ابو علی الحسن پیدا کرنے ہیں تو تخیل اور سوالات اٹھانے کو فروغ دیں
ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ بچے کم نمبر لیتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ تعلیم کے دوران کتابوں کو تو رٹا لگاتے ہیں مگر وہ نئے انداز سے سوچتے ہیں اور نہ ہی سوال اٹھانے کی ہمت کرتے ہیں۔ ہم نے تعلیمی اداروں کو سرٹیفکیٹس اور ڈگریاں دینے کی فیکٹریاں بنا دیا ہے، جنہیں حاصل کر کے ہمارے تعلیم یافتہ بچے ایک جیسے پرزے بنتے ہیں، تخلیقی دماغ نہیں بن پاتے۔
آئنسٹائن نے کہا تھا: "تعلیم کا مقصد یہ ہونا چایئے کہ بچوں کے دماغ کی اس طرح تربیت ہو جائے کہ انہیں وہ بھی سمجھ آنے لگے جو کتابوں میں نہیں لکھا ہے۔” آج کی سائنسی ترقی نے ثابت کر دیا ہے کہ جو تعلیمی نظام طلباء کے تخیل کو مہمیز نہیں دیتا، وہ سائنس دان نہیں پیدا کر سکتا، کیونکہ علم سے زیادہ تخیل اہم ہے۔ ہماری بدقسمتی دیکھیں کہ ہمارے کلاس رومز میں تخیل کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔ استاد سوال پوچھتا ہے، بچہ کتاب والا جواب دہرا دیتا ہے۔ جو بچہ سوال کرے، اسے "شرارتی” کہہ دیا جاتا ہے۔ جو بچہ ڈے ڈریمنگ کرے، اسے "نالائق” کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہمارے پاس ہزاروں ڈاکٹر، انجینئر اور افسر تو ہیں، لیکن ایک بھی نیا آئنسٹائن، ایڈیسن یا ابنِ ہیثم (ابو علی الحسن) نہیں ہے۔
تخیل کو جدید تعلیم کے انجن ہونے کی حیثیت حاصل ہے، جس میں سوالات پیٹرول کا کام کرتے ہیں۔ تخیل (یا تجسس) بچے کو سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اگر زمین الٹی گھومے تو کیا ہو؟ اگر ہم پرندوں کی طرح اڑ سکیں تو کیسا لگے؟ پرندے ہوا میں اڑ سکتے ہیں تو ہم زمین کی کشش کو توڑ کر بغیر کسی مشین کے ہوا میں کیوں نہیں اڑ سکتے؟ ایسے ہی سوالوں سے سائنس، ادب اور ٹیکنالوجی جنم لیتی ہے۔ جب تک بچہ "کیوں” اور "کیسے” نہیں پوچھے گا، وہ صرف رٹا لگانے والی مشین بن کر رہ جائے گا۔
ترقی یافتہ ممالک نے یہ بات بہت پہلے سمجھ لی تھی۔ فن لینڈ، جاپان اور امریکہ کے بہترین اسکولوں میں بچوں کو غیر متوقع سائنسی پروجیکٹ دیئے جاتے ہیں، کہانیاں لکھوائی جاتی ہیں، تجربے کرنے دیئے جاتے ہیں، اور انہیں غلطی کرنے کی آزادی دی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ غلطی کے بغیر تخیل پروان چڑھ سکتا ہے اور نہ ہی نئے سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں اس کے برعکس ہے۔ نصاب اتنا روایتی یا بھاری بھرکم ہوتا ہے کہ استاد اور طلباء کے پاس سانس لینے کا وقت بھی نہیں بچتا یا جو بچتا ہے وہ بچے "ہوم ورک” پر لگا دیتے ہیں۔ آج کل کے ہمارے بچوں کا شیڈول ہی ایسا ہے کہ ان کو کھیل کود کیلیئے وقت نکالنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ والدین کا مطالبہ ہوتا ہے "بس رزلٹ اچھا آئے۔” پورا سال طلباء کی دوڑ لگی رہتی ہے، ایک ٹیسٹ ختم ہوتا ہے تو دوسرا شروع ہو جاتا ہے، اور جب ٹیسٹ ختم ہوتے ہیں تو امتحان سر پر آ جاتے ہیں۔ پھر طلباء کو فکر ہونے لگتی ہے کہ "گیئس پیپر” Guess Paper کون سا استعمال کرنا ہے، فرسٹ ڈویژن کیسے لینی ہے یا صرف پاس کیسے ہونا ہے۔ آجکل "نتیجہ” آنے والا دن چند بچوں کے لیئے خوشی اور باقیوں کیلیئے "انتہائی ٹینشن والا دن” ہوتا ہے۔ اس دوڑ میں بچے کی سب سے بڑی صلاحیت یعنی "سوچنے کی طاقت” بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔
تخیل اور سوال اٹھانا صرف آرٹس کے بچوں کا مسئلہ نہیں۔ ایک سائنسدان کو بھی نئی تھیوری کے لیے تخیل اور سوالات اٹھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک انجینئر کو بھی مسئلے کا نیا حل نکالنے اور سوچنے کے لیے تخیل چاہیے۔ ایک تاجر کو بھی نیا بزنس آئیڈیا تخیل اور مارکیٹ سے متعلق سوالات اٹھائے ہی سے ملتا ہے۔
تو اس کا حل کیا ہے؟
پہلا یہ کہ اساتذہ کو ٹریننگ دی جائے کہ وہ جواب دینے کے بجائے سوال پیدا کریں۔ دوسرا یہ کہ نصاب میں "کہانی، ڈرامہ، آرٹ اور تجربے” کو لازمی شامل کیا جائے۔
تیسرا یہ کہ والدین بچوں کے تعلیم کے بارے اپنی سوچ بدلیں۔ نمبروں کے ساتھ بچے کے "عجیب و غریب سوالوں” کو بھی سراہیں اور ان کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔
یاد رکھیں، کتاب علم دیتی ہے، لیکن تخیل اس علم کو پرواز دیتا ہے۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کے تخیل کو فروغ دے دیا اور انہیں سوالات اٹھانا سیکھا دیا تو وہ صرف نوکریاں نہیں ڈھونڈیں گے، بلکہ وہ نئی نوکریاں پیدا کریں گے۔ وہ صرف مسائل کا رونا نہیں روئیں گے، وہ مسائل کا حل بھی تلاش کریں گے۔
ورنہ ہم اگلے 100 سال تک بھی صرف دوسروں کی ایجادات کا ترجمہ کرتے رہیں گے۔ ہمیں چایئے کہ ہم طلباء کو ایسا درسی نظام دیں جس سے "ابو علی الحسن ابن ہیثم” جیسے مشہور مسلم سائنس دان پیدا ہوں۔ ابو علی الحسن 965ء میں عراق کے شہر بصرہ میں پیدا ہوئے اور 1040ء کو انکی وفات مصر کے شہر قاہرہ میں ہوئی۔ مغرب میں انہیں "الہاظن” Alhazen کہا جاتا ہے۔ انہیں جدید "بصریات” Optics کا بانی مانا جاتا ہے۔ انہوں نے مشہور کتاب "کتاب المناظر” لکھی، جس میں انہوں نے پہلی بار بتایا تھا کہ: "ہم آنکھ سے روشنی نکلنے سے نہیں دیکھتے، بلکہ چیزوں سے روشنی آنکھ میں آنے سے دیکھتے ہیں۔”

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں