انوکھا چور
صفدر علی حیدری
رات کے دو بجے ہوں گے جب ایک سایہ سا محتاط قدموں سے چلتا ہوا ایک دیوار کے ساتھ آ کر رک گیا۔ وہ کچھ دیر وہیں کھڑا سن گن لیتا رہا، اور پھر چپکے سے دیوار پھلانگ کر ایک مکان میں گھس گیا۔
دیوار قد آدم سے تھوڑی اونچی تھی، سو اسے کودنے میں کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ کچھ دیر تک وہ دیوار کے ساتھ اگی ہوئی جھاڑیوں میں دبک کر بیٹھا رہا۔ جب کوئی ردعمل سامنے نہ آیا تو وہ سمجھ گیا کہ اہلِ خانہ گدھے گھوڑے بلکہ سب کچھ بیچ کر سو چکے ہیں۔ یہ وقت تھا بھی تو گہری نیند کا۔
صحن میں بچھی ہوئی چارپائیوں پر سارا کنبہ سکون کی نیند سو رہا تھا۔ صحن میں روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔ برآمدے میں ایک کم واٹ کا بلب اندھیرے سے مردانہ وار لڑ رہا تھا۔ وہ محتاط انداز سے چلتا ہوا برآمدے میں پہنچا اور ایک بڑے سے کمرے میں جا پہنچا۔ کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس نے جیب سے ٹارچ نکال کر جلائی تو کمرہ ایک دم سے روشن ہو گیا۔ ٹارچ چھوٹی ضرور تھی، مگر تھی بڑے کام کی۔
اس کی نظریں لوہے کی الماری پر جا کر رک گئیں۔ شاید وہی اس کا نشانہ تھی۔ پھر وہ اس کی طرف بڑھ کر رک گیا۔ اس نے جیب سے ایک مڑی تڑی آہنی تار نکالی، الٹے ہاتھ میں ٹارچ پکڑی اور سیدھے ہاتھ سے وہ تار ماسٹر کی چابی کے سوراخ میں ڈال دی۔
وہ اپنے کام کا ماہر لگتا تھا، جبھی تو اس نے منٹوں میں لاک کھول لیا۔
نوٹوں کی دو تین گڈیاں وہاں رکھی تھیں، جو اب اس کی جیب میں تھیں۔ پھر وہ چپکے سے بیرونی دیوار کی جانب بڑھ گیا۔ اس ساری کارروائی میں تین چار منٹ سے زیادہ وقت نہ لگا تھا۔
باہر آ کر وہ بندروں کی سی پھرتی سے بارہ تیرہ فٹ اونچی دیوار پر چڑھ گیا۔ مگر اچانک ایک دھماکے سے صحن میں آ گرا۔ جلدی بازی میں اس کا توازن بگڑ گیا تھا اور ہاتھ چھوٹ گیا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا، اہلِ خانہ جاگ گئے۔ وہ بدحواسی کے عالم میں بیرونی گیٹ کی طرف بھاگا۔ گھر والے بھی "چور چور” کا شور مچاتے ہوئے اس کے پیچھے لپکے۔ لیکن اس دوران وہ گیٹ کھول کر باہر نکل چکا تھا۔
ایک دو مرد گیٹ سے باہر آئے تو یہ دیکھ کر حیرت سے اچھل پڑے کہ ٹھیکری پہرے دار نے اسے گردن سے پکڑ رکھا تھا اور دھکیلتا ہوا واپس گیٹ کی طرف بڑھ رہا تھا۔
سب نے مل کر اس کی خوب لترول کی۔ اس دوران حیرت انگیز طور پر پولیس بھی اطلاع ملتے ہی پہنچ گئی تھی۔ پہرے دار کی بات سن کر وہ بھی ایک لمحے کو ساکت رہ گئے۔
اگلے دن اخبار میں خبر لگی تھی:
"کل رات گئے ایک چور چوری کرتے پکڑا گیا۔ اہلِ خانہ اور پولیس نے کمال بہادری سے اسے پکڑ کر قانون کے حوالے کر دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ شخص محلے کی مسجد میں اعتکاف میں بیٹھا ہوا تھا۔”

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |