Tag: علم

  • مثالی استاد

    مثالی استاد

    مثالی استاد


    تحریر محمد ذیشان بٹ


    دنیا میں اگر کوئی سب سے مشکل کام چننا ہو تو وہ استاد کو "پڑھانا” ہوگا۔ یہ بات شاید سننے میں عجیب لگے، مگر سچ یہی ہے کہ جو شخص دوسروں کو سکھانے کا فریضہ سرانجام دے رہا ہو، اسے خود سیکھنے کے عمل میں رکھنا، اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنا، اور اس کے اندر نیا جذبہ پیدا کرنا ایک نہایت مشکل اور پیچیدہ کام ہے۔ استاد محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک طرزِ زندگی ہے، اور اس طرزِ زندگی کو بہتر سے بہتر بنانا کسی کارنامے سے کم نہیں۔
    یہی بیڑا حال ہی میں ڈی پی ایس کالج راولپنڈی کی پرنسپل، ہماری ہر دل عزیز محترمہ ثمینہ خان نے اٹھایا۔ وہ نہ صرف ایک تجربہ کار ماہر تعلیم ہیں بلکہ پاکستان اور بیرونِ ملک تعلیم کے میدان میں دو دہائیوں سے زائد خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ ان کے اندازِ تعلیم، گفتگو کا سلیقہ اور تربیت کا انداز ہمیشہ سے مثالی رہا ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی بات دل سے نکلتی ہے اور سیدھی دل میں اترتی ہے۔
    حال ہی میں انہوں نے کالج کے تمام اساتذہ کے لیے ایک خصوصی ٹریننگ سیشن کا انعقاد کیا۔ اس سیشن کی سب سے بڑی خوبی اس کا "منفرد” ہونا تھا۔ ایسا سیشن جس میں نہ کوئی بوریت تھی، نہ روایتی لیکچر بازی، بلکہ ابتداء ہی میں انہوں نے دلچسپ مائنڈ گیمز کے ذریعے سب کو ذہنی طور پر بیدار کر دیا۔ ایسی گیمز جنہوں نے صرف ذہن کو ہی نہیں، دل کو بھی متحرک کیا اور حاضرین کو یہ احساس دلایا کہ کچھ نیا سیکھنے جا رہے ہیں۔
    اس سیشن کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلے حصے میں جس موضوع پر گفتگو ہوئی وہ کچھ ایسا تھا جسے عموماً تربیت کے ان سیشنز میں کم ہی چھیڑا جاتا ہے، یعنی "استاد کی صحت”۔ جی ہاں! یہ ایک حیران کن مگر انتہائی اہم پہلو ہے جسے نظرانداز کیا جانا کسی سانحے سے کم نہیں۔ میڈم ثمینہ خان نے زور دے کر فرمایا کہ ایک مثالی استاد کا جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند ہونا نہایت ضروری ہے۔ اگر استاد خود بیمار ہو، ذہنی دباؤ کا شکار ہو یا تھکن سے چُور ہو تو وہ طالب علموں کو کیا خاک زندگی کے اصول سکھائے گا۔
    ان کا کہنا تھا کہ ایک استاد کے لیے کم از کم سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند نہایت ضروری ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نیند کو فضول خرچی سمجھا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ انسانی جسم اور دماغ کی مرمت کا وقت ہوتا ہے۔ اچھی نیند کے ساتھ متوازن غذا بھی لازمی ہے۔ استاد کو اپنی خوراک میں وہ تمام عناصر شامل کرنے چاہئیں جو توانائی بخش ہوں، تاکہ وہ پورے دن کی تدریسی سرگرمیوں کو خوش دلی سے نبھا سکے۔ باقاعدہ ورزش بھی اسی زمرے میں آتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روزانہ بیس منٹ کی تیز چہل قدمی یا ہلکی پھلکی ورزش ایک استاد کو تازہ دم رکھتی ہے۔


    ذہنی صحت پر بات کرتے ہوئے میڈم نے کچھ ایسے مشورے دیے جو سادہ مگر انمول تھے۔ مثلاً یہ کہ زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو منانا سیکھیں۔ کسی طالب علم کی کامیابی پر مسکرانا، چائے کے وقفے میں کسی دوست کے ساتھ دل لگا کر بات کرنا، دفتر میں کسی ساتھی کی مدد کرنا، یہ سب چھوٹی خوشیاں انسان کے اندر کی الجھنیں سلجھا دیتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ منفی سوچوں، منفی لوگوں اور مایوسی کی فضا سے خود کو دور رکھیں۔ سب سے اہم بات جو انہوں نے کہی وہ یہ تھی کہ: "دوسروں کی مدد کیجئے، اس سے آپ کو حقیقی خوشی ملے گی۔ اور یاد رکھیے، ہمارا شعبہ پیغمبرانہ ہے، اور یہی اعزاز ہمارے لیے کافی ہے کہ ہمارے محبوب نبی ﷺ نے اپنا تعارف معلم کے طور پر کرایا۔”
    سیشن کا ماحول سنجیدہ ضرور تھا، مگر اس میں ہنسی مزاح کے پہلو بھی تھے جو شرکاء کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے رہے۔ ایسی خوشگوار فضا میں سیکھنے کا مزہ ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ یہ کوئی خشک تربیتی نشست نہیں تھی بلکہ ایک زندہ دل اجتماع تھا جہاں استاد نے استاد کو سمجھایا، سنوارا اور جگایا۔
    سیشن کے دوسرے حصے میں بات ہوئی "کلاس روم مینجمنٹ” پر، جو موجودہ دور میں سب سے بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں بارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کو پڑھانا ایک فن سے کم نہیں۔ بچے ذہین ہو چکے ہیں، معلومات سے بھرے ہوئے ہیں، مگر توجہ کی کمی کا شکار ہیں۔ ایسے میں محض اچھا لیکچر دینا کافی نہیں، استاد کو چاہیے کہ وہ بچے کا "دل” جیتے، اس کے ذہن کو چھوئے، اور اسے اس انداز سے متاثر کرے کہ وہ سننا چاہے، سمجھنا چاہے۔
    میڈم ثمینہ خان نے کہا کہ مثالی استاد سب سے پہلے خود کو قابلِ احترام بناتا ہے۔ اس کی شخصیت میں ایک کشش ہوتی ہے، ایک جاذبیت جو طلبہ کو خود بخود کھینچتی ہے۔ اگر استاد جسمانی اور ذہنی طور پر صحت مند ہو تو وہ طلبہ کی تربیت میں زیادہ موثر ہو سکتا ہے۔ وہ ان کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کر سکتا ہے، ان کی نفسیات کو سمجھ سکتا ہے، اور ان کی صلاحیتوں کو پہچان کر نکھار سکتا ہے۔
    ایک مثالی استاد کی کلاس روم میں اصول واضح ہوتے ہیں۔ وہ صرف نصاب ختم کرنے کا مشن لے کر نہیں آتا بلکہ اس کا ویژن بڑا ہوتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بچے کو سلیبس کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی سکھانا ہے۔ وقت کی پابندی، ایمانداری، باہمی احترام، سوال پوچھنے کی ہمت، تنقیدی سوچ، یہ سب وہ اوزار ہیں جو ایک استاد اپنی کلاس روم میں طلبہ کو دیتا ہے۔
    میڈم نے ایک اور اہم نکتہ یہ بھی اٹھایا کہ مثالی استاد کا کام محض علم دینا نہیں بلکہ کردار سازی بھی ہے۔ اور کردار سازی کے لیے سب سے مؤثر ذریعہ استاد کا اپنا کردار ہوتا ہے۔ طلبہ کتابیں تو سال کے آخر میں بھول جاتے ہیں، مگر استاد کا لہجہ، اس کی شفقت، اس کی ڈانٹ، اس کا اندازِ بات، یہ ساری چیزیں عمر بھر یاد رہتی ہیں۔ لہٰذا استاد کو خود اپنے رویے، الفاظ اور انداز پر مسلسل کام کرتے رہنا چاہیے۔
    آخر میں میڈم ثمینہ خان نے دعا کے انداز میں کہا: "دعا ہے کہ مجھ سمیت آپ سب اس مثالی استاد کا کردار ادا کریں، جو صرف بچوں کو نہیں بلکہ ایک پورے معاشرے کو بہتر بناتا ہے۔ جو صرف علم نہیں دیتا بلکہ تہذیب سکھاتا ہے۔ جو صرف سبق نہیں پڑھاتا بلکہ زندگی جینا سکھاتا ہے۔”
    یہ سیشن محض ایک تربیتی اجلاس نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا لمحہ تھا جہاں ایک استاد نے دوسرے اساتذہ کو ان کی اصل عظمت کا احساس دلایا۔ وہ عظمت جو کسی کتاب کے صفحے پر نہیں لکھی جا سکتی، جو صرف کردار، اخلاص اور محبت سے جنم لیتی ہے۔ اور یہی تو مثالی استاد کی اصل پہچان ہے۔

    Title Image by Gerd Altmann from Pixabay

  • پروفیسر خورشید احمد: علم، ادب اور جدوجہد کا روشن باب

    پروفیسر خورشید احمد: علم، ادب اور جدوجہد کا روشن باب

    پروفیسر خورشید احمد: علم، ادب اور جدوجہد کا روشن باب

    (13 اپریل 2025ء، یوم وفات پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    پروفیسر خورشید احمد کی شخصیت برصغیر پاک و ہند کی اس علمی و فکری روایت کا تسلسل ہے جس نے علامہ اقبال، سید مودودی اور ڈاکٹر محمد حمید اللہ جیسے مفکرین کو جنم دیا۔ وہ ایک ماہر معاشیات، فلسفی، اسلامی مفکر، معلم، محقق، مصلح، مبلغ اور مخلص سیاسی کارکن تھے جنہوں نے علم و عمل کے سنگم پر کھڑے ہو کر اپنی پوری زندگی اسلام، علم، امت مسلمہ اور پاکستان کی خدمت کے لیے وقف کی۔

    خورشید احمد 23 مارچ 1932ء کو دہلی کے ایک تعلیم یافتہ اردو بولنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کی تربیت ایسے ماحول میں ہوئی جہاں دین، علم اور تہذیب ایک دوسرے سے جدا نہ تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر کے لاہور میں آباد ہوا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے معاشیات میں فرسٹ کلاس آنرز کے ساتھ بی اے کیا اور بعد ازاں جامعہ کراچی سے ایم اے اسلامیات اور معاشیات میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں۔

    خورشید احمد کی فکری تربیت میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں نے بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ نہ صرف جماعت اسلامی کے سرگرم رکن بنے بلکہ بعد ازاں جماعت کے نائب امیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کا شمار ان اولین افراد میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلامی معاشی نظام کو محض ایک تصور کے بجائے ایک باقاعدہ علمی و عملی شعبے کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا۔ 1949ء میں پروفیسر خورشید احمد نے اپنا پہلا انگریزی مضمون مسلم اکانومسٹ میں شائع کیا۔

    1965ء میں انہوں نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیسٹر سے اسلامی معاشیات کے موضوع پر ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ اسلامی اقتصادیات کی بنیادوں پر تھا، جو بعد ازاں جدید اسلامی معیشت کے فکری ڈھانچے کی تشکیل میں سنگ میل ثابت ہوا۔ ان کی تحریریں نہ صرف اردو بلکہ عربی، انگریزی، ترکی، بنگالی، جرمن، فرانسیسی، چینی، جاپانی اور دیگر زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کی جامعات میں پڑھائی گئیں۔

    انہوں نے اسلامک فاؤنڈیشن (لیسٹر)، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز (اسلام آباد) اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی (اسلام آباد) جیسے اداروں کی بنیاد رکھی، جو آج بھی علمی تحقیق کے مراکز سمجھے جاتے ہیں۔

    پروفیسر خورشید احمد صرف نظریاتی میدان کے شہسوار نہ تھے، بلکہ انہوں نے سیاست کے عملی میدان میں بھی قدم رکھا۔ 2002ء میں متحدہ مجلس عمل کے ٹکٹ پر سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے اور 2012ء تک ایوان بالا میں اسلامی و جمہوری قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ 1980ء کی دہائی میں وہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور پلاننگ کمیشن کے وائس چیئرمین رہے، جہاں انہوں نے معاشی پالیسیوں کو اسلامی اصولوں کے مطابق تشکیل دینے میں فعال کردار ادا کیا۔

    1990ء میں سعودی عرب کی جانب سے اسلامی خدمات پر شاہ فیصل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2011ء میں حکومت پاکستان نے انہیں اعلیٰ ترین سول اعزاز "نشانِ امتیاز” عطا کیا۔ دنیا کی کئی جامعات نے ان کی علمی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر ڈاکٹریٹ کے مقالے لکھوائے۔

    13 اپریل 2025ء کو وہ 93 برس کی عمر میں برطانیہ کے شہر لیسٹر میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کی وفات پر علمی، سیاسی اور دینی حلقوں نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم پاکستان سمیت ملک و بیرون ملک کی اہم شخصیات نے ان کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔

    پروفیسر خورشید احمد کی زندگی صرف ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک نظریے، ایک تحریک، ایک علم، ایک بصیرت کی علامت ہے۔ ان کا چھوڑا ہوا فکری ورثہ آئندہ نسلوں کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ وہ ان مفکرین میں سے تھے جنہوں نے اسلام کو معاصر دنیا کے سامنے قابل عمل، مدلل اور مربوط نظام کے طور پر پیش کیا۔

    ان کی علمی، فکری اور سیاسی زندگی ہم سب کے لیے ایک مشعل راہ ہے۔ بلاشبہ، پروفیسر خورشید احمد کا نام تا دیر زندہ رہے گا، ان کے نظریات اور خدمات آنے والی نسلوں کے لیے ایک رہنما چراغ کی حیثیت رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

  • دعا مومن کا ہتھیار ہے

    دعا مومن کا ہتھیار ہے

    دعا مومن کا ہتھیار ہے


    تحریر محمد ذیشان بٹ


    انسان کا اپنے رب سے وہ رشتہ ہے جو الفاظ سے زیادہ جذبات سے جُڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر ایک بندہ اپنے رب کے دربار میں حاضر ہوتا ہے، اپنی محرومیوں کا شکوہ کرتا ہے، اپنی امیدوں کا اظہار کرتا ہے، اور دل کی گہرائیوں سے مانگتا ہے۔ دعا، بندے کی کمزوری اور رب کی قدرت کا اعتراف ہے۔ جب کوئی بندہ کہتا ہے کہ "یا اللہ”، تو گویا وہ اپنی عاجزی، لاچاری اور ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے اُس ذاتِ باری تعالیٰ کو پکار رہا ہوتا ہے جو "کُن فیکون” کہنے پر قادر ہے۔
    دعا محض زبان سے ادا کیے گئے الفاظ نہیں، بلکہ ایک روحانی کیفیت ہے۔ یہ ایک سچا تعلق ہے جو صرف اللہ کے ساتھ جڑتا ہے۔ یہ وہ دروازہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ "مجھ سے مانگو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔” اس میں نہ وقت کی قید ہے، نہ جگہ کی، نہ زبان کی شرط ہے، اور نہ ہی کوئی دُور رہنے کی حد۔ دعا وہ ذریعہ ہے جس سے ایک غریب، بادشاہ کے برابر ہو جاتا ہے اور ایک گناہ گار، ولیوں کی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
    دعا کے لیے دل کا نرم ہونا ضروری ہے، آنکھوں کا نم ہونا ضروری ہے، اور سب سے بڑھ کر، رزق کا حلال ہونا بہت اہم ہے۔ ایک حدیثِ پاک ہے کہ ایک شخص سفر میں ہوتا ہے، گرد آلود ہوتا ہے، ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے: "یا رب، یا رب”، مگر اس کا کھانا حرام، لباس حرام، اور پیٹ حرام سے بھرا ہوا ہوتا ہے، تو اللہ کیسے اُس کی دعا قبول کرے؟ یہ حدیث ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ دعا کے اثر میں رزقِ حلال کا کردار بنیادی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں، تو سب سے پہلے ہمیں اپنی کمائی کو پاک اور حلال بنانا ہوگا۔
    حضرت امام احمد بن حنبل کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ وہ ایک سفر میں تھے اور ایک مسجد میں رات گزارنے کا ارادہ کیا، مگر وہاں کے نگہبان نے اجازت نہ دی۔ امام صاحب نے بہت اصرار کیا مگر وہ نہ مانا۔ امام صاحب نے مسجد کے دروازے کے قریب ہی سونا چاہا، تو نگہبان نے انہیں وہاں سے بھی ہٹا دیا۔ بالآخر ایک نانبائی نے انہیں اپنے گھر لے جا کر مہمان بنایا۔ رات کو وہ نانبائی اپنے معمول کے مطابق آٹا گوندھتے ہوئے مسلسل استغفار کرتا رہا۔ امام صاحب نے حیرت سے پوچھا: "تم کب سے یہ عمل کر رہے ہو؟” نانبائی نے کہا: "برسوں سے، اور اللہ نے میری ہر دعا قبول کی ہے۔” امام صاحب نے پوچھا: "کیا کبھی کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہو؟” نانبائی بولا: "بس ایک دعا ابھی باقی ہے، کہ امام احمد بن حنبل سے ملاقات ہو جائے۔” امام صاحب مسکرائے اور بولے: "اللہ نے تو تمہاری یہ دعا بھی قبول فرما دی، دیکھو میں خود تمہارے دروازے پر آیا ہوں۔” یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دعا کے لیے مسلسل استغفار، اللہ سے لو لگانا، اور دل سے مانگنا ضروری ہے۔ یہ محض الفاظ کا تکرار نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے، جس میں بندہ رب کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔


    ریاض، سعودی عرب کے مشہور آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر احمد کا ایک واقعہ بھی بہت سبق آموز ہے۔ وہ ایک بار ایک شدید زخمی مریض کا آپریشن کر رہے تھے، مریض کی حالت نازک تھی۔ ڈاکٹر احمد نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت اپنے تمام تر تجربے کے باوجود خود کو بے بس محسوس کیا، اور دل ہی دل میں اللہ سے دعا کی: "یا اللہ، تُو ہی شفا دینے والا ہے، میری کوشش کو قبول فرما۔” اس کے بعد مریض کی حالت بہتر ہونے لگی اور آپریشن کامیاب ہوا۔ ڈاکٹر احمد نے یہ واقعہ کئی بار بیان کیا ہے کہ ایک وقت آتا ہے جب علم، مہارت اور تجربہ سب ایک حد تک کام آتے ہیں، مگر اصل سہارا دعا کا ہوتا ہے۔ انسان کتنا ہی قابل ہو، مگر جب رب کی مدد شامل نہ ہو تو کامیابی ممکن نہیں۔
    سب سے مقبول دعا درود شریف ہے۔ امامِ کعبہ الشیخ صالح پر دل کا آپریشن ہوا، مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ حالت مزید بگڑ گئی، اور ڈاکٹرز دوبارہ آپریشن کی تیاری کرنے لگے۔ اسی دوران ایک لبنانی نرس آئی اور ادب سے کہا: "یا شیخ، کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنا شروع کیا؟” امام صاحب نے فوراً درود شریف کا ورد شروع کیا — "اللهم صل على محمد وعلى آل محمد” — اور مسلسل پڑھتے رہے۔ کچھ دیر بعد دل کو سکون ملنے لگا، طبیعت بہتر ہوئی، اور جب ڈاکٹرز نے دوبارہ جانچ کی تو حیران رہ گئے: دل نارمل ہو چکا تھا۔ دوسرا آپریشن منسوخ کر دیا گیا۔ امام صاحب خود کہتے ہیں کہ یہ شفا درود شریف کی برکت سے ملی۔ یہ واقعہ درود کی روحانی طاقت، دعا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
    صحابہ کرام اور تابعین کا عمل دعا کے معاملے میں مثالی تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "مجھے اپنی دعا کی قبولیت کی فکر نہیں، بلکہ مجھے دعا کرنے کی توفیق کی فکر ہوتی ہے، کیونکہ دعا کی توفیق ملنا ہی اللہ کی طرف سے قبولیت کی نشانی ہے۔” حضرت علی کرم اللہ وجہ فرمایا کرتے تھے کہ "دعا مؤمن کا ہتھیار ہے۔” تابعین رات کی تنہائی میں اٹھ کر رب کو یاد کرتے، دروازے بند کر کے، دل کھول کر گڑگڑاتے، روتے اور مانگتے۔ ان کے پاس دنیاوی وسائل کم تھے، مگر رب کی رحمت کے خزانے اُن کے لیے ہر وقت کھلے تھے۔
    دعا کے اوقات بھی اہم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر رات کے آخری پہر آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور آواز دیتے ہیں: "ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟” یہ وقت دعا کی قبولیت کا خاص لمحہ ہوتا ہے۔ اسی طرح اذان کے بعد، فرض نماز کے بعد، جمعہ کے دن کی آخری گھڑیاں، روزے کی حالت میں، افطار کے وقت، بارش کے وقت، والدین کی دعا، مظلوم کی فریاد، مسافر کی پکار — یہ سب ایسے مواقع ہیں جب دعا رد نہیں کی جاتی۔
    اللہ تعالیٰ انسان کی دعا کو کئی طریقوں سے قبول فرماتا ہے۔ یا تو وہ مانگی ہوئی چیز فوراً دے دیتا ہے، یا اس سے بہتر چیز دیتا ہے، یا کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے، یا آخرت کے لیے ذخیرہ کر دیتا ہے۔ ہر صورت میں بندے کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔
    آخر میں ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ دعا کسی سے زبردستی نہیں لی جا سکتی۔ اکثر لوگ کہتے ہیں: "ہمارے لیے دعا کریں” — حالانکہ دعا دل سے نکلتی ہے، محض زبانی درخواست پر دعا مانگی نہیں جاتی، وہ لی جاتی ہے۔ یعنی انسان ایسا عمل کرے، ایسا اخلاق اختیار کرے کہ دوسروں کے دل سے اس کے لیے دعا خود بخود نکلے۔ دعا لینے کے لیے دل جیتنا پڑتا ہے، محبت بانٹنی پڑتی ہے، اور سب سے بڑھ کر عاجزی اختیار کرنی پڑتی ہے۔
    دعا میں ایک عجیب طاقت ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ یہ وہ دروازہ ہے جو ہر حال میں کھلا رہتا ہے۔ انسان جب سب طرف سے مایوس ہو جائے تو دعا ہی وہ سہارا ہے جو اسے امید کی نئی روشنی دیتا ہے۔ یہ وہ تحفہ ہے جو ہر وقت، ہر جگہ اور ہر حال میں ممکن ہے، بس دل کو نرم کرنے اور لبوں کو سچا بنانے کی دیر ہے۔ رب تو کہتا ہے، مانگنے والا چاہیے — اور وہ دینے والا بن کر منتظر ہے۔
    رب ہمیں اپنی بارگاہ میں سچی دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، فلسطین سمیت پوری دنیا میں مظلوم مسلمانوں کے لیے دل سے دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری دعاؤں کو اپنی رحمت سے قبول فرمائے، آمین۔

    Title Image by Mohamed Hassan from Pixabay

  • گفتم نا گفتہ

    گفتم نا گفتہ

    گفتم نا گفتہ

    جب تمام تر وسائل بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں صرف ہو جائیں تو پھر توجہ صرف دولت کے حصول پر ہوتی ہے۔ تمام علمی استعداد اور انسانی وصف اپنا منطقی وجود کھو دیتے ہیں۔ یہ علم کی ناقدری اور معاشرتی اقدار کی پستی کا دور ہوتا ہے۔ ایسے میں فنون لطیفہ، ادبی تخلیقات زوال پذیر ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ پیسہ بنانے کے ذرائع پر قابض ہو نے کی کوشش کرتے ہیں۔ جس میں عوام کے بنیادی حقوق کو پائمال کیا جاتا ہے۔ ایک طبقہ امیر سے امیر تر ہوتا جاتا ہے اور ایک غریب سے غریب تر بن جاتا۔معاشرہ دولت مند کی قدر کرتا ہے۔ اور اس کے عیوب کو نظر انداز کر تا ہے۔ تو لوگوں کا رجحان صرف اور صرف پیسہ کمانے میں لگ جاتا ہے۔ دولت حاصل کرنے کے لیے چوری چکاری، دھوکہ دہی، ڈاکہ زنی اور قتل و غارت کی واردات عام ہو جاتی ہیں ۔ نوجوان علم و ادب سے عاری ہوتے ہیں۔ مہذب لوگ اپنی عزتیں بچانے کے لیے گوشہ نشین ہو جاتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ذہنی پستی کا شکار ہوتے ہیں۔ مالی آسودگی حاصل کرنے کے لیے لوگ عصمتیں فروخت کرتے ہیں۔ نشہ آور اشیاء بیچتے ہیں۔ انسانی اجزاء کی فروخت جیسے نت نئے جرائم جنم لیتے ہیں۔ رفتہ رفتہ معاشرہ افراتفری اور تباہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ ایسے میں جو کوئی بھی آواز اُٹھائے گا اس ناقدری پر احتجاج کرئے گا اور مفاد عامہ کے ان لُٹیروں کے سامنے مقابلہ کے لیے ڈٹ جائے گا۔ وہ باغی کہلائے گا۔ اس کو مجرم ٹھہرایا جائے گا اور پابند سلاسل ہوگا۔ جرائم پیشہ لوگ دندناتے پھریں گے۔ عنان اقتدار پر براجمان یا قابض افراد اختیارات کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کریں گے۔ چاپلوس لوگ مفادات حاصل کرنے کے لیے ظالموں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط کریں گے۔ رائے عامہ پائمال ہوگی۔


