امداد نیازی کے افسانوں کی ماحولیاتی جہتیں
از
پروفیسر محمد ارشد حسان ، (میانوالی)
آج ہمارا کرہ ارضی جس ماحولیاتی بحران کا شکار ہے اس سے نکلنے کے لیے ہمارے سائنس دانوں کے پاس ہر ممکنہ حل موجود ہے مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ اقتدار کے نشے میں مست اہل حکم ، دولت کی ہوس میں مدہوش صنعت کار اور نااہلی کا شکار نام نہاد اہل کار کسی طور بھی اس مسئلے کی گھمبیرتا کو سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ خوشی اس بات کی ہے کہ ہمارے قلم کار ، ادیب ، شاعر اور افسانہ نویس نہ صرف ماحولیاتی ادب تخلیق کرنے میں مصروف عمل ہیں بلکہ ہر فورم پر اس مسئلے کی حساسیت سے اہل سیاست کو آگاہ کرتے رہتے ہیں ۔
پریم چند ، رفیق حسین ،خواجہ احمد عباس ،بلونت سنگھ ، رفیق حسین ، احمد ندیم قاسمی ، انتظار حسین ،منشا یاد جیسے فکشن نگاروں کے فکشن میں دیہی ماحول ، فطری حسن، اور ماحولیاتی توازن کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ ان افسانہ نگاروں کے ہاں متمدن شہری صنعتی زندگی کے مقابل دیہی فطری نظیف فضا کی تحسین صاف جھلکتی ہے۔
ہم سب بٹر فلائی ایفیکٹ سے بھی واقف ہیں اور اس راز سے بھی آشنا ہیں کہ اگر اس دھرتی پر موجود ایک بھی پھپھوندی ناپید ہو جائے تو نباتاتی ، حیوانی اور انسانی زندگی خطرے میں پڑ جائے ۔آج فلسفہ ماحولیات فطری دنیا اور اس کی تمام مخلوقات کے بیچ باہمی رشتے کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ وہ انسان مرکزیت خیال کی نفی کرتے ہوئے حیات مرکزیت نظریے کا داعی ہے۔
وہ ورڈزورتھ کی طرح نیچر کے عاشق ہیں۔جب ہم امداد نیازی کے افسانوں کا تجزیاتی مطالعہ کرتے ہیں تو حیران کن طور پر ہمیں نظر آتا ہے کہ وہ تقریباً ہر افسانے میں منظر نگاری کے باب میں فطرت اور فطری عناصر کو پھرپور پینٹ کرتے ہیں۔ وہ فطرت کے حسن کی شیدائی اور ماحولیاتی توازن کے اسیر دکھائی دیتے ہیں ۔ مگر بات یہاں ختم نہیں ہوتی جب ہم ان کی منظر نگاری کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو وہ فطرت ، فطری مخلوقات اور انسان میں پیدا شدہ مغائرت پر ماتم کناں دکھائی دیتے ہیں اور اس مغائرت کا سبب ان کے نزدیک انسان خود ہے۔میں یہاں ان کے افسانوں کے اصلاحی ،تہذیبی اور ثقافتی پہلوؤں کے بجائے ان کے افسانوں کی آرکیالوجیاتی جہتوں کی طرف کچھ اشارے کروں گا۔
انسانی زندگی اشجار کی مرہون منت یوں ٹھہری کہ انہی سے اس کی سانسوں کے ڈور بندھی ہے ۔درخت پرندوں اور دیگر منی نباتات اور بہائم کے لیے خوراک و حفاظت کا وافر سامان مہیا کرتے ہیں ۔یہ سایہ مہیا کرتے ہیں؛ موسمی تحفظ فراہم کرتے ہیں اور نمی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ درختوں کی اسی اہمیت میں تناظر میں ان کے افسانے” ٹاہلی اور چیونٹی” سے یہ اقتباس ملاحظہ کریں:
"گاہے بگاہے بارشیں ہوتی رہیں دن مہینے گزرتے گئے اور ایک دن یہی درخت ایک خوبصورت ٹاہلی کی شکل اختیار کر گیا۔ اس کے سائے میں چرند پرند سبھی کا بسیرا ہونے لگا تھا۔ ساتھ کچا راستہ بھی تھا ۔تھکا ماندہ کوئی مسافر راہگیر یہاں سے گزرتا ہوا تھوڑی دیر سستانے کے لیے یہاں آرام کرتا پھر اپنی منزل کی جانب چلا جاتا ۔”
(ٹاہلی اور چیونٹی ،ص:15)
پیپل کے درخت کی پر اسرار اہمیت تو خیر ایک الگ قصہ ہے کہ گوتم کو گیان اسی کے سائے میں ملا ۔ پنجاب کی قدیم تاریخ بتاتی ہے کہ نہ صرف ہر گاؤں اور شہر کے داخلی دروازوں پر اسے دانستہ لگایا گیا بلکہ اسی پیپل کو ہر گاؤں میں کنویں کے ساتھ بھی کاشت کیا گیا کہ کنویں کا پانی ٹھنڈا رہے اور پانی بھرنے والوں کو وقت انتظار یہ جھلسا دینے والی گرمی سے بچاؤ کے لیے بھی نورانی پر بچھائے رہے۔ اس کے گرد خاموش فضا کا ہالہ اور ٹھنڈی میٹھی دور دور تک پھیلی چھاؤں اور آسمان کو چھوتی شاخیں اسے ہمارے نباتات میں وہی مقام دلاتے ہیں جو عرب فلورا کے اندر کھجور کو حاصل ہے ۔ اس درخت سے امداد کو دیوانگی کے حد تک محبت یے ۔ ان کے ہاں بیشتر افسانوں میں اس کا ذکر ملتا ہے بلکہ انہوں نے پورے دو افسانےاسی درخت کو مرکز بنا کر تخلیق کیے ہیں ۔
” پیپل کادرخت قیامِ پاکستان سے پہلے کا ہے۔ اب تو کافی بوڑھا ہو چکا ہے مگر اس کی چھاؤں بڑی جاندار ہے”( ماموں جان زندہ باد،ص: 41)
بوہڑ کا درخت بھی ہمارے مقامی درختوں میں ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔طویل عمری اور گھنی چھاؤں کی وجہ سے یہ ہمارے کسانوں کا پسندیدہ درخت ہے اور بے شمار طبی فوائد کی وجہ سے ہماری روایتی طب میں اس کی اہمیت مسلم ہے۔ یہ صوفی درخت بزرگوں اور پنچایتوں کا مرکز رہا ہے۔ اپنی اس گوناگوں اہمیت کی وجہ سے یہ درخت امداد کا محبوب درخت ہے۔ چناں چہ پورے دو افسانوں کے تانے بانے انہوں نے اسی درخت کے گرد بنے ہیں۔
افسانہ” بوہڑ کا درخت ” تین نسلوں کی اس درخت سے محبت کا غماز ہے۔ اس افسانے میں دادا اپنے بچپن کے لگائے گئے بوہر کے پودے کی نشوونما کے عمل کو اپنے پوتوں کو بتاتا ہے اور وہ بھی اس دلگیر انداز میں کہ نہ صرف دادا خود رونے لگتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساری فضا روہانسی ہو جاتی ہے ۔اور اس پرسوز تاریخی ذکر سے بچے اس قدر موٹی ویٹ ہوتے ہیں کہ وہ بھی اپنے لگائے گئے بوہڑکے پودے کو پروان چڑھانے کا عزم ظاہر کرتے ہیں یوں یہ افسانہ اپنی تقلیبی قوت سے بھی معمور نظر آتا ہے۔
” ہم عہد کرتے ہیں اس پودے کو تناور درخت بنا کر ہی چھوڑیں گے ہم آپ کے پوتے جو ٹھہرے آپ کی بس ہمیں دعائیں چاہییں”۔
( بوہڑ اسٹیشن ،ص: 63)
"میں یہ سن کر خوش ہوتا ہوں۔انہیں کیا بتاتا کہ میں صدیوں سے چل چلچلاتی دھوپ میں سب کو ٹھنڈی چھاؤں مہیا کرنے والا درخت ہوں۔ میں صرف آدم زاد ہی نہیں پرندوں کی تھکن اتارنے کا باعث بنتا ہوں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے کہ سب کے کام آ رہا ہوں”۔
( میں ہوں بوہڑ کا درخت ، ص:130)
بیری کا درخت بھی کئی طرح کے فائدے لیے ہماری پوری ثقافتی تاریخ پر چھایا نظر آتا ہے۔ انسانوں اور پرندوں دونوں کے لیے یکساں نفع بخش یہ درخت تقریباً پورے پنجاب میں بکثرت ملتا ہے۔بھلے قدیم دور میں یہ خود رو درخت کے طور پر ہی پھلا پھولا ہو لیکن آج اس درخت کی کاشت ہمارے مقامی ماحولیاتی توازن کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔بیری کے پتوں کی مذہبی و طبی افادیت اور بیر کے جملہ فوائد کے پیش نظر اس درخت کی کاشت کے لیے امداد نے پورا ایک افسانہ تخلیق کیا ہے۔
” بیری کا درخت نہ صرف گھنی چھاؤں مہیا کرتا ہے بلکہ اس کا پھل زبردست، لذیذ اور میٹھا ہوتا ہے۔”
(بیری کا درخت ،ص: 29)
مختصر یہ کہ انہوں نے ‘ آزادی مبارک’ میں انسانوں کی زبانی پرندوں کی اہمیت ، ‘گلاب اور بلبل میں ‘ گلاب کی زبانی گلاب کے پھول کی ضرورت اور ‘جنگل کا بادشاہ ‘ میں شیر کی زبانی پانی کی ناگزیریت بیان کی ہے۔ جب کہ افسانہ ‘رحم دل گڑیا ‘ کی فجر جہاں پہاڑی علاقوں میں پھیلے قدرت کے دل کش نظاروں کی شیدائی ہے وہیں وہ زخمی فاختہ کو دیکھ کر تڑپ بھی اٹھتی ہے اور ہر صبح منڈیر پر پرندوں کے لیے بلا ناغہ دانے ڈالنا بھی نہیں بھولتی ۔
میں یہاں ان کے افسانے ‘ ہفتہ صفائی ‘ کے اس پر زور بیانیے پر مضمون ختم کرتا ہوں جہاں وہ ننھے ننھے بچوں کے اس عمل کی تعریف کرتے ہیں جن کے نظافتی مشن نے سوسائٹی کو شہر بھر کی کدورتوں کو دور کرنے کے لیے مہمیز کا کام دیا یے۔
"بچوں نے آج ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ اب ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ ان کے ساتھ تعاون مستقل بنیادوں پر کریں تاکہ یہ صفائی کا مسئلہ آئندہ درپیش نہ ہو”۔
( ہفتہ صفائی ،ص: 72)

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |