Tag: لیہ

  • تاثرات

    تاثرات

    تحریر : جسارت خیالی ، لیہ

    مقبول ذکی مقبول نئی نسل کے نمائندہ سرائیکی شعراء میں شمار ہوتے ہیں ، جو محمد ﷺ اور آل محمد علیھم السّلام کی محبت کو جزوِ ایمان سمجھ کر ان کی آفاقی تعلیمات کو اجاگر بھی کرتے ہیں ، جنہوں نے فاسق و فاجر اور ظالم قوتوں سے نہ صرف بغاوت کی بل کہ حالت سجدہ میں سر کٹا کر ارفع اخلاقی اقدار کو بھی بچایا ۔
    اس لئے مقبول ذکی مقبول نے اپنے سرائیکی شعری مجموعہ کا نام سجدہ تجویز کیا ہے ۔ اس کے پہلے حصے میں حمدیہ کلام ہے ، جس میں مقبول ذکی مقبول نے صفات خداوندی کا صرف ذکر کیا ہے بلکہ فلسفہ وحدت الوجود میں نمایاں نظر آتا ہے یہ مقبول ذکی مقبول کے ایمان کامل کی دلیل ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللّٰہ کی حمد و ثناء کرتی نظر آتی ہے ۔ شعر دیکھئے

    تتلی ، بھنورے ، خمرے ، جگنو ذکر کرن تین مالک دا
    میں مقبول دی قسمت کوں وی پھلاں نال سجایا ہے

    مقبول ذکی مقبول کے نزدیک قرآن عظیم حکمت و دانش کی کتاب ہی نہیں بلکہ بنی نوعِ انسان کے لئے مکمل ضابطہ حیات بھی ہے ، جس پر عمل کر کے دنیا اور آخرت سنواری جاسکتی ہے ، لیکن جو قرآن عظیم کی تعلیمات سے روگردانی کرتے ہیں ، وہ دنیا میں رسوا ہوتے ہیں ۔اس لئے مقبول ذکی مقبول کو بے حد دکھ ہے کہ عالم اسلام نے جب سے تعلیمات قرآن کو چھوڑا ہے ۔ تب سے داخلی و خارجی مسائل کی دلدل میں موت کی سسکیاں لیتا نظر آتا ہے ۔ موصوف نے اس شعر سے اپنے نقظہ نظر کو یوں بیان کیا ہے ۔

    قرآں پاک دے ہر منکر تے
    ڈتا عین زوال ہے مولا

    دوسرے حصے میں نعتیہ اشعار ہیں ، جن میں عشقِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشبو آتی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی یہ تمنا ہے کہ دامنِ مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پکڑے رہوں ، یعنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ سلم کے اسوہء حسنہ پر عمل کرتا رہوں ، جو رحمت اللعالمین اور محسن انسانیت ہیں ۔جن کی آمد مبارکہ پر وقت کے سفاک آمروں کے محلات کے درودیوار ہلنے لگ گئے تھے اور آتش کدے بجھ گئے تھے ۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف عالم گیر اخوت و محبت کا درس دیا بلکہ صدیوں سے حائل طبقاتی دیوار گر کر اعلیٰ اور ادنیٰ کا فرق مٹا دیا ۔ یو ں دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوا ، کہ رہتی زندگی نے سکھ کا سانس لیا ۔ نمونے کے چند اشعار نذر قارئین ہیں ۔

    عظمت نرالی تیڈی مدحت خدا کریندے
    ثقلین دا توں وارث وکھری ہے شان آقا

    کونین دا مالک ہے سردار مدینے دا
    انسان دا وارث ہے سرکار مدینے دا

    ڈوں جہاناں دا شاہ آیا مکے دے وچ
    ہر بشر کوں سحر اوہا وکھری لگی

    گل دی خوشبو گئی ہر گلی ہر نگر
    سوہنی رحمت دی سوہنی ہوا ہے چلی

    حضرت امام علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت پر مقبول ذکی مقبول کے اشعار میں بے پایاں عقیدت و مودت کے غماز ہیں ۔ حضرت امام علی علیہ السلام ایسے عظیم انسان تھے ، جو انسانیت کی سر بلندی کے لئے تحمل سے مصائب و آلام سہتے رہے ۔ انہوں نے فکری نظام ، اتحاد انسانی اور عدل و انصاف کے احیاء کے لئے اپنا خاندان تک قربان کر دیا ۔ مقبول ذکی مقبول نے اپنے بے ساختہ احساسات کا اظہار یوں کیا ہے ۔

    ڈیکھو ڈیکھو خوشی توں چمکدے پئے
    ذرے ذرے وی اج پوری کائنات دے
    کیتی چہرے علی مرتضیٰ تے نظر
    مرحبا یا علی یا علی حق علی