    ایسے میں یہ صاحب اقتدار عدالتوں کو خریدتے ہیں۔ حفاظتی ادارے تحفظ دینے کی بجائے مقتدر لوگوں کی غلامی میں بے گناہ لوگوں کو اسیر کرتے ہیں۔ سراپاءِ احتجاج لوگوں کو مجرم بنا کر گرفتار کرتے ہیں۔ بلیک میلنگ اورعزتوں کو اُچھالنا شعار بن جاتا ہے۔ یہی وہ دور جس کے لیے کہا جاتا ہے کہ “لوگ بیت المال کو مال غنیمت سمجھ کر استعمال کریں۔
    ان حالات میں “نجات دھندہ” کا انتظار ہوتا ہے۔

    Title Image by Yogendra Singh from Pixabay

  • پولیٹیکل ہرڈ مینٹیلٹی

    پولیٹیکل ہرڈ مینٹیلٹی

    پولیٹیکل ہرڈ مینٹیلٹی

    Dubai Naama

پولیٹیکل ہرڈ مینٹیلٹی

    ہمارے ہاں رائج جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ یہ انفرادی سوچ اور فکر کے لیئے زہر قاتل ہے۔ بے شک مغربی جمہوریت آج تک کا ایک کامیاب ترین نظام حکومت ہے مگر یہ اس لحاظ سے بدترین سیاسی نظام ہے کہ جب تعلیم اور تربیت اور سیاسی شعور سے عاری معاشرے ابتری کا شکار ہوتے ہیں تو سماجی افراد کی اپنی رائے ختم ہو جاتی ہے۔ اب ہمارے ہاں کے سماجی دانشوران کو جمہوریت سے کسی بہتر اور اس کے متبادل نظام حکومت کے بارے بھی ضرور سوچنا چایئے۔

    بنیادی طور پر سیاست کا مطلب الیکشن سے پہلے اور الیکشن مہم کے دوران پروپیگنڈہ کے زور پر رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی کبھار سیاسی لیڈران عوام کے اندر غیر محسوس انداز میں خوش فہمیوں پر مبنی ایسی یاسیت و قنوطیت یا ناامیدی بھر دیتے ہیں کہ عوام کو سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا کہ وہ کن امیدواران کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کریں، کیونکہ جمہوری رائے دہی میں ایک جھوٹا سیاست دان بھی خود کو سچا ثابت کرنے کے اتنے جتن کرتا ہے کہ ایک مرحلے پر سچ اور جھوٹ کی تمیز ختم ہو جاتی ہے۔

    ترکی میں چند سال پہلے ایک پہاڑی چوٹی سے درجنوں بھیڑوں کے نیچے گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں ایک بھیڑ سلپ ہو کر اتفاقا پہاڑی سے نیچے گرتی ہے تو دوسری بھیڑیں اسے دیکھ کر ایک ایک کر کے نیچے چھلانگ لگا کر ہلاک ہو جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں "بھیڑ چال” کا محاورہ مشہور ہے جس کا عمومی مطلب یہ ہے کہ جب ایک بھیڑ کسی طرف کا رخ کرے تو اس کی دیکھا دیکھی دوسری بھیڑیں بھی اس کے پیچھے چلنے لگتی ہیں۔ جمہوری سیاست میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ جس طرف ہوا چلے لوگ اسی سیاسی رہنما کے پیچھے چلنے لگتے ہیں، اسی کا انتخاب کرتے ہیں اور اسے ہی ووٹ دے کر منتخب کرتے ہیں، خواہ وہ کتنا ہی جھوٹا، دھوکے باز اور فریبی کیوں نہ ہو۔ حالانکہ بھیڑ چال کا اصطلاحی مفہوم ہی دھوکہ دہی کے بارے میں ہے جو دونوں لحاظ سے سیاسی جمہوریت کے حق میں نہیں ہے۔

    ہماری جمہوریت کے دعوے دار لیڈران عموما ناقابل عمل اور غیر حقیقی خوابوں ہی کو حقیقت محسوس کرواتے ہیں۔ اس لحاظ سے جمہوریت کی کامیابی کا انحصار یکسر طور پر عوام الناس میں رائے دہی کی یکسانیت پیدا کرتا ہے۔ ایسی ناقص اجتماعی فکر کے زیر اثر چونکہ لوگ سیاسی غوروفکر کا منبہ صرف اپنے ہی محبوب رہنما کو سمجھتے ہیں جس سے عوام کی اجتماعی سوچ کے سلب ہو جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔ سیاست میں بڑے بڑے سیاسی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جو ایک ہی زہنی طرز عمل پر مبنی ہوتے ہیں۔ ہجوم ذہنیت یا "ہرڈ مینڈیلٹی” بیمار ذہنیت کا دوسرا نام ہے۔ ہمارے ہاں کی سیاست میں بھی ایسا ہی ماحول بن چکا ہے کہ لوگ عام انتخابات میں تعلیم اور معیار کے مقابلے میں اپنے تعلق، واسطے اور ہوا کے رخ پر ووٹ دیتے ہیں جس میں حقیقی جمہوریت کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آتا یے۔

    جمہوریت کی اصل روح اظہار رائے کی آزادی ہے مگر ہمارے ملک میں گنگا الٹی بہتی ہے کہ سیاسی رہنمایان عوام میں ذہنی یکسانیت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں کوئی ووٹ نہیں دیتا ہے۔ سیاست میں ویژن اور علم ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ کھیل کے دوران آپ فورا مختلف ذہنی کیفیت میں چلے جاتے ہیں۔ جب جمہوریت میں ذہنی اختراع اور تنوع کو فروغ نہیں دیا جاتا، ووٹرز کو سوچنے کا موقعہ نہیں ملتا تو وہ مسلسل کند ذہن ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ہمارے ملک میں جب سے جمہوریت رائج ہوئی یے تب سے سیاستدانوں کی ایسی کھیپ پیدا ہوئی ہے کہ انہوں نے سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کا فرق ہی ختم کر دیا ہے۔ ہماری عوام بار بار انہی آزمائے ہوئے امیدواروں کو منتخب کرتی ہے جن کے ہاتھوں وہ پہلے ہی کئی بار رسوا ہو چکے ہوتے ہیں۔

    یعنی ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے رائج سیاسی نظام میں کوئی اعلی تعلیم یافتہ، سچا اور ایماندار انسان سیاسی امیدوار بننے کا اول رسک ہی نہیں لیتا اور وہ ایسا کرے بھی تو وہ کامیاب نہیں ہوتا ہے، تب تک رسوائی اس کا مقدر بن چکی ہوتی ہے۔ ہماری سیاست میں جھوٹ، منافقت اور بے وفائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ لوگ سچے انسان پر اعتبار نہیں کرتے۔ جھوٹے سیاست دانوں نے عوام کی ایسی نفسیات بنا دی یے کہ وہ اچھی خبروں میں منفی پہلو تلاش کر کے خود کو جھوٹی تسلی دیتے ہیں کہ ہمارے ملک میں سب اچھا چل رہا ہے۔ ہمارا حال اس بیمار جیسا ہے جو بیماری ہی کو شفا سمجھتا ہے اور اپنے درد کو کرید کر اس سے مزہ لیتا ہے۔ دنیا میں کئی ایسے نفسیاتی مریض ہیں جو خود کو ایذا دیکر اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ ان کو تلخی بھی مستقل مزا دینے لگتی ہے۔ ہماری اس بیماری کو فروغ دینے میں ہمارے ان مکار سیاست دانوں کا بنیادی کردار ہے جو ملکی وسائل کو لوٹنے اور اپنے عہدوں کی خاطر عوام کو اندھیرے میں رکھتے ہیں۔ یہ ایک قنوطی سوچ ہے جو ایک بار پیدا ہو جائے تو انسان کو کسی دوسرے کی کوئی خوبی، اچھائی یا مثبت بات نظر نہیں آتی، اسے ہر چیز ٹیڑھی ہی نظر آتی ہے جس طرح کہ شفاف پانی میں کھڑی ایک سیدھی چھڑی بھی آدمی کو ٹیڑھی نظر آتی ہے۔

