Tag: علم

  • تسنیم جعفری کا سفرنامہ چین

    تسنیم جعفری کا سفرنامہ چین

    تسنیم جعفری کا سفرنامہ چین

    تبصرہ نگار: قانتہ رابعہ

    کہتے ہیں کہ دنیا کے آٹھ بڑے عجوبوں میں سے ایک دیوار چین ہے۔ شاید یہ بتانے والے نے بس دیوار چین کی حد تک ہی چین دیکھا تھا۔

    محترمہ تسنیم جعفری کے اس سفرنامہ چین کو پڑھ کر میں اس رائے پر پہنچی ہوں کہ پورے کا پوراملک چین ، چینی قوم اور چینی ثقافت بھی عجوبہ ہے۔

    اب تک چین کے سفرناموں کی بابت بات ہوتی تو تو ذہن میں ایک ہی نام آتا تھا ” چلتے ہو تو چین کو چلئیے،،

    مجھے یقین ہے جو بھی یہ سفرنامہ”یہ جو چین کو علم سے نسبت ہے ” پڑھے گا وہ تادیر اسے یاد رکھے گا کہ سفر نامے کے نام پر اسے خشک ، قدرے بوریت پر مبنی جغرافیہ کی کتاب کی بجائے بے حد دلچسپ اور چین ، چینی عوام وہاں کی ثقافت اور رسم و رواج کے بارے میں مفید معلومات پر مبنی سفر نامہ پڑھنے کو ملا۔

    تسنیم جعفری کا سفرنامہ چین

    ویسے تو تسنیم جعفری ادب کے میدان میں آل راؤنڈر ہیں بالخصوص ادب اطفال میں ان کی تعمیری کوششوں کا زمانہ معترف ہے لیکن کہانی کار کہانی لکھتے ہوئے کہانی کے تقاضے پورے کرتا ہے جبکہ سفرنامہ میں سفرنامہ نگار اپنے دلی جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔

    اب وہ وقت دور نہیں کہ زندگی کے ہر شعبے میں چین چھایا ہوگا وہ کون سی صفات اور مہارتیں ہیں جنہیں اپنا کر چین نے پوری دنیا سے اہنا آپ منوا لیا ہے، کتاب میں اس کا بہت بھرپور تزکرہ ہے۔

    کتاب میں چین جانے سے پہلے چین جانے کے لئے مطلوب کاغذی کاروائی اتنی مشکل ہے کہ میرے جیسی کا چین جانے کا شوق دم دبا کر بھاگ جائے ۔پاسپورٹ اور چینی سفارت خانے سے ویزہ کے حصول اور پھر چینی ائرلائن کے سفر تک کی داستان ذہنی اور جسمانی مشقتوں کی داستان ہے جو سہل پسندوں کو چین جانے سے پہلے دس دفعہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے لیکن چین پہنچ کر محترمہ تسنیم جعفری نے بیجنگ،چھاہو، شنگھائی چھنداو، پھنکو اور دیگر صوبوں میں کیا کیا دیکھا ۔وہاں کا فن تعمیر، وہاں کے طور طریقوں کے بارے میں جو کچھ جانا اپنی آنکھ سے جو کچھ دیکھا اسے کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کروایا ،اسے پڑھنے کے بعد بے ساختہ دل میں یہی خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش ہم بھی ان علاقوں کو دیکھ سکیں اور انقلاب کے بعد چینی عوام کی تبدیلی کے چشم دید گواہ بن سکیں۔

    سفرنامہ کی درجن بھر خوبیاں ہیں جو اسے دیگر سفرناموں سے ممتاز کرتی ہیں ۔اشاعت اور طباعت تو اضافی خوبی ہے جس کا براہ راست مصنفہ/ مصنف سے تعلق نہیں ہوتا لیکن انداز تحریر میں یہ سفر نامہ بیک وقت جداگانہ انداز رکھتا ہے۔

    مصنفہ کا سہل اور رواں انداز تحریر ان کی زبردست قوت مشاہدہ جو ہرعمارت اور ہر نئے منظر کو دیکھ کر دس طرح کے نتائج اخذ کرتی ہے۔