    جگ تے کل ایماں دا قدم آ گیائے
    ہنڑ تاں باطل نہ بچسی ذراوی اتھاں
    کعبے نواں بنڑایا خوشی توں ہے در
    مرحبا یا علی یا علی حق علی

    مقبول ذکی مقبول نے اپنے سلام میں بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کے سرمدی کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ، جو صبر و استقامت حریمت ، آزادی جرأت اظہار ، انسان دوستی ، کلمہء حق اور عدل و انصاف کے پیامبر تھے ، ان کے چند اشعار دیکھئے جو حضرت امام حسین علیہ السلام کے انقلابی مشن کی آئینہ داری کرتے ہیں ۔

    یزیدی مٹ گئے سارے کوئی ناں تک وی چیندا نئیں
    سکہ شبیر دا چلدائے حکومت وی سمندر ہے

    نہ کہیں ایجھاں کیتا سجدہ کوئی ایجھاں نہ کر سگسی
    اجاں توڑیں ہے سجدے وچ عبادت وی سمندر ہے

    ابنِ علی تہاڈی شجاعت کوں ہے سلام
    دین نبی بچایا امامت کوں ہے سلام

    صبر و رضا دا پیکر نوک سناں تے چہڑھ گئیں
    قرآن پڑھدا رہ گئیں تلاوت کوں کوں ہے سلام

    آخر میں میری دعا ہے کہ مقبول ذکی مقبول اپنی ایمان افروز شاعری کے ذریعے عالم اسلام خاص طور پر اہل وطن کے ضمیر احساس کو جگاتے رہیں ، کیونکہ محمد اور آلِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے آفاقی نظریات پر عمل کر کے ہی ترقی و خوشحالی ، امن و محبت ممکن ہے ۔عدم صورت میں ذلالت و رسوائی مقدر رہے گی

    جسارت خیالی

    لیہ، پنجاب، پاکستان

  • شمشاد حسین سرائی سے مکالمہ

    شمشاد حسین سرائی سے مکالمہ

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، لیہ

    شمشاد حسین سرائی صاحب،لیہ

    انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر
    سوال : آپ اپنے خاندان کا مختصر تعارف کرائیں۔؟
    جواب۔ہمارا "لیکھی سرائی بلوچ” خاندان ایک علمی، ادبی اور تاریخی خاندان ہے۔جس نے 16 ویں صدی عیسوی سے وادیء سندھ میں عہدِ کلہوڑہ میں کلیدی کردار ادا کیا۔میاں آدم شاہ کلہوڑہ جس نے سندھ میں سید محمد جونپوری کی تحریکِ مہدوی(ویرانے آباد کرنا ان سے حاصل شدہ آمدن کو تمام کارندوں میں. برابر برابر تقسیم کرنا) کوسندھ میں عملی طور پر پھیلایا۔اسی سلسلے میں آدم شاہ سندھ سے علاقہ سِرا (بھکر سے رحیم یار خان)میں تشریف لائے اور لیہ کے مقام پر حضرت لعل عیسن رحمتہ اللہ سرکار سے ملاقات کی اور تحریک کے مقاصد بیان کئے۔حضرت لعل عیسن سرکار نے جمالی بلوچاں کے مادر ذاد فقیر "میاں بیڑہ خان” سے ملنے کا مشورہ دیا۔جو علاقہ تھل کی 200 اقوام کے روحانی پیر و مرشد تھے۔جب آدم شاہ ، شاہ پور (موجودہ سرگودھا) کے قصبے "جمالی بلوچاں” پہنچے تو آپ نے دیکھتے ہی کہا یہ تو فقیر بندہ نہیں بلکہ "کان فقراء” ہے یعنی جیسے سونے چاندی کی کان ہوتی ہے یہ شخصیت فقر کی کان ہے۔جب سے بیڑا خان کا نام "کان فقیر” پڑ گیا چونکہ آپ ہمہ وقت "علیؑ علیؑ” کرتے رہتے تھے اسی بنا پر آپکا لقب "لیکھے علیؑ” پڑ گیا جو بعد میں بگڑ کر "لیکھی” ہوا۔بلوچوں کی اہم شاخ "زنگیزہ” سے تعلق تھا۔کان فقیر نے میاں آدم شاہ کا تحریک میں راہنما کے شمولیت سے اس تحریک کا نام "میاں وال تحریک” پڑ گیا۔چنانچہ کان فقیر نے اس تحریک کو اپنے مریدین میں متعارف کرایا اور انکو اس تحریک کے تحت زندگی گزارنے کا رنگ ڈھنگ سکھایا۔میاں آدم شاہ کے ساتھ مل کر علاقہ تھل(نواں کوٹ، چوبارہ، نور پور تھل، حیدر آباد تھل، منکیرہ اور مانڑی) تک کی اقوام کے علاقوں میں "دائرے” کھولےاور بقول مورخ تاریخ منکیرہ دوست محمد کھوکھر” آزی (عاجزی) دعا ترتیب دی اور اس کو رائج کیا۔جو آج تک جاری و ساری ہے” اسی طرح جب میاں آدم شاہ کلہوڑہ کے ساتھ میاں کان فقیر لیکھی اور انکے مریدین (سرائیوں کی بھاری تعداد) سندھ پہنچے تو تحریک میں خاطر خواہ اضافہ اور کان فقیر کی شمولیت سے تحریک کوبھاگ لگا دیکھ کر سندھیوں نے میاں کان فقیر کو "بھاگ وارو، لیکھ وارو مانڑوں” کا لقب دیا۔اور علاقہ سِرا سے کثیر تعداد میں اقوام (جو سرائیکی بولتی تھی) کی شمولیت کے سبب اس تحریک کا نام پھر "سرائی تحریک” پڑ گیا۔جسکی وجہ سے تحریک میں شامل تمام اقوام خاص طور پر (کلہوڑے، لیکھی ،پتافی، کھوسے، جھنجھن، کلیری،کارلو، چھینے، مگسی، کلاسرے، سواگ،نائچ و دیگر اقوام) سب "سرائی کہلوانے لگیں اور اسں تحریک کےاگوان ” لیکھی” ہیں۔ یہ سرائیکی زبان کی پہلی روحانی تحریک تھی ۔جنمیں "راجہ لیکھی، تاجہ لیکھی، بلاول لیکھی، حمزہ لیکھی، اللہ بخش لیکھی، تاجو لیکھی دوم ، پلیا لیکھی” جن کا نام تاریخی کتب میں ملتا ہے اسی راجہ لیکھی جو کلہوڑہ عہد میں اہم عہدوں( مشیرِ خاص، سپہ سالار، وزیرِ خزانہ اور وڈو وزیر (وزیرِ اعظم) پر متمکن رہے اُنکی چھٹی پشت میں سے میں (شمشاد سرائی لیکھی) ہوں۔اور اپنے خاندانی تاریخی ورثے کا وارث ہوں۔

    شمشاد حسین سرائی سے مکالمہ

    سوال : شمشاد کا کیا مطلب ہے؟جواب۔خوبصورت ، شمشیراور ایک خوبصورت درخت جو وادیء کشمیر ہوتا ہے دراز قد

    سوال : آپ ادبی دنیا میں کس طرح وارد ہوئے۔؟
    جواب۔علمی، ادبی گھرانے سے تعلق رکھنے کی نسبت میلانِ طبع شروع سے شعر و شاعری کی طرف مائل تھا ادب سرشت میں شامل تھا اور پھر اسے محافلِ بزرگان میں اظہارے کا موقع ملا
    اور میں کالج لائف سے باقاعدہ بطور شاعر سامنے آیا۔
    سوال : تاریخ نگاری میں بھی آپ ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ تھوڑا قارئین کو آگاہ کریں ۔؟
    جواب ۔جی ایک تاریخی خاندان سے تعلق کی بنا پر خطے کی تاریخ اور تاریخ سندھ” پر خصوصی مطالعہ اوردسترس حاصل ہے
    سوال : آپ کی کتاب "حرف حرف خوشبو” کو کس حدتک پزیرائی ملی۔؟
    جواب۔ جی میرا پہلے اردو مجموعے ” حرف حرف خوشبو” کو ضلعی سطح سے صوبائی سطح "اکادمی ادبیات لاھور” تک بہت اچھی پزیرائی ملی۔ الحمد اللہ
    سوال : صنفِ سخن میں زیادہ شہرت غزل کو ملی ہے یا نظم کو۔؟
    غزل کو۔

    سوال : شاعری کا محور و مرکز محبت ہے ۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔؟
    جواب۔ جی محبت ہی سے قائم ہے نظامِ ہستی۔اسی لیے شاعری میں رومانوی عنصر کا پایا جانا فطری عمل ہے
    سوال : آپ کی بہت سی ادبی تنظیموں سے وابستگی ہے۔ ان کے بارے میں قارئین کو آگاہ کریں۔؟
    جواب ۔ 1983 سے ادبی تنظیموں سے بطور چیئرمین و صدر منسلک ہوں ان میں "تھل ادبی اکادمی لیہ، بزمِ اہلِ قلم لیہ، بزمِ فروغِ ادب و ثقافت لیہ، لیہ ادبی فورم ، ادبی قافلہ انٹرنیشنل لیہ اور پاک برٹش آرٹس انٹرنیشنل "
    سوال : قصیدہ کی روح کیا ہےاور پاکستان میں کہاں کہاں تخلیق ہو رہا ہے۔؟
    جواب ۔قصیدہ ادب کی ایک اہم صنف ہے جسمیں محمدؐ و آلِ محمدؑ کی شان اور مدحت بیان اور تحریر کیا جاتا ہے اور شہنشاہوں کے دربار میں بادشاہوں کے قصائد بھی لکھے گئے۔برصغیر میں میر انیس و مرزا دبیر کے مرثیوں کے علاوہ قصائد بھی ملتے ہیں۔اور ادب کے مراکز لکھنئو، آگرہ، دلی اور ملتان اور اسکے مضافاتی علاقوں (کچھی) میں متقدمینِ ادب نےقصائد لکھے اور ملتے ہیں

