Tag: علم

  • صدائے وطن : مجموعہ کلام بابا جمال بہرائچی

    صدائے وطن : مجموعہ کلام بابا جمال بہرائچی

    صدائے وطن : مجموعہ کلام بابا جمال بہرائچی

    تبصرہ : وصی اللہ قاسمی  ، بہرائچ 

    اس وقت ”صدائے وطن“ نامی کتاب میرے سامنے ہے، جو کہ مجموعہ کلام ہے بابا جمال بہرائچی کا۔ طباعت و اشاعت شاعرِ مرحوم کے وصال کے چار دہائیوں بعد ہو رہی ہے۔ مقام مسرت بھی ہے، اور حیرت و استعجاب بھی۔ مسرت اس بات پر کہ ایک استاد شاعر کی زندگی بھر کی کمائی اور اصل پونجی مصنہ شہود پر آئی۔ حیرت و استعجاب اس لیے کہ چالیس تک ہو گئے اب تک کوئی جوہری پیدا نہ ہوا ؟ جو اس تک رسائی حاصل کرکے اس سے پردہ خمول سے ہٹاتا۔ بھلا کوئی کرتا بھی کیسے ؟ جب کہ کاتب تقدیر نے یہ خوش بختی جنید احمد نور کے حق میں لکھ دی تھی۔

     ”بابا جمال بہرائچی “ ماضی قریب کے ایک معروف و ممتاز استاد شاعر تھے۔ صرف شاعر نہیں، ماہر سخن شناس، مایہ ناز عالم دین، ساتھ میں نیک نام و خوب سیرت انسان تھے۔    بابا جمال کا پورا نام جمال الدین احمد تھا اور ان کی پیدائش ۱۹۰۱ء میں شہر بہرائچ میں ہوئی۔ انہوں نے عربی و فارسی کی تعلیم حکیم سید ولایت حسین وصلؔ نینوتوی (تلمیذ میر نفیس ابن میر انیس) سے حاصل کی، جو اپنے عہد کے عربی و فارسی کے قادرِ کلام شاعر تھے۔ 

    بابا جمال بہرائچی
    بابا جمال بہرائچی

      بابا شاعر کی شکل میں متشاعر نہیں تھے؛ بلکہ فن شاعری کے باقاعدہ اسباق پڑھ کر شاعری شروع کی تھی۔ اس لیے ان کے پاس جو علم تھا وہ پختہ تھا، خام کچھ نہیں تھا۔ اُنھیں علومِ ادبیہ پر مکمل گرفت تھی، وہ اس کے ماله و ماعلیه سے بھرپور واقف تھے۔ ان کے یہاں لفظوں کا وافر ذخیرہ تھا اور قحطِ لفظی کی کوئی صورت نہیں۔ وہ اپنے ہر شعر کو کئی کئی مرتبہ عروض و بیان کی کسوٹی پر پرکھتے تھے۔ اصولِ شعر و سخن پر دسترس رکھنے کی وجہ سے کلام ہر طرح کی ہزہ سرائی سے پاک تھا۔

    صدائے وطن : مجموعہ کلام بابا جمال بہرائچی

    ترقی پسند تحریک جس میں خدا اور رسولﷺ کی شان میں گستاخی، بڑوں کا تذکرہ دقیانوسی سوچ کے حامل افراد کی حیثیت سے، اور مغربی کلچر کا کھل کر نہ سہی دبے لفظوں ضرور ذکر کیا جاتا ہے، بابا اس تحریک سے متنفر و گزیراں تھے۔ اُن کا شمار قدامت پرستی کے علم بردار شعراء میں ہوتا تھا۔ اُن کے یہاں تجربات و مشاہدات کی بھی کمی نہیں تھی۔

    بابا جمال صرف مایہ ناز شاعر ہی نہیں تھے، بلکہ شاعر گَر بھی تھے۔ اُن کا ادبی اسکول چلتا پھرتا ہوا کرتا تھا، ایسا اسکول جو زمان و مکان سے آزاد تھا۔ اُسے نہ کسی عمارت و بلڈنگ کی ضرورت تھی، نہ میز و کرسی اور ٹپائی و چٹائی کی حاجت۔ جب بھی دو چار متلاشیانِ علم و فن اکٹھا ہوتے، مناسب و معقول جگہ دکھائی دیتی؛ بابا کی درس گاہ سج جاتی۔ مدتوں بابا کا اسکول گھنٹہ گھر کے سبزہ زار پر بھی لگتا رہا ہے۔ اُن کے متعدد تلامذہ نے شعر و ادب کی دنیا میں اہم مقام حاصل کیا، جن میں نعمت بہرائچی، رزمی بہرائچی، پارس ناتھ بھرمر اور صابر جمالی خصوصیت کے حامل ہیں۔ موجودہ دور کے معروف شاعر ”شاعر جمالی“ بھی انہی کی ادبی درس گاہ کے شاگرد ہیں۔

    جنید احمد نور
    جنید احمد نور

    بابا کا انداز بیان بڑا دل آویز و دلکش ہے، ایسا دلکش کہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی صفحہ کھل جائے اور پھر ختم کیے بغیر آپ کو چھوڑنے کا جی چاہے۔ کلام مختلف اصناف؛ غزل، نظم، قطعات، نعت و سلام وغیرہ کے تحت منقسم ہے۔ صفحہ ۴۲ سے ۱۰۴ تک مختلف کلام شامل ہے، عنوانات کے ذریعہ تنوع کا اندازہ لگائیے۔ بارش نور، اللہ رے جلوہ زار مدینہ کلی کلی (نعت) انسانیت کے چار چاند( مدح صحابہؓ) ہمت مدرانہ، چتا میں زندگی، زمانے کا چلن، جواب کہکشاں، تصویر آشیاں، عصمت گلزار، محو جمال، گھر پر رہا اور ہمیں کچھ خبر نہیں، اک حشر بپا ہوگا، رونق ویرانہ نہیں، حسن اثر، طلسم زیست، بہار نودمیدہ، شادابی گلشن، وغیرہ وغیرہ. صفحہ ۱۰۵ سے ۱۳۶ تک نظمیات، قطعات اور رباعیات شامل ہیں، ان کی فہرست بھی ملاحظہ ہو۔ آم، جوہر باطنی، روح ادب، جاری زیست، بن ودِّیا کے جینون نسپھل (बिन विद्या के जीवन निसफल)، جنون آزادی، لباس اتحاد، آوازہ اتحاد، تصویر ماضی، عید ملن، وطن کی خاطر وغیرہ وغیرہ ایک نظم بہ رنگ غزل پنڈت ترلوکی ناتھ کول، سابق ایم ایل اے بہرائچ پر بھی شامل ہے، ہر مصرع پنڈت جی کے حروف تہجی سے شروع ہوتا ہے، مثلا پہلا مصرع ت سے، دوسرا ر سے، تیسرا ل سے اسی طرح آخر تک۔

    صفحہ ۱۳۹ سے بعد آزادی کی غزلیں شامل ہیں، غزلیں کس انداز کی ہیں، اس کے لیے یہ نمونہ کافی ہوگا۔

    یہی دل کے زاوئے تھے جو چھپے نظر سے پہلے

     رہے مدتوں یونہی ہم کبھی بے خبر سے پہلے

    کیا عزم کس نے محکم تری رہگذر سے پہلے

    وہ گیا ہے کون آخر تو بتا ادھر سے پہلے

    جو اسیر ساتھ دیتے تو یہ قید و بند کیا تھے

    سبھی تیلیاں بکھرتیں مرے بال و پر سے پہلے

    یہ کشش یہ ضبط گریہ ، یہ اثر مری فغاں کا

    کئی آنکھ ڈیڈ بائیں مری چشم تر سے پہلے

    کہاں سر کوئی جھکاتا کسے سجدہ گہہ بناتا

     کوئی اور در کہاں تھا ترے سنگ در سے پہلے

    اسی میں ایک کلام ”صدائے وطن“ کے نام سے شامل ہے، یہی عنوانِ کتاب ہے۔ پڑھیے اور بابا کے ادبی شاہ پارہ سے حظ اٹھائیے۔

    صدائے وطن

    زباں زباں پر ہر اک نعرہ فدائے وطن

    چمن میں گونج رہی ہے یہی صدائے وطن

    خمیر اہل وطن کیا ہے ماسوائے وطن

    خاکہائے وطن ہے یہ خاکہائے وطن

    تمام قوموں کی ، گنگ و جمن کا اک سنگم

    بریں لحاظ مقدم سی ہے رضائے وطن

    ملی ہے جو بڑی قربانیوں سے آزادی

    وہی ہے حسن کی دیوی یہ مہہ لقائے وطن

    یہ مسئلہ بھی حقیقت میں نفسیاتی لہے

    رہے وطن میں کوئی کیسے بیوفائے وطن

    تمام نعمتیں اس کی ہیں مستعار اس سے

    تو کیوں نہ وادئی جنت میں یاد آئے وطن

    نظر نظر یہ سر چشمِ امتیاز جمال

    جمالیات سے مملو ہیں جلوہ ہائے وطن

    صفحہ ۱۵۱ سے پھر نظموں کا سلسلہ شروع ہو کر آخر کتاب پر اختتام پذیر ہوا ہے۔ وطن و حب وطن سے متعلق بھی بہت سا کلام شامل مجموعہ ہے، بلکہ اکثریت اسی پر مشتمل ہے۔ بابا نے جہدوجہد آزادی کو ہوش کی آنکھوں دیکھا تھا، اس لیے ان کے کلام میں جا بجا استخلاص وطن کی فکر اور جذبہ نظر آتا ہے، بہت سی نظمیں نوجوانان وطن کو مخاطب کرکے کہی گئی ہیں۔ جب ہندوستان آزاد ہوا تو بابا نے اس وقت اپنے جذبات و احساسات کا اظہار ایک قطعہ کے ذریعہ کیا، مصرعے ایسے چست کیے کہ وقت تک محفوظ ہو گیا۔ آپ بھی ملاحظہ کیجیے؛

    سیکڑوں دن غم کے سانچے میں ڈھلے

    مدتوں قید قفس میں ہم رہے

    تاروں کی چھاؤں میں آزادی ملی

    رات کے بارہ بجے بارہ بجے

    یوں تو شعر و شاعری بدنام ہے، کہ جو اس کا ہوا وہ کسی کام کا نہ رہا۔ مگر کچھ لوگ ہیں جو بامقصد شاعری کرتے ہیں، یقیناً بابا جمال انھیں میں سے ایک ہیں۔

    صدائے وطن کے اصل مرتب بابا کے فرزند ”نجمی“ ہیں، اشاعت کا اردہ کیا مگر کسی وجہ سے شائع نہ کرا سکے۔ اب یہ جنید احمد نور کی محنتوں سے شائع ہو رہی ہے۔ محنت سے مراد یہ ہے کہ انھوں نے اس کی کتابت و اشاعت میں خاصہ وقت صرف کیا ہے۔ ابتداء میں بابا جمال کی سیرت و سوانح اور فن پر اِن کا ایک مضمون بھی شامل ہے، جو تفصیلی بھی ہے اور معلومات سے پُر بھی۔ اِس سے ایک طرف بابا جمال کے شخصی حالات کا علم ہوتا۔ دوسری طرف ان کی ادبی خدمات سے نقاب کشائی بھی ہوتی ہے۔

    مرتب کتاب کے علاوہ، معروف سوانح نگار عرفان عباسی، پروفیسر سید طاہر محمود (سابق چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن، دہلی)، مصباح الحسن علوی، ماسٹر عبدالرحیم (شاگردان بابا جمال) کی تحریریں بھی شامل ہیں، جن میں بابا کی شخصیت اور فن پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

    بلکل ابتداء میں منشی عبدالوحید مکرانی رزمی بہرائچی کی ایک نظم بابا کی شان میں ”نذر جمال“ کے نام سے درج ہے۔ شان دار و جان دار خراج عقیدت پیش کیا ہے اپنے استاد کو۔

      کتاب فخرالدین علی احمد میموریل اکیڈمی کے جزوی مالی تعاون سے شائع ہوئی ہے۔ کتابت کی غلطیاں ہیں۔ مواد کو مختلف عنوانات کے تحت منقسم کرنے سے پہلے ترتیب درست کر لیتے تو ایک ہی قسم کے کلام کے بکھر جانے سے جو نقص ہو محسوس ہو رہا وہ نہ ہوتا۔ بہ ہر حال، اس کے باجود جنید احمد نور شکریہ کے مستحق ہیں کہ انھوں نے صدائے وطن کی اشاعت کے ذریعے بابا جمال کے فن کو ضائع ہونے سے بچا لیا، اب پذیرائی اور قدردانی کا معاملہ عہد حاضر کے ادبی حلقہ کے سپرد ہے۔

  • میری معلمہ ، میرا فخر

    میری معلمہ ، میرا فخر

    میری معلمہ ، میرا فخر

    محمد اسداللہ نے خوب کہا تھا کہ:

     رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے

    استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے

    انسانی زندگی میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک خوب صورت احساس کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ وقت گزرتا رہتا ہے، حالات بدلتے رہتے ہیں، زندگی نئے موڑ لیتی رہتی ہے مگر کچھ چہرے، کچھ آوازیں اور کچھ رویے ہمیشہ دل کے نہاں خانوں میں محفوظ رہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی محبت، خلوص، شفقت اور کردار سے انسان کی زندگی پر ان مٹ نقوش مرتب کر جاتے ہیں۔ اَساتذہ کی شخصیات بھی انہی روشن کرداروں میں شامل ہوتی ہیں۔ ایک اچھا استاذ صرف کتابی علم منتقل نہیں کرتا بلکہ انسان کے اندر امید، حوصلہ، اعتماد اور شعور کی شمع روشن کرتا ہے۔ میری زندگی میں میڈم انجم اکبر بخاری بھی ایسی ہی ایک عظیم اور یادگار معلمہ ہیں جن پر مجھے ہمیشہ فخر رہے گا۔

    2001-02ء کی بات ہے۔ میں جی۔سی۔ٹی پشاور چھوڑ کر واپس گھر آ چکا تھا۔ تعلیمی سفر سے میرا دل مکمل طور پر اچاٹ ہو چکا تھا۔ طبیعت میں بے زاری اور مستقبل کے حوالے سے عجیب سی بے یقینی موجود تھی۔ انہی دنوں مظفرآباد میں اورینٹل سائنس کالج نیا نیا قائم ہوا تھا۔ ادارے میں محترم پروفیسر بابر میر، محترم پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیدر بخاری سمیت دیگر ممتاز  اہلِ علم اور آزاد کشمیر کے نامی اساتذہ  موجود تھے۔ اگرچہ میرا دل مزید تعلیم کی طرف مائل نہیں تھا مگر والد محترم کی خواہش اور حکم میرے لیے ہمیشہ اہم رہا اس لیے بادلِ نخواستہ میں نے اورینٹل سائنس کالج میں داخلہ لے لیا۔

    اس زمانے میں کالج  غازی چوک لوئر چھتر میں قائم تھا۔ صبح سات بجے سے شام چار بجے تک کلاسوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ابتدا میں میرا دل وہاں بھی زیادہ نہ لگتا تھا لیکن جلد ہی اس ادارے کے اساتذہ کے اخلاق، شفقت اور محنت نے میرے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ حماد ہاشمی صاحب سے قائم ہونے والا تعلق آج بھی دل میں تازہ ہے جس پر کبھی تفصیل سے بات کروں گا۔ اس وقت جس شخصیت کا تذکرہ مقصود ہے وہ ہردل عزیز معلمہ پروفیسر انجم بخاری ہیں ۔

         میڈم انجم اکبر بخاری اس وقت تدریس کے میدان میں نئی نئی وارد ہوئی تھیں۔ وہ سید صابر نقوی صاحب کے ساتھ انگریزی پڑھانے آیا کرتی تھیں۔ نوجوانی کی تازگی، شگفتہ مزاجی، اعتماد اور خوش اخلاقی ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ وہ نہایت خوش اسلوبی سے پڑھاتیں اور مشکل ترین اسباق کو بھی اس انداز سے پڑھاتیں کہ بہت آسانی سے طلبہ کی سمجھ میں آ جاتا۔ ان کی کلاس میں محض سبق نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک خوش گوار اور دوستانہ ماحول بھی موجود ہوتا تھا۔ وہ طلبہ کو خوف اور دباؤ کی بہ جائے محبت اور حوصلے سے سیکھنے کی طرف راغب کرتی تھیں۔

    ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا رویہ تھا۔ وہ ہر طالب علم کے ساتھ شفقت اور احترام سے پیش آتیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ طلبہ ان سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ان کے چہرے کی مسکراہٹ، شائستہ تکلم اور  تدریس کا دل کش انداز آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔ وہ ان اساتذہ میں سے تھیں جن کے سامنے بیٹھ کر انسان صرف علم ہی نہیں بلکہ تہذیب اور اخلاق بھی سیکھتا ہے۔

    وقت گزرتا گیا اور زندگی اپنے معمول کے مطابق آگے بڑھتی رہی۔ میں نے بھی کالج سے ناتا توڑ لیا۔ زندگی کے مختلف نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے 2014ء میں نمل سے ایم۔اے مکمل کیا اور بعد ازاں ایم۔فل کا کورس مکمل کرنے کے بعد واپس مظفرآباد آ گیا۔ یہاں ماڈل سائنس کالج میں جزوقتی لیکچرر کے طور پر تدریسی ذمے داریاں سنبھالنے کا موقع ملا۔ یہیں ایک مرتبہ پھر میڈم انجم اکبر بخاری سے ملاقات ہوئی۔ برسوں بعد جب انھیں دوبارہ دیکھا تو محسوس ہوا کہ وقت نے ان کی شخصیت کو مزید نکھار دیا ہے۔

    اب وہ ایک تجربہ کار، باوقار اور نہایت محترم پروفیسر کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ان کے اندر وہی خلوص، وہی محبت، وہی خوش اخلاقی اور وہی شگفتگی موجود تھی جو طالب علمی کے زمانے میں دیکھی تھی۔ ان کی گفتگو میں اعتماد اور وقار نمایاں تھا جب کہ طلبہ کے ساتھ ان کا رویہ آج بھی اتنا ہی مشفقانہ تھا جتنا کئی برس ادھر رہا۔ وہ نہ صرف ایک بہترین استاد بلکہ ایک اعلا انسان بھی ہیں۔

    میڈم انجم اکبر بخاری کا تعلق مظفرآباد کے ایک معزز اور تعلیم دوست خاندان سے ہے۔ ابتدائی تعلیم انھوں نے ہائیر سیکنڈری اسکول سہیلی سرکار سے حاصل کی۔ بعد ازاں فاطمہ جناح گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج مظفرآباد سے انٹرمیڈیٹ اور گریجویشن مکمل کی۔ اعلاتعلیم کے لیے جامعہ آزاد کشمیر کا انتخاب کیا جہاں سے انگریزی ادب میں ایم۔اے اور ایم۔فل کی اسناد حاصل کیں۔ وہ شروع ہی سے ایک ذہین، محنتی اور باصلاحیت طالبہ رہی ہیں اور یہی خوبیاں بعد میں ان کی تدریسی زندگی میں بھی نمایاں نظر آئیں۔

    میری معلمہ ، میرا فخر

    2004ء میں انھوں نے پبلک سروس کمیشن کا امتحان کامیابی سے پاس کیا اور مستقل طور پر محکمہ ہائر ایجوکیشن سے وابستہ ہو گئیں۔ یہ کامیابی ان کی قابلیت اور علمی بصیرت کا ثبوت تھی۔ انھوں نے گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج،مظفرآباد میں اپنی خدمات کا بڑا حصہ گزارا جہاں وہ انگریزی کی ایک نہایت مقبول پروفیسر کے طور پر جانی گئیں۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج اٹھمقام، گورنمنٹ کالج ہٹیاں اور ہٹیاں دوپٹہ میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔

    ہر ادارے میں ان کی موجودگی تعلیمی ماحول کے لیے ایک مثبت اضافہ ثابت ہوئی۔ وہ صرف اپنے مضمون تک محدود نہیں رہتیں بلکہ طلبہ کی ذہنی اور اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دیتی ہیں۔ ان کے نزدیک استاذ کا منصب صرف نصاب مکمل کرنا نہیں بلکہ انسان سازی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد آج بھی ان کا ذکر بے حد احترام اور محبت سے کرتے ہیں۔

    اگست 2025ء سے وہ کالج ٹیچرز ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ میں چیف انسٹرکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس منصب پر ان کا تقرر دراصل ان کے برسوں کے تجربے اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا اعتراف ہے۔ اب وہ نئی نسل کے اساتذہ کی تربیت میں مصروف ہیں اور اپنی بصیرت اور تجربے کی روشنی دوسروں تک منتقل کر رہی ہیں۔ ایسے لوگ درحقیقت تعلیمی اداروں کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔

    11 مئی کو جب پندرہ روزہ ورکشاپ کے سلسلے میں میرا انتخاب ہوا اور وہاں میڈم انجم اکبر بخاری سے ملاقات ہوئی تو دل خوشی اور فخر کے جذبات سے بھر گیا۔ ایک شاگرد کے لیے اس سے زیادہ خوشی کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی معلمہ کو اسی وقار، محبت اور خلوص کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتے دیکھے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وقت نے برسوں کا سفر طے ہی نہ کیا ہو۔

    میڈم انجم اکبر بخاری کی شخصیت میں علم کے ساتھ ساتھ اخلاقی حسن بھی بدرجۂ اتم موجود ہے۔ وہ خوش لباس ہیں مگر ان کی اصل خوب صورتی ان کے کردار میں ہے۔ وہ خوش گفتار ہیں مگر ان کی اصل تاثیر ان کے لہجے کی محبت میں ہے۔ وہ باصلاحیت ہیں مگر ان کی اصل عظمت ان کی عاجزی اور انکساری میں ہے۔ یہی خوبیاں انھیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں۔

    میں سمجھتا ہوں کہ معاشرے کی تعمیر میں اساتذہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے اور میڈم انجم اکبر بخاری جیسے اساتذہ اس کردار کو نہایت خوب صورتی سے نبھا رہے ہیں۔ وہ نئی نسل کے لیے امید، حوصلے اور روشنی کی علامت ہیں۔ ان کی تدریسی خدمات اور انسان دوستی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

    بلاشبہ میڈم انجم اکبر بخاری صرف میری معلمہ ہی نہیں بلکہ میرا فخر ہیں۔ ان جیسی شخصیات زندگی میں بار بار نہیں ملتیں۔ وہ ان خوش نصیب اساتذہ میں شامل ہیں جن کے شاگرد نہ صرف ان سے علم حاصل کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سیکھتے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایمان اور صحت والی حیاتِ جاوداں عطا فرمائے گا کہ وہ اسی طرح علم کی شمعیں روشن کرتی رہیں اور آنے والی نسلیں ان کے فیض سے مستفید ہوتی رہیں۔ بردارم ڈاکٹر اسحاق وردگ کا یہ شعر میڈم کے نام کر کے اجازت چاہوں گا: 

    اَساتذہ نے مرا ہاتھ تھام رکھا ہے

    اسی لیے تو میں پہنچا ہوں اپنی منزل پر

    20 مئی 2026ء، بدھ

  • باتیں منشا جی کی

    باتیں منشا جی کی

    باتیں منشا جی کی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    از : پروفیسر محمد ارشد حسان ،
    (میانوالی )

    عرصہ ہوا کتابی دنیا کے کولمبس چاچا محمد جان سے جانا کہ میانوالی کا کوئی منشا خان بھی ہے جو کتابوں کا دیوانہ ہے ۔ ایک تو نام کی وجاہت پھر اس پہ بیان محمد جان مجھے لگا کہ وہ کوئی امیر کبیر شخص ہے جس کے کارخانے ہوں گے، ہزاروں کتابوں کی لائبریری اور محل نما دولت کدہ ۔فقیر کا مزاج ہے کہ متمول لوگوں سے ایسے بھاگتا جیسے مرگی کا مریض پانی سے ۔میں ویسے بھی انٹرورٹ ہوں مگر کلیتاً مردم بے زار و سنکی بھی نہیں ہوں ۔بعد میں ایک دو احباب سے ذکر منشا سنا بھی تو زیادہ ٹوہ میں نہ پڑا کہ جس شہر جانا نہیں اس جانب جانے والی بس کا کیا استفسار۔
    خیر بات آئی گئی ہوگئی۔۔بندہ عاجز سوشل میڈیا کے علائق سے پاک اور پھر ایسے علاقے میں رہائش پذیر ہے جہاں علمی و ادبی سرگرمیوں کی گرد بھی نہیں پہنچتی ۔پھر فقیر نے نہ کبھی تبلیغی جماعت کی طرح حلقے لگائے اور نہ اسلامی بھائیوں کی طرح کہیں چوک درس دیے ہیں۔ لے دے چند دوست ہیں جن سے ہفتے دو ہفتے بعد ملاقات ہوتی اور وہ پیدائش و اموات کے رجسٹر کھول بیٹھتے ۔
    ڈاکٹر بننے کی چاہ نے ابن آدم کو مسافرت کی راہ پر ڈال دیا ۔پانچ سال کے اس کٹھن سفر میں تاحال لے دے کے ڈاکٹر شیر علی صاحب کا خاکہ ہاتھ لگا تو ایک عدد بے لوث دوست ناصر اقبال خان ۔ پھر ایک دن ناصر خان نے بھی اس پری وش کا ذکر کر دیا اور وہ بھی ایسا کہ دل بے قابو ہوگیا ہے ۔
    ناصر نے کہا منشا خان تمھاری طرح دھان پان کا نوجوان ہے اور یہ کہ اسے تمھاری طرح تصوف سے بے پناہ لگاؤ بھی ہے ۔ ناصر خان بقول کریم خان کھل کے کھیلتا ہے مگر میں جانتا اس میں وٹامن خلوص کی کمی بالکل نہیں ہے۔ تو بس میں اپنے ہمزاد کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔
    تصوف کے نام پر تو فقیر نے وہ وہ دھوکے کھائے ہیں کہ الامان الحفیظ ۔ان صوفی بابوں کے تعاقب میں اشفاق احمد کی طرح میں نے کوئی جنگل ویرانہ نہیں چھوڑا۔ کبھی صوفی سونا عرفان الحق ہاتھ لگا تو کبھی کوئلے بلال صوفی سے ہاتھ میلے کیے۔
    خیر ناصر سے عرض کی پھر ملاقات کی کوئی سبیل نکالو کہ ایسے لوگوں سے دید وا دید بھی ہو جائے تو غنیمت سمجھو۔
    ادھر وہ حاضر ہوں تو میں غائب اور میں حاضر باش تو منشا جی فرنچ لیو پر۔ پھر ایک بار ہم نے انہیں گھر دھر ہی لیا ۔
    میں ٹک ٹک دیدم مگر وہ نظر التفات ہی نہ فرمائیں ۔ناصر نے ایک دو بار کہا بھی کہ یہ پروفیسر میاں ارشد صاحب ہیں مگر مڑیل سے الرجی زدہ پروفیسر کا تصور انہوں نے کب کیا تھا جو مجھ پہ نوازشات فرماتے ۔پروفیسری کے اثبات میں ناصر کو باقاعدہ دلائل دینےپڑے اور حفیظ جالندھری کے الفاظ میں بہت مشکل سے پروفیسر منوایا گیا۔
    اس پہلی ملاقات میں منشا جی ناصر کو ان کی زیر اشاعت تصنیف پر پیہم مشورے دیے جا رہے تھے اور میں تھا کہ گھوم گھام کر تصوف پر لے آتا مگر وہ صاف پہلو بچا کر نکل جاتے ۔ دل میں آزردہ خاطر تو تھا مگر میں نے ہمت نہ ہاری اور سیدھا سوال ان پر داغ دیا کہ منشا صاحب میں تو سمجھا تھا چلو آپ مجھے شطحیات سمجھنے کے قابل نہ سہی مجھ سے کچھ صوفیوں کی کیفیات پر تو بات فرمائیں گے ۔اس پر انہوں نے ایک جملہ کہا ارشد بھائی تصوف علم کو عمل میں ڈھالنے کا فن ہے ۔
    علم روحانیت کے دودھ میں سے مکھن نکال کر انہوں نے میرے سامنے رکھ دیا تھا اور میری دو تین گھنٹے کی اس بیٹھک کی بوریت دور دور تک دور ہوگئی تھی اور میں نہال اس جملے کی سادگی و پرکاری کا حظ لیے سارے راستے مسرور رہا ۔
    منشا کو کتب بینی کا ذوق بچپن سے رہا۔ اپنے بڑے بھائی سے نوعمری میں سید بلھے شاہ کی کتاب ملی تو بلھے کے عاشق بن بیٹھے اور کلام عشق میں وہ ڈوبے کے تا حیات ڈوب کے وہی پاٹے جا رہے ۔ وارث شاہ سرکار اور سائیں بلھے شاہ دونوں ہم جماعت تھے اور دونوں سے ان کے استاد مکرم غلام مرتضیٰ خفا رہے کہ ایک نے سارنگی شروع کر دی تھی تو دوسرے نے ہیر لکھ ڈالی تھی ۔ مگر ان کی روح یہ جان کر خوش ہوتی ہوگی کہ آج تین سو سال بعد بھی منشا کی طرح راہ عشق کے مسافر ان کے تلامذہ سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔

    باتیں منشا جی کی


    منشا کی لائبریری انفرادی سطح پر ضلع میانوالی کی سب سے بڑی لائبریری ہے جس میں مختلف علوم پر ہزاروں کتب موجود ہیں ۔ سب سے زیادہ کتب تصوف پر ہیں جو ان کے قلبی ذوق کی عکاسی کرتی ہیں۔پاکستان بھر سے جوئیندگان علم آئے دن ان کے مہمان بنتے رہتے ہیں اور منشا ہر کتاب پر اپنی انگلی رکھ رکھ کے اس کا اجمالی تعارف پیش کرتے چلے جاتے ہیں ۔
    منشا شیخ ناظم عادل الحقانی سے بیعت ہیں۔ منشا کو کئی سلاسل سے خلافتیں مل چکی ہیں اور میری معلومات کے مطابق وہ حقانی سلسلہ سے بھی خلافت پا چکے ہیں یوں وہ صرف مرید نہیں رہے مراد بھی بن چکے ہیں۔صبح دم ان کے چہرے پر شب بیداری کی بارشوں کی پھوار صاف جھلکتی ہے ۔ یہ چوں کہ الگ موضوع ہے لہذا سمجھنے والے تھوڑے کو بہت جانیں ۔
    منشا اپنی عمر کے سالوں سے زائد کتابیں تالیف کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے سب کچھ پڑھ لکھ لیتا تھا آج کل صرف میانوالی پر پڑھتا ہوں اور میانوالی پر ہی لکھتا ہوں۔ انہوں نے میانوالی کے قدیم متون کھوج نکالے ہیں۔ غلام محمد ہاشمی کی نظم مسلم لیگ دی شان ،حمید اللہ ضیا اسلام پوری کا رسالہ اصلاح معاشرہ، بگھت موتی رام گیتا پاٹھی کا ڈرامہ کرشن و سداماں ان کی حالیہ مثالیں ہیں۔ ان کی زیر اشاعت تصنیف "ہنود میانوالی "ایک ایسی تاریخ ساز دستاویز ہوگی جس سے میانوالی کی تاریخ پر پڑی زمانوں کی گرد کا صفایا ہو جائے گا اور ہمیں میانوالی کا حقیقی اور اوریجنل رنگ روپ نظر آئے گا ۔
    ان کا سخت جان قلم تحقیق و تنقید کی سنگلاخ زمینوں سے شعر و سخن کے خیابانوں میں بھی آ نکلتا ہے اور پھر منشا اپنی جون بدل کر کچھ اور ہی منشا بن جاتا ہے اور پھر ایسے اشعار اس کے گوہر بار قلم سے برآمد ہوتے ہیں ۔
    جاگتے میں بھی ترا خواب نظر آتا ہے
    سارا منظر مجھے بے تاب نظر آتا ہے
    تیری تصویر کہ ہے حسن مہ چار دہم
    تیرا چہرہ مجھے مہتاب نظر آتا ہے
    نگہ یار سے محروم رہے جو منشا
    اس کی آنکھوں میں تو سیلاب نظر آتا ہے
    دل کے حجاب ہٹتے ہیں بیدار سانس سے
    ہر سانس میں پیام ہے دیدار و حال کا
    دنیا کے بیچ رہ کے بھی ہوش دوام ہو
    مشکل ہے یہ مقام ،نہیں زور قال کا۔
    میں نے ایک دن ان سے پوچھا کہ منشا ازدواجی اور تصنیفی کام میں خوشگوار توازن کیوں کر ممکن ہوا؟ کہنے لگے ٹائم مینجمنٹ ایک آرٹ ہے اور میں نے اوائل میں ہی اس فن میں مہارت حاصل کرنی کی کوششیں شروع کر دی تھیں پھر کچھ اور گروں کا ذکر کرتے کرتے رک گئے۔ مگر میں بھی قیافہ شناس ہوں مجھ پر یہ بھید وا ہوا کہ جب ہماری ڈاکٹر بھابھی شفاخانے(ہسپتال) ہوتی ہیں تو منشا بھائی کارخانے تشریف فرما ہوتے ہیں ۔جب منشا جی کی گھر آمد ہوتی ہے تو بھابی صاحبہ روانہ ہو رہی ہوتی ہیں ۔یہی صورت حال بچوں کی ہوتی ہوگی سکول تو ٹیوشن تو قاری ۔۔۔البتہ آئس کریم کے لیے انہیں طوعاً و کرہاً وقت نکالنا پڑتا ہے۔
    ایک دن کہنے لگے کہ میں نے کتابوں سے زیادہ اسفار سے سیکھا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ تحقیق و تلاش کے لیے انہوں نے تارڑ صاحب سے کم سفر نہیں کیے ہوں گے۔ بھانت بھانت اور نوع بہ نوع کی مخلوق سے براہ راست تجربات کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا اور یہی سفر ان کے ادبی کاموں کے لیے وسیلہ ظفر بنے ہیں ۔
    بچپن میں جب انہیں ایک بزرگ ہستی کے پاس لے جایا گیا تو اس بزرگ نے کہا بچے تم کیا چاہتے ہو ؟ یہ کہنے لگے مجھے اللہ سے ملنا ہے ،آپ ملوا سکتے ہیں؟ انہوں نے فرط محبت سے سینے سے لگا لیا۔ یہی سوال لیے انہوں نے کوئی درگاہ اور کوئی آستانہ نہیں چھوڑا اور پھر یہی سوال انہیں سید الاولیاء شیخ ناظم الحقانی کی بارگاہ تک لے گیا ۔
    پچھلے دنوں انہیں سماعت کا عارضہ لاحق تھا ہماری بھابی کی طبابت کام آئی نہ دیگر اطباء کی مہارت ۔ ایسے میں سویڈن میں ان کے ایک پیر بھائی نے ان کی دستگیری کی اور روحانی انقباض کا اشارا کرتے ہوئے کچھ وظائف تجویز کیے اور یوں لاینحل مسئلہ حل۔ خدا کرے انہیں ایسا ایک آدھ اور پیر بھائی بھی میسر آجائے تو ان کی امراض چشم سے بھی جان خلاصی ہو۔
    منشا خالص صوفی مشرب نوجوان ہے مگر وہ ہر مسلک کے علماء سے اکتساب فیض کرتا رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر مسلک کے لوگوں میں یکساں مقبول و محبوب ہے۔ایک مرتبہ گویا ہوئے کہ رحیق المختوم کا آخری باب وفات رسول پڑھ کر ان کی کیفیت کئی روز مضطرب رہی ۔ یہ تو ذکر رسول تھا اس پر تو مسلمان کا سینہ کیتلی کے پانی کی طرح ابلنے لگتا ہے وہ تو اپنی کتاب ” ہنود میانوالی ” کا ذکر کرتے ہوئے تقسیم ہند میں جانوں کے ضیاع پر اشک بار ہوجاتے ہیں ۔ اور چاچا روشن لعل چکڑ سے کئی کئی گھنٹے دل دوز تذکار سنتے رہتے ہیں۔
    ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ بایزید بسطامی اور اپنے شیخ ناظم الحقانی سے انہیں والہانہ عشق ہے ۔یہی کیفیت مجھے اس وقت بھی محسوس ہوتی ہے جب وہ اپنے استاذ گرامی عارف نوشاہی اور پروفیسر سلیم احسن کا ذکر کرتے ہیں۔
    نومولود اولاد ذکور کی وفات کا صدمہ ماں باپ کو توڑ کر رکھ دیتا ہے مگر جن پر نظرِ کرم ہو وہ راضی بہ رضا انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کر زندگی میں آگے بڑھ جاتے ہیں ۔زندگی ایسے ہی لوگوں کے تعاقب میں رہتی ہے جو موت کو اختتام زندگی نہیں سمجھتے ۔منشا کا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہوتا ہے جو ہر آزمائش پر چشمہ اتار کر صاف کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔
    کوئی صاحب کہہ رہے تھے کہ منشا جس رفتار سے لکھ رہا ہے اس نے ہمارے لیے کچھ نہیں چھوڑنا۔اس پہ مجھے ولی اللہی گھرانہ یاد آگیا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ انہوں نے مذہب پر لکھنے کے لیے کچھ چھوڑا ہی نہیں مگر پھر بھی ڈاکٹر طاہر القادری کے خانوادے نے پندرہ سو کتب لکھ ڈالیں ۔ بھائی کام بہت ہے ہم کرنے والے بنیں تو؟
    منشا کا دولت کدہ اور لائبریری میرے لیے ہر وقت کھلے ہیں مگر دو شرطوں پر۔ اول ان کی کڑک چائے بہرطور پینی پڑتی اور دوسرا ہر ملاقات تک ان کی کوئی نہ کوئی کتاب چھپ چکی ہوتی اور وہ وصول کرنی پڑتی۔ چائے کا تو کوئی مسئلہ نہیں کہ میں ٹی چر( ٹیچر) ہوں مگر دوسری شرط بہت بھاری ہے کہ ان کی ہر نئی کتاب میرا منہ چڑھا رہی ہوتی کہ نکمے تم بھی کچھ کر لو ۔منشا تم سلامت رہو اور ہمارا منہ چڑھاتے رہو ۔

    ۔

  • تحقیق کی دنیا کا روشن نام

    تحقیق کی دنیا کا روشن نام

    تحقیق کی دنیا کا روشن نام


    از: ڈاکٹر صائمہ خان
    موجودہ معاشرہ جہاں ادب و کتاب سے بہ تدریج دور ہوتا جا رہا ہے وہیں کچھ ایسے باصلاحیت اور علم دوست انسان بھی موجود ہیں جن کی وابستگی اس زوال پذیر روایت کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ یہ امید کی کرن ہیں کہ مستقبل میں یہی افراد علم و ادب کی شمع کو روشن رکھنے کا فریضہ خلوص اور ذمہ داری کے ساتھ سرانجام دیتے رہیں گے۔ انہی روشن ناموں میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا ہے جو اب تحقیق و ادب کی دنیا میں ایک معتبر حوالہ بن چکے ہیں۔
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار آزاد کشمیر شعبۂ تعلیمِ کالجز میں بہ طور لیکچرر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے اپنی اعلا تعلیم نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز، اسلام آباد سے حاصل کی، جہاں سے ایم۔اے اور ایم۔فل کے بعد انھوں نے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان کا تحقیقی موضوع “اردو میں املا اور تلفظ کے مباحث: لسانی محققین کا تنقیدی و تقابلی مطالعہ” تھا۔یہ مقالہ اردو لسانیات کے ایک نہایت اہم اور بنیادی پہلو پر ایک وقیع اضافہ ہے۔
    علمی و ادبی خدمات کے میدان میں ڈاکٹر فگار نہایت متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ گورنمنٹ کالج میرپورہ ، نیلم کے ادبی مجلے “بساط” کے مدیرِ اعلا اور گرین ایرا ہائی اسکول مظفرآباد کے مجلے “کاوش” کے اعزازی مدیرِ اعلا کی ذمہ داریاں بھی احسن طریقے سے نبھا چکے ہیں۔ علاوہ ازیں گورنمنٹ بوائز انٹر کالج ٹھیریاں مظفرآباد کے رسالے فن تراش کی ادارت بھی انہی کی ذمے داری ہے۔ضلع نیلم کی تاریخ کا پہلا کالج میگزین”بساط” ان ہی کی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے جو ان کی ادبی بصیرت کا روشن ثبوت ہے۔
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق ادب کے اس قبیلے سے ہے جس کے لیے اردو زبان محض ایک ذریعۂ اظہار نہیں بلکہ ایک طرزِ حیات ہے۔ انھوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ کو اپنا نصب العین بنا رکھا ہےاور یہی وجہ ہے کہ ملک کے نام ور ادیب اور شعرا بھی ان کی کاوشوں کے معترف ہیں۔ اگر انھیں اردو کا سچا عاشق کہا جائے تو یہ ہرگز مبالغہ نہ ہوگا۔ وہ علم و ادب کا ایسا دریا ہیں جو تشنگانِ علم کو سیراب کر رہا ہے۔
    اگرچہ ڈاکٹر فگار بہ یک وقت شاعر، ادیب، کالم نگار، نقاد اور محقق ہیں مگر ان کی اصل پہچان ایک محقق کی حیثیت سے قائم ہوئی ہے۔ وہ تحقیق میں غیر معمولی احتیاط اور دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی بھی لفظ یا شعر کی تصدیق کے لیے مختلف مآخذ تک رسائی حاصل کرنا، ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لینا اور مستند نتائج تک پہنچنا ان کا خاصہ ہے۔ اگر کوئی مشتبہ شعر یا متن ان کی نظر سے گزر جائے تو وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہوتے جب تک اس کی حقیقت تک نہ پہنچ جائیں خواہ اس کے لیے انھیں طویل مسافت ہی کیوں نہ طے کرنی پڑے۔

    تحقیق کی دنیا کا روشن نام


    ان کی یہی تحقیق پسندی اور ادب دوستی انھیں اہلِ علم کے حلقوں میں ممتاز بناتی ہے۔سن کی تحقیقی خدمات پر پشاور یونی ورسٹی سے تحقیقی مقالہ "فرہاد احمد فگار بہ طور محقق” کے عنوان سے لکھا جا چکا ہے۔ انھوں نے بڑے نام ور ادبا اور شعرا سے فیض حاصل کیا اور اپنی علمی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو زبان کی اصلاح اور دفاع کا جذبہ بھی ہےجو ان کے تحقیقی موضوع سے بہ خوبی ظاہر ہوتا ہے۔
    تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر فگار ایک عمدہ شاعر بھی ہیں۔ ان کی شاعری میں فکری گہرائی، سماجی شعور اور جذباتی سچائی نمایاں ہے۔ وہ ہر حال میں شعر کہنے کا ذوق رکھتے ہیں۔ شہدائے اسلام کے حوالے سے ان کا یہ شعر خاص طور پر مقبول ہے:
    شمعِ اسلام جس سے فروزاں ہوئی
    وہ لہو مصطفیٰ کے گھرانے کا ہے
    اسی طرح معاشرتی ناہمواریوں پر ان کی تنقیدی نظر بھی قابلِ داد ہے:
    مزدوروں کے نام پہ اب کے بھی
    کچھ لوگوں نے صرف سیاست کی
    اگرچہ ان کا شعری سفر ابھی جاری ہے، تاہم اس میں روشن امکانات واضح طور پر دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف علمی و ادبی حلقوں میں کیا جا رہا ہے۔
    تحقیق ایک بحرِ بے کراں ہے، جس میں اتر کر اس کی گہرائی تک پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ایک سچا محقق وہی ہے جو اس سمندر کی تِہ تک جا کر نایاب موتیوں کو تلاش کرے اور انھیں اہلِ ادب کے سامنے پیش کرے۔ ڈاکٹر فرہاد احمد فگار اس کٹھن سفر کو جس عزم، محنت اور خلوص سے طے کر رہے ہیں وہ قابلِ تحسین ہے۔
    ان کی شائع شدہ تصانیف “احمد عطا اللہ کی غزل گوئی” اور “بزمِ فگار” ان کی تحقیقی کاوشوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جب کہ ڈاکٹر افتخار مغل کی کتاب “آزاد کشمیر میں اردو شاعری” کو مرتب اور شائع کروانا بھی ان کا اہم کارنامہ ہے۔ ان کی شاعری میں تحقیق کا رنگ ملاحظہ ہو:
    تحقیق کس جگہ ہوئی اور کس جگہ نہیں
    اس باب میں بھی تھوڑی تحقیق ہو نہ جائے
    اسی طرح بیٹیوں سے محبت اور گھریلو فضا کی خوب صورت ترجمانی ان کے اس شعر میں جھلکتی ہے:
    اداسیوں سے اٹے ہوں گے سب در و دیوار
    جو آنگنوں میں ہمارے نہ بیٹیاں بولیں
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ایک ایسے تخلیق کار ہیں جو اپنی دھن میں مگن رہتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں عجز، انکساری اور سادگی نمایاں ہے، جو ان کے علمی وقار کو مزید جِلا بخشتی ہے۔
    بلاشبہ ڈاکٹر فرہاد احمد فگار تحقیق کی دنیا کا ایک روشن نام ہیں اور اردو زبان کی بقا و ترقی کی ایک مضبوط امید بھی۔

  • اک باب محبت کا

    اک باب محبت کا

    ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی محبتیں واقعی ایسی ہیں کہ کم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ بعض لوگ اپنی علمی عظمت سے پہچانے جاتے ہیں، بعض اپنی تحریروں اور تصنیفات سےاور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو اپنے شاگردوں کے دلوں میں محبت، شفقت اور خلوص کے چراغ جلا کر ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب ادبی دنیا میں جتنے باوقار ہونے کے ساتھ ایسے استاذ ہیں جن کے لیے شاگردی محض ایک تعلیمی رشتہ نہیں بلکہ ایک روحانی نسبت ہے۔

    چار ستمبر 2025ء کا دن میری زندگی کے ان یادگار دنوں میں شامل ہے جن کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ اس روز نمل کے شعبۂ اردو میں میرے پی ایچ ڈی مقالے”اردو املا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی و تقابلی مطالعہ” کا دفاع تھا۔ برسوں کی محنت ، کتابوں میں گم ہو جانے کے لمحے اور استاد کی باریک بین نظر یہ سب اس ایک ساعت میں سمٹ آئے تھے۔ جب کامیاب دفاع کی خبر سنائی گئی تو گویا دل کے اندر ایک بوجھ اتر گیا۔ میں نے اپنے استادِ گرامی کی آنکھوں میں مسرت کی وہ چمک دیکھی جو کسی باپ کی آنکھوں میں بیٹے کی کامیابی پر نظر آتی ہے۔

    دفاع کے بعد ڈاکٹر شفیق انجم صاحب نے نہایت محبت سے فرمایا:

    "آپ فوراً گھر جائیں اپنے والدین، بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کے ساتھ خوشی منائیں یہ دن ان کا بھی ہے۔”

    ان کے لہجے میں حکم کم اور دعا زیادہ تھی۔ میں اسی لمحے مظفرآباد روانہ ہو گیا۔ سڑکیں آج کچھ زیادہ ہی روشن محسوس ہو رہی تھیں۔ پہاڑوں کی خاموشی میں بھی جیسے مبارک باد کی سرگوشیاں شامل تھیں۔ موبائل فون کی گھنٹی مسلسل بجتی رہی ایک کے بعد ایک کال اور مبارک باد کا سلسلہ جاری۔گھر پہنچا تو اہلِ خانہ کی آنکھوں میں فخر اور خوشی کی نمی تھی۔ اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ایک شاگرد کی کامیابی کے پیچھے استاد کی محنت اور دعا کے ساتھ ساتھ خاندان کی قربانیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔

    اک باب محبت کا


ڈاکٹر فرہاد احمد فگار اپنے استاد گرامی ڈاکٹر شفیق انجم صاحب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری وصول کرتے ہوئے
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار اپنے استاد گرامی ڈاکٹر شفیق انجم صاحب سے پی ایچ ڈی کی ڈگری وصول کرتے ہوئے

    وقت گزرتا رہا۔ انیس نومبر کو نوٹیفکیشن موصول ہوا۔ اب اگلا مرحلہ ڈگری کے حصول کے لیے باقاعدہ درخواست دینا تھا۔ چوبیس دسمبر کو میں دوبارہ نمل کا قصد کیے ہوئے تھا۔ سردیوں کی صبح تھی، فضا میں کہر کا ہلکا سا پردہ اور دل میں نئی منزل کی امید۔

