عاصم بخاری کی کتاب “ریزہ ریزہ”

عاصم بخاری میانوالی کے روشن چراغ ہیں جن کے قلم سے روشنی کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں اختصار ان کا وصف ہے حیرت و استعجاب ان کے قلم سے پھوٹتا ہے جو کہ فکر و شعور کو گلریز کرتا جاتا ہے ان کی کتاب میں صرف 180 اشعار (فردیات) ہیں جو کہ ایک سے بڑھ کر ایک ہیں ان میں کئی جگہ حسن تعلٰی اشعار کی قدر و منزلت کو چار چاند لگا رہا ہے تشبیہات و استعارات کا استعمال ان کے فن کو نکھارے ہوئے ہے صنعت تلمیح کا استعمال بھی حسن کلام کو نکھارے ہوئے ہے “فردیات” پر لکھی گئی کتابوں کا اس سے پہلے میں نے مطالعہ نہیں کیا پہلی بار پروفیسر عاصم بخاری کی فردیات “ریزہ ریزہ” پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے جس میں سلاست اور فصاحت دونوں بدرجہ اتم موجود ہیں اسلوبیاتی صباحت اور فکری نظافت سے مہکتے شعر کہیں معاشرے پر کڑی تنقید کرتے ہیں تو کہیں انسانوں کے فکر و شعور پر دستک دیتے ہیں روایت پسندی اشعار کو اپنے دامن میں سلائے ہوئے ہے۔ عاصم بخاری نہ صرف شاعر ہیں بلکہ محقق ،نقاد ، ماہر تعلیم اور بڑے ادیب ہیں جن کا قلم نئی نسل کو اپنی سابقہ روایات سے جوڑتا ہے اور انہیں جینے کی نئی راہیں بھی بتاتا ہے۔ سید عاصم بخاری سے میں نے ایک کتاب مانگی تو انہوں نے کمال شفقت سے میری طرف دو کتابیں بھیج دیں۔ کتابِ ھذا میں ذوالفقار احسن، شاکر کنڈان اور راحت امیر خان کے بہترین مضامین نے مجھ پر عاصم بخاری کی ادب پروری میں رنگ فشانی کے کئی گوشے منکشف کیے ۔ عاصم بخاری خیالات کے دھنک رنگ قلم کے ریشمی تبسم سے کاغذ کے سینے پر یوں نقش کرتے ہیں:۔

دریا دلی تلاشنے نکلا تھا سندھ سی
راوی مزاج لوگ ملے تیرے شہر میں

وہ معاشرے کی بے ربط میزانِ فکر کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور اپنے حسنِ کلام سے قاری کے ذہن پر اعتدالِ عدل یوں نقش کر دیتے ہیں:۔

عورت کو طوائف تو بنا دیتا ہے جلدی
بد مرد کو بھی دیتا کوئی نام زمانہ

یادیں دل کی دنیا میں رنگ بھر دیتی ہیں اور یہ دھنک رنگ ہستی میں گُھل کر ایسی روشنائی کا روپ دھارتی ہیں کہ قلم بھی لکھتے ہوئے دھمالیں ڈال دیتا ہے کوئی یادِ یار میں اس قدر ڈوب جائے کہ باہر نکلنے کا نام ہی نہ لے اور یادوں کے اسی سمندر سے لولو و مرجان چنتا رہے اور اپنا دامن بھرتا رہے تو یقینا اس شعر جیسا گلریز خیال خلق کرتا ہے:۔

کرفیو نافذ ہے تیری یاد کا
دل نگر یہ کب سے اپنا بند

عاصم بخاری گل و بلبل، طوطا و مینا اور محبوب کی آنکھوں کے قصیدے نہیں لکھتے بلکہ معاشرے کو سدھارنے کے گُر استعمال کرتے ہیں انہیں اس بات کا بھی علم ہے کہ اس دور میں ایسے اشعار نہیں سنے جاتے جن میں واعظ و نصیحت ہو اس بات کو اپنے نگار خانہ ء شعر میں یوں ڈھالتے ہیں:۔

لب و رخسار کے قصوں سے عاری
ترے اشعار عاصم کون پوچھے

مسلمانوں کے اعمال جن میں اخلاص سے عاری نمازیں، روزے اور حج وغیرہ کی بہتات ہوتی ہے پر سخت تنقید کرتے ہیں کیونکہ اتنی عبادات کے بعد تو تاجران کو ہر چیز سستی کر دینی چاییے لیکن ایسا نہیں ہوتا اور رمضان المبارک میں مہنگائی کا طوفان کھڑا کرنے پر سخت برہم ہوتے ہیں ۔ مسلمانوں کے ان معاملات کے درست نہ ہونے پر یوں رقم طراز ہوتے ہیں:۔

جلد خریدو چاند نظر رمضان کا آنے سے پہلے
اس کے بعد تو حد کر دیں گے کلمہ گو مہنگائی کی

عاصم بخاری کی کتاب “ریزہ ریزہ”

تصنع اور بناوٹ نے انسان کو کھوکھلا کر دیا ہے مسلمان کا المیہ یہ ہے کہ چھوٹی سی نیکی بھی کرے تو اس کی تصویریں ہر جگہ پر وائرل کر دیتا ہے یہ عمل اس قدر زیادہ ہو گیا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ اس کے بغیر عمل قبول ہی نہیں ہوتا اگر کوئی صدقہ خیرات کے لے سو روپے دیتا ہے تو فقیر کی عزت نفس کا خیال نہیں رکھتا اور اس کی مظلومیت کی تصویریں فیس بک پر چڑھا دیتا ہے اور خود نمائی کر کے دوسرے کو بے توقیر کر دیتا ہے زیرِ نظر شعر میں بھی عمرہ کی تصویر اپ لوڈ کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کیونکہ لوگ حج اور زیارات مقدسہ پر جا کر تصویریں بناتے رہتے ہیں اور اصل مقصد سے کوسوں دور رہتے ہیں شاعر کی فکر رسا اس شعر میں یوں دعوتِ فکر دیتی ہے ملاحظہ کیجیے:۔

تسلیم گر کرانا ہے عمرہ تو میری مان
عاصم طوافِ کعبہ کی تصویر لوڈ کر

اللہ تعالٰی کے حبیبؐ سے سنا تھا کہ “حلال رزق کمانے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے” لیکن موجودہ سودی معاشرے میں حلال و حرام کی پہچان ہی ختم ہو گئی ہے جیسی خوراک ہو گی ویسی ہی نسلیں پروان چڑھیں گی اگر بچوں کو حلال رزق کھلایا جائے گا تو حلال رزق کی برکت سے خون حلال پیدا ہوگا اور اس میں انسانیت کا درد ہوگا اور اگر رزق حرام ہو گا تو تاثیر بھی ویسی ہی ہو گی جیسا رزق ہوگا اس عمدہ خیال کو شعر کی صورت میں یوں بیان کرتے ہیں:۔

خون اگر خوراک سے بنتا ہے عاصم
پھر تو رزق طیب لازم ہے بھائی

زندگی کی رعنائیاں ہر سمت جلوہ افروز ہیں انسان سے لے کر نباتات جمادات تک اللہ کے جلوے نظر آتے ہیں ان سب میں اللہ پاک کی خوشبو رچی ہوئی ہے پھولوں کی صفت بھی یہی ہے کہ جب ان کو ہاتھوں سے مسل دیا جائے تو وہ اپنا وجود فنا کر کے مسلنے والے ہاتھوں کو خوشبو سے نواز دیتے ہیں شاہ صاحب نے یہاں پھول کی بات استعارہ کے طور پر کی ہے صرف انسانی محبتوں کی خوشبو کو سونگھنے اور حرز جان کرنے کی بات کی ہے نہ کہ ان خوب صورت رشتوں کو مسل ڈالنے کی کیونکہ اللہ کا دین انسانیت ہے جس میں انسانیت کے جمالیاتی رنگوں کی جھلک پائی جائے اسی کو مسلمان کہیں گے اور اسی کو انسان کہیں گے اسی خوب صورت خیال کو صوتی ترنگ میں یوں ڈھالتے ہیں :۔

صرف خوشبو تلک رہا جائے
پھول ہوتے ہیں کب مسلنے کو

وقت نے ہر چیز کا انداز بدل ڈالا ہے جب ہم چھوٹے تھے تو اس دور میں ہمارے بزرگ رشتوں کی قدر کرتے تھے اور بچوں کو رشتوں کی قدر سکھاتے تھے لیکن جوں جوں وقت بدلتا گیا انسان کے کھانے پینے کے انداز بدلتے گئے کھانا پینا اٹھنا بیھٹا بدل گیا سوچ محدود ہوتی گئی بچے وطن عزیز کی خوشبودار مٹی میں کھیلنے کی بجائے “پب جی ” پر آ گئے اور اُن کو دہشت و بربریت کھیل میں دے دی گئی لباس تو صاف ہو گیا لیکن ذہن قتل و غارت گری میں الجھ گیا اور رشتوں کا خون ہو گیا عاصم بخاری نے معاشرے کے اس رویے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا کر ایسا فرخندہ بخت شعر رقم کیا ہے جو انسانیت کو جھنجھوڑ رہا ہے اور ماضی کا پیار اور انس یاد کرا رہا ہے ملاحظہ کیجیے:۔

پہلے ہوتے تھے خون کے رشتے
اب تو رشتوں کا خون ہوتا ہے

جب عاصم بخاری حضور صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کرتے ہیں تو جانتے ہیں کہ ہمارے آقا ہی خلاصہ ء موجودات ہیں وہ ہی صاحبِ آیات ہیں وہ ہی صاحبِ معجزات ہیں وہ ہی مرکزِ عالم ہیں وہ ہی وارثِ زمزم ییں وہ ہی مبداء کائنات ہیں وہ ہی مخزنِ کائنات ہیں وہ ہی منشائےِ کائنات ہیں وہ ہی مقصودِ کائنات ہیں وہ ہی سیدِ کائنات ییں وہ ہی سرورِ کائنات ہیں وہ ہی فخرِ موجودات ہیں وہ ہی ارفع الدرجات ہیں وہ ہی اکمل الرکات ہیں وہ ہی واصلِ ذات ہیں وہ ہی مقصدِ حیات ہیں وہ ہی منبع ء فیوضات ییں وہ ہی افضل الصلوت ہیں وہ ہی باعثِ تخلیقِ کائنات ہیں وہ ہی جامع صفات ہیں وہ ہی اصلِ کائنات ہیں تو پھر ان کا مدینہ بھی ان کی خوشبو کا خزینہ ہے مدینہ میں آقا پاک کی سانسوں کی مہک اب بھی باقی ہے شاعر وہاں پناہ لینے والے بلند اقبال انسانوں پر رشک کرتا ہے اور اس کا اخترِ دل یوں تاباں ہو جاتا ہے :۔

طیبہ میں پنہ پانے والے کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں
ہر ملک بدر کی قسمت میں کب شہر مدینہ ہے

نبیلِ فکر کا چراغ جب بجھ جاتا ہے تو سینے کے جھولے پر جھولنے والی بیٹیاں زندہ درگور ہونا شروع ہو جاتی ہیں نہ جانے کتنی بیٹیوں کی سانسیں مٹی کے بوجھ تلے دب کر عرش معلٰی پر چیخ چیخ کر واپس لوٹ جاتی ہیں جب آج سے چودہ سو سال پہلے بیٹیوں کے لیے حالات سازگار نہ رہے تو رحمتِ خدا وندی جوش میں آئی اور اپنا خالص نور زمین کے پاک سینہ مدینہ میں اتارا جو صورت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جلوہ گر ہوا اور پھر بیٹیوں کی عظمتوں کے چراغ روشن ہو گئے کیونکہ ہمارے آقا جو مزمل و مرسل ، انتہائے کمال ، منتہائے جمال ، مبنع خوبی و کمال ، بے نظیر و بے مثال ، فخرِِِ جہاں ، عرش مکاں ، شاہِ شہاں ،نیرِ درخشاں ، نجمِ تاباں ، ماہِ فروزاں ،صبحِ درخشاں ، نورِ بد اماں ، جلوہ ء ساماں ،مونسِ دل شکستگاں ، راحتِ قلوبِ عاشقاں ،نورِ دیدہ مشتاقاں، صورتِ صبحِ درخشاں بن کر آئے تھے آپ نے عرب کے وحشیوں کو بیٹی کا مقام بتا دیا آپ نے بیٹی کو رب کی رحمت سے تعبیر کیا لیکن اب چوداں سو سال گزرنے کے بعد پھر بیٹیاں اپنے حق سے محروم کی جا رہیں ہیں اب حال ہی میں میانوالی کے ایک سفاک انسان “شاہزیب” نے سات دن کی نومود بیٹی کو پانچ گولیاں مار کر رحمت کا سینہ پھر چھلنی چھلنی کر دیا میانوالی پولیس نے تیس سے زیادہ ریڈ کر کے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی اور اس سفاک انسان کو گرفتار کیا ہے۔ پھر کیوں انسانیت دم توڑنے لگی ہے؟ بیٹی پیدا ہوتی ہے تو ماں باپ اس کے لیے دعائیں مانگنا شروع کر دیتے ہیں واقعات کی شدت والدین کو روزانہ دفن کرتی ہے بیٹیاں گھروں میں محفوظ نہیں رہیں ان کی شادیوں پر سسرال کے نخرے اور بد معاشیاں بیٹیوں کے والدین کو کئی بار رلاتی ییں ان ہی حالات کو شاعر نے ایک شعر میں کس عمدگی سے ڈھالا ہے ملاحظہ کیجیے:۔

آج ہوا معلوم بخاری واقعات کی شدت سے
کس درجہ مجبور ہوتے ہیں عاصم بیٹی والے لوگ

باپ بیٹی کے خوب صورت تعلق کو موجودہ دور کے ساتھ مربوط کرتے ہوئے عاصم بخاری کربلا کے پورے واقعے کو ایک شعر میں یوں
صنعت تلمیح کا استعمال کرتے ہوئے بند کرتے ہیں:۔

سامنے بیٹی کے جب اک باپ کو مارا گیا
یاد اک صدیوں پرانے واقعے کی آ گئی

ماہ صیام کی آمد بالکل قریب ہے اللہ تعالٰی نے انسان کو بھوک پیاس کے امتحان سے اس لیے گزارنا ہے کہ اسے غریبوں یتیموں اور بیواوں کی بھوک کا بھی احساس ہو جائے لیکن موجودہ دور میں مسلمانوں کا منہ بند ہونے کی بجائے زیادہ کھل جاتا ہے اور وہ احساس کی قندیل روشن نہیں ہوتی ۔ جس میں مساکین کا دکھ شامل ہوتا ہے عاصم بخاری روزوں کے بعد بھی غریبوں کی بھوک کا خیال رکھنے کا درس یوں دیتے ہیں :۔

رکھنا خیال ان کا ہمیشہ اسی طرح
بھوکوں کو بھوک لگتی ہے روزوں کے بعد بھی

اپنے اشعار کے زمن میں شاہ جی بالکل صاف لکھتے ہیں کہ سخن کے داو پیچ چھوڑ کر وہ صاف اور سیدھی بات کرتے ییں جو سیدھی سینے میں اتر جاتی ہے اور سوچنے پر مجبور کرتی ہے اس شعر میں کس خوبصورتی کے ساتھ پنجابی لفظ “ولاکے” کا استعمال کیا ہے جو کہ دسترسِ کلام کو مزید نکھار رہا ہے اور سیدھی بات کرنا ہی فقرا کا شیوہ ہے :۔

جدت جدیدیت کے “ولاکوں” سے بے خبر
سیدھے سبھاو بات ہی کرتے ہیں ہم فقیر

فیس بک، ٹویٹر، وٹس ایب وغیرہ نے کتابوں کی جگہ لے لی ہے آج کا جوان جب کھانا بھی کھاتا ہے تو پہلے اس کی تصویر بنا کر فیس بک پر لوڈ کرتا ہے اس کے دوست اس پر کومنٹ کرتے ہیں اور اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں جب وہ دوست کوئی تصویر چڑھاتے ہیں تو پہلے موصوف کو کومنٹ کرنا پڑتا ہے کسی کی پوسٹ کا معیار لائکس کومنٹس اور شیئرز کی ریشو سے نکالا جاتا ہے اور دنیا و آخرت کی خوشی حاصل کی جاتی ہے گھر کے سارے افراد فیس بک پر ہوتے ہیں اور اسی پر مسائل کا حل نکالا جاتا ہے یہ موضوع بہت لمبا ہے ۔ نماز روزہ حج زکواة تمام اراکین اسلام جو ہم ادا کرتے ہیں ان کو فیس بک پر چڑھاتے ہیں اس طویل موضوع پر شاہ جی نے کڑی تنقید انتہائی شائستہ انداز سے یوں کی ہے:۔

عاصم فراہم اس کو تو اتنا مواد کر
دے فیس بک گواہی تیرے اعتکاف کی

مجھے یاد ہے کہ میں اٹک جی پی او میں پنشن لینے والوں کی لمبی لائن میں کھڑا تھا تو میری ٹانگیں درد کی شدت سے کانپنا شروع ہو گئیں تھیں میں جتنی دیر لائن میں کھڑا رہا ملک کے بارڈر، میدان، سیاچین گلیشئرز اور کشمیر کے پہاڑ میری نگاہوں میں گھومتے رہے جن پر میں عسکری فرائض ادا کرتا رہا تھا وہ مشکلیں یاد آئیں اور جی پی او اٹک کی لمبی لائن نے مجھے توڑ کے رکھ دیا ملک کے عظیم دفاع کا فریضہ ادا کرنے کے بعد مجھ سے زیادہ بوڑھے افراد بھی ایسی ہی سوچوں میں غلطاں تھے پہلی تاریخ پنشن لینا اور گھر کے بل اور سودا سلف لانا ایک مشکل مرحلہ ہر فوجی نے ادا کرنا ہوتا ہیں جن کے متعلق اب تلک حکومت نے کوئی بھی معقول انتظام نہیں کیا ہے۔ بہرحال
بڑی دیر بعد نمبر آیا پنشن لی اور گھر واپس آ گیا ٹانگوں کے درد اور تھکاوٹ کی وجہ سے مجھے بخار ہو گیا۔ حکومتی اداروں کو چائیے کہ ان بوڑھے افراد کو تکلیف سے بچائیں اور پنشن کی پہلی تین تاریخوں میں تین چار افراد متعین کر دیں جب چار پانچ لائینیں بن جائیں گی تو بوڑھوں کی اخلاقی مدد ہو جائے گی۔ زیرِ نظر شعر میں بوڑھے پنشنرز کا درد لے کر عاصم بخاری نے کیسے قلم میں درد کی روشنائی ڈال کر رقم کیا ہے:۔

پنشن کی خاطر یہ کب سے کھڑے ہیں دیکھ قطاروں میں
کیسا سلوک روا ہے عاصم تیرے شہر میں بوڑھوں سے

پاکستان کی یونیورسٹیز کا ماحول تقریبا یورپی طرز کا ہو گیا ہے جس میں پڑھائی تو پاکستانی ہی جاری ہے لیکن باقی مخلوط نظام تعلیم اور کالجز کی سرگرمیاں یورپی طرز پر ہیں جس میں ڈانس ڈرامے اور مرد حضرات کی کالج میں وزٹیں جوان بچیوں سے ان پر پھول نچھاور کرانا وغیرہ وغیرہ ۔ ایسے رسم و رواج جن کی مذہب کسی صورت اجازت نہیں دیتا وہ کالجز میں کرائے جا رہے ہیں ۔ ان رسوم پر شاہ جی کے تنقید سے لبریز اشعار یوں دعوتِ فکر دیتے ہیں :۔

ہے ضروری دیکھ لینا جا کے اس ماحول کو
یونی وسٹی بیٹیوں کو بھیجنے سے پیش تر

پروفیسر تو یونی کے ہیں سب ماں باپ کے ایسے
مگر زن مرد کا یک جا نہیں پڑھنا مناسب

زندہ لوگوں سے نفرت اور مُردوں پر دعائیں ہمارا وطیرہ بن گیا ہے لیکن اس دور میں کوئی بندہ مردے کو کندھا بھی دے دے تو بڑی بات ہے اب تو اظہار افسوس بھی فیس بک پر ہوتا ہے مردے کو کندھا دینا اور زندہ افراد سے دوری اختیار کرنے کو شاہ جی نے سلاست اور برجستگی سے یوں ادا کیا ہے :۔

ہم سے کوئی جیتے جی کیوں کر عاصم امید رکھے
ہم تو صرف جنازوں کو ہی کندھا دینے والے ہیں

خوبصورت اشعار کی کثرت میرا تبصرہ طول کر رہی ہے اپنے الفاظ کو اس دعا کے ساتھ سمیٹتا ہوں کہ اللہ ستارالعیوب سید عاصم بخاری کو صحت کاملہ و عاجلہ سے نوازے تا کہ وہ آسمانِ ادب پر متمکن ہو کر ایسے فرخندہ بخت اشعار رقم کرتے رییں:۔

بڑائی کے لیے کچھ اور بھی درکار ہوتا ہے
بڑے شہروں میں رہنے سے بڑا کوئی نہیں ہوتا

ہوتے ہیں سر سبز نہ عاصم اور نہ ہی شاداب کبھی
کچھ پہاڑوں کے حصے میں صرف بلندی آتی ہے

hubdar qaim

سید حبدار قائم

آف غریب وال اٹک

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

سفیرِ مُحبَت عمران علي

بدھ مارچ 16 , 2022
سادہ لباس میں ملبوس عمران علی چوہدری صاحب کی شخصیت کی جازبیت ایسی ہی کہ ان سے بات کر کے یوں لگتا ہے جیسے وقت رک گیا ہو
سفیرِ مُحبَت عمران علي