ریڈیو، عوامی ذریعہ ابلاغ

شاہد اعوان، بلاتامل

ایک وہ زمانہ تھا جب سوائے چند گھروں کے ریڈیو کی سہولت بھی نہ تھی جس گھر میں ریڈیو جیسی ’’نعمت‘‘ ہوتی وہ گاؤں کا ایک معتبر گھر سمجھا جاتا تھا، گاؤں والے اپنے دن بھر کے کاموں سے فراغت پاتے ہی ریڈیو والے گھر کا رخ کرتے ۔ اس زمانے میں خبر یا اطلاع پہنچانے کا واحد ذریعہ ریڈیو ہی تھا جو لوگوں کو خبر دینے کے علاوہ تفریح بھی فراہم کرتا تھا۔ آئیے ذرا ماضی کے دریچوں میں جھانک کر چشمِ تصور کھول کر دیکھتے ہیں : رات کا نصف ہونے کو ہے فضا میں ہلکی سی خنکی بھی آچکی ہے دورلالٹین کی ٹمٹما تی روشنی میں گاؤں کی ایک چوپال سجی ہوئی ہے ماحول میں سراسیمگی چھائی ہوئی ہے اور پرسکون مجمع کی منتظر نگاہیں ایک ہی محور کے گرد مرکوز ہیں بے چین سماعتیں سننے کو بے قرار اور خاموش لب اظہارکے لئے تیار کہ اچانک نگاہوں کے محور ریڈیو سے ’قیام پاکستان‘ کا اعلان ماحول پر چھائے ہوئے سکوت کو توڑ کر جوش و ارتعاش پیدا کر دیتا ہے اور فضا ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھتی ہے۔
بلاشبہ یہ ریڈیو ہی تھا جس نے سب سے پہلے مسلمانانِ ہند کو 14اگست1947ء کو ’’پاکستان‘‘ کے معرض وجود میں آنے کی نوید سنائی تھی۔ ٹی وی اور موبائل کے آنے سے ریڈیو کی افادیت کم ضرور ہوئی ہے اس کے باوجود ریڈیو آج بھی سستا اور مئوثر عوامی ذریعہ ابلاغ ہے اور اب FMکی وجہ سے اس میڈیم میں مزید نئی جہتیں متعارف ہوئی ہیں۔ یاد رہے یہ ریڈیو ہی ہے جس نے طارق عزیز ، اشفاق احمد، قوی خان، محمد علی، مصطفی قریشی اور درجنوںایسے نامور لوگ پیدا کیے جنہوں نے ریڈیو سے شناخت پائی اور ابلاغ کے دوسرے شعبوں کو جلا بخشی۔ احمد شاہ کے نام سے پیدا ہونے والے ’’پطرس‘‘ نے ریڈیو کے میڈیم کو دوام بخشا گو کہ وہ صرف سات سال ریڈیو کے ساتھ منسلک رہے اور اقوام متحدہ تک رسائی حاصل کی وہ ایک نامور مزاح نگار اور استاد بھی تھے۔ بندہ ناچیز بھی کچھ عرصہ ایف ایم ریڈیو سے وابستہ رہا جب 2004ء میں میرے سکونتی شہر حسن ابدال میںFM-97سن رائز کے نام سے اسٹیشن آن ایئر ہوا جس کے ایم ڈی شیخ زاہد اقبال انتہائی کم گو اور شریف النفس انسان تھے وہ روزانہ اسلام آباد سے نعمانی صاحب جو ریڈیو کا بہت بڑا نام تھے اور ایک براڈ کاسٹر مس ثمرین پروگرام منیجر کے ساتھ حسن ابدال آتے تھے۔ جبکہ اسٹیشن منیجر کی ذمہ داریاں خطہ پوٹھوہار کی ممتاز ادبی شخصیت خصوصاٌ پوٹھوہار زبان و ثقافت کے علمبردار سید آل عمران مرحوم و مغفور کے پاس تھیں وہ ناصرف خوبصورت خدوخال کے مالک تھے بلکہ اندر سے بھی اتنے ہی نفیس اور خوشنما تھے پوٹھوہاری زبان پر ان کی دسترس بلا کی تھی ان کی زبان سے پوٹھوہاری اور بھی بھلی لگنے لگتی تھی انہوں نے بے شمار ادبی شخصیات کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات کے انٹرویو بھی کیے وہ ہر جمعہ کو نعت خوانی کا خصوصی اہتمام کیا کرتے اور اس میں گردونواح سے شعرائے کرام کو مدعو بھی کیا کرتے ۔ انہی دنوں بندہ ناچیز نے بھی FM-97 بطور منیجر پبلک ریلیشنز جوائن کر لیا اور حکومتی وزراء غلام سرور خان، ملک امین اسلم، سابق صوبائی وزیر داخلہ کرنل(ر) شجاع خانزادہ، سابق ضلع ناظم میجر(ر) طاہر صادق اور درجنوں شخصیات کے انٹرویو بھی کیے ۔ سید سلیمان المعظم جو ریڈیو پاکستان سے کنٹرولر ریٹائرمنٹ کے بعد جہاں بھی رہے انہوں نے بے شمار نئے لڑکے لڑکیوں کو متعارف کرایا، انہی میں ایک نوجوان مسعود ملہی بھی تھا جس نے پنجابی پروگرام ’’آجا ماہیا‘‘ کی بنیاد رکھی اور چند ماہ میں ہی پسندیدگی کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے تقریباٌ دس لاکھ کے قریب سامعین ان کا پروگرام سننے کے لئے بیتاب رہا کرتے ۔ حال ہی میں انہیں ورلڈ پنجابی کانفرنس میں ان کی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا گیا جس پر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ وہ میرا بھی پسندیدہ ڈی جے اور فنکار ہے۔ اسی طرح حسن ابدال ہی کے ایک سریلے نعت خواں اسفند یار خان نے اردو اور پشتو پروگرام میں مقبولیت کے جوہر دکھائے اور عروج پایا وہ کے پی کے علاقوں میں بہت مشہور ہوا وہ آج کل چینی زبان میں پروگرام کررہا ہے۔ ایک اور اٹک سے تعلق رکھنے والا نوجوان شوکت علی مرحوم دھیمی سروں میں رات کو پروگرام کیا کرتا جو مقبولیت میں سب کو پیچھے چھوڑ جاتا ۔ امجد اعوان مارکیٹنگ منیجر تھے انہوں نے ادارے کو زیرو سے بام عروج تک پہنچانے میں بے حد محنت کی۔ مس ثمرین کے پروگراموں کو بھی پسند کیا جاتا تھا، جبکہ ٹیکسلا کے ظہیر فہمی بھی اچھی آواز کے مالک تھے وہ آج کل امریکہ میں اپنی آواز کے جوہر دکھا رہے ہیں۔ ان دنوں اٹک سےFM-90.4سے ایک نوجوان خاتون سندس ریاض جن کا بنیادی تعلق تلہ گنگ سے ہے، پروگرام کر کے سامعین کے دلوں کو گرماتی ہیں۔ ڈگری کالج اٹک کی سعدیہ بھی پروگرام کر رہی ہیں جو ماضی میںFM-97کی اچھی سامع ہوا کرتی تھیں۔

Shahid-Bla-Ta-Amul

شاہد اعوان

Next Post

شمشاد حسین سرائی سے مکالمہ

پیر مارچ 28 , 2022
آج کل سوشل میڈیا ایک سہل اور قابلِ پہنچ ذریعہ ہے جسکے ذریعے ہم پوری دنیا کے ادب سے منسلک ہو سکتے ہیں۔
شمشاد حسین سرائی سے مکالمہ