دماغ ہے، میرے ہاتھ پاؤں ہیں۔ اگر یہ سب اعضاء ہمارے ہیں تو ان کا مالک "میں” کون ہے؟ جب ہم کسی عزیز کو مرتے دیکھتے ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ چند لمحے پہلے یہی جسم بول رہا تھا، اب وہی دل، دماغ، آنکھیں موجود ہیں مگر وہ بے جان ڈھانچہ بن گیا ہے۔ جیسے اس کے جسم سے کوئی خاص چیز نکل گئی ہو۔
بارہا رونما ہونے والے اسی موت اور زندگی کے تجربے سے روح کا تصور پیدا ہوا۔ دنیا کی ہر تہذیب نے جسم سے الگ ایک دائمی حقیقت کو مانا، کسی نے روح، کسی نے نفس اور کسی نے آتما کہا۔ سائنس اسے "شعور” Consciousness کہتی ہے۔ اسے سائنسی زبان میں "سپرٹ” Spirit بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تصور دو سوالوں سے پیدا ہوا: زندگی اور موت میں فرق کیا ہے؟ اور خواب کیا ہے؟ ہم سوتے ہوئے بستر پر ہوتے ہیں مگر خواب میں دور شہروں میں گھوم رہے ہوتے ہیں، اور نجانے خواب میں کیا کیا دیکھتے ہیں۔ قدیم انسان نے سوچا کہ جسم سے الگ کوئی ہستی ہے جو نیند میں بھی متحرک رہتی ہے۔
قدیم مصری اسی لیے لاشوں کو حنوط کرتے تھے تاکہ روح واپس آ کر جسم کو پہچان لے۔ ویدوں اور اپنشدوں نے "آتما” کا نظریہ دیا کہ آتما نہ پیدا ہوتی ہے نہ مرتی ہے، وہ بار بار جنم لیتی ہے۔ لیکن روح کو سب سے منطقی شکل یونانیوں نے دی۔ افلاطون نے "عالمِ مثال” کا نظریہ دیا۔ اس کے مطابق یہ دنیا اصل حقیقت نہیں، صرف سایہ ہے۔ اصل حقیقت عالمِ مثال ہے جہاں ہر چیز کامل صورت میں موجود ہے، کامل انصاف، کامل خوبصورتی، کامل خیر۔ ہماری دنیا اس کی ادھوری نقل ہے۔ جیسے ہر کرسی ٹوٹ جاتی ہے مگر "کرسی” کا کامل تصور ذہن میں رہتا ہے۔
افلاطون نے غار کی مثال دی کہ غار کے اندر بیٹھے شخص کو باہر کے آدمی کا صرف سایہ نظر آتا ہے، اس کا اصل نظر نہیں آتا۔ ہم بھی اسی طرح دنیا میں چیزوں کے سائے دیکھ رہے ہیں۔
پھر سوال آیا کہ ہمیں کامل چیزوں کا علم کیسے ہوتا ہے؟ افلاطون نے "نظریہ تذکر” دیا کہ روح جسم سے پہلے عالمِ مثال میں رہ چکی ہے اور سب حقیقتیں دیکھ چکی ہے، جسم میں آ کر وہ چیزوں کو بھول گئی ہے۔ اب ہم سیکھتے نہیں، صرف یاد کرتے ہیں۔ اسی لیے کسی اجنبی سے مل کر بھی لگتا ہے کہ ہم نے اسے پہلے کہیں دیکھا ہے۔
افلاطون کے نزدیک تعلیم کا مقصد معلومات دینا نہیں، روح کو اس کی بھولی ہوئی حقیقت یاد دلانا تھا۔ اس کے شاگرد ارسطو نے اس نظریئے سے اختلاف کیا۔ ارسطو مشاہدے پر یقین رکھتا تھا۔ اس نے کہا روح جسم سے الگ مسافر کی طرح نہیں، بلکہ یہ جسم کی فعلیت ہے، جیسے بینائی آنکھ کی فعلیت ہے۔ اس نے روح کی تین قسمیں بتائیں: نباتاتی روح جو پودوں میں نشوونما کرتی ہے، حیوانی روح جو جانوروں میں احساس اور حرکت دیتی ہے، اور عقلی روح جو صرف انسان میں ہوتی ہے جو سوچتی ہے، اور سائنس جیسے جدید علم اور اخلاق تخلیق کرتی ہے۔
افلاطون کہتا ہے روح جسم سے پہلے بھی تھی اور بعد میں بھی رہے گی۔ ارسطو کہتا ہے روح جسم کے بغیر مکمل نہیں۔ یہ بحث آج بھی جاری ہے۔ آخر میں سوال وہی ہے کہ "میں سوچ رہا ہوں” تو یہ میں یہ "میں” کون ہے؟ شاید اسی لیے انسان خود کو ہمیشہ اجنبی محسوس کرتا ہے، جیسے کسی کھوئے ہوئے وطن کو یاد کر رہا ہو۔ افلاطون کہتا تھا وہ وطن عالمِ مثال ہے، اور فلسفہ اسی وطن کی تلاش کا نام ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں