منتہاۓ فکر اور مقبول ذکی مقبول

تحریر :صادق حسنی، لیہ
آج میں نے کتاب” مُنتہاۓ فکر”
جناب مقبول ذکی مقبول کا مطالعہ کیا ہے۔جو بندہ ناچیز نےفکر کا رنگ دیکھا ہے ۔کمال است مجھے تو ایسےلگتا ہے ۔جیسے نام مقبول ہے ۔ ویسے یہ انسان مولا کی بارگاہ میں مقبول ہے ۔ کیونکہ ان کے اشعار واضح بتا رہے ہیں ۔ایسےاشعار کہنا عطا کے بغیر ممکن نہیں ۔ جناب مقبول ذکی مقبول نے جو اس کتاب کو نام دیا ہے ۔ منتہائے فکر ۔۔۔۔اس میں فکر ہی فکر جھلکتی ہے ۔
کہتے ہیں۔

منتہاۓ فکر میں تحریر کر مقبول آج
ہے دیا کیسے یہ مولا نے پیغام کربلا
بیدار کرتے ہوئےکہتے ہیں

سرمد سرمد رہنے والا
واحد اللّٰہ خالق سب کا
قاصر بندہ دیکھ نہ پایا
دل کے اندر مالک اپنا

انسان کو فکر دے رہا ہے باقی رہنے والا صرف اللّٰہ ہےآسان لفظوں میں یوں فرماتے ہیں۔
اللّٰہ کے پیارے ایسے بھی ہوتے ہیں

توحید کو بچانےکا شاہ( ع)نے اٹھایا بوجھ
خالق نے پہلے روز سےشاہ (ع)کو دکھایا بوجھ

راہ خدا میں جتنا بھی آۓ وہ سب ہےکم
حیدرکےلعل کا بھی توکچھ نہ جھکایا بوجھ

جس طرح کربلا میں حقُ باطل کا مارکہ ہوا کچھ یوں منظرکشی کرتے ہیں ۔

قلم ایسی سعادت کر شہادت کےاثر کو لکھ
حسین (ع) ابن علی( ع )پر وہ قیامت کی نظر کو لکھ

انسان پر کھلا جو مفہوم کربلا کا
وہ درس دے رہا ہے مظلوم کربلا کا

بےگنا وہ خون تھا جو بہہ گیا کربُ بلا
اس کی ہےتعبیر روشن دیکھ اور سو بار پڑھ

مقبول ذکی مقبول میری نگاہ میں عظیم انسان ، ۔۔۔ عظیم شاعر کمال اور قلم کار ہیں، کالم نگار ہیں ملنسار ہیں ہر دلعزیز ،ہر انسان سے پیار کرنے والے ہر کسی کے دکھ سکھ میں شامل ہونے والے
بھائی چارہ کا سبق دینے والا پابند ِ صوم وصلات اہلبیت سے محبت کرنے والے ہیں

آپ کی مجلس میں ملتا درس ہے مقبول کو
خیر کو اپنا لیا اور مل گئ شر سے نجات

مقبول ذکی مقبول نےجو منتہاۓ فکر کی صورت میں شان اہل بیت اور کربلا کے ہر پہلو کو اجاگر کیا۔
یہ رہتی دنیا تک کلام رہے گا۔
مولا امام حسین علیہ السّلام کا فضائل ملاحظہ کیجئے

آپ سا کوئی بہادر نہ کوئی دارین میں
دشمنوں کی بھیڑ میں پڑھنے لگے تنہا نماز

دین حق کو بھی ضرورت آپ کے سجدہ کی تھی
ہو گیا مقبول تر یہ آپ کا پڑھنا نماز

دعا ہے اللّٰہ پاک سے مقبول ذکی مقبول کی یہ عبادت اپنی بارگاہ میں مقبول کرے اور اپنے بچوں کے ساتھ صحت والی لمبی عمر عطا کرے آمین

صادق حسنی

لیہ، پنجاب، پاکستان

سونیا بخاری

Next Post

عاصم بخاری کی کتاب "ریزہ ریزہ"

بدھ مارچ 16 , 2022
عاصم بخاری گل و بلبل، طوطا و مینا اور محبوب کی آنکھوں کے قصیدے نہیں لکھتے بلکہ معاشرے کو سدھارنے کے گُر استعمال کرتے ہیں
عاصم بخاری کی کتاب “ریزہ ریزہ”