    تسنیم جعفری کا انداز بیان گنجلک یا مشکل نہیں ادبی پیرائے میں ضرور لکھتی ہیں لیکن بہت دلچسپ اور کسی حد تک گھریلو۔

    وہ دیوار چین پر جائیں یا بیجنگ کے ہاٹ پاٹ ریسٹورنٹ میں وہ وہاں سے متعلقہ ہر چیز کو سیاح کی نظر سے دیکھتی ہیں اور یہی وجہ ہے قاری کو ہر دوسرے تیسرے صفحہ پر ایک نہ ایک نئی چیز پڑھنے کو ملتی ہے ۔وہ کتاب جس سے قاری کے علم میں اضافہ ہو یا علم کی پیاس بجھانے کا سبب بنے کیا اس سے مفید کام کوئی اور ہوسکتا ہے

    مثال کے طور پر وہ چین کے پانچ چھ ہفتوں کے قیام میں بیس بائیس ریسٹورنٹس میں جاتی ہیں اور ہر ریسٹورنٹ کے متعلق ایک نئی بات بتاتی ہیں۔

    ابلا ہوا لہسن چینی قوم کس طرح کھاتی ہے ہر کھانے سے پہلے تیز ابلتے گرم پانی پینے میں کیا راز ہے ؟ زمزم ریسٹورنٹ جاتے ہوئے تیز چھاجوں برسنے والی بارش کا پانی سڑک پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی کیوں جمع نہیں ہوتا؟

    گویا ہر جگہ ان کے لئے دبستان کھلنے کے مانند ہے۔ یہ سفرنامہ پڑھنے والے کے ذہن میں اٹھنے والے ہر سوال کا شافی جواب دیتا ہے۔

    مجھے تجسس تھا کہ "چینیوں کے غیر چینوں سے کیسے تعلقات ہیں” کا پتہ چلے تو شالیمار ریسٹورنٹ میں جانے کی داستان سے تسلی بخش جواب مل گیا۔

    سفرنامہ کی ایک خوبی یہ ہے کہ سفر نامے کوادبی عنوانات کے تحت تقسیم کیا گیا ہے لیکن یہ ابواب اتنے مختصر ہیں یا ممکن ہیں کہ( دلچسپی کی وجہ سےمجھے مختصر لگے ہوں )آپ پڑھنے کے دوران ادھر ادھر متوجہ نہیں ہوسکتے۔

    سفرنامہ سے مجھے بہت سی ایسی چیزوں کا علم ہوا جن کا مجھے قطعی علم نہیں تھا ۔مکڑیاں اور مینڈک کھانے والی قوم انڈے بہت شوق سے کھاتی ہے۔

    کئی مرتبہ تو انڈوں کا تزکرہ اتنا مزے کا ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے آپ کے من حیث القوم انڈہ شناسی میں زیرو ہونے پر ندامت ہوتی ہے۔ سفرنامہ کا ایک حصہ بیجنگ سے گیارہ سو کلومیٹر دور حفے کی روداد پرمشتمل ہے۔

    چینی "ھ "کو "خ "بولتے ہیں تو حفے بھی خفے بن جاتا ہے۔

    تسنیم جعفری

    اس میں قیام کی روداد بہت دلچسپ ہے بلکہ سارا سفرنامہ ایک ہی سبق دیتا ہے۔ چینی ہر جگہ چھائے ہیں تو اس کی وجہ ان کی محنت ہے۔ محنت خالی کوئی کام نہیں آتی جب تک سونے جاگنے کے اوقات طے نہ ہوں۔ جلدی سونے جلدی جاگنے والی قوم کی خوردونوش بھی ابلتا پانی یے ساتھ میں سبزیاں کھانا چاہو تو دوچار منٹ اس پانی میں ڈبو کر ساس (چٹنی) کے ساتھ کھا لو ،نوڈلز کھانا چاہو تو وہی تیز ابلتے پانی کسی بھی ذائقے کی نوڈلز شامل کرو، ساس کے ساتھ کھالو۔۔وہی گرم پانی ابتدائیہ بھی ہے اور اختتامیہ بھی۔ یہ سفر نامہ شروع کرنا آپ کا کام ہے۔ مجھے یقین ہے اس کے بعد سفر نامہ ختم کرنے سے پہلے آپ کے لئے ہاتھ سے رکھنا مشکل ہوگا۔

    تسنیم جعفری نے اس سفرنامہ کے ذریعے اپنے آپ کو اردو ادب کی بہترین سفرنامہ نویسوں کی فہرست میں شامل کروایا ہے۔ جہاں جہاں اردوادب میں چین کے سفر نامے کا ذکر ہوگا محترمہ تسنیم جعفری کا یہ سفرنامہ یہ جو چین کو علم سے نسبت ہے، ان کے لئے حوالہ ثابت ہوگا۔

    یہ سفر نامہ ہر سطح کے قارئین کے لئے دلچسپی کا حامل ہو گا۔ ان کے لئے جو چین جانا چاہتے ہیں انہیں چین جانے کے لئے کاغذی کارروائی سے لےکر چین میں پہنچنے تک خوب رہنمائی میسر ہوگی۔ ان قارئین کے لئے جوچین میں جا چکے ہیں ان کے لئے چین میں قیام کی بہترین یادیں وابستہ ہوں گی۔


    ان کے لئے جو چین سے کسی قسم کی دلچسپی رکھتے ہیں ، معلومات سے بھرپور ہے۔ یہ سفر نامہ اس تتلی کی مانند ہے جو ہر اچھے پھول پر جاکر اس کا رس حاصل کرتی ہے۔
    مجموعی طور پر یہ چین کی اچھائیوں اور مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔میں محترمہ تسنیم جعفری کو یہ خوبصورت سفر نامہ لکھنے پر پریس فار پیس پبلیکیشنز کو اس کی اشاعت پر اور ان کی ٹیم کو خصوصی طور پر اتنی عمدہ اور یادگار تصاویر سے مزین سفرنامہ کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ کتاب کا ٹائٹل بہت خوبصورت طباعت عمدہ اور ہر کام معیاری ہے۔

  • کیا علم پرانا ہوجاتا ہے ؟  جی ھاں

    کیا علم پرانا ہوجاتا ہے ؟  جی ہاں

    (  کائنات کی دیگر اشیاء کی طرح علم بھی نیا اور پرانا ہوسکتا ہے ۔ آئیے اس موضوع پر ایک نظر ڈال کر دیکھیں )

    تحریر :

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ اصل علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔ ہم مخلوق خدا ، اس کے حصول کی خاطر زندگی بھر سرگرداں رھتے ہیں ۔ ہر انسان یا طالب علم اپنی ذہنی صلاحیت ، سعی ، کوشش اور تڑپ کے صدقے اس میں سے کچھ حصہ حاصل کرلیتا ہے لیکن اسے مکمل علم نہیں کہا جاسکتا ۔۔ البتہ نوع انسانی میں  انبیاء کرام وہ اعلی ہستیاں ہو گزری ہیں کہ جنہھیں بنی آدم کی رہنمائی کے لئےخصوصی علم کے ایسے خزانے عطاء ہوئے کہ جن کی صلاحیت کبھی ختم نہ ہوئی یا یوں کہئیے کہ ان پر ایکسپائری ڈیٹ ( Expiry Date ) ہی نہ لکھی تھی ۔

    انبیاء کے علم کو سمجھنے کے لئے آج کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ( Digital Technology ) نے کام آسان کردیا اور ہمیں اس کا فوری ادراک حاصل ہوجاتا ہے  ورنہ مولوی صاحب ، سائینسی توجیع کی بجائے  ہمیشہ کی طرح ، ہمیں ان اعلی ہستیوں کے فقط روحانی مقام و مرتبے کی تشریع تک محدود رکھتے اور عام و خاص انسان ، الوہی ٹیکنالوجی ( Divine Technology ) سے ناآشناء ،  تقدیس (  Sense of deep respect ) کی ہوشرباء خوبصورت وادیوں میں گھومتے رہتے ۔

    Egypt

کیا علم پرانا ہوجاتا ہے ؟  جی ھاں
    Image by photosforyou from Pixabay

    آج کے دور کا ایک بچہ بھی  مائیکرو چپ ( Microchip ) سے آشناء ہے ۔ آپ کے موبائیل فون کی سم ( Sim ) , شناختی کارڈ اور بینک کارڈ کے ایک کونے پر چسپاں سنہرے رنگ کی دبلی پتلی چپ ( Chip ) اپنے اندر معلومات کا خزانہ سمیٹے نظر آتی ہے ۔ اسی قسم کی ایک روحانی یا الوہی چپ اللہ نے انبیاء کے سینے میں نصب کردی لھذا وہ  کسی مدرسے یا استاد کے پاس گئے بغیر جملہ علوم و فنون کا مخزن بن گئے ۔

    اب ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اللہ کا علم کلی اور اصل ہے ۔ انبیاء کرام کو عطاء ہوا اور عام انسان اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ قرآن کے اندر سینکڑوں مرتبہ غور و فکر پر زور دیا گیا ۔ بار بار کہا گیا

    ” اور تم غور و فکر نہیں کرتے "

    کئی ایک آیات میں غور و فکر کی طرف توجہ دلائی گئی تاکہ تم جان سکو ۔

    غور و فکر سے متعلق آیات سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں ۔ اولا یہ کہ کائنات پر غور کرنے سے اس کے راز  سمجھ پاؤگے ، دوئم یہ کہ ، اس غور و فکر کی کوئی حد مقرر نہیں ،  کائنات اور اس کے اندر اللہ کی مخلوقات کا حجم اور تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک انسان ساری عمر غور کرتا رہے تو بھی حصول علم کی پیاس نہیں بجھتی ۔

     علامہ اقبال رحمة اللہ     کی کتاب ” بال جبریل ”  میں درج ایک غزل اسی فلسفہء غور و فکر کی امین ہے ، وہ کہتے ہیں ،

    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

    ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

    تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں

    یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں

    تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

    تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

    اسی روز وشب میں الجھ کرنہ رہ جا

    کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

    علامہ صاحب کا فلسفہ کائنات صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ عمومی ہے ۔ وہ سب سے مخاطب ہوکر کہ رہے کہ ، یہ جو تمہیں جگمگ جگمگ کرتے ستارے نظر آرہے ہیں ، یہ کائنات کی سرحد نہیں ، اس سے آگے نظر دوڑاو کئی اور جہان نظر آئینگے ۔ اور یہ فضائیں جو بہ ظاہر خالی نظر آتی ہیں ۔ ایسا ہے نہیں بلکہ ان ہی فضاوں میں کئی کاروان زندگی رواں دواں ہیں ، غور تو کرو ۔ پھر شاہین سے کہتے ہیں کہ بلندیوں پر پہنچنے کا یہ مطلب نہیں کہ دنیاء کے کنارے تک پہنچ گئے ۔ تمہارا کام اڑنا ہے اڑتے رہو ، ابھی تو کئی اور آسمان باقی ہیں ۔ آخری شعر کا مطلب ہے ۔ اے انسان تو اس رات دن کے چکر میں کھوگیا ۔ سوتے ہو اٹھتے ہو ، کھاتے ہو پیتے ہو ، بس اسی کو زندگی سمجھ لیا ہے جبکہ تیرے مقدر میں بہت کچھ لکھا ہے ۔ تو اپنے لئے کئی اور زمانے اور ٹھکانے تلاش کرسکتا ہے ۔

    books
    Image by Michal Jarmoluk from Pixabay

    الغرض ان کی یہ غزل ان قرآنی آیات کی تشریح ہے کہ جن میں غور و فکر تگ و دو اور تلاش و جستجو کا سبق دیا گیا ۔ یہاں نوٹ کرنے والا نقطہ یہ ہے کہ ، قرآنی آیات میں درج تلاش و جستجو کی ترغیب کسی خاص حد ، وقت یا مقام تک محدود نہیں بلکہ یہ حکم ہمیشہ کے لئے ہے یعنی جبتک دنیاء قائم ہے انسان تلاش کا سلسلہ جاری رکھے گا ۔ اور تاریخ انسانی بھی ہمیں ایسی ہی کہانی سناتی ہے ۔