    پاکستان تمام اسلامی ممالک میں واحد اور مسلمہ ایٹمی قوت یے۔ یہاں وسائل اور ذہانت کی کمی نہیں ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے اندر بھینگا پن اور مایوسی پیدا کر دی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ سیاست دانوں کے زریعے پیدا کی گی یہی "پولیٹیکل ہرڈ مینٹیلٹی” ہے۔ لوگوں کو آزادی سے سوچنے کا موقعہ دیں لوگ اسی ملک میں رہ کر کارنامے انجام دیں گے۔ دنیا بھر میں سائنسی ترقی ایک دوسرے کی مدد سے ہوتی ہے۔ سوچ میں جدت ہو۔ ہر انسان کو سوچنے کی آزادی ہو تو سوچوں میں اختراع پیدا ہو گا جس سے ایجادات ہونگی اور ترقی کرنے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ایک زمانہ تھا جب مسلم تہذیب میں پیدا ہونے والی بو علی سینا اور ابن رشد جیسی علمی شخصیات کی پورا یورپ پیروی کرتا تھا، اس وقت ساری دنیا امریکہ کی پیروی کرتی ہے۔ دنیا میں وہی اقوام ترقی کرتی ہیں جن میں اعلی پائے کی علمی شخصیات پیدا ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں عرصہ ہوا ہے کہ ایسی عظیم علمی ہستیاں پیدا ہونی بند ہو گئی ہیں یا وہ موجود ہیں تو ان کی قدر و منزلت نہیں کی جاتی ہے، جس وجہ سے ہم بھیڑ چال چلنے کے مرض میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ اس کی ایک مثال محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں جن کی ہم قدر نہ کر سکے۔ وہ پہلے عظیم المرتبت پاکستانی تھے جو اسلامی دنیا میں 500 سال کے بعد پیدا ہوئے مگر ہم نے انہی کے منہ سے کہلوایا کہ ناقدروں میں پیدا ہونا بدبختی ہے۔ جو قوم ذہانت کی بے قدری کرتی ہے وہ کبھی اعلی پائے کی قوم نہیں بن سکتی ہے۔ جب کوئی قوم ناامیدی کا شکار ہو جائے اور لوگوں کی اکثریت قنوطیوں پر مبنی ہو تو انہیں کچھ بھی ٹھیک نظر نہیں آتا یے، وہ ہر بات میں کیڑے نکالتے ہیں اور اپنے ہی ملک کی برائی کرتے ہیں، جیسے کہ اس ملک کی خرابیوں میں انکا کوئی حصہ ہی نہ ہو۔

  • عالمی دن براے تعلیم

    عالمی دن براے تعلیم

    عالمی دن براے تعلیم


    تحریر محمد ذیشان بٹ
    تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی کا بنیادی ستون ہے۔ یہ انسانی شعور، فکری بلندی اور زندگی کے حقیقی مقاصد کو سمجھنے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ دنیا بھر میں عالمی دن مختلف موضوعات کو اجاگر کرنے اور ان کے لیے شعور پیدا کرنے کے لیے منائے جاتے ہیں۔ انہی دنوں میں سے ایک "عالمی دن برائے تعلیم” بھی ہے، جو تعلیم کی اہمیت اور اس کے فروغ کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے۔

    عالمی دن برائے تعلیم کا آغاز اقوام متحدہ کے زیر اہتمام 2018 میں کیا گیا، جس کا مقصد دنیا بھر میں تعلیم کے حق کو تسلیم کرنا اور اس کی اہمیت پر زور دینا تھا۔ یہ دن ہر سال 24 جنوری کو منایا جاتا ہے تاکہ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے، اور یہ باور کرایا جا سکے کہ تعلیم کسی بھی انسان کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان اپنی ذات اور کائنات کو سمجھنے کے قابل نہیں ہو سکتا، اور معاشرتی ترقی کا تصور بھی ممکن نہیں۔

    پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں تعلیم کی صورت حال انتہائی افسوسناک ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں لاکھوں بچے اسکول نہیں جاتے، اور ان کی تعداد تقریباً 22.8 ملین ہے، جو دنیا بھر میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی دوسری بڑی تعداد ہے۔ ان میں سے زیادہ تر بچے غربت، صنفی امتیاز، اور سہولیات کی عدم دستیابی جیسے مسائل کی وجہ سے تعلیم سے محروم ہیں۔ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے صورت حال مزید ابتر ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، جہاں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی یا ان کے لیے اسکول ہی موجود نہیں۔ سندھ اور بلوچستان جیسے پسماندہ صوبوں میں تعلیم کی صورت حال بدترین ہے، جہاں بنیادی تعلیمی ادارے بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    اسلام تعلیم کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ قرآن مجید کی پہلی وحی ہی تعلیم کے بارے میں ہے: "پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔” نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ تعلیم کے بغیر انسان کا ذہنی اور روحانی ارتقا ممکن نہیں، اور وہ ایک مردہ جسم کی مانند ہے۔ اسلام نے تعلیم کو عبادت کے درجے پر فائز کیا ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے معاشرے میں اسلامی تعلیمات پر عمل درآمد کی کمی نظر آتی ہے۔

    پاکستان میں تعلیم کو کبھی بھی ترجیحی بنیادوں پر نہیں لیا گیا۔ ہر آنے والی حکومت نے بلند و بانگ دعوے کیے، لیکن عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بجٹ کا معمولی حصہ تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا ہے، اور وہ بھی اکثر بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔ دیہی علاقوں میں اسکول کی عمارتیں کھنڈر بن چکی ہیں، اساتذہ کی کمی ہے، اور کئی جگہوں پر اسکول صرف کاغذات میں موجود ہیں۔

    مزید برآں، پاکستان میں مختلف تعلیمی نظام رائج ہیں، جن میں سرکاری اسکول، نجی اسکول، مدارس اور غیر ملکی نصاب پر مبنی تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ یہ نظام طبقاتی فرق کو بڑھا رہے ہیں اور تعلیمی معیار میں یکسانیت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ نجی تعلیمی ادارے تعلیم کو کمانے کا ذریعہ بنا چکے ہیں، جہاں معیار تعلیم کے بجائے فیس کی بنیاد پر طلبہ کو داخلے دیے جاتے ہیں۔ یہ رجحان متوسط اور نچلے طبقے کے بچوں کو تعلیم سے محروم کر رہا ہے۔

    تعلیم کے فروغ کے لیے چند تجاویز پر عمل ضروری ہے۔ سب سے پہلے، تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے اور اس کے لیے زیادہ بجٹ مختص کیا جائے۔ دیہی علاقوں میں تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں، اسکولوں کی حالت بہتر بنائی جائے، اور لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اساتذہ کی تربیت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے اور ان کی تنخواہیں بہتر کی جائیں تاکہ وہ دلجمعی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔

    تعلیمی نظام میں یکسانیت پیدا کی جائے، اور ایک ایسا نصاب مرتب کیا جائے جو تمام طبقات کے لیے قابل قبول ہو۔ نجی تعلیمی اداروں کو قواعد و ضوابط کا پابند بنایا جائے تاکہ وہ معیار تعلیم کو برقرار رکھ سکیں اور تعلیم کو کاروبار نہ بنائیں۔

    حکومت کو چاہیے کہ عوام میں تعلیم کی اہمیت کا شعور اجاگر کرنے کے لیے مہم چلائے اور والدین کو اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے ترغیب دی جائے۔ میڈیا، مذہبی رہنما، اور سماجی تنظیمیں اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

    تعلیم کسی بھی قوم کے لیے ترقی کا زینہ ہے۔ اگر پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنانا ہے تو تعلیم کے میدان میں انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے۔ تعلیم ہر شخص کا بنیادی حق ہے، اور اس حق کو پورا کیے بغیر معاشرتی ترقی اور استحکام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ عالمی دن برائے تعلیم ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کے لیے ایک تعلیم یافتہ اور باشعور معاشرہ تشکیل دینا ہے۔

    Title Image by Ernesto Eslava from Pixabay

  • استاد کا مقام

    استاد کا مقام

    استاد کا مقام


    ٹیچر ڈے کے موقع پر خصوصی تحریر
    فیصل جنجوعہ

    انسان کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور پھر ماں اپنے جگر کا ٹکڑا استاد کے حوالے کر دیتی ہے اور استاد اس کے لئے پوری دنیا کو ایک درسگاہ بنانے کی طاقت رکھتا ہے۔ باپ بچے کو زمین پر قدم قدم چلنا سکھاتا ہے ، استاد اسے دنیا میں آگے بڑھنا سکھا تا ہے۔ استاد کا کردار معاشرے میں بہت اہم ہے۔معلّمی وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام میں نہیں بلکہ ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم نے بھی استاد کی قدر کی وہ دنیا بھر میں سرفراز ہوئی۔ امریکہ، برطانیہ، جاپان، فرانس، ملائیشیا، اٹلی سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک میں جو عزت اور مرتبہ استاد کو حاصل ہے، وہ ان ممالک کے صدور اور وزرائے اعظم کو بھی نہیں دیا جاتا کیوں کہ یہ لوگ جانتے ہیں کہ استاد مینار نور ہے، جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے، جو ہمیں بلندی پر پہنچا دیتی ہے۔
    ایک انمول تحفہ ہے، جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حضور  ﷺ کو بحیثیت معلم بیان کیا اور خود نبی کریم ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا کہ ”مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے” امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود ان کے دل میں کوئی حسرت ہے، تو آپ نے فرمایا کہ ”کاش میں ایک معلم ہوتا”۔ استاد کی عظمت و اہمیت اور معاشرے میں اس کے کردار پر علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کہتے ہیں کہ ” استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں، کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے”۔علامہ محمداقبال رحمة اللہ علیہ کے یہ الفاظ معلم کی عظمت و اہمیت کے عکاس ہیں۔”استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں۔

    کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور انکو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہی کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگذاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگذاری ملک کے معلموں کی کارگذاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اسکے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سر چشمہ اسکی محنت ہے۔ معلم فروغ علم کا ذریعہ ہے۔لیکن اس کے علم سے فائدہ وہ نیک بخت اٹھاتے ہیں۔جنکے سینے ادب و احترام کی نعمت سے مالا مال ہوں۔کیونکہ :الادب شجر والعلم ثمر فکیف یجدون الثمر بدون الشجر۔”ادب ایک درخت ہے اور علم اسکا پھل۔اگر درخت ہی نہ ہوتو پھل کیسے لگے گا؟”
    خلیفہ چہارم امیر المومنین حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایا!”جس نے مجھے ایک حرف بھی بتایا میں اسے اُستادکا درجہ دیتا ہوں۔ایک دوسرے موقعہ پر فرماتے ہیں کہ”عالم کا حق یہ ہے کہ اس کے آگے نہ بیٹھو اور ضرورت پیش آئے تو سب سے پہلے اس کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائو۔”امام قاضی ابو یوسف رحمة اللہ علیہ:امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے نماز پڑھی ہو اور اپنے استاد سیدنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کیلئے دعا نہ مانگی ہو۔ہارون الرشید :ہارون الرشید کے دربار میں کوئی عالم تشریف لاتے تو بادشاہ ان کی تعظیم کیلئے کھڑا ہوجاتا۔درباریوں نے کہا کہ اس سلطنت کا رْعب جاتا رہتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ اگر علمائے دین کی تعظیم سے رعب سلطنت جاتا ہے تو جائے۔ایک دفعہ ہارون الرشید نے ایک نابینا عالم کی دعوت کی اور خود ان کے ہاتھ دھلانے لگا۔اس دوران میں عالم صاحب سے پوچھا۔آپ کو معلوم ہے کہ کون آپ کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہا ہے۔عالم نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر ہارون الرشید نے جواب دیا کہ میں نے یہ خدمت خود انجام دی ہے۔

    اس پر عالم دین نے کسی ممنونیت کا اظہار نہیں کیا۔بلکہ جواب دیا کہ ہاں آپ نے علم کی عزت کیلئے ایسا کیا ہے۔اس نے جواب دیا بے شک یہی بات ہے۔ہارون الرشید نے اپنے بیٹے مامون کو علم و ادب کی تعظیم کے لئے امام اصمعی کے سپرد کر دیا تھا ایک دن ہارون اتفاقاً انکے پاس جا پہنچا۔دیکھا کہ اصمعی اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے۔ہارون الرشید نے برہمی سے کہا۔میں نے تو اسے آپکے پاس اسلئے بھیجا تھا کہ آپ اس کو ادب سکھائیں گے۔آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے پانی ڈالے اور دوسرے ہاتھ سے آپ کے پاؤں دھوئے۔انسان کی زندگی کا سب سے اہم مقصد اور فرض سمجھ بوجھ حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لئے ہم جو کوشش کرتے ہیں اسے تعلیم کہتے ہیں یہ تعلیم روحانی ، ذہنی اور جسمانی ہر طرح کی ہوتی ہے اور اس طرح ہم اشرف المخلوقات کے درجے تک پہنچتے ہیں ۔معاشرتی زندگی کے جن شعبوں پر سب سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے، ان میں حصول علم نہایت نمایاں ہے۔
    کیوں کہ تعلیم انسان کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے اور اسے معاشرے کا ایک قابل قدر عنصر بنانے میں مدد دیتی ہے، اور علم کی راہ پر منزلوں کا حصول ”استاد” کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ یہ استاد ہی ہے جس نے ایک فرد کی تربیت کی اور اس کی ذہنی نشوونما کا فریضہ سرانجام دینا ہے اور اس فریضہ کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ استاد کو معاشرہ میں اس کا جائز مقام دیا جائے۔ معاشرتی خدمات کے عوض معلم کا حق بنتا ہے کہ اسے سوسائٹی میں نہ صرف اعلیٰ مقام دیا جائے بلکہ اس کے ادب و احترام کو بھی ملحوظ خاطر رکھاجائے۔ لیکن۔۔۔! یہاں قابل غور امر یہ ہے کہ ہر مذہب اور معاشرے میں استاد کو ملنے والی اہمیت کیا اس بات کی متقاضی نہیں کہ معلم خود کو رول ماڈل کے طور پر پیش کرے؟
    امام ابو حنیفہؒ سے ان کے عزیز شاگرد امام ابو یوسفؒ نے پوچھا استاد کیسا ہوتا ہے؟ فرمایا ”استاد جب بچوں کو پڑھا رہا ہو تو غور سے دیکھو، اگر ایسے پڑھا رہا ہو جیسے اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے تو استاد ہے اگر لوگوں کے بچے سمجھ کر پڑھا رہا ہے تو استاد نہیں ہے”۔صرف اس فرمان کو سامنے رکھ کر اگر آج کے اساتذہ کرام کی اکثریت کو پرکھ لیا جائے تو ہمیں مادیت پرستی کا غلبہ واضح نظر آئے گا۔ بلاشبہ دور جدید میں مادیت پرستی ہر معاشرے اور شعبہ میں گھر کر چکی ہے، لیکن کچھ شعبہ اور ان کے ذمہ داران کےلئے مادہ پرستی جیسی اصطلاح کبھی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ استاد معاشرہ کا وہ حصہ ہے جہاں اخلاقی اقدار کو بام عروج نصیب ہوتا ہے۔آج ایک پولیس مین کے آنے سے پورا محلہ کانپ اٹھتا ہے۔مجسٹریٹ کا رعب و دبدبہ افراد پر کپکپی طاری کر دیتا ہے۔لوگ پولیس والے ،مجسٹریٹ،جج اور دیگر افسران کے برابر بیٹھنا اس کی بے ادبی تصور کرتے ہیں۔لیکن استاد جس کی محنت ،کوشش اور شفقت سے یہ افراد ان بالا عہدوں پر فائز ہیں اْن کی قدر معاشرہ کرنے سے قاصر ہے۔حکومت اساتذہ کو ”سر” کا خطاب دینا چاہتی ہے ،سلام ٹیچر ڈے منایا جاتا ہے۔مگر افراد کے دل میں حرمت اساتذہ ناپید ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ اساتذہ کا جائزمقام معاشرہ میں بحال کرتے ہوئے حکمران اپنے اسلاف کی زندگیوں سے راہنمائی لیتے ہوئے ان کی معاشی حالت بہتر بنائیں۔اساتذہ کی عظمت معاشرہ میں بحال ہونے سے شرح خواندگی میں اضافہ ہو گا اور اساتذہ کی معاشی حالت بہتر ہونے سے اساتذہ اپنے منصب پر فرائض کی انجام دہی پورے لگن سے کریں گے جس سے علمی انقلاب اور ملکی ترقی کی راہیں کھلیں گی۔پاکستان میں اساتذہ اپنے حقوق کےلئے احتجاج کرتے ہیں۔مطالبات تسلیم نہ ہونے پر تعلیمی بائیکاٹ ہوتا ہے اور سڑکوں پر بھوک ہڑتالی کیمپ لگتے ہیں۔

    اس احتجاج کو روکنے کے لئے انہی کے شاگردان پر لاٹھیاں برساتے ہیں۔کیا یہی استاد کا مقام ہے؟ حکومت حقوق اساتذہ پورے کرنے کیلئے احتجاج کا انتظار کیے بغیر ان کا معاشی،معاشرتی اور ملی مقام بحال کرنے کیلئے قانون سازی کرے تاکہ ملک و ملت نظریہ پاکستان و نظریہ اسلام کو پروان چڑھاسکے۔اللہ ہم سب کو اپنے اساتذہ کا ادب و احترام اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

    استاد کا مقام
  • تعلیم یا جہالت

    تعلیم یا جہالت

    تعلیم یا جہالت

    تحریر. فیصل جنجوعہ

    کسی دانا کے بقول
    ” تعلیم یا علم جیسے جیسے بڑھتا جاتا ہے، انسان میں ویسے ویسے عاجزی کا مادہ بھی بڑھتا جاتا ہے..
    کوئی انسان جتنا زیادہ علم رکھتا ہے اس میں انا اور تکبر اتنا ہی کم ہوتا ہے "

    لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آپ کی تعلیم آپ کو کہاں لے کر جا رہی ہے؟؟
    کیا آپ میں اپنی تعلیم کا غرور تو نہیں؟

    جو تعلیم آپ کو انسانیت سے محبت اور ہمدردی کا درس ہی نہ دے سکے وہ تعلیم پھر کسی کام کی نہیں…
    تعلیم یافتہ شخص ایک عام شخص کی نسبت معاشرے کا زیادہ زمہ دار شخص ہوتا ہے. اس کے سر پر اس معاشرے کی اصلاح کا قرض ہوتا ہے.
    لیکن ہم جیسے جیسے تعلیم یافتہ ہوتے جا رہے ہیں ویسے ویسے ہمارے اندر جہالت بڑھتی جا رہی ہے.
    ہر سال ڈگری کی صورت میں بس ایک کاغذ کا اضافہ ہوتا جارہا ہے… اور ہم اپنی اخلاقیات سے ایک قدم پیچھے اور اپنے تکبر میں بہت قدم آگے بڑھتے جا رہے ہیں.
    زندگی انسان کی سب سے بڑی درس گاہ اور بہترین استاد ہے.
    جو سبق ہمیں زندگی کے تجربات اور ارد گرد کے لوگ دے جاتے ہیں وہ کسی کتاب میں نہیں ملتے. مگر زندگی ایک عجیب قسم کی استاد ہے.
    جب ہم سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ہر موڑ پر ہمیں نیا اور عمدہ سبق فراہم کرتی ہے….
    اور جب ہم سیکھنا چھوڑ دیتے ہیں تو زندگی ہمیں سکھانا چھوڑ دیتی ہے.
    پہلے لوگ بزرگوں کے پاس بیٹھا کرتے تھے. لیکن آج کل کی نوجوان نسل کے پاس اتنی فرصت ہی میسر نہیں… حالانکہ جو علم بزرگوں سے ملتا ہے وہ علم ہے جو انہوں نے زندگی کے تجربات سے سیکھا ہے….
    اور وہ علم کتابی اور نظریاتی علم سے بہت بہتر اور موثر علم ہے…..
    ایک شخص تعلیم یافتہ ہو کر بھی ظالم، چور، بدمعاش اور برا ہو تو پھر دوسرے عام لوگوں کی اصلاح کون کرے گا؟؟؟؟ "درحقیقت ہمارے معاشرے میں "جس کی لاٹھی اس کی بھینس”
    ” "الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے” "
    ” "ہمارا کتا، کتا،، تمہارا کتا ٹومی اور پپی” "
    ان سب محاورات اور مثال کا درست اور زبردست استعمال ہمارے معاشرے پر ہی ہوتا ہے….
    کبھی کبھی تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ جیسے یہ سب محاورے بنانے والوں نے ہمارے لئے ہی بنائے تھے…..
    یہاں جس کا مرضی دل کرتا ہے وہ احتجاج کرکے بیٹھ جاتا ہے…..
    پولیس کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ تھانہ بند کر دیتے ہیں…. اور اس کا نقصان بھی اس عوام کو ہوتا ہے…
    ڈاکٹرز کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ ہسپتال بند کر کے بیٹھ جاتے ہیں…
    اس کا ازالہ بھی اس قوم کو اپنے پیاروں کی جان کی قربانی کی صورت میں ادا کرنا پڑتا ہے……
    وکیلوں کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ کچہری بند کر دیتے ہیں… اس کا ہرجانہ بھی یہ قوم زلالت اور ازیت کی صورت میں ادا کرتی ہے….
    ٹرانسپورٹرز کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ ٹرانسپورٹ بند کر دیتے ہیں……
    درحقیقت اسطرح کے تمام مسائل سے اذیت صرف اور صرف ایک عام آدمی، ایک غریب اور مزدور کو ملتی ہے…..
    امیر امراء، اگر ٹرانسپورٹ بند ہے، تو کوئی بات نہیں اپنی لگژری گاڑیاں موجود ہیں، اگر ہسپتال بند ہیں تو موصوف لوگوں کی ایک کال پر کوئی بھی اچھا اور قابل ڈاکٹر خود گھر حاضر ہو جاتا ہے….
    اگر میڈیکل سٹور بند ہے تو کسی بھی شہر یا ملک کے کونے سے ادویات حاصل کر لی جاتی ہیں…. وکیل ان کے گھر خود چل کر آتے ہیں، تھانے کچہری میں ان لوگوں کا صرف نام چلتا ہے….
    لیکن وہ غریب کس کے آگے ماتھا ٹیکے، جو ایک ایک وقت کی روٹی سے بھی ترس رہے ہیں…. وہ ہسپتال بند ہونے سے اپنے پیاروں کی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے…..
    جھوٹے پرچوں میں پھنسا غریب کچہری کے دھکے کھاتا ہے، تھانوں میں اپنی بے گناہی اور اس ظالم معاشرے میں پیدا ہونے کی سزا کاٹتا ہے…….
    میرا خیال یہ ہے کہ جب عام آدمی کو احتجاج کی اجازت نہیں، اور اپنے حق پر آواز اٹھانے پر اسے جھوٹے پرچوں میں نامزد کردیا جاتا ہے….
    تو پھر عام آدمی کو بھی اختیار دیا جائے کہ جب پولیس والے احتجاج کریں تو یہ عوام ان پولیس والوں کے خلاف پرچے کاٹ سکے……
    اگر ڈاکٹروں کا احتجاج ہو تو یہ عوام ہسپتال جا کر دھکے مار مار کر ان ڈاکٹروں کو باہر نکال دے……
    اگر وکیل احتجاج کریں تو پھر ان کے خلاف کیس یہ عوام لڑ سکے……
    اگر ایسا کرنا ممکن نہیں تو پھر ایسے لوگوں کی زبان کو لگام دیا جائے……
    غریب کی تزلیل کسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے……
    جس کا مرضی دل چاہتا ہے وہی ارباب اختیار بن جاتا ہے…. اور ایک عام آدمی کو اپنے پاؤں کی جوتی سمجھ لیتا ہے…..
    خدا کی قسم جس دن ہماری قوم کو اپنے حقوق اور اپنی طاقت کا معلوم ہوگیا….. اس دن یہ قوم ایک عظیم اور عزت دار قوم بن جائے گی…..
    بے شک سر سید کے مطابق
    ” خدا اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا، جب تک وہ قوم خود اپنی حالت نہ بدلنا چاہے…… "”
    خدارا اس قائد کی قربانی کو بجا لائیں جس نے اس قوم کی خاطر اپنی آخری مرحلے کی ٹی بی جیسی خطرناک بیماری کو پوری دنیا کے سامنے راز رکھا……. تاکہ پاکستان بننے میں ان کی بیماری رکاوٹ نہ بن جائے….
    آپ کی تعلیم اگر آپ کو عاجز نہیں بناتی تو ایسی تعلیم پر فاتحہ خود ہی پڑھ دیا کریں، پڑھے لکھے جاہل بننے سے اچھا ہے کہ آپ پھر ان پڑھ رہ لیں. ڈگری کی صورت میں آپ بھی ایک کاروبار چلا رہے ہیں، آپ نے بھی دکان کھول رکھی ہے، آپ بھی منڈی کے تاجر ہیں، آپ کا رویہ بھی پھل فروش جیسا ہے، سی ایس ایس کرنے کے بعد بھی اگر آپ نے دوسروں کا حق مارنا ہے، ڈاکٹر بن کر بھی اگر غریب کی کھال اتارنے کو ترجیح دینی ہے، پی ایچ ڈی کرنے کے بعد بھی اگر آپ نے تکبر میں جینا ہے، انجینئر بن کر بھی اگر آپ نے کرپشن کر کے گندی سڑکیں اور عمارتیں تعمیر کرنی ہیں تو آپ سے اچھا وہ موچی ہے جو جوتے سی کر حق حلال کی کھا رہا ہے.

    Title Image by Gerd Altmann from Pixabay

  • کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

    کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

    کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

    تحریر: پروفیسر فلک ناز نور

    سرور علم ہے کیف شراب سے بہتر

    کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

    مطالعے یا کتب بینی کی اہمیت

    کتابیں ہر طالب علم کی زندگی میں اسے تحیل کی دنیا سے متعارف کرانے، دنیاکے بارے میں معلومات فراہم کرنے، لکھنے ، پڑھنے اور بولنے کی صلاحیتوں کو بہتر کرنے اور یاداشت و ذہانت کو جلا بخشنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہماری زندگی میں کتاب کی اہمیت کو کم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اچھی کتب نہ صرف ہمارے ذہنی افق کو وسیع کرنے میں مدد یتی ہیں بلکہ ہمیں اپنے ارد گرد کی دنیا سے جوڑنے کے دروازے کا کام بھی کرتی ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ذہنی طور پر متحرک رہنا انسان کی مجموعی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ مطالعہ انسانی دماغ کو فعال رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

    نیشنل انسٹی ٹیوٹ آن ایجنگ آپ کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے دماغ کو مصروف رکھنے کے طریقے کے طور پر کتابیں اور میگزین پڑھنے کا مشورہ دیتا ہے۔غرض کتاب اور مطالعے کی اہمیت ہر لحاظ سے مسلمہ ہے۔
    مطالعہ کے بارے میں بڑی شخصیات کیا کہتی ہیں؟

    دنیا کےتمام بڑے کامیاب لوگ مطالعے کے عادی تھے اور اپنے مشاہدات کی روشنی میں کتب بینی پر خوب صورت اور دل پر نقش ہونے والے اقوال آج بھی زندہ ہیں۔

    (امام خمینی ) جسم اور روح کی پرورش کتابوں سے ہوتی ہے، کتابیں تہیذیبوں کا نچوڑہیں

    جس طرح بیج کاشت کرنے سے زمین زرخیز ہوجاتی ہے، اسی طرح مختلف عنوانات پر کتابوں اور رسالوں کا مطالعہ انسان کے دماغ کو منور کر دیتا ہے۔ (ملٹن)

    دنیا میں ایک باعزت اور ذی علم قوم بننے کےلیے مطالعہ ضروری ہے مطالعے میں جوہر انسانی کو اجاگر کرنے کا راز مضمر ہے (گاندھی جی)

    دوستوں کی طرح کتابوں کا انتخاب بھی پوری احتیاط اور توجہ سے کرنا چاہیے اور ہمیشہ اچھی کتابیں پڑھنی چاہییں (حکیم محمد سعید)

    کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر

    فروغ مطالعہ کیسے ممکن ہے؟

    والدین کی ذمہ داری

    والدین کو بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی پڑھنے کی عادت ڈالنی چایئے۔ بعض مائیں بچوں کو موبائیل فون تھما دیتی ہیں۔ برقی آلات کی روشنی چھوٹے بچوں کی آنکھوں اور دماغ کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے جبکہ کتب کے مطالعے سے بچے نئے الفاظ سیکھتے ہیں۔بچوں کو نصابی کتب کا ساتھ ساتھ دیگر معلوماتی ، تفریحی اور اصلاحی کتب بھی پڑھنے کی ترغیب دینی چایئے۔ ہمارے ہاں کچھ لاعلم والدین جب بچوں کے ہاتھ میں غیر نصابی کتاب یا رسالہ دیکھتے ہیں تو وہ اسے وقت کا ضیا ع سمجھ کر بچوں کو ٹوکتے ہیں حالانکہ جدید تحقیق کے مطابق جو بچے نصاب کی کتب کے ساتھ ساتھ دوسری کتب پڑھتے ہیں وہ ذہنی طور پر ایسے بچوں سے بہت آگے ہوتے ہیں جو صرف کورس کی کتب ہی پڑھتے ہیں لہذا والدین کو بھی چاہیے کہ وہ مہنگے مہنگے موبائیل فون کے بجائے بچوں کو کتابیں تحفے میں دیں۔

    سکولوں اور جامعات کا کردار :

    بچوں کو ابتدا سے ہی کتب بینی کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ طالب علموں کی پراگرس رپورٹس / گریڈ شیٹ میں کتب پڑھنے کے نمبر ہونے چاہیے۔ اردو ، اسلامیات کے اساتذہ ہفتہ وار بک ریڈنگ سیشن بھی رکھ سکتے ہیں۔ ہمارے ادارے پریس فار پیس نے ملک کے دور دراز علاقوں کے چند منتخب سکولوں میں اس سرگرمی کا انعقاد کیا ہے جس کے نہایت مفید نتائج سامنے آئے ہیں۔

    سکولوں ، کالجوں اور اعلی تعلیمی اداروں میں ٹیبلو جیسی مہنگی سرگرمیوں کے بجائے بزم ادب، بیت بازی اور کتب بینی کے مقابلوں کو متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

    حکومتی اقدامات

    حکومت کو کاغذ، اسٹیشنری پر بے ٹیکس کو کم یا ختم کرنا چائیے۔ تعلیمی بجٹ میں اضافے کے ساتھ تعلیم سے محروم بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کے علاوہ تعلیمی نظام میں کتاب پڑھنے اور تخلیقی مطالعے کی مہارت کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ امتحانی نظام اور ملازمتوں کے امتحان میں بھی ایم سی کیوز نوعیت کے ٹیسٹوں کے بجائے ایسا امتحانی نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے جس میں نمایاں کامیابی گہرے مطالعے پر انحصار کرتی ہو۔
    لائبریریوں کا قیام اور ان میں بچوں کی سرگرمیوں کا انعقاد

    بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بچوں کے لیے علمی اور تفریحی سرگرمیوں کی کمی ہے۔ حکومت کو ہر کمیونٹی میں پبلک لائبریریاں بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔لائبریریوں میں بچوں تفریح اور تعلیم سے متعلق سرگرمیاں ہوں گی تو بچوں کا رشتہ کتاب، لائیبریری اور علم سیکھنے سے گہرا ہوگا۔

    اس کے علاوہ جو لوگ کتابیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ ان کتب خانوں میں جاکر اپنی پسند کی کتاب حاصل کر سکتے ہیں تاکہ علم کی پیاس بجھا سکیں۔

    کتاب میلوں کا انعقاد اور بک سٹال کی فیسیس

    پریس فار پیس پبلی کیشنز کے پلیٹ فارم سے چند بڑے اور چھوٹے کتب میلوں میں شرکت اور بک سٹالز کے انتظام کا عملی تجربہ حاصل ہے۔ میرے مشاہدے اور تجربے کے مطابق بعض تعلیمی اور دوسرے ادارے بک فئیرز کا اہتمام کرتے ہیں تاہم ان کی فیسیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ کچھ یونیورسٹیاں کتب میلوں کے دوران میلے میں آنے والے لوگوں پر سیکورٹی کے نام پر بے جا بندشیں لگاتی ہیں جنھیں ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح بک فئیرز کے فیسیں کم کرنے کی ضرورت ہے۔ کئی چھوٹے اشاعتی ادارے ، ادبی انجمنیں اور "سیلف ہیلپ ماڈل” پر کتب شائع کرنے والے مصنفین بھی ان بڑے شہروں کے کتب میلوں میں شرکت کی خواہشن مند ہوتے ہیں لیکن ان کتب میلو ں کی بھاری فیسوں کے باعث شرکت نہیں کرسکتے۔

    اگر ہم کتاب بینی کے فروغ کےلیے واقعی سنجیدہ ہیں تو ہمیں ذاتی اور حکومتی سطح پر درج بالا اقدامات پر فوری عمل کرنا ہوگا ۔

    پروفیسر فلک ناز نور

    پروفیسر فلک ناز نور

  • تھمی تھمی تھی رہگزر، جمی جمی سی گرد تھی

    تھمی تھمی تھی رہگزر، جمی جمی سی گرد تھی

    تھمی تھمی تھی رہگزر، جمی جمی سی گرد تھی

    جنید احمد نور کی کاوشوں کو منظوم خراج از: اکمل نذیر، بہرائچ

    تھمی تھمی تھی رہگزر، جمی جمی سی گرد تھی
    مسافر ادب کی شکل کتنی زرد زرد تھی

    ہر ایک سمت چھائیں تھیں وہ بدلیاں گمان کی
    نظر سے چھپ کے رہ گئ تھی صورت آ سمان کی

    نہ جانے کتنے تارے اپنی روشنی بکھیر کر
    روانہ ہو چکے تھے آ سماں سے منھ کو پھیر کر

    مگر فلک کے کونے میں تھی اک کرن امید کی
    پھر اس نے ان نجوم سے جو روشنی کشید کی

    اسی کے باعث اور ایک تارے کا جنم ہوا
    اندھیروں کا اٹھا ہوا جو سر تھا آ ج خم ہوا

    جنید نام نامی ہے اس انجم منیر کا
    کہ جس پہ ہے جوانی میں گمان ایک پیر کا

    قلم میں اسکے دیکھئے یہ کیسی آ ب و تاب ہے
    کہ جیسے لفظ لفظ میں چھپا کوئ نصاب ہے

    کیا ہے جس نے نام اپنے شہر کا جہان میں
    کہ جیسے بس یہی تھا تیر علم کی کمان میں

    جہاں جہاں سے علم کے خزانوں کی امید تھی
    ہر ایک در پہ سمجھو اس گدا نما کی عید تھی

    مرتب ان کو کر کے اس نے شکل دی کتاب کی
    وہ داد پائ سب سے اپنے حسن انتخاب کی

    کہ جس سے اس کو شہر شہر شہرتیں عطا ہوئیں
    اور اہل علم و فن کی اس کو صحبتیں عطا ہوئیں

    تھمی تھمی تھی رہگزر، جمی جمی سی گرد تھی

    وہی ہیں صحبتیں کہ جن کا آ ج فیض عام ہے
    جہان علم و فن میں آ ج اس کا خوب نام ہے

    خدا کرے کہ منزلوں کی سمت وہ رواں رہے
    اور اس کا عزم خدمت ادب یونہی جواں رہے