دماغی الفا سٹیٹ یا حالت سکر
ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیں۔ 24 گھنٹوں کے دوران ہم میں سے ہر عام انسان کا دماغ لامحالہ طور پر ایک "مخصوص کیفیت” میں ضرور جاتا ہے۔ اس لمحے ہم نہ وقت کے پابند رہتے ہیں نہ جگہ کے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہمارا وجود کائنات کی تمام قوتوں سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ اردو میں ہم اسے "حالت سکر” کہتے ہیں اور سائنس کی زبان میں اسے "دماغ کی الفا سٹیٹ” Alpha State of Mind کہا جاتا ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ سے دماغ کی اس حالت میں جو بھی مانگا جائے وہ عطا ہو جاتا ہے، کیونکہ اس وقت اللہ تعالی اور انسان کے دل و دماغ کے درمیان کوئی دیوار حائل نہیں ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بے شک رات میں ایک ایسا گھڑی ہے کہ اس وقت کوئی مسلمان شخص دنیا اور آخرت کی جو بھی چیز اللہ سے مانگتا ہے تو اللہ تعالی اسے وہی چیز عطا فرما دیتا ہے۔ اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔” علامہ اقبال اس لمحہ کرم پر مانگنے والے کی غفلت کو ایک مصرعہ میں یوں بیان کرتے ہیں کہ:
‘ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں’
رات کے جس لمحہ میں ہر دعا کی قبولیت ہوتی ہے، وہ قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے یا ان کو میسر آتا ہے جو کبھی میں دل اور کو "غافل” نہیں رکھتے۔
حالت سکر کیا ہے؟
دماغ کی یہ وہ لطیف اور لمحاتی کیفیت ہے جس میں ہم اپنے شعور کی روزمرہ کی بھاگ دوڑ کو روک کر خود کو کائنات کی ماورائی قوتوں کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ ہمارے دماغ میں مختلف لہریں چلتی ہیں۔ جب ہم جاگتے ہیں تو "بیٹا ویوز” غالب ہوتی ہیں۔ لیکن گہری سوچ، عبادت، مراقبے یا نیند اور بیداری کے درمیان والے لمحے میں دماغ "الفا ویوز” خارج کرتا ہے۔ دماغ کی اسی حالت کو "الفا سٹیٹ” یا "حالت سکر” کہا جاتا ہے۔
دنیا میں بہت سے صوفیاء اور اولیائے اللہ گزرے ہیں اور آج بھی ہیں جن سے کرامات منسوب کی جاتی ہیں۔ یہ غیرمعمولی دماغی صلاحیتوں کے مالک افراد دراصل لاشعوری طور پر دماغ کی اسی حالت کو استعمال کرتے ہیں۔ وہ دنیا کی ہلچل سے کٹ کر ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کا دل اللہ کے نور سے منور ہو جاتا تھا۔
دماغ کی یہ غیرمعمولی صلاحیت کم و بیش سب انسانوں میں ہوتی ہے لیکن ہر انسان اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا ہے۔ فرق صرف دماغ کی اس حالت کو پہچاننے اور استعمال کرنے کا ہے۔ اس سے فائدہ وہی اٹھاتا ہے جو تین باتوں کا خیال رکھے:
1. منفی خیالات سے بچنا چاہئے، حسد، بغض اور کینہ وغیرہ دل اور دماغ کو بند کر دیتے ہیں۔
2. دنیا کے لالچ سے دوری اختیار کرنی چایئے، جب نیت صاف ہو تو اشارے واضح ہوتے ہیں، ورنہ سعادت کی گھڑی نصیب نہیں ہوتی۔
3. ایثار کے جذبے کو بیدار کرنا چایئے یعنی اپنی ضرورتوں کو روک کر بھی دوسروں کی ضرورت پوری کرنی چایئے۔
اگر آپ کسی کی ضرورت پوری کر سکتے ہیں مگر نہیں کرتے تو آپ نیک دل ہی نہیں ہیں بلکہ گنہگار بھی ہیں۔ جو دوسروں کو خود سے زیادہ فائدہ پہنچانے کا سوچے وہ ایسی دماغی حالت میں زیادہ آسانی کے ساتھ جا سکتا ہے۔
ایسے ہی چند منتخب لوگوں کا شمار اللہ کے برگزیدہ اور پسندیدہ بندوں میں ہوتا ہے۔ اس خاص لمحہ فیضان کے دوران اللہ رب العزت کوئی خاص اشارہ عطا فرماتا ہے۔ خدا ایک ماورائی اور لطیف وجود ہے جس کا تعارف انبیاء کی زبان سے ہوا۔ اس کا اشارہ شور میں نہیں آتا بلکہ خاموشی میں آتا، اور دل کی گہرائی میں اترتا ہے۔ جب انسان دل اور روح کی پاکیزہ حالت میں ہو تو نہ صرف اسے اس گھڑی کا قبل از وقت پتہ چل جاتا ہے بلکہ اس کا سینہ بھی دعا کے لیئے کھل جاتا ہے۔ اسے غیب سے آواز سنائی دیتی ہے کہ: "مانگو جو مانگنا۔” یہ تبھی ممکن ہے جب ہم ذہنی و روحانی طور پر کائناتی قوتوں سے ہم آہنگ ہوں اور ہمارا دماغ "الفا سٹیٹ” میں داخل ہو جائے۔
سائنس نے حال ہی میں حیران کن دریافت کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسانی دماغ میں تقریباً 100 ارب سیلز ہیں۔ کائنات کی عمر 13.8 ارب سال اور زمین کی عمر 4.543 ارب سال ہے۔ جدید تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی دماغ اور کائنات کے جال کی ساخت آپس میں بہت ملتی جلتی ہے۔ دونوں کے کام کرنے کا طریقہ ایک جیسا ہے۔
ایک حدیث مبارکہ ہے: "مومن کے دل میں پوری کائنات سما جاتی ہے”۔ سائنسی اور مذہبی دونوں حوالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ پاک کی "رحمتوں” اور "عنایتوں” کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عبادت کے دوران اپنے آپ کو اللہ اور کائنات میں موجود انرجی کے سرچشموں سے مماثل کر لیں۔ اس مقصد کے حصول میں یہ چند عملی اقدامات مددگار ہیں:
1. گہری سوچ اور مراقبہ یعنی روزانہ چند منٹ خاموشی میں بیٹھنا
2. عبادت اور قرآن پاک کا مطالعہ کرنا، جس سے دل نرم ہو جاتا ہے۔
3۔ استخارہ کرنا یعنی یہ قبولیت کے کسی فیصلے سے پہلے "اللہ کی مرضی” جاننے کی کوشش ہے ۔
4. خود سپردگی اختیار کرنا، یعنی اپنی مرضی کو ختم کر کے اللہ کی مرضی پر راضی ہو جانا۔
جب ہم اپنی "میں” کو ختم کر کے خود کو مکمل طور پر اللہ کے سپرد کرتے ہیں، تبھی وہ لمحہ آتا ہے جسے ہم حالت سکر کہتے ہیں۔
دماغی الفا سٹیٹ یا حالت سکر کوئی معجزہ نہیں، یہ اللہ کی دی ہوئی فطرت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم اس کائنات کا حصہ ہیں اور ہمارا خالق ہم سے ایک لطیف دھاگے سے جڑا ہوا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر کے شور کو کم کریں، دل کو صاف کریں اور اس لمحے کا انتظار کریں جب اللہ خود ہم سے ہمکلام ہو۔
اگر ہم اپنی روزمرہ زندگی میں تھوڑی سی عبادت، تھوڑا سا سکون اور بہت سا ایثار شامل کر لیں تو شاید ہر دن میں وہ ایک لمحہ پا لیں جس میں دعا رد نہیں ہوتی۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں