کرنل سینڈرز کی داستان کامیابی
سینڈرز نے زندگی میں بہت سے کام کیئے۔ انہوں نے اسکول 7ویں جماعت میں ہی چھوڑ دیا تھا۔ کبھی وہ کھیتی باڑی کرتے، کبھی ٹرام کنڈکٹر بنے، کبھی فوج میں گئے، کبھی ریلوے میں مزدوری کی، کبھی انشورنس بیچی اور کبھی پٹرول پمپ پر کام کیا۔ وہ ہر کام میں ناکام رہے۔
وہ امریکی ریاست انڈیانا میں 9ستمبر 1890ء میں پیدا ہوئے۔ جب وہ صرف 5 سال کے تھے تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ان کا بچپن انتہائی غربت میں گزرا۔ ماں ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں اس لیے چھوٹے ہارلینڈ کو ہی اپنے بہن بھائیوں کے لیے کھانا بنانا پڑتا تھا۔ شاید کھانا بنانے کا یہی شوق بعد میں ان کا شاندار مستقبل بن گیا۔
پہلی بار 40 سال کی عمر میں انہوں نے کینٹکی کے ایک چھوٹے سے قصبے کاربن میں ایک معمولی سا ریسٹورنٹ کھولا۔ وہ وہیں اپنے ہاتھ سے فرائیڈ چکن بناتے تھے۔ ان کے چکن کا ذائقہ بہت مشہور ہو گیا۔ انہوں نے 11 خاص جڑی بوٹیوں اور مصالحوں سے چکن کا یہ خفیہ فارمولا بنایا جو آج تک "کے ایف سی” KFC کا راز ہے۔ انہیں اس کام کی وجہ سے ریاست کینٹکی کے گورنر نے اعزازی طور پر "کرنل” کا خطاب دیا، تب سے وہ کرنل سینڈرز کہلانے لگے۔
لیکن ابھی ان کی مشکلات کے دن باقی تھے۔ جب وہ 65 سال کے ہوئے تو ان کے ریسٹورنٹ کے سامنے سے گزرنے والی مرکزی سڑک بند ہو گئی جس کی وجہ سے ان کا کاروبار بلکل ختم ہو گیا۔ اب ان کے ہاتھ میں صرف 105 ڈالر کا سرکاری چیک تھا جو حکومت بوڑھے لوگوں کو دیتی تھی۔ وہ یہ چیک لے کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر اپنی ناکامیوں پر کف افسوس ملنے لگے۔ زیادہ تر لوگ اس عمر میں ریٹائرمنٹ لے کر مایوس ہو جاتے ہیں، لیکن ہارلینڈ ڈیوڈ سینڈرز نے ہار نہیں مانی۔
دنیا میں کامیابی کی جتنی بھی کہانیاں ہیں، ان میں کرنل ہارلینڈ سینڈرز کی "کامیابی کی کہانی” Success Story سب سے زیادہ متاثر کن ہے۔ یہ کہانی اس بات کا ثبوت ہے کہ ناکامی ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے، اور زندگی میں جتنی بھی ناکامیاں کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہیے۔ انہوں نے سوچا کہ میرے پاس چکن بنانے کا ایک ہی ہنر ہے، اور خود سے کہا: "کیوں نہ ایک بار پھر قسمت آزمائی جائے۔” انہوں نے اپنی پرانی گاڑی میں ایک پریشر ککر، کچھ مصالحے اور اپنا خفیہ فارمولا رکھا اور امریکہ کے ریسٹورنٹس کے دروازے کھٹکھٹانا شروع کر دیئے۔ وہ ہوٹل مالکان کو کہتے: "میں آپ کو چکن بنا کر دوں گا، اگر گاہکوں کو پسند آیا تو آپ مجھے ہر پلیٹ پر کچھ پیسے دے دینا۔”
آپ حیران ہوں گے کہ انہیں 1009 ریسٹورنٹس نے انکار کیا۔ لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے کہ ایک بوڑھا شخص پاگل ہو گیا ہے۔ لیکن انہوں نے 1010ویں ریسٹورنٹ پر جا کر کوشش کی تو ان کی ترکیب کامیاب ہو گئی۔ یہ کامیابی ان کی زندگی کا "ٹرننگ پوائنٹ” Turning Point ثابت ہوئی۔
آہستہ آہستہ ان کے نام سے ریسٹورنٹس کھلنے لگے۔ جب وہ 75 سال کے ہوئے تو ان کے 600 سے زیادہ ریسٹورنٹس امریکہ اور کینیڈا میں کھل چکے تھے۔ 1964ء میں انہوں نے اپنی کمپنی 20 لاکھ ڈالر میں بیچ دی لیکن کے ایف سی KFC اتنا مشہور ہوا کہ اس کے اشتہار پر آج بھی کرنل سینڈرز کا چہرہ لگا ہوا ہے۔
اگر انسان حوصلہ نہ ہارے تو چاہے وہ کتنی بھی عمر کا ہو ایک دن کامیابی کی ضمانت ضرور بنتا ہے۔ آج "کے ایف سی” KFC دنیا کے 150 سے زیادہ ممالک میں 25 ہزار سے زیادہ شاخوں کے ساتھ دنیا کی دوسری بڑی فوڈ چین ہے۔ اتنی بڑی کامیابیاں صرف ایک 65 سالہ بوڑھے شخص کی ہمت کا نتیجہ ہے جسے 1009 بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کرنل سینڈرز کی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔ اگر آپ کے پاس مستحکم ارادہ اور اپنے ہنر پر یقین ہے تو آپ 65 سال کی عمر میں بھی صفر سے شروع کر کے دنیا کی سب سے بڑی بڑی کاروباری سلطنت بنا سکتے ہیں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں