مقبول ذکی مقبول کی شاعری پر ایک نظر
تحریر : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین ( لیّہ)
تھل کی وسعتوں میں کئی نامور شعرا، ادبا، فنکار اور راہنما پیدا ہوئے ہیں ۔ یہ محض ایک جغرافیائی اتفاق نہیں کہ کسی تخلیق کار کا جنم تھل کی دھرتی پر ہو ؛ دراصل تھل کی مٹی ، اس کے موسم ، اس کی ریت ، اس کی وسعتیں ، اس کی محرومیاں ، اس کی محبتیں اور اس کے لوگوں کی سادہ مگر گہری زندگی اپنے اندر ایک ایسی تخلیقی توانائی رکھتی ہے جو حساس دلوں کو شاعر ، ادیب اور فنکار بنا دیتی ہے ۔ تھل کے افق کی وسعت انسان کے تخیل کو وسعت عطا کرتی ہے اور یہاں کی ریتلی زمین زندگی کے تجربات کو ایک خاص معنویت بخشتی ہے ۔
اسی تھل کی دھرتی نے جن نامور تخلیق کاروں کو جنم دیا ، ان میں مقبول ذکی مقبول کا نام بھی نمایاں ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی جنم بھومی لیّہ ہے ۔ منکیرہ محض تھل کا ایک شہر نہیں بلکہ تھل کے تہذیبی ، تاریخی اور جغرافیائی وجود کا ایک اہم حوالہ ہے ۔ اگر تھل کو ایک وسیع تہذیبی خطہ تصور کیا جائے تو منکیرہ اس کا ایک ایسا نقطۂ آغاز محسوس ہوتا ہے جہاں سے تھل کی ریت ، روایت ، تاریخ اور تخلیقی مزاج ایک دوسرے سے ہم کلام ہوتے ہیں ۔ شاید اسی لیے مقبول ذکی کی شخصیت اور شاعری میں تھل کی وسعت ، منکیرہ کی مٹی اور ایک حساس تخلیق کار کی داخلی دُنیا باہم مل کر ایک منفرد شعری مزاج تشکیل دیتی ہے ۔
مقبول ذکی مقبول ایک جینوئن شاعر ہیں ۔ جینوئن تخلیق کار کی سب سے بڑی شناخت یہ ہوتی ہے کہ وہ مصنوعی رویوں ، بناوٹی احساسات اور مستعار لہجوں کا محتاج نہیں ہوتا ۔ وہ اپنے تجربے ، اپنے مشاہدے اور اپنے احساس کی بنیاد پر تخلیق کرتا ہے ۔ مقبول ذکی کی شاعری میں یہی فطری پن نمایاں ہے ۔ ان کے ہاں شعر کسی مصنوعی شعری مشق کا نتیجہ محسوس نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے براہِ راست تجربے ، مشاہدے اور احساس سے پھوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔
مقبول ذکی مقبول کی شخصیت کا ایک خوب صورت پہلو ان کی یار نوازی ہے ۔ وہ یاروں کے یار ہیں ۔ ان کی محفل میں محبّت ، خلوص اور بے تکلفی کی فضا محسوس ہوتی ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بھی انسانی رشتوں ، محبت ، وفا اور تعلق کی حرارت نمایاں ہے ۔ وہ زندگی کو محض ایک نظریے یا فلسفے کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اسے انسانی تعلقات ، جذبات اور تجربات کے آئینے میں محسوس کرتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں دل کی دھڑکن بھی ہے اور زندگی کی دھوپ چھاؤں بھی ۔
مقبول ذکی مقبول کی ادبی شخصیت کا دائرہ صرف شاعری تک محدود نہیں ۔ وہ نثر نگار بھی ہیں اور مختلف اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کرتے ہیں ۔ غزل ، مرثیہ ، نعت اور دیگر شعری اصناف ان کی تخلیقی صلاحیتوں کے مختلف مظاہر ہیں ۔ کسی ایک صنف میں اظہار کی صلاحیت اپنی جگہ اہم ہے ، لیکن مختلف اصناف میں تخلیقی اظہار اس بات کی علامت ہے کہ شاعر کا تخیل وسیع اور اس کا ادبی شعور متنوع ہے ۔ مقبول ذکی کے ہاں یہی تنوع ان کی ادبی شخصیت کو ایک خاص امتیاز عطا کرتا ہے ۔
ان کی شاعری کا بنیادی وصف سچائی اور صداقت ہے ۔ آج کے عہد میں جب شاعری کے بعض رویوں میں لفظی نمائش ، مصنوعی پیچیدگی اور غیر ضروری ابہام غالب آتا جا رہا ہے ، مقبول ذکی کا شعری مزاج اپنی سادگی ، روانی اور صداقت کے باعث الگ شناخت قائم کرتا ہے ۔ ان کے ہاں شعر زندگی سے کٹا ہوا نہیں بلکہ زندگی کے اندر سے جنم لیتا ہے ۔ ان کے جذبات میں تصنع نہیں ، ان کے لہجے میں بناوٹ نہیں اور ان کے اظہار میں ایک ایسی بے ساختگی ہے جو قاری کو براہِ راست متاثر کرتی ہے ۔
مقبول ذکی لفظیات کے استعمال پر قدرت رکھتے ہیں ۔ وہ الفاظ کو محض معنی پہنچانے کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کے صوتی ، جذباتی اور تہذیبی امکانات سے بھی فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں لفظ رواں ہے ، مصرع متحرک ہے اور اظہار میں ایک خاص بہاؤ محسوس ہوتا ہے ۔ یہی روانی ان کے شعری اسلوب کو قابلِ توجہ بناتی ہے ۔ شعر پڑھتے ہوئے قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ شاعر اپنے احساس کو روک کر ، گھما پھرا کر یا غیر ضروری پیچیدگی میں الجھا کر پیش نہیں کرتا بلکہ ایک فطری بہاؤ کے ساتھ اپنے دل کی بات کہتا ہے ۔
مقبول ذکی کی غزل گوئی میں عشق ایک اہم موضوع ہے ۔ محبّت انسانی زندگی کا بنیادی اور آفاقی تجربہ ہے اور ہر بڑا شاعر اپنی ذات کے آئینے میں محبت کو ایک نئے انداز سے دیکھتا ہے۔ مقبول ذکی کے ہاں عشقیہ احساس محض روایتی محبوب اور عاشق کے تعلق تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس میں انسانی تنہائی ، انتظار ، یاد ، محرومی ، وفا اور تعلق کے مختلف رنگ شامل ہو جاتے ہیں ۔ ان کی محبّت میں زندگی کی حرارت بھی ہے اور تجربے کی تلخی بھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی عشقیہ شاعری محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ انسانی احساسات کی ایک متنوع تصویر بن جاتی ہے ۔
تاہم مقبول ذکی کو صرف عشقیہ شاعر سمجھنا ان کی شاعری کے وسیع دائرے سے صرفِ نظر کرنے کے مترادف ہوگا ۔ ان کے کلام میں سیاسی شعور بھی موجود ہے۔ ایک حساس شاعر اپنے عہد سے بے نیاز نہیں رہ سکتا ۔ وہ اپنے گردوپیش میں ہونے والے واقعات ، سیاسی رویوں ، اجتماعی مسائل اور عوامی زندگی کی مشکلات کو محسوس کرتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول بھی اپنے عہد کے سیاسی منظرنامے سے باخبر دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں سیاسی شعور کسی نعرے کی صورت میں نہیں بلکہ ایک حساس شہری اور باشعور انسان کے احساس کی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے۔
ان کی شاعری میں سماجی شعور بھی قابلِ توجہ ہے ۔ معاشرہ انسان کے تجربات کی سب سے بڑی تجربہ گاہ ہے ۔ غربت ، محرومی ، ناانصافی ، طبقاتی فرق ، انسانی بے بسی اور رشتوں کی بدلتی ہوئی صورتیں ایک حساس شاعر کو متاثر کرتی ہیں ۔ مقبول ذکی کی شاعری میں اپنے عہد کے سماجی مسائل کا احساس موجود ہے ۔ وہ زندگی کو صرف ذاتی تجربے کی سطح پر نہیں دیکھتے بلکہ اجتماعی زندگی کے مسائل کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں ۔ یہی وصف ان کی شاعری کو محض ذاتی جذبات کے اظہار سے بلند کرکے اجتماعی شعور سے ہم آہنگ کرتا ہے ۔
مقبول ذکی مقبول کی تخلیقی شخصیت کا ایک اہم پہلو مذہبی شعور بھی ہے ۔ نعت گوئی اور مرثیہ نگاری جیسی اصناف میں طبع آزمائی کے لیے محض فنی صلاحیت کافی نہیں ہوتی بلکہ عقیدت ، مطالعہ ، تہذیبی شعور اور جذباتی وابستگی بھی ضروری ہوتی ہے ۔ مقبول ذکی کے ہاں مذہبی موضوعات سے وابستگی ان کے فکری مزاج کی ایک اہم جہت ہے ۔ نعت میں عقیدت و محبّت کا اظہار اور مرثیے میں عظیم انسانی و اسلامی کرداروں کی یاد ، ان کے تخلیقی شعور کو ایک وسیع تہذیبی پس منظر فراہم کرتی ہے ۔
مرثیہ ایک ایسی صنف ہے جس میں غم ، تاریخ ، عقیدت ، انسانی عظمت اور اخلاقی اقدار باہم مل جاتی ہیں ۔ مقبول ذکی کی مرثیہ نگاری اس بات کی غماز ہے کہ وہ تاریخ اور مذہب کو محض ماضی کے واقعات کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ان میں انسانی کردار اور اخلاقی معنویت تلاش کرتے ہیں ۔ اسی طرح نعتیہ شاعری میں ان کی عقیدت ان کے روحانی اور مذہبی شعور کی آئینہ دار ہے ۔ ان اصناف میں اظہار کرتے ہوئے شاعر کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات کے ساتھ ساتھ احترامِ موضوع اور فنی تقاضوں کو بھی ملحوظ رکھے ۔ مقبول ذکی مقبول کی ادبی شخصیت میں یہ دونوں پہلو نمایاں دکھائی دیتے ہیں ۔
مقبول ذکی مقبول کی شاعری میں تاریخی شعور بھی موجود ہے ۔ تاریخ کسی قوم یا معاشرے کی اجتماعی یادداشت ہوتی ہے ۔ جو شاعر تاریخ سے باخبر ہوتا ہے ، اس کی شاعری میں زمان و مکان کی گہرائی پیدا ہوتی ہے ۔ مقبول ذکی کا تاریخی شعور ان کے کلام کو ماضی ، حال اور مستقبل کے باہمی رشتے سے جوڑتا ہے ۔ وہ تاریخ کو محض گزرے ہوئے واقعات کی فہرست نہیں سمجھتے بلکہ انسانی تجربے ، تہذیبی حافظے اور اجتماعی شعور کے طور پر محسوس کرتے ہیں ۔
مقبول ذکی کی شاعری کا ایک نمایاں وصف یہ بھی ہے کہ اس میں مختلف موضوعاتی جہتیں ایک دوسرے سے جدا جدا نہیں بلکہ باہم مربوط ہیں۔ عشق ہو یا سیاست ، سماج ہو یا مذہب ، تاریخ ہو یا انسانی زندگی ۔ ان تمام موضوعات کے درمیان شاعر کی اپنی ذات ایک رابطے کا کام کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں موضوعات کا تنوع منتشر نہیں ہوتا بلکہ ایک حساس اور باشعور تخلیق کار کی داخلی وحدت میں ڈھل جاتا ہے ۔
مقبول ذکی مقبول کی شاعری کو تھل کے تہذیبی پس منظر سے الگ کرکے بھی نہیں دیکھا جا سکتا ۔ تھل کی دھرتی نے انہیں صرف جنم نہیں دیا بلکہ ان کے شعور کو بھی تشکیل دیا ہے ۔ تھل کی ریت ، اس کے ٹیلے ، اس کی وسعتیں ، اس کے لوگ ، اس کے دکھ ، اس کی محبتیں اور اس کی صدیوں پر محیط تہذیبی روایت ان کے تخلیقی وجود کا حصّہ ہیں ۔ منکیرہ کی مٹی سے اٹھنے والی یہ آواز دراصل تھل کی اجتماعی روح کی ایک آواز بھی ہے ۔ ایک شاعر جب اپنی دھرتی سے جڑا ہوتا ہے تو اس کی شاعری مقامی ہوتے ہوئے بھی آفاقی بن سکتی ہے ، کیونکہ انسانی احساسات کی بنیاد ہر جگہ مشترک ہوتی ہے ۔
