کیا علم پرانا ہوجاتا ہے ؟  جی ہاں

(  کائنات کی دیگر اشیاء کی طرح علم بھی نیا اور پرانا ہوسکتا ہے ۔ آئیے اس موضوع پر ایک نظر ڈال کر دیکھیں )

تحریر :

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سب سے پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ اصل علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔ ہم مخلوق خدا ، اس کے حصول کی خاطر زندگی بھر سرگرداں رھتے ہیں ۔ ہر انسان یا طالب علم اپنی ذہنی صلاحیت ، سعی ، کوشش اور تڑپ کے صدقے اس میں سے کچھ حصہ حاصل کرلیتا ہے لیکن اسے مکمل علم نہیں کہا جاسکتا ۔۔ البتہ نوع انسانی میں  انبیاء کرام وہ اعلی ہستیاں ہو گزری ہیں کہ جنہھیں بنی آدم کی رہنمائی کے لئےخصوصی علم کے ایسے خزانے عطاء ہوئے کہ جن کی صلاحیت کبھی ختم نہ ہوئی یا یوں کہئیے کہ ان پر ایکسپائری ڈیٹ ( Expiry Date ) ہی نہ لکھی تھی ۔

انبیاء کے علم کو سمجھنے کے لئے آج کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ( Digital Technology ) نے کام آسان کردیا اور ہمیں اس کا فوری ادراک حاصل ہوجاتا ہے  ورنہ مولوی صاحب ، سائینسی توجیع کی بجائے  ہمیشہ کی طرح ، ہمیں ان اعلی ہستیوں کے فقط روحانی مقام و مرتبے کی تشریع تک محدود رکھتے اور عام و خاص انسان ، الوہی ٹیکنالوجی ( Divine Technology ) سے ناآشناء ،  تقدیس (  Sense of deep respect ) کی ہوشرباء خوبصورت وادیوں میں گھومتے رہتے ۔

Egypt

کیا علم پرانا ہوجاتا ہے ؟  جی ھاں
Image by photosforyou from Pixabay

آج کے دور کا ایک بچہ بھی  مائیکرو چپ ( Microchip ) سے آشناء ہے ۔ آپ کے موبائیل فون کی سم ( Sim ) , شناختی کارڈ اور بینک کارڈ کے ایک کونے پر چسپاں سنہرے رنگ کی دبلی پتلی چپ ( Chip ) اپنے اندر معلومات کا خزانہ سمیٹے نظر آتی ہے ۔ اسی قسم کی ایک روحانی یا الوہی چپ اللہ نے انبیاء کے سینے میں نصب کردی لھذا وہ  کسی مدرسے یا استاد کے پاس گئے بغیر جملہ علوم و فنون کا مخزن بن گئے ۔

اب ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ اللہ کا علم کلی اور اصل ہے ۔ انبیاء کرام کو عطاء ہوا اور عام انسان اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ قرآن کے اندر سینکڑوں مرتبہ غور و فکر پر زور دیا گیا ۔ بار بار کہا گیا

” اور تم غور و فکر نہیں کرتے “

کئی ایک آیات میں غور و فکر کی طرف توجہ دلائی گئی تاکہ تم جان سکو ۔

غور و فکر سے متعلق آیات سے دو باتیں سمجھ میں آتی ہیں ۔ اولا یہ کہ کائنات پر غور کرنے سے اس کے راز  سمجھ پاؤگے ، دوئم یہ کہ ، اس غور و فکر کی کوئی حد مقرر نہیں ،  کائنات اور اس کے اندر اللہ کی مخلوقات کا حجم اور تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ایک انسان ساری عمر غور کرتا رہے تو بھی حصول علم کی پیاس نہیں بجھتی ۔

 علامہ اقبال رحمة اللہ     کی کتاب ” بال جبریل ”  میں درج ایک غزل اسی فلسفہء غور و فکر کی امین ہے ، وہ کہتے ہیں ،

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں

یہاں سینکڑوں کارواں اور بھی ہیں

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا

تیرے سامنے آسماں اور بھی ہیں

اسی روز وشب میں الجھ کرنہ رہ جا

کہ تیرے زمان و مکاں اور بھی ہیں

علامہ صاحب کا فلسفہ کائنات صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ عمومی ہے ۔ وہ سب سے مخاطب ہوکر کہ رہے کہ ، یہ جو تمہیں جگمگ جگمگ کرتے ستارے نظر آرہے ہیں ، یہ کائنات کی سرحد نہیں ، اس سے آگے نظر دوڑاو کئی اور جہان نظر آئینگے ۔ اور یہ فضائیں جو بہ ظاہر خالی نظر آتی ہیں ۔ ایسا ہے نہیں بلکہ ان ہی فضاوں میں کئی کاروان زندگی رواں دواں ہیں ، غور تو کرو ۔ پھر شاہین سے کہتے ہیں کہ بلندیوں پر پہنچنے کا یہ مطلب نہیں کہ دنیاء کے کنارے تک پہنچ گئے ۔ تمہارا کام اڑنا ہے اڑتے رہو ، ابھی تو کئی اور آسمان باقی ہیں ۔ آخری شعر کا مطلب ہے ۔ اے انسان تو اس رات دن کے چکر میں کھوگیا ۔ سوتے ہو اٹھتے ہو ، کھاتے ہو پیتے ہو ، بس اسی کو زندگی سمجھ لیا ہے جبکہ تیرے مقدر میں بہت کچھ لکھا ہے ۔ تو اپنے لئے کئی اور زمانے اور ٹھکانے تلاش کرسکتا ہے ۔

books
Image by Michal Jarmoluk from Pixabay

الغرض ان کی یہ غزل ان قرآنی آیات کی تشریح ہے کہ جن میں غور و فکر تگ و دو اور تلاش و جستجو کا سبق دیا گیا ۔ یہاں نوٹ کرنے والا نقطہ یہ ہے کہ ، قرآنی آیات میں درج تلاش و جستجو کی ترغیب کسی خاص حد ، وقت یا مقام تک محدود نہیں بلکہ یہ حکم ہمیشہ کے لئے ہے یعنی جبتک دنیاء قائم ہے انسان تلاش کا سلسلہ جاری رکھے گا ۔ اور تاریخ انسانی بھی ہمیں ایسی ہی کہانی سناتی ہے ۔

ابتدائی انسان غاروں میں رہتا تھا ، آج عالی شان اور پر تعیش محلات میں مقیم ہے ۔ شروع میں پیدل ، پھر جانوروں پر سواری ، اور آج ہوائی جہاز اور لیموزین میں گھومتا نظر آتا ہے ۔ کیا یہ تلاش و جستجو کا نتیجہ نہیں کہ انسان ، پتھر ، کانسی ، لوہے ، لکڑی  اور الومینیم کے زمانے سے نکل کر اب فائیبر کی بنی اشیاء استعمال کررہا ہے ۔ ابھی کوئی نصف صدی پہلے تک گاؤں کا نائی ، غمی شادی کا پیغام لیکر جاتا تھا لیکن اب اس کی جگہ واٹس ایپ نے لے لی اور نائی کا کردار سرے سے غائب ہوگیا۔ اسی طرح ساری دنیاء میں خطوط رسانی کے لئے ڈاکیے ( Postman ) کا بے چینی سے انتظار کیا جاتا تھا ، اب شاید ہماری نئی نسل ڈاکیے کے نام سے بھی آشناء نہیں کہ یہ کون سا کردار ہے ۔ فون پہ میسیج کی ٹون بجی اور خط مل گیا ۔

اسی طرح ہمارے بچپن میں بزرگ کہتے تھے رات میں درخت کے نیچے مت بیٹھیں کیونکہ رات ہوتے ہی جنات درختوں پر بیٹھ جاتے ہیں ۔ جبکہ سائینس کہتی ہے ،  درخت دن میں آکسیجن اور رات میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بناتے ہیں اس لئے ان سے رات میں دور رہا جائے ۔

یہ سب کیا ہے ؟

کیا تھا ؟

digital
Image by fancycrave1 from Pixabay

ان مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان مسلسل تگ و دو کررہا ہے ۔ وہ کتاب کائنات کی ورق گردانی میں مصروف ہے ۔ ہر روز ایک نئی بات سامنے آرہی ہے ۔ لھذا جو بات اسے کل صحیح لگتی تھی آج اسی کو غلط کہ رہا ہے جو اس بات کا واضع ثبوت ہے کہ تلاش و جستجو کی زد میں آکر   انسانی علم پرانا اور ناکارہ ( Invalid and Expired ) ہوجاتا ہے ۔ میری عمر کے لوگ آج موبائیل فون کا صحیح استعمال نہیں کرسکتے بلکہ پوتے ، پوتی یا نواسے نواسی کو بلاکر نمبر تلاش کرتے ہیں کیونکہ نئی جنریشن کا علم نیا اور ہمارا پرانا ہوچکا ہے ۔

SAS Bukhari

سیّدزادہ سخاوت بخاری

سرپرست آئی اٹک e میگزین

سیّد زادہ سخاوت بخاری

شاعر،ادیب،مقرر شعلہ بیاں،سماجی کارکن اور دوستوں کا دوست

Next Post

وطن کی محبت

پیر اکتوبر 17 , 2022
ہمارا ملک بہت قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے یہی ہماری پہچان ہے۔ وطن سے محبت صرف جذبات تک نہیں رکھنی چاہئے بلکہ اپنے عمل سے بھی ظاہر کرنی چاہیے۔
وطن کی محبت