Tag: علم

  • پیرزادہ اقبال احمد فاروقی: علم و اشاعت کی ایک روشن روایت

    پیرزادہ اقبال احمد فاروقی: علم و اشاعت کی ایک روشن روایت

    (۲۰ دسمبر یوم وفات پر خصوصی تحریر)

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    پیرزادہ اقبال احمد فاروقی 1346ھ مطابق 4جنوری 1928ء کو ضلع گجرات (پاکستان) سے چودہ میل دور ایک چھوٹے سے گاؤں ”شہاب دیوال“ میں مولانا انور پیر فاروقی کے گھر پیدا ہوئے۔ پیرزادہ اقبال احمد فاروقی کا نام آتے ہی لاہور کی وہ علمی فضا ذہن میں آ جاتی ہے جس میں کتاب کی خوشبو، قلم کی حرمت اور مسلکِ اہل سنت کی فکری وقار ایک ساتھ سانس لیتے تھے۔ وہ محض ایک فرد نہیں تھے بلکہ ایک روایت تھے، ایسی روایت جو علم، اشاعت، تنظیم اور استقامت سے بنی۔

    برصغیر میں رضویات کی اشاعت ایک سنجیدہ اور صبر آزما کام رہا ہے۔ یہ کام نعروں سے نہیں، برسوں کی محنت، مطالعے اور مزاج شناسی سے آگے بڑھتا ہے۔ پیرزادہ اقبال احمد فاروقی نے اسی خاموش محنت کو اپنا شعار بنایا۔ ناشرِ رضویات، مدیر ماہنامہ “جہانِ رضا” اور مجلسِ رضا کے روحِ رواں کی حیثیت سے ان کی شناخت وقت کے ساتھ ایک ادارہ بن گئی۔

    ان کی ولادت ضلع گجرات کے نواحی گاؤں شہاب دیوال میں ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب برصغیر میں دینی روایت گھرانوں کے ذریعے منتقل ہوتی تھی۔ فاروقی خاندان ایک ایسا ہی علمی و روحانی خانوادہ تھا جہاں علم وراثت میں ملتا تھا اور عمل اس کی تفسیر بنتا تھا۔ والد، دادا، پردادا اور دیگر بزرگ سب علم و تصوف کے چراغ تھے۔ سری نگر کے مضافات سے ہجرت کر کے آنے والا یہ خاندان اپنے ساتھ صرف سامان نہیں بلکہ صدیوں کی تہذیبی روشنی بھی لایا تھا۔

    ابتدائی تعلیم گھر کے ماحول ہی میں ہوئی۔ قرآن، تجوید اور قرأت والد اور تایا سے حاصل کی۔ فارسی ادب سے شغف بچپن ہی میں پیدا ہو گیا اور گلستان، کریما اور پندنامہ جیسے متون کے معانی پنجابی میں یاد کرنا اس دور کے تعلیمی ذوق کی خوب صورت مثال ہے۔ لاہور کا سفر 1937ء میں ہوا اور یوں ایک طالب علم علم کے اس شہر سے جڑ گیا جو بعد میں اس کی شناخت کا حصہ بن گیا۔

    مولانا محمد نبی بخش حلوائی، دارالعلوم حزب الاحناف، مدرسہ تعلیم الاسلام بہاولنگر اور پھر پنجاب یونیورسٹی تک کا سفر محض اسناد حاصل کرنے کا سفر نہیں تھا بلکہ فکری تشکیل کا زمانہ تھا۔ منشی فاضل، مولوی فاضل، میٹرک، انٹر، گریجویشن، ایم اے، ایل ایل بی، سب مراحل ترتیب سے طے ہوئے۔ اسی دوران خطاطی جیسے لطیف فن سے شغف بھی رہا جو ان کے ذوق کی ہمہ گیری کو ظاہر کرتا ہے۔

    پیرزادہ اقبال احمد فاروقی: علم و اشاعت کی ایک روشن روایت

    سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ میں بیعت نے ان کی شخصیت کو وہ باطنی توازن دیا جو بعد میں ان کی تحریر، تقریر اور تنظیمی مزاج میں نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اختلاف میں بھی شائستہ اور دعوت میں بھی سنجیدہ رہے۔

    1962ء میں مکتبہ نبویہ لاہور کا قیام ان کی زندگی کا اہم موڑ تھا۔ اشاعتِ دین کو انہوں نے تجارت نہیں بنایا بلکہ خدمت سمجھا۔ نادر کتب کے تراجم، مشکل متون کی ترتیبِ نو اور اہل سنت کے علمی ذخیرے کو عام فہم انداز میں پیش کرنا ان کا امتیاز تھا۔ “معارج النبوت”، “الدر الثمین”، “روضۃ القیومیہ” اور دیگر کتب محض شائع نہیں ہوئیں بلکہ ایک فکری خلا کو پُر کرتی گئیں۔

    ماہنامہ”جہانِ رضا” ان کی زندگی کا مستقل حوالہ ہے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصہ اس رسالے کی اشاعت نے رضوی فکر کو سرحدوں سے آزاد کر دیا۔ پاکستان سے نکل کر ہندوستان، یورپ، امریکا اور عرب دنیا تک اس کے قارئین پھیل گئے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی کے افکار پر چالیس ہزار سے زائد مقالات کی اشاعت کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک منظم اور مسلسل فکری منصوبہ تھا۔

    لاہور کی گنج بخش روڈ کو بازارِ علم بنانے میں بھی ان کا کردار پس منظر میں رہ کر سامنے آتا ہے۔ مکتبہ اسلامیہ، مکتبہ حامدیہ اور ضیائے حرم جیسے ادارے اسی فکری فضا کی پیداوار تھے۔ یہ وہ لاہور تھا جہاں طالب علم کتاب کی تلاش میں گلیوں میں گھومتے تھے اور علما مکالمے سے علم کو آگے بڑھاتے تھے۔

    مرکزی مجلس رضا کا قیام 1967ء میں ایک اور سنگ میل تھا۔ جلسے، سیمینار، کتب، پمفلٹس اور نغماتِ رضا کے ذریعے جو فکری بیداری پیدا ہوئی، وہ آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ کام شور سے نہیں بلکہ حکمت، منصوبہ بندی اور مسلسل محنت سے ہوا۔

    سرکاری ملازمت کے باوجود ان کا علمی رشتہ کبھی منقطع نہیں ہوا۔ 1988ء میں گریڈ 19 سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ پوری طرح علم و اشاعت کے لیے وقف رہے۔ ان کا حلقہ احباب پاک و ہند کے علما، مشائخ اور محققین پر مشتمل تھا، خاص طور پر رضویات پر کام کرنے والوں سے ان کی وابستگی مثالی تھی۔

    16 صفر 1435ھ، 20 دسمبر 2013ء کو ان کا وصال ہوا۔ میانی صاحب کے قبرستان میں تدفین ہوئی اور یوں ایک عہد اختتام کو پہنچا، مگر ان کی کتب، رسائل اور شاگردوں کی صورت میں یہ عہد آج بھی زندہ ہے۔

    ساٹھ سے زائد تصانیف و تراجم، "فکر فاروقی”، "تذکرہ علمائے اہل سنت لاہور”،”نسیم بطحا”، "باتوں سے خوشبو آئے” اور دیگر کتب اس بات کی گواہ ہیں کہ پیرزادہ اقبال احمد فاروقی نے زندگی کو صرف جیا نہیں بلکہ لکھا، سنوارا اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ وہ واقعی سفیرِ رضا تھے۔ خاموش طبع ، مستقل مزاج اور باوقار شخصیت کے مالک تھے۔ ایسے لوگ تاریخ کے ہنگاموں میں کم بولتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے بعد انہی کی آواز سب سے واضح سنائی دیتی ہے۔

  • ڈی سی آفس اٹک میں قائم ہونے والی نئی لائبریری کا افتتاح

    ڈی سی آفس اٹک میں قائم ہونے والی نئی لائبریری کا افتتاح

    اٹک (ڈاکٹر شجاع اختر اعوان سے ) ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضا نے ڈی سی آفس اٹک میں قائم ہونے والی نئی لائبریری کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ افتتاحی تقریب میں سرکاری افسران، محکمہ لائبریریز کے نمائندگان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔افتتاح کے موقع پر ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا نے کہا کہ اس لائبریری کا قیام علم دوست ماحول کو فروغ دینے اور نوجوان نسل کو تحقیق و مطالعہ کی جانب راغب کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں تقریباً ساڑھے بارہ سو نایاب اور تاریخی کتابوں کو یہاں رکھا گیا ہے، جب کہ اس لائبریری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک آن لائن ایپ سے بھی منسلک کر دیا گیا ہے، جس کے ذریعے شہری بآسانی کتابوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔لائبریری میں شامل کتابیں اٹک کی تاریخ، ثقافت، جغرافیہ، معاشرت اور دیگر اہم موضوعات پر مبنی ہیں۔

    ڈی سی آفس اٹک میں قائم ہونے والی نئی لائبریری کا افتتاح

    یہ تمام کتب برسوں سے خصوصی توجہ سے محروم تھیں، جنہیں ڈپٹی کمشنر اٹک نے اپنی ذاتی دلچسپی کے نتیجے میں ڈی جی لائبریریز پنجاب اور متعلقہ محکموں کے تعاون سے محفوظ بنایا۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف ان نادر ذخائر کو ضائع ہونے سے بچانا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی علمی ورثہ فراہم کرنا بھی ہے۔شرکاء نے لائبریری کے قیام کو ایک مثبت اور دور رس قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام نوجوانوں میں تحقیق، مطالعہ اور علم کے فروغ کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر اٹک نے امید ظاہر کی کہ شہری اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

  • تشنگانِ ذوق کے لیے باعثِ تسکین

    تشنگانِ ذوق کے لیے باعثِ تسکین


    اٹک کی سرزمین اپنی تاریخ میں علم و ادب کی آبیاری کے حوالے سے ہمیشہ زرخیز رہی ہے۔ یہاں بڑے نامور اہلِ قلم نے جنم لیا۔ اور اُردو ادب کی دنیا میں اپنا منفرد مقام پایا۔ انہیں میں سے دو شخصیات کے بارے میں مختصراً ذکر کروں گا۔
    پروفیسر سید نصرت بُخاری ہمہ جہت ادیب ہیں۔ گورنمنٹ گریجویٹ کالج اٹک میں اُردو کے اُستاد ہونے کے ساتھ ساتھ اُردو، پنجابی خصوصاً کیمبل پوری لہجے کے بہترین شاعر ہیں۔ شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کر چکے ہیں۔ تنقید نگار، افسانہ نگار، خاکہ نگار، مضمون نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ادبی مجلّہ ذوق کے مدیر بھی ہیں۔
    ذوق کا آغاز 2019 میں ہوا۔ میں نے اُس وقت اپنے ایک تبصرے میں اسے ادب کے لیے ٹھنڈی، میٹھی ہوا کے جھونکے سے تعبیر کیا تھا۔ جو بعد میں واقعی درست ثابت ہوا۔ پہلے تقریباً سات مجلات متنوع موضوعات سے آراستہ تھے۔ پھر اُس کے بعد بُخاری صاحب نے خصوصی نمبرز کا سلسلہ شروع کیا۔ جن میں غالباً پہلا نمبر خواتین نمبر کے عنوان سے 2020 میں شائع ہوا۔ جس میں خواتین ادباء کے نہایت اعلیٰ و معیاری علمی و ادبی انٹرویوز شامل تھے۔ میں نے اس نمبر کے حوالے سے (ذوقِ نُصرت) کے عنوان سے تبصرہ لکھا تھا۔ اسی سال مقالاتِ اٹک کے عنوان سے تاریخی و تحقیقی مضامین سے آراستہ نمبر شائع ہوا۔ اٹک کی تاریخ کے حوالے سے یہ شمارہ نہایت اہمیت حامل ہے۔

    تشنگانِ ذوق کے لیے باعثِ تسکین


    2021 میں وباء نمبر اور فضیلۃ الشیخ نمبرز شائع ہوئے۔ کرونا کی وباء کے حوالے سے اس شمارے میں نہایت اہمیت کے حامل مضامین شامل تھے۔اور اپنے موضوع کے اعتبار سے یہ پہلا ادبی مجلّہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ 2023 میں بھی دو نمبرز منصہءِ شہود پر لائے گئے۔ خواجہ سرا نمبر اپنے موضوع پر شائع ہونے والا پہلا تحقیقی مضامین سے مزین ادبی مجلّہ تھا جسے ادبی حلقوں میں بے حد سراہا گیا۔ دوسرا ڈاکٹر ارشد ناشاد نمبر تھا۔ اس مجلّہ میں اٹک دھرتی کے نامور علمی و ادبی ثبوت ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی شخصیت اور علمی خدمات پر مضامین شامل تھے۔
    اس وقت 2025 میں شائع ہونے والا ذوق کا شمارہ طاہر اسیر نمبر میرے سامنے ہے۔ اس شمارے میں اٹک کے ایک نامور اہلِ قلم، اُردو اور ٹکسالی پنجابی کے شاعر، اُردو مجلّہ جمالیات اور پنجابی مجلّہ پنجواں پتن کے مدیر، محقق، سوانح نگار، اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کے جنرل سیکرٹری، بلکہ ہمہ جہت ادیب کے علمی کاموں اور خدمات پر مختلف لکھاریوں کی طرف سے لکھے گئے تحقیقی مضامین سے سجایا گیا ہے۔ اداریہ میں پروفیسر نصرت بُخاری نے اپنے قلم کے ذریعے تفصیل کے ساتھ طاہر اسیر کی سوانح کو پُر اثر انداز میں قرطاس کے حوالے کیا۔ اس کے علاوہ طاہر اسیر کی شاعری، نثر نگاری، تحقیق اور اُردو و پنجابی ادب کے لیے اُن کی خدمات پر دیگر اہلِ قلم کی تحاریر سے اس ادبی مجلّہ کو سجایا گیا ہے۔
    ایک ادبی رسالہ کا اتنے تسلسل کے ساتھ اجراء کتنا مشکل اور کٹھن کام ہے۔ یہ بات اس تجربے سے گزرنے والا مدیر ہی جان سکتا ہے۔ انتہائی مشکلات اور سرمائے کی کمی کے باوجود اس کام کو جاری رکھنے پر محترم نُصرت بُخاری صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں۔ آنے والے دور اور نئی نسل کے لیے ذوق کے تمام شمارے اس قدر اہمیت کے حامل ہیں کہ ہر کتاب دوست اور خصوصاً محقق کی لائبریری میں ان کا ہونا از بس لازم ہے۔ اٹک میں علمی بک ڈپو اور اکادمی ادبیات کیمبل پور کے دفتر واقع میونسپل کمیٹی اٹک سے با رعایت دستیاب ہیں۔

  • اختر شہاب کی کتاب "بادل”: سائنسی ادب پر بہترین کاوش 

    اختر شہاب کی کتاب "بادل”: سائنسی ادب پر بہترین کاوش 

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی  

    اردو ادب میں سائنسی موضوعات پر تصنیف و تالیف کا رجحان ہمیشہ محدود رہا ہے۔ بیشتر علمی و ادبی مصنفین نے انسان، فطرت، محبت یا معاشرتی مسائل کو اپنا موضوع بنایا، مگر سائنس کی خشک اور منطقی دنیا کو اردو نثر میں بیان کرنا ایک مشکل فن ہے۔ اختر شہاب جن کا اصل نام مسعود اختر خان ہے نے اس مشکل کام کو آسانی اور فصاحت کے ساتھ سرانجام دینے کی کوشش کی ہے۔

    اختر شہاب محکمۂ موسمیات میں بطور پرنسپل میٹرولوجسٹ خدمات انجام دیتے رہے اور 2015ء میں ریٹائر ہوئے۔ عملی زندگی میں بادلوں، موسم، ہوا کے دباؤ اور موسمی تغیرات کا مشاہدہ ان کے پیشہ ورانہ معمول کا حصہ رہا۔ یہی تجربہ بعد ازاں ان کی تصنیفی دنیا میں ڈھل کر ایک منفرد سائنسی تصنیف "بادل” کی صورت میں سامنے آیا۔

    ان کی دیگر کتابوں میں افسانوی مجموعے "من تراش”، "ہم مہرباں”، سفرنامے "سفرین کہانی” اور "الحین بھوم” اور ذاتی سوانح "اختر شہابیاں” شامل ہیں۔ ان کے افسانوں پر پنجاب یونیورسٹی اور غازی یونیورسٹی میں تحقیقی مقالے لکھے جاچکے ہیں۔