مقبول ذکی مقبول کے ہاں زبان کا استعمال بھی توجہ طلب ہے ۔ ان کی شاعری میں لفظیات کا ایک ایسا بہاؤ ملتا ہے جو اظہار کو سہل اور مؤثر بناتا ہے ۔ وہ مشکل الفاظ کے انبار سے شعر کو بھاری نہیں کرتے بلکہ زبان کو اپنے احساس کے تابع رکھتے ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان کا شعری اظہار قاری سے براہِ راست رشتہ قائم کرتا ہے ۔ ایک کامیاب شاعر کی زبان وہی ہوتی ہے جو اپنے عہد کے قاری تک پہنچ سکے اور اس کے احساس کو اپنی گرفت میں لے سکے ۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مقبول ذکی مقبول کی شاعری ان کی شخصیت کا تخلیقی عکس ہے ۔ وہ زندگی میں محبت کرنے والے انسان ہیں ، دوستوں کے دوست ہیں ، اپنے عہد کے مسائل سے باخبر ہیں اور اپنی دھرتی سے گہری وابستگی رکھتے ہیں ۔ ان کی شاعری میں بھی یہی عناصر مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں ۔ ان کے ہاں محبّت ہے تو اس کے ساتھ درد بھی ہے ، عقیدت ہے تو اس کے ساتھ تہذیبی شعور بھی ہے ، سیاسی احساس ہے تو اس کے ساتھ سماجی فکر بھی ہے ، اور ذاتی تجربہ ہے تو اس کے ساتھ اجتماعی زندگی کا شعور بھی ۔
تھل نے مقبول ذکی کو جنم دیا اور مقبول ذکی مقبول نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے تھل کے ادبی منظرنامے کو وسعت دی ۔ ایسے تخلیق کار کسی بھی خطے کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ ان کی تخلیقات صرف ان کی ذاتی ملکیت نہیں رہتیں بلکہ اپنے عہد ، اپنی دھرتی اور اپنے معاشرے کی ادبی دستاویز بن جاتی ہیں ۔ مقبول ذکی مقبول بھی اسی اعتبار سے تھل کی تخلیقی روایت کے ایک اہم نمائندہ ہیں ۔
مقبول ذکی مقبول کی شاعری پر ایک نظر ڈالنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ محض غزل کے شاعر نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار ہیں ۔ ان کے ہاں عشق کی نرمی ، زندگی کا تجربہ ، سیاست کا شعور ، سماج کی فکر ، مذہب کی عقیدت اور تاریخ کا احساس باہم مل کر ایک متنوع شعری کائنات تشکیل دیتے ہیں ۔ ان کی شاعری کی اصل قوت اس کی صداقت ، روانی اور فطری اظہار میں ہے ۔
منکیرہ کے اس جینوئن شاعر نے اپنے تخلیقی سفر میں یہ ثابت کیا ہے کہ شاعر اپنی دھرتی سے جڑا رہ کر بھی آفاقی احساسات کا ترجمان بن سکتا ہے ۔ مقبول ذکی مقبول کی شاعری میں تھل کی وسعتیں بھی ہیں ، منکیرہ کی مٹی بھی ، دوستوں کی محبّت بھی ، زندگی کے تجربات بھی اور ایک حساس انسان کا وہ دل بھی جو اپنے عہد کو محسوس کرتا ہے ۔ یہی ان کی شاعری کی اصل شناخت ہے اور یہی ان کے تخلیقی وجود کا امتیاز بھی ۔
مقبول ذکی مقبول کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ تھل کی ریت صرف خاموش نہیں ؛ وہ بولتی بھی ہے ، گاتی بھی ہے اور کبھی کبھی شعر بھی کہتی ہے ۔ مقبول ذکی مقبول اسی بولتی ہوئی ریت کے ایک معتبر ، مخلص اور جینوئن شاعر ہیں ۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں