شمشاد حسین سرائی سے مکالمہ

انٹرویو بسلسلہ ادبی شخصیات، لیہ

شمشاد حسین سرائی صاحب،لیہ

انٹرویو کنندہ: مقبول ذکی مقبول، بھکر
سوال : آپ اپنے خاندان کا مختصر تعارف کرائیں۔؟
جواب۔ہمارا “لیکھی سرائی بلوچ” خاندان ایک علمی، ادبی اور تاریخی خاندان ہے۔جس نے 16 ویں صدی عیسوی سے وادیء سندھ میں عہدِ کلہوڑہ میں کلیدی کردار ادا کیا۔میاں آدم شاہ کلہوڑہ جس نے سندھ میں سید محمد جونپوری کی تحریکِ مہدوی(ویرانے آباد کرنا ان سے حاصل شدہ آمدن کو تمام کارندوں میں. برابر برابر تقسیم کرنا) کوسندھ میں عملی طور پر پھیلایا۔اسی سلسلے میں آدم شاہ سندھ سے علاقہ سِرا (بھکر سے رحیم یار خان)میں تشریف لائے اور لیہ کے مقام پر حضرت لعل عیسن رحمتہ اللہ سرکار سے ملاقات کی اور تحریک کے مقاصد بیان کئے۔حضرت لعل عیسن سرکار نے جمالی بلوچاں کے مادر ذاد فقیر “میاں بیڑہ خان” سے ملنے کا مشورہ دیا۔جو علاقہ تھل کی 200 اقوام کے روحانی پیر و مرشد تھے۔جب آدم شاہ ، شاہ پور (موجودہ سرگودھا) کے قصبے “جمالی بلوچاں” پہنچے تو آپ نے دیکھتے ہی کہا یہ تو فقیر بندہ نہیں بلکہ “کان فقراء” ہے یعنی جیسے سونے چاندی کی کان ہوتی ہے یہ شخصیت فقر کی کان ہے۔جب سے بیڑا خان کا نام “کان فقیر” پڑ گیا چونکہ آپ ہمہ وقت “علیؑ علیؑ” کرتے رہتے تھے اسی بنا پر آپکا لقب “لیکھے علیؑ” پڑ گیا جو بعد میں بگڑ کر “لیکھی” ہوا۔بلوچوں کی اہم شاخ “زنگیزہ” سے تعلق تھا۔کان فقیر نے میاں آدم شاہ کا تحریک میں راہنما کے شمولیت سے اس تحریک کا نام “میاں وال تحریک” پڑ گیا۔چنانچہ کان فقیر نے اس تحریک کو اپنے مریدین میں متعارف کرایا اور انکو اس تحریک کے تحت زندگی گزارنے کا رنگ ڈھنگ سکھایا۔میاں آدم شاہ کے ساتھ مل کر علاقہ تھل(نواں کوٹ، چوبارہ، نور پور تھل، حیدر آباد تھل، منکیرہ اور مانڑی) تک کی اقوام کے علاقوں میں “دائرے” کھولےاور بقول مورخ تاریخ منکیرہ دوست محمد کھوکھر” آزی (عاجزی) دعا ترتیب دی اور اس کو رائج کیا۔جو آج تک جاری و ساری ہے” اسی طرح جب میاں آدم شاہ کلہوڑہ کے ساتھ میاں کان فقیر لیکھی اور انکے مریدین (سرائیوں کی بھاری تعداد) سندھ پہنچے تو تحریک میں خاطر خواہ اضافہ اور کان فقیر کی شمولیت سے تحریک کوبھاگ لگا دیکھ کر سندھیوں نے میاں کان فقیر کو “بھاگ وارو، لیکھ وارو مانڑوں” کا لقب دیا۔اور علاقہ سِرا سے کثیر تعداد میں اقوام (جو سرائیکی بولتی تھی) کی شمولیت کے سبب اس تحریک کا نام پھر “سرائی تحریک” پڑ گیا۔جسکی وجہ سے تحریک میں شامل تمام اقوام خاص طور پر (کلہوڑے، لیکھی ،پتافی، کھوسے، جھنجھن، کلیری،کارلو، چھینے، مگسی، کلاسرے، سواگ،نائچ و دیگر اقوام) سب “سرائی کہلوانے لگیں اور اسں تحریک کےاگوان ” لیکھی” ہیں۔ یہ سرائیکی زبان کی پہلی روحانی تحریک تھی ۔جنمیں “راجہ لیکھی، تاجہ لیکھی، بلاول لیکھی، حمزہ لیکھی، اللہ بخش لیکھی، تاجو لیکھی دوم ، پلیا لیکھی” جن کا نام تاریخی کتب میں ملتا ہے اسی راجہ لیکھی جو کلہوڑہ عہد میں اہم عہدوں( مشیرِ خاص، سپہ سالار، وزیرِ خزانہ اور وڈو وزیر (وزیرِ اعظم) پر متمکن رہے اُنکی چھٹی پشت میں سے میں (شمشاد سرائی لیکھی) ہوں۔اور اپنے خاندانی تاریخی ورثے کا وارث ہوں۔

شمشاد حسین سرائی سے مکالمہ

سوال : شمشاد کا کیا مطلب ہے؟جواب۔خوبصورت ، شمشیراور ایک خوبصورت درخت جو وادیء کشمیر ہوتا ہے دراز قد

سوال : آپ ادبی دنیا میں کس طرح وارد ہوئے۔؟
جواب۔علمی، ادبی گھرانے سے تعلق رکھنے کی نسبت میلانِ طبع شروع سے شعر و شاعری کی طرف مائل تھا ادب سرشت میں شامل تھا اور پھر اسے محافلِ بزرگان میں اظہارے کا موقع ملا
اور میں کالج لائف سے باقاعدہ بطور شاعر سامنے آیا۔
سوال : تاریخ نگاری میں بھی آپ ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ تھوڑا قارئین کو آگاہ کریں ۔؟
جواب ۔جی ایک تاریخی خاندان سے تعلق کی بنا پر خطے کی تاریخ اور تاریخ سندھ” پر خصوصی مطالعہ اوردسترس حاصل ہے
سوال : آپ کی کتاب “حرف حرف خوشبو” کو کس حدتک پزیرائی ملی۔؟
جواب۔ جی میرا پہلے اردو مجموعے ” حرف حرف خوشبو” کو ضلعی سطح سے صوبائی سطح “اکادمی ادبیات لاھور” تک بہت اچھی پزیرائی ملی۔ الحمد اللہ
سوال : صنفِ سخن میں زیادہ شہرت غزل کو ملی ہے یا نظم کو۔؟
غزل کو۔

سوال : شاعری کا محور و مرکز محبت ہے ۔ اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔؟
جواب۔ جی محبت ہی سے قائم ہے نظامِ ہستی۔اسی لیے شاعری میں رومانوی عنصر کا پایا جانا فطری عمل ہے
سوال : آپ کی بہت سی ادبی تنظیموں سے وابستگی ہے۔ ان کے بارے میں قارئین کو آگاہ کریں۔؟
جواب ۔ 1983 سے ادبی تنظیموں سے بطور چیئرمین و صدر منسلک ہوں ان میں “تھل ادبی اکادمی لیہ، بزمِ اہلِ قلم لیہ، بزمِ فروغِ ادب و ثقافت لیہ، لیہ ادبی فورم ، ادبی قافلہ انٹرنیشنل لیہ اور پاک برٹش آرٹس انٹرنیشنل “
سوال : قصیدہ کی روح کیا ہےاور پاکستان میں کہاں کہاں تخلیق ہو رہا ہے۔؟
جواب ۔قصیدہ ادب کی ایک اہم صنف ہے جسمیں محمدؐ و آلِ محمدؑ کی شان اور مدحت بیان اور تحریر کیا جاتا ہے اور شہنشاہوں کے دربار میں بادشاہوں کے قصائد بھی لکھے گئے۔برصغیر میں میر انیس و مرزا دبیر کے مرثیوں کے علاوہ قصائد بھی ملتے ہیں۔اور ادب کے مراکز لکھنئو، آگرہ، دلی اور ملتان اور اسکے مضافاتی علاقوں (کچھی) میں متقدمینِ ادب نےقصائد لکھے اور ملتے ہیں

سوال : اعزازات۔؟
جواب۔ اسوقت مجھے 2 انٹرنیشنل ایوارڈز (مستند سکالر، اعترافِ فن ایوارڈ)، ایک گولڈ میڈل ایوارڈ ،7 نیشنل ایوارڈز(تاریخ)،13 ادبی ایوارڈز
سوال : آپ کے خیال میں سوشل میڈیا کو فروغ ادب کے حوالے سے کیسے موثر اور کارآمد بنایا جا سکتا ہے۔؟
جواب ۔۔آج کل سوشل میڈیا ایک سہل اور قابلِ پہنچ ذریعہ ہے جسکے ذریعے ہم پوری دنیا کے ادب سے منسلک ہو سکتے ہیں۔اسمیں میں کامیاب رہا ہوں عرصہ تین سال سے اردو ادب کے فروغ کے لیے “ادبی قافلہ انٹرنیشنل گروپ آف پاکستان، علیًؑ ولی اللہ انٹرنیشنل،پاک برٹش آرٹس انٹرنیشنل اور سرائیکی ادب کے فروغ کے لیے “وسیب رنگ سرائیکی سنگت پاکستان” بنا کر ادب کی خدمات سر انجام دے رہا ہوں اور ہر ہفتے اور ہر ماہ عالمی آن لائن مشاعرے اور معروف شعراء و شاعرات کے ساتھ شامیں منا رہے ہیں
سوال : لیہ کی ادبی تاریخ میں نمایاں نام کون کون سے ہیں۔؟
جواب ۔لیہ جو کہ زمانہ قدیم سے علم و ادب کا مرکز اور گہوارہ چلا آ رہا ہے جسمیں ادبی حوالے سے قد آور شخصیات نے جنم لیا اور انہوں نےبرصغیر کے ادب کو متاثر کیا۔جسمیں امام علی شاہ شفیق (انیسِ پنجاب)، غلام حیدر فدا (دبیرِ پنجاب)، گانموں شاہ واصف،ڈاکٹر خیال امروہوی، نسیمِ لیہ،ڈاکٹر عبدالحق سمرا،شعیب جاذب،میاں الہی بخش سرائی، ڈاکٹر قیصر رضوی،استاد واصف قریشی،نادر قیصرانی،ڈاکٹر سید فیاض قادری، فضلِ حق رضوی،شہباز نقوی،سنبل قریشی،طاہرہ امان،امان اللہ کاظم، عدیم صراطی،لطیف فتح پوری،کیف شکوری، منظور بھٹہ،منشی منظور،قنبر نقوی،پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین، پروفیسر طاہر مسعود مہار، پروفیسر شعیب بخاری،پروفیسر ریاض راہی، پروفیسر عطا محمد عطو، پروفیسر ڈاکٹر گل عباس اعوان، پروفیسر ڈاکٹر حمید الفت ملغانی،پروفیسر افتخار بیگ، پروفیسر مہر اختر وہاب، عبدالقدوس ساجد، سید رضا کاظمی، تنویر حسین نجف، ناصر ملک،صابر عطا، شمشاد سرائی سئیں صادق حسنی،شاکر حسین کاشف،مظہر یاسر، شفقت عابد، ظفر حسین ظفر، موسیٰ کلیم،اشرف درپن، سلیم اختر ندیم، قاسم عارض،راول بلوچ،خادم کھوکھر، عارش گیلانی، عباس واصفی، سعید احمد رازی،صابر جاذب،اقبال حسین دانش اور قمر جعفری کے نام نمایاں ہیں

zaki and shamshad

سوال : آپ ہمہ وقت فروغ ِادب کے لیے کوشاں رہتے ہیں؟ کس طرح manageکرتے ہیں؟
جواب ۔بس سرشت میں علم و ادب رچا بسا ہے اور کوئی نشہ نہیں سوائے علم وادب کے۔ کوشش کرتا ہوں امورِ زیست ، گھر گرستگی کے فرائض نمٹا کے زیادہ سے زیادہ وقت علم و ادب پر صرف کروں اسمیں میں کامیاب رہا ہوں

سوال : کیا آپ کے فن شخصیت پر تحقیقی کام ہو چکا ہے؟
جواب ۔جی ہاں ! غازی یونیورسٹی میں میرے مجموعہ کلام “حرف حرف خوشبو کا فنی و فکری جائزہ ” ایک مقالہ لکھا گیا ہے۔

سوال : آج کل تخلیق ہونے والے ادب کے بارے میں اپنی راۓ دیں۔؟
جواب۔آج کل جدید شاعری کے حوالے سے جو متشاعروں کا ایک ہجوم ادب میں آ چکا ہے۔اور اس نہج پر تخلیق ہونے والا ادب معیاری نہیں ہے۔

maqbool zaki

مقبول ذکی مقبول

بھکر، پنجاب، پاکستان

مقبول ذکی مقبول

Next Post

بہرائچ ایک تاریخی شہر جلد دوم کی رسم اجراء

منگل مارچ 29 , 2022
جنید احمد نور کا قلم تاریخی شہر کے ساتھ تاریخی شخصیت سازی کا کام کر رہا ہے جنہوں نے صدیوں کی داستان کو لمحوں میں پیش کرکے سمندر کو کوزے میں بھر دیا ہے
بہرائچ ایک تاریخی شہر جلد دوم کی رسم اجراء