    کتاب "بادل” اردو زبان میں بادلوں کے سائنسی، جغرافیائی اور ماحولیاتی پہلوؤں پر ایک جامع اور مدلل تصنیف ہے۔ مصنف نے بادلوں کی ساخت، اقسام، تشکیل کے عوامل، موسمی تبدیلیوں اور برسات کے عمل کو نہایت سادہ اور دل چسپ انداز میں بیان کیا ہے۔

    یہ کتاب میں بادلوں کی مختلف اقسام مادر بادل (Mother Clouds)، پہاڑی اٹھاؤ سے بننے والے بادل (Orographic Clouds)، خصوصی بادل (Special Clouds)، کُہر (Fog)، صاعقہ اور رعد، برسات کا عمل اور بادلوں کی پیمائش و مشاہدہ جیسے موضوعات کو تصویری و اصطلاحی وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف موسمیات کے طلباء و محققین کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے بلکہ عام قارئین کے لیے بھی بادلوں اور موسم کے نظام کو سمجھنے کا سادہ ذریعہ ہے۔کتاب کا بنیادی موضوع فطرت اور سائنس کے ملاپ پر مبنی ہے۔ اختر شہاب نے بادلوں کو محض آسمانی مظہر کے طور پر نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ساتھ جڑے ہوئے ایک قدرتی نظام کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

    اختر شہاب کی کتاب "بادل”: سائنسی ادب پر بہترین کاوش

    مصنف کا مقصد اردو قارئین میں سائنسی شعور بیدار کرنا، پیچیدہ اصطلاحات کو آسان زبان میں بیان کرنا اور اردو میں سائنسی ادب کی کمی کو پورا کرنا ہے۔

    یوں "بادل” اردو زبان میں سائنسی علم کی ترویج کا ایک سنگِ میل ثابت ہوتی ہے۔

    کتاب کی ساخت نہایت منظم اور سائنسی اصولوں کے مطابق ہے۔ ہر باب ایک مخصوص پہلو سے تعلق رکھتا ہے، جیسے بادلوں کی تشکیل، بادلوں کی اقسام و درجات، مشاہدہ و پیمائش، برق و گرج کے مظاہر، برسات کا عمل اور موسمی پیش گوئی میں بادلوں کا کردار شامل ہیں۔ 

    اختر شہاب نے اردو اور انگریزی اصطلاحات کو ساتھ ساتھ درج کیا ہے تاکہ قارئین بین الاقوامی سائنسی معیار سے واقف رہیں۔ کتاب میں تصاویر اور خاکے شامل ہیں جو سائنسی تصورات کو بصری انداز میں سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کا اسلوب سادگی، وضاحت اور تکنیکی صحت کا حسین امتزاج ہے۔ نہ ثقیل زبان، نہ غیر ضروری تفصیل بلکہ ایک واضح، معلوماتی اور قاری دوست انداز میں کتاب لکھی گئی ہے۔ 

    اگرچہ یہ ایک سائنسی کتاب ہے، مگر اختر شہاب نے اپنی نثر کو خشک نہیں ہونے دیا۔ ان کے ہاں تشبیہات، تمثیل، وضاحت اور مشاہداتی جزئیات کی فراوانی ہے۔ مثلاً بادلوں کی حرکت کو وہ انسانی رویوں سے تشبیہ دیتے ہیں، کہیں فطرت کے حسن کی جھلک دکھاتے ہیں، تو کہیں آسمان کو ایک متحرک کینوس کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

    انہوں نے تجزیاتی اسلوب کے ساتھ ساتھ تجرباتی نثر کی روایت کو بھی نبھانے کی کوشش کی ہے یعنی مشاہدہ، تجربہ اور استدلال تینوں عناصر ایک ساتھ چلتے ہیں۔

    "بادل” محض موسمیات کی ایک کتاب ہی نہیں بلکہ اردو میں سائنسی نثر کا ایک تجربہ بھی ہے۔

    اختر شہاب نے جس انداز سے انگریزی مواد کو اردو میں منتقل کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ اس عمل سے ایک طرف اردو زبان میں سائنسی اصطلاحات کو جڑنے کا موقع ملا، دوسری طرف عوام میں سائنس سے دلچسپی بڑھانے کا ذریعہ پیدا ہوا۔

    کتاب کی سب سے نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ نصابی و تحقیقی دونوں حیثیتوں میں قابلِ مطالعہ ہے۔

    طلباء کے لیے سادہ انداز میں مفید معلومات اور محققین کے لیے مفصل و سائنسی وضاحتیں فراہم کرتی ہے۔

    ڈاکٹر جمیل حسن کاظمی (سابق چیئرمین، شعبہ جغرافیہ، کراچی یونیورسٹی) کی جانب سے کتاب پر نظرثانی ہونا اس کی علمی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ کتاب کا ایک اور نمایاں پہلو عوامی افادیت ہے۔ اختر شہاب نے صرف ماہرینِ موسمیات کے لیے نہیں بلکہ عام قاری کے لیے بھی فہمِ فطرت کی راہیں کھولی ہیں۔

    "بادل” اردو سائنسی ادب میں ایک سنگِ میل ہے۔ اختر شہاب نے اس کتاب کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ سائنس کی زبان بھی اردو ہو سکتی ہے، اگر بیان میں خلوص، تجربہ اور شعور شامل ہو۔

    بادل نامی یہ کتاب نہ صرف اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی لائبریریوں میں ہونی چاہیے بلکہ ہر اُس شخص کے لیے مفید ہے جو فطرت کو سمجھنا چاہتا ہے۔

    اختر شہاب کا یہ کارنامہ اردو زبان کے سائنسی ادب میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے ایک ایسا باب جو بادلوں کی طرح اُمید، روشنی اور علم کی برسات کرتا ہے۔ کتاب کی اشاعت پر میں مصنف اور 

    نیشنل بک فاؤنڈیشن، اسلام آباد دونوں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

    .

  • پت جھڑ میں کشمیر کی سیر: تجزیاتی مطالعہ

    پت جھڑ میں کشمیر کی سیر: تجزیاتی مطالعہ

    ڈاکٹر فرہاد احمد فگار ، مظفرآباد

    سرفراز بزمی اردو شاعری کے اُن دردمند اور باوقار شعرا میں سے ہیں جنھوں نے مشرقی احساس، روحانی گہرائی اور عصری شعور کو یک جا کر کے اپنے اظہار کو ایک منفرد رنگ دیا ہے۔ ان کے ہاں لفظ صرف اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ تہذیبی شعور اور انسانی ضمیر کا آئینہ ہے۔سرفراز بزمی کی شاعری میں حضرت اقبال کا واضح پرتو ملتا ہے۔ میرا بزمی صاحب سے تعارف ان کے ایک مشہور قطعے کے ذریعے سے ہوا۔ وہی قطعہ جو اکثر غلطی سے علامہ اقبالؒ سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔
    اللہ سے کرے دور تو تعلیم بھی فتنہ
    املاک بھی، اولاد بھی، جاگیر بھی فتنہ
    ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
    شمشیر ہی کیا نعرۂ تکبیر بھی فتنہ
    یہ قطعہ ان کے فکری مزاج کی جھلک پیش کرتا ہے ۔ ۔ بزمی صاحب کےاس ضرب المثل قطعے کے حوالے سے میں ایک مضمون کچھ سال قبل ضبط تحریر میں لا بھی چکا ہوں۔ جو ایکسپریس سمیت کئی اہم اخبارات اور ویب سائٹس پر شائع بھی ہو چکا ہے۔ سرفراز بزمی صاحب نے اپنی ایک تحریر میں اس بات کا برملا اظہار بھی کچھ یوں کیا:
    "آج مجھے اپنی شاعری کے ابتدائی ایام کا اپنا ایک قطعہ جسے نادان احباب نے فکری اور لسانی ہم آہنگی کی بناپر علامہ اقبال سے منسوب کرنے کی غلطی کردی یہاں تک کہ پڑوسی ملک کی نیشنل اسمبلی میں بھی ایک باوقار رکن نے اسے علامہ سے منسوب کرتے ہوئے سنایا جس کے بعد یہ موضوع بحث بنا اور جستجو ہوئی کہ آخر یہ کس کی تخلیق ہے۔اور بالآخر مظفرآباد یونیورسٹی کے محقق ڈاکٹر فرہاد فگار نے اس بابت مجھ سے رابطہ کیا
    پھر ایک تحقیقی مضمون قلم بند کیا جس کے بعد اور بھی کئی احباب نے اس پر مضامین لکھے
    خیر میں عرض یہ کرنا چاہ رہا تھا کہ میرے اس قطعے کے بابت مظفر نگر یوپی کے مشہور شاعر جناب ریاض ساغر صاحب نے آج مجھ سے رابطہ کیا اور ایک فیس بک پوسٹ پر چل رہی ایک بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علامہ کا قطعہ ہے جسے بعض لوگ آپ سے منسوب کر رہے ہیں مجھے بڑی تکلیف ہوئی کہ ایسے بڑے اصحاب ادب بھی اسے آج تک علامہ کا سمجھ رہے ہیں ۔
    (سرفراز بزمی سوائی مادھوپور راجستھان انڈیا)”
    وہ شاعر جو علم و دولت کی اصل قدر کو روحانی ربط سے ناپتا ہے۔ سرفراز بزمی کی شاعری کی انھی معنوی بلندیوں کا تسلسل ہمیں ان کی نظم "پت جھڑ میں کشمیر کی سیر” میں ملتا ہے۔ یہ نظم انھوں نے 28اکتوبر 2024ء کو تخلیق کی اور وٹس ایپ کے ذریعے سے 27 اکتوبر 2025ء کو مجھے ارسال کی جب بزمی صاحب نے یہ نظم ارسال کی تو مجھے اتنی پسند آئی کہ میں نے فوراً اپنے محسن ومربی شوکت اقبال صاحب کی خدمت میں ارسال کی۔ انھوں نے نظم مکمل انہماک سے پڑھی اور یہ جواب دیا:”بھر پور تاثراتی نظم ہے اس پر مکمل تنقیدی کالم بنتا ہے۔”

    پت جھڑ میں کشمیر کی سیر: تجزیاتی مطالعہ


    شوکت صاحب کے حکم کی تعمیل میں یہ جسارت کرنے چلا ہوں۔سرفراز بزمی صاحب کی یہ نظم”پت جھڑ میں کشمیر کی سیر” بہ ظاہر کشمیر کے مناظرِ فطرت کی سیر ہے مگر درحقیقت کشمیر کے دکھ، انسانی بے بسی اور امیدِ نو کی ایک علامتی داستان ہے۔
    نظم کا آغاز ایک دل گرفتہ منظر سے ہوتا ہے ڈل جھیل کے کنارے ایک محافظ کھڑا ہے فولادی لباس میں ملبوس مگر آنکھوں میں خوف کی چمک لیے ہوئے۔ یہ منظر محض ایک سپاہی کی موجودگی نہیں بلکہ اس خوف، جبر اور غیر یقینی فَضا کی علامت ہے جو پورے کشمیر پر طاری ہے۔ شاعر کی نگاہ سطحی نہیں بلکہ باطنی ہے اور یہی بزمی صاحب کی شاعری کی شناخت بھی ہے۔ وہ فولاد میں لپٹے بدن کے پیچھے ایک لرزتے ہوئے انسان کو دیکھ لیتا ہے۔
    ڈل جھیل کا میلا پانی، شکستہ شکارے اور بجھا بجھا سا بزرگ مانجھی یہ سب تصویریں کشمیر کی اداسی اور ماند پڑتی ہوئی زندگی کی عکاس ہیں۔ شاعر کے بیان میں ایک ٹھہرا ہوا درد ہے جو نہ چیخ بن کر ابھرتا ہے نہ خاموشی میں گم ہوتا ہے۔ یہ درد دراصل ایک اجتماعی المیے کا استعارہ ہے۔ شاعر کی نگاہ جہاں بھی جاتی ہے وہاں بارود کی مہک، لہو کی تازگی اور تباہی کی چاپ سنائی دیتی ہے مگر اس تباہی میں بھی وہ جمال کی جھلک دیکھنے سے باز نہیں رہتا۔
    نظم کے ایک حصے میں شاعر سوال اٹھاتا ہے:
    “جو دیوداروں سے پوچھتا ہے چنار میں آگ کیوں لگی ہے؟”
    یہ سوال علامتی ہے۔ درخت فطرت کی صدیوں پرانی خاموش گواہیاں ہیں اور ان سے پوچھنا گویا وقت سے بازپرس کرنا ہے۔ چنار کی آگ صرف درخت کی نہیں بلکہ کشمیر کی روح کی آگ ہے ۔ چنار کشمیر میں ایک خاص استعارہ ہے جس سے آگ اگلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ وہ آگ جو ظلم، جدائی اور بے بسی نے بھڑکائی ہے۔
    لیکن سرفراز بزمی مایوسی کے شاعر نہیں۔ وہ خزاں کے زرد پتوں میں بھی بہار کی جھلک دیکھ لیتے ہیں۔ ان کی نظم کا سب سے درخشاں لمحہ وہ ہے جب وہ کہتے ہیں:
    “بجھی بجھی کانگڑی میں لیکن ابھی شرارے دہک رہے ہیں”
    یہ بات نظم کی فکری روح ہے۔ “کانگڑی” کشمیر کی روایتی حرارت ہے اور “شرارے” انسانی ارادے اور ضمیر کی علامت۔ کانگڑی کشمیر کی ثقافت کا وہ حسین چہرہ ہے جس کی مٹھی بھر آگ یخ بستہ موسم میں بھی حرارت دیتی ہے۔ وہ کم زور سی آگ برف میں بھی سردی کو شکست ریخت کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ شاعر کا بھی یقین ہے کہ ظلمتوں کے باوجود انسان کے باطن میں امید کی چنگاری زندہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں نظم محض بیان سے نکل کر فلسفے میں بدل جاتی ہے۔
    پھر منظر بدلتا ہے۔ برف پوش پہاڑ، پہلگام کی سفید چوٹیاں، آبشاروں کی شوخ سرگم سب امید، بقا اور تجدیدِ حیات کی علامت بن جاتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ خزاں کا موسم عارضی ہے، زخم مندمل ہوں گے اور بہارِ نو پھر سے لوٹے گی۔ یہ ایمان دراصل زندگی کے ابدی اصولِ تغیر پر مبنی ہے۔یہ فکر ہر کشمیری مفکر کی ہے ،ہر شاعر کی اور ہر قلم کار کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہر اس زندہ انسان کی جس کا خمیر تو کشمیر کی مٹی سے نہیں اٹھا تاہم وہ کشمیر کے درد سے مکمل طور پر آشنا ہے۔ سرفراز بزمی کا تعلق بھی مؤخر الذکر قبیل سے ہے۔
    نظم کے اختتام پر لہجہ درویشانہ اور روحانی ہو جاتا ہے۔ شاعر دعا دیتا ہے:
    “خدا تمھیں قوتِ نمو دے، وقارِ غیرت رہے سلامت، تمھیں محبت کی آبرو دے۔”
    یہ دعا کشمیر کے لیے ہے مگر اس کی معنویت عالمی ہے۔ یہ دراصل انسانیت، آزادی اور محبت کے بقا کی دعا ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ زمین پر حسن صرف فطرت سے نہیں بلکہ انسان کے ضمیر سے بھی جنم لے۔
    اگر اس نظم کو تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو اس میں تین بنیادی سطحیں واضح طور پر محسوس ہوتی ہیں۔ جمالیاتی سطح پر بزمی صاحب نے فطرت کی منظرکشی کو نہایت باریک حِسّی مشاہدے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ڈل جھیل کا نیلگوں پانی، جلے درختوں کی بو، چنار کے زرد پتے یہ سب تصویری ترکیبیں قاری کے ذہن میں متحرک منظر بنا دیتی ہیں۔ فکری سطح پر نظم حسن و جبر، خوف و امید اور خزاں و بہار کے تضاد پر قائم ہے۔ شاعر کے نزدیک مایوسی محض وقتی کیفیت ہے جب کہ امید اور تجدید انسان کی اصل شناخت ہے۔ علامتی سطح پر خزاں زوال اور جبر کی علامت ہے، بہار تجدید و آزادی کی اور شرارے انسانی حوصلے اور بےدار ضمیر کے پیام بر۔
    یہ نظم صرف کشمیر کی روداد نہیں بلکہ انسان کی ابدی جستجو اور مزاحمت کا استعارہ ہے۔ اس میں فطرت، تاریخ اور انسان ایک ہی بیانیے میں ضم ہو گئے ہیں۔ شاعر نے فطرت کے حسن میں چھپا ہوا کرب دکھایا ہے اور کرب میں چھپی ہوئی امید کو جاوداں کیا ہے۔
    “پت جھڑ میں کشمیر کی سیر” محض مناظرِ فطرت کی نظم نہیں، بلکہ ایک عہد کی روح کا بیان ہے۔ اس میں خزاں کی سرد ہوا کے ساتھ امید کی حرارت بہتی ہے اور شاعر کے الفاظ دل پر یوں نقش ہو جاتے ہیں جیسے چنار کے پتوں پر اترتی دھوپ۔ یہ نظم کشمیر کا نوحہ بھی ہے اور انسان کی جاودانی امید کا اعلان بھی کہ اندھیروں کے باوجود چراغِ ہمت جلا ہوا ہے۔

    Title Image background by Joe from Pixabay

  • علم و فن کا حسیں نگر ، زاہد اقبال بھیل

    علم و فن کا حسیں نگر ، زاہد اقبال بھیل

    علم و فن کا حسیں نگر ، زاہد اقبال بھیل

    تحریر : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

    ادب و فن کی دُنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے علم ، خلوص اور خدمت سے روشنی کے چراغ بن کر دوسروں کی راہ منور کرتی ہیں ۔ اُن کے وجود سے صرف کتابیں نہیں ، بلکہ دل بھی روشن ہوتے ہیں ۔ زاہد اقبال بھیل ایسی ہی ایک نابغۂ روزگار ہستی ہیں جنہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں ، علمی خدمات اور ادبی قیادت کے ذریعے اُردُو ادب کے افق پر ایک نیا رنگ بھرا ہے ۔
    زاہد اقبال بھیل کا وجود علم و فن کا ایک خوبصورت نگر ہے ، جہاں محبت ، خلوص ، صداقت اور خدمت کے چراغ ہر گوشے میں جلتے ہیں ۔ اُن کے قلم نے محبت کو حرفوں میں ڈھالا اور لفظوں میں احساس کی خوشبو بھر دی ۔ یہی تاثرات میرے دل سے نکل کر اس نظم کی صورت میں ڈھل گئے ہیں:؎

    علم و فن کا حسیں نگر ، زاہد اقبال بھیل

    ٫٫ علم و فن کا حسیں نگر ،، زاہد اقبال بھیل

    علم و فن کا حسیں نگر زاہد
    الفتوں کا ہو تم شجر زاہد

    پیار و اخلاص کے حوالے سے
    تم ہمیشہ ہو اوج پر زاہد

    تیری فطرت میں روشنی دیکھی
    تیری سوچیں ہیں معتبر زاہد

    اہلِ علم و ادب کی دُنیا کا
    تم ستارہ ہو ، تم قمر زاہد

    لوگ کرتے ہیں تیری تعریفیں
    کس سے اوجھل ترا ہنر زاہد

    قلبِ مقبولؔ کی اداؤں میں
    تیری الفت کا ہے اثر زاہد

    زاہد اقبال بھیل کی شخصیت ایک روشن ستارے کی مانند ہے جو ہر سمت اپنی روشنی پھیلا رہا ہے ۔ وہ ادب کو محض فن نہیں سمجھتے بلکہ اسے انسانیت کی خدمت کا وسیلہ مانتے ہیں ۔ اُن کے اندر کا شاعر ، منتظم ، اور مخلص انسان سب ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں ۔
    زاہد اقبال بھیل کی ادبی خدمات نے نہ صرف ننکانہ کی زمین کو معتبر کیا بلکہ اُن کی محبتوں کا دائرہ پوری دُنیا کے اہلِ قلم تک پھیل گیا ۔ ٫٫ بھیل انٹرنیشنل ادبی سنگت ،، اُن کے وژن ، اُن کی قیادت اور اُن کے ادب سے لگاؤ کی روشن علامت ہے۔
    اُن کے قلم کی سیاہی سے نکلنے والا ہر لفظ جیسے دلوں کی دھڑکن سے ہم آہنگ محسوس ہوتا ہے ۔ وہ الفت کے درخت ہیں جن کے سائے میں علم کے پودے پروان چڑھتے ہیں ، اور یہی اُن کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔
    دُعا ہے کہ زاہد اقبال بھیل کا یہ علم و فن کا حسیں نگر ہمیشہ آباد رہے ، اور اُن کی روشنی آنے والی نسلوں کے لیے مینارِ رہنمائی بنے۔

  • استاد استاد ہی ہوتا ہے

    استاد استاد ہی ہوتا ہے

    استاد استاد ہی ہوتا ہے


    تحریر: محمد ذیشان بٹ

    ؎
    چراغِ علم جلا کر جو اندھیروں کو مٹاتے ہیں
    وہی استاد ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں

    استاد کی تعریف یوں تو کتابوں میں ہزاروں ملتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ استاد وہ ہستی ہے جس کا ذکر زبان پر آتے ہی دل میں احترام کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے
    کہہ دیجیے: کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟

    یہ آیت اپنے اندر وہی حقیقت چھپائے ہوئے ہے جس نے استاد کو ہر دور میں مقامِ فضیلت پر فائز کیا۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:
    "اِنما بُعثتُ مُعلماً”
    (مجھے معلّم بنا کر بھیجا گیا ہے)۔
    یعنی استاد کا منصب اتنا بلند ہے کہ سرورِ کائنات ﷺ نے خود کو استاد قرار دیا۔

    حضرت علیؓ کا قول ہے: "جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ بھی میرا استاد ہے”۔ اور خلیفہ ہارون الرشید کے بچوں کی یہ روایت تاریخ میں محفوظ ہے کہ وہ اپنے استاد کی جوتیاں اٹھانے کا مقابلہ کرتے تھے۔ سوچنے کی بات ہے کہ آج کے بچے استاد کو موبائل پر "ٹیچر جی، نوٹ بھیج دیں” لکھ کر پیغام کرتے ہیں اور وہ بھی بغیر سلام کے۔

    یہ زمانہ سوشل میڈیا کا ہے، یہاں استاد کی عزت ماپنے کا پیمانہ لائکس اور کمنٹس بن گیا ہے۔ پانچ اکتوبر کو یومِ اساتذہ آتا ہے تو ہم سب اپنے استاد کی تصویر لگا کر سمجھتے ہیں کہ حق ادا کر دیا۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ استاد کی عزت فیس بک کے فریمز سے نہیں بلکہ کردار سے جڑی ہوتی ہے۔

    یوسفی صاحب نے استاد کو یوں بیان کیا تھا کہ "استاد وہ ہستی ہے جو شاگرد کو اس کے حال اور مستقبل دونوں سے ڈرا دیتا ہے۔” اور یہ ڈر کبھی کبھی اتنا شدید ہوتا ہے کہ شاگرد نصاب سے زیادہ استاد کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے۔ لیکن استاد کی اصل کامیابی اس وقت ہے جب وہ ڈر کو پیار میں بدل دے۔ اشفاق احمد نے کہا تھا: "استاد وہ ہے جو اپنے شاگرد کو یقین دلا دے کہ وہ کچھ کر سکتا ہے۔” یقین مانیں، استاد اگر صرف یہ ہنر دے دے تو ساری دنیا فتح ہو جاتی ہے۔
    "ڈی پی ایس کے انچارج اور ماہرِ تعلیم محمد افضال نے کہا کہ حقیقی استاد وہی ہے جو بچے کے دل سے خوف کو نکال کر اعتماد پیدا کرے۔”

    ہمارے اسلاف میں امام ابو حنیفہؒ نے پچیس سال اپنے استاد امام حمادؒ کی خدمت میں گزارے، پھر جا کر "امام اعظم” کہلائے۔ امام شافعیؒ فرماتے تھے: "میں اپنے استاد کے سامنے ایسے بیٹھتا تھا جیسے زمین پر چڑیا، کہ کہیں استاد کے ادب میں کمی نہ ہو جائے۔” آج کے دور میں شاگرد کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا ہوتا ہے اور استاد وائٹ بورڈ پر چیخ چیخ کر پسینے پسینے ہو رہا ہوتا ہے۔

    استاد استاد ہی ہوتا ہے

    ادب کے بغیر علم ویسا ہی ہے جیسے بغیر نمک کے سالن۔ استاد کی عزت میں کمی اسی وقت محسوس ہوتی ہے جب استاد صرف "ڈیوٹی ٹیچر” بن جائے اور "مخلص معلم” نہ رہے۔ پطرس بخاری نے کہا تھا: "ہمارے ہاں استاد کی پہچان یہ ہے کہ وہ نصاب کے علاوہ سب کچھ پڑھا سکتا ہے۔” مگر آج کل کے استاد بعض اوقات نصاب کے اندر بھی گم ہو جاتے ہیں۔