    سوال : اعزازات۔؟
    جواب۔ اسوقت مجھے 2 انٹرنیشنل ایوارڈز (مستند سکالر، اعترافِ فن ایوارڈ)، ایک گولڈ میڈل ایوارڈ ،7 نیشنل ایوارڈز(تاریخ)،13 ادبی ایوارڈز
    سوال : آپ کے خیال میں سوشل میڈیا کو فروغ ادب کے حوالے سے کیسے موثر اور کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔؟
    جواب ۔۔آج کل سوشل میڈیا ایک سہل اور قابلِ پہنچ ذریعہ ہے جسکے ذریعے ہم پوری دنیا کے ادب سے منسلک ہو سکتے ہیں۔اسمیں میں کامیاب رہا ہوں عرصہ تین سال سے اردو ادب کے فروغ کے لیے "ادبی قافلہ انٹرنیشنل گروپ آف پاکستان، علیًؑ ولی اللہ انٹرنیشنل،پاک برٹش آرٹس انٹرنیشنل اور سرائیکی ادب کے فروغ کے لیے "وسیب رنگ سرائیکی سنگت پاکستان” بنا کر ادب کی خدمات سر انجام دے رہا ہوں اور ہر ہفتے اور ہر ماہ عالمی آن لائن مشاعرے اور معروف شعراء و شاعرات کے ساتھ شامیں منا رہے ہیں
    سوال : لیہ کی ادبی تاریخ میں نمایاں نام کون کون سے ہیں۔؟
    جواب ۔لیہ جو کہ زمانہ قدیم سے علم و ادب کا مرکز اور گہوارہ چلا آ رہا ہے جسمیں ادبی حوالے سے قد آور شخصیات نے جنم لیا اور انہوں نےبرصغیر کے ادب کو متاثر کیا۔جسمیں امام علی شاہ شفیق (انیسِ پنجاب)، غلام حیدر فدا (دبیرِ پنجاب)، گانموں شاہ واصف،ڈاکٹر خیال امروہوی، نسیمِ لیہ،ڈاکٹر عبدالحق سمرا،شعیب جاذب،میاں الہی بخش سرائی، ڈاکٹر قیصر رضوی،استاد واصف قریشی،نادر قیصرانی،ڈاکٹر سید فیاض قادری، فضلِ حق رضوی،شہباز نقوی،سنبل قریشی،طاہرہ امان،امان اللہ کاظم، عدیم صراطی،لطیف فتح پوری،کیف شکوری، منظور بھٹہ،منشی منظور،قنبر نقوی،پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین، پروفیسر طاہر مسعود مہار، پروفیسر شعیب بخاری،پروفیسر ریاض راہی، پروفیسر عطا محمد عطو، پروفیسر ڈاکٹر گل عباس اعوان، پروفیسر ڈاکٹر حمید الفت ملغانی،پروفیسر افتخار بیگ، پروفیسر مہر اختر وہاب، عبدالقدوس ساجد، سید رضا کاظمی، تنویر حسین نجف، ناصر ملک،صابر عطا، شمشاد سرائی سئیں صادق حسنی،شاکر حسین کاشف،مظہر یاسر، شفقت عابد، ظفر حسین ظفر، موسیٰ کلیم،اشرف درپن، سلیم اختر ندیم، قاسم عارض،راول بلوچ،خادم کھوکھر، عارش گیلانی، عباس واصفی، سعید احمد رازی،صابر جاذب،اقبال حسین دانش اور قمر جعفری کے نام نمایاں ہیں

    zaki and shamshad

    سوال : آپ ہمہ وقت فروغ ِادب کے لیے کوشاں رہتے ہیں؟ کس طرح manageکرتے ہیں؟
    جواب ۔بس سرشت میں علم و ادب رچا بسا ہے اور کوئی نشہ نہیں سوائے علم وادب کے۔ کوشش کرتا ہوں امورِ زیست ، گھر گرستگی کے فرائض نمٹا کے زیادہ سے زیادہ وقت علم و ادب پر صرف کروں اسمیں میں کامیاب رہا ہوں

    سوال : کیا آپ کے فن شخصیت پر تحقیقی کام ہو چکا ہے؟
    جواب ۔جی ہاں ! غازی یونیورسٹی میں میرے مجموعہ کلام "حرف حرف خوشبو کا فنی و فکری جائزہ ” ایک مقالہ لکھا گیا ہے۔

    سوال : آج کل تخلیق ہونے والے ادب کے بارے میں اپنی راۓ دیں۔؟
    جواب۔آج کل جدید شاعری کے حوالے سے جو متشاعروں کا ایک ہجوم ادب میں آ چکا ہے۔اور اس نہج پر تخلیق ہونے والا ادب معیاری نہیں ہے۔

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • قنبر نقوی سے مکالمہ

    قنبر نقوی سے مکالمہ

    قنبر نقوی صاحب، لیہ

    انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات،لیہ

    انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر

    سوال : آپ سادات خاندان (نقوی) سے ہیں ۔ مختصر تعارف کرائیں ۔؟
    جواب : جی ہاں نقویہ سلسلہ اولاد حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے معروف ہے ۔ ہمارے مورث اعلیٰ سید محمد شجاع طوسی رحمت اللّٰہ دسویں پشت سے حضرت امام علی نقی علیہ السلام سے ملتے ہیں۔ آپ کم بیش 644 ھجری میں سندھ کے شہر سکھر کے قریب قصبہ بکھر میں آ کر مسکن پزیر ہوئے ۔ اس طرح آپ بھاکری النقوی کہلائے بعد میں آپ کی اولاد اچ شریف میں آ کر آباد ہوتی گئی ۔ اس سلسلے میں بہت سے اولیائے اللّٰہ پیدا ہوئے جن میں سید ہارون سرمست، سرکار صدر دین خطیب سرکار بدرالدین، سید سردار رحمت اللہ المعروف شاہ اویس، سید سرکار شیر شاہ نقوی، سید اللہ بندہ شاہ، سید احمد کبیر اول بھاکری النقوی، سرکار علی راجن سدابھاگ ، جنکا مزار تحصیل کروڑ ضلع لیہ

    قنبر نقوی سے مکالمہ


    سوال : آپ کا شہر لیہ ہے؟ اس کی وجہء تسمیمہ کیاہے؟
    جواب : تاریخ لیہ لکھنے والوں نے اس کی وجہ تسمیہ دو طرح کی لکھی ہیں ۔ پہلی یہ کہ یہ شہر دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پر آباد ہوا چونکہ دریا کے کنارے لایاں بہت ہوتی ہیں ۔ لوگوں نے لائیاں کاٹ کر مکان بنائے ۔ اس طرح لیہ مشہور ہوا ۔
    دوسری روایت یہ بھی ہے کہ سولویں صدی میں سردار کمال خان کے دو بیٹے تھے ایک کا نام لیئو خان تھا ۔ دوسرے کا نام میئو خان تھا ۔ لیئو خان نے لیہ شہر کے بنیاد رکھی اور میئو خان نے میانوالی شہر کی بنیاد رکھی اور وہاں آباد ہوا ۔ اس طرح لیئو خان سے لیہ مشہور ہوا ۔
    سوال : لیہ کی ادبی فضا کیسی ہے؟
    جواب : کسی زمانہ میں لیہ ادب کا لکھنؤ مانا جاتا تھا ۔ لیہ میں بہت بڑے نامور ادیب شاعر پیدا کیئے بہرحال اب بھی لیہ اپنے اس مقام پر قائم ہے ۔ کچھ عرصے سے ادبی دھڑے بندیاں قائم ہو چکی ہیں ۔ اس روایت کے اثرات مستبقل میں اچھے نہیں ہوں گے ۔
    سوال : آپ ادب کی طرف کیسے راغب ہوئے؟
    جواب : میں بچپن ہی سے شعر و ادب کا دیوانہ تھا اور اب بھی ہوں۔ یہ رغبت فطری ہے ۔
    سوال : اس مشکل ترین دور میں آپ ادبی شوق کاچراغ کیسے جلائے ہوئے ہیں ؟
    جواب : اس مشکل ترین دور میں ادب کا چراغ جلانا یقنا مشکل ہو گیا ہے ۔ ادب سے وابستگی عشق کی حدتک ہو تو حالات جیسے بھی ہوں چراغ ادب جلایا جا سکتا ہے ۔
    سوال : کیا یہ علم وادب دوستی آپ کو وراثت میں ملی ہے؟
    جواب : ہاں اس میں شک نہیں ہمارے خاندان میں علم ادب سے دوستی رہی ہے ۔ اس طرح اس کو وراثتی رغبت کہا جا سکتا ہے ۔
    سوال : آپ کے نام میں قنبر ہے۔ قنبر کا کیا مطلب ہے؟
    جواب : میرے قلمی نام قنبر جو ہے قنبر مولا علی علیہ السلام کے غلام قنبر سے مشتق ہے ۔
    سوال : آپ کی مصروفیت ۔؟
    جواب : دینی کتب ، ادبی لٹریچر کا مطالعہ ، اشعار کہنا اشعار پڑھنا میری مصروفیات ہیں ۔
    سوال : آپ کی کتابوں کے نام کیا ہیں۔؟
    جواب : میری پہلی کتاب جو غزل اور نظم پر مشتمل ہے ۔ اس کا نام اجاں کجھ دیر باقی ہے ۔
    دوسری کتاب حمد و نعت اور منقبت پہ ہے ۔ معراج عقیدت
    تیسری کتاب حمد ، منقبت اور مرثیہ اس کا نام ہے دشت میں بکھرا ہے لہو
    ویسے تو نعت منقبت پہلے سے لکھ رہا تھا مرثیہ کی ابتدا ۔
    جب میں 1993ء میں کربلا پہنچا تو کی میرا پہلا مجموعہ 2010ء کے سیلابی ریلے میں بہت سی قیمتی کتابوں کے ساتھ ضائع ہو چکا مجھے بہت دکھ ہوا ۔

    سوال : آپ چار دہائیاں سے اشعار کہے رہے ہیں۔ یہ ادبی زندگی کیسی لگی۔؟
    جواب : میں چار دہائیاں سے شعر کہہ رہا ہوں ۔ یہ زندگی اچھی لگی
    سوال : آپ کے نزدیک کون سی صنفِ سخن نازک ہے۔؟
    جواب : حمد و نعت کے بعد غزل وہ صنفِ سخن ہے جو نازک ہے ۔
    سوال : آپ نے ادب میں کون سا منفرد کام کیا ۔؟
    جواب : میرے نزدیک منفرد کام جو کیا ہو مجھے نظر نہیں آتا ۔ سوائے اس کے شوگر ملز لیہ کے شمالی گیٹ پر 14سال مسلسل آل پاکستان مشاعرے کرائے ۔ نادر سرائیکی سنگت کے بعد لجپال سنگت لیہ میں بانی کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں ۔ میری تین کتابیں شائع ہوئیں ہیں ۔ یہ تمام کام میری ادنی ادبی خدمات ہیں کوئی منفرد کام نہ نہیں۔
    سوال : مشاعرہ کی تاریخ دم توڑتی نظر آرہی ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں۔؟
    جواب : جب سے ملک میں دشت گردی نے جڑ پکڑی تب سے لوگوں نے عوامی اجتماع کرانا یا اس میں شرکت کرنے سے اجتناب کرنا شروع کیا ۔ پھر بعد میں جدید ٹیکنالوجی نے نوجوان نسل کو مصروف کیا لیکن لوگ اب بھی مشاعروں کے مشتاق ہیں ۔ مخیر حضرات ادبی تنظمیں مشاعروں کا انعقاد کرائیں تو عوام میں شوق مشاعرہ ابھی باقی ہے۔
    سوال : شاہ صاحب درویش منش اور سادگی پسند ہیں۔ کیا یہ آپ کو وراثت میں ملی یا شعوری کوشش ہے۔؟
    جواب : درویشی تو بہت دور کی بات ہے البتہ سادگی وراثت میں ملی ہے ۔

    qanbar and zaki


    سوال : آپ کا ذوقِ مطالعہ۔؟
    جواب : ہاں میرا ذوقِ مطالعہ بہت زیادہ ہے جس میں سیرت ، تاریخ اور ادب کی کتابوں کا مطالعہ میرا پسندیدہ شوق ہے ۔
    سوال : آپ کی کسی ادبی تنظیم سے وابستگی۔؟
    جواب : فی الحال تو کسی ادبی تنظیم سے وابستہ نہیں ہوں ۔
    سوال : آپ کے اعزازات ۔؟
    جواب :ہاں میرے ادبی خدمات کے اعتراف میں ۔
    1 ایوارڈ، منجانب فدایان ادب ملتان، 11 اکتوبر 2019ء
    2 ایوارڈ ، منجانب فیوچئر کئیر اکیڈمی ، لیہ، یکم دسمبر 2019ء
    3 ایوارڈ برائے بہترین تصنیف ۔ منجانب انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان راولپنڈی ۔ 26جولائی 2021ء
    4 گولڈ میڈل ،سند ، کیش اور دیگر تحائف۔ منجانب تنظیم کارخیر گوجرانولہ 21 نومبر 2021ء
    5 حسن کارکردگی ایوارڈ، منجانب ماہنامہ اوج ڈائجسٹ، ملتان 16 جنوری 2022ء
    سوال : آخر میں آپ کوئی پیغام دینا چاہیں گے ۔؟
    جواب : جی ہاں تمام پڑھنے والوں سے عرض کروں گا کہ آپ ادب کا ساتھ دیں ۔ جس طرح علم انسان کا محافظ ہے ۔ اس طرح ادب علم کا محافظ و معاون ہے علم ادب کی زندگی پرا من زندگی ہے پرامن زندگی میں انسان ملک و قوم کے لئے بہتر سوچ سکتا ہے

    maqbool zaki

    مقبول ذکی مقبول

    بھکر، پنجاب، پاکستان

  • منتہاۓ فکر اور مقبول ذکی مقبول

    منتہاۓ فکر اور مقبول ذکی مقبول

    تحریر :صادق حسنی، لیہ
    آج میں نے کتاب” مُنتہاۓ فکر”
    جناب مقبول ذکی مقبول کا مطالعہ کیا ہے۔جو بندہ ناچیز نےفکر کا رنگ دیکھا ہے ۔کمال است مجھے تو ایسےلگتا ہے ۔جیسے نام مقبول ہے ۔ ویسے یہ انسان مولا کی بارگاہ میں مقبول ہے ۔ کیونکہ ان کے اشعار واضح بتا رہے ہیں ۔ایسےاشعار کہنا عطا کے بغیر ممکن نہیں ۔ جناب مقبول ذکی مقبول نے جو اس کتاب کو نام دیا ہے ۔ منتہائے فکر ۔۔۔۔اس میں فکر ہی فکر جھلکتی ہے ۔
    کہتے ہیں۔

    منتہاۓ فکر میں تحریر کر مقبول آج
    ہے دیا کیسے یہ مولا نے پیغام کربلا
    بیدار کرتے ہوئےکہتے ہیں

    سرمد سرمد رہنے والا
    واحد اللّٰہ خالق سب کا
    قاصر بندہ دیکھ نہ پایا
    دل کے اندر مالک اپنا

    انسان کو فکر دے رہا ہے باقی رہنے والا صرف اللّٰہ ہےآسان لفظوں میں یوں فرماتے ہیں۔
    اللّٰہ کے پیارے ایسے بھی ہوتے ہیں

    توحید کو بچانےکا شاہ( ع)نے اٹھایا بوجھ
    خالق نے پہلے روز سےشاہ (ع)کو دکھایا بوجھ

    راہ خدا میں جتنا بھی آۓ وہ سب ہےکم
    حیدرکےلعل کا بھی توکچھ نہ جھکایا بوجھ

    جس طرح کربلا میں حقُ باطل کا مارکہ ہوا کچھ یوں منظرکشی کرتے ہیں ۔

    قلم ایسی سعادت کر شہادت کےاثر کو لکھ
    حسین (ع) ابن علی( ع )پر وہ قیامت کی نظر کو لکھ

    انسان پر کھلا جو مفہوم کربلا کا
    وہ درس دے رہا ہے مظلوم کربلا کا

    بےگنا وہ خون تھا جو بہہ گیا کربُ بلا
    اس کی ہےتعبیر روشن دیکھ اور سو بار پڑھ

    مقبول ذکی مقبول میری نگاہ میں عظیم انسان ، ۔۔۔ عظیم شاعر کمال اور قلم کار ہیں، کالم نگار ہیں ملنسار ہیں ہر دلعزیز ،ہر انسان سے پیار کرنے والے ہر کسی کے دکھ سکھ میں شامل ہونے والے
    بھائی چارہ کا سبق دینے والا پابند ِ صوم وصلات اہلبیت سے محبت کرنے والے ہیں

    آپ کی مجلس میں ملتا درس ہے مقبول کو
    خیر کو اپنا لیا اور مل گئ شر سے نجات

    مقبول ذکی مقبول نےجو منتہاۓ فکر کی صورت میں شان اہل بیت اور کربلا کے ہر پہلو کو اجاگر کیا۔
    یہ رہتی دنیا تک کلام رہے گا۔
    مولا امام حسین علیہ السّلام کا فضائل ملاحظہ کیجئے

    آپ سا کوئی بہادر نہ کوئی دارین میں
    دشمنوں کی بھیڑ میں پڑھنے لگے تنہا نماز

    دین حق کو بھی ضرورت آپ کے سجدہ کی تھی
    ہو گیا مقبول تر یہ آپ کا پڑھنا نماز

    دعا ہے اللّٰہ پاک سے مقبول ذکی مقبول کی یہ عبادت اپنی بارگاہ میں مقبول کرے اور اپنے بچوں کے ساتھ صحت والی لمبی عمر عطا کرے آمین

    صادق حسنی

    لیہ، پنجاب، پاکستان

  • درخشاں ستارہ شہزاد افق التمیمی

    درخشاں ستارہ شہزاد افق التمیمی

    فکری عفت جب اوجِ کمال تک پہنچتی ہے تو انسان علم و آگہی کے بیکراں سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے اسے فکر کی جولانیاں دوسروں انسانوں کے متعلق سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں اور وہ دوسروں کا درد اپنا درد محسوس کرتا ہے دوسروں کی تھوڑی کوشش بھی اُسے زیادہ لگنے لگتی ہے اور وہ اپنی فکری نظافت سے دوسروں کو حرفِ تحسین اور ایوارڈز سے نوازنے چل پڑتا ہےشہزاد افق التمیمی بھی ایک ایسی شخصیت ہے جسے کم عمری میں ہی قدرت نے یہ خوبی عطا کر دی ہے اور وہ تھوڑے ہی عرصہ میں ایک درخشاں ستارہ بن کر چمکا ہے۔ میری پہلی ملاقات اس جوان سے راولپنڈی آرٹس کونسل میں ہوئی جب مجھے میری پنجابی کتاب” اکھیاں وچ زمانے” پر ایوارڈ دینے کے سلسلے میں انہوں نے بلایا۔ ایوارڈ لینے کے بعد بھی میں ان سے منسلک رہا تو ان کی خوبیاں مجھ پر عیاں ہوتی چلی گئیں چناں چہ میں نے انہیں ایک مضمون کی شکل میں لکھنا شروع کیا جو آپ کے سامنے ہے۔
    "عشق کی ایک جست نے طے کردیا قصہ تمام
    اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں”
    شہزاد افق التمیمی ضلع لیہ کے گاؤں چوک اعظم میں 17 جنوری 1996 کو پیدا ہوئے  گاؤں کے پرائمری سکول سے پانچویں اور مڈل سکول سے آٹھویں پاس چوک اعظم شہر سے اور میٹرک علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے مکمل کی اور ساتھ ہی گورنمنٹ ووکیشنل کالج سے الیکٹریکل ڈپلوما اور کمپیوٹر کورس کیا۔ 2015 میں گورنمنٹ ڈگری کالج چوک اعظم سے ایف اے کیا جس میں انہیں بہترین سٹوڈنٹ کا ایوارڈ دیا گیا اور اب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس اردو ادب میں کر رہے ہیں اور ان کا پانچواں سمیسٹر چل رہا ہے

    shahzad ufaq


    انہوں نے انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان کی بنیاد 17 جنوری 2019 میں رکھی اور اس کے بعد افق ویلفیئر فاونڈیشن پاکستان کی بنیاد 17 جنوری 2020 کو رکھی ،17 جنوری 2019 سے لے کر اب تک 300 اسناد اور 300 ایوارڈز دے چکے ہیں ایوارڈ لینے والوں میں سماجی کارکن، بہترین معلم، شاعر، ادیب، صحافی، فنکار ،علماء، خطاط، مصور، اور سیاست دان وغیرہ شامل ہیں پشتو ،پنجابی، انگریزی، سرائیکی ، اردو اور مختلف زبانوں میں لکھی گئی کتب پر ایوارڈ دیے گئے ہیں فروری 2022 میں ایک رسالہ اس سلسلے میں شائع کر رہے ہیں جس میں ان ایوارڈز کی تفصیل ہو گی افق ویلفیئر فاونڈیشن پاکستان کی کل 26 شاخیں ہیں جن میں ایک انٹرنیشنل رائیٹر فورم پاکستان جب کہ دوسری تربیتی ورکشاپ ہے پاکستان بھر میں ان کے کارکنان کام کر رہے ہیں جن کا مقصد اہلیان وطن کی فلاح و بہبود، راہنمائی، پزیرائی اور ان کے ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے کیونکہ موجودہ دور میں اگر کوئی ادب میں کام کرنا چاہتا ہے تو بہت سارے پرانے ادیب ایسے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں موجودہ دور میں عوام کو کتاب تک لانا ایک دشوار ترین کام ہے جس کی کوشش وہ انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان  کی شکل میں کر رہے ہیں جس میں نئے اور پرانے لکھاریوں کو اکھٹا کر کے اور  مشاعرے کرا کے ایک خوب صورت روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اس کے ساتھ ہی وہ نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کر کے  ان میں فنی  شعور پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے یہ تنظیم نئے لکھاریوں کی تحریری کاوش کی اصلاح کر کے اخبارات اور رسائل میں شائع کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور وقت آنے پر ان کی ادیبانہ اور فنکارانہ صلاحیتوں پر ان کو ایوارڈز سے بھی نواز دیتی ہے موجودہ نفسا نفسی کے دور میں ایسی شخصیت چراغ کی مانند ہے جس کا کام تیرگی کو ختم کرنا ہے اور اجالوں سے ہمکنار کرنا ہےہر آنے والی حکومت بھی عوام کے لیے ہر شہر میں ایسی تنظیمیں بنائے جو فلاحی کام  کرے اور شاعر ادیبوں اور فن کاروں کو ایسے پلیٹ فارم مہیا کرے جن میں ان کے کام کو سراہا جائے اگر وطن کا ایک جوان یہ کام کر سکتا ہے تو حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاییے۔ میں اور میری ادبی تنظیم کاروان قلم اٹک شہزاد افق التمیمی کو ان کی ادبی اور فلاحی کاوشوں پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

    hubdar qaim

    سید حبدار قائم

    سیکرٹری نشر و اشاعت

    کاروانِ قلم اٹک