محبت، مشاہدہ، معنویت
کہانی محض الفاظ کی ترتیب نہیں بلکہ داخلی کرب، منتشر احساسات اور گہرے مشاہدے کی تخلیقی تشکیل ہے۔ جب ایک تخلیق کار زندگی کو صرف دیکھتا نہیں بل کہ اس کے باطن میں اتر کر محسوس کرتا ہے تو اس کی تحریر بیان سے آگے بڑھ کر تجربہ بن جاتی ہے۔ ادب کی اصل قوت یہی ہے کہ وہ قاری کو واقعات نہیں سناتا بل کہ اسے ان واقعات کے اندر لے جاتا ہے۔ اسی تناظر میں رابعہ حسن کا افسانوی مجموعہ "تین دن محبت” کے معاصر اردو افسانے میں ایک بامعنی اور فکری اضافہ محسوس ہوتا ہے۔ اس مجموعے کے افسانے اس امر کا ثبوت ہیں کہ جب مشاہدہ بےدار ہو، احساس سچا ہو اور فنی شعور پختہ ہو تو کہانی محض قصہ نہیں رہتی بل کہ سماج اور باطنِ انسان کی دستاویز بن جاتی ہے۔
رابعہ حسن کے ہاں مشاہدہ سطحی نہیں تِہ دار ہے۔ وہ کرداروں کے چہروں سے آگے بڑھ کر ان کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ، محرومی اور خواہش کو محسوس کرتی ہیں۔ ان کے افسانے "دوسری محبت” کی یہ سطور ملاحظہ ہوں:
"چیچک نے اس کے چہرے کو داغ کر رکھ دیا تھا اور اس داغے ہوئے چہرے نے اس کے دل کو بھی داغ دیا تھا۔ بچے اسے اپنے کھیل میں تو شامل کرتے مگر ساتھ ہی ساتھ اس کے دل سے بھی کھیل جاتے۔”
یہاں چیچک کا داغ محض جسمانی بدصورتی نہیں سماجی بے حسی کا استعارہ ہے۔ چہرے کا داغ دل کے داغ میں تبدیل ہو جانا اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ ظاہری نَقص کو داخلی محرومی میں بدل دیتا ہے۔ بچے کھیل میں شامل کرتے ہیں مگر دل سے کھیل جاتے ہیں۔یہ جملہ معصومیت کے پردے میں چھپی غیر ارادی سنگ دلی کی عکاسی کرتا ہے۔ رابعہ حسن کی فنی مہارت یہ ہے کہ وہ کسی جذباتی شور یا مبالغے کے بغیر سادہ الفاظ میں گہری معنویت پیدا کر دیتی ہیں۔ یہاں مشاہدہ صرف منظر تک محدود نہیں بلکہ اس منظر کے پس منظر میں چھپی سماجی ذہنیت تک رسائی حاصل کرتا ہے۔
اسی طرح "پھلاں دے رنگ کالے” میں طبقاتی غرور اور ذات پات کے امتیاز پر نہایت بلیغ طنز ملتا ہے۔ جب رضیہ سے کہا جاتا ہے:
"ہم شریف اور معزز لوگ ہیں جو صرف اپنے جیسے شریف لوگوں میں رشتہ کرتے ہیں نہ کہ کمہاروں میں۔”
تو "شریف” اور "معزز” جیسے الفاظ اپنی لُغوی معنویت کھو کر طنزیہ علامت بن جاتے ہیں۔ یہاں شرافت دراصل سماجی تکبر کی نِقاب ہے۔ کمہار کا حوالہ اس طبقاتی تقسیم کی نشان دہی کرتا ہے جو انسان کو اس کی محنت یا کردار سے نہیں بلکہ پیشے اور حسب نسب سے پرکھتی ہے۔ افسانے کا سب سے طاقت ور لمحہ وہ ہے جب رضیہ "نمکین سا قہقہہ” لگا کر کال کاٹ دیتی ہے۔ یہ قہقہہ محض ہنسی نہیں بھرپور احتجاج ہے اور ایک خاموش مگر کاٹ دار جواب۔ اس ایک منظر میں رابعہ حسن نے پورے سماجی ڈھانچے پر طنز کر دیا ہے۔
افسانہ "ایک کپ چائے کا” تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بے روزگاری جیسے زندہ اور تلخ مسئلے کو موضوع بناتا ہے۔ مگر یہاں بھی مصنفہ مایوسی کو حاوی نہیں ہونے دیتیں۔ افسانے کا مرکزی کردار جب چائے خانہ کھولتا ہے تو یہ عمل محض معاشی ضرورت نہیں بل کہ خود داری اور استقلال کا اعلان ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
"اس نے اس محلے میں ایک چھوٹا سا صاف ستھرا چائے خانہ کھول دیا۔ جہاں پر کچھ کتابیں بھی اس نے گھر سے لا کر الماری میں سجا دی تھیں… دل میں ایک کسک سی تھی مگر وہ ذرا بھی ملول نہ ہوا۔ اس نے دیانت داری اور ایمان داری سے کام کیا۔ نتیجتاً اس کا چائے خانہ چل پڑا۔ کسٹمر اپنے ذوق کے مطابق چائے سے بھی لطف اندوز ہوتے اور مطالعہ بھی کرتے۔”
یہاں چائے خانہ علامتی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ یہ جگہ صرف روزگار کا ذریعہ نہیں علم اور مکالمے کا مرکز بن جاتی ہے۔ کتابوں کی موجودگی اس امر کی علامت ہے کہ فکری بالیدگی اور رزقِ حلال ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایمن کی رخصتی اور چائے خانے کا افتتاح ایک ہی دن ہونا تقدیری تضاد کی فضا پیدا کرتا ہے مگر کردار کی خود داری اسے ٹوٹنے نہیں دیتی۔ اس افسانے کا اختتام امید اور عمل کی قوت پر یقین کو مستحکم کرتا ہے۔
"پارسا” اس مجموعے کا فکری عروج ہے۔ یہ افسانہ طبقاتی منافقت اور اخلاقی دوغلے پن کو بے نِقاب کرتا ہے۔ سبینہ اور پارسا کی جِدوجُہد محنت اور صبر کی علامت ہے جہاں معاشرہ ان کی غربت میں بے اعتنائی برتتا ہے اور خوش حالی میں کردار کُشی پر اتر آتا ہے۔ یہاں بے ساختہ سعادت حسن منٹو کا وہ قول یاد آتا ہے کہ معاشرہ عورت کی خود مختاری پر تو معترض ہوتا ہے مگر اس کے استحصال پر خاموش رہتا ہے۔ افسانے کے اختتام پر "پارسا” بہ طور نام نہیں بہ طور صفت معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ آگ کا منظر صرف مکان کو نہیں جلاتا اس سماج کی کھوکھلی اقدار کو بھی عیاں کر دیتا ہے جو خود کو "صاحب” کہلوانے کا اہل سمجھتا ہے مگر حقیقی پارسائی سے محروم ہے۔
رابعہ حسن کی زبان ان کے فنی شعور کا اہم جزو ہے۔ ان کی نثر نہایت سادہ، رواں اور عام فہم ہے۔ وہ ثقیل اور پیچیدہ الفاظ کے استعمال سے گریز کرتی ہیں اور قاری کو بوجھل نہیں ہونے دیتیں۔ کہیں کہیں انگریزی الفاظ کا برمحل استعمال ان کے اُسلوب کی عصری جہت کو نمایاں کرتا اور شہری زندگی کی فضا کو حقیقت کے قریب تر بنا دیتا ہے۔ یہ امتزاج نہ تو تصنع پیدا کرتا ہے اور نہ ہی زبان کی لطافت کو متاثر کرتا ہے بل کہ کہانی کو موجودہ عہد سے ہم آہنگ بنا دیتا ہے۔
مجموعی طور پر "تین دن محبت کے” ایک ایسا افسانوی مجموعہ ہے جو محبت کو محض رومانوی جذبہ نہیں بلکہ انسانی وقار، خود داری اور سماجی شعور کے تناظر میں دیکھتا ہے۔ یہاں محبت کبھی احتجاج بن جاتی ہے، کبھی امید، کبھی خود شناسی اور کبھی آئینہ۔ رابعہ حسن کے افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ سچا ادب مشاہدے کی آنکھ اور احساس کی صداقت سے جنم لیتا ہے۔ ان کے ہاں کہانی محض بیان نہیں بل کہ باطن کی گواہی ہےایسی گواہی جو قاری کے دل میں دیر تک گونجتی رہتی ہے۔
ڈاکٹر فرہاد احمد فگار
18فروری2026ء

ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع مظفرآباد(لوئر چھتر )سے ہے۔ نمل سے اردواملا اور تلفظ کے مباحث:لسانی محققین کی آرا کا تنقیدی تقابلی جائزہ کے موضوع پر ڈاکٹر شفیق انجم کی زیر نگرانی پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔کئی کتب کے مصنف ہیں۔ آپ بہ طور کالم نگار، محقق اور شاعر ادبی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔ لسانیات آپ کا خاص میدان ہے۔ آزاد کشمیر کے شعبہ تعلیم میں بہ طور اردو لیکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ کالج میگزین بساط اور فن تراش کے مدیر ہیں اور ایک نجی اسکول کے مجلے کاوش کے اعزازی مدیر بھی ہیں۔ اپنی ادبی سرگرمیوں کے اعتراف میں کئی اعزازات اور ایوارڈز حاصل کر چکے ہیں۔آپ کی تحریر سادہ بامعنی ہوتی ہے.فرہاد احمد فگار کے تحقیقی مضامین پر پشاور یونی ورسٹی سے بی ایس کی سطح کا تحقیقی مقالہ بھی لکھا جا چکا ہے جب کہ فرہاد احمد فگار شخصیت و فن کے نام سے ملک عظیم ناشاد اعوان نے ایک کتاب بھی ترتیب دے کر شائع کی ہے۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |