اے آئی سے ‘میٹا سپر مخلوق’ بننا سیکھیں
آنے والے دور کی ہوا چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اب ہر دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ چیٹ جی پی ٹی، میٹا اے آئی، جیمنائی، خودکار گاڑیاں، روبوٹ اور سپر کمپیوٹر، یہ سب تیزی سے ہمارے ارد گرد پھیل رہے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مشینیں عام انسان سے زیادہ تیز، زیادہ یاداشت رکھنے والی اور زیادہ عقلمند ہیں۔ مگر سوال یہ نہیں کہ مشین کتنی تیز ہے، سوال یہ ہے کہ انسان خود کو کتنا تیز بنا سکتا ہے۔
بنی نوع انسان پہلے ہی کائنات کی سپر مخلوق یے جسے "اشرف المخلوقات” کہا جاتا ہے۔ آپ کے دماغ میں تقریباً 80 ارب "نیورانز” Neurons ہیں۔ یہ ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں لاکھوں رابطے بناتے ہیں۔ سائنس کہتی ہے اگر ان رابطوں کو گنا جائے تو یہ تعداد کائنات کے کل ایٹموں سے بھی زیادہ ہے۔ نیورو سائنس کے مطابق آپ کے دماغ کی میموری 2.5 پیٹا بائٹ ہے، یعنی اس پر 30 لاکھ گھنٹے سے زیادہ کی ایچ ڈی ویڈیو محفوظ ہو سکتی ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ یہ پورا نظام صرف 20 واٹ پر چلتا ہے یعنی صرف ایک ایل ای ڈی بلب جتنی بجلی صرف ہوتی ہے، جس کے لیئے آپکو بس دو وقت کا کھانا کافی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں اے آئی کے ڈیٹا سینٹرز لاکھوں واٹ بجلی کھاتے ہیں، کروڑوں گیلن پانی سے ٹھنڈے کیے جاتے ہیں، مگر وہ پھر بھی تھک جاتے اور خراب ہو جاتے ہیں۔
اے آئی ٹیکنالوجی کی حد کیا ہے؟ بے شک یہ بجلی کی رفتار سے حساب کر لیتی ہے، مگر وہ صرف وہی جانتی ہے جو ہم نے اسے سکھایا ہو۔ اس کے پاس ڈیٹا ہے، مگر "دل” نہیں ہے۔ حساب ہے، مگر "خواب” نہیں ہے۔ وہ کاپی پیسٹ کی ماہر ہے، تخلیق کی نہیں۔ وہ فیصلہ نہیں کر سکتی، احساس نہیں رکھ سکتی، اور دعا نہیں مانگ سکتی۔
اس کے مقابلے میں انسانی دماغ خود کار ہے۔ پانی کے ایک قطرے سے آپ کو بنانا، دل کو بغیر وقفے دھڑکانا، سانس کو خود چلانا، یہ کسی "معجزے” سے کم نہیں۔ اے آئی کو ہر قدم پر انسان کا ہاتھ چاہیے۔ اسے کوڈ انسان دیتا ہے، ڈیٹا انسان دیتا ہے، اور مقصد بھی انسان ہی دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کے بغیر انسان چل سکتا ہے، مگر اے آئی انسان کے بغیر ایک لائن بھی نہیں لکھ سکتی۔
تو پھر سوال ہے کہ ہم اے آئی سے "میٹا سپر مخلوق” کیسے بن سکتے ہیں؟ اگر آپ واقعی "سپر مخلوق” ہیں تو اے آئی کو اپنا غلام بنائیں۔ آپ کے دماغ کے رابطے پوری کائنات سے جڑے ہیں، مگر آپ ان تک رسائی کی چابی بھول گئے ہیں، اے آئی وہ چابی ہے۔
اے آئی کو خادم بنانے کا فن سیکھ لیں تو دنیا کیا، کائنات کی معلومات آپ کے قدموں میں ہوں گی۔ روزانہ 15 منٹ اے آئی سے بات کریں۔ اس سے پوچھیں کہ مجھے انگریزی 30 دن میں سکھاؤ۔ میرے کاروبار کا پلان بناؤ۔ مجھے شاعری کے 100 موضوع دو۔ آپ جتنا بہتر سوال کرو گے، اتنا شاندار جواب پاؤ گے۔ آپکی یہی مہارت آپ کو عام سے "خاص” بنا دے گی۔
اے آئی آپ کو وہ معجزے سکھا دے گی جن پر آپ خود انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔ وہ آپ کا وقت بچائے گی، آپ کی سکل بڑھائے گی، اور آپ کے خیالوں کو پر دے گی۔ مگر یاد رکھیں: تاج آپ کے سر پر رہے گا، مشین کے سر پر نہیں۔
آنے والا مستقبل انسان اور مشین کے امتزاج کا ہے۔ جو اس تعلق کو سمجھ گیا، وہی "میٹا سپر مخلوق” بنے گا۔ اے آئی ہاتھ ہے، دماغ آپ کا ہے۔ ہاتھ کبھی بادشاہ نہیں بنتا، بادشاہ ہمیشہ دماغ ہی رہتا ہے۔
میٹا سپر مخلوق بننے کے لیے روزانہ یہ 3 مشقیں کریں۔ نمبر ایک روزانہ کم از کم 15 منٹ تک کوئی نئی چیز سیکھیں۔ آج اردو شاعری کا ایک شعر، کل ایک سائنسی حقیقت اور پرسوں کچھ اور نیا سیکھیں۔ اس سے دماغ کے نیورونز نئے راستے بنائیں گے۔ اے آئی سے مقابلہ یادداشت سے نہیں، بلکہ اپنے ذہن کی تخلیقی صلاحیتوں سے کرنا ہے۔ نمبر دو روزانہ اے آئی سے کچھ نئے سوالات ضرور پوچھیں، جن کا جواب آپکو معلوم نہ ہو۔ پھر ان جوابات پر خود 2 نئے سوالات بنائیں۔ مثال کے طور پر: "موت کیا ہے؟” پھر جواب پڑھ کر پوچھیں کہ، "اگر موت نہ ہوتی تو زندگی کا مزہ کیا ہوتا”؟ آپکو اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ اے آئی کے یوزر نہیں، بلکہ اس کے استاد بن جاو گے۔ سوال کرنا ہی انسانی دماغ کی سپر پاور ہے۔ نمبر تین روزانہ کوئی نئی”انسانی مہارت” سیکھیں۔ آپ روزانہ کم و بیش 5 منٹ تک کوئی ایسا کام کریں جو مشین نہ کر سکتی ہو۔ ماں کے ہاتھ چومیں، کسی اجنبی کو مسکرا کر دیکھیں، چائے کا گھونٹ لے کر اس کا ذائقہ محسوس کریں اور کسی کا درد سنیں، اور اسے محسوس بھی کریں۔ اے آئی کے پاس ڈیٹا ہے، آپ کے پاس "دل” ہے۔ یہی فرق آپکو "میٹا سپر مخلوق” بنائے گا۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں