پٹھوہاری ادیب اور بابائے پٹھوہار شریف شاد
شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین پٹھوہار بڑی ہی زرخیز ہے جس نے ہر شعبہ ہائے زندگی کے لیے مخلص اور انتہائی محنتی لوگ پیدا کیے ہیں ۔ ان مشاہیر کی گراں قدر خدمات ہیں یہ بہت ہی بڑے نام ہیں جن کے بے مثال کارنامے اور بڑے بڑے کام ہیں میرے پاکستان کے لیے اور پیارے پاکستانیوں کے لیے بھی ۔ ہمارا پٹھوہار پاکستان کا مرکز ہے بلکہ پاکستان کا دل و دماغ ہے ۔ میرے خیال میں عصری تقاضوں اور زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو اب یہ لازم و ملزوم ہو گیا ہے کہ یہاں کے باسیوں کی سہولت کی خاطر اور مسائل و مشکلات کی آسانی کے لیے ضلع راولپنڈی کو مرکز بنا کر جہلم ، چکوال ، اور ہزارہ و اٹک تک انتظامی بنیادوں پر "پٹھوہار” نام کا ایک الگ صوبہ ضرور ہونا چاہیے ۔ نہ صرف یہ بلکہ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ پٹھوہاری زبان کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جائے اور پٹھوہاری لکھنے والوں کی پزیرائی اور حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ زبان و ادب کے فروغ ، ترقی و آبیاری کے لیے کام کرنے والے شعرا و ادبا کی ہر لحاظ سے مدد مسیحائی بھی کی جائے ۔ عہد موجود میں یوں تو پٹھواری لکھنے والے ادیب لاتعداد ہیں مگر مندرجہ ذیل نام نمایاں ہیں ۔ محمد شریف شاد ، یاسر محمود کیانی ، عابد حسین جنجوعہ، فیصل عرفان فیصل ، محمد عظمت مغل ، نعمان رزاق وڑائچ ، محمد شکور احسن ، شاہد لطیف ہاشمی ، ثاقب امام رضوی ، مہ وش راجہ ( بنت محمد شریف شاد ) ، ظہیر چوھدری ، راجہ نثار یاور ، راجہ عبدالوحید قاسم ، راجہ محمد نیاز جوشی ، شمسہ نورین ، جنید غنی راجہ ، عثمان اسلم ، فرزند علی ہاشمی ، جہانگیر عمران ، عامر قریشی ، مسرت شیریں ، چندا خیری (بنت دلپذیر شادؒ) ، قیصر راجا ، واجد حقیر ، کامران حشر ، صفدر حسین صفدر ، عادل سلطان خاکی ، عامر قریشی ، جہانسر محمود اخلاق ، نوید انجم جانی ، اکرام دوشی ، قیصر روگی، خرم امین ناظم ، اللہ دتہ سیٹھی ، راجہ ناصر عاطر ، تراب نقوی ، نصیر جانی ، راجہ شوکت معصوم ، ضیارب تائب ، راجہ توقیر اختر ناشاد ، مجید ذکی ، سلطان محمود نئیر ، ملک مظلوم حسین زخمی ، راجہ عابد حسین فدا ، چوھدری مطلوب شمس ، اعظم دیوانہ ، سجاد عاقل ، قمر عبد اللہ ۔ سارے نام درج کرنا اس کالم میں ممکن نہیں ہے ۔ ان کے علاوہ بھی بڑے نام ہیں جیسے مجھے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں ارشد ملک کے الفاظ میں ۔
اتنے ڈھیر سے ناموں میں ،
میرا نام نہ کھونے دینا ،
میری شام نہ ہونے دینا ،
میری نظر میں عصر حاضر کے ان سب ناموں میں سے سب سے نمایاں اور سر بلند نام ” باباۓ پٹھوہار” جناب محمد شریف شاد جی کا ہے ۔ پٹھوہاری زبان و ادب کی ترویج و ترقی کے حوالے سے صدارتی ایوارڈ یافتہ محمد شریف شاد مدظلہ سے جب میں نے ان کی علمی و فکری اور تحقیقی خدمات کے حوالے سے سوال کیا تو وہ فرمانے لگے کہ ” مجھ میں کچھ نہیں ہے میں تو بہت کمزور آدمی ہوں ، بس یہ اللہ کریم کا فضل و کرم ہے کہ 2023ء میں سیرت النبی ﷺاٹخ پہ جو کتاب میں نے لکھی تھی اس پہ مجھے وزارت مذھبی امور نے ایوارڈ سے نوازا ہے ، پھر 2024ء میں سیرت پر ایک اور کتاب لکھی جس کا نام ہے "سرکار نیاں چٹھیاں” حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی زندگی میں جو خطوط لکھوائے تھے مختلف حکمرانوں اور سرداروں کو ، وہ میں نے اکٹھے کیے مختلف کتابوں کو چھان کر تو وہ کوئی 80 خطوط مجھے ملے تھے ، پھر ان کا ترجمہ ، تشریح اور ان کے اثرات کیا ہوئے ۔ اس کام پہ مجھے اللہ کے کرم سے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ پھر 2025ء میں ایک اور کام میں نے کیا ، مجھے اللہ پاک نے یہ توفیق دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معجزے جو ہیں ان میں سے میں نے 500 معجزات جو ہیں وہ چنے ، اکٹھے کیے مختلف کتب میں سے اور پھر ان کو پٹھوہاری زبان میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔ میری چوتھی کتاب جو چھپی ہے وہ بھی سیرت کے حوالے سے ہے اور وہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جو 99 نام ہیں ، ان کے مطالب و تشریح کرنے کی بھی اللہ پاک نے مجھے توفیق دی ۔ یہ سب اللہ پاک کا کرم ہے اور مجھ پہ خاص کرم ہے ۔ میں نےشیخ سعدی شیرازی ؒ کی اور مولانا رومؒ کی حکایات کا بھی پٹھواری ترجمہ کر دیا ہے جو الگ الگ دو کتب چھپ چکی ہیں ۔” اس کے علاوہ شریف شاد جی پٹھوہاری لغت ، پٹھوہاری قاعدہ اور پٹھوہاری گرائمر کی اچھوتی و منفرد کتب بھی لکھ چکے ہیں ، جن میں معیار ہے اور نکھار بھی ہے مگر میری راۓ میں محترم شاد صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کا پٹھوہاری زبان میں ترجمہ کیا ہے ۔ راقم الحروف راجہ شاھد رشید نے بھی قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ ، بہت سی سورتوں اور انبیاۓ کرام کے حالات زندگی کا بھی پٹھوہاری زبان میں منظوم ترجمہ کیا ہے اور میری محترم شاد جی سے التماس ہے کہ ایوارڈ ملے نہ ملے مگر میرا یہ کام وزارت مذہبی امور اور دیگر حکام بالا تک ضرور پہنچائیں ۔ میری اس کتاب کا نام ہے "نقطہ نقطہ نور” جس کا ٹائٹل قطعہ ہے۔
آیا پہلُوں حکم رحمانی ازلی سچ دستور
پڑھو سُچے حرف قرآنی نقطہ نقطہ نور
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |