درخشاں ستارہ شہزاد افق التمیمی

فکری عفت جب اوجِ کمال تک پہنچتی ہے تو انسان علم و آگہی کے بیکراں سمندر میں غوطہ زن ہوتا ہے اسے فکر کی جولانیاں دوسروں انسانوں کے متعلق سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں اور وہ دوسروں کا درد اپنا درد محسوس کرتا ہے دوسروں کی تھوڑی کوشش بھی اُسے زیادہ لگنے لگتی ہے اور وہ اپنی فکری نظافت سے دوسروں کو حرفِ تحسین اور ایوارڈز سے نوازنے چل پڑتا ہےشہزاد افق التمیمی بھی ایک ایسی شخصیت ہے جسے کم عمری میں ہی قدرت نے یہ خوبی عطا کر دی ہے اور وہ تھوڑے ہی عرصہ میں ایک درخشاں ستارہ بن کر چمکا ہے۔ میری پہلی ملاقات اس جوان سے راولپنڈی آرٹس کونسل میں ہوئی جب مجھے میری پنجابی کتاب” اکھیاں وچ زمانے” پر ایوارڈ دینے کے سلسلے میں انہوں نے بلایا۔ ایوارڈ لینے کے بعد بھی میں ان سے منسلک رہا تو ان کی خوبیاں مجھ پر عیاں ہوتی چلی گئیں چناں چہ میں نے انہیں ایک مضمون کی شکل میں لکھنا شروع کیا جو آپ کے سامنے ہے۔
“عشق کی ایک جست نے طے کردیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بیکراں سمجھا تھا میں”
شہزاد افق التمیمی ضلع لیہ کے گاؤں چوک اعظم میں 17 جنوری 1996 کو پیدا ہوئے  گاؤں کے پرائمری سکول سے پانچویں اور مڈل سکول سے آٹھویں پاس چوک اعظم شہر سے اور میٹرک علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے مکمل کی اور ساتھ ہی گورنمنٹ ووکیشنل کالج سے الیکٹریکل ڈپلوما اور کمپیوٹر کورس کیا۔ 2015 میں گورنمنٹ ڈگری کالج چوک اعظم سے ایف اے کیا جس میں انہیں بہترین سٹوڈنٹ کا ایوارڈ دیا گیا اور اب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس اردو ادب میں کر رہے ہیں اور ان کا پانچواں سمیسٹر چل رہا ہے

shahzad ufaq


انہوں نے انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان کی بنیاد 17 جنوری 2019 میں رکھی اور اس کے بعد افق ویلفیئر فاونڈیشن پاکستان کی بنیاد 17 جنوری 2020 کو رکھی ،17 جنوری 2019 سے لے کر اب تک 300 اسناد اور 300 ایوارڈز دے چکے ہیں ایوارڈ لینے والوں میں سماجی کارکن، بہترین معلم، شاعر، ادیب، صحافی، فنکار ،علماء، خطاط، مصور، اور سیاست دان وغیرہ شامل ہیں پشتو ،پنجابی، انگریزی، سرائیکی ، اردو اور مختلف زبانوں میں لکھی گئی کتب پر ایوارڈ دیے گئے ہیں فروری 2022 میں ایک رسالہ اس سلسلے میں شائع کر رہے ہیں جس میں ان ایوارڈز کی تفصیل ہو گی افق ویلفیئر فاونڈیشن پاکستان کی کل 26 شاخیں ہیں جن میں ایک انٹرنیشنل رائیٹر فورم پاکستان جب کہ دوسری تربیتی ورکشاپ ہے پاکستان بھر میں ان کے کارکنان کام کر رہے ہیں جن کا مقصد اہلیان وطن کی فلاح و بہبود، راہنمائی، پزیرائی اور ان کے ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے کیونکہ موجودہ دور میں اگر کوئی ادب میں کام کرنا چاہتا ہے تو بہت سارے پرانے ادیب ایسے ہیں جو کسی نہ کسی طریقے سے رکاوٹ کھڑی کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سارے لوگ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں موجودہ دور میں عوام کو کتاب تک لانا ایک دشوار ترین کام ہے جس کی کوشش وہ انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان  کی شکل میں کر رہے ہیں جس میں نئے اور پرانے لکھاریوں کو اکھٹا کر کے اور  مشاعرے کرا کے ایک خوب صورت روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اس کے ساتھ ہی وہ نئے لکھنے والوں کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کر کے  ان میں فنی  شعور پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی وجہ سے تکنیکی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے یہ تنظیم نئے لکھاریوں کی تحریری کاوش کی اصلاح کر کے اخبارات اور رسائل میں شائع کر کے ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور وقت آنے پر ان کی ادیبانہ اور فنکارانہ صلاحیتوں پر ان کو ایوارڈز سے بھی نواز دیتی ہے موجودہ نفسا نفسی کے دور میں ایسی شخصیت چراغ کی مانند ہے جس کا کام تیرگی کو ختم کرنا ہے اور اجالوں سے ہمکنار کرنا ہےہر آنے والی حکومت بھی عوام کے لیے ہر شہر میں ایسی تنظیمیں بنائے جو فلاحی کام  کرے اور شاعر ادیبوں اور فن کاروں کو ایسے پلیٹ فارم مہیا کرے جن میں ان کے کام کو سراہا جائے اگر وطن کا ایک جوان یہ کام کر سکتا ہے تو حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاییے۔ میں اور میری ادبی تنظیم کاروان قلم اٹک شہزاد افق التمیمی کو ان کی ادبی اور فلاحی کاوشوں پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

hubdar qaim

سید حبدار قائم

سیکرٹری نشر و اشاعت

کاروانِ قلم اٹک

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

صحافت...ایک باوقار شعبہ

پیر جنوری 17 , 2022
خان پورمیں گزشتہ اور حالیہ اَدوار میں نامور قد آور علمی و اَدبی شخصیات نے صحافتی میدان میں اپنے خطے کی بہتر نمائندگی کرتے ہوئے نمایاں خدمات سر اَنجام دی ہیں
صحافت…ایک باوقار شعبہ

مزید دلچسپ تحریریں