    کرنل محمد خان نے طنزاً لکھا کہ "ہم نے ہمیشہ استاد کی بات اس لیے مانی کہ اگر نہ مانتے تو امتحان میں فیل ہو جاتے۔” لیکن فیل ہونے کا خوف بھی عجیب نعمت ہے، اسی خوف نے کئی شاگردوں کو کامیاب کر دیا۔

    استاد کی شان یہ ہے کہ شاگرد چاہے وزیر بن جائے، ڈاکٹر ہو یا انجینئر، وہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرے "سابقہ استاد” تھے۔ میاں بیوی الگ ہو جائیں تو "سابقہ شوہر” یا "سابقہ بیوی” کہلاتے ہیں، لیکن استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے۔

    یقیناً آج کے استاد کو بھی محنت کرنی ہوگی۔ اپنے علم پر عبور، بچوں سے محبت، وقت کی پابندی، اور سب سے بڑھ کر اپنا کردار—یہی وہ اوزار ہیں جو عزت کو جنم دیتے ہیں۔ ہمارے استاد محبوب صاحب کا انداز یہ تھا کہ چاہے لباس سادہ ہو، مگر نفاست نمایاں ہو۔ شاگردوں کی عزتِ نفس کا اس حد تک خیال رکھتے کہ کلاس میں کبھی کسی کو ذلیل نہ کرتے۔ وہ فرقہ واریت اور لسانیت سے پاک استاد تھے۔ شاید اسی لیے ان کا وقار آج بھی دلوں میں زندہ ہے۔

    استاد اور شاگرد کا رشتہ بالکل قمیض کے بٹن جیسا ہے۔ اگر استاد بٹن نہ لگائے تو شاگرد کی زندگی بے ڈھنگی لگتی ہے۔ اور اگر شاگرد ضد کرے تو بٹن ٹوٹ بھی سکتا ہے۔

    کچھ طلبہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آج کے استاد بہت "کمرشل” ہو گئے ہیں۔ بھائی! یہ زمانہ ہی ایسا ہے۔ بجلی کا بل جمع کروانا ہو تو لگتا ہے انڈیا سے میچ جیت گئے۔ ایسے میں استاد بھی انسان ہے، اس کی ضروریات بھی ہیں۔ مگر یاد رکھیں، استاد کی اصل کمائی تنخواہ نہیں بلکہ شاگردوں کی کامیابی ہے۔

    دنیا کا ہر شعبہ استاد کا محتاج ہے۔ بقول سکندر اعظم: "میرا باپ مجھے زمین پر لایا اور میرے استاد نے مجھے آسمان پر پہنچا دیا۔” اس قول میں استاد کا وہ مقام چھپا ہے جس تک کوئی اور رشتہ نہیں پہنچ سکتا۔

    آخر میں ایک شعر:

    ؎
    مٹی کو سونا بناتا ہے جب ہاتھ استاد لگاتا ہے
    پستی سے بلندی کی جانب، طے سفر استاد کراتا ہے

    سو، استاد استاد ہی ہوتا ہے۔ چاہے یوسفی کے طنز میں دیکھ لیں یا بانو قدسیہ کی نرمی میں، چاہے صحابہ کرام کی اطاعت میں دیکھ لیں یا ہمارے اپنے دلوں میں—استاد ہمیشہ رہنمائی کا چراغ ہے۔ اور چراغ کی عظمت یہ ہے کہ خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔

    Title Image Background by 三江 韦 from Pixabay

  • میٹرک رزلٹ: اصل مبارکباد کے حقدار کون؟

    میٹرک رزلٹ: اصل مبارکباد کے حقدار کون؟

    میٹرک رزلٹ: اصل مبارکباد کے حقدار کون؟


    تحریر محمد ذیشان بٹ

    میٹرک کا نتیجہ آ چکا ہے، اور بلاشبہ یہ ہر طالبعلم، ہر والدین، اور ہر استاد کے لیے ایک یادگار دن ہوتا ہے۔ جو بچے کامیاب ہوئے ہیں، وہ خوش نصیب ہیں، اور یقیناً ان کی محنت، لگن، اور مستقل مزاجی کے اثرات اب ان کے روشن مستقبل کا دروازہ کھول رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس کامیابی کا کریڈٹ کس کو دیتے ہیں؟ سوشل میڈیا پر، شہر کے چوکوں پر لگے فلیکسوں میں، اور اسکول کے اشتہارات میں، ہمیں صرف ادارے کا نام، اسکول مالکان کے دعوے اور طلباء کے نمبر نظر آتے ہیں۔ لیکن جو اصل ہیرو ہے، جو اس کامیابی کا خالق ہے، وہ پس منظر میں رہ جاتا ہے۔ وہ ہے ’’استاد‘‘۔

    اس قوم کا المیہ یہی ہے کہ ہم پھول تو دیکھتے ہیں، لیکن ان کو اگانے والے مالی کو بھول جاتے ہیں۔ ہم عمارت کی بلندی تو ناپتے ہیں، لیکن بنیادوں کی پختگی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک بچہ جب تین ساڑھے تین سال کی عمر میں اسکول جاتا ہے تو یہ ایک طویل تعلیمی سفر کا آغاز ہوتا ہے، جس کی منزل میٹرک کا امتحان نہیں، بلکہ ایک مکمل انسان بننا ہے۔ یہ سفر 13 سال پر محیط ہوتا ہے۔ اس دوران استاد ہی وہ واحد کردار ہے جو ہر لمحہ بچے کے ساتھ رہتا ہے۔ والدین کا ساتھ شام کو ہوتا ہے، اسکول مالک کبھی کبھار چکر لگاتا ہے، لیکن استاد ہی وہ ذات ہے جو صبح سے دوپہر تک بچوں کی تربیت اور تعلیم میں مصروف رہتا ہے۔

    آج کے دور میں جب نجی تعلیمی ادارے محض کاروبار بن چکے ہیں، تو وہ میٹرک کے رزلٹ کو اپنی تشہیر کا ذریعہ بناتے ہیں۔ پینا فلیکس پر طالبعلم کا نام اور نمبر تو ہوتا ہے، ساتھ میں ادارے کا لوگو ہوتا ہے، لیکن جو شخص دن رات محنت کرتا ہے، جو والدین کے بعد بچے کی تربیت میں سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے، اُس کا نام کہیں نظر نہیں آتا۔ یہ استاد کی ناقدری نہیں تو اور کیا ہے؟

    ہمیں اس سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں وہ روایت زندہ کرنی ہے جو اسلام نے ہمیں سکھائی۔ پیارے نبی حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
    "مجھے معلم (استاد) بنا کر بھیجا گیا ہے”۔
    یہ اعلانِ نبوت کی ایک ایسی جہت ہے جو آج ہمیں بھلا دی گئی ہے۔ اگر نبی کریم ﷺ خود کو معلم کہہ کر فخر محسوس کرتے ہیں، تو آج کے دور میں استاد ہونا ایک فخر کی بات ہونی چاہیے، ناکہ صرف مشقت کا دوسرا نام۔

    میٹرک رزلٹ: اصل مبارکباد کے حقدار کون؟

    حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے:
    "جس نے مجھے ایک حرف بھی سکھایا، میں اُس کا غلام ہوں”۔
    یہ الفاظ فقط جذباتی نہیں، بلکہ ایک مکمل تہذیب کی بنیاد ہیں۔ آج کے دور میں اگر کوئی شخص ایسا قول ادا کرے تو شاید لوگ اس کو دقیانوسی کہیں، لیکن درحقیقت یہی وہ رویہ ہے جو علم کی سچائی اور استاد کی عظمت کو اجاگر کرتا ہے۔

    صحابہ کرام کے ہاں بھی استاد کا درجہ انتہائی بلند تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو علم کا خزانہ کہا جاتا ہے، ان کے والد حضرت عباس تھے، لیکن انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عمر، اور دیگر صحابہ سے علم حاصل کیا اور ہمیشہ ان کے ادب و احترام میں جھکے رہتے۔ ایک بار حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کسی اونچے مقام پر چڑھنے لگے تو ایک شخص نے کہا: "آپ کو غلام بننے کی کیا ضرورت ہے؟” انہوں نے جواب دیا: "علم کے بدلے غلامی بھی قبول ہے”۔

    آج اگر کوئی اسکول مالک یا تعلیمی ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ بچوں کے اچھے نمبرات کا واحد محرک ہے، تو وہ یا تو خود کو دھوکہ دے رہا ہے یا معاشرے کو۔ بچوں کی کامیابی صرف اچھی بلڈنگ یا یونیفارم سے نہیں آتی، یہ آتی ہے اساتذہ کی محنت سے۔ وہ اساتذہ جو معمولی تنخواہوں میں دن بھر کام کرتے ہیں، رات کو بھی اسباق کی تیاری کرتے ہیں، اور پھر اگلے دن اپنی تھکن چھپائے، مسکراتے چہروں کے ساتھ کلاس میں داخل ہوتے ہیں۔

    اگر ہمیں ایک کامیاب اور بااخلاق قوم بنانی ہے تو ہمیں استاد کو وہ مقام دینا ہوگا جو دینِ اسلام میں اس کو دیا گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ جب ہم پینا فلیکس بنوائیں تو بچوں کے ساتھ استاد کا بھی نام لکھیں۔ "یہ ہیں بابر صاحب، جنہوں نے بچوں کو ریاضی سکھائی”۔ "یہ ہیں شفیق صاحب، جنہوں نے سائنس میں بچوں کو تربیت دی”۔ سوشل میڈیا پر جب ہم رزلٹ کا جشن منائیں، تو ساتھ ہی استاد کی تصویریں لگائیں، ان کا شکریہ ادا کریں، ان کے لیے تقاریب منعقد کریں۔

    پاکستان میں ہزاروں ایسے استاد موجود ہیں جو اپنے خوابوں کو قربان کر کے دوسروں کے بچوں کے خوابوں کو تعبیر دیتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ وہ خود ایک سرٹیفیکیٹ، ایک سلام، ایک شکریہ کے بھی محتاج رہ جاتے ہیں۔ ان کی تنخواہیں اس قدر کم ہوتی ہیں کہ شاید ایک درمیانے درجے کا مزدور بھی ان سے زیادہ کما لیتا ہے۔ لیکن وہ اس سب کے باوجود محنت کرتے ہیں کیونکہ ان کا مشن ہوتا ہے: "قوم بنانا”۔

    یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ہر کامیاب شخص کے پیچھے استاد کا ہاتھ ہوتا ہے۔ چاہے وہ ڈاکٹر ہو، انجینئر ہو، یا وزیراعظم۔ سب نے کسی نہ کسی استاد سے سبق سیکھا ہوتا ہے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ جب وہ عہدے پر پہنچتے ہیں تو استاد کو بھول جاتے ہیں۔

    ہمیں بطور قوم یہ سبق دوبارہ یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ استاد کبھی "سابق” نہیں ہوتا۔ سابقہ شوہر ہو سکتا ہے، سابقہ وزیراعظم ہو سکتا ہے، لیکن استاد ہمیشہ استاد ہی رہتا ہے۔ چاہے شاگرد کتنا ہی بلند مقام پر پہنچ جائے، استاد کی عزت کم نہیں ہو سکتی۔

    میں نے اپنی زندگی میں ایک ایسے استاد کو دیکھا ہے جو سچے معنوں میں کامیاب ایڈمنسٹریٹر تھے: محترم اَصِف یعقوب۔ وہ جب ادارے کے رزلٹ کی بات کرتے تو ہمیشہ اپنے اساتذہ کو کریڈٹ دیتے، اور جب کوئی ناکامی ہوتی تو خود سامنے آ جاتے۔ یہی وہ رویہ ہے جو ایک ادارے کو کامیاب بناتا ہے۔ یہی طرز عمل ہمیں اپنانا ہے۔

    اس وقت بھی کچھ اسکول ایسے ہیں جو اپنے اساتذہ کو عزت دیتے ہیں، ان کے لیے تقریبات منعقد کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ان کی تشہیر کرتے ہیں، لیکن ایسے اداروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ ہمیں اس روایت کو عام کرنا ہے۔

    ہم سب کو چاہیے کہ ہم استاد کی عزت کو صرف الفاظ تک محدود نہ رکھیں، بلکہ عملی طور پر ان کو وہ مقام دیں جس کے وہ حقدار ہیں۔ ان کے لیے بونس رکھا جائے، کارکردگی سرٹیفیکیٹ دیے جائیں، ہر سال ایک تقریب منعقد ہو جس میں "Best Teacher” کو ایوارڈ دیا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جب بھی کسی بچے کی کامیابی کا ذکر ہو، تو ساتھ یہ ضرور کہا جائے کہ یہ کامیابی اس کے استاد کی محنت کا نتیجہ ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اساتذہ کی قدر کرنے کی توفیق دے، اور اس ملک کو ایسے رہنما عطا فرمائے جو استاد کے مقام کو جانیں، پہچانیں، اور اس کو عام کریں۔ کیونکہ اگر استاد خوش ہے، باوقار ہے، تو قوم ترقی کرے گی۔ اگر استاد کو حقیر جانا گیا تو قوم پستی میں گرے گی۔

    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔

    Title Image by Harinath R from Pixabay

  • اردو کا دیدہ ور سرمد خان

    اردو کا دیدہ ور سرمد خان

    اردو کا دیدہ ور سرمد خان

    Dubai Naama

اردو کا دیدہ ور سرمد خان

    اس سے لگتا ہے کہ سرمد خان نہ صرف کتابوں کا شوق رکھتے ہیں بلکہ وہ کثیرالمطالعہ بھی ہیں۔ وہ جس گھر میں رہتے ہیں وہ گھر ہی نہیں بلکہ ایک لائبریری بھی ہے۔ جن دوستوں کو وہاں سے جو بھی کتاب پسند آئے وہ اسے ساتھ لے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ ان کے لائبریری نما مہمان خانہ پر میرا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے۔ کتابیں پڑھنے کا مجھے بھی بہت شوق ہے مگر بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے میں زیادہ کتابیں خرید نہیں سکتا، مگر پھر بھی میرے پاس ڈھیر ساری کتابوں کا خزانہ جمع ہو گیا ہے۔ سچ پوچھو تو میرے پاس جتنی بھی کتابیں ہیں وہ ساری میں نے سرمد خان صاحب کے گھر سے آچکی کی ہیں۔

    انہیں اردو کتابوں کی ترویج اور علم کے فروغ سے جتنا جنون ہے، وہ کسی بھی لمحے اردو علم و ادب کے فروغ کے لیئے کوئی بڑا قدم اٹھا سکتے ہیں۔

    انسانی تاریخ کے جتنے بھی مفکر اور دانشور گزرے ہیں وہ غوروفکر اور مطالعہ کے شوقین ہوتے تھے اور اس میں اتنے مگن رہتے تھے کہ انہیں اس کے سوا کوئی دوسرا کام نہیں آتا تھا جس وجہ سے ان کی مالی حالت بہت پتلی ہوتی تھی مگر وہ علم کے آسمان پر اسی وقت جگمگائے جب سرمد خان جیسے کسی علم دوست انسان نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

    اللہ پاک اس علم پرور ہستی کو لمبی عمر عطا فرمائے تاکہ، وہ علم کے گلشن کا یہ کاروبار تادیر تک چلاتے رہیں۔ انہوں نے اردو علم و ادب کے فروغ کے لیئے 2023ء میں "اردو بکس ورلڈ” کی بنیاد رکھی اور پھر دسمبر 2024 میں "اردو ریسرچ بکس” بھی قائم کر دی۔ دنیا کے اسلامی شہروں میں شارجہ کو علم کے فروغ کے لیئے دنیا بھر میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ متحدہ عرب امارات میں کتاب میلوں کی بنیاد شارجہ کے عزت مآب حکمران ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی نے رکھی تھی۔ سرمد خان صاحب شارجہ کے آخری دو بک فیئرز پر "اردو بکس ورلڈ” کا سٹال لگا کر اردو شعر و ادب اور فن سے محبت کرنے والوں کو کتب کی فراہمی کی سہولت فراہم کر چکے ہیں۔ امسال انہوں نے ابوظہبی بک فیئر میں بھی حصہ لیا۔ ان کی کوششوں کی وجہ سے "ابوظہبی بک فیئر اتھارٹی” نے اس سال "جناح پولین” کے نام سے انہیں اردو کتابوں کی نمائش اور فروخت کے لیئے پہلے سے زیادی بڑی جگہ فراہم کی۔

    اردو کا دیدہ ور سرمد خان

    سال رواں ابوظہبی بک فیئر 9 روز تک جاری رہا جس میں اورسیز پاکستانیوں سمیت دیگر ممالک میں اردو میں دلچسپی رکھنے والے مہمانوں نے بھی بھرپور دلچسپی لی۔ خاص طور پر پاکستانی سفیر محترم فیصل نیاز ترمذی صاحب ان 9 دنوں میں 6 بار اردو بکس ورلڈ کے پولین پر تشریف لائے۔ ایک دوسری اچھی پیش رفت یہ ہوئی کہ اردو بکس ورلڈ پر ابوظہبی جیل کے ایک لوکل افسر نے بھی وزٹ کیا اور اردو کتابوں میں دلچسپی لیتے ہوئے قیدیوں کے مطالعہ کے بیک وقت 7 ہزار درہم کی کتابیں خریدیں۔

    اردو دنیا کی تیسری سب سے بڑی زبان ہے اور یہ نہ صرف انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش وغیرہ میں بولی جاتی ہے، بلکہ دنیا کے جن جن ممالک میں بھی پاکستانی اوورسیز موجود ہیں وہاں کے لوگوں کا بھی ایک خاصہ بڑا حصہ اردو کو سمجھتا ہے۔ خاص طور پر خلیجی ممالک کے 50 فیصد سے زیادہ عربی اردو بول چال جانتے ہیں۔ بہت سے عربی لوکل سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اومان، کویت اور قطر میں ایسے ہیں جو اردو زبان سے عشق کی حد تک محبت کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سوں نے لاہور اور کراچی کی یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی اور کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اردو زبان اپنے ہی ملک میں رہ کر شوقیہ طور پر سیکھی۔ ایک دو شخصیات کو تو میں بھی جانتا ہوں جن میں امارات کے ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی اور سعودی عرب کی ڈاکٹر سمیرا عزیز سرفہرست ہیں۔ ان دونوں نے اردو میں درجنوں کتابیں تحریر کی ہیں اور یہ دونوں اردو کے معروف شاعر بھی ہیں۔

    مکرمی! سرمد خان نے اردو فن و ادب کی جو شمع جلائی ہے اس کی جتنی بھی داد دی جائے کم ہے۔ اس مد میں وہ جن حکام سے ملتے ہیں یا جتنی بھی جدوجہد کرتے ہیں، میں اس کا چشم دید گواہ ہوں۔ دعا گو ہوں کہ اردو لوورز پر ان کا سایہ تادیر قائم رہے: اقبال نے ایسی ہی نابغہ روزگار شخصیات کے لیئے کہا تھا: "ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔”

  • زندگی دوسروں کے زاویہ نظر سے

    زندگی دوسروں کے زاویہ نظر سے

    زندگی دوسروں کے زاویہ نظر سے


    تحریر: محمد ذیشان بٹ 

    آج شام محترم بلال بشیر صاحب کی ایک مختصر مگر نہایت فکر انگیز تحریر پڑھنے کا موقع ملا جس میں انہوں نے بڑے سادہ مگر پُر اثر انداز میں ایک پیچیدہ معاشرتی رویے کی نشاندہی کی: وہ رویہ جس میں انسان خود سوال اٹھاتا ہے، خود ہی جواب دیتا ہے، اور پھر خود ہی جج بن کر فیصلہ سنا دیتا ہے۔ ان کی تحریر ایک آئینہ ہے جو ہمارے اپنے چہرے دکھاتی ہے، جن پر اکثر ہم پردے ڈالے رکھتے ہیں۔

    بلال صاحب کی بات حرف بہ حرف درست ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جو بظاہر تہذیب و ترقی کا دعویدار ہے، مگر درحقیقت عدم برداشت، عجلت پسندی اور سطحی سوچ میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں ہر دوسرا فرد خود کو عقلِ کل سمجھتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں مفروضے گھڑتے ہیں، دلوں میں فتویٰ دیتے ہیں، اور پھر ان ہی خیالی مفروضوں کی بنیاد پر دوسرے کو مجرم ٹھہرا دیتے ہیں۔ اس عمل میں نہ دلیل شامل ہوتی ہے، نہ احساس، نہ انصاف۔

    راقم الحروف کی عاجزانہ رائے میں، یہ رویے محض کسی فرد کا ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذہنی کیفیت کا عکس ہیں۔ ہم معاشی، ذہنی اور جذباتی دباؤ کے ایسے دائرے میں پھنس چکے ہیں کہ نہ خود کو سمجھنے کا وقت ملتا ہے اور نہ دوسروں کو۔ ہر کوئی تناؤ کا شکار ہے، ہر ذہن الجھا ہوا، ہر دل زخمی، اور ہر زبان تلوار بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں اگر کوئی خاموش ہے تو ہم اسے گستاخ سمجھتے ہیں، اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو ہم اسے دشمن جان لیتے ہیں۔ ہم نے دوسروں کی نیت کو جاننے کا دعویٰ کرنا شروع کر دیا ہے، حالانکہ ہم اپنی نیت کے بھید سے بھی اکثر ناواقف ہوتے ہیں۔

    یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ آج کا انسان بظاہر تعلیم یافتہ ضرور ہے، مگر اس کے اندر "علم” کی روح ناپید ہو چکی ہے۔ دنیاوی تعلیم ہمیں الفاظ کا ذخیرہ تو دے سکتی ہے، لیکن اگر وہ شعور، برداشت، اور انسان دوستی نہ دے تو وہ تکبر کا سبب بن جاتی ہے۔ اس کے برعکس دینی علم، وہ بھی اہل دل اور اہل علم سے حاصل کیا گیا، انسان کو خاکساری، فہم، اور وسعتِ نظر عطا کرتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنے سے پہلے اپنی آنکھوں کا عدسہ صاف کرنا ضروری ہے۔

    راقم اس موضوع پر پہلے بھی مختلف تحریروں میں گزارش کر چکا ہے کہ کسی کی ذاتی زندگی میں بلا وجہ مداخلت کرنا، کسی کے کردار پر بغیر دلیل کے رائے دینا، یا کسی کے ردعمل کو اس کے حالات جانے بغیر پرکھنا، نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہے۔ دین ہمیں حسنِ ظن کی تعلیم دیتا ہے، اور ہم بدگمانی کو اپنا شعار بنا چکے ہیں۔ دین ہمیں دوسروں کے عیوب چھپانے کا حکم دیتا ہے، اور ہم انہیں نمایاں کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔

    بلال بشیر صاحب نے بالکل درست کہا کہ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہر انسان کی ایک الگ کہانی ہوتی ہے۔ کسی کی خاموشی اس کا احتجاج ہو سکتی ہے، کسی کا تلخ لہجہ اس کے اندر کے زخموں کی بازگشت ہو سکتا ہے۔ زندگی صرف ہماری سوچ، ہماری امیدوں یا ہمارے تجربات تک محدود نہیں۔ ہمیں دوسروں کے زاویہ نگاہ کو سمجھنے کی جستجو کرنی ہوگی۔ یہی ظرف، یہی وسعتِ دل، اور یہی برداشت انسانیت کی اصل معراج ہے۔

    بطور قوم ہمیں ایک اجتماعی تربیت کی ضرورت ہے۔ یہ تربیت صرف نصاب سے نہیں آتی، بلکہ گھروں سے، مسجدوں سے، اور مجلسوں سے پھوٹتی ہے۔ جب تک ہم ایک دوسرے کو معاف کرنا نہیں سیکھیں گے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا نہیں کریں گے، اور اپنی سوچ کے خول سے باہر نہیں نکلیں گے، تب تک معاشرہ بگاڑ کی اس نہج پر ہی کھڑا رہے گا۔

    آخر میں، بلال بشیر صاحب کا شکریہ ادا کرنا لازم ہے کہ انہوں نے ایک سلگتے ہوئے مسئلے کو نہایت خوش اسلوبی سے بیان کیا۔ ان کی تحریر صرف ایک سطر نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے، ایک پیغام ہے، ایک دعوت ہے کہ آئیں، سوچیں، رکیں، اور خود کو بدلنے کا آغاز کریں۔

    اگر ہم واقعی بڑے انسان بننا چاہتے ہیں تو ہمیں فیصلہ صادر کرنے والا نہیں، محسوس کرنے والا دل بننا ہوگا۔
    کیونکہ یہی اصل انسانیت ہے۔