    شعبۂ اردو کے کوآرڈینیٹر، ڈاکٹر محمد اعظم صاحب نے حسبِ معمول شفقت اور خلوص سے میرا استقبال کیا۔ دفتر کی رسمی کارروائیاں، کاغذات کی جانچ، دست خط، تصدیقات یہ سب مراحل اگرچہ بہ ظاہر خشک اور رسمی ہوتے ہیں مگر جب ساتھ میں خیر خواہی اور تعاون ہو تو یہی مراحل آسان ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر اعظم صاحب نے نہ صرف رہنمائی کی بلکہ ہر قدم پر حوصلہ افزائی بھی کی۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی خصوصی توجہ بھی شامل رہی۔ یوں تمام معاملات یک سو ہوئے اور ڈگری کے لیے درخواست جمع ہو گئی۔

    لیکن زندگی ہمیشہ سیدھی لکیر میں نہیں چلتی۔ میرے اپنے محکمے  کی بعض مہربانیاں بھی اسی دوران میں سامنے آئیں جب میری جگہ ایک ایڈہاک تعیناتی کر کے مجھے سرپلس کر دیا گیا۔ یکم دسمبر سے میری تنخواہ روک دی گئی۔ گویا خوشی کے اس سفر میں ایک معاشی آزمائش بھی شامل کر دی گئی۔ مزید برآں نمل میں تیس ہزار روپے اضافی ادا کرنے پڑے۔ میں نے وہ رقم ادا کی مگر ڈگری کے لیے سات ہزار کی فیس اس وقت میرے لیے بوجھ تھی۔ ایسے میں ڈاکٹر محمد اعظم صاحب نے وہ رقم اپنی گرہ سے ادا کی۔ یہ محض مالی تعاون نہ تھا بلکہ اعتماد اور محبت کا عملی اظہار تھا۔

    استاد گرامی ڈاکٹر شفیق انجم صاحب نے مسلسل پیروی کی۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں نو جنوری کو میری ٹرانسکرپٹ اور ڈگری تیار ہو گئیں۔ بعض لوگ فائلوں کو محض کاغذ سمجھتے ہیں( جیسا کہ ہمارے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ریاض مغل صاحب کا ماننا ہے لوگ پی ایچ ڈی الاونسز کے لیے کرتے ہیں) یہ تو اپنی اپنی سوچ اور ذہنی اپچ کی بات ہے مگر ان کاغذات کے پیچھے برسوں کی ریاضت اور خواب پوشیدہ ہوتے ہیں۔ میں کسی مجبوری کے باعث نمل نہ جا سکاتو سر نے خود میری اسناد وصول کر کے محفوظ کر لیں۔ اس عمل میں جو خلوص تھا وہ لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔

    سات فروری کو ایک کام کے سلسلے میں میرپور جانا ہوا۔ میں وہیں موجود تھا کہ اچانک موبائل پر برقی پیغام نمودار ہوا۔ یہ پیغام ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کا تھا:

    "سلام! میں واپس آ گیا تھا۔ آپ کی ڈگری اور ڈی ایم سی کیسے پہنچاؤں؟ ٹی سی ایس کر دوں؟”

    میں نے پیغام پڑھا تو دل بھر آیا۔ ایک استاد اپنی مصروفیات کے باوجود شاگرد کی ڈگری کی فکر میں تھا۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ میں آپ کے شہر میرپور میں ہوں کل ان شاءاللہ نمل حاضر ہوں گا۔ اتفاق دیکھیے اگلے ہی لمحے ڈاکٹر محمد اعظم صاحب کا پیغام آیا:

    "السلام علیکم ڈاکٹر صاحب، پی سی ڈی ہو گئی کیا؟”

    یہ محض رسمی استفسار نہ تھا بلکہ ایک خیر خواہانہ یاد دہانی تھی۔ میں نے انھیں بھی اطلاع دی کہ میں اسلام آباد آ رہا ہوں اور حاضر ہو جاؤں گا۔

    گیارہ فروری کی رات میرپور سے روانہ ہو کر اسلام آباد پہنچا۔ اگلے روز بارہ فروری، جمعرات کی صبح قریب دس بجے میں نمل پہنچ چکا تھا۔ سردیوں کی دھوپ ہلکی ہلکی پھیل رہی تھی۔ کیمپس کی فضا میں وہی مانوس سنجیدگی اور علمی وقار موجود تھا۔

    ڈاکٹر اعظم صاحب اپنے دفتر میں موجود تھے۔ ان سے ملاقات ہوئی رسمی اور غیر رسمی گفتگو ہوئی۔ وہاں سے میں نے ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کو پیغام بھیجا کہ میں نمل میں ہوں اور کچھ ہی دیر میں حاضر ہوتا ہوں۔ جواب آیا کہ دفتر اب جناح بلاک میں نہیں بلکہ سلام بلاک میں منتقل ہو چکا ہے۔

    ڈاکٹر اعظم صاحب میرے ساتھ چل پڑے اور سلام بلاک میں واقع دفتر دکھایا۔ وہاں استاد محترم ڈاکٹر نعیم مظہر صاحب موجود تھے۔ انھوں نے بتایا کہ شفیق صاحب کلاس میں گئے ہوئے ہیں۔ اس وقفے کو میں نے غنیمت جانا اور اپنے دیگر اساتذہ سے ملاقات کے لیے نکل پڑا۔

    ڈاکٹر رخشندہ مراد صاحبہ سے ملنا گویا علم و وقار کے ایک اور باب سے ملاقات تھی۔ ڈاکٹر فوزیہ اسلم کی شفقت آمیز مسکراہٹ، ڈاکٹر عنبرین تبسم کی سنجیدہ گفتگو اور ڈاکٹر صوبیہ سلیم کی خیر خواہانہ دعائیں یہ سب لمحے میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھے۔ ایم۔اے سے پی۔ایچ۔ڈی تک کے سفر کی یادیں ایک ایک کر کے ذہن میں تازہ ہوتی گئیں۔ ہر استاد نے میرے ذہن کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کی ڈگری کا عکس
    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کی ڈگری کا عکس

    اس کے بعد میں نمل کی مسجد کے سامنے دھوپ میں بیٹھ گیا۔ فروری کی دھوپ میں ایک خاص طرح کی نرمی ہوتی ہے نہ تیز، نہ مدھم۔ میں اسی دھوپ میں بیٹھا اپنے سفر کو یاد کر رہا تھا کہ سر شفیق کی کال آ گئی:

    "آپ نمل کیفے آئیں چائے پیتے ہیں۔”

    میں نے ادب سے کہا، "جی سر۔”

    نمل کیفے میرے لیے اجنبی نہ تھا۔ کئی بار وہاں سر نے اپنے مخصوص انداز میں چائے پلائی تھی۔ میں جانتا تھا وہ کس گوشے میں بیٹھتے ہیں۔ جب کیفے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ سر شفیق انجم صاحب کے ساتھ ڈاکٹر ظفر احمد صاحب بھی موجود ہیں۔ دونوں نے کھڑے ہو کر استقبال کیا۔ اس احترام نے دل کو چھو لیا۔

    گھر کی خیریت پوچھی گئی، مظفرآباد کے حالات دریافت کیے گئے۔ پھر گفتگو کا رخ ادب کی طرف مڑ گیا۔ نئی کتابوں، تحقیقی رجحانات اور معاصر ادبی منظرنامے پر بات ہوئی۔ چائے آ چکی تھی۔ میں چائے کا زیادہ شوقین نہیں مگر اس روز وہ چائے میرے لیے محض مشروب نہ تھی بلکہ محبت کا ذائقہ رکھتی تھی۔

    کچھ دیر بعد ڈاکٹر ظفر احمد صاحب اپنی کلاس کے لیے رخصت ہو گئے۔ میں اور ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کیفے سے نکل کر پارکنگ کی طرف چل پڑے۔ ان کی گاڑی وہیں کھڑی تھی جس میں میری ڈی۔ایم۔سی اور ڈگری موجود تھی۔

    سر نے گاڑی سے فائل نکالی اور میری طرف بڑھائی۔ اس لمحے دل کی دھڑکن تیز تھی۔ میں نے عرض کیا:

    "سرجی ایک تصویر ہو جائے۔”

    ایک بندے سے درخواست کی گئی اور اس نے اس یادگار لمحے کو محفوظ کر لیا۔ سر نے ڈگری میرے ہاتھ میں دی۔ وہ کاغذ نہیں تھا برسوں کی محنت کا ثمر تھا، استاد کی رہنمائی کا نتیجہ تھا اور والدین کی دعاؤں کا عکس تھا۔

    سر نے ساتھ ہی حکم دیا کہ جلد از جلد اپنے مقالے کو کتابی صورت دیں۔ انھوں نے چند اہم علمی مشورے بھی دیے۔تحقیقی معیار، حوالہ جات کی ترتیب اور اشاعت کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ شاردہ پبلی کیشنز کا ذکر آیا۔ سر نے فرمایا کہ علمی کام کو محض ڈگری تک محدود نہیں رہنا چاہیے اسے معاشرے تک پہنچانا چاہیے۔

    باتوں ہی باتوں میں انھوں نے وعدہ کیا کہ عید کے بعد بچوں کو لے کر مظفرآباد آئیں گے۔ یہ وعدہ سن کر دل میں خوشی کی ایک اور لہر دوڑ گئی۔ استاد کا شاگرد کے شہر آنا محض ملاقات نہیں بلکہ نسبت کی توثیق ہوتا ہے۔

    میں مزید دیر تک اس محبت کو سمیٹتا رہتا مگر برادرِ نسبتی اویس قریشی کال نے یاد دلایا کہ مجھے واپس مظفرآباد جانا ہے۔ سر نے فرمایا:

    "آپ نے کہاں جانا ہے؟ میں چھوڑ آتا ہوں۔”

    میں نے شکریہ ادا کیا اور عرض کیا کہ بھائی  گاڑی لے کر آ رہا ہے۔ سر نے دعاؤں کے حصار میں رخصت کیا۔

    اس دن جب میں نمل سے واپس لوٹا تو میرے ہاتھ میں ڈگری تھی مگر دل میں جو سرمایہ تھا وہ کہیں زیادہ قیمتی تھا۔استاد کی محبت، شفقت، رہنمائی اور خلوص۔

    زندگی کے سفر میں ڈگریاں اور اسناد اہم ہوتی ہیں مگر اصل دولت وہ تعلقات ہوتے ہیں جو علم کے رشتے سے بندھتے ہیں۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب  جیسے اساتذہ کی موجودگی میں شاگرد خود کو تنہا محسوس نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کے پیچھے دعا دینے والی ہستیاں موجود ہیں۔

    آج جب میں اپنی ڈگری کو دیکھتا ہوں تو اس پر صرف اپنا نام نہیں پڑھتا بلکہ اس میں استاد کی محنت، ادارے کا وقار اور خاندان کی دعائیں جھلکتی نظر آتی ہیں۔ ڈاکٹر شفیق انجم صاحب کی محبتیں واقعی کم نہیں ہوتیں وہ وقت کے ساتھ بڑھتی جاتی ہیں اور شاگرد کے دل میں ہمیشہ کے لیے گھر کر لیتی ہیں۔

  • آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ

    آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ


    کسی بھی معاشرے کی فکری اور تہذیبی شناخت اس کے اہلِ قلم اور اہلِ علم سے تشکیل پاتی ہے۔ یہ وہ شخصیات ہوتی ہیں جو خاموشی سے نسلوں کی تربیت کرتی ہیں،زبان کو وقار بخشتی ہیں اور ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ شعور اور ذمہ داری کا عمل بناتی ہیں۔ استاذاور شاگرد کا رشتہ بھی اسی تہذیبی تسلسل کی ایک مضبوط کڑی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ محض تعلیمی تعلق نہیں رہتا بلکہ اخلاقی اور روحانی نسبت میں ڈھل جاتا ہے۔ آزاد کشمیر کی ادبی روایت میں ایسی ہی نسبتوں نے ادب کو دوام اور گہرائی عطا کی ہے۔
    پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے علم و ادب کو پوری دیانت اور وقار کے ساتھ برتا۔ آزاد کشمیر کے شعری ادب میں ان کا مقام نمایاں اور مسلم ہے۔ ان کا تخلیقی اسلوب سادگی، معنویت اور داخلی کرب کا حسین امتزاج ہے۔ ان کا شعری مجموعہ "کہے بغیر” محض اشعار کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک حساس ذہن کی فکری واردات ہے جہاں خاموشیوں میں بھی معنی بولتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو کی تدریس کے میدان میں ان کی خدمات نہایت اہم اور دیرپا ہیں۔ انھوں نے درس و تدریس کو رسمی فریضہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ مشن کے طور پر انجام دیا۔
    میری ذاتی زندگی میں پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا کردار ایک استاذ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں انھیں اپنا محسن اور مربی مانتا ہوں۔ میں نے ان سے نصابی اسباق نہیں سیکھے مگر ادب سے محبت، لفظ کی حرمت، تحقیق کی دیانت اور شاگرد نوازی کا سلیقہ سیکھا۔ ایک اچھا استاذوہی ہوتا ہے جو شاگرد کے اندر چھپی صلاحیت کو پہچان لے اور اسے اعتماد عطا کرے پروفیسر صاحب اس وصف کا عملی نمونہ ہیں۔

    آزاد کشمیر کا ادبی اثاثہ


    مجھے آج بھی یکم اکتوبر 2019ء کا وہ دن پوری شدت سے یاد ہے جب پبلک سروس کمیشن میں لیکچرر منتخب ہونے پر سب سے پہلے پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب اپنی اہلیہ کے ہم راہ مٹھائی اور ایک خوب صورت تحفہ لے کر میرے غریب خانےپر تشریف لائے۔ اس موقعےپر ان کے کہے ہوئے الفاظ میرے لیے ہمیشہ کا سرمایہ بن گئے:
    "مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ آج میں نے ایک مرتبہ پھر پی ایس سی کا امتحان پاس کر لیا ہے۔”
    یہ جملہ دراصل ایک استاذ اور دوست کی اس بے لوث خوشی کا اظہار تھا جو دوستوں کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔
    ایسی ہی شخصیات کسی خطے کا اصل سرمایہ ہوتی ہیں۔ آزاد کشمیر کی ادبی شناخت، اس کی فکری روایت اور اس کی علمی آبرو ایسے ہی اساتذہ اور اہلِ قلم کے دم سے قائم ہے۔ پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کی علمی، تدریسی اور تخلیقی خدمات اس حقیقت کی روشن دلیل ہیں کہ سنجیدہ ادب آج بھی زندہ ہے اور اثر رکھتا ہے۔
    آج مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی اور سرشاری ہوئی کہ پروفیسر اعجاز نعمانی صاحب کا ایم فل کی سندی تحقیق کے لیے تحریر کردہ مقالہ ایک معتبر اور بڑے ادارے مجلسِ ترقیٔ ادب کے زیرِ اہتمام شائع ہو چکا ہے۔ جس وقت یہ مقالہ علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی میں جمع کروایا گیا تھااسی وقت اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ موضوع اور معیار دونوں حوالوں سے ایک غیر معمولی اور جان دار علمی کام ہے۔ اس کتاب کی اشاعت نہ صرف پروفیسر صاحب کے علمی مقام کا اعتراف ہے بلکہ اردو کے ادبی اثاثے میں ایک قیمتی اضافہ بھی ہے۔
    اللہ کریم میرے اس محسن کو سلامت رکھے، ان کے علم و قلم کو دوام عطا فرمائے اور وہ اسی طرح ادب کی بے لوث خدمت کرتے رہیں۔ ہم جیسے شاگردوں کے لیے یہ موقع محض مبارک باد کا نہیں بلکہ فخر، شکر اور عقیدت کا لمحہ ہے۔

  • علم و استقامت کی مورت: ڈاکٹر صائمہ خان

    علم و استقامت کی مورت: ڈاکٹر صائمہ خان

    اردو ادب کی علمی روایت میں بعض شخصیات محض تعارف، عہدوں اور اسناد کی فہرست سے عبارت نہیں ہوتیں۔ ان کی شناخت خاموش ریاضت اور اخلاقی وقار سے تشکیل پاتی ہے۔ ایسی ہی شخصیات میں ڈاکٹر صائمہ خان کا نام نہایت احترام اور وقار کے ساتھ لیا جا سکتا ہے۔ ان کا علمی و تحقیقی سفر اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ علم اگر خلوصِ نیت اور صبرِ مسلسل کے ساتھ حاصل کیا جائے تو وہ محض ذاتی کامیابی کا وسیلہ نہیں بنتا بلکہ ایک پورے عہد کی فکری تشکیل میں حصہ دار ہو جاتا ہے۔
    ڈاکٹر صائمہ خان نے اردو زبان و ادب کے میدان میں جس استقلال اور سنجیدگی کے ساتھ قدم رکھا وہ آج کی تیز رفتار، شہرت پسند اور سطحی علمی فضا میں ایک خوش گوار استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے نہ تو علم کو محض ملازمت کی سیڑھی بنایا، نہ تحقیق کو محض ڈگری کے حصول کا ذریعہ سمجھا۔وہ ہر مرحلے پر اسے ایک فکری امانت اور اخلاقی ذمے داری تصور کرتی ہیں۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کا تعلق آزاد جموں و کشمیر کے علمی و تہذیبی مرکز مظفرآباد سے ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم مظفرآباد کے پلیٹ ہائی اسکول سے مکمل ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان کی طبیعت میں مطالعے کا شوق اور زبان و بیان سے فطری انس نمایاں ہونے لگا تھا۔ بعد ازاں انھوں نے ایف۔اے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج، مظفرآباد سے مکمل کیاجہاں ان کی فکری سَمت واضح طور پر اردو زبان و ادب کی جانب متعین ہو گئی۔
    اعلا تعلیم کے مرحلے میں انھوں نے بی۔اے اور ایم۔اے اردو آزاد جموں و کشمیر یونی ورسٹی سے مکمل کیا۔ ایم۔اے کے دوران میں ان کی علمی صلاحیت اور تحقیقی رجحان نہ صرف اساتذہ کی توجہ کا مرکز بنا بلکہ ہم عصروں میں بھی ان کی شناخت ایک سنجیدہ طالبہ کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کے اندر محقق کی تشکیل کا عمل شروع ہوا۔
    طویل انتظار کے بعد ایم فل اردو کے لیے ڈاکٹر صائمہ خان نے ہزارہ یونی ورسٹی،مانسہرہ کا انتخاب کیا۔ یہاں انھوں نے تحقیقی اصولوں اور تنقیدی توازن کے عملی تقاضوں کو قریب سے سمجھا۔ ان کا تحقیقی موضوع
    “افتخار مغل بحیثیت شاعر”
    انتخاب کے اعتبار سے نہایت معنی خیز اور فکری سطح پر خاصا پیچیدہ تھا۔
    افتخار مغل کی شاعری جدید اردو شاعری میں فکری تہ داری، علامتی نظام اور عصری شعور کی نمائندہ ہے۔ اس شاعری کا تحقیقی مطالعہ محض اشعار کی توضیح یا موضوعاتی فہرست سازی کا تقاضا نہیں کرتا بلکہ اس کے لیے شعری جمالیات اور فکری پس منظر کا ادراک ناگزیر ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس تحقیقی ذمے داری کو نہایت سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ نبھایا۔
    2015ء میں وہ اپنے ایم فل کے تحقیقی مرحلے میں تھیں اور موضوع کی نزاکت کے پیشِ نظر علمی معاونت کی تلاش میں اہلِ علم سے رابطہ کرتی رہیں۔ مسلسل مطالعے، مواد کے انتخاب، تجزیے اور تنقیدی استدلال کے بعد یہ مقالہ پایۂ تکمیل کو پہنچا اور 2017ء میں انھوں نے ہزارہ یونی ورسٹی سے ایم فل اردو کی ڈگری کامیابی سے حاصل کی۔ یہ مقالہ اس وقت اشاعت کے مراحل میں ہے اور بلاشبہ شائع ہونے کے بعد افتخار مغل کی شاعری کے مطالعے میں ایک مستند حوالہ بنے گا۔

    علم و استقامت کی مورت: ڈاکٹر صائمہ خان


    تحقیق کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر صائمہ خان کا تدریسی سفر بھی نہایت منظم اور بامقصد رہا ہے۔ وہ 2010ء سے آزاد کشمیر کے شعبۂ ہائر ایجوکیشن میں بہ طور لیکچرر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس طویل عرصے میں انھوں نے باغ اور چکار کے کالجز میں تدریسی فرائض سرانجام دیے اور ہر جگہ اپنی شناخت ایک محنتی، ذمے دار اور طلبہ نواز استاذ کے طور پر قائم کی۔
    2019ء میں انھوں نے پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سے اسسٹنٹ پروفیسر اردو کے لیے کامیابی حاصل کی اور یوں وہ اس اہم منصب پر فائز ہوئیں۔ اس وقت وہ گورنمنٹ گرلز سائنس ڈگری کالج گھنڈی پیراں میں بہ طور اسسٹنٹ پروفیسر اردو خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی تدریس محض نصابی متن کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ وہ طلبہ میں فکری سوال اٹھانے، تنقیدی سوچ اپنانے اور زبان کی تہذیب سیکھنے کا شعور بےدار کرتی ہیں۔
    ایم فل کے بعد پی ایچ ڈی کا مرحلہ کسی بھی محقق کے لیے سب سے زیادہ صبر آزما اور کٹھن ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مرحلے کا آغاز بھی ہزارہ یونی ورسٹی سے کیا۔ ان کا تحقیقی موضوع
    “اعجاز رحمانی کی شاعری میں اسلامی انقلابی شاعری” تھا۔
    یہ موضوع فکری اعتبار سے نہایت حساس اور علمی سطح پر گہری بصیرت کا تقاضا کرتا تھا۔ اسلامی انقلابی شاعری محض جذباتی نعروں یا وقتی سیاسی ردِعمل کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام، تہذیبی شعور اور اخلاقی نصب العین کی حامل روایت ہے۔ اعجاز رحمانی کی شاعری میں اس رجحان کا تحقیقی مطالعہ ایک ہمہ گیر تنقیدی نگاہ کے ساتھ ساتھ مذہبی علم اور ادبی توازن کا متقاضی تھا۔
    ڈاکٹر صائمہ خان نے اس مقالے میں اسلامی فکر، انقلابی شعور، شعری جمالیات اور فکری تسلسل کو نہایت سلیقے اور تحقیق کے ساتھ مربوط کیا۔ یہ تحقیقی کام ڈاکٹر مطاہر شاہ کی زیرِ نگرانی مکمل ہواجن کی علمی رہنمائی اور فکری سرپرستی نے اس مقالے کو مزید استحکام اور وقار عطا کیا۔
    15 جنوری 2026ء کو ہزارہ یونی ورسٹی کے ایک ہال میں انھوں نے اپنے مقالے کا نہایت اعتماد اور علمی استدلال کے ساتھ کامیاب دفاع کیا اور یوں وہ “ڈاکٹر صائمہ خان” کے معزز خطاب سے سرفراز ہوئیں۔ یہ لمحہ نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی کا مظہر تھا بلکہ اردو تحقیق کی روایت میں بھی ایک خوش گوار اضافہ ثابت ہوا۔مقالے کی ممتحن ڈاکٹر فرحت جبین ورک نے ان کے اندازِ تکلم اور اس پر شین قاف کے بہتر ہونے کو خوب سراہا۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شخصیت محض تدریس اور تحقیق تک محدود نہیں بلکہ وہ ادبی و علمی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ کالج سے شائع ہونے والا ادبی رسالہ “سبدِ گل” ان ہی کی ادارت میں شائع ہوا جو ان کی ادبی بصیرت اور تنظیمی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
    اس کے علاوہ مختلف ادبی رسائل اور اخبارات میں ان کے تحقیقی اور تنقیدی مضامین باقاعدگی سے شائع ہوتے رہے ہیں۔ ان تحریروں میں تحقیقی اصولوں کی پاس داری اور اسلوب کی سنجیدگی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ آزاد کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ میں اردو ریویو کمیٹی کا حصہ بھی رہی ہیں جو ان کی علمی اہلیت اور فکری اعتماد کا عملی اعتراف ہے۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کی علمی شناخت کا ایک روشن پہلو ان کی تحقیقی دیانت اور فکری انکساری ہے۔ انھوں نے تحقیق کو کبھی ذاتی مفاد یا رسمی تکمیل کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ ہر مقالے اور ہر مضمون کو ایک اخلاقی ذمے داری سمجھ کر تحریر کیا۔ ان کے نزدیک تحقیق، متن اور محقق کے درمیان ایک مقدس رشتہ ہے جس کی پاس داری لازم ہے۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری ایک جذباتی اور روحانی حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ انھوں نے اس علمی کامیابی کو اپنی والدہ کے نام منسوب کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ جدوجہد ان کی والدہ کی خواہش، دعا اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ ناسازیِ صحت، گھریلو ذمے داریاں، اولاد کی پرورش اور ملازمت کے ساتھ اس قدر وقیع تحقیقی کام انجام دینا آسان نہ تھا مگر ماں کی دعا نے اس سفر کو ممکن بنایا۔
    ڈاکٹر صائمہ خان کا علمی و تحقیقی سفر اس امر کی زندہ مثال ہے کہ اگر علم کو اخلاص اور دیانت کے ساتھ اختیار کیا جائے تو وہ فرد کی ذات سے آگے بڑھ کر اجتماعی فکری ورثے کا حصہ بن جاتا ہے۔ ان کی کاوشیں اردو تحقیق کے افق پر ایک ایسی روشنی ہیں جو دیر تک اہلِ علم کی رہنمائی کرتی رہیں گی۔ بلاشبہ ڈاکٹر صائمہ خان آزاد کشمیر کی اردو دنیا میں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام کی حیثیت رکھتی ہیں۔

  • ڈی سی اٹک راؤ عاطف رضا

    ڈی سی اٹک راؤ عاطف رضا


    کالم نگار:۔ سید حبدار قائم

    اٹک کی سرزمین صدیوں سے تاریخ، تہذیب اور ثقافت کی امین رہی ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ شہر ہمیشہ بہادری، علم دوستی اور روایت سے وابستہ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں اٹک کی شناخت کو ایک نئی جہت ملی ہے اور اس مثبت تبدیلی کے پیچھے ڈپٹی کمشنر اٹک، راؤ عاطف رضا کی بصیرت افروز قیادت نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔
    ادب کسی بھی معاشرے کی فکری بنیاد ہوتا ہے اور اس بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے اکادمی ادبیات کیمبلپور کا قیام ایک تاریخی قدم ہے۔ یہ ادارہ محض ایک عمارت نہیں بلکہ اہلِ قلم، شاعروں، ادیبوں اور علم دوست افراد کے لیے ایک فکری مرکز ہے، جہاں تخلیقی سوچ کو فروغ ملے گا اور نئی نسل ادب سے جڑے گی۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ راؤ عاطف رضا نہ صرف انتظامی صلاحیتوں کے حامل ہیں بلکہ ادب دوستی اور ثقافتی شعور بھی رکھتے ہیں۔
    اسی تسلسل میں شہر میں جم خانہ کی تعمیر اور اس میں ایک بڑی اور جدید لائبریری کا قیام ایک اور قابلِ تحسین منصوبہ ہے۔ یہ لائبریری نوجوانوں کے لیے علم کا خزانہ ثابت ہوگی، جہاں وہ کتاب سے رشتہ جوڑ سکیں گے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں کتاب سے قربت پیدا کرنا ایک چیلنج ہے، اور یہ اقدام اس چیلنج کا عملی جواب ہے۔
    اٹک شہر میں فوڈ اسٹریٹ کا منصوبہ شہری زندگی میں رنگ، رونق اور سہولت کا اضافہ کرے گا۔ یہ نہ صرف مقامی کاروبار کو فروغ دے گا بلکہ شہر کی سماجی زندگی کو بھی متحرک کرے گا۔ سیاحت کے فروغ اور خاندانی تفریح کے لیے فوڈ اسٹریٹ ایک خوش آئند اضافہ ہے، جو اٹک کو جدید شہروں کی صف میں لا کھڑا کرے گا۔
    اس کے ساتھ ساتھ شہر کے نمایاں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ انتظامیہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ کھیل صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں، اور کھلاڑیوں کی سرپرستی دراصل مستقبل میں قومی سطح کے ٹیلنٹ کی آبیاری ہے۔
    راؤ عاطف رضا کی یہ تمام خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر نیت خالص اور وژن واضح ہو تو انتظامی عہدہ عوامی فلاح کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ اٹک آج جس ترقی، تہذیبی شعور اور فکری بیداری کی جانب بڑھ رہا ہے، وہ قابلِ تقلید ہے۔ اہلِ اٹک کو بجا طور پر فخر ہے کہ ان کے شہر کو ایک ایسا منتظم میسر آیا ہے جو اینٹ اور پتھر کے ساتھ ساتھ ذہن و فکر کی تعمیر بھی کر رہا ہے۔
    بلاشبہ، یہ خدمات تاریخ کے روشن صفحات میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔

    ڈی سی اٹک راؤ عاطف رضا

    مزید برآں، اٹک میں شہری نظم و نسق کی بہتری، صفائی ستھرائی، تجاوزات کے خاتمے اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے جو عملی اقدامات کیے گئے ہیں، وہ بھی موجودہ انتظامیہ کی فعال سوچ کا مظہر ہیں۔ ایک شہر کی خوبصورتی صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ منظم ٹریفک، صاف گلیوں، بہتر پارکوں اور محفوظ ماحول سے جڑی ہوتی ہے، اور اس ضمن میں کیے گئے اقدامات اٹک کو ایک مہذب اور رہنے کے قابل شہر بنانے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔
    تعلیم کے شعبے میں بھی اٹک میں ایک مثبت فضا قائم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے ماحول میں بہتری، سرکاری اداروں کی نگرانی اور تعلیمی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی دراصل ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ رہی ہے جہاں باشعور اور ذمہ دار شہری پروان چڑھیں گے۔ علم، ادب اور کھیل یہ تینوں عناصر مل کر ایک متوازن معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں، اور اٹک میں یہ تینوں پہلو یکساں توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
    ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی ایک زندہ قوم کی نشانی ہوتا ہے۔ اٹک جیسے تاریخی شہر میں مقامی ثقافت، زبان، روایات اور تاریخی مقامات کی حفاظت نہایت اہم ہے۔ موجودہ انتظامیہ کی جانب سے ثقافتی سرگرمیوں کی سرپرستی اور ادبی محفلوں کے انعقاد سے یہ امید پیدا ہوتی ہے کہ اٹک کی تہذیبی شناخت محض ماضی کی داستان نہیں رہے گی بلکہ حال اور مستقبل کا حصہ بھی بنے گی۔
    یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد کی فضا قائم ہونا کسی بھی ترقیاتی عمل کی کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ راؤ عاطف رضا کی قیادت میں یہ اعتماد بحال ہوتا دکھائی دیتا ہے، جہاں شہری خود کو فیصلوں کا حصہ محسوس کرتے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ یہی اشتراکِ عمل کسی بھی شہر کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔
    آخر میں یہ کہنا بجا سمجھتا ہوں کہ اٹک آج جس فکری، تہذیبی اور سماجی بیداری کی جانب بڑھ رہا ہے، وہ محض چند منصوبوں کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک جامع وژن کی عکاسی ہے۔ یہ وژن اگر اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو وہ دن دور نہیں جب اٹک نہ صرف پنجاب بلکہ پورے ملک میں ایک مثالی شہر کے طور پر پہچانا جائے گا ایک ایسا شہر جہاں ترقی اور تہذیب، جدیدیت اور روایت، اور نظم و نسق اور انسان دوستی ایک خوبصورت امتزاج کے ساتھ ساتھ جلوہ گر ہوں گے۔

  • ہر چھٹی ایک ہی پتے پر

    ہر چھٹی ایک ہی پتے پر

    ہر چھٹی ایک ہی پتے پر

    مصنفہ:عندلیب بھٹی

    ”سچی محبت”۔۔۔کیا مطلب ؟تو کیا کوئی جھوٹی محبت بھی ہوتی ہے؟۔۔۔

    ”سچا دوست”۔۔۔کوئی جھوٹا بھی دوست  ہے؟

    کچھ روز پہلے سوشل میڈیا پر ایک صاحب فرما رہے تھے،زندگی میں ایسے لوگ ضرور تلاش کریں جو آپ کے دکھ کے لمحات میں آپ کے ساتھ ہوں۔

    اہم یہ ہے کہ جس کو دیکھو ”ایسے لوگ”ہی تلاش کر رہا ہے،نتیجہ; سب کی تلاش جاری ہے،اور کبھی ختم نہیں ہو نے والی۔۔سب غلط کرنے کے بعد کسی صحیح شخص کی امید میں ہیں۔۔مزید برآں سب کو پتا ہے کہ وہ مکمل صحیح اور دوسرا پورا غلط ہے،کیوں؟

    ایک بات ضرور ایسی ہے ،جس پر سب متفق ہیں۔۔اور وہ کیا ہے؟وہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی اپنے مخاطب کو کہتا ہے کہ زمانہ خراب ہے،تو وہ ذوق و شوق سے ”ہاں”کہتا ہے۔

    سوال ۔۔یہاں سوال نہیں،سوالات ہیں۔

    سب کو پتا ہے زمانہ خراب ہے،مگر کہنے اور سننے والا دونوں اُس وقت میں ہی جی رہے ہیں۔کیا وہ زمانے میں شامل نہیں۔۔اور کیوں سب کو پتا ہے کہ دوسرا غلط اور وہ صحیح ہے،جب کہ دوسرے کے اندر بھی ”میں”کے طور پر یہی بات ایک ہی وقت میں چل رہی ہو گی۔

    سب سے اہم طلب اور تمنا کیا ہونی چاہیے؟

    ایک شخص اپنے کمرے میں سبھی کھڑکیوں اور دیواروں پر دلکش منظر رنگوا کر وہیں صبح شام کرتا ہے۔ایک وقت بعد اُسے لگنے لگتا ہے،یہی سچ ہے،اور وہ ایک باغیچے میں زندگی گزرا رہا ہے۔یا اُس کے گردونواح میں پھولوں کی بہتات ہے۔۔

    ایک شخص نے گرمی کے موسم میں بہترین ائیر کنڈشنر لگا رکھا ہے۔اُس کے دن رات وہیں بسر ہوتے ہیں۔اُسے لگنے لگےکہ موسمِ سرما ہے۔

    دونوں اشخاص کو کھڑکی کھولنے کی ضرورت ہے،تا کہ حقیقت سے آگاہی ہو۔ورنہ اچانک بجلی جانے یا کھڑکی کھلنے پر باہر سے آتی گردو غبار صدمے سے دوچار کرے گی۔

    ۔۔یعنی۔۔حقیقت وہ نہیں جو ہر انسان کو دکھائی دیتی ہے۔۔سچائی وہ جو تلاش کی جاتی ہے۔۔۔مگر کیسے۔۔؟

    کھوج سے۔۔اور کھوج کا پہلا زینہ شعور کی بلندی ہے۔ورنہ اپنے تئیں سب عاقل۔۔اِس لیے آج کسی کو کسی علم والے کی تلاش نہیں،جستجو بھی نہیں،اور ضرورت تو ہرگز نہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔اہم یہ ہے کہ وہ عمل جو ”تو”سے ”میں”کی طرف جاتا ہے ،وہ ”میں”سے تو کی طرف جانا چاہیے۔

    ”جی ہاں”تناظر،پس منظر،وابستگیاں واضح ہونی ضروری ہیں۔اگراچھا پرفیوم لگانا ہے تو اِس لیے لگائیں،کہ آپ کو پسند ہے،اِس لیے نہیں کہ محفل میں سب رُک جائیں،اور مڑ کے دیکھیں،نیز اُس خوشبو کو اپنی پسند کہیں،نا کہ پوری دنیا کے لیے اُسے بہترین مان لیں۔

    جو رنگ آپ کو پسند ہے،وہ اِس لیے پہنیں کہ آپ کو اچھا لگتا ہے۔نا کہ سراہے جانے کے لیے۔۔اور اس کو سب سے اچھا رنگ نا کہیں،بلکہ اپنی پسند مانیں۔