    ابتدائی انسان غاروں میں رہتا تھا ، آج عالی شان اور پر تعیش محلات میں مقیم ہے ۔ شروع میں پیدل ، پھر جانوروں پر سواری ، اور آج ہوائی جہاز اور لیموزین میں گھومتا نظر آتا ہے ۔ کیا یہ تلاش و جستجو کا نتیجہ نہیں کہ انسان ، پتھر ، کانسی ، لوہے ، لکڑی  اور الومینیم کے زمانے سے نکل کر اب فائیبر کی بنی اشیاء استعمال کررہا ہے ۔ ابھی کوئی نصف صدی پہلے تک گاؤں کا نائی ، غمی شادی کا پیغام لیکر جاتا تھا لیکن اب اس کی جگہ واٹس ایپ نے لے لی اور نائی کا کردار سرے سے غائب ہوگیا۔ اسی طرح ساری دنیاء میں خطوط رسانی کے لئے ڈاکیے ( Postman ) کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا تھا ، اب شاید ہماری نئی نسل ڈاکیے کے نام سے بھی آشناء نہیں کہ یہ کون سا کردار ہے ۔ فون پہ میسیج کی ٹون بجی اور خط مل گیا ۔

    اسی طرح ہمارے بچپن میں بزرگ کہتے تھے رات میں درخت کے نیچے مت بیٹھیں کیونکہ رات ہوتے ہی جنات درختوں پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ جبکہ سائینس کہتی ہے ،  درخت دن میں آکسیجن اور رات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بناتے ہیں اس لئے ان سے رات میں دور رہا جائے ۔

    یہ سب کیا ہے ؟

    کیا تھا ؟

    digital
    Image by fancycrave1 from Pixabay

    ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان مسلسل تگ و دو کررہا ہے ۔ وہ کتاب کائنات کی ورق گردانی میں مصروف ہے ۔ ہر روز ایک نئی بات سامنے آرہی ہے ۔ لھذا جو بات اسے کل صحیح لگتی تھی آج اسی کو غلط کہ رہا ہے جو اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ تلاش و جستجو کی زد میں آکر   انسانی علم پرانا اور ناکارہ ( Invalid and Expired ) ہوجاتا ہے ۔ میری عمر کے لوگ آج موبائیل فون کا صحیح استعمال نہیں کرسکتے بلکہ پوتے ، پوتی یا نواسے نواسی کو بلاکر نمبر تلاش کرتے ہیں کیونکہ نئی جنریشن کا علم نیا اور ہمارا پرانا ہوچکا ہے ۔

    SAS Bukhari

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست آئی اٹک e میگزین

  • اُستادایک انمول ہستی

    اُستادایک انمول ہستی

    از قلم
    بینش احمد اٹک
    کوئی بھی انسان دُنیا میں تنہا نہیں رہ سکتا ہے ہمیں کسی نہ کسی رشتے کی ضرورت ہوتی ہے-کچھ رشے خونی ہوتے ہیں جن میں ہمارے گھر والے ہمارے عزیز واقارب شامل ہیں جبکہ کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن سے ہمارا تعلق خونی تو نہیں ہوتا لیکن وہ اپنوں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ انہی میں سے ایک رشتہ اُستاد کا ہے۔

    اُستادایک انمول ہستی
    Image by Sasin Tipchai from Pixabay


    اساتذہ ہمارے روحانی والدین بھی کہلاتے ہیں – اسلام میں اُستاد کا رشتہ والدین کے رشتے کے برابر قرار دیا گیا ہے کیونکہ اُستاد ہی ایسی واحد شخصیت ہے جو والدین کے بعد بچوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہیں – اُستاد ہی ہے جو ہمیں معاشرے میں رہنے کے طور طریقے سکھاتا ہے اور ہمیں کتابوں کا علم پڑھاتا ہے-حضرت علیؑ نے فرمایا:
    ’’اگر تم بادشاہ ہو تو بھی اپنے اْستاد اور والد کی تعظیم میں کھڑے ہو جاؤ’‘
    اس بات سے اُستاد کی حیثیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے- ایک اُستاد ہی ہے جو کوئلے سے ہیرا بناتا ہے- اُستاد کا کام صرف طلباء کو کتابی سبق ہی پڑھانا نہیں بلکہ وہ طلباء کو زمانے کی تمام اُونچ نیچ کے بارے میں سکھاتا ہے اور معاشرے میں رہنے کے طور طریقوں سے بھی آگاہی فراہم کرتا ہے-اُستاد کے احترام اور اس کی مناسب تربیت کے بغیر کوئی بھی انسان کامیابی حاصل نہیں کر سکتا-
    مشہور محاورہ ہے کہ: ‘با ادب با نصیب’، ‘بے ادب بے نصیب’
    جو انسان اپنے اساتذہ کا ادب و احترام نہیں کرتا وہ منہ کے بَل گرتا ہے-آپ پوری دْنیا میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں کوئی بھی ایسا رشتہ نہیں ہوگا جو بغیر مطلب کے آپ کے ساتھ ہو-
    آج کل کے رشتے صرف اور صرف مطلب کی بنیاد پہ قائم ہیں مطلب ختم تو رشتہ بھی ختم-لیکن ہمارے والدین اور اساتذہ ایسی واحد شخصیات ہیں جو بنا مطلب کے ہمارا ساتھ دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اْن کے بچے اْن سے بھی ذیادہ آگے جائیں اور مزید ترقی کریں –
    ہمارے پیارے نبی حضرت محمدؐ کو تمام انسانوں کیلئے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے- جب آپ صحابہ کرام رضی اللہ عنہا سے خطاب کیا کرتے تھے تو صحابہ کرام اس قدر خاموشی سے بیٹھتے تھے کہ اپنے سروں کو حرکت تک نہیں دیتے تھے بیشک اُن کے سروں پہ پرندے آ کر کیوں نہ بیٹھے رہیں اور ایک موجودہ دور کے طلباء ہیں کہ اْنہوں نے اْستاد کے ادب و احترام کو بالکل ایک طرف کر کے رکھ دیا ہے- طلباء اپنے اْستاد کے سامنے تن کر کھڑے ہو جاتے ہیں اْن سے اونچی آواز میں بحث و مباحثہ کرتے ہیں -اکثر دکھائی دیتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ جھگڑا بھی کرتے ہیں جو کہ بے حد نا مناسب طرز عمل ہے۔
    میرے لیے میرے تمام اساتذہ قابلِ عزت ہیں – میں نے جب سے اس شعبے میں قدم رکھا ہے تو ہر قسم کے لوگوں سے میرا واسطہ پڑا ہے- لیکن دو ایسی شخصیات ہیں جو میرے لئے بہت ہی ذیادہ قابلِ احترام ہیں۔ آپ کو دنیا میں ایسے بہت کم لوگ ملیں گے جو بغیر کسی صلہ اور مطلب کے آپ کی مدد کریں گے- یہ میرے ایسے اْستاد ہیں جن سے مجھے وہ سب کچھ سیکھنے کا موقع مل رہا ہے جو شاید میں نے اپنی بائیس سالہ زندگی میں بھی نہیں سیکھا ہے۔ میں ان کے نام ظاہر نہیں کروں گی لیکن اللہ تعالیٰ سے ہر پل میری یہی دْعا رہتی ہے کہ میرے اللہ تعالیٰ ان اساتذہ کو مزید ترقی عطا فرمائیں، اْن کو لمبی زندگی دیں اور اسی طرح وہ دوسروں کو روشنی کی طرف لاتے رہیں۔آمین ثم آمین

    Beenish

اُستادایک انمول ہستی