    حقیقت وہ نہیں جو ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ہمیں اتنا نظر آ رہا ہے،جتنی ہماری نگاہ کی رسائی ہے۔ایک انسان مکمل اندھیرے میں دو قدم ہی دیکھ سکتا ہے،جب کہ چیل اور الّو بہت دور تک دیکھ سکتے ہیں،گویا آپ کااور اُن کا اندھیرا ایک ہو کر بھی ایک سا نہیں۔آپ کہیں گے،آگے دکھائی نہیں دے رہا،جب کہ حقیت یہ ہے کہ آپ نہیں دیکھ پا رہے۔جب کہ کوئی اور آگے کسی کو کھڑے دیکھ سکتا ہے۔جب کہ آپ کے لیے کچھ دور کوئی نہیں۔

    ایسے میں اجالے کی ضرورت ہوتی ہے،بہ ظاہر دیکھنے کے لیے اور سمجھنے کے لیے ذہنی روشنی کی۔۔۔

    اہم فاعل ہے،مفعول نہیں۔۔۔مگر کسی کو کچھ غلط لگے تو وہ اپنی سمجھ کو نہیں بڑھاتا،بلکہ دوسرے کوصحیح نا مان کر اپنے لیے نقصان کا سامان کرتا ہے۔۔کیسے؟

    اگر کسی کا کوئی عمل آپ کو مناسب نہیں لگا،یا سمجھ نہیں آیا۔(یہاں آفاقی اخلاقیات کی نہیں ذاتی تعلق کی بات ہے)۔۔تو اُسے غلط مان کر اُس کے اُس نفع سے محروم ہو جاتے ہیں،جو آگے چل کر آپ کے حصّے آنے والا تھا،یوں کسی کو اِس بنا پر اچھا مان کر اندھا دُھند تقلید کرنی شروع کر دی کہ آپ کو ٹھیک لگا،جب کہ وہاں ایسا کچھ نہیں تھا،سو آگے چل کے یہی۔۔”نہیں”آپ کے نقصان کا باعث بنتا ہے۔۔جس پر کہا جاتا ہے ۔۔۔بھئی وہ تو بدل گیا،پہلے کتنا اچھاتھا۔”جب کہ وہ نہیں بدلتا۔بس اُس کی حقیقتیں آپ کے سامنے ظاہر ہوتی چلی گئیں۔

    سو۔۔پہلی بات تو یہ کہ پسند نا پسند معیار کیسے ہوسکتی ہے۔جو پسند ہے وہ سارا صحیح،اور جو ناپسند ہے،وہ پوراغلط۔۔کیسے۔۔۔؟

    کھوج۔۔سب سے اہم بات ہے۔اِس کے لیے کچھ اصول اور قوانین ہیں،جن سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔۔(یہاں انھیں تحریر کرنا طوالت کا باعث بنے گا۔)

    تناظر۔۔ہاں وہی اہم ہے۔تعلقات کے مابین واسطے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔۔اگر کوئی کولیگ ہے تو اُسے اُسی نظریے سے دیکھ کر پرکھ رکھنی ہوگی۔۔اور وہ بھی اُس پرکھ سے دائیں بائیں نکلے گا یا گی۔۔توغلطی پکڑ میں آ جائے گی۔

    ہر چھٹی ایک ہی پتے پر

    دوست ہے،تو دوستی کے اپنے معیار اور اصول ہیں۔۔اُن کا دائرہ کار رسمی،غیر رسمی،خاندان۔۔میں دیکھ کر سمجھ کر اُس بیچ ہی راہ لینی چاہیے۔

    محبت۔۔محبت کے ایسے ضوابط ہیں،دائرے ہیں۔اُسے اُن سے باہر نہیں رکھ سکتے۔۔۔

    ہر ایک تعلق اپنی الگ پہچان اور تعارف رکھتا ہے۔ماں،باپ،بہن،بھائی،پھر خاندان،گھر سے باہر،راہ گیر سے لے کر دفتراور ذاتی تعلق،اور اُن کے درمیان بھی سب کی الگ نوعیّت ہے۔

    ہرجگہ کے اپنے قاعدے اور اصول ہیں۔سب سے پہلے جگہ کا تعارف۔۔اِس کے بعد وہاں کے لوگوں کی حیثیت۔

    یہاں یہ سوال ہو سکتا ہے کہ کیا کولیگ سے محبت نہیں ہو سکتی؟

    ہاں!ہو سکتی ہے،مگر ہر گولیگ سے نہیں۔۔اور محبت ہو جانے میں جو وقت درکار ہو گا،تب تک وہ ایک ساتھی ہے۔۔

    اِسی طرح محبت اور دوستی ایک نہیں ،عشق کچھ اور ہے۔جہاں بھی ہو۔ٹھیک ہے،مگر ہر جگہ ہر کسی سے نہیں ہو تا۔۔اور اُس سے پہلے۔۔یہ سبھی جذبات سچے ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔جھوٹ تو تب شروع ہوا جب ہر تعلق میں یہ نام استعمال ہونے لگے۔۔کیونکہ سب سے اہم ایک انسان کی زندگی میں یہی ہیں۔۔۔اِس لیے ہر لفافے پر یہ نام تحریر ہونے لگے،اندر مواد کچھ اور بکنے لگا۔۔تو پھر کہنا پڑا،”سچی محبت”سچی دوستی”۔۔۔

    چہ جائیکہ ۔۔۔یہ ضروری ہے کہ آپ کو کسی سے لگن ہو گئی تو اب اُس پر لازم ٹھہرا کہ وہ وہی سوچے جو آپ چاہتے ہیں۔محبت کے اصولوں میں تو یوں بھی دوسرے کی خوشی اہم ہوتی ہے۔

    یوں سبھی اندھا دھند اپنی اپنی حقیقتیں لیے بھاگے چلے جا رہے ہیں،کہاں؟یہ کسی کو بھی نہیں پتا۔سب کو سچی محبت چاہیے،سب کوسچا دوست چاہیے۔

    کوئی دو لمحے رُک کے نہیں سوچتا ،یا پوچھتا ۔۔خود سے۔۔ کہ کہیں مجھے کچھ جاننے اور سمجھنے یا درست ہونے کی ضرورت تو نہیں۔۔۔

    پتا۔۔۔۔ہر شخص۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔ یوں،صدقے جاؤں ہر چھٹی بس ایک ہی پتے پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    .

  • ہمارا مستقبل

    ہمارا مستقبل

    ہمارا مستقبل

    Dubai Naama

    انسان کی انفرادی زندگی ہو یا معاشرے اور اقوام کے حالات و واقعات ہوں، اگر انہیں ماضی کی زبان میں لکھا اور پڑھا جائے تو اسے "علم تاریخ” کہتے ہیں۔ تاریخ کا علم ماضی کے حالات و واقعات، تعلقات، کیفیات، جغرافیے اور میسر امکانات وغیرہ کا ایسا انمٹ اور غیر متبدل علمی احاطہ ہے کہ جسے ماضی میں واپس جا کر تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اگر انسان کو قدرت حاصل ہو کہ وہ واپس ماضی میں سفر کر سکے جیسا کہ آجکل "ٹائم ٹریول” (Time Travel) کا تصور ہے تو تب بھی ماضی کے واقعات کو تبدیل کرنا ناممکن ہے۔

    نوع انسان کا گزرے ہوئے ماضی کے وقت پر بس اتنا سا ارادہ و اختیار ہے کہ وہ ماضی کے سارے کرداروں اور حالات و واقعات سے سبق تو سیکھ سکتا ہے مگر انہیں نئے سرے سے رونما نہیں کر سکتا ہے۔ وقت کو واپس لانے یا "ریورس” کرنے کا خواب دیکھنا افراد اور اقوام میں پچھتاوے اور بے عملی کی بیکار عادات و اطوار پیدا کرتا ہے۔ یہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو افراد، معاشرے اور اقوام ماضی میں کھوئے رہتے ہیں یا اپنے آباو’ اجداد پر بے جا فخر کرتے ہیں یا ان کے بارے میں تفاخر میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو ان کا جہاں حال زیادہ قابل فخر نہیں رہتا ہے وہاں ان کا مستقبل بھی مخدوش ہو جاتا ہے۔

    یوں تاریخ کا علم زمینی حقائق کے اعتبار سے ایسا ایک سچا آئینہ ہے جس میں اہلِ بصیرت مستقبل کی تصویر بآسانی دیکھ سکتے ہیں، مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے ایک ایسا نصابِ تعلیم ترتیب دیا ہے کہ جس میں تاریخ اور جغرافیئے کی بہت کم گنجائش ہے اور اگر ہے تو ہمارا تدریسی نظام اتنا کج رو ہے کہ ہم نے تاریخ سے ذرا برابر بھی سبق نہیں سیکھا ہے۔ اِس کا نتیجہ بلآخر یہ نکلا ہے کہ ہم قیام پاکستان سے اب تک اندھیروں میں زندگی کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں حتی کہ ہماری قوم نے انفرادی اور اجتماعی سطح پر سقوطِ ڈھاکہ جیسے المناک حادثے سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا ہے اور ہم بحیثیت قوم بدقسمتی سے غلطیوں پر غلطیاں دہراتے چلے جا رہے ہیں۔

    ہمارا مستقبل

    ایک مضبوط وفاق ہونے کے باوجود وطن عزیز کا مستقبل زیادہ روشن نظر نہیں آتا ہے۔ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے اور یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ ہماری قومی قیادتیں اور اہم ملکی ادارے مستقبل کی "پیش بینی” کے جوہر سے محروم ہوتے ہیں جس کے باعث ہماری ملکی سلامتی، امن و امان اور معاشی و سیاسی استحکام کو ہر طرف سے "چیلنجز” درپیش ہیں۔ ہمارا ملک صحیح معنوں میں ایک بند گلی میں پھنستا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے پاس اعلی پائے کے وہ محب وطن، اہل اور مخلص لیڈران کا بھی قحط الرجال ہے کہ ان کو قیادت کا موقع دیا جائے تو وہ ملک و قوم کے لیئے "نجات دہندہ” ثابت ہو سکیں۔

    ہمارے ہاں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور سماجی انصاف و حقوق کی عدم فراہمی کی وجہ سے اور خاص طور پر "بیڈ گورننس” کی بنا پر ملکی مسائل اتنے پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے چلے جا رہے ہیں کہ اب نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے صوبوں میں بظاہر ایک ناختم ہونے والی دہشت گردی کا آغاز ہو چکا ہے جس کا دائرہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وسیع اور حددرجہ خطرناک ہوتا چلا جا رہا ہے۔

    کئی لحاظ سے ہمارے ملک کا حالیہ سیاسی بحران، 1971ء کے بحران سے زیادہ سنگین ہے۔ اہل نظر جانتے ہیں کہ قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کا سیاسی استحکام اور عدم استحکام سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عروج و زوال ایک تاریخ ساز عمل ہوتا ہے جو چند مہینوں یا برسوں پر محیط نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ برسوں کے حالات و واقعات، اہل اقتدار کی اہلیت، عوامی نفسیات اور مقتدرہ وغیرہ کی مجموعی کارکردگی کا نتیجہ ہوتا ہے۔

    کہتے ہیں کہ سچی تاریخ سو سال کے بعد لکھی جاتی ہے جب اس کے حقیقی کردار دنیا سے روپوش ہو جاتے ہیں۔ لیکن زندہ قومیں اپنی تاریخ خود لکھتی ہیں نہ کہ وہ تاریخ نویسوں کو لکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ ان تشویشناک حقائق کے تناظر میں پاکستانی، حکمرانوں، مقتدرہ اور قیادتوں کو غیر معمولی طور پر مستقبل بینی سے کام لینا چایئے اور پیش آمدہ حالات کے مطابق بےپایاں تاریخی شعور کا ثبوت دینا چایئے۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اپنی تقدیر دوسروں کو لکھنے کی ذمہ داری سونپ دیں۔

    اس بات کو ہم بطور فرد یا معاشرہ اپنی ذات پر لاگو کر کے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ اگر ہم ماضی کی غلطیوں کو بار بار دہراتے ہیں یا ان سے کوئی سبق نہیں سیکھتے ہیں تو ہمارا مستقبل یکسر تباہ و برباد ہوتا چلا جائے گا۔

    Title Image by Pexels from